Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 67

سورة البقرة

وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖۤ اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تَذۡبَحُوۡا بَقَرَۃً ؕ قَالُوۡۤا اَتَتَّخِذُنَا ہُزُوًا ؕ قَالَ اَعُوۡذُ بِاللّٰہِ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۶۷﴾

And [recall] when Moses said to his people, "Indeed, Allah commands you to slaughter a cow." They said, "Do you take us in ridicule?" He said, "I seek refuge in Allah from being among the ignorant."

اور ( حضرت ) موسیٰ ( علیہ السلام ) نے جب اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تعالٰی تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے تو انہوں نے کہا ہم سے مذاق کیوں کرتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا میں ایسا جاہل ہونے سے اللہ تعالٰی کی پناہ پکڑتا ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Story of the murdered Israeli Man and the Cow Allah said, وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُواْ بَقَرَةً قَالُواْ أَتَتَّخِذُنَا هُزُواً قَالَ أَعُوذُ بِاللّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ And (remember) when Musa said to his people: "Verily, Allah commands you that you slaughter a cow." They said, "Do you make fun of us" He said, "I take Allah's refuge from being among Al-Jahilin (the ignorant or the foolish). Allah said, `O Children of Israel! Remember how I blessed you with miracle of the cow that was the means for discovering the identity of the murderer, when the murdered man was brought back to life.' Ibn Abi Hatim recorded Ubaydah As-Salmani saying, "There was a man from among the Children of Israel who was impotent. He had substantial wealth, and only a nephew who would inherit from him. So his nephew killed him and moved his body at night, placing it at the doorstep of a certain man. The next morning, the nephew cried out for revenge, and the people took up their weapons and almost fought each other. The wise men among them said, `Why would you kill each other, while the Messenger of Allah is still among you?' So they went to Musa and mentioned the matter to him and Musa said, إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُواْ بَقَرَةً قَالُواْ أَتَتَّخِذُنَا هُزُواً قَالَ أَعُوذُ بِاللّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ ("Verily, Allah commands you that you slaughter a cow." They said, "Do you make fun of us!" He said, "I take Allah's refuge from being among Al-Jahilin (the ignorant or the foolish))." "Had they not disputed, it would have been sufficient for them to slaughter any cow. However, they disputed, and the matter was made more difficult for them, until they ended up looking for the specific cow that they were later ordered to slaughter. They found the designated cow with a man, only who owned that cow. He said, `By Allah! I will only sell it for its skin's fill of gold.' So they paid the cow's fill of its skin in gold, slaughtered it and touched the dead man with a part of it. He stood up, and they asked him, `Who killed you?' He said, `That man,' and pointed to his nephew. He died again, and his nephew was not allowed to inherit him. Thereafter, whoever committed murder for the purpose of gaining inheritance was not allowed to inherit." Ibn Jarir reported something similar to that. Allah knows best.

قاتل کون؟ اس کا پورا واقعہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص بہت مالدار اور تونگر تھا اس کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی صرف ایک لڑکی تھی اور ایک بھیتجا تھا بھتیجے نے جب دیکھا کہ بڈھا مرتا ہی نہیں تو ورثہ کے لالچ میں اسے خیال آیا کہ میں ہی اسے کیوں نہ مار ڈالوں؟ اور اس کی لڑکی سے نکاح بھی کر لوں قتل کی تہمت دوسروں پر رکھ کر دیت بھی وصول کروں اور مقتول کے مال کا مالک بھی بن جاؤں اس شیطانی خیال میں وہ پختہ ہو گیا اور ایک دن موقع پا کر اپنے چچا کو قتل کر ڈالا ۔ بنی اسرائیل کے بھلے لوگ ان کے جھگڑوں بکھیڑوں سے تنگ آ کر یکسو ہو کر ان سے الگ ایک اور شہر میں رہتے تھے شام کو اپنے قلعہ کا پھاٹک بند کر دیا کرتے تھے اور صبح کھولتے تھے کسی مجرم کو اپنے ہاں گھسنے بھی نہیں دیتے تھے ، اس بھتیجے نے اپنے چچا کی لاش کو لے جا کر اس قلعہ کے پھاٹک کے سامنے ڈال دیا اور یہاں آ کر اپنے چچا کو ڈھونڈنے لگا پھر ہائے دہائی مچا دی کہ میرے چچا کو کسی نے مار ڈالا ۔ آخر کار ان قلعہ والوں پر تہمت لگا کر ان سے دیت کا روپیہ طلب کرنے لگا انہوں نے اس قتل سے اور اس کے علم سے بالکل انکار کیا ، لیکن یہ اڑ گیا یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں کو لے کر ان سے لڑائی کرنے پر تل گیا یہ لوگ عاجز آ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور واقعہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ شخص خواہ مخواہ ہم پر ایک قتل کی تہمت لگا رہا ہے حالانکہ ہم بری الذمہ ہیں ۔ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہاں سے وحی نازل ہوئی کہ ان سے کہو ایک گائے ذبح کریں انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی کہاں قاتل کی تحقیق اور کہاں آپ گائے کے ذبح کا حکم دے رہے ہیں؟ کیا آپ ہم سے مذاق کرتے ہیں؟ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اعوذ باللہ ( مسائل شرعیہ کے موقع پر ) مذاق جاہلوں کا کام ہے اللہ عزوجل کا حکم یہی ہے اب اگر یہ لوگ جا کر کسی گائے کو ذبح کر دیتے تو کافی تھا لیکن انہوں نے سوالات کا دروازہ کھولا اور کہا وہ گائے کیسی ہونی چاہئے؟ اس پر حکم ہوا کہ وہ نہ بہت بڑھیا ہے نہ بچہ ہے جوان عمر کی ہے انہوں نے کہا حضرت ایسی گائیں تو بہت ہیں یہ بیان فرمائیے کہ اس کا رنگ کیا ہے؟ وحی اتری کہ اس کا رنگ بالکل صاف زردی مائل ہے باہر دیکھنے والے کی آنکھوں میں اترتی جاتی ہے پھر کہنے لگے حضرت ایسی گائیں بھی بہت سی ہیں کوئی اور ممتاز وصف بیان فرمائیے وحی نازل ہوئی کہ وہ کبھی ہل میں نہیں جوتی گئی ، کھیتوں کو پانی نہیں پلایا ہر عیب سے پاک ہے یک رنگی ہے کوئی داغ دھبہ نہیں جوں جوں وہ سوالات بڑھاتے گئے حکم میں سختی ہوتی گئی ۔ احترام والدین پر انعام الٰہی اب ایسی گائے ڈھونڈنے کو نکلے تو وہ صرف ایک لڑکے کے پاس ملی ۔ یہ بچہ اپنے ماں باپ کا نہایت فرمانبردار تھا ایک مرتبہ جبکہ اس کا باپ سویا ہوا تھا اور نقدی والی پیٹی کی کنجی اس کے سرہانے تھی ایک سوداگر ایک قیمتی ہیرا بیچتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ میں اسے بیچنا چاہتا ہوں لڑکے نے کہا میں خریدوں گا قیمت ستر ہزار طے ہوئی لڑکے نے کہا ذرا ٹھہرو جب میرے والد جاگیں گے تو میں ان سے کنجی لے کر آپ کو قیمت ادا کر دونگا اس نے کہا ابھی دے دو تو دس ہزار کم کر دیتا ہوں اس نے کہا نہیں حضرت میں اپنے والد کو جگاؤں گا نہیں تم اگر ٹھہر جاؤ تم میں بجائے ستر ہزار کے اسی ہزار دوں گا یونہی ادھر سے کمی اور ادھر سے زیادتی ہونی شروع ہوتی ہے یہاں تک کہ تاجر تیس ہزار قیمت لگا دیتا ہے کہ اگر تم اب جگا کر مجھے روپیہ دے دو میں تیس ہزار میں دیتا ہوں لڑکا کہتا ہے اگر تم ٹھہر جاؤ یا ٹھہر کر آؤ میرے والد جاگ جائیں تو میں تمہیں ایک لاکھ دوں گا آخر وہ ناراض ہو کر اپنا ہیرا واپس لے کر چلا گیا باپ کی اس بزرگی کے احساس اور ان کے آرام پہنچانے کی کوشش کرنے اور ان کا ادب و احترام کرنے سے پروردگار اس لڑکے سے خوش ہو جاتا ہے اور اسے یہ گائے عطا فرماتا ہے جب بنی اسرائیل اس قسم کی گائے ڈھونڈنے نکلتے ہیں تو سوا اس لڑکے کے اور کسی کے پاس نہیں پاتے اس سے کہتے ہیں کہ اس ایک گائے کے بدلے دو گائیں لے لو یہ انکار کرتا ہے پھر کہتے ہیں تین لے لو چار لے لو لیکن یہ راضی نہیں ہوتا دس تک کہتے ہیں مگر پھر بھی نہیں مانتا یہ آ کر حضرت موسیٰ سے شکایت کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں جو یہ مانگے دو اور اسے راضی کر کے گائے خریدو آخر گائے کے وزن کے برابر سونا دیا گیا تب اس نے اپنی گائے بیچی یہ برکت اللہ نے ماں باپ کی خدمت کی وجہ سے اسے عطا فرمائی جبکہ یہ بہت محتاج تھا اس کے والد کا انتقال ہو گیا تھا اور اس کی بیوہ ماں غربت اور تنگی کے دن بسر کر رہی تھی غرض اب یہ گائے خرید لی گئی اور اسے ذبح کیا گیا اور اس کے جسم کا ایک ٹکڑا لے کر مقتول کے جسم سے لگایا گیا تو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے وہ مردہ جی اٹھا اس سے پوچھا گیا کہ تمہیں کس نے قتل کیا ہے اس نے کہا میرے بھتیجے نے اس لئے کہ وہ میرا مال لے لے اور میری لڑکی سے نکاح کر لے بس اتنا کہہ کر وہ پھر مر گیا اور قاتل کا پتہ چل گیا اور بنی اسرائیل میں جو جنگ وجدال ہونے والی تھی وہ رک گئی اور یہ فتنہ دب گیا اس بھتیجے کو لوگوں نے پکڑ لیا اس کی عیاری اور مکاری کھل گئی اور اسے اس کے بدلے میں قتل کر ڈالا گیا یہ قصہ مختلف الفاظ سے مروی ہے بہ ظاہراً یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے ہاں کا واقعہ ہے جس کی تصدیق ، تکذیب ہم نہیں کر سکتے ہاں روایت جائز ہے تو اس آیت میں یہی بیان ہو رہا ہے کہ اے بنی اسرائیل میری اس نعمت کو بھی نہ بھولو کہ میں نے عادت کے خلاف بطور معجزے کے ایک گائے کے جسم کو لگانے سے ایک مردہ کو زندہ کر دیا اس مقتول نے اپنے قاتل کا پتہ بتا دیا اور ایک ابھرنے والا فتنہ دب گیا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

67۔ 1 بنی اسرائیل میں ایک لا ولد مالدار آدمی تھا جسکا وارث صرف ایک بھتیجا تھا ایک رات اس بھتیجے نے اپنے چچا کو قتل کر کے لاش کسی آدمی کے دروازے پر ڈال دی، صبح قاتل کی تلاش میں ایک دوسرے کو قاتل ٹھہرانے لگے بالآخر بات موسیٰ علیہ تک پہنچی تو انہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم ہوا گائے کا ٹکڑا مقتول کو مارا گیا جس سے وہ زندہ ہوگیا اور قاتل کی نشان دہی کر کے مرگیا (فتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٤] گائے کو ذبح کرنے کے حکم پر بنی اسرائیل کی کٹ حجتیاں :۔ بنی اسرائیل میں ایک مالدار شخص مارا گیا جسے اس کے بھتیجوں نے جنگل میں موقعہ پا کر قتل کیا اور رات کے اندھیرے میں کسی دوسرے شخص کے مکان کے سامنے پھینک دیا۔ اس کے قاتل کا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی کہ اس قوم کو حکم دو کہ وہ ایک گائے ذبح کریں۔ پھر اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول کی لاش پر ماریں تو مقتول خود بول کر اپنے قاتل کا نام اور پتہ بتادے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اپنی قوم کو اللہ کا حکم سنایا تو وہ کہنے لگے && کیا ہم سے دل لگی کرتا ہے ؟ && گائے کو ذبح کرنے کا حکم دراصل بنی اسرائیل کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کے مترادف تھا۔ گؤ سالہ پرستی کے جراثیم اور گائے بیل سے محبت اور اسے دیوتا سمجھنے کا عقیدہ تاہنوز ان میں موجود تھا۔ لہذا ایک تکلیف تو انہیں یہ ہوئی کہ جس چیز کو قابل پرستش سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی چیز کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ دوسرے انہیں یہ یقین نہیں تھا کہ اس طرح گائے کے گوشت کا ٹکڑا مارنے سے مردہ لاش جی اٹھے گی اور بول کر قاتل کا پتہ بتادے گی۔ لہذا موسیٰ (علیہ السلام) سے یوں کہہ دیا کہ ہم سے دل لگی کرتا ہے۔ && موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں تو تمہیں اللہ کا حکم بتارہا ہوں، دل لگی نہیں کر رہا۔ کیونکہ ایسی دل لگی کرنا جاہلوں کا کام ہے۔ && اگر بنی اسرائیل ایک فرمانبردار قوم ہوتے اور کوئی سی گائے بھی ذبح کردیتے تو حکم کی تعمیل ہوجاتی، مگر کٹ حجتی اور ٹال مٹول، حتیٰ کہ نافرمانی ان کی رگ رگ میں بھری ہوئی تھی۔ کہنے لگے اچھا ہمیں اپنے پروردگار سے پوچھ کر بتاؤ وہ گائے کیسی ہونی چاہیے ؟ && اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا۔ && وہ گائے جوان ہونی چاہیے، بوڑھی یا کم عمر نہ ہو۔ پھر دوسری مرتبہ یہ سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ سے پوچھ کر ہمیں بتاؤ کہ اس کا رنگ کیسا ہونا چاہیے ؟ && اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ && وہ گہرے زرد رنگ کی ہونی چاہیے، جو دیکھنے والے کے دل کو خوش کر دے۔ && اب بھی حکم بجا لانے پر طبیعت آمادہ نہ ہوئی تو تیسری مرتبہ یہ سوال کردیا کہ ایسی صفات کی گائیں تو ہمارے ہاں بہت سی ہیں ہمیں پوچھ کر بتایا جائے کہ && اس کی مزید صفات کیا ہوں ؟ && تاکہ ہمیں کسی متعین گائے کا علم ہوجائے جس کی قربانی اللہ تعالیٰ کو منظور ہے۔ && اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا کہ && وہ گائے ایسی ہونی چاہیے جس سے ابھی تک کھیتی باڑی کا کام لینا شروع ہی نہ کیا گیا ہو یعنی نہ وہ ہل کے آگے جوتی گئی ہو اور نہ کنویں کے آگے۔ تندرست ہو اور صحیح وسالم ہو۔ یہ نہ ہو کہ کسی بیماری یا کمزوری کی وجہ سے کام نہ لیا جا رہا ہو اور اس میں کوئی داغ بھی نہ ہو۔ &&

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

مصر میں غلامی کے زمانے میں غالب قوم کے اثر سے بنی اسرائیل میں گائے کی تقدیس کا عقیدہ سرایت کر گیا تھا، اس کا ظہور اس وقت بھی ہوا جب موسیٰ (علیہ السلام) تورات لینے کے لیے طور پر گئے، تو انھوں نے بچھڑا بنا کر اس کی پرستش شروع کردی۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اس عقیدے کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کوئی گائے ذبح کرنے کا حکم دیا، اس پر انھوں نے مذاق سمجھا کہ بھلا گائے بھی ذبح کی جاسکتی ہے۔ کہنے لگے، کیا تو ہم سے مذاق کرتا ہے۔ یہ اسی طرح کی بات ہے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بتوں کی پرستش پر صاف کہا کہ یقیناً تم اور تمہارے آباء و اجداد کھلی گمراہی میں تھے، تو اس پر انھیں اعتبار نہ آیا کہ کوئی شخص بت پرستی کو بھی گمراہی کہہ سکتا ہے، کہنے لگے : (قَالُوْٓا اَجِئْـتَنَا بالْحَــقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِيْنَ ) [ الأنبیاء : ٥٥ ] ” کیا تو ہمارے پاس حق لایا ہے، یا تو کھیلنے والوں سے ہے۔ “ الغرض ! موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا : ” میں اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں کہ جاہلوں سے ہوجاؤں۔ “ معلوم ہوا مذاق اور ٹھٹھا جاہلوں کا کام ہے، البتہ مزاح اور خوش طبعی الگ چیز ہے، اس میں کوئی بات حقیقت کے خلاف نہیں ہوتی، نہ اس میں کسی کی تحقیر و تنقیص ہوتی ہے، بلکہ جس سے خوش طبعی کی جائے وہ خود بھی خوشی محسوس کرتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی مزاح فرما لیتے تھے۔ بَقَرَةً ) اس کی تنوین سے ظاہر ہے کہ وہ کوئی بھی گائے ذبح کردیتے تو کافی تھا، مگر وہ تو گائے ذبح کرنے پر آمادہ ہی نہ تھے، ادھر موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم سے سرتابی بھی نہیں کرسکتے تھے، اس لیے انھوں نے پے در پے سوال کیے، جن کا مقصد اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ کسی طرح جان چھوٹ جائے، مگر وہ جتنے سوال کرتے گئے پھنستے گئے، آخر اس شوخ زرد رنگ کی گائے پر بات آپہنچی جو عبادت کے لیے مثالی سمجھی جاتی تھی۔ آج کل بعض مسلمان گائے کی تو نہیں، البتہ مخصوص قسم کے گھوڑے کی حد سے بڑھ کر تعظیم کرتے ہیں۔ عکرمہ نے فرمایا کہ وہ ” ان شاء اللہ “ نہ کہتے تو کبھی وہ گائے نہ پاتے۔ (طبری : ١؍٣٩٠، بسند حسن ) معلوم ہوا کہ انھیں گاؤ پرستی کی نجاست سے نجات بھی اللہ تعالیٰ کے پاک نام کی برکت سے حاصل ہوئی۔ بَقَرَةً ) میں تاء وحدت کی ہے، بقر جنس ہے، جیسے تمر اور نمل جنس ہے اور ” تَمْرَۃٌ“ اور ” نَمْلَۃٌ“ سے مراد ایک کھجور اور ایک چیونٹی ہے، اس کا تذکیر و تانیث سے تعلق نہیں، وہ گائے بھی ہوسکتی ہے اور بیل بھی، جیسا کہ ہل چلانا اور پانی کھینچنا بیل کی صفات ہیں۔ عین ممکن ہے کہ انھیں بیل ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مصر میں کھیتی باڑی کا کام بیل کے ساتھ ساتھ گائے سے بھی لیا جاتا ہو۔ اس واقعہ سے بےجا سوالات کی قباحت بھی ظاہر ہے، عمل پر آمادہ انسان زیادہ سوالات کرتا ہی نہیں، فرمایا : (لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاۗءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ ) [ المائدۃ : ١٠١ ] ” ان چیزوں کے بارے میں سوال مت کرو جو اگر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

According to Mirqat, a commentary on Mishkat, a man among the Israelites wanted to marry a girl, but her father refused. The suitor was so incensed that he killed the father, and disappeared. It is mentioned in Ma` alim al-tanzil which says on the authority of Kalbi that Allah had not yet sent down any injunction with regard to man-slaughter. If it was so, this shows that the incident happened before the Torah was revealed. Anyhow, the Israelites requested Sayyidna Musa (علیہ السلام) to tell them how to trace the culprit. Under the commandment of Allah, he asked them to sacrifice a cow. As was their regular habit, they started raising all kinds of doubts and objections, of which the next verses give us the details.

خلاصہ تفسیر : اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ حق تعالیٰ تم کو حکم دیتے ہیں کہ (اگر اس لاش کے قاتل کا پتہ لگانا چاہتے ہو تو) تم ایک بیل ذبح کرو وہ کہنے لگے کہ آیا آپ ہم کو مسخرہ بناتے ہیں (کہاں قاتل کی تحقیق کہاں جانور کا ذبح کرنا) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا نعوذ باللہ جو میں ایسی جہالت والوں کا سا کام کروں (کہ احکام خداوندی میں تمسخر کرنے لگوں) فائدہ : یہ قصہ اس طرح ہوا کہ بنی اسرائیل میں ایک خون ہوگیا تھا جس کی وجہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں یہ لکھی ہے کہ کسی شخص نے مقتول کی کسی لڑکی سے شادی کی درخواست کی تھی مگر اس نے انکار کردیا اور اس شخص نے اس کو قتل کردیا قاتل لاپتہ تھا اس کا پتہ نہ لگتا تھا۔ اور معالم نے کلبی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اس وقت تک توریت میں اس کے متعلق کوئی شرعی قانون بھی نازل نہیں ہوا تھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قصہ نزول تورات سے قبل کا ہے غرض بنی اسرائیل نے موسیٰ ٰعلیہ السلام سے عرض کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ قاتل کا پتہ چلے آپ نے بحکم خداوندی ایک بیل ذبح کرنے کا حکم فرمایا انہوں نے حسب عادت اور اپنی جبلت کے مطابق اس میں حجتیں نکالنا شروع کیں آیات آئندہ میں اسی کی تفصیل ہے،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِہٖٓ اِنَّ اللہَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَۃً۝ ٠ ۭ قَالُوْٓا اَتَتَّخِذُنَا ھُزُوًا۝ ٠ ۭ قَالَ اَعُوْذُ بِاللہِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِيْنَ۝ ٦٧ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے ذبح أصل الذَّبْح : شقّ حلق الحیوانات . والذِّبْح : المذبوح، قال تعالی: وَفَدَيْناهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ [ الصافات/ 107] ، وقال : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً [ البقرة/ 67] ، وذَبَحْتُ الفارة شققتها، تشبيها بذبح الحیوان، وکذلك : ذبح الدّنّ «3» ، وقوله : يُذَبِّحُونَ أَبْناءَكُمْ [ البقرة/ 49] ، علی التّكثير، أي : يذبح بعضهم إثر بعض . وسعد الذّابح اسم نجم، وتسمّى الأخادید من السّيل مذابح . ( ذ ب ح ) الذبح ( ف ) اصل میں اس کے معنی حیوانات کے حلق کو قطع کرنے کے ہیں اور ذبح بمعنی مذبوح آتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَفَدَيْناهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ [ الصافات/ 107] اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً [ البقرة/ 67] کہ خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ ایک بیل ذبح کرو ۔ ذبحت الفارۃ ۔ میں نے نافہ مشک کو کو چیرا ۔ یہ حیوان کے ذبح کے ساتھ تشبیہ کے طور پر بولا جاتا ہے ۔ اسی طرح ذبح الدن کا محاورہ ہے جس کے معنی مٹکے میں شگاف کرنے کسے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ يُذَبِّحُونَ أَبْناءَكُمْ [ البقرة/ 49] تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے ۔ میں صیغہ تفعیل برائے تکثیر ہے یعنی وہ کثرت کے ساتھ یکے بعد دیگرے تمہارے لڑکوں کو ذبح کررہے تھے ۔ سعد الدابح ( برج جدی کے ایک ) ستارے کا نام ہے اور سیلاب کے گڑھوں کو مذابح کہا جاتا ہے ۔ بقر البَقَر واحدته بَقَرَة . قال اللہ تعالی: إِنَّ الْبَقَرَ تَشابَهَ عَلَيْنا [ البقرة/ 70] ويقال في جمعه : بَاقِر ( ب ق ر ) البقر ۔ ( اسم جنس ) کے معنی ( بیل یا ) گائے کے ہیں اس کا واحد بقرۃ ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ إِنَّ الْبَقَرَ تَشابَهَ عَلَيْنا [ البقرة/ 70] کیونکہ بہت سے بیل ہمیں ایک دوسرے کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں ۔ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ هزؤ والاسْتِهْزَاءُ : ارتیاد الْهُزُؤِ وإن کان قد يعبّر به عن تعاطي الهزؤ، کالاستجابة في كونها ارتیادا للإجابة، وإن کان قد يجري مجری الإجابة . قال تعالی: قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] ( ھ ز ء ) الھزء الا ستھزاء اصل میں طلب ھزع کو کہتے ہیں اگر چہ کبھی اس کے معنی مزاق اڑانا بھی آجاتے ہیں جیسے استجا بۃ کے اصل منعی طلب جواب کے ہیں اور یہ اجابۃ جواب دینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے ۔ عوذ العَوْذُ : الالتجاء إلى الغیر والتّعلّق به . يقال : عَاذَ فلان بفلان، ومنه قوله تعالی: أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] ( ع و ذ) العوذ ) ن ) کے معنی ہیں کسی کی پناہ لینا اور اس سے چمٹے رہنا ۔ محاورہ ہے : ۔ عاذ فلان بفلان فلاں نے اس کی پناہ لی اس سے ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] کہ میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں ۔ جهل الجهل علی ثلاثة أضرب : - الأول : وهو خلوّ النفس من العلم، هذا هو الأصل، وقد جعل ذلک بعض المتکلمین معنی مقتضیا للأفعال الخارجة عن النظام، كما جعل العلم معنی مقتضیا للأفعال الجارية علی النظام . - والثاني : اعتقاد الشیء بخلاف ما هو عليه . - والثالث : فعل الشیء بخلاف ما حقّه أن يفعل، سواء اعتقد فيه اعتقادا صحیحا أو فاسدا، كمن يترک الصلاة متعمدا، وعلی ذلک قوله تعالی: قالُوا : أَتَتَّخِذُنا هُزُواً ؟ قالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] ( ج ھ ل ) الجھل ۔ ( جہالت ) نادانی جہالت تین قسم پر ہے ۔ ( 1) انسان کے ذہن کا علم سے خالی ہونا اور یہی اس کے اصل معنی ہیں اور بعض متکلمین نے کہا ہے کہ انسان کے وہ افعال جو نظام طبعی کے خلاف جاری ہوتے ہیں ان کا مقتضی بھی یہی معنی جہالت ہے ۔ ( 2) کسی چیز کے خلاف واقع یقین و اعتقاد قائم کرلینا ۔ ( 3) کسی کام کو جس طرح سر انجام دینا چاہئے اس کے خلاف سر انجام دنیا ہم ان سے کہ متعلق اعتقاد صحیح ہو یا غلط مثلا کوئی شخص دیا ۔ دانستہ نماز ترک کردے چناچہ اسی معنی کے اعتبار سے آیت : أَتَتَّخِذُنا هُزُواً ؟ قالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] میں ھزوا کو جہالت قرار دیا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

تفسیر آیت 67 تا 73: قول باری ہے : انا اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ، قالوا اتتخذنا ھزواً (اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے، کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو) تا قول باری : واذ قتلتم نفساً فادار اتم فیھا واللہ مخرج ما کنتم تکتمون، فقلنا اضربوہ ببعضھا (اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے تھے اور اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے کھول کر رکھ دے گا۔ اس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگائو تا آخر آیت۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ان آیات اور ان میں مذکورہ قصہ مقتول اور ذبح بقرہ کے اندر کئی قسم کے احکام اور اعلیٰ معانی پر دلائل موجود ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ قول باری : واذا قتلم نفساً اگرچہ تلاوت کے اندر موخر ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے یہ گائے کے متعلق بیان کردہ تمام امور پر مقدم ہے کیونکہ گائے ذبح کرنے کا حکم صرف اس لئے دیا گیا تھا کہ اس کا سبب ایک آدمی کا قتل تھا۔ اس سلسلے میں دو اور وجوہ بھی بیان کی گئی ہیں۔ پلہی وجہ یہ بیان ہوئی ہے کہ قتل کا ذکر اگرچہ تلاوت کے اندر مئوخر ہے۔ لیکن نزول کے اندر مقدم ہے اور دوسری وجہ یہ بیان ہوئی ہے کہ آیت کے نزول کی ترتیب تلاوت کی ترتیب کے مطابق ہے ۔ تاہم یہ معنی کے اعتبار سے مقدم ہے۔ اس لئے کہ حرف وائو ترتیب کا موجب نہیں ہوتا۔ مثلاً اگر ایک شخص کہے ” مجھے یاد ہے کہ میں نے زید کو ایک ہزار درہم دیئے تھے جب اس نے میرا مکان بنایا تھا۔ “ حالانکہ مکان کی تعمیر ایک ہزار درہم دینے پر مقدم تھی۔ گائے کا ذکر نزول کے اندر مقدم ہے اس کی دلیل یہ قول باری ہے : فقلنا اشربوہ ببعضھا۔ یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ گائے کا ذکر اس سے پہلے ہوچکا تھا اس بنا پر درج بالا فقرے کے اندر اس کا ذکر ضمیر کی صورت میں کیا گیا۔ اس کی نظیر حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں طوفان اور اس کے اختتام کے ذکر کے بعد یہ قول باری ہے : قلنا احمل فیھا من کل زوجین اثنین واھلک الا من سبق علیہ القول ون امن۔ وما امن معہ الا قلیل (ہم نے کہا ” ہر قسم کے جانوروں کا ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو، اپنے گھر والوں کو بھی … سوائے ان اشخاص کے جن کی نشان دہی پہلی ک جای چکی ہے … اس میں سوار کرلو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ “ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے) یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ یہ گفتگو ان کی ہلاکت سے پہلے ہوئی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کلام میں تقدیم و تاخیر حرف وائو کے ذریعے معطوف صورت میں ہو تو یہ بات لفظ کی ترتیب پر معنی کی ترتیب کی موجب نہیں بنتی۔ قول باری : ان اللہ یا مرکم ان تدبحوا بقرۃ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ذبح بقرہ کا حکم کسی مجہول اور غیر معروف گائے کے ذبح کا جواز لے کر وارد ہوا تھا اور مامور کو اختیار تھا کہ وہ ایسی ادنیٰ سے ادنیٰ گائے ذبح کر دے جس پر بقرہ کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہو۔ عموم کا اثبات کرنے والوں اور عموم کی نفی کرنے والوں کے درمیان درج بالا قول باری کے معنی کے متعلق اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔ ہر فریق نے اس کے ذریعے اپنے مسلک کے حق میں استدلال کیا ہے۔ جو لوگ عموم کے قائل ہیں انہوں نے مذکورہ قو ل باری سے مطلق صورت میں اس کے درود کی جہت سے استدلال کیا ہے۔ یعنی ان کے نزدیک قول باری میں مذکورہ امر ایسا امر تھا جو ان تمام احاد میں سے جنہیں لفظ کا عموم شامل تھا ہر واحد کے اندر لازم تھا ، یعنی اگر وہ کسی بھی گائے کو ذبح کردیتے تو کام چل جاتا، لیکن جب انہوں نے اللہ کے رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بار بار مراجعت کر کے انہیں تنگ کردیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر مذکورہ تکلیف، یعنی حکم کے اندر شدت پیدا کردی اور اللہ کے رسول سے بار بار مراجعت پر ان الفاظ میں ان کی مذمت کی : فذبحوھا وما کادوا یفعلون (پھر انہوں نے اسے ذبح کیا اور نہ وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے) جس بصری نے روایت بیان کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے اگر یہ لوگ ہلکی سے ہلکی گائے لا کر ذبح کردیتے تو ان کا کام چل جاتا، لیکن انہوں نے تشدد کی اور اس کے جواب میں اللہ نے بھی ان پر تشدید کردی۔ “ اسی کسی قسم کی روایت حضرت ابن عباس، عبیدہ، ابو العالیہ اور مجاہد سے بھی مروی ہے۔ جو لوگ عموم کے قول کو تسلیم نہیں کرتے انہوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ شروع میں اللہ کے رسول سے مراجعت کرنے کی وجہ سے اللہ نے انہیں ڈانٹ پلائی۔ اگر ان پر شروع ہی میں مذکورہ امر کی تنقید لازم ہوجاتی جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے کہ عموم لفظ کا اقتضاء یہی تھا تو پھر مراجعت کی ابتدا ہی میں ان پر نکیر کا درود ہوجاتا، لکین اس استدلال میں کوئی جان نہیں ہے۔ کیونکہ لفظ کے اندر اس نکیر کا ظہور ان پر دو طریقوں سے ہوا تھا۔ اول تو یہ کہ ان پر مذکورہ آزمائش کے اندر شدت پیدا کردی گئی تھی اور بھی نکیر کی ایک صورت ہے جس طرح یہ اشراد باری ہے : فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیھم طیبات احلت لھم (غرض ان یہودی بن جانے والوں کے اسی ظالمانہ رویہ کی بنا پر ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کردیں جو پہلے ان کے لئے حلال تھیں) اور دوم یہ قول باری : وما کا دوا یفعلون ۔ جو اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ لوگ ابتدا ہی سے امر الٰہی کے تارک بن گئے تھے جب کہ مذکورہ امر بجا لانے کے اندر تیزی دکھانا ان پر لازم تھا۔ زیر بحث آیت چند معانی پر مشتمل ہے : اول یہ کہ ان صورتوں میں عموم لفظ کا اعتبار واجب ہے جہاں اس کا استعمال ممکن ہو۔ دوم یہ کہ امر فی الفور عملدرآمد پر مبنی ہوتا ہے، یعنی مامور پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اسے بروئے کار لانے میں امکانی حد تک تیزی دکھائے اور مسارعت کا مظاہرہ کرے الایہ کہ تاخیر کے جواز پر کوئی دلالت قائم ہوجائے۔ سوم یہ کہ کسی مجہول الصفت چیز کے بارے میں امر کا درود جائز ہے جبکہ اس کے ساتھ مامور کو یہ اختیار دیا گیا ہو کہ وہ اسم کے تحت واقع ہونے والی کسی بھی صورت کو بروئے کار لے آئے۔ چہارم یہ کہ امر کا وجوب ہوتا ہے اور اسے کسی دلالت کے قیام کے بغیر ندب، یعنی استحباب کی طرف لوٹایا نہیں جاسکتا۔ کیونکہ بنی اسرائیل کے مذکورہ لوگوں کو مذمت صرف اس بنا پر لاحق ہوئی تھی کہ انہوں نے اس مطلق امر کو ترک کردیا تھا جس میں کسی وعید کا ذکر نہیں تھا۔ پنجم یہ کہ ایک فعل پر تمکن کے بعد اس کے وقوع سے پہلے اس کا نسخ جائز ہے۔ سا لئے کہ مذکورہ گائے کی صفات میں ہر دفعہ اضافے سے اس کے ماقبل کا حکم منسوخ ہوگیا تھا اس لئے کہ قول باری : ان اللہ یا مرکم ان تذبحوا بقرۃ اس بات کا مقتضی تھا کہ وہ کوئی سی بھی گائے جس طرح چاہیں ذبح کریں اور انہیں ایسا کرنے کی قدرت بھی حاصل تھی، لیکن جب انہوں نے کہا : ادع لناربک یبین لنا ماھی (اچھا اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہمیں اس گائے کی کچھ تفصیل بتائے) تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : انھا بقرۃ لا فارض ولا بکر ۔ عوان بین ذلک فافعلوا ما تومرون (وہ ایسی گائے ہونی چاہیے جو نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا بلکہ اوسط عمر کی ہو، لہٰذا جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرو) اس طرح وہ تخیر منسوخ ہوگئی جسے پہلے امر الٰہی نے مذکورہ صفت کے ساتھ موصوف گائے یا کسی اور گائے کو ذبح کرنے کے سلسلے میں واجب کردیا تھا اور ان سے کہا گیا کہ تمہیں جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرو۔ “ اس سے یہ بات واضح کردی گئی کہ ان پر یہ لازم تھا کہ وہ کسی تاخیر کے بغیر مذکورہ صفت والی گائے ذبح کردیتے خواہ اس کا رنگ کچھ بھی ہوتا اور خواہ ذلول یعنی کام کرنے والی ہوتی یا کام نہ کرنے والی ہوتی لیکن جب انہوں نے کہا : ادع لنا ربک یبین لنا مالونھا (اپنے رب سے یہ اور پوچھ دو کہ اس کا رنگ کیسا ہو ؟ ) تو اس سے وہ تخییر منسوخ ہوگئی جو انہیں حسب منشا کسی بھی رنگ کی گائے ذبح کرنے کے سلسلے میں حاصل تھی اور اس کی دوسری صفت کے بارے میں تخییر باقی رہی، لیکن جب انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مراجعت کی تو یہ تخییر بھی منسوخ ہوگئی اور انہیں اسی صفت والی گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا جس کا ذکر اللہ نے کیا تھا اور آزمائش سختی نیز بجا آوری کی صورت کے اندر شدت پیدا کرنے کے بعد اسی صفت پر ذبح کی فرضیت آ کر ٹھہر گئی۔ نسخ کے متعلق ہم نے اوپر جو کچھ بیان کیا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ نص کے حکم کے استقرار کے بعد نص میں اضافہ اس کے نسخ کا موجب بن جاتا ہے۔ اس لئے کہ قوم کی طرف سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مراجعت کے بعد وارد ہونے والے وہ تمام اوامر جن کا ہم نے ذکر کیا ہے، اس نص کے اندر اضافہ تھے جس کے حکم کو استقرار حاصل ہوچکا تھا اور ان اضافوں نے مذکورہ نص کا نسخ واجب کردیا تھا۔ بعض لوگ زیر بحث واقعہ سے فرض کا وقت آنے سے پہلے اس کے نسخ کے جواز پر استدلال کرتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ بات واضح تھی کہ ابتدا میں ان لوگوں پر غیر معین گائے کا ذبح فرض تھا لیکن فعل کا وقت آنے سے پہلے ہی ان سے یہ حکم منسوخ کردیا گیا ۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ بات غلط ہے۔ اس لئے کہ اس صورت میں ہر فرض ایسا تھا کہ اس کے فعل کا وقت امر کے ورود کے ساتھ ہی فعل کے امکان کے اول احوال میں تھا اور فرض ان پر مستقر اور ثابت ہوگیا تھا اور پھر فعل سے قبل ہی منسوخ ہوگیا تھا۔ اس لئے اس میں اس بات پر کوئی دلالت نہیں ہے کہ فعل کے وقت کی آمد سے پہلے نسخ جائز ہے۔ یہ بات ہم نے اصول فقہ میں بیان کردی ہے۔ ششم یہ کہ قول باری : لا قارض ولا بکرعوان بین ذلک اجتہاد کے جواز تیز احکام کے اندر غالب ظن کے استعمال پر دلالت کرتا ہے کیونکہ طریق اجتہاد سے ہی مذکورہ گائے کے بوڑھی اور بچھیا وہنے کے درمیان والی کیفیت معلوم کی جاسکتی تھی۔ ہفتم یہ کہ اگرچہ ظاہر کا استعمال ہو۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی جائز رکھی جائے کہ باطن میں اس کے خلاف بھی ہوسکتا ہے، چناچہ ارشاد باری ہے : مسلمۃ لاشیۃ فیھا ، صحیح سالم (اور بےداغ ہو) یعنی عیوب سے صحیح سالم اور بری ہو۔ یہ ایسی بات ہے جسے ہم حقیقت کی راہ سے معلوم نہیں کرسکتے، بلکہ ہمیں اس کا علم از راہ ظاہر ہوتا ہے اور اس کے ساتھ اس امر کا جواز بھی ہوت ا ہے کہ اس میں کوئی باطنی عیب ہو۔ ہشتم یہ کہ اللہ کے رسول سے ان کی آخری دفعہ مراجعت کے سلسلے میں قول باری ہے : وانا ان شآء اللہ ممھتدون ( (اللہ نے چاہا تو اس کا پتہ پالیں گے) جب انہوں نے خبر کو اللہ کی مشیت کے ساتھ مقرون کردیا تو اسکے بعد انہیں اللہ کے رسول سے مزید مراجعت نہ کرنے اور ماموربہ کو وجود میں لانے کی توفیق نصیب ہوگئی۔ ایک روایت کے مطابق اگر یہ لوگ انشاء اللہ نہ کہتے تو انہیں کبھی بھی مذکورہ گائے کا پتہ نہ چلتا اور ان کے درمیان جھگڑا ہمیشہ چلتا رہتا۔ اسی طرح یہ قول باری ہے : وما کادوا یفعلون (اور وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے) اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات کی خبر اس لئے دی کہ ہم جب مستقبل میں کئے جانے والے کسی معاملے کی خبر دیں تو اس استثناء کا ضرور ذکر کریں جو اللہ کی مشیت کی صورت میں ہے، تاکہ اس کے ذریعے ہم مذکورہ معاملے میں کامیابی سے ہمکنار ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس مقام کے علاوہ ایک دوسرے مقام پر بھی اس استثناء کا حکم دیا ہے چناچہ ارشاد باری ہے : ولا تقولن لشای انی فاعل ذلک غدا الا ان یشآء اللہ (اور آپ کسی چیز کی نسبت یہ نہ کہا کیجیے کہ میں اسے کل کروں گا سوائے اس کے کہ اللہ بھی چاہے) اس میں اللہ سے استعانت، اس کی ذات کی طرف معاملہ کی تفویض اور اس کی قدرت نیز اس کی مشیت کے نفاذ کا اعتراف ہے اور اس بات کا اظہار بھی ہے کہ وہی ہر معاملے کا مالک اور اسے چلانے والا ہے۔ نہم یہ کہ قول باری : اتتخذنا ھزواً ، قال اعوذ باللہ ان اکون من الجاھلین (کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں) کی دلالت اس امر پر ہے کہ استہزاء اور مذاق کرنے والا جہل کی علامت کا مستحق ہوتا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) السلام نے اپنی ذات سے استہزاء کی نفی کر کے جاہلوں سے اپنے ہونے کی نفی کردی تھی۔ یہ قول باری اس امر پر بھی دلالت کرتا ہے کہ دین کے معاملے میں استہزاء کبیرہ گناہ ہے۔ اگر ایسی بات نہ ہوتی تو استہزاء کا گناہ جہل نہ گردانا جاتا۔ محمد بن مسعر نے ذکر کیا ہے کہ وہ عبید اللہ بن المحسن العنبری انفاضی کے پاس اونی جبہ پہنے ہوئے گئے۔ عبید اللہ کی طبیعت میں مذاق کا عنصر غالب تھا۔ انہوں نے ابن مسعر سے ازراہ مذاق پوچھا۔” تمہارا یہ جبہ بکری کی اون کا ہے یا مینڈھے کی اون کا۔ “ ابن مسعر نے ان سے کہا :” اللہ تمہیں زندگی دے جہالت کی بات نہ کرو۔ “ ابن مسعر کہتے ہیں کہ ” میں نے ان کے مذاق کو جہالت سمجھ کر ان کے سامنے آیت اتتخذنا ھزواً تلاوت کی۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا : اعوذ باللہ ان اکون من الجاھلین اور پھر گفتگو کا رخ بدل دیا۔ زیر بحث آیت میں اس امر پر بھی دلالت موجود ہے کہ حضر ت موسیٰ (علیہ السلام) السلام ایسے لوگوں کو قتل کردینے کے پابند نہیں بنائے گئے تیھ جن سے کفر ظاہر ہوتا ہے، بلکہ وہ صرف الفاظ کے ذریعے جواب دینے پر مامور تھے، اس لئے کہ اللہ کے نبی سے یہ کہنا کہ ” کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو ؟ “ کفر تھا۔ یہ اسی طرح تھا جیسے انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) السلام سے قرآن کے الفاظ میں کہا تھا : اجعل لنا الھا کما لھم الھۃ (ہمارے لئے بھی اسی طرح کا ایک الہ بنادو جس طرح ان لوگوں کے الہ ہیں) زیر بحث آیت اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ بنی اسرائیل کے مذکورہ لوگوں کا یہ کفر ان سے ان کی بیویوں کی تفریق کا موجب نہیں بنا تھا، اس لئے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) السلام نے انہیں اپنی بیویوں سے علیحدہ ہوجانے کا حکم نہیں دیا تھا اور نہ ہی ان کا نکاح باقی رہنے کے متعلق کچھ فرمایا تھا۔ قول باری : واللہ مخرج ماکنتم تکتمون۔ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ بندہ اپنے دل میں جو خیر و شر چھپائے رکھتا ہے اللہ اسے کبھی نہ کبھی ظاہر کردیتا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر کوئی بندہ ستر پردوں کے پیھچے رہ کر بھی اللہ کی فرمانبرداری کرے تو بھی اللہ تعالیٰ اس کی یہ بات لوگوں کی زبانوں پر ظاہر کردیتا ہے اور معصیت کی بھی یہی کیفیت ہے۔ “ ایک روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) السلام کو وحی بھیجی کہ بنی اسرائیل سے کہہ دو کہ وہ بیشک مجھ سے اپنے اعمال چھپاتے رہیں، لیکن میں تو ان کے اعمال ظاہر کر کے ہی رہوں گا۔ “ درج بالا قول باری عام ہے، لیکن اس سے خاص مراد ہے اس لئے کہ مذکورہ تمام لوگوں کو اصل قاتل کا علم نہیں تھا اور اسی لئے ان کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ درج بالا قول باری تمام لوگوں کے بارے میں عام ہو کیونکہ یہ ایک مستقل بالذات کلام ہے اور مذکورہ لوگوں، تیز دیگر لوگوں کے بارے میں ہے۔ زیر بحث واقعہ کے اندر مذکورہ بالا احکام کے علاوہ مقتول کی میراث سے حرمان کا حکم بھی موجود ہے۔ ابو ایوب نے ابن سیرین سے اور انہوں نے عبیدہ السلمانی سے روایت بیان کی ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کا کوئی رشتہ دار جس کا یہ تنہا وارث تھا، اس نے اس شخص کو قتل کر ڈالا تاکہ اس کا وارث بن جائے اور پھ راس کی لاش کو کسی کے دروازے پر ڈال دیا۔ اس کے بعد ابو ایوب نے گائے کے واقعہ کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس واقعے کے بعد کسی قاتل کو وارث قرار نہیں دیا گیا۔ قاتل کے وارث ہونے کے مسئلے میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت عمر، حضرت علی حضرت ابن عباس اور سعید بن المسیب سے مروی ہے کہ قاتل کو کوئی میراث نہیں ملے گی خواہ اس نے قتل کا ارتکاب عمداً کیا ہو یا خطا نیز یہ کہ وہ مقتول کی دیت سے بھی اس کا وارث نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کے دوسرے تمام اموال سے۔ امام ابوحنیفہ، سفیان ثوری، امام ابو یوسف امام محمد اور زفر کا بھی یہی قول ہے، البتہ ہمارے اصحاب نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر قاتل بچہ یا دیوانہ نہ ہو، تو وہ وارث ہوجائے گا۔ عثمان البتی کا قول ہے کہ خطاً قتل کا ارتکاب کرنے والا وارث ہوجائے گا لیکن قتل عمد کا مرتکب وارث نہیں بنے گا۔ ابن شبرمہ کے قول کے مطابق قتل خطا کا مرتکب وارث قرار نہیں پائے گا۔ ابن وہب نے امام مالک سے نقل کیا ہے کہ قتل عمد کا مرتکب مقتول کی دیت سے کسی چیز کا وارث نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کے مال میں سے اسے کچھ ملے گا۔ البتہ قتل خطا کی صورت میں وہ مقتول کے مال میں سے تو وارث ہوجائے گا، لیکن اس کی دیت میں وارث نہیں ہوگا۔ حسن بصری سے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے، نیز مجاہد اور زہری اور اوزاعی بھی اسی قول کے قائل ہیں۔ المزنی نے امام شافعی سے نقل کیا ہے کہ اگر باغی عادل کو یا عادل باغی کو قتل کر دے تو وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے کیونکہ وہ دونوں قاتل شمار ہوں گے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ فقہاء اس بارے میں اختلاف رائے نہیں رکھتے کہ قتل عمد کا مرتکب مقتول کا وارث نہیں بن سکے گا جب کہ عاقل بالغ ہو اور ناحق ارتکاب قتل کیا وہ، البتہ قتل خطا کے بارے میں حضرات فقہاء کی رائیں مختلف ہیں جن کا ذکر ہم نے سطور بالا میں کردیا ہے۔ عبدالباقی نے روایت بیان کی، ان سے احمد بن محمد بن غبسہ بن القیط الضبی نے، ان سے علی بن حجر نے ، ان سے اسماعیل بن عیاش نے ابن جریج، المثنیٰ اور یحییٰ سعید سے اور ان سب نے عمر و بن شعیب سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” قاتل کے لئے میراث میں کچھ نہیں۔ “ اسی طرح عبدالباقی نے روایت بیان کی، ان سے موسیٰ بن زکریا التستری نے، ان سے سلیمان بن دائود نے، ان سے اجعفر بن غیاث نے المحجاج سے، انہوں نے عمرو بن شعیب سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے دادا سے، انہوں نے حضرت عمر بن خطاب سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” قاتل کے لئے کچھ نہیں ہے۔ “ لیث نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” قاتل وارث نہیں ہوتا۔ “ یزید بن ہارو ن نے روایت بیان کی کہ انہیں محمد بن راشد نے مکحول سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ : قتل عمد کا مرتکب اپنے بھائی سے اور نہ ہی اپنے کسی رشتہ دار کے مال کا وارث ہوگا اور اس قاتل کے بعد جو رشتہ دار سب سے زیادہ قریب ہوگا وہ مذکورہ شخص کا وارث قرار پائے گا۔ “ حصن بن میسر نے روایت بیان کی، ان سے عبدالرحمٰن بن حرملہ نے عدی الجذائی سے، انہوں نے کہا کہ : میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ : اللہ کے رسول، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مسئلے میں کیا فرمائیں گے کہ اگر میری دو بیویاں ہوں اور وہ دونوں آپس میں دست و گریبان ہوجائیں اور پھر ایک کی جان چلی جائے۔ “ یہ سن کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ : اسے یعنی زندہ رہ جانے والی کو باندھ کر رکھیو اور اسے وارث نہ بنائو۔ “ درج بالا روایتوں سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ قاتل مقتول کے تمام مال میں سے وراثت سے محروم ہوجاتا ہے اور اس سلسلے میں قتل عم اور قتل خطا کے مرتکب کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ اس بارے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے الفاظ میں عموم ہے۔ پھر فقہاء نے ان روایات پر عمل بھی کیا ہے اور انہیں قبولیت کا درجہ دیا ہے، اس بنا پر ا نروایات کی حیثیت تواتر جیسی ہوجائے گی۔ جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :” وارث کے لئے کوئی وصیت نہیں۔ “ یا ” عقد نکاح میں ایک عورت کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح نہ کیا جائے۔ “ یا :” عقد نکاح میں ایک عورت کی پھوپھی یا خالہ سے نکاح نہ کیا جائے۔ “ یا ” اگر بائع اور مشتری کا اختلا فہو جائے تو بائع کا قول معتبر ہوگا یا طرفین ایک دوسرے سے اپنا اپنا مال واپس لے لیں گے۔ “ غرض اسی طرح کی دیگر روایات جو سند کے اعتبار سے معتبر افراد سے مروی ہیں، یعنی اخبار آحاد ہیں لیکن فقہاء کی طرف سے انہیں قبول کرلینے اور ان پر عمل ہونے کی وجہ سے یہ حد تواتر کو پہنچ گئی ہیں۔ اسی بنا پر آیت المواریث “ کی ان احادیث کے ساتھ تخصیص جائز ہوگی۔ اس سلسلے میں قتل عمد اور قتل خطا کا ارتکاب کرنے والوں کے درمیان حکم کے اندر یکسانیت پر وہ روایتیں دلالت کرتی ہیں جو حضرت عمر، حضرت علی اور حضرت ابن عباس سے مروی ہیں اور ا ن کے متعلق ان حضرات کے ہمسر صحابہ کرام کا ان سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اگر صحابہ کرام کا کوئی ایسا قول جو اپنے شیوع اور استفاضہ کے اعتبار سے زیر بحث قول کی طرح ہو تو اس پر تابعین کے قول کے ذریعے اعتراض کرنا جائز نہیں ہے۔ امام مالک نے جب اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ قاتل مقتول کی دیت میں سے کسی چیز کا وارث نہیں ہوگا، تو پھر مقتول کے تمام اموال کے سلسلے میں یہی حکم ہونا کئی وجوہ کی بنا پر واجب ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ مقتول کی دیت مقتول ہی کا مال ہوتا ہے اور اس کی میراث قرار پاتا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے تمام دیون اسی سے ادا کئے جاتے ہیں اور اس کی وصیت بھی اس سے پوری کی جاتی ہے اور اس کے ورثاء اللہ کے مقرر کردہ حصوں کی نسبت سے اس کے وارث قرار پاتے ہیں۔ جس طرح یہ ورثاء اس مقتول کے دیگر اموال سے مقررہ حصے حاصل کرتے ہیں۔ سا لئے جب سب کا اس بات پر اتفاق ہوگیا کہ قاتل مقتول کی دیت میں کسی چیز کا وارث نہیں ہوگا تو حرمان کا یہ اصول اس کے دیگر تمام اموال میں بھی جاری ہونا ضروری ہے۔ جس طرح مقتول کی دیت سے وارث ہونے والا شخص اس کے دیگر تمام اموال میں بھی وارث ہوتا ہے اس بنا پر وراثت کے استحقاق کے اندر اس کے تمام اموال کا حکم اس کی دیت کے حکم کی طرح ہے۔ اسی طرح حرمان کے اندر بھی اس کے تمام اموال کا حکم اس کی دیت کے حکم کی طرح ہونا چاہیے۔ کیونکہ مقتول کا سارا مال بشمول دیت اس کے ورثاء کے حصوں کی نسبت سے ان کا حق بن جاتا ہے۔ نیز میراث سے مقتول کے دین کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ اسے ایک اور جہت سے دیکھیے، جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ منقول اثر کے بمقضا قاتل مقتول کی دیت میں سے کسی چیز کا وارث نہیں ہوگا تو اس سے یہ بات واجب ہوگئی کہ اس کے دیگر تمام اموال کا حکم بھی یہی ہو، اس لئے کہ منقول اثر نے اپنے درود کے اندر ان میں سے کسی چیز کے درمیان فرق نہیں کیا ہے۔ امام مالک کا قول ہے کہ قتل خطا کا مرتکب دیت کے سوا مقتول کے دیگر اموال میں اس بنا پر وارث ہوگا کہ اس پر تہمت نہیں ہوگی کہ اس نے وارث بننے کے لئے اسے قتل کردیا تھا، حالانکہ یہی علت مقتول کی دیت کے اندر بھی موجود ہے کیونکہ دیت کی نسبت سے قاتل مذکورہ بالا تہمت سے اور بھی بعید ہوگا اس لئے امام مالک کی بیان کردہ علت کے بموجب قاتل کو مقتول کی دیت کے اندر بھی وارث ہونا چاہیے۔ اس مسئلے کی ایک اور جہت بھی ہے وہ یہ کہ فقہاء کے درمیان اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ قتل عمد اور قتل شبہ عمد کے اندر قاتل، مقتول کے دیگر تمام اموال میں اسی طرح وارث نہیں ہوگا جس طرح اس کی دیت میں وارث نہیں قرار پائے گا۔ اس لئے قتل خطا کے قاتل کا بھی یہی حکم ہونا ضروری ہے، کیونکہ قتل خطا اور قتل عمد دونوں کے قاتل مقتول کی دیت کے اندر وراثت سے محروم رہنے میں یکساں ہیں، نیز جب قتل عمد اور قتل شبہ عمد کے اندر قاتل کو اس بنا پر مقتول کی میراث سے محروم رکھا جاتا ہے کہ اس پر میراث سمیٹنے کی غرض سے قتل کے ارتکاب کی تہمت لگ جاتی ہے یہی بات قتل خطا کے اندر بھی موجود ہوت ی ہے، کیونکہ ایسی صورت میں یہ عین ممکن ہے کہ قاتل نے کسی اور کو نشانہ بنانے کا اظہار کر کے خود مقتول کو نشانہ بنانے کا قصد کیا ہو کہ قصاص کی زد میں آنے سے بچ جائے اور دوسری طرف میراث سے بھی محروم قرار نہ پائے۔ اس بناپر جب خطا کے اندر بھی تہمت کا پہلو موجود ہے، تو ضرور ی ہے کہ اسے بھی قتل عمد اور قتل شبہ عمد کے معنوں میں شمار کیا جائے، نیز قاتل کو مقتول کے بعض اموال میں وارث قرار دینا اور بعض میں وارث قرار نہ دینا اصول سے خارج بات ہے۔ اس لئے کہ اصول یہ ہے کہ جو شخص ترکہ کے بعض حصوں میں وارث ہو وہ پورے ترکہ میں وارث ہوگا اور جو اس کے بعض حصوں میں وراثت سے محروم ہو وہ پورے ترکہ میں وراثت سے محروم ہوگا۔ ہماریاصحاب نے بچے اور دیوانے کے بارے میں کہا ہے کہ قتل کی بنا پر یہ دونوں مقتول کی میراث کے اندر محروم قرار نہیں دیئے جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں مکلف، یعنی اہل تکلیف میں سے نہیں ہیں۔ میراث سے محرومی اصولاً تو سزا کے طور پر ہوتی ہے اور قتل خطا کا مرتکب اگرچہ سزا کا مستحق نہیں ہوتا لیکن اسے بھی قتل کے فعل کی سنگینی ظاہر کرنے کے لئے وراثت سے محروم رکھا جاتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں یہ بات عین ممکن ہوتی ہے کہ اس نے تیر چلا کر یا ضرب لگا کر مقتول کو ہی قتل کرنے کا قصد کیا ہو اور ظاہر یہ کیا ہو کہ اس نے مقتول کے سوا کسی اور کا قصد کیا تھا۔ اس لئے قتل کے اس فعل کو اس قاتل کے فعل قتل جیسا قرار دے دیا گیا جس کے متعلق یہ علم ہو کہ اس نے قصداً مقتول کو قتل کیا تھا۔ جہاں تک بچے اور دیوانے کا تعلق ہے تو وہ قصاص کے مستحق نہیں ہوتے خواہ انہوں نے جس صورت کے تحت بھی قتل کا ارتکاب کیا ہو۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :” تین آدمیوں سے قلم مرفوع ہے، یعنی انہیں سزا نہیں دی جائے گی۔ نائم یعنی سوئے ہوئے شخص سے جب تک وہ بیدار نہ ہوجائے، دیوانے سے جب تک اسے دیوانگی سے افاقہ نہ ہوجائے اور بچے سے جب تک وہ بالغ نہ ہوجائے۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ مذکورہ بالا حدیث کا ظاہر ہر اعتبار سے ایسے لوگوں کے فعل قتل کے حکم کے سرے سے سقوط کا مقتضی ہے اور اگر دلالت قائم نہ ہوتی تو دیت کا وجوب بھی نہ ہوتا۔ اگر یہاں کوئی یہ کہے کہ اگر نائم کسی بچے پر لاٹ کر گرے اور اس کی جان لے لے، تو وہ میراث سے محروم ہوجاتا ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا شخص بھی قتل خطا کے مرتکب جیسا ہوتا ہے کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ اس نے سونے والی حالت ظاہر کی ہو، لیکن حقیقت میں سویا ہوا نہ ہو۔ امام شافعی نے فرمایا ہے کہ اگر عادل آدمی باغی کو قتل کر دے تو وہ وراثت سے محروم ہوجائے گا ہمیں اس قول کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کیونکہ ایسی صورت میں عادل آدمی باغی کو ناحق قتل نہیں کرتا، بلکہ حق کے تحت اس کی جان لیتا ہے۔ باغی تو پہلے ہی سے قتل ہونے کا مستحق تھا اس لئے اس کے قاتل کو میراث سے محروم کردینا جائز نہیں ہوگا۔ ہمیں اس امر میں کوئی اختلاف نظر نہیں آیا کہ اگر ایک شخص کے لئے کسی سے قصاص لینا واجب ہو اور وہ اسے قصاص میں قتل کر دے تو قاتل میراث سے محروم نہیں ہوتا۔ نیز اگر عادل شخص کا باغی کو قتل کردینا اسے میراث سے محروم کردینے کا سبب ہوتا تو اس سے یہ ضروری ہوجاتا کہ اگر مذکورہ مقتول محارب ہونے کی بنا پر سزا کے طور پر مستحق قتل ہوتا تو اس کی میراث مسلمانوں کو نہ ملتی۔ اس لئے کہ امام وقت مسلمانوں کی جماعت کے قائم مقام ہوتا ہے اور اسی حیثیت میں وہ محارب کے قتل کا حکم جاری کرتا ہے جس کے نتیجے میں یہ صورت پیدا ہوجاتی ہے کہ گویا مسلمانوں کی جماعت نے ہی اسی محارب کو قتل کیا تھا، لیکن جب مسلمانوں کی جماعت ہی مذکورہ مقتول یعنی محارب کی میراث کی مستحق ہوتی ہے اگرچہ امام وقت اسے قتل کرنے میں مسلمانوں کے قائم مقام ہوتا ہے تو اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ جو شخص حق کے تحت کسی کو قتل کرتا ہے وہ مقتول کی میراث سے محروم قرار نہیں پاتا۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص ایک کنواں کھودے یا راستے پر کوئی بڑا سا پتھر رکھ دے اور پھر کوئی شخص کنوئیں میں گر کر یا پتھر سے ٹکرا کر ہلاک ہوجائے تو مذکورہ شخص مقتول کی میراث سے محروم نہیں ہوگا کیونکہ وہ حقیقت میں قاتل نہیں ہوتا اس لئے کہ وہ اس قتل کا فاعل نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسے سبب کا باعث بنتا ہے جو مقتول سے متصل ہو۔ اس کی دلیل یہ امر ہے کہ قتل کی تین صورتیں ہوتی ہیں، عمد، خطا اور شبہ عمار اور کنواں کھودنے والا نیز پتھر رکھنے الا ان تینوں صورتوں کے دائرے سے خارج ہوتا ہے۔ اگر یہاں یہ کہا جائے کہ کنواں کھودنا اور پتھر رکھنا قتل کا سبب ہوتا ہے جس طرح تیز چلانے والا اور زخمی کردینے والا دونوں اس بنا پر قاتل شمار ہوت یہیں کہ وہ قتل کے سبب کا باعث ہوتے ہیں۔ اس کے جواب میں کہ اجائے گا کہ نیز پھینکنا تیر انداز کا فعل ہوتا ہے اور اس کی انتہا قتل پر ہوتی ہے۔ اسی طرح زخمی کرنا اس کے فاعل کا فعل ہوتا ہے۔ اس لئے وہ قاتل شمار ہوتا ہے کیونکہ اس کا یہ فعل مقتول کے متصل ہوتا ہ جب کہ کنوئیں میں لڑھک کر گر جانا یا پتھر سے ٹھوکر کھانا کنواں کھودنے والے کا فعل نہیں ہوتا اس لئے انہیں قاتل شمار کرنا جائز نہیں ہوتا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٧۔ ٧١) اب گائے کے ذبح کرنے کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے گائیوں میں سے کوئی بھی گائے ذبح کر دو تو ان کی قوم نے کہا، اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا آپ ہم سے مذاق کررہے ہیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کیا میں ایمان والوں کے ساتھ مذاق کروں گا ؟ اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں، جب ان کی قوم پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سچائی ظاہر ہوئی تو کہنے لگے کہ ہمارے اپنے پروردگار سے یہ بات پتہ کرو اور بتاؤ کہ وہ گائے چھوٹی ہے یابڑی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ گائے نہ بڑی ہے اور نہ چھوٹی بلکہ ان دونوں کے درمیان میں ہے۔ اب دوبارہ تفتیش نہ کرو، پھر کہنے لگے کہ اپنے پروردگار سے ہمیں اس کے رنگ کے متعلق بھی پوچھ کر بتائیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ وہ سخت گوشت اور سخت سینگوں والی کالے رنگ کی ہے اس کی رنگت بالکل صاف ہے کہ دیکھنے والے کو اچھی معلوم ہوتی ہے، پھر کہنے لگے کہ اپنے رب سے یہ بھی پوچھ کر بتاؤ کہ وہ کھیتی باڑی کے کام کی ہے یا نہیں کیوں کہ اس کی تحقیق مشکل ہوگئی ہے انشاء اللہ اس کا صحیح وصف معلوم ہوجائے گا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ گائے نہ زمین جو تنے اور نہ زمین کی سیرابی کے کام کے لیے استعمال میں آئی ہو، ہر عیب سے پاک ہو نہ اس کے رنگ میں دھبے ہوں اور نہ سفیدی، کہنے لگے اب پورے طور پر اس کا صحیح نقشہ ہمارے سامنے آگیا ہے، چناچہ انہوں نے اس کو تلاش کرنا شروع کردیا اور اس کی کھال میں سونا بھر کر اس کی قیمت ادا کی۔ مگر اول میں اس کو ذبح کرنا نہیں چاہتے تھے۔ یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ اس کی قیمت کے زیادہ ہونے کی وجہ سے متذبذب کے شکار تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

ان آیات کے مطالعے سے قبل ان کا پس منظر جان لیجیے۔ بنی اسرائیل میں عامیل نامی ایک شخص قتل ہوگیا تھا اور قاتل کا پتا نہیں چل رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے سے حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کرو اور اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مردہ شخص کے جسم پر مارو تو وہ جی اٹھے گا اور بتادے گا کہ میرا قاتل کون ہے۔ بنی اسرائیل کی تاریخ میں ہمیں معجزات کا عمل دخل بہت زیادہ ملتا ہے۔ یہ بھی انہی معجزات میں سے ایک معجزہ تھا۔ گائے کو ذبح کرانے کا ایک مقصدیہ بھی تھا کہ بنی اسرائیل کے قلوب و اذہان میں گائے کا جو تقدس راسخ ہوچکا تھا اس پر تلوار چلائی جائے۔ اور پھر انہیں یہ بھی دکھا دیا گیا کہ ایک مردہ آدمی زندہ بھی ہوسکتا ہے ‘ اس طرح بعث بعد الموت کا ایک نقشہ انہیں اس دنیا میں دکھا دیا گیا۔ بنی اسرائیل کو جب گائے ذبح کرنے کا حکم ملا تو ان کے دلوں میں جو بچھڑے کی محبت اور گائے کی تقدیس جڑ پکڑ چکی تھی اس کے باعث انہوں نے اس حکم سے کسی طرح سے بچ نکلنے کے لیے میں میخ نکالنی شروع کی اور طرح طرح کے سوال کرنے لگے کہ وہ کیسی گائے ہو ؟ اس کا کیا رنگ ہو ؟ کس طرح کی ہو ؟ کس عمر کی ہو ؟ بالآخر جب ہر طرف سے ان کا گھیراؤ ہوگیا اور سب چیزیں ان کے سامنے واضح کردی گئیں تب انہوں نے چار و ناچار بادل نخواستہ اس حکم پر عمل کیا۔ اب ہم ان آیات کا ایک رواں ترجمہ کرلیتے ہیں۔ (وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖٓ اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَۃً ط) (قَالُوْٓا اَتَتَّخِذُنَا ہُزُوًا ط) کیا آپ ( علیہ السلام) یہ بات ہنسی مذاق میں کہہ رہے ہیں ؟ (قَالَ اَعُوْذُ باللّٰہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ ) ہنسی مذاق اور تمسخر و استہزا تو جاہلوں کا کام ہے اور اللہ کے نبی سے یہ بعید ہے کہ وہ دین کے معاملات کے اندر ان چیزوں کو شامل کرلے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

51: جیساکہ نیچے آیت 72 میں آرہا ہے، یہ حکم ایک مقتول کا قاتل دریافت کرنے کے ئے دیا گیا تھا اس لئے بنی اسرائیل نے کو مذاق سمجھا کہ گائے ذبح کرنے سے قاتل کیسے معلوم ہوگا؟

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

سلف کی تفسیروں میں یہ قصہ مختلف لفظوں سے نقل کیا گیا ہے مگر تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے اس قصہ کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص بڑا مال دار تھا۔ اس کے کوئی اولاد نہیں تھی فقط ایک اس کا بھتیجا تھا غریب سا تھا اس مالدار شخص کے مرنے کے بعد یہی اس کا بھتیجا وارث ٹھہرتا تھا۔ مال کے جلد سے ہاتھ آجانے کے لالچ سے ان کے اس بھتیجے نے موقع دیکھ کر چچا کو مار ڈالا۔ اور پاس کے ایک گاؤں کے دروازہ پر لاش ڈال دی۔ اور پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آ کر اپنے چچا کے خون کا دعویٰ کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک گائے کے ذبح کرنے کا اور اس گائے کے گوشت کا ایک ٹکڑا اس مقتول شخص کے جسم پر مارنے کا حکم دیا۔ ١۔ پہلے تو بنی اسرائیل نے یہ سمجھا کہ گائے کے ذبح کرنے کا ذکر حضرت موسیٰ نے دل لگی سے کیا ہے کیونکہ مقتول شخص کے قاتل کا حال دریافت کرنے اور گائے ذبح کرنے میں کچھ تعلق نہیں پایا جاتا۔ لیکن ان کو جب یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے تو انہوں نے بڑے جھگڑے اس گائے کی صفتیں دریافت کرنے میں نکالے جن سے وہ گائے خالص صفتوں کی ایک گائے ہوگئی آخر ان صفتوں کی ایک گائے بہم پہنچی اور وہ ذبح کی گئی اور اس کا ایک ٹکڑا اس مقتول شخص کے جسم پر مارا جس سے تھوڑی دیر کے لئے وہ مقتول شخص زندہ ہوا اور اس نے اپنے بھتیجے کو اپنا قاتل بتلایا اور پھر مرگیا۔ اس ٹکڑے کا حال کہ وہ کس جگہ کا ٹکڑا تھا۔ کسی صحیح روایت میں نہیں ہے اس لئے جن تفسیروں میں اس ٹکڑے کو خصوصیت کے نام لے کر ذکر کیا ہے وہ اہل کتاب کی روایتوں کی بنا پر ہے جن روایتوں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کے یہود کو یہ قصہ اس لئے یاد دلایا گیا ہے گائے کے ذبح کے حکم میں طرح طرح کے جھگڑے نکالنے سے جس طرح ان کے بڑے ایک سختی اور مشکل میں پھنس گئے اسی طرح نبی آخر الزماں کی فرمانبرداری کے حکم میں یہ لوگ طرح طرح کے جو جھگڑے نکالتے ہیں یہ بات ان کے حق میں مضر ہے اور آخر کو یہ لوگ اس سے کسی نہ کسی سختی میں پھنس جائیں گے۔ اور نبی آخر الزمان کے اوصاف کی آیتوں کے چھپانے میں یہ لوگ طرح طرح کے حیلے جو کر رہے ہیں یہ ان کے حیلے چھپ نہیں سکتے۔ بلکہ ایک دن یہ حیلے اسی طرح کھل جائیں گے جس طرح آخر کو ان کے بڑوں میں اس قاتل کا حیلہ کھل گیا۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے گائے کے ذبح کا ذکر پہلے اور مقتول کے قتل کا ذکر بعد کو فرمایا ہے تاکہ قصہ میں جو تنبیہ کا ذکر ہے وہ پہلے آجاوے۔ مسند امام احمد میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کوئی شخص ایک ٹھوس پتھر کے اندر گھس کر بھی کوئی کام کرے تو اس کا وہ کام ایک نہ ایک دن لوگوں پر کھل جائے گا ٢۔ حاکم نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:67) ان تذبحوا۔ ان مصدر یہ ہے۔ تذبحوا مضارع منصوب بوجہ عمل ان صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ذبح (باب فتح) مصدر سے کہ تم ذبح کرو۔ اتتخذنا ھزوا ہمزہ استفہامہ تتخذ مضارع واحد مذکر حاضر۔ اتخاذ (افعال) مصدر سے تو بناتا ہے۔ تو پکڑتا ہے نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ ھزوا مفعول ثانی۔ مصدر باب فتح۔ بمعنی اسم مفعول ۔ جس کا مذاق اڑایا جائے۔ مسخرا۔ کیا تو ہمارا مذاق اڑاتا ہے۔ اعوذ۔ مضارع واحد متکلم عوذ (باب نصر) مصدر سے۔ جس کا معنی دوسرے سے التجاء کرنا اور پناہ مانگنا ہے میں پناہ چاہتا ہوں باللہ اللہ کی۔ ان اکون ۔ ان مصدریہ اکون مضارع منصوب واحد متکلم ۔ کون (باب نصر) مصدر سے، کہ میں ہوجاؤں۔ الجاہلین۔ جاہل کی جمع بحالت جر اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر حاضر، جہالت تین قسم پر ہے (1) انسان کے ذہن کا علم سے خالی ہونا اور یہی اس کے اصل معنی ہیں (2) کسی چیز کے خلاف واقع یقین و اعتماد کرلینا (3) کسی کام کو جس طرح سر انجام دینا چاہیے اس کے خلاف سر انجام دینا۔ عام اس سے کہ اس کے متعلق اعتقاد صحیح ہو یا غلط۔ اسی لحاظ سے آیت ہذا میں ھزوا کو جہالت قرار دیا ہے۔ جہالت کے معنی ناواقفیت کے بھی ہوسکتے ہیں ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے : یحسبھم الجاہل اغنیاء من التعفف (2:273) نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 جیسا کہ آیت :72 میں آرہا ہے نبی اسرائیل میں یاک شخص قتل ہوگیا اور وہ ایک دوسرے پر الزام دھر نے لگے اس آیت میں جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو کا گائے زبح کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کی وجہ قدیم مفسرین یہی بیان کی ہے کہ اس طرح قاتل کو نشانی دہی کی جائے حاصل قصہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک مالدار شخص کو اس کے بھتیجے نے قتل کردیا تاکہ اس کا وارث بن جائے، پھر رات کو لاش کو اٹھا کر دوسرے شخص کے دروازے پر ڈال دی اور صبح کے وقت ان پر خو نبہا کا دعوی کردیا۔ اس پر لوگ لڑائی کے لیے تیار ہوگئے بآلا خر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم دیا حافظ ابن کثیر یہ واقعہ کی جملہ تفصیلات اسرائیلیات سے ما خوذ ہیں اور ان پر کلی اعتماد نہیں کیا جاسکتا ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 74 یامر (وہ حکم دیتا ہے) ۔ تذبحوا (تم ذبح کرو) ۔ بقرۃ ( گائے ، بیل) ۔ اتتخذنا (کیا تو ہم کو بناتا ہے ، (تو ہم سے کرتا ہے) ۔ ھذو (مذاق) ۔ ان اکون (یہ کہ میں ہوجاؤں) ۔ یبین (بیان کر دے ، بات کھول کر کہہ دے) ۔ ماھی (وہ (بقرہ) کیسی ہو) ۔ فارض (بوڑھی) ۔ بکر (بچھیا، کمر عمر) ۔ عوان (درمیانی) ۔ فافعلوا (پھر تم کرو (ف۔ پھر، افعلوا تم کرو) ۔ تؤمرون (تمہیں حکم دیا گیا) ۔ مالونھا (اس کا رنگ کیسا ہو ؟ (ما، کیا، لون رنگ) ۔ صفراء (زرد) ۔ فاقع (گہرا) ۔ تسر (خوش کردیتی ہے) ۔ النظرین (دیکھنے والے) ۔ تشابہ (شبہ پڑگیا) ۔ لا ذلول (جس سے محنت نہ لی گئی ہو وہ ہل میں نہ جوتی گئی ہو) ۔ تثیر الارض (زمین کو (نہ) گا ہتی ہو) ۔ لاتسقی (سینچتی نہ ہو) ۔ الحرث (کھیتی باڑی) ۔ مسلمۃ (مکمل ، تندرست) ۔ لاشیۃ (داغ نہ ہو، عیب نہ ہو) ۔ الان (اب) ۔ جئت (تو آیا (جئت بالحق تو حق کو لے کر آیا) ۔ فذبحوا (انہوں نے ذبح کیا (ف، پھر، ذبحو، انہوں نے ذبح کیا) ۔ ما کا دوا (وہ قریب نہ تھے (ما کا دوا یفعلون وہ کرنا نہیں چاہتے تھے) ۔ قتلتم ( تم نے قتل کیا) ۔ ادرءتم ( تم ایک دوسرے پر ڈالنے لگے) ۔ مخرج (نکالنے والا) ۔ اضربوا (تم مارو) ۔ ببعضھا (اس کا حصہ (گائے کا ٹکڑا) ۔ یحییٰ (وہ زندہ کرتا ہے، کرے گا) ۔ الموتی ( مردے) ۔ یری (وہ دکھاتا ہے) ۔ قست (سخت (ہوگئے) ہوئی) ۔ الحجارۃ (پتھر، (الحجر کی جمع ہے) ۔ اشد قسوۃ (سخت ترین) ۔ یتفجر (جاری ہوتا ہے) ۔ یشقق (پھٹ پڑتا ہے، شق ہوجاتا ہے) ۔ الماء (پانی) ۔ یھبط (گرپڑتا ہے) ۔ خشیۃ اللہ (اللہ کا خوف) ۔ تشریح : آیت نمبر 67 تا 74 بنی اسرائیل کا ایک دولت مند شخص جس کا نام عامیل تھا وہ قتل کردیا گیا۔ اس کا ایک ہی لڑکا تھا۔ اس بوڑھے کے بھتیجوں نے وراثت کے لالچ میں اس کو قتل کردیا۔ لاش کو شہر کے دروازے پر پھنک آئے ۔ صبح کو خود ہی شور مچانا شروع کردیا اور خون کا بدلہ لینے کا دعویٰ کردیا۔ بات اس وقت اور بھی بڑھ گئی جب وہ لوگ ایک دوسرے پر الزام لگانے لگے، جہالت عام تھی اس الزام کو ہر ایک نے اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیا اور ایک دوسرے کے خلاف تلواریں لے کر نکل پڑے اور اس طرح شدید خانہ جنگی کا خطرہ بڑھ گیا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم موسیٰ کے پاس چلتے ہیں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اللہ سے کلام کرتا ہے اگر قاتل کا پتہ بتا دیتا ہے تو ہمارا مسئلہ حل ہوجائے گا اور اگر نہ بتایا تو موسیٰ سے بھی ہماری جان چھوٹ جائے گی سب جمع ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور کہنے لگے اے موسیٰ اگر تم اپنے اللہ سے قاتل کا نام پوچھ کر بتا دو تو ہم ایک بہت بڑی مصیبت سے چھوٹ جائیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) طور پر گئے، واپس آکر انہوں کہا کہ ایک گائے ذبح کرو پھر اس گائے کے گوشت کے ایک ٹکڑے کو مرنے والے کے جسم سے لگاؤ وہ اٹھ کر بیٹھ جائے گا اور اپنے قاتل کا نام بتا دے گا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ فرمایا تو بنی اسرائیل نے کہا ، موسیٰ کیا تم ہم سے مذاق کر رہے ہو ؟ ہم تم سے قاتل کا نام معلوم کر رہے ہیں اور تم ہمیں گائے ذبح کرنے کا مشورہ دے رہے ہو، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اللہ کی پناہ کیا میں اللہ تعالیٰ کے احکامات بیان کرنے میں جاہلوں کی طرح کا انداز اختیار کروں گا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس جواب سے وہ چھپ ہوگئے۔ مسئلہ یہ تھا کہ وہ گائے کہ پرستش کرتے تھے اگر گائے ذبح کرتے ہیں تو معبود کے گلے پر چھری پھرتی ہے اور اگر گائے ذبح نہیں کرتے تو قوم کی گردشنیں کٹتی ہیں۔ اس کشمکش میں غالباً انہوں نے سوچا ہوگا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس قدر سوالات کئے جائیں کہ بالاخر تھک ہار کر وہ کہہ دیں کہ اچھا گائے کے بدلے کوئی اور جانور ذبح کرلو۔ لیکن اللہ جو تمام انسانوں کی عقلوں کو پیدا کرنے والا ہے ان کی چالا کیوں سے عاجز تو نہیں ہو سکتا تھا، چناچہ اب انہوں نے سوالات کرنا شروع کر دئیے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہر مرتبہ طور پر جاتے اور ان کے سوال کا جواب لے کر آتے، کبھی کہتے وہ آخر کیسی گائے ہونی چاہئے ؟ اس کا رنگ کیسا ہو ؟ اس کی شکل و صورت کیسی ہو ؟ وغیرہ انہوں نے اتنے سوالات کئے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تمام جوابات کے بعد وہ خود ہی مصیبت میں پھنس گئے ورنہ اگر پہلے ہی حکم کے بعد کسی بھی گائے کو ذبح کرلیتے تو ان کا مسئلہ حل ہو سکتا تھا۔ اب ان تمام مخصوص نشانیوں کی گائے کا ملنا مشکل ہوگیا۔ ساری قو م ان نشانیوں والی گائے کو تلاش کر رہی تھی مگر وہ گائے نہ مل سکی۔ کسی طرح ان کو معلوم ہوا کہ فلاں جگہ ایک گائے ہے جس میں یہی تمام خصوصیات موجود ہیں یہ سن کر بنی اسرائیل دوڑ پڑے۔ اس سلسلہ میں صاحب درمنثور حضرت وہب ابن منبہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک نیک اور متقی آدمی تھا اس کا ایک ہی لڑکا تھا، اس کے پاس صرف ایک ہی گائے کا بچہ تھا اس نے مرتے وقت اس گائے کے بچے کو اللہ کے سپرد کرتے ہوئے دعا کی۔ اے اللہ یہ گائے اور اپنا بیٹا میں آپ کے سپرد کرتا ہوں، آپ ہی سب کے کارساز ہیں۔ اللہ کے سپرد کر کے اس نے گائے کے بچے کو جنگل میں چرنے کے لئے چھوڑ دیا۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ جب یہ میرا لڑکا جوان ہوجائے تو وہ اللہ سے دعا کرے کہ وہ بچھیا میرے پاس آجائے تو وہ آجائے گی۔ یہ لڑکا جب بڑا ہوا تو خود بھی بڑا نیک لڑکا اور اپنی ماں کا بہت خدمت گزار تھا، ماں کے حکم کے بغیر کوئی کام نہ کرتا تھا۔ محنت مزدوری کر کے جو بھی کما کر لاتا اس میں سے ایک تہائی خیرات کرتا، ایک تہائی خود خرچ کرتا اور ایک تہائی مال ماں کو دے دیا کرتا تھا۔ ماں نے یہ تاکید کی کہ اس گائے کو اس وقت تک نہ فروخت کرنا جب تک مجھ سے نہ پوچھ لو۔ بنی اسرائیل تلاش کرتے ہوئے اس لڑکے تک پہنچ گئے، اور گائے خریدنے کے لئے کہا لڑکے نے کہا میں جب تک اپنی ماں سے نہ پوچھ لوں اس وقت تک یہ گائے فروخت نہ کروں گا۔ چناچہ یہ اس کی ماں کے پاس پہنچے تو اس نے کہا اگر تم اونٹ کی کھال بھر کر سونا دیتے ہو تو میں فروخت کرتی ہوں ورنہ نہیں۔ بنی اسرائیل مجبور تھے۔ منہ مانگی قیمت ادا کی، گائے کو ذبح کر کے اس کے گوشت کا ٹکڑا مرنے والے کے جسم سے لگایا۔ مقتول نے اٹھ کر قاتل کا نام بتا دیا اور پھر وہ دوبارہ مر گیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ بات ثابت کردی کہ معبود وہ نہیں ہے جس کے گلے پر چھری پھرجائے بلکہ معبود وہ ہے جس کے حکم سے چھری گائے کے گلے پر چلائی جا رہی ہے۔ اس واقعہ کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بنی اسرائیل کے دلوں میں نرمی اور گداز پیدا ہوتا اس کے برخلاف اتنے بڑے احسان اور کرم کے بعد بھی ان کے دل پتھروں سے زیادہ سخت ہوگئے۔ اس واقعہ سے چند نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں جو بنی اسرائیل کی زندگی کا ایک اہم واقعہ ہے اور اس سورت کا نام رکھے جانے کا سبب بھی ہے۔ (1) جو چیز اللہ کے سپرد کی جاتی ہے اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ (2) جو بھی قتل ناحق کیا جاتا ہے وہ لاکھ چھپانے سے بھی چھپ نہیں سکتا اسی طرح جو لوگ دوسروں پر جھوٹے الزامات لگاتے ہیں وہ بات بھی چھپی نہیں رہتی بلکہ ایک دن آتا ہے جب تمام رازوں سے پردے اتھا دئیے جاتے ہیں۔ (3) ماں باپ کی اطاعت آخرت میں نجات کا باعث ہے وہیں دنیا میں بھی خیرو برکت کا ذریعہ ہے۔ (4) وہی بات پوچھنی چاہئے جو انسان کو دنیا وآخرت میں فائدہ دینے والی ہو۔ بےت کے سوالات اور الٹی سیدھی باتیں کرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے اس سے انسان خود ہی مصیبت میں پھنس جاتا ہے۔ (5) اللہ تعالیٰ کو پوری قدرت حاصل ہے کہ وہ اسی طرح تمام مرے ہوئے لوگوں کو دوبارہ زندہ کر دے گا اور ان سے ان کے اعمال کا پورا پورا حساب لے گا۔ (6) کسی جرم کے ساتھ جب حیلہ بازی، کٹ حجتی، ڈھٹائی اور جسارت بھی شامل ہوجائے تو ایسے مجرموں کے دل پتھروں سے زیادہ سخت ہوجایا کرتے ہیں جس کے بعد نیکی اور تقوی کے بڑھنے کی صلاحیت اندر ہی اندر بالکل ختم ہوجاتی ہے۔ (7) انسان اگر اپنے آپ کو بگاڑ لیتا ہے تو آہستہ آہستہ اللہ کے قانون کے مطابق ان تمام صلاحیتوں سے محروم ہوجاتا ہے جو اللہ نے اس کے اندر رکھ دی ہیں۔ پتھر سخت سے سخت ہو کر بھی پتھر ہی رہتا ہے۔ اس کے اندر پانی کے چشمے جاری ہونے کی صلاحیت اگر قدرت نے رکھی ہے تو اس سختی کے باوجود یہ چیز اس کے اندر باقی رہتی ہے۔ لیکن اگر انسان کا دل اخلاقی بیماریوں کی وجہ سے سخت ہوجائے تو اس کے دل کے تمام سوتے بالکل خشک ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص ایک دفعہ بگڑ جاتا ہے اس کو (اللہ کے سوا) ساری دنیا مل کر بھی سنوار نہیں سکتی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ بنی اسرائیل میں ایک خون ہوگیا تھا لیکن اس وقت قاتل کا پتہ نہ لگتا تھا بنی اسرائیل نے موسیٰ سے عرض کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ قاتل کا پتہ لگے آپ نے بحکم الہی ایک بیل کے ذبح کرنے کا حکم فرمایا اس پر انہوں نے اپنی جبلت کے موافق حجتیں نکالنا شروع کردیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کے جرائم کی فہرست کا تسلسل جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کو توڑنا اور تعمیل حکم سے روگردانی کرنے بنانے والوں نے حضرت موسیٰ کو غیر سنجیدہ ہونے کا الزام دیا۔ حضرت موسیٰ نے ایک اندھے قتل (Blind Murder) کا فیصلہ کرنے کے لیے قوم کے مشکوک افراد کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا تمہیں حکم ہے کہ کوئی ایک گائے ذبح کر کے اس کے گوشت کا کوئی ٹکڑا مقتول کی لاش کے ساتھ لگاؤ تو مردہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کا پتہ بتلادے گا۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بڑی گستاخ اور بہانہ ساز تھی۔ انہوں نے قتل چھپانے اور قاتلوں کو بچانے کے لیے الٹا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا کہ آپ تو سراسر مذاق کر رہے ہیں۔ کبھی اس طرح بھی قتل کے مقدمہ کا فیصلہ ہوا ہے اور مردے زندہ ہوا کرتے ہیں ان کے انکار کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ پہلے گائے پرستی کا شرک کرچکے تھے۔ جس کے اثرات باقی ہونے کی وجہ سے بہانے تراشنے لگے۔ مسائل ١۔ شرعی اور سنجیدہ مسئلہ یا پریشان حال کو مذاق کرنا پرلے درجے کی جہالت ہے۔ ٢۔ جہالت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن جاہل کون ؟ ١۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ الٰہ بنانے والے جاہل ہیں۔ (الاعراف : ١٣٨) ٢۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کے ساتھ مذاق کرنا جہالت ہے۔ (البقرۃ : ٦٧) ٣۔ اغلام بازی کرنے والے جاہل ہیں۔ (النمل : ٥٥) ٤۔ نبی محترم کو جاہلوں سے اعراض کی ہدایت تھی۔ (اعراف : ١٩٩) ٥۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جہالت سے پناہ مانگی۔ (البقرۃ : ٦٧) ٦۔ حضرت نوح کو جہالت سے بچنے کا حکم۔ (ہود : ٤٦) ٧۔ جاہلوں سے بحث کی بجائے اجتناب اور اعراض کرنا چاہیے۔ (الفرقان : ٦٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کی جان لی تھی۔ پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے اور اللہ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو ، اسے کھول کر رکھ دے گا ، اس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگاؤ۔ دیکھو اس طرح اللہ مردوں کو زندگی بخشتا ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔ “ قرآن کریم نے یہ قصہ اس انداز میں بیان کیا ہے ، اس کے کئی پہلو غور وفکر ہیں ۔ اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے قومی مزاج اور ان کی موروثی جبلت کو اچھی طرح اجاگر کردیتا ہے ۔ نیز اس سے موت وحیات کی حقیقت ، موت کے بعد اٹھائے جانے کی کیفیت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت بےپایاں کا اظہار بھی ہوتا ہے ، پھر اس قصے میں بیان اور طرز ادا کی فنی خوبیاں بھی قابل لحاظ ہیں۔ قصے کا آگاز ، اس کی انتہا اور سیاق وسباق سے اس کی ہم آہنگی قابل غور ہیں۔ مختصراًیہ کہ بقرہ کے اس قصے میں بنی اسرائیل کے قومی خدوخال بڑی خوبی سے ظاہر کئے گئے ہیں ، معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت کہ اس صاف و شفاف سرچشمے وحی الٰہی اور ان کے دلوں کے رابطے ٹوٹ چکے ہیں۔ ایمان بالغیب ، اللہ پر توکل ، اور اصولوں پر نازل شدہ ہدایت الٰہی کی تصدیق سے محروم ہوچکے ہیں ۔ اللہ کے احکام وہدایات کے قبول کرنے میں وہ ہر وقت متأمل ہیں اور پس وپیش کرتے ہیں ۔ ہر وقت جھوٹے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں اور بارہا اپنی چرب زبانی اور دل کی بےباکی کی وجہ سے وہ شعائر دین کے ساتھ مذاق کرنے پر اترآتے ہیں ۔ ان کے پیغمبر انہیں اللہ کا صاف صاف حکم سناتے ہیں ۔” اللہ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم گائے ذبح کرو ۔ “ ظاہر ہے کہ یہ حکم اپنے الفاظ میں بالکل صاف اور واضح تھا اور اس پر عمل کیا جاسکتا تھا ۔ حکم سناننے والے نبی ان کے وہ محبوب رہنما تھے ، جن کی قیادت میں اللہ نے انہیں فرعونیوں کے دردناک عذاب سے نجات دی تھی اور نجات کا یہ کام اللہ کی خاص رحمت ، نگرانی اور ہدایات کے مطابق ایک حیرت انگیز معجزانہ انداز میں اپنے انجام کو پہنچا تھا ۔ ان کے نبی نے انہیں واضح طور پر بتادیا کہ یہ کوئی ان کی ذاتی رائے یا ذاتی حکم نہیں ہے بلکہ یہ اس رب ذوالجلال کا حکم ہے جس کی ہدایات کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر چل رہے ہیں ۔ اب ذرا غور کیجئے ! یہ لوگ اس جلیل القدر نبی کو کیا جواب دیتے ہیں ؟ نہایت گستاخی ، حماقت اور بےحیائی سے وہ اپنے نبی سے کہتے ہیں کہ کیا وہ ان کے ساتھ مذاق کررہا ہے ۔ ان کی بےحیائی تو دیکھئے کہ ان کے نزدیک گویا الہ کی معرفت رکھنے والا ایک عام آدمی بھی نہیں ، بلکہ اللہ کے جلیل القدر نبی اور کسی عام معاملے میں بھی نہیں ، بلکہ کے اللہ کے نام پر اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے معاملے میں برسرعام اور لوگوں کے سامنے مذاق کرسکتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا کیا تم ہم سے مذاق کررہے ہو۔ “ اس احمقانہ اور سفیہانہ بہتان کے جواب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نعوذبا للہ پڑھنے کے سوا اور کر ہی کیا کرسکتے تھے ، چناچہ آپ بڑی نرمی کے ساتھ اشاروں اور کنایوں میں انہیں سمجھاتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں کس قدر ادب واحترام لازم ہے ۔ آپ انہیں سمجھاتے ہیں کہ انہوں نے جو بہتان باندھا ہے اس کا ارتکاب وہی کرسکتا ہے جو بارگاہ قدس کے آداب واحترام سے واقف ہو ۔ اور اس کے دل میں اللہ کی عظمت اور قدر ومنزلت ہو ۔ چناچہ آپ نے کہا قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ موسیٰ نے کہا ، میں اس سے پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں۔ “ یہ ہے ہدایت و رہنمائی ان کے لئے کافی تھی کہ اب وہ ہوش میں آجائیں ، اپنے رب کی طرف لوٹیں اور اپنے نبی کے حکم کی تعمیل کریں لیکن بہرحال وہ بنی اسرائیل تھے ۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ حکم آئے اور وہ عمل پیرا ہوجائیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ذبح بقرہ کا قصہ، یہود کی کج بحثی ان آیات میں ذبح بقرہ کا واقعہ ذکر فرمایا ہے۔ بقرہ عربی زبان میں گائے اور بیل دونوں کے لیے مستعمل ہوتا ہے یعنی حضرات نے اس کا ترجمہ بیل کیا ہے اور ان کا فرمانا ہے کہ قصہ کے آخر میں یہ فرمایا ہے کہ وہ بقرہ ایسا ہو جو ہل جوتنے میں استعمال نہ کیا ہو اور کھیتی کی آبپاشی میں اس کو نہ لگایا گیا ہو۔ یہ کام چونکہ بیل ہی سے ہوتا ہے اس لیے بقرہ سے بیل مراد ہے دوسرے حضرات نے اس کا ترجمہ گائے سے کیا ہے۔ چونکہ بقرہ اسم جنس ہے اس لیے گائے کا ترجمہ کرنے کی بھی گنجائش ہے۔ لیکن پہلا قول زیادہ وزن دار ہے کیونکہ قرآن کے الفاظ سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔ یہ واقعہ کیوں پیش آیا ؟ اس کے بارے میں قرآن مجید کی اگلی آیات سے معلوم ہو رہا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص مقتول ہوگیا تھا اور قاتل کا پتہ نہیں چل رہا تھا لہٰذا قاتل کا پتہ چلانے کے لیے اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ ارشاد ہوا کہ ایک بیل ذبح کرو اور اس بیل کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم میں مارو چناچہ بڑی حجتوں کے بعد بنی اسرائیل نے ایک بیل ذبح کیا اور ذبح شدہ بیل کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم میں مار دیا۔ چناچہ وہ مقتول زندہ ہوگیا (اور اپنا قاتل بتا کر اسی وقت دوبارہ مرگیا) واقعہ کی تفصیل تفسیر کی کتابوں میں کئی طرح سے لکھی ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل میں ایک بوڑھا آدمی تھا جس کی کوئی اولاد نہ تھی اور اور مالدار بہت تھا اور اس کے بھائی کے لڑکے تنگدست تھے۔ اور ان کو چچا کی میراث بھی پہنچتی تھی۔ یہ لوگ چچا کی موت کا انتظار کرتے تھے لیکن اس کی زندگی لمبی ہوتی چلی گئی۔ لہٰذا شیطان نے ان کو یہ سمجھایا کہ تم اپنے چچا کو قتل کرو تم اس کے مال کے وارث بھی ہوجاؤ گے اور اس کی دیت (خون بہا) بھی حاصل کرلو گے۔ جس جگہ کا یہ واقعہ ہے وہاں دو بستیاں تھیں۔ جب کوئی مقتول دونوں بستیوں کے درمیان پڑا ہوا ملتا تھا تو جس بستی سے قریب تر ہوتا اس پر دیت ڈال دی جاتی تھی۔ شیطان نے ان لوگوں کو سمجھایا کہ تم قتل کر کے دوسری بستی کے قریب ڈال دینا۔ جس میں تمہاری سکونت نہیں ہے۔ چناچہ ان لوگوں نے چچا کو رات کو قتل کر کے دوسری بستی کے قریب ڈال دیا پھر جب صبح ہوئی تو یہی قاتلین دعویدار ہوگئے اور اس بستی والوں پر دعویٰ کردیا جس کے قریب نعش کو ڈال دیا تھا۔ اور ان سے کہا کہ تمہاری بستی کے دروازے پر ہمارا چچا مقتول ملا ہے۔ ہم تم سے اس کی دیت ضرور لے کر چھوڑیں گے اس بستی کے لوگ قسم کھانے لگے اور انہوں نے کہا کہ ہم نے نہیں قتل کیا اور نہ ہی ہمیں اس کے قاتل کا علم ہے۔ ہم نے شام سے لے کر صبح تک اپنی بستی کا دروازہ ہی نہیں کھولا، لہٰذا ہمارے ذمہ اس کے قتل کا الزام لگا دینا صحیح نہیں اور کوئی دیت لازم نہیں۔ مفسر سدی نے واقعہ اس طرح بیان کیا کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص بہت مالدار تھا۔ اس کی ایک لڑکی تھی اور اس کے بھائی کا بیٹا تھا جو غریب تھا۔ اس نے اپنے چچا کو پیغام دیا کہ اپنی لڑکی سے میرا نکاح کر دو ، چچا نے انکار کیا تو وہ غصہ ہوگیا اور اس نے چچا کے قتل کا خیال دل میں جما لیا اور اپنے دل میں کہا کہ چچا کو قتل بھی کروں گا اور اس کا مال بھی لوں گا اور اس کی بیٹی سے نکاح بھی کروں گا اور اس کی دیت بھی کھا جاؤں گا۔ لہٰذا وہ چچا کے پاس آیا اور رات کو اپنے چچا کو ایک کاروباری ضرورت بتا کر اپنے ساتھ لے گیا۔ اور کسی جگہ جا کر قتل کردیا۔ جب صبح ہوئی تو اس انداز میں باتیں کر رہا ہے کہ خدا جانے میرے چچا کہاں گئے ؟ جس جگہ قتل کیا گیا تھا وہاں پہنچا دیکھا کہ وہاں کے لوگ اس کی نعش کے قریب جمع ہو رہے ہیں۔ ان لوگوں کو اس نے پکڑ لیا اور کہا تم نے میرے چچا کو قتل کیا ہے لہٰذا اس کی دیت ادا کرو۔ وہ دیت کا مطالبہ کر رہا تھا اور رو رہا تھا اور سر پر مٹی ڈال رہا تھا اور ہائے ہائے چچا کی آوازیں لگا رہا تھا۔ واقعہ کی صورت جو بھی ہو قاتل کا پتہ چلانے کے لیے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف رجوع کیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قاتل کا پتہ چلانے کے لیے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ایک بیل ذبح کرو اور اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم پر مار دو ۔ بات سننے کے ساتھ ہی ان کو چاہیے تھا کہ کوئی بھی ایک بیل ذبح کر کے مقتول پر مار دیتے۔ لیکن اول تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بات کو مذاق اور مخول بتایا۔ کہنے لگے کہ کہاں بیل کے گوشت کا ٹکڑا مقتول کے جسم کو مارنا اور کہاں مقتول کا زندہ ہو کر نام بتانا یہ بےجوڑ بات ہے آپ تو ہم لوگوں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ان جاہلوں نے یہ نہ سوچا کہ ہمیں اللہ کا نبی ایک بات بتارہا ہے۔ جو اللہ کی طرف سے ہے۔ اس میں مذاق اور مخول کا وہم بھی نہیں ہوسکتا۔ لیکن وہ اپنی جہالت اور حماقت سے ایسی بات کہہ بیٹھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت ناگوار ہوا اور انہوں نے فرمایا کہ (اَعُوْذُ باللّٰہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجَاھِلِیْنَ ) (کہ میں اس بات سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں کہ جاہلوں میں سے ہوجاؤں) ایک ادنیٰ مسلمان سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اللہ کے حکم کو مخول اور ٹھٹھا مذاق بنائے۔ یہ تو جہالت کی بات ہے پھر اللہ کا نبی کیسے اللہ کی طرف کسی ایسے حکم کی طرف نسبت کرسکتا ہے جو مذاق اور مخول ہو۔ پھر جب بیل ذبح کرنے پر راضی ہوگئے تو طرح طرح کے سوالات کرتے گئے اور ان سوالات کے ذریعہ بندشوں اور قیدوں میں بندھتے چلے گئے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ وہ کوئی بھی بقرہ ذبح کردیتے تو ان کا کام چل جاتا لیکن انہوں نے سختی کا راستہ اختیار کیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بےت کے سوالات کرتے رہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر حکم میں سختی فرما دی۔ وہ کہنے لگے کہ اے موسیٰ آپ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کریں جو ہمیں یہ بتادے کہ وہ بیل کیسا ہے یعنی اس کی عمر کتنی ہو۔ اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے کہ وہ بوڑھا جانور بھی نہ ہو اور بالکل کم عمر بچھڑا بھی نہ ہو۔ ان دونوں کی درمیانی عمر کا ہو اور فرمایا کہ جو تم کو حکم ہو رہا ہے اس کو کر گزرو۔ لیکن ان لوگوں کو الٹی چڑھی ہوئی تھی، پھر سوال اٹھایا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ اپنے رب سے ہمارے لیے یہ دعا کردیجیے کہ وہ ہمیں اس کا رنگ بتادے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ایسا بیل ہو جس کا رنگ پیلا خالص گہرا تیز ہو جس سے دیکھنے والوں کی طبیعت خوش ہوتی ہو۔ ان لوگوں نے پھر سوال اٹھایا کہ ہماری سمجھ میں تو پوری طرح بات نہیں آئی اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں خوب واضح طور پر بتادے کہ وہ بیل کیسا ہو بیل بہت سارے ہیں طرح طرح کے ہیں ہمیں اشکال ہو رہا ہے کہ کونسا بیل ذبح کریں اب کی مرتبہ بیان ہوجانے پر انشاء اللہ ہم ضرور راہ پاجائیں گے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر وہ انشاء اللہ نہ کہتے تو کبھی بھی ان کو پوری طرح اس بیل کا حال بیان نہ کیا جاتا جس کے ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ (درمنثور میں اس کو حدیث مرفوع بتایا ہے) لیکن مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ بظاہر حضرت ابوہریرہ (رض) کا کلام ہے۔ بہر حال تیسری بار جب انہوں نے سوال کیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ وہ ایسا بیل نہ ہو جسے کام کاج میں استعمال کر کے نکما کردیا گیا ہو یعنی اس نے نہ تو کھیتوں میں ہل چلایا ہو اور نہ آبپاشی کے لیے اسے کنویں سے پانی نکالنے میں استعمال کیا گیا ہو۔ اور ساتھ ہی یہ فرمایا کہ اس کا جو رنگ بتایا گیا ہے پورا بیل اسی رنگ کا ہو۔ اس میں کسی قسم کے دوسرے رنگ کا نشان داغ دھبہ نہ ہو۔ اور وہ جانور جسمانی طور پر صحیح سالم ہو اس کے اعضاء میں کمی اور خرابی نہ ہو مثلاً لنگڑا، کانا، اندھا نہ ہو۔ جب بیل کے حالات بیان ہوگئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہاں اب آپ نے پوری طرح ٹھیک اور واضح بات کی ہے۔ لہٰذا اب اس قسم کا جانور تلاش کرنے لگے جیسا بیان کیا گیا تھا اور جو ان کے سوالات کے جوابات کے بعد اپنی خاص صفات کے اعتبار سے متعین ہوچکا تھا۔ تفسیر کی کتابوں میں لکھا ہے ( جو اسرائیلی روایات سے منقول ہے) کہ وہ جانور ان کو بہت زیادہ مہنگا ملا۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ لوگ انہیں مخصوص صفات کا بیل تلاش کر رہے تھے اسی ثناء میں ایک شخص کے پاس سے گزرے جس کے پاس مذکورہ صفات کا بیل تھا اس سے کہا کہ یہ ہمیں بیچ دے۔ یہ لوگ قیمت لگاتے رہے اور وہ قیمت بڑھاتا رہا حتیٰ کہ اس بیل کے وزن کا دس گنا سونا دینے پر معاملہ ہوا، چناچہ وہ سونا اس نے قیمت کے طور پر لے لیا۔ یہ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے۔ در منثور میں حضرت ابن عباس سے یوں نقل کیا ہے کہ انہوں نے اس بیل کی کھال دیناروں سے بھر کردینے پر سودا کیا۔ اور اس بیل کے مالک نے اس قدر دینار لے کر وہ بیل ان کے حوالے کیا۔ بہر حال خدا خدا کر کے وہ لوگ ذبح کرنے پر آمادہ ہوئے اور اس بیل کو انہوں نے ذبح کردیا حالانکہ ان کا ڈھنگ ایسا تھا کہ وہ یہ کام کرنے والے نہیں تھے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

138 ۔ یہ دوسری خباثت ہے۔ اللہ نے بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا مگر وہ خبث باطن کی وجہ سے اس حکم کو مذاق سمجھنے لگے اور اس معاملہ کو چالیس سال تک ٹالتے رہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ گائے ذبح کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص کو اس کے عم زادوں نے اس کی دولت حاصل کرنے کے لیے رات کی تاریکی میں قتل کردیا۔ صبح ہوئی تو شوروغل بپا کردیا اور معاملہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ہدایات حاصل کر کے انہیں گائے ذبح کر کے اس کا کوئی حصہ مقول کے جسم سے لگانے کا حکم دیا تاکہ وہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کا پتہ بتا دے۔ اس واقعہ کا پہلا حصہ بعد میں واذ قتلتم نفسا فادارئتم فیھا میں مذکور ہے اور واذ قال موسیٰ لقومہ میں واقعہ کا آخری حصہ مذکور ہے۔ واقعہ کی ترتیب کو اس لیے بدلا گیا تاکہ ایک ہی واقعہ سے متعلق ان کی دو خباثتوں کی واضح طور پر نشاندہی کی جاسکے اول گائے ذبح کرنے کے سلسلے میں پس وپیش اور ٹال مٹول دوم بےگناہوں پر قتل کا الزام۔ اگر واقعہ کو اصل ترتیب سے ذکر کیا جاتا تو اس سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔ اکثر مفسرین کی یہی رائے ہے۔ لیکن حضرت شیخ (رح) نے فرمایا کہ یہ دو مستقل واقعے ہیں جیسا کہ گذشتہ واقعات کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ کیونکہ واذ سے جتنے واقعات بیان کیے گئے ہیں وہ سب مستقل واقعات ہیں۔ نیز بعض روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ گائے ذبح کرنے کے حکم اور گائے حاصل کر کے ذبح کرنے کے درمیان چالیس سال کا طویل وقفہ تھا (مدارک ص 44 ج 1، کبیرص 564 ج 1) نعش کا اتنا عرصہ بےگور وکفن پڑا رہنا اور پھر متعفن نہ ہونا یہ امور بھی عقل و قیاس سے بعید ہیں۔ اس سے بھی اشارہ ملتا ہے کہ یہ ایک واقعہ نہیں بلکہ دو مستقل واقعے ہیں ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ پہلے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہو طویل پس وپیش اور جستجو کے بعد جب وہ مطلوبہ گائے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہوں تو قتل کا واقعہ پیش آگیا ہو اور انہیں اس گائے کا گوشت مقتول کے بدن سے لگانے کا حکم دیا گیا ہوتا کہ وہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کی نشاندہی کرے وقیل انہ یجوز ان یکون ترتیب نزولھا علی موسیٰ (علیہ السلام) علی حسب تلاوتھا بان یامرھم اللہ تعالیٰ بذبح البقرۃ ثم یقع القتل فیؤمر وا بضرب بعضھا (روح ص 285 ج 1، قرطبی ص 445 ج 1) لیکن ایک سوال باقی رہ جائیگا کہ اس صورت میں گائے ذبح کرنے کے حکم کی وجہ کیا ہوگی تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایک واقعہ ہونے کی صورت میں جس چیز کو مفسرین کرام نے ذبح کیلئے گائے ہی کو منتخب کرنے کی حکمت کہا ہے اس صورت میں وہی ذبح بقرہ کی علت ہوگی۔ مصریوں کے ساتھ صدیوں رہنے کی وجہ سے وجہ سے اسرائیلی بھی گوسالہ پرستی کے شرک میں مبتلا ہوچکے تھے۔ وہ گائے کی پوجا کرتے اور اس کی تعظیم بجا لاتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کے باوجود انہیں گوسالہ پرستی سے قدرے انس باقی تھا اگرچہ عملی طور پر وہ گائے کی پوجا نہیں کرتے تھے لیکن گوسالہ پرستی سے وہ پورے طور متنفر بھی نہیں تھے جبھی تو سامری کے گوسالہ کو دیکھتے ہی اس کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے اس لیے ان کے سابق معبود کو ان کی نظروں میں ذلیل کرنے اور انہیں اس کی عبادت سے کلی طور پر متنفر کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تاکہ توحید کی جڑیں ان کے دلوں کی گہرائیوں میں پھیل کر خوب مضبوط ہوسکیں۔ وقیل انما امروا بذبح البقرۃ دون غیرھا من البھائم لانھا افضل قرا بینھم ولعبادتہم العجل فاراد اللہ ان یھون معبودھم عندھم (مدارک ص 44 ج 1) وانما اختص البقر من سائر الحیوانات لانھم کانوا یعظمون البقر ویعبدونھا من دون اللہ فاختبر وا بذلک الخ (بحر ص 250 ج 1) ۔ 139 ۔ اسرائیلی سمجھے کہ گائے تو ایک مقدس اور معظم جانور ہے۔ بھلا اللہ تعالیٰ اسے ذبح کرنے کا حکم کس طرح دے سکتا ہے یا انہوں نے ذبح بقرہ کے ذریعے قاتل کے پتہ لگانے کو بعید از عقل سمجھا اس لیے کہا ہو نہ ہو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہم سے ہنسی مذاق کر رہے ہیں۔ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ ۔ کیونکہ احکام خداوندی کی تبلیغ میں تمسخر کرنا جاہلوں اور بیوقوفوں کا کام ہے اور انبیا (علیہم السلام) کو یہ چیز زیب نہیں دیتی لان الہز فی اثنا تبلیغ امر اللہ سبحانہ جھل وسفہ (ابو السعود ص 559 ج 1) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 اور اے بنی اسرائیل تم اس واقعہ کو یاد کرو جب حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم ایک بیل ذبح کرو اس پر حضرت موسیٰ کی قوم نے کہا کیا آپ ہمارا مذاق بنانا چاہتے ہیں اور ہم سے ہنسی کرتے ہیں حضرت موسیٰ نے فرمایا میں اس بات سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہو جائوں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ عامیل نامی ایک شخص تھا جو قتل ہوگیا تھا مرنے سے پہلے اس کا بیان قلم بند نہیں ہوسکا قاتلوں نے یہ ہوشیاری کی کہ مقتول کی لاش شارع عام پر یا کسی شخص کے دروازے کے آگے ڈال دی جب قاتل کا پتہ نہ چلا تو مقتول کے وارثوں نے حضرت موسیٰ سے عرض کی جناب ہمارے چچا کے قاتل کا پتہ نہیں چلتا آپ اللہ سے دعا کیجیے حالانکہ وہی بھتیجے قاتل تھے اس پر حضرت موسیٰ نے جب دعا کی تو یہ حکم ہوا حضرت موسیٰ نے قوم کو سنایا کہ اللہ تعالیٰ تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم ایک بیل کو ذبح کرو اس پر قوم کے لوگوں نے یہ کہا کہ آپ کیا ہم سے مذاق کرنا چاہتے ہیں چونکہ تمسخر اور مذاق ایک عبث فعل ہے اور یہ کام سمجھ دار لوگوں کا نہیں ہے بلکہ جاہلوں کا کام ہے اس لئے موسیٰ نے کہا میں جاہلوں میں ہو جائوں اس پر خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔ ہم نے بقرۃ کا ترجمہ بیل کیا ہے چونکہ آگے کی آیت میں جو کام ذکر کیا ہے وہ عام طور پر بیل ہی کیا کرتا ہے اس لئے ہم نے بیل ہی ترجمہ کیا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ گائے ہو اور وہ لوگ گائے سے کھیتی کا کام لیتے ہوں بیل کو استعمال نہ کرتے ہوں، (واللہ اعلم) بنی اسرائیل کی چونکہ عام عادت تھی کہ ہر بات میں حجتیں نکالا کرتے تھے وہی طریقہ انہوں نے اس موقعہ پر بھی اختیار کیا چناچہ جس قدر تحقیق کرتے گئے اسی قدر سختی بڑھتی گئی اور معاملہ سنگین ہوتا گیا۔ شددا علی انفسھم فشد اللہ علیھم ان کی سمجھ میں قتل کی تحقیق کا تعلق بیل کے ذبح کرنے سے نہیں آیا اس لئے سوال جواب کرنے شروع کردیئے۔ (تسہیل)