Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 45

سورة البقرة

وَ اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ وَ اِنَّہَا لَکَبِیۡرَۃٌ اِلَّا عَلَی الۡخٰشِعِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾

And seek help through patience and prayer, and indeed, it is difficult except for the humbly submissive [to Allah ]

اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو یہ چیز شاق ہے ، مگر ڈر رکھنے والوں پر ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Support that comes with Patience and Prayer Allah says; وَاسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلَةِ ... And seek help in patience and As-Salah (the prayer). Allah commanded His servants to use patience and prayer to acquire the good of this life and the Hereafter. Muqatil bin Hayan said that this Ayah means, "Utilize patience and the obligatory prayer in seeking the Hereafter. As for patience (here), they say that it means fasting." There are similar texts reported from Mujahid. Al-Qurtubi and other scholars commented, "This is why Ramadan is called the month of patience," as is mentioned in the Hadith literature. It was also said that; `patience' in the Ayah means, refraining from evil, and this is why `patience' was mentioned along with practicing acts of worship, especially and foremost, the prayer. Also, Ibn Abi Hatim narrated that Umar bin Al-Khattab said, "There are two types of patience: good patience when the disaster strikes, and a better patience while avoiding the prohibitions of Allah." Ibn Abi Hatim said that Al-Hasan Al-Basri was reported to have said similarly. Allah then said, وَالصَّلَةِ (And As-Salah (the prayer). The prayer is one of the best means of assistance for firmly adhering to Allah's orders, just as Allah said; اتْلُ مَا أُوْحِىَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَـبِ وَأَقِمِ الصَّلَوةَ إِنَّ الصَّلَوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَأءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ Recite (O Muhammad) what has been revealed to you of the Book (the Qur'an), and perform As-Salah. Verily, As-Salah (the prayer) prevents from Al-Fahsha (i.e. great sins of every kind), and Al-Munkar and the remembrance of (praising) of (you by) Allah is greater indeed. (29:45) The personal pronoun in the Ayah, ... وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ ... And truly, it is extremely heavy and hard, refers to prayer, as Mujahid is reported to have said, and it was also the choice of Ibn Jarir. It is possible that the pronoun might be referring to the advice - to observe patience and the prayer - mentioned in the same Ayah. Similarly, Allah said about Qarun (Korah), وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ لِّمَنْ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَـلِحاً وَلاَ يُلَقَّاهَأ إِلاَّ الصَّـبِرُونَ But those who had been given (religious) knowledge said: "Woe to you! The reward of Allah (in the Hereafter) is better for those who believe and do righteous good deeds, and this, none shall attain except As-Sabirun (the patient)." (28:80) Also, Allah said, وَلاَ تَسْتَوِى الْحَسَنَةُ وَلاَ السَّيِّيَةُ ادْفَعْ بِالَّتِى هِىَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِى بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِىٌّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلاَّ الَّذِينَ صَبَرُواْ وَمَا يُلَقَّاهَأ إِلاَّ ذُو حَظِّ عَظِيمٍ The good deed and the evil deed cannot be equal. Repel (the evil) with one which is better then verily he, between whom and you there was enmity, (will become) as though he was a close friend. But none is granted it (the above quality) except those who are patient ـ and none is granted it except the owner of the great portion (of happiness in the Hereafter and) in this world. (41:34-35), meaning, this advice is only implemented by those who are patient and the fortunate. In any case, Allah's statement here means, prayer is `heavy and burdensome', ... إِلاَّ عَلَى الْخَاشِعِينَ except for Al-Khashi`in. Ibn Abi Talhah reported that Ibn Abbas commented on this Ayah, "They (Al-Khashi`in) are those who believe in what Allah has revealed." Allah's statement, الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

صبر کا مفہوم اس آیت میں حکم فرمایا جاتا ہے کہ تم دنیا اور آخرت کے کاموں پر نماز اور صبر کے ساتھ مدد طلب کیا کرو ، فرائض بجا لاؤ اور نماز کو ادا کرتے رہو روزہ رکھنا بھی صبر کرنا ہے اور اسی لئے رمضان کا صبر کا مہینہ کہا گیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں روزہ آدھا صبر ہے صبر سے مراد گناہوں سے رک جانا بھی ہے ۔ اس آیت میں اگر صبر سے یہ مراد لی جائے تو برائیوں سے رکنا اور نیکیاں کرنا دونوں کا بیان ہو گیا ، نیکیوں میں سب سے اعلیٰ چیز نماز ہے ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صبر کی دو قسمیں ہیں مصیبت کے وقت صبر اور گناہوں کے ارتکاب سے صبر اور یہ صبر پہلے سے زیادہ اچھا ہے ۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں انسان کا ہر چیز کا اللہ کی طرف سے ہونے کا اقرار کرنا ۔ ثواب کا طلب کرنا اللہ کے پاس مصیبتوں کے اجر کا ذخیرہ سمجھنا یہ صبر ہے اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کام پر صبر کرو اور اسے بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سمجھو نیکیوں کے کاموں پر نماز سے بڑی مدد ملتی ہے خود قرآن میں ہے آیت ( الصَّلٰوةَ ۭاِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ ۭ وَلَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ ) 29 ۔ العنکبوت:45 ) ۔ نماز کو قائم رکھ یہ تمام برائیوں اور بدیوں سے روکنے والی ہے اور یقینا اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے ۔ حضرت حذیفہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی کام مشکل اور غم میں ڈال دیتا تو آپ نماز پڑھا کرتے فوراً نماز میں لگ جاتے ۔ چنانچہ جنگ خندق کے موقع پر رات کے وقت جب حضرت حذیفہ خدمت نبوی میں حاضر ہوتے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں پاتے ہیں ۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کی رات میں نے دیکھا کہ ہم سب سو گئے تھے مگر اللہ کے رسول ( اللھم صلی وسلم علیہ ) ساری رات نماز میں مشغول رہے صبح تک نماز میں اور دعا میں لگے رہے ۔ ابن جریر میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ بھوک کے مارے پیٹ کے درد سے بیتاب ہو رہے ہیں آپ نے ان سے ( فارسی زبان میں ) دریافت فرمایا کہ درد شکم داری؟ کیا تمہارے پیٹ میں درد ہے؟ انہوں نے کہا ہاں آپ نے فرمایا اٹھو نماز شروع کر دو اس میں شفا ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سفر میں اپنے بھائی حضرت قثم کے انتقال کی خبر ملتی ہے تو آپ آیت ( انا للہ ) الخ پڑھ کر راستہ سے ایک طرف ہٹ کر اونٹ بٹھا کر نماز شروع کر دیتے ہیں اور بہت لمبی نماز ادا کرتے ہیں پھر اپنی سواری کی طرف جاتے ہیں اور اس آیت کو پڑھتے ہیں غرض ان دونوں چیزوں صبرو صلوٰت سے اللہ کی رحمت میسر آتی ہے ان کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے تو صلوٰۃ یعنی نماز کو کہا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ مدلول کلام یعنی وصیت اس کا مرجع ہے جیسے قارون کے قصہ میں ولا یلقاھا کی ضمیر اور برائی کے بدلے بھلائی کرنے کے حکم میں وما یلقھا کی ضمیر ۔ مطلب یہ ہے کہ صبرو صلوٰۃ ہر شخص کے بس کی چیز نہیں یہ حصہ اللہ کا خوف رکھنے والی جماعت کا ہے یعنی قرآن کے ماننے والے سچے مومن کانپنے والے متواضع اطاعت کی طرف جھکنے والے وعدے وعید کو سچا ماننے والے ہیں اس وصف سے موصوف ہوتے ہیں جیسے حدیث میں ایک سائل کے سوال پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا یہ بری چیز ہے لیکن جس پر اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہو اس پر آسان ہے ، ابن جریرنے اس آیت کے معنی کرتے ہوئے اسے بھی یہودیوں سے ہی خطاب قرار دیا ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ گو یہ بیان انہی کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے ۔ واللہ اعلم ۔ آگے چل کر خاشعین کی صفت ہے اس میں ظن معنی میں یقین کے ہے گو ظن شک کے معنی میں بھی آتا ہے جیسے کہ سدفہ اتدھیرے کے معنی میں بھی آتا ہے اور روشنی کے معنی میں بھی اور صارخ کا لفظ بھی فریاد رس اور فریاد کن دونوں کے لئے بولا جاتا ہے اور اسی طرح کے بہت سے نام ہیں جو ایسی دو مختلف چیزوں پر بولے جاتے ہیں ۔ ظن یقین کے معنی میں عرب شعراء کے شعروں میں بھی آیا ہے خود قرآن کریم میں آیت ( وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا ) 18 ۔ الکہف:53 ) یعنی گنہگار جہنم کو دیکھ کر یقین کرلیں گے کہ اب ہم اس میں جھونک دئیے جائیں گے یہاں بھی ظن یقین کے معنی میں ہے بلکہ حضرت مجاہد فرماتے ہیں قرآن میں ایسی جگہ ظن کا لفظ یقین اور علم کے معنی میں ہے ابو العالیہ بھی یہاں ظن کے معنی یقین کرتے ہیں ۔ حضرت مجاہد ، سدی ربیع بن انس اور قتادہ کا بھی یہی قول ہے ۔ ابن جریج بھی یہی فرماتے ہیں ۔ قرآن میں دوسری جگہ ہے آیت ( اِنِّىْ ظَنَنْتُ اَنِّىْ مُلٰقٍ حِسَابِيَهْ ) 69 ۔ الحاقہ:20 ) یعنی مجھے یقین تھا کہ مجھے حساب سے دو چار ہونا ہے ایک صحیح حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن ایک گنہگار بندے سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں نے تجھے بیوی بچے نہیں دئیے تھے؟ کیا تجھ پر طرح طرح کے اکرام نہیں کئے تھے؟ کیا تیرے لئے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کئے تھے؟ کیا تجھے راحت و آرام کھانا پینا میں نے نہیں دیا تھا ؟ یہ کہے گا ہاں پروردگار یہ سب کچھ دیا تھا ۔ پھر کیا تیرا علم و یقین اس بات پر نہ تھا کہ تو مجھ سے ملنے والا ہے؟ وہ کہے گا ہاں اللہ تعالیٰ اسے نہیں مانتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بس تو جس طرح مجھے بھول گیا تھا آج میں بھی تجھے بھلا دوں گا اس حدیث میں بھی لفظ ظن کا ہے اور معنی میں یقین کے ہیں اس کی مزید تحقیق و تفصیل انشاء اللہ تعالیٰ آیت ( نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰـىهُمْ اَنْفُسَهُمْ ) 59 ۔ الحشر:19 ) کی تفسیر میں آگے آئے گی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

45۔ 1 صبر اور نماز ہر اللہ والے کے لئے دو بڑے ہتھیار ہیں۔ نماز کے ذریعے سے ایک مومن کا رابطہ وتعلق اللہ تعالیٰ سے استوار ہوتا ہے۔ جس سے اسے اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت حاصل ہوتی ہے۔ صبر کے ذریعے سے کردار کی پختگی اور دین میں استقامت حاصل ہوتی ہے۔ حدیث میں آتا ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب بھی کوئی اہم معاملہ پیش آتا آپ فورا نماز کا اہتمام فرماتے (فتح القدیر) ۔ 45۔ 2 نماز کی پابندی عام لوگوں کے لئے گراں ہے، لیکن خشوع و خضوع کرنے والوں کے لئے یہ آسان بلکہ اطمینان اور راحت کا باعث ہے۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ وہ جو قیامت پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ گویا قیامت پر یقین اعمال خیر کو کردیتا اور آخرت سے بےفکری انسان کو بےعمل بلکہ بد عمل بنا دیتی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٤] پریشانیوں اور مصائب کا علاج :۔ مصیبت اور پریشانی کی حالت میں صبر اور نماز کو اپنا شعار بنانے کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی یاد میں جس قدر طبیعت مصروف ہو اسی قدر دوسری پریشانیاں خود بخود کم ہوجاتی ہیں۔ بعض لوگوں نے یہاں صبر سے روزہ بھی مراد لیا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو خود بھی نماز میں مشغول ہوتے اور اپنے اہل بیت کو بھی اس کی دعوت دیتے تھے۔ اور صبر کسے کہتے ہیں یہ بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی سنیے۔ صبر کی تعریف :۔ انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک عورت پر گزر ہوا جو ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے فرمایا && اللہ سے ڈرو اور صبر کرو۔ && وہ کہنے لگی۔ && جاؤ اپنا کام کرو تمہیں مجھ جیسی مصیبت تو پیش نہیں آئی۔ && وہ عورت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچانتی نہ تھی۔ اسے لوگوں نے بتایا کہ وہ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔ چناچہ وہ آپ کے دروازے پر حاضر ہوئی۔ وہاں کوئی دربان موجود نہ تھا۔ وہ اندر جا کر کہنے لگی۔ && میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا (میں صبر کرتی ہوں) آپ نے فرمایا : صبر تو اس وقت کرنا چاہیے جب صدمہ شروع ہو۔ && (بخاری کتاب الجنائز باب زیارۃ القبور)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یعنی کسی بھی مصیبت کے برداشت کرنے میں ان دو چیزوں کا سہارا لو۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب اچانک کوئی حادثہ پیش آتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھتے۔ [ أبو داوٗد، التطوع، باب وقت قیام النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) من اللیل : ١٣١٩، و حسنہ الألبانی، عن حذیفۃ (رض) ] اہل علم نے فرمایا : ” صبر تین قسم پر ہے، مصیبت پر صبر، اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر اور نافرمانی سے بچنے پر صبر۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Khushu` خشوع : The Humbleness of Heart Verse 45 speaks of the humble in heart. The |"humbleness of heart|" (Khushu خشوع `), which the Holy Qur&an and the Hadith speak of, connotes a restfulness of heart and humility arising out of the awareness of Allah&s majesty and of one&s own insignificance in comparison to it. This quality, once acquired, shows its spiritual fruitfulness in making the obedience to Allah and submission to Him easy and pleasant for one; sometimes it reflects itself even in the bodily posture and appearance of the man who has acquired it, for such a man always behaves in a disciplined and polite manner, is modest and humble, and seems to be |"broken-hearted|", that is to say, one who has lost all vanity and self-love. If a man does not bear genuine humility and fear of Allah in his heart, he does not, with all his external modesty and downcast looks, really possess the quality of Khushu خشوع ` (humbleness of heart). In fact, it is not proper even to show the signs of Khushu خشوع ` in one&s behavior deliberately. On seeing a young man sitting with his head bowed down, the rightly-guided Khalifah Sayyidna ` Umar (رض) said: |"Raise your head! Humbleness of heart is in the heart.|" Ibrahim Nakha&i has said: |"Humbleness of heart does not mean wearing rough clothes, eating coarse food and keeping the head bowed down. Humbleness of heart is to treat the high and the low alike in matters of truth, and to keep the heart free to devote itself entirely to Allah and to the performance of what Allah has made obligatory for you.|" Similarly, Hasan (رح) of Basra has said : The Caliph ` Umar (رض) would speak loudly enough to be heard, whenever he spoke, would walk swiftly, whenever he walked, and would strike forcefully, whenever he struck a man. All the same, he undoubtedly was a man with a real humbleness of heart.|" In short, wearing deliberately and by one&s own choice, the looks of a man who possesses the humbleness of heart is a kind of self-delusion and a ruse of Satan, and hence reprehensible. But if a man happens to manifest such signs without knowing it, he can be excused.(Qurtubi) Let us add that there is another word - Khudu` - which is often used along with Khushu خشوع `, and which appears several times in the Holy Qur&an as well. The two words are almost synonymous. But the word Khushu خشوع `, according to its lexical root, refers to the lowering of the voice and of the glance when it is not artificial but arises out of a real modesty and fear of Allah - for example, the Holy Qur&an says: |"Voices have been hushed|" (20:108). On the other hand, the word |"Khudu`|"refers to the bodily posture which shows modesty and humility - for example, the Holy Qur&an says: |"So their necks will stay humbled to it|". (26:4) We must also define as to what, in the eyes of the Shari` ah, the exact position and value of Khushu خشوع ` is with regard to Salah نماز . The Holy Qur&an and the Hadith repeatedly stress its importance as in: |"And perform the prayer for the sake of My remembrance.|" (20:14) Obviously, forgetfulness is the opposite of remembrance and hence the man who becomes unmindful of Allah while offering Salah, is not fulfilling the obligation of remembering Allah. Another verse says: |"Do not be among the unmindful.|" (7:205) Similarly, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said: |"The Salah نماز simply means self-abasement and humility.|" Says another hadith: |"If his prayers do not restrain a man from immodesty and evil, he goes farther and farther away from Allah.|" Salah نماز offered unmindfully does not obviously restrain man from evil deeds, and consequently such a man goes farther and farther away from Allah. Having quoted these verses and ahadith in support of other arguments in his Ihya& al-` Ulum, الاحیاء العلوم Imam al-Ghazali (رح) suggests that Khushu خشوع ` must then be a necessary condition for Salah نماز ، and that its acceptability must depend on it. He adds that, according to the blessed Companion, Mu` adh ibn Jabal (رض) and jurists as great as Sufyan al-Thawri and Hasan al-Basri, Salah نماز offered without Khushu خشوع ` is not valid. On the other hand, the four great Imams of Islamic jurisprudence and most of the jurists do not hold Khushu خشوع ` to be a necessary condition for Salah نماز . In spite of considering it to be the very essence of Salah نماز ، they say that the only condition necessary in this respect is that while saying Allahu Akbar اللہ اکبر at the beginning of the prayers one should turn with all one&s heart to Allah, and have the intention (niyyah نیت ) of offering the prayers only for the sake cif Allah; if one does not attain Khushu` in the rest of the prayers, one will not get any reward for that part of the prayers, but, from the point of view of Fiqh فقہ (jurisprudence), one will not be charged with having forsaken Salah نماز ، nor will one be liable to the punishment which is meted out to those who give up prescribed prayers without a valid excuse. Imam al-Ghazali (رح) has provided an explanation for this divergence of view. The Fuqaha& (jurists), he points out, are not concerned with inner qualities and states of the heart (Ahwal احوال ), but only enunciate the exoteric regulations of the Shari` ah on the basis of the external actions of men&s physical organs - it does not lie within the jurisdiction of Fiqh فقہ to decide whether one will get a reward for a certain deed in the other world or not. Khushu خشوع ` being an inner state, they have not prescribed it as a necessary condition for the total duration of Salah نماز ، but have made the validity of the prayers depend on the lowest degree of Khushu خشوع ` - turning, as one begins the prayers, with one&s heart to Allah and having the intention of only worshipping Him. There is another explanation for not making Khushu خشوع ` a necessary condition for the total duration of the prayers. In certain other verses, the Holy Qur&an has clearly enunciated the principle which governs legislation in religious matters: nothing is made obligatory for men that should be beyond their endurance and power. Now, except for a few gifted individuals, men in general are incapable of maintaining Khushu خشوع ` for the total duration of the prayers; so, in order to avoid compelling men to a task they cannot accomplish, the Fuqaha& have made Khushu خشوع ` a necessary condition only for the beginning of the prayers, and not for the whole duration. In concluding the discussion, Imam al-Ghazali (رح) remarks that in spite of the great importance of Khushu خشوع ` one can depend on the infinite mercy of Allah, and hope that the man who offers his prayers unmindful will not be counted among those who give up the prayers altogether, for he has tried to fulfill the obligation, has turned his away from everything to concentrate his attention on Allah even for a few moments, and has been mindful of Allah alone at least while forming his intention for the prayers. Offering one&s prayers in this half-hearted manner has, to say the least, the merit of keeping one&s name excluded from the list of those who habitually disobey Allah and forsake the prescribed prayers altogether. In short, this is a matter in which hope and fear both are involved - there is the fear of having incurred punishment as well as the hope of being ultimately forgiven. So, one should try one&s best to get rid of one&s laziness and indifference. But it is the mercy of Allah alone which can help one to succeed in this effort.

خشوع کی حقیقت : اِلَّا عَلَي الْخٰشِعِيْن قرآن وسنت میں جہاں خشوع کی ترغیب مذکور ہے اس سے مراد وہ قلبی سکون و انکساری ہے جو اللہ کی عظمت اور اس کے سامنے اپنی حقارت کے علم سے پیدا ہوتی ہے اس کے نتیجہ میں اطاعت آسان ہوجاتی ہے کبھی اس کے آثار بدن پر بھی ظاہر ہونے لگتے ہیں کہ وہ باادب متواضع اور شکستہ قلب نظر آتا ہے اگر دل میں خوف خدا اور تواضع نہ ہو تو خواہ وہ ظاہر میں کتنا ہی باادب اور متواضع نظر آئے وہ خشوع کا حامل نہیں۔ بلکہ آثار خشوع کا قصداً اظہار کرنا بھی پسندیدہ نہیں حضرت عمر فاروق (رض) نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ سر جھکائے بیٹھا ہے فرمایا سر اٹھا خشوع دل میں ہوتا ہے ، حضرت ابراہیم نخعی کا ارشاد ہے کہ موٹا پہننے موٹا کھانے اور سر جھکانے کا نام خشوع نہیں خشوع تو یہ ہے کہ تم حق کے معاملہ میں شریف ورذیل کے ساتھ یکساں سلوک کرو اور اللہ نے جو تم پر فرض کیا ہے اسے اداس کرنے میں اللہ تعالیٰ کے لئے قلب کو فارغ کرلو، حضرت حسن کا ارشاد ہے کہ حضرت عمر فاروق (رض) جب بات کرتے تو سنا کرتے تھے جب چلتے تو تیز چلتے اور جب مارتے تو زور سے مارتے تھے حالانکہ بلاشبہ وہ خشوع رکھنے والے تھے، خلاصہ یہ کہ اپنے قصد واختیار سے خاشعین کی سی صورت بنانا شیطان اور نفس کا دھوکہ ہے اور مذموم ہے ہاں اگر بےاختیار یہ کیفیت ظاہر ہوجائے تو معذور ہے (قرطبی) فائدہ : خشوع کے ساتھ ایک دوسرا لفظ خضوع بھی استعمال ہوتا ہے قرآن کریم میں یہ بھی بار بار آیا ہے یہ دونوں لفظ تقریباً ہم معنی ہیں لیکن خشوع کا لفظ اصل کے اعتبار سے آواز اور نگاہ کی پستی اور تذلل کے لئے بولا جاتا ہے جب کہ وہ مصنوعی نہ ہو بلکہ قلبی خوف اور تواضع کا نتیجہ ہو قرآن کریم میں ہے، خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ (آوازیں پست ہوگئیں) اور خضوع کا لفظ بدن کی تواضع اور انکساری کے لئے استعمال ہوتا ہے قرآن حکیم میں ہے، فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِيْنَ (٤: ٢٦) پس ان کی گردنیں اس کے سامنے جھک گئیں، نماز میں خشوع کی فقہی حیثیت : نماز میں خشوع کی تاکید قرآن وسنت میں بار بار آئی ہے قرآن کریم کا ارشاد ہے : وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ (١٤: ٢٠) اور نماز قائم کر مجھے یاد کرنے کے لئے، اور ظاہر ہے کہ غفلت یاد کرنے کی ضد ہے جو نماز میں اللہ تعالیٰ سے غافل ہے وہ اللہ کو یاد کرنے کا فریضہ ادا نہیں کررہا ؛ ایک اور آیت میں ارشاد ہے : وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ (٢٠٥: ٧) اور تو غافلوں میں سے نہ ہو : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے نماز تو صرف تمسکن اور تواضع ہی ہے جس کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ جب تمسکن اور تواضع دل میں نہ ہو تو وہ نماز نہیں۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ جس کی نماز اسے بےحیائی اور برائیوں سے نہ روک سکے وہ اللہ سے دور ہوتا جاتا ہے اور غافل کی نماز بےحیائی سے اور برائیوں سے نہیں روکتی معلوم ہوا کہ غفلت کے ساتھ نماز پڑھنے والا اللہ سے دور ہی ہوتا جاتا ہے، امام غزالی نے مذکورہ آیات و روایات اور دوسرے دلائل پیش کرکے فرمایا ہے کہ ان کا یہ تقاضا ہے کہ خشوع نماز کے لئے شرط ہو اور نماز کی صحت اس پر موقوف ہو پھر فرمایا کہ سفیان ثوری حسن بصری اور معاذ بن جبل کا مذہب یہی تھا کہ خشوع کے بغیر نماز ادا نہیں ہوتی بلکہ فاسد ہے لیکن ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء نے خشوع کو شرط صلوٰۃ قرار نہیں دیا بلکہ اسے نماز کی روح قرار دینے کے باوجود صرف اتنا شرط کیا ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت قلب کو حاضر کرکے اللہ کے لئے نماز کی نیت کرے باقی نماز میں اگر خشوع حاصل نہ ہو تو اگرچہ اتنی نماز کا ثواب اسے نہیں ملے گا جتنے حصہ میں خشوع نہیں رہا لیکن فقہ کی رو سے وہ تارک صلوٰۃ نہیں کہلائے گا اور نہ اس پر تعزیر وغیرہ کے وہ احکام مرتب ہوں گے جو تارک صلوٰۃ پر لگتے ہیں، امام غزالی نے اس کی یہ وجہ بیان فرمائی ہے کہ فقہاء باطنی احوال اور قلبی کیفیات پر حکم نہیں لگاتے بلکہ وہ تو صرف اعضائے ظاہرہ کے اعمال پر ظاہری احکام بیان کرتے ہیں یہ بات یہ فلاں عمل کا ثواب آخرت میں ملے گا یا نہیں یہ فقہ کی حدود سے خارج ہے تو چونکہ باطنی کیفیات پر حکم لگانا ان کی بحث سے خارج ہے اور خشوع ایک باطنی کیفیت ہے اس لئے انہوں نے خشوع کو پوری نماز میں شرط قرار نہیں دیا بلکہ خشوع کے ادنی مرتبہ کو شرط کہا اور وہ یہ کہ کم ازکم تکبیر تحریمہ کے وقت محض اللہ کی عبادت و تعظیم کی نیت کرلے، خشوع کو پوری نماز میں شرط قرار نہ دینے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآن حکیم کی دوسری آیات میں تشریع احکام کا یہ واضح اصول بتادیا گیا ہے کہ انسانوں پر کوئی ایسی چیز فرض نہیں کی جاتی جو ان کی طاقت و امکان سے باہر ہو، اور پوری نماز میں خشوع برقرار رکھنے سے ماسوا چند خاص افراد کے اکثر لوگ عاجز ہوتے ہیں اس لئے تکلیف مالایطاق سے بچنے کے لئے پوری نماز کے بجائے صرف ابتداء صلوٰۃ میں خشوع کو شرط قرار دے دیا گیا ، نماز خشوع کے بغیر بھی بالکل بےفائدہ نہیں : امام غزالی آخر میں ارشاد فرماتے ہیں کہ خشوع کی اس غیر معمولی اہمیت کے باوجود ہمیں اللہ سے یہی امید ہے کہ غفلت کے ساتھ نماز پڑھنے والا بھی بالکلیہ تارک صلوٰۃ کے درجہ میں نہیں کیونکہ بہرحال اس نے ادائے فرض کا اقدام تو کیا ہے اور تھوڑی سی دیر کے لئے قلب کو اللہ کے لئے فارغ بھی کیا کہ کم از کم نیت کے وقت تو صرف اللہ ہی کا دھیان تھا ایسی نماز کا کم سے کم فائدہ یہ ضرور ہے کہ اس کا نام نافرمانوں اور بےنمازوں کی فہرست سے نکل گیا، مگر دوسری حیثیت سے یہ خوف بھی ہے کہ کہیں غافل کی حالت تارک سے بھی زیادہ بری نہ ہو، کیونکہ جو غلام آقا کی خدمت میں حاضر ہو کر آقا سے بےتوجہی برتتا اور تحقیر آمیز لہجہ میں کلام کرتا ہے اس کی حالت اس غلام سے زیادہ شدید ہے جو خدمت میں حاضر ہی نہیں ہوتا، خلاصہ کلام یہ کہ معاملہ بیم ورجاء کا ہے عذاب کا خوف بھی ہے اور بخشش کی امید بھی اس لئے غفلت وتساہل کو چھوڑنے کے لئے اپنی مقدور بھر کوشش کرتے رہنا چاہئے وما توفیقنا الا باللہ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ۝ ٠ ۭ وَاِنَّہَا لَكَبِيْرَۃٌ اِلَّا عَلَي الْخٰشِعِيْنَ۝ ٤٥ ۙ استِعَانَةُ : طلب العَوْنِ. قال : اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ [ البقرة/ 45] الا ستعانہ مدد طلب کرنا قرآن میں ہے : ۔ اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ [ البقرة/ 45] صبر اور نماز سے مدد لیا کرو ۔ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں خشع الخُشُوع : الضّراعة، وأكثر ما يستعمل الخشوع فيما يوجد علی الجوارح . والضّراعة أكثر ما تستعمل فيما يوجد في القلب ولذلک قيل فيما روي : روي : «إذا ضرع القلب خَشِعَتِ الجوارح» قال تعالی: وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعاً [ الإسراء/ 109] ، وقال : الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خاشِعُونَ [ المؤمنون/ 2] ، وَكانُوا لَنا خاشِعِينَ [ الأنبیاء/ 90] ، وَخَشَعَتِ الْأَصْواتُ [ طه/ 108] ، خاشِعَةً أَبْصارُهُمْ [ القلم/ 43] ، أَبْصارُها خاشِعَةٌ [ النازعات/ 9] ، كناية عنها وتنبيها علی تزعزعها کقوله : إِذا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا [ الواقعة/ 4] ، وإِذا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزالَها [ الزلزلة/ 1] ، يَوْمَ تَمُورُ السَّماءُ مَوْراً وَتَسِيرُ الْجِبالُ سَيْراً [ الطور/ 9- 10] . ( خ ش ع ) الخشوع ۔ ( ان ) کے معنی ضواعۃ یعنی عاجزی کرنے اور جھک جانے کے ہیں ۔ مگر زیادہ تر خشوع کا لفظ جوارح اور ضراعت کا لفظ قلب کی عاجزی پر بولا جاتا ہے ۔ اسی لئے ایک روایت میں ہے :۔ (112) اذا ضرعت القلب خشعت الجوارح جب دل میں فروتنی ہو تو اسی کا اثر جوارح پر ظاہر ہوجاتا ہے قرآن میں ہے : وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعاً [ الإسراء/ 109] اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پید اہوتی ہے ۔ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خاشِعُونَ [ المؤمنون/ 2] جو نماز میں عجز و نیاز کرتے ہیں ۔ وَكانُوا لَنا خاشِعِينَ [ الأنبیاء/ 90] اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے ۔ وَخَشَعَتِ الْأَصْواتُ [ طه/ 108] آوازیں پست ہوجائیں گے ۔ ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی ۔ أَبْصارُها خاشِعَةٌ [ النازعات/ 9] یہ ان کی نظروں کے مضطرب ہونے سے کنایہ ہے ۔ جیسا کہ زمین وآسمان کے متعلق بطور کنایہ کے فرمایا ۔ إِذا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا [ الواقعة/ 4] جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے ۔ وإِذا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزالَها [ الزلزلة/ 1] جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی ۔ يَوْمَ تَمُورُ السَّماءُ مَوْراً وَتَسِيرُ الْجِبالُ سَيْراً [ الطور/ 9- 10] جس دن آسمان لرزنے لگے کپکپا کر۔ اور پہاڑ اڑانے لگیں ( اون ہوکر )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے : واستعینوا بالصبروا الصلوۃ اور صبر اور نماز کے ذریعے مدد کرو) اس میں صبر کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ کے فرض کردہ فرائض کی ادائیگی اور اس کے معاصی سے اجتناب پر فرض نماز کو بروئے کار لانے کے ساتھ متعلق ہے۔ سعید نے قتادہ سے روایت بیان کی ہے کہ صبر اور نماز دونوں باتیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت نماز کی ادائیگی، گناہوں سے اجتناب اور فرائض کی بجا آوری میں بڑی ممد و معاون ہیں جس طرح یہ قول باری ہے : (بےشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی رہتی ہے) یہاں بھی احتمال ہے کہ آیت میں مذکورہ صبر اور صلوۃ سے مستحب صبر و صلوۃ ، مثلاً نفلی روزے اور نفلی نماز مراد ہو، مفروض صبر و صلوۃ مراد نہ ہوں تاہم زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ ان کی مفروض صورتیں مراد ہیں اس لئے کہ امر کے صیغے کا ظاہر ایجاب کے لئے ہوتا ہے اور دلالت کے بغیر اسے کسی اور معنی کی طرف موڑا نہیں جاسکتا۔ قول باری ہے : وانھا لکبیرۃ (اور بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے) اس میں ضمیر مئونث مذکورہ دو باتوں میں سے ایک کی طرف راجع ہے حالانکہ پہلے ان دونوں باتوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے : واللہ و رسولہ احق ان یرضوا (حالانکہ اللہ اور اس کا رسول اس بات کے زیادہ حق دار تھے کہ یہ لوگ انہیں راضی کرتے) نیز ارشاد ہے : واذا راوجارۃ اولھوان انفقضوا الیھا (جب یہ لوگ کوئی تجارت یا کھیل تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ ) شاعرکا شعر ہے۔ فمن یک امسی بالمدینۃ رحلہ فانی وقیار بھا لغریب جس شخص کا کجا وہ مدینہ میں ٹک گیا ہے ، یعنی وہ اس شہر میں رہائش پذیر ہوگیا ہے تو وہ وہاں رہائش پذیر ہوگیا لیکن جہاں تک میرا اور قیار کا تعلق ہے تو ہم اس شہر میں اجنبی اور مسافر ہیں۔ )

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٥) اور اللہ تعالیٰ کے فرائض کی ادائیگی اور گناہوں کے ترک پر صبر سے اور گناہوں کا خاتمہ کرنے کے لیے زیادہ نمازوں سے مدد لو، اور نماز بہت بھاری ہے مگر تواضع کرنے والوں پر، جو اس بات کو جانتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ وہ اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے اور مرنے کے بعد اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔ شان نزول : (آیت) ” اتامرون الناس بالبر “۔ (الخ) واحدی (رح) اور ثعلبی (رح) نے کلبی (رح) ، ابوصالح (رح) کے ذریعہ سے حضرت عبداللہ (رض) ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے یہ آیت کریمہ مدینہ منورہ کے یہود کے متعلق نازل ہوئی کیوں کہ ان میں سے ہر ایک اپنی ننھیال، اپنے رشتہ داروں اور ان مسلمانوں سے جن کے ساتھ ان کا معاہدہ تھا کہتے تھے کہ جس دین پر تم ہو اسی پر ثابت رہو اور یہ شخص یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس بات کا تمہیں حکم دے وہ حق اور درست ہے اور لوگوں کو ایمان لانے کا کہتے تھے اور خود نہیں لاتے تھے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٥ (وَاسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ط) “ یہاں پر صبر کا لفظ بہت بامعنی ہے۔ علماء سوء کیوں وجود میں آتے ہیں ؟ جب وہ صبر اور قناعت کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں تو حب مال ان کے دل میں گھر کرلیتی ہے اور وہ دنیا کے کتے بن جاتے ہیں۔ پھر وہ دین کو بدنام کرنے والے ہوتے ہیں۔ بظاہر دینی مراسم کے پابند نظر آتے ہیں لیکن دراصل ان کے پردے میں دنیاداری کا معاملہ ہوتا ہے۔ چناچہ انہیں صبر کی تاکید کی جا رہی ہے۔ سورة المائدۃ میں یہود کے علماء و مشائخ پر بایں الفاظ تنقید کی گئی ہے : (لَوْلاَ یَنْہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِہِمُ الْاِثْمَ وَاَکْلِہِمُ السُّحْتَ ط) (المائدۃ : ٦٣) ” کیوں نہیں روکتے انہیں ان کے علماء اور صوفیاء جھوٹ بولنے سے اور حرام کھانے سے ؟ “ اگر کوئی عالم یا پیر اپنے ارادت مندوں کو ان چیزوں سے روکے گا تو پھر اس کو نذرانے تو نہیں ملیں گے ‘ اس کی خدمتیں تو نہیں ہوں گی۔ چناچہ اگر تو دنیا میں صبر اختیار کرنا ہے ‘ تب تو آپ حق بات کہہ سکتے ہیں ‘ اور اگر دنیوی خواہشات (ambitions) مقدم ہیں تو پھر آپ کو کہیں نہ کہیں سمجھوتا (compromise) کرنا پڑے گا۔ صبر کے ساتھ جس دوسری شے کی تاکید کی گئی وہ نماز ہے۔ علماء یہود وضوح حق کے باوجود جو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہ لاتے تھے اس کی بڑی وجہ حب مال اور حب جاہ تھی۔ یہاں دونوں کا علاج بتادیا گیا کہ حب مال کا مداوا صبر سے ہوگا ‘ جبکہ نماز سے عبودیت و تذلل پیدا ہوگا اور حب جاہ کا خاتمہ ہوگا۔ّ َ (وَاِنَّہَا لَکَبِیْرَۃٌ ) ” عام طور پر یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ اِنَّہَا کی ضمیر صرف صلوٰۃ کے لیے ہے۔ یعنی نماز بہت بھاری اور مشکل کام ہے۔ لیکن ایک رائے یہ ہے کہ یہ درحقیقت اس پورے طرز عمل کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا کے شدائد اور ابتلاء ات کا مقابلہ صبر اور نماز کی مدد سے کیا جائے۔ مطلوب طرز عمل یہ ہے کہ دنیا اور دنیا کے متعلقات میں کم سے کم پر قانع ہوجاؤ اور حق کا بول بالا کرنے کے لیے میدان میں آجاؤ۔ اس کے ساتھ ساتھ نماز کو اپنے معمولات حیات کا محور بناؤ ‘ جو کہ عماد الدّین ہے۔ فرمایا کہ یہ روش یقیناً بہت بھاری ہے ‘ اور نماز بھی بہت بھاری ہے۔ (اِلاَّ عَلَی الْخٰشِعِیْنَ ) ” “ ان خشوع رکھنے والوں پر ‘ ان ڈرنے والوں پر یہ روش بھاری نہیں ہے جن کے دل اللہ کے آگے جھک گئے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

60. That is, if they feel difficulty in keeping to righteousness, the remedy lies in resorting to Prayer and patience. From these two attributes they will derive the strength needed to follow their chosen course. The literal meaning of 'sabr' is to exercise restraint, to keep oneself tied down. It denotes, the will

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :60 یعنی اگر تمہیں نیکی کے راستے پر چلنے میں دُشواری محسُوس ہوتی ہے تو اس دُشواری کا علاج صبر اور نماز ہے ، ان دوچیزوں سے تمہیں وہ طاقت ملے گی جس سے یہ راہ آسان ہو جائے گی ۔ صَبْر کے لُغوی معنی روکنے اور باندھنے کے ہیں اور اس سے مراد ارادے کی وہ مضبوطی ، عَزْم کی وہ پختگی اور خواہشاتِ نفس کا وہ اِنضباط ہے ، جس سے ایک شخص نفسانی ترغیبات اور بیرونی مشکلات کے مقابلے میں اپنے قلب و ضمیر کے پسند کیے ہوئے راستے پر لگاتار بڑھتا چلا جائے ۔ ارشاد الہٰی کا مدّ عا یہ ہے کہ اس اخلاقی صفت کو اپنے اندر پرورش کرو اور اس کو باہر سے طاقت پہنچانے کے لیے نماز کی پابندی کرو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:45) استعینوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ استعانۃ (استفعال) مصدر۔ تم مدد طلب کرو۔ ملاحظہ ہو (1:4) انھا میں ہا ضمیر واحد مونث غائب کا مرجع الصلوۃ ہے۔ لکبیرۃ میں لام تاکید کے لئے ہے کبیرۃ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ الصلوۃ کی صفت ہے بمعنی شاق، دشوار۔ الخشعین۔ اسم فاعل جمع مذکر خشوع مصدر (باب فتح) ڈرنے والے۔ عاجزی کرنے والے۔ فروتنی کرنے والے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 ۔ یعنی مصائب کے برداشت کرنے میں ان دو چیزوں کا سہا را لو۔ حدیث میں ہے کہ جب کوئی ناگہ حاد ثہ پیش آتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کی طرف لپکتے اور مزید مروی ہے تمام انبیاء کی یہی عادت تھی۔ (فتح القدیر) اللہ تعالیٰ کی طاعت پر صبر معصیت سے بچنے پر صبر۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : دوغلا پن اختیار کرنے کی بجائے، عُسرویُسر میں دین پر قائم رہو اور نماز اور صبر کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی مدد کے طالب بنو۔ اے بنی اسرائیل ! تمہیں اپنے آپ کو شریعت کا پابند صبر و شکر کا خوگر اور نماز قائم کرنے والا بننا چاہیے لیکن یاد رکھو یہ کام نسبتاً مشکل ہیں۔ اس پر عمل کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ صبر و شکر اور نماز کی ادائیگی وہی لوگ کیا کرتے ہیں جن کے دل ” اللہ “ کے خوف سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں اور انہیں یقین ہوتا ہے کہ ہم نے دنیا میں ہمیشہ نہیں بیٹھ رہنا بلکہ آخر کار ہمیں اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور فکر آخرت کے نتیجہ میں آدمی سے نیک اعمال کا ظہور ہوتا ہے۔ اس فکرکے بغیر دینی کام اچھی عادت اور پیشہ تو ہوسکتے ہیں مگر توشۂ آخرت نہیں ہوسکتے اور نہ ہی کردار میں اچھی تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نماز کے ذریعے مدد طلب کرنا : (إِذْ أَتٰی عَلٰی جَبَّارٍ مِّنَ الْجَبَابِرَۃِ فَقِیلَ لَہٗٓ إِنَّ ہَا ہُنَا رَجُلًا مَعَہُ امْرَأَۃٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ فَسَأَلَہٗ عَنْہَا فَقَالَ مَنْ ہٰذِہٖ قَالَ أُخْتِیْ فَأَتٰی سَارَۃَ قَالَ یَا سَارَۃُ لَیْسَ عَلٰی وَجْہِ الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَیْرِی وَغَیْرَکِ وَإِنَّ ھٰذَا سَأَلَنِی فَأَخْبَرْتُہُ أَنَّکِ أُخْتِیْ فَلَا تُکَذِّبِیْنِیْ فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَیْہِ ذَہَبَ یَتَنَاوَلُہَا بِیَدِہٖ فَأُخِذَ فَقَالَ ادْعِی اللّٰہَ لِیْ وَلَا أَضُرُّکِ فَدَعَتِ اللّٰہَ فَأُطْلِقَ ثُمَّ تَنَاوَلَہَا الثَّانِیَۃَ فَأُخِذَ مِثْلَہَا أَوْ أَشَدَّ فَقَالَ ادْعِی اللّٰہَ لِیْ وَلَآ أَضُرُّکِ فَدَعَتْ فَأُطْلِقَ فَدَعَا بَعْضَ حَجَبَتِہٖ فَقَالَ إِنَّکُمْ لَمْ تَأْتُونِی بِإِنْسَانٍ إِنَّمَآ أَتَیْتُمُونِی بِشَیْطَانٍ فَأَخْدَمَہَا ہَاجَرَ فَأَتَتْہُ وَہُوَ قَآءِمٌ یُّصَلِّیْ فَأَوْمَأَ بِیَدِہٖ مَہْیَا قَالَتْ رَدَّ اللّٰہُ کَیْدَ الْکَافِرِ أَوِ الْفَاجِرِ فِیْ نَحْرِہٖ وَأَخْدَمَ ہَاجَرَ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ تِلْکَ أُمُّکُمْ یَا بَنِیْ مَاء السَّمَاءِ ) (رواہ البخاری :، باب قول اللہ تعالیٰ واتخذ اللّٰہ ابراھیم خلیلا) ” جب ( حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور بی بی سارہ) ایک ظالم حکمران کے ملک سے گزرے تو اس کے نوکر چاکروں نے بادشاہ کو کہا کہ ہمارے شہر میں ایک مسافر آیا ہے جس کی عورت بہت ہی زیادہ خوبصورت ہے۔ ظالم بادشاہ نے حکم دیا۔ ابراہیم کو فوراً میرے سامنے پیش کرو۔ ان سے پوچھا یہ عورت کون ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا یہ میری بہن ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بادشاہ سے فارغ ہو کر حضرت سارہ کے پاس آئے اور کہا اے سارہ ! اس سرزمین میں میرے اور تیرے سوا کوئی مومن نہیں۔ اس ظالم بادشاہ نے مجھے پوچھا ہے کہ یہ تیرے ساتھ عورت کون ہے ؟ تو میں نے تجھے اپنی بہن کہا ہے کیونکہ دینی رشتہ کے اعتبار سے تو میری بہن ہے، تجھے اس کے سامنے یہی کہنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو میں جھوٹا ثابت ہوجاؤں۔ اس ظالم بادشاہ نے حضرت سارہ کو جبراً منگوایا جب وہ اس کے پاس پہنچائی گئی تو ظالم نے دست اندازی کی کوشش کی لیکن دھڑام نیچے گرا اور فریاد کرنے لگا اے نیک خاتون ! اپنے رب سے میری عافیت کی دعا کر میں تجھے کچھ نہیں کہوں گا۔ حضرت سارہ کی دعا سے وہ اچھا ہوگیا پھر دوسری مرتبہ زیادتی کی کوشش کی دوبارہ پہلے کی طرح یا اس سے بھی زیادہ اللہ کی گرفت میں آیا۔ اب پھر التجا کی کہ اے نیک عورت ! اب کے بار پھر دعا کر میں اچھا ہوجاؤں تو میں تجھے کچھ نہیں کہوں گا۔ حضرت سارہ نے دعا کی تو اللہ کے فضل وکرم سے وہ پھر صحیح ہوگیا۔ اس بار اس نے اپنے نوکر کو بلا کر کہا تم کیسی عورت میرے پاس لائے ہو یہ عورت ہے یا شیطان ؟ ( بےشرم اپنی بےشرمی کو مٹانے کے لیے ایسا کہہ رہا تھا۔ (حالانکہ شیطان خود تھا) اس نے ہاجرہ کو حضرت سارہ کی خدمت میں دے دیا۔ جب حضرت سارہ جناب ابراہیم ( علیہ السلام) کی خدمت میں آئیں تو آپ ” اللہ “ کے حضور نماز میں مصروف تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نماز کی حالت میں اشارہ سے پوچھتے ہیں کیا معاملہ ہوا ؟ حضرت سارہ نے عرض کیا : اللہ ذوالجلال نے کافرو فاجر کی شرارت کو اس پر الٹ دیا ہے پھر سارا ماجرا ذکر کیا اور کہا بالآخر اس نے اپنی اس بیٹی کو خادمہ کے طور پر میرے حوالے کردیا ہے۔ جناب حضرت ابوہریرہ (رض) نے یہ حدیث مبارکہ ذکر کرنے کے بعد کہا اے بارش پر پلنے والو۔ (یعنی اے عرب قوم ! ) یہی تو تمہاری والدہ ہاجرہ ہیں۔ “ مسائل ١۔ مشکل کے وقت حوصلہ اور نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنی چاہیے۔ ٢۔ مشکل کے وقت صبر کرنا اور نماز پڑھنا بھاری کام ہیں مگر اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے آسان ہیں۔ ٣۔ ہر شخص کی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری یقینی ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلا عَلَى الْخَاشِعِينَ (٤٥) الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بیشک نماز اور صبر سے مدد لو ، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے ، مگر ان فرماں بردار بندوں کے لئے مشکل نہیں ہے ، جو سمجھتے ہیں کہ آخر کار انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ “ میں سمجھا ہوں کہ انہا کی ضمیر شان ہے (یعنی کسی فرد کی طرف اشارہ نہیں بلکہ صورت حال کی طرف اشارہ ہے) یعنی صورت حال یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو اعتراف حق کی دعوت دینا ، جب کہ اس کی راہ میں ایسی رکاوٹیں کھڑی ہوں ، بڑامشکل اور جاں گسل کام ہے ، یہ صرف ان بزرگوں کے لئے آسان ہے جو اپنے دلوں میں اللہ کی خشیت رکھتے ہوں اور اس کے مطیع فرمان ہو۔ جنہیں اللہ کی خشیت اور اس کے تقویٰ کا اچھی طرح شعور ہو ، اور جنہیں پورا یقین ہو کہ انہیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر وثبات سے مددلینے کی اشد ضرورت انسان کو بار بار پیش آتی ہے ۔ یہ ہر مصیبت اور مشقت کا درماں ہے ۔ یہ ہر مشکل کا حل ہے اور انسان کے لئے مشکل ترین کام یہ ہے کہ قیادت اور سیاست کے منصب سے نیچے اترآئے ، حق وسچائی کی خاطر اپنے مفادات اور کسب وکمائی پر لات ماردے اور سب چیزوں سے بےنیاز ہوکر حق کا اعتراف کرے اور اس کے تابع ہوجائے ۔ سوال یہ ہے کہ انسان اس کام میں نماز سے کس طرح مددلے ؟ نماز درحقیقت بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک خاص ملاقات ہے ۔ اس سے دل غذا لیتا ہے اور روح ایک خاص تعلق کا احساس کرتی ہے ۔ اس کے اندر نفس انسانی کے لئے وہ سروسامان ہے ، جو دنیا کے تمام مال ومتاع سے زیادہ قیمتی ہے ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حالت یہ تھی کہ جب کوئی معاملہ انہیں پریشان کرتا تو آپ نماز کی طرف لپکتے تھے ، حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حال یہ تھا اپنے رب سے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر وقت جڑے رہتے تھے ، آپ کی روح ہر وقت وحی اور الہام سے مربوط تھی ۔ سرچشمہ خیر و برکت اب بھی ہر مومن کی دسترس میں ہے ، جسے زاد راہ کی طلب ہو ، جو سخت گرمی میں شراب بارد کا خواہاں ہو ، جو ایسے حال میں مدد کا طلب گار ہو ، جب ہر قسم کی مدد منقطع ہوگئی ہو اسے زاد راہ کی ضرورت ایسے حال میں پیش آئے جبکہ اس کا توشہ دان خالی ہو۔ اللہ کی طرف پلٹ کر جانے کا یقین (قرآن کریم میں بارہا ظن اور اس کے مشتقات یقین کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ نیز عربی زبان میں بھی علم العموم ظن کا استعمال یقین میں ہوتا ہے) اور ہر معاملے میں پلٹ کر اس کی طرف جانے کا یقین ہی انسان کے اندر صبرواستقلال پیدا کرتا ہے ۔ تقویٰ اور بھلائی کی حس اسی پر موقوف ہے ۔ دنیاوی اقدار اور اخروی اقتدار کے درمیان صحیح توازن اسی یقین کا مرہون منت ہے ۔ ان اقدار کا توازن جب درست ہوجاتا ہے ۔ ترازو کی ڈنڈی جب سیدھی ہوجاتی ہے تو پھر انسان کو یہ تمام دنیا ، متاع قلیل اور ایک حقیر چیزنظر آتی ہے ۔ تب جاکر آخرت صحیح نظر آتی ہے اور پھر کوئی عقلمند آدمی اسے ترجیح دینے اور اختیار کرنے میں ایک لمحہ بھر تردد نہیں کرتا۔ جب انسان اس نہج پر قرآن کریم میں غوروفکر کرتا ہے تو یہ ہدایات جو ابتدا میں بنی اسرائیل کو دی گئی تھیں ، سب کے لئے دائمی ہدایات بن جاتی ہیں ۔ چناچہ بنی اسرائیل کو دوبارہ پکارتے ہوئے ، دوبارہ انہیں اپنی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے اور آنے والی تفصیلات سے پہلے ، اجمالاً انہیں آنے والی گھڑی سے ڈرتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ انہیں اس طرح خطاب کرتے ہیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

صبر اور صلوٰۃ کے ذریعہ مدد حاصل کرو اس آیت شریفہ میں صبر اور نماز کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا طریقہ بتایا ہے، لفظ صبر تین معنی میں آتا ہے۔ (اوّل) طاعات پر جما رہنا، خاص کر فرائض اور واجبات کو پابندی سے ادا کرنا۔ (دوم) گناہوں سے پوری طرح اہتمام کے ساتھ بچنا۔ (سوم) جو مصائب اور مشکلات در پیش ہوں ان پر صبر کرنا۔ عام طور سے لوگوں میں یہ تیسرا معنی ہی زیادہ معروف ہے۔ تینوں قسم کا صبر اللہ تعالیٰ کی مدد کو لانے والا ہے۔ زندگی میں عموماً صبر کے مواقع پیش آتے رہتے ہیں۔ عبادات بھی صبر ہی سے ادا ہوتی ہیں۔ نفس عبادت کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اگر تیار ہوتا ہے تو صحیح طریقہ سے ادا کرنے سے بچتا ہے۔ روزہ اور جہاد تو سراپا صبر ہی ہے۔ نماز سب سے بڑی عبادت ہے اس میں بھی صبر کا مظاہرہ ہے۔ نمازی کا ظاہر اور باطن عبادت ہی میں مشغول ہوجاتا ہے جو نفس پر شاق ہوتا ہے۔ صبر اور صلوٰۃ کے ذریعہ مدد طلب کرنے کا حکم فرمایا، یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی مدد لانے میں بڑا دخل رکھتی ہیں۔ حضرت حذیفہ (رض) روایت فرماتے ہیں کہ لیلۃ الاحزاب میں (غزوۂ خندق کے موقعہ پر) میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس آیا (اُن کو ایک کام کے لیے بھیجا تھا) تو آپ چادر اوڑھے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کی عادت تھی کہ جب کوئی مشکل در پیش ہوتی تھی تو نماز پڑھنے لگتے تھے۔ حضرت علی (رض) نے بیان فرمایا کہ میں نے غزوہ بدر کی رات میں یہ دیکھا کہ سوائے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سب لوگ سوئے ہوئے تھے آپ برابر نماز میں مشغول رہے اور صبح ہونے تک دعا کرتے رہے۔ (ابن کثیر ص ٨٧ ج ١) ۔ اس سلسلہ کا کچھ مضمون انشاء اللہ آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ وَاسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ) کے ذیل میں آئے گا۔ مفسر ابن کثیر نے ابن جریر طبری سے نقل کیا ہے کہ (وَاسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ) میں علماء یہود سے خطاب فرمایا ہے (وہ لوگ تحصیل دنیا کے لیے اور ریاست اور جاہ باقی رکھنے کے لیے حق چھپاتے تھے اور اسلام نہ خود قبول کرتے تھے اور نہ دوسروں کو قبول کرنے دیتے تھے ان کو حکم ہوا کہ حق قبول کرو، اسلام لاؤ، اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں لگو، صبر اور صلوٰۃ کے ذریعہ اللہ کی مدد حاصل کرو جو اللہ سے نزدیک کرے گی اور برائیوں سے روکے گی، اسلام قبول کرنے پر جو کچھ تکلیف پہنچ جائے، مال اور ریاست میں کمی آجائے اسے صبر کے ساتھ برداشت کرو) ۔ پھر ابن کثیر فرماتے ہیں کہ آیت کا خطاب اگرچہ بنی اسرائیل کے انذار اور تحذیر کے سیاق میں وارد ہوا ہے لیکن علی سبیل التخصیص صرف یہود مخاطب نہیں ہیں بلکہ صبر اور صلوٰۃ کے ذریعہ مدد حاصل کرنے کا حکم یہود اور غیر یہود سب ہی کیلئے ہے۔ (ص ٨٨ ج ١) نماز کی اہمیت : نماز میں ظاہر اور باطن سب عبادت میں لگ جاتا ہے۔ یہ ظاہری طہارت اور باطنی تزکیہ دونوں کو شامل ہے کچھ نہ کچھ مال بھی خرچ ہوتا ہے (مثلاً وضو اور غسل کے لیے پانی حاصل کرنا پڑتا ہے اور ستر عورت کے لیے کپڑوں کا انتظام کرنا پڑتا ہے) اگر صحیح طریقہ پر نماز پڑھی جائے تو دل اور اعضاء نماز کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں، اس میں شیطان سے مقابلہ ہے اور حق تعالیٰ شانہٗ سے مناجات ہے تلاوت قرآن ہے توحید اور رسالت کی گواہی ہے، نفس کو اس کے تقاضوں سے روکنا ہے اس میں چلنا پھرنا، کھانا پینا اور بات کرنا ممنوع ہے۔ نماز کے بہت سے فضائل اور فوائد ہیں۔ اگر نماز کو ٹھیک طرح سے پڑھا جائے، فرائض کی پابندی کی جائے، سنتوں کا اہتمام کیا جائے، نوافل کی طرف دھیان دیا جائے تو ضرور اللہ تعالیٰ کی مدد آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بندہ کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔ خشوع کی ضرورت : پھر فرمایا کہ نماز ضرور دشوار ہے مگر خشوع والوں پر دشوار نہیں۔ خشوع دل کے جھکاؤ اور عاجزی اور فروتنی کو کہا جاتا ہے۔ جب دل میں خشوع ہوتا ہے تو اعضاء میں بھی اس کی کیفیت ظاہر ہوتی ہے جو لوگ خشوع کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں ان کی نماز واقعی نماز ہوتی ہے، نماز میں ان کا دل لگتا ہے، نماز چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔ مسجد سے جائیں تو مسجد میں واپسی کے لیے دل اٹکا رہتا ہے۔ جسے نماز کا خشوع حاصل ہوگیا اسے ساری کامیابیاں حاصل ہوگئیں۔ سورة مؤمنون میں فرمایا کہ (قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلاَتِہِمْ خَاشِعُوْنَ ) (بےشک وہ کامیاب ہوگئے جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں) ۔ دنیا میں لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ طلب دنیا کے لیے بڑی محنتیں کرتے ہیں۔ پہاڑ توڑتے ہیں، پتھر پھوڑتے ہیں بہت سے لوگ اٹھارہ گھنٹے روزانہ محنت کرتے ہیں لیکن دو رکعت پڑھنا، ان کے لیے مصیبت بن جاتا ہے۔ اگر نماز شروع کردیں تو اس میں بھی اپنے دنیاوی مشاغل کا ہی دھیان رکھتے ہیں، خشوع نہیں ہوتا اس لیے دو رکعت پڑھنا بھی بھاری پڑجاتا ہے۔ خشوع والے کون ہیں ؟ پھر فرمایا کہ خشوع والے وہ ہیں جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ بیشک اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور یہ کہ وہ اس کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اس میں یہ بتایا ہے کہ خشوع ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جنہیں اس بات کا یقین ہے کہ ان کو موت کے بعد جی اٹھنا ہے اور میدان قیامت میں حاضر ہونا ہے اور بارگاہ خداوندی میں پیشی ہونی ہے۔ اور اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے، جس کو ان باتوں کا یقین ہوگا وہ نما زقضا بھی نہ کرے گا، بےوقت بھی نہ پڑھے گا اچھی نماز بھی پڑھے گا۔ اس کو خشوع کی کیفیت بھی حاصل ہوگی۔ رکوع سجدہ بھی ٹھیک کرے گا۔ اس کی تلاوت بھی صحیح ہوگی۔ (قال ابن کثیر ای یعلمون انھم محشورون الیہ یوم القیامۃ معروضون علیہ وانھم الیہ راجعون ای امورھم راجعۃ الی مشیئتہ فلھذا لما ایقنوا بالمعاد و الجزاء سھل علیھم فعل الطاعات و ترک المنکرات) ۔ (ص ٨٨ ج ١) درحقیقت جسے یہ یقین ہو کہ یہ نماز آخرت میں نجات کا ذریعہ بنے گی اور نماز قبول ہوئی اور نیکیاں بھی قبول ہوں گی۔ یہ رد ہوئی تو دوسرے اعمال بھی رد ہوجائیں گے ( جیسا کہ ایک حدیث میں وارد ہوا ہے) اور یہ کہ میری نماز کا ثواب مجھی کو ملنا ہے اور اس کی وجہ سے بڑے بڑے انعامات نصیب ہوتے ہیں تو ایسا شخص بےوقت نماز کیوں پڑھے گا۔ جلدی جلدی کیوں پڑھے گا۔ اور رکوع سجدہ میں کمی کیوں کرے گا ؟ در حقیقت آخرت کی پیشی اور وہاں کے عذاب وثواب کا فکر ہو تو یہ دین کے بڑے بڑے کام کروا سکتا ہے۔ یہ نہ ہو تو صحیح طریقے پر دو رکعت نماز پڑھنا بھی بھاری ہوجاتا ہے۔ حضرت عمار بن یاسر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بیشک انسان نماز سے فارغ ہوتا ہے اور اس کے لیے نماز کا دسواں یا نواں یا آٹھواں یا ساتواں یا چھٹا یا پانچواں یا چوتھائی یا تہائی یا آدھا حصہ لکھا جاتا ہے (رواہ ابو داؤد و النسائی و ابن حبان فی صحیحہ کما فی الترغیب ص ٣٤١ ج ٢) یہ ثواب کی کمی اور کٹوتی خود نمازی کے اپنے اخلاص، عمل اور خشوع کی کمی اور کوتاہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

103 ۔ یہ آٹھواں امر ہے علمائے یہود کے اسلام (مسئلہ توحید) قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی آمدنی تھی جو انہیں معتقدین کے ذریعے حاصل ہوتی تھی۔ نیز ان کی شان و شوکت اور ریاست وسیادت جو عوام پر قائم تھی اسلام قبول کرنے کی صورت میں ان سب چیزوں سے ہاتھ قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی آمدنی تھی جو انہیں معتقدین کے ذریعے حاصل ہوتی تھی۔ نیز ان کی شان و شوکت اور ریاست وسیادت جو عوام پر قائم تھی اسلام قبول کرنے کی صورت میں ان سب چیزوں سے ہاتھ دھونے پڑتے تھے۔ اور ساتھ ہی حرام خوری کی وجہ سے ان کے دل مردہ ہوچکے تھے۔ ان کے دلوں سے خوف خدا اور احساس حق بالکل محو ہوچکا تھا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بیماری کا علاج بیان فرمایا۔ متصل بما قبلہ کانھم لما امروا بما یشق علیھم لما فیہ من الکفۃ وترک الریاسۃ والاعراض عن المال عولجو بذالک (بیضاوی ص 23) صبر اور نماز کی پابندی سے تم حب جاہ ومال کے جذبہ کو دبا سکو گے۔ کیونکہ جب تم نفس کو مرغوباتِ نفسانیہ سے روکنے کا پختہ ارادہ کرلو گے اور یہی صبر کا مفہوم ہے اور ساتھ ہی نماز کے پابند ہوجاؤگے تو نماز کا خشوع اور اس میں اللہ کا ذکر اور وعدو وعید اور ثواب و عقاب کی یاد یہ سب چیزیں مل کر تمہارے دلوں کو دنیا کی محبت سے پاک کر کے ان میں آخرت کی رغبت اور محبت بھردیں گی (من الکبیر ص 497 ج 1، الروح ص 249 ج 1) مشہور ہے۔ من یتصبر یصبرہ اللہ۔ صبر آر و آر زوہا راشتاب صبر کن واللہ اعلم بالصواب اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ۭاِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ ۔ اور وَاِنَّهَا لَكَبِيْرَةٌ۔ اِنَّھَا کی ضمیر خصلۃ کی طرف راجع ہے اور اس سے مراد استعانت بالصبر والصلوۃ ہے جو ماقبل سے مفہوم ہے یعنی نفس کو مرغوبات سے روکنا اور اسے دنیا کے گوناگوں منافع اور بوقلموں تحائف کو ترک کرنے پر آمادہ کرنا بہت ہی شاق اور دشوار کام ہے۔ اِلَّا عَلَي الْخٰشِعِيْنَ ۔ البتہ جن کے دلوں میں خدا کا خوف ہے اور وہ احکام خداوندی کے سامنے جھک جاتے ہیں، ان کے لیے یہ کام کوئی مشکل نہیں کیونکہ انہیں تو اپنے آقا کی فرمانبرداری میں لذت محسوس ہوتی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi