TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Root words of Surat ul Baqara 2:49, word 6 يَسُوْمُوْنَكُمْ

The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.

Verse 2:49 word by word

Open the verse
VerbPersonal PronounPersonal Pronoun

(who were) afflicting you (with)

وہ تکلیف دیتے تھے تھم کو

Tap any part above to see where else it appears

Verb form 1

سوم
سَامَ
Perfect
يَسُوْمُ
Imperfect
سُمْ
Imperative
سَائِم
Active participle
مَسُوْم
Passive participle
سَوْم
Verbal noun

Mufradat ul Quran

Imam Raghib Isfahani

اَلسَّوْمُ: کے معنیٰ کسی چیز کی طلب میں جانے کے ہیں پس اس کا مفہوم دو اجزاء سے مرکب ہے یعنی طلب اور جانا پھر کبھی صرف ذہاب یعنی چلے جانا کے معنیٰ ہوتے ہیں۔ جیسے سَامَتِ الْاِبِلُ: اونٹ چراگاہ میں چرنے کے لئے چلے گئے۔ اور ان اونٹوں کو جو باہر چرنے کے کئے جاتے ہیں سَائِمَۃٌ کہا جاتا ہے اور کبھی صرف طلب کے معنیٰ پائے جاتے ہیں جیسے سُمْتُ کَذَا: میں نے اسے فلاں تکلیف دی چنانچہ قرآن پاک میں ہے: (یَسُوۡمُوۡنَکُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ) (۲:۴۹) وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے ہیں۔ اور سِیْمَ فُلَانٌ الْخَسَفَ (فلاں کو خسف کا عذاب دیا گیا) یَاھُوَ یُسَامُ الْخَسْفَ کا محاورہ بھی اسی سے ماخوذ ہے اور اسی سے بَیعَ میں السَّوْمُ ہے جس کے معنیٰ نرخ کرنا کے ہیں چنانچہ کہا گیا ہے۔ (1) (۱۸۶) صَاحِبُ السِّلْعَۃِ اَحَقُّ بِالسَّوْمِ: سامان کا مالک نرخ کرنے کا زیادہ حقدار ہے۔ اور سُمْتُ الْاِبِلَ فِی الْمَرعیٰ کے معنیٰ چراگاہ میں چرنے کے لئے اونٹ بھیجنے کے ہیں۔ اور اسی معنیٰ میں اَسَمْتُ الْاِبِلَ (افعال) وَسَوَّمْتُھَا (تفعیل) آتا ہے چنانچہ قرآن پاک میں ہے: (ومنہ شجر فیہ تسیمون) (۱۶:۱۰) اور اس سے درخت بھی (شاداب) ہوتے ہیں جن میں تم اپنے چارپایوں کو چراتے ہو۔ اَلسِّیْمَائُ وَالسِّیْمِیَائُ کے معنیٰ علامت کے ہیں۔ شاعر نے کہا ہے۔ (2) (الطّویل) (۲۴۸) لَہٗ سِیْمِیَائُ لَا تَشُقُّ عَلَی الْبَصَرِ اس کے چہرے پر نشان ہے جو آنکھوں پر گراں نہیں گزرتا قرآن پاک میں ہے: (سِیۡمَاہُمۡ فِیۡ وُجُوۡہِہِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ) (۴۸:۲۹) (کثرت سجود کے اثر سے) ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ اور سَوَّمْتُہٗ کے معنیٰ نشان زدہ کرنے کے ہیں۔ اور (مُسَوِّمِیۡنَ) (۳:۱۲۵) کے معنیٰ مُعَلِّمِیْنَ کے ہیں یعنی نشان زدہ اور مُسَوِّمِیْنَ (بصیغہ فاعل) کے معنیٰ ہیں: اپنے آپ پر یا اپنے گھوڑوں پر نشان امتیاز بنانے والے یا ان کو چھوڑنے والے۔ آنحضرت ﷺ سے ایک روایت میں ہے(3) : (۱۸۷) تَسَوَّمُوْا فَاِنَّ الْمَلَآئِکَۃَ قَدْ تَسَوَّمَتْ کہ تم بھی نشان بنالو کیونکہ فرشتوں نے اپنے لئے نشان بنائے ہوئے ہیں۔

Lemma / Derivative

4 results

يَسُومُ
2:49
وہ تکلیف دیتے تھے تھم کو
(who were) afflicting you (with)
يَسُوْمُوْنَكُمْ
7:141
وہ چکھاتے تھے تم کو
who were afflicting you
يَسُوْمُوْنَكُمْ
7:167
چکھائے گا ان کو
would afflict them
يَّسُوْمُهُمْ
14:6
وہ چکھاتے تھے تم کو
they were afflicting you
يَسُوْمُوْنَكُمْ