Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 72

سورة البقرة

وَ اِذۡ قَتَلۡتُمۡ نَفۡسًا فَادّٰرَءۡتُمۡ فِیۡہَا ؕ وَ اللّٰہُ مُخۡرِجٌ مَّا کُنۡتُمۡ تَکۡتُمُوۡنَ ﴿ۚ۷۲﴾

And [recall] when you slew a man and disputed over it, but Allah was to bring out that which you were concealing.

جب تم نے ایک شخص کو قتل کر ڈالا ، پھر اس میں اختلاف کرنے لگے اور تمہاری پوشیدگی کو اللہ تعالٰی ظاہر کرنے والا تھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Bringing the murdered Man back to Life Allah tells; وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْساً فَادَّارَأْتُمْ فِيهَا وَاللّهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ And (remember) when you killed a man and disagreed among yourselves as to the crime. But Allah brought forth that which you were Taktumun. Al-Bukhari said that, فَادَّارَأْتُمْ فِيهَا (And disagreed among yourselves as to the crime) means, "Disputed." This is also the Tafsir of Mujahid. Ata' Al-Khurasani and Ad-Dahhak said, "Disputed about this matter." Also, Ibn Jurayj said that, وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْساً فَادَّارَأْتُمْ فِيهَا (And (remember) when you killed a man and disagreed among yourselves as to the crime) means, some of them said, "You killed him," while the others said, "No you killed him." This is also the Tafsir of Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. Mujahid said that, وَاللّهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ (But Allah brought forth that which you were Taktumun) means, "what you were hiding." Allah said,

بلاوجہ تجسس موجب عتاب ہے صحیح بخاری شریف میں ادارءتم کے معنی تم نے اختلاف کیا کے ہیں ۔ حضرت مجاہد وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے مسیب بن رافع کہتے ہیں کہ جو شخص سات گھروں میں چھپ کر بھی کوئی نیک عمل کرے گا اللہ اس کی نیکی کو ظاہر کر دے گا اسی طرح اگر کوئی سات گھروں میں گھس کر بھی کوئی برائی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے بھی ظاہر کر دے گا پھر یہ آیت تلاوت کی آیت ( وَاللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ ) 2 ۔ البقرۃ:72 ) یہاں وہی واقعہ چچا بھتیجے کا بیان ہو رہا ہے جس کے باعث انہیں ذبیحہ گاؤ کا حکم ہوا تھا اور کہا جاتا ہے کہ اس کا کوئی ٹکڑا لے کر مقتول کے جسم پر لگاؤ وہ ٹکڑا کونسا تھا ؟ اس کا بیان تو قرآن میں نہیں ہے نہ کسی صحیح حدیث میں اور نہ ہمیں اس کے معلوم ہونے سے کوئی فائدہ ہے اور معلوم نہیں ہونے سے کوئی نقصان ہے سلامت روی اسی میں ہے کہ جس چیز کا بیان نہیں ہم بھی اس کی تلاش و تفتیش میں نہ پڑیں بعض نے کہا ہے کہ وہ غضروف کی ہڈی نرم تھی کوئی کہتا ہے ہڈی نہیں بلکہ ران کا گوشت تھا کوئی کہتا ہے دونوں شانوں کے درمیان کا گوشت تھا کوئی کہتا ہے زبان کا گوشت کوئی کہتا ہے دم کا گوشت وغیرہ لیکن ہماری بہتری اسی میں ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مبہم رکھا ہے ہم بھی مبہم ہی رکھیں ۔ اس ٹکڑے کے لگتے ہی وہ مردہ جی اٹھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے جھگڑے کا فیصلہ بھی اسی سے کیا اور قیامت کے دن جی اٹھنے کی دلیل بھی اسی کو بنایا ۔ اسی سورت میں پانچ جگہ مرنے کے بعد جینے کا بیان ہوا ہے ایک تو آیت ( ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ) 2 ۔ البقرۃ:56 ) میں اور دوسرا اس قصے میں ، تیسرے ان کے قصے میں جو ہزاروں کی تعداد میں نکلے تھے اور ایک اجاڑ بستی پر ان کا گزر ہوا تھا چوتھے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چار پرندوں کے مار ڈالنے کے بعد زندہ ہو جانے میں پانچویں زمین کی مردنی کے بعد روئیدگی کو موت و زیست سے تشبیہ دینے میں ابو داؤد طیالسی کی ایک حدیث میں ہے ابو زرین عقیلی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو اللہ تعالیٰ کس طرح جلائے گا فرمایا کبھی تم بنجر زمین پر گزرے ہو؟ کہاں ہاں فرمایا پھر کبھی اس کو سرسبز و شاداب بھی دیکھا ہے؟ کہا ہاں فرمایا اسی طرح موت کے بعد زیست ہے قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت ( وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ ) 36 ۔ یس:33 ) یعنی ان منکرین کے لئے مردہ زمین میں بھی ایک نشانی ہے جسے ہم زندہ کرتے ہیں اور اس میں سے دانے نکالتے ہیں جسے یہ کھاتے ہیں اور جس میں ہم کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کرتے ہیں اور چاروں طرف نہروں کی ریل پیل کر دیتے ہیں تاکہ وہ ان پھلوں کو مزے مزے سے کھائیں حالانکہ یہ ان کے ہاتھوں کا بنایا ہوا یا پیدا کیا ہوا نہیں کیا پھر بھی یہ شکر گزاری نہ کریں گے؟ اس مسئلہ پر اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے اور حضرت امام مالک کے مذہب کو اس سے تقویت پہنچائی گئی ہے اس لئے مقتول کے جی اٹھنے کے بعد اس نے دریافت کرنے پر جسے قاتل بتایا اسے قتل کیا گیا اور مقتول کا قول باور کیا گیا ظاہر ہے کہ دم آخر ایسی حالت میں انسان عموماً سچ ہی بولتا ہے اور اس وقت اس پر تہمت نہیں لگائی جاتی ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر پتھر پر رکھ کر دوسرے پتھر سے کچل ڈالا اور اس کے کڑے اتار لے گیا جب اس کا پتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لگا تو آپ نے فرمایا اس لڑکی سے پوچھو کہ اسے کس نے مارا ہے ۔ لوگوں نے پوچھنا شروع کیا کہ کیا تھے فلاں نے مارا فلاں نے مارا ؟ وہ اپنے سر کے اشارے سے انکار کرتی جاتی تھی یہاں تک کہ جب اسی یہودی کا نام آیا تو اس نے سر کے اشارے سے کہا ہاں چنانچہ اس یہودی کو گرفتار کیا گیا اور باصرار پوچھنے پر اس نے اقرار کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی اس طرح دو پتھروں کے درمیان کچل دیا جائے اور امام مالک کے نزدیک جب یہ برانگیختگی کے باعث ہو تو مقتول کے وارثوں کو قسم کھلائی جائے گی بطور قسامہ کے لیکن جمہور اس کے مخلاف اور مقتول کے قول کو اس بارے میں ثبوت نہیں جانتے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

72۔ 1 یہ قتل کا وہی واقعہ ہے جن کی بنا پر بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس قتل کا راز فاش کردیا حالانکہ وہ قتل رات کی تاریکی میں لوگوں سے چھپ کر کیا گیا تھا مطلب یہ نیکی یا بدی تم کتنی بھی چھپ کر کرو اللہ کے علم میں ہے اور اللہ تعالیٰ اسے لوگوں پر ظاہر کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس لئے خلوت یا جلوت ہر وقت اور ہر جگہ اچھے کام ہی کرو تاکہ وہ کسی وقت ظاہر ہوجائیں اور لوگوں کے علم میں بھی آجائیں تو شرمندگی نہ ہو بلکہ اس کے احترام و وقار میں اضافہ ہی ہو اور بدی کتنی بھی چھپ کر کیوں نہ کی جائے اس کے فاش ہونے کا امکان ہے جس سے انسان کی بدنامی اور ذلت اور رسوائی ہوتی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَادّٰرَءْتُمْ اصل میں ” فَتَدَرَأْتُمْ “ تھا، باب تفاعل کی تاء کو دال میں بدل کر دال میں ادغام کردیا ادغام کرنے سے شروع والا حرف مدغم ساکن ہوا تو ساکن کو پڑھنے کے لیے شروع میں ہمزہ لائے، پھر شروع میں فاء آنے سے ہمزہ تلفظ سے ساقط ہوگیا، لکھنے میں موجود ہے۔ بنی اسرائیل کے کسی شخص نے دوسرے کو قتل کردیا اور جو لوگ قاتل کو جانتے تھے انھوں نے اس پر پردہ ڈال دیا۔ اب وہ ایک دوسرے پر الزام دھرنے لگے اور جھگڑا شروع ہوگیا، تو اللہ تعالیٰ نے ذبح شدہ گائے کا کوئی حصہ مقتول پر مارنے کا حکم دیا، جس سے اس نے زندہ ہو کر قاتل کی نشان دہی کردی۔ اتنی بات ان آیات سے صاف ظاہر ہے۔ تفاسیر میں اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک مال دار شخص کو اس کے بھتیجے نے قتل کردیا، تاکہ اس کا وارث بن جائے، پھر رات کو لاش اٹھا کر دوسرے شخص کے دروازے پر ڈال دی اور صبح کے وقت ان پر قتل کا دعویٰ کردیا۔ اس پر دونوں طرف سے ہتھیار نکل آئے، لڑائی ہونے ہی والی تھی کہ بعض لوگوں نے کہا، اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھ لو۔ بالآخر موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں یہ حکم دیا۔ حافظ ابن کثیر (رض) یہ واقعہ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ اس واقعہ کی تفصیلات اسرائیلیات سے لی گئی ہیں، ان پر کلی اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ قصہ بنی اسرائیل کے ایک آدمی کے قتل سے شروع ہوتا ہے، اس لیے اس کا مقام پہلے تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے گائے ذبح کرنے کا حکم پہلے ذکر فرمایا، تاکہ بنی اسرائیل کی نافرمانی کے متعدد مناظر سامنے آسکیں، مثلاً گائے ذبح کرنے سے پہلوتہی، بار بار سوال کرنا، ناحق قتل کرنا، پھر اسے چھپانے کی کوشش کرنا۔ اگر آیات کی ابتدا قتل نفس سے ہوتی تو یہ ایک ہی واقعہ معلوم ہوتا اور بنی اسرائیل کی نافرمانی کے متعدد پہلو نمایاں نہ ہوتے۔ (زمخشری) مگر ابوحیان نے فرمایا، ظاہر بات یہ ہے کہ واقعات کی ترتیب بھی اس طرح ہے جس طرح آیات کی ترتیب ہے، چناچہ حقیقت یہی ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے انھیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا، انھیں اس کا راز معلوم نہ تھا، پھر ان میں قتل کا واقعہ ہوگیا، تو ان کے لیے گائے ذبح کرنے کی (ایک اور) حکمت بھی ظاہر کردی گئی۔ ہمیں کوئی مجبوری نہیں کہ ہم بعد والے واقعہ کو پہلے اور پہلے کو بعد والا قرار دیں۔ رہی تاریخ میں مذکور کہانیاں تو ان کا کچھ اعتبار نہیں۔ [ البحر المحیط ] ابو حیان کی بات واقعتا وزن رکھتی ہے۔ اس سے گائے ذبح کرنے کے حکم کی اہمیت و حکمت زیادہ واضح ہوتی ہے، جو کہ گاؤ پرستی کی جڑ پر کلہاڑا مارنا ہے۔ كَذٰلِكَ يُـحْىِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى) اس سے صاف ظاہر ہے کہ گائے کا ٹکڑا مارنے سے وہ مقتول زندہ ہوگیا۔ فرمایا : ” اس طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے “ یعنی یہ واقعہ قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرنے کی بھی ایک دلیل اور نشانی ہے، کیونکہ جو ایک مردہ کو زندہ کرسکتا ہے وہ تمام مردوں کو بھی زندہ کرنے پر قادر ہے، فرمایا : (مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ ) [ لقمان : ٢٨ ] ” نہیں ہے تمہارا پیدا کرنا اور نہ تمہارا اٹھانا مگر ایک جان کی طرح۔ “ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے پانچ مقامات پر دنیا میں مردوں کو زندہ کرنے کا ذکر فرمایا ہے : 1 (ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ) [ البقرۃ : ٥٦ ] 2 اس مقتول کا قصہ جو یہاں ذکر ہوا ہے۔ 3 ان لوگوں کا قصہ جو موت سے ڈر کر ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھروں سے نکل پڑے تھے۔ [ البقرۃ : ٢٤٣ ] 4 اس شخص کا قصہ جو ایک برباد شہر سے گزرا۔ [ البقرۃ : ٢٥٩ ] 5 ابراہیم (علیہ السلام) اور چار پرندوں کا قصہ۔ [ البقرۃ : ٢٦٠ ] اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے بارش کے ذریعے زمین کو زندہ کرنے سے جسموں کو دوبارہ زندہ کرنے پر استدلال کیا ہے۔ [ یٰسٓ : ٣٣ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The murderer had his supporters who wanted to hide his crime, and hence began accusing different people. But Allah willed that the criminal should be brought to book, and appointed a miraculous way of identifying him -- that is, the dead body of the murdered man should be touched with a part of the flesh of the sacrificial cow. When this was done, the dead man came back to life, announced the name of his murderer, and died again. This miraculous event is a manifestation of the omnipotence of Allah, and Holy Qur&an presents it as an argument against those who deny the Resurrection of the dead for the Last Judgment. Verse 73 says that this precedent should induce people to make use of their reason, and see that what has happened in a past instance can as easily happen in a future instance. With regard to this event one may ask as to why Allah made the resurrection of the dead man depend upon his being touched with a part of flesh when he had the power to bring the man back to life without the intervention of any such device; or, one may ask as to why the dead man should have been brought back to life when the name of the murderer could have been revealed even otherwise. In answer to this, we shall say that Allah is omnipotent, and does not act under any kind of compulsion, but that all His actions proceed from His all-embracing wisdom. Moreover, it is He alone who knows, and can know, the raison d&etre of what He does. The Shari&ah does not oblige us to discover the raison d&etre of each and every divine act, nor is it necessary or possible that we should be able to comprehend the raison d&etre in each case. The best way in such a case is to accept what Allah or the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said, and to keep quiet. Let us say a word about the arrangement and sequence of the events. Verse 72 relates how a man was murdered, and how people started accusing each other. This is the beginning of the story which has been related earlier in Verses 67-71. This chronological order has not been preserved in the narration, but inverted, and this re-arrangement has a subtle significance. This long section of the Surah (Chapter) has been dealing with the transgressions of the Israelites, and this is just what the Holy Qur&an intends to bring out in narrating different stories, the narrating of stories not being an object in itself here. The present story is meant to show two misdeeds - firstly, committing a murder and then trying to hide it; secondly, raising uncalled-for objections to divine commandments. If the chronological order had been kept up, the readers would have supposed that it was only the first of these that was really intended, while the second was added only by way of completing the story. The present arrangement clearly shows that both the misdeeds have been equally emphasized. Injunctions and related consideration In this incident the statement of the murdered man was considered evidence for condemning the murderer, because Allah had informed Sayyidna Musa (علیہ السلام) through revelation that the man would, on coming back to life, speak the truth. Otherwise, one cannot be declared as being guilty of murder without proper evidence, the rules of which have been laid down by the Shari&ah.

خلاصہ تفسیر : اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب تم لوگوں (میں سے کسی) نے ایک آدمی کا خون کردیا پھر (اپنی برات کے لئے ایک دوسرے پر ڈالنے لگے اور اللہ تعالیٰ کو اس امر کا ظاہر کرنا منظور تھا جس کو تم (میں کے مجرم ومشتبہ لوگ) مخفی رکھنا چاہتے تھے، اس لئے (ذبح بقرہ کے بعد) ہم نے حکم دیا کہ اس (مقتول کی لاش) کو اس (بقرہ) کے کوئی سے ٹکڑے سے چھوا دو (چنانچہ چھوانے سے وہ زندہ ہوگیا) آگے اللہ تعالیٰ بمقابلہ منکرین قیامت کے اس قصہ سے استدلال اور اپنے نظیر کے طور پر فرماتے ہیں کہ اسی طرح حق تعالیٰ (قیامت میں) مردوں کو زندہ کردیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنے نظائر (قدرت) تم کو دکھلاتے ہیں اس توقع پر کہ تم عقل سے کام کرو (اور ایک نظیر سے دوسری نظیر کے انکار سے باز آؤ) فائدہ : جب اس مردہ کے ساتھ یہ معاملہ کیا گیا تو وہ زندہ ہوگیا اس نے قاتل کا نام بتایا اور پھر فوراً ہی مرگیا، اس جگہ صرف مقتول کا بیان اس لئے کافی سمجھا گیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی معلوم ہوگیا تھا کہ یہ مقتول سچ بولے گا ورنہ صرف مقتول کے بیان سے بغیر شرعی شہادت کے کسی پر قتل کا ثبوت کافی نہیں ہوتا، یہاں یہ شبہ کرنا بھی درست نہیں کہ حق تعالیٰ کو تو مردہ زندہ کرنے کی ویسی ہی قدرت تھی یا مقتول کو زندہ کئے بغیر قاتل کا نام بتایا جاسکتا تھا پھر اس سامان کی کیا ضرورت تھی تو بات یہ ہے کہ حق تعالیٰ کا کوئی فعل ضرورت اور مجبوری کی وجہ سے تو ہوتا نہیں بلکہ مصلحت اور حکمت کے لئے ہوتا ہے اور ہر واقعہ کی حکمت اللہ تعالیٰ ہی کے احاطہ علمی میں آسکتی ہے نہ ہم اس کے مکلف ہیں کہ ہر واقعہ کی مصلحت معلوم کریں اور نہ یہ ضروری ہے کہ ہر واقعہ کی حکمت ہماری سمجھ میں آجائے اس لئے اس کے پیچھے پڑ کر اپنی عمر عزیز ضائع کرنے کے بجائے بہتر طریقہ تسلیم و سکوت کا ہے،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رکوع نمبر 9 وَاِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِيْہَا۝ ٠ ۭ وَاللہُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ۝ ٧٢ ۚ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ نفس الَّنْفُس : الرُّوحُ في قوله تعالی: أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] قال : وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] ، وقوله : تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] ، وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، وهذا۔ وإن کان قد حَصَلَ من حَيْثُ اللَّفْظُ مضافٌ ومضافٌ إليه يقتضي المغایرةَ ، وإثباتَ شيئين من حيث العبارةُ- فلا شيءَ من حيث المعنی سِوَاهُ تعالیٰ عن الاثْنَوِيَّة من کلِّ وجهٍ. وقال بعض الناس : إن إضافَةَ النَّفْسِ إليه تعالیٰ إضافةُ المِلْك، ويعني بنفسه نُفُوسَنا الأَمَّارَةَ بالسُّوء، وأضاف إليه علی سبیل المِلْك . ( ن ف س ) النفس کے معنی روح کے آتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] کہ نکال لو اپنی جانیں ۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] اور جان رکھو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے ۔ اور ذیل کی دونوں آیتوں ۔ تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] اور جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے میں اسے نہیں جنتا ہوں ۔ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے اور یہاں نفسہ کی اضافت اگر چہ لفظی لحاظ سے مضاف اور مضاف الیہ میں مغایرۃ کو چاہتی ہے لیکن من حیث المعنی دونوں سے ایک ہی ذات مراد ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ ہر قسم کی دوائی سے پاک ہے بعض کا قول ہے کہ ذات باری تعالیٰ کی طرف نفس کی اضافت اضافت ملک ہے اور اس سے ہمارے نفوس امارہ مراد ہیں جو ہر وقت برائی پر ابھارتے رہتے ہیں ۔ درأ الدَّرْءُ : المیل إلى أحد الجانبین، يقال : قوّمت دَرْأَهُ ، ودَرَأْتُ عنه : دفعت عن جانبه، وفلان ذو تَدَرُّؤٍ ، أي : قويّ علی دفع أعدائه، ودَارَأْتُهُ : دافعته . قال تعالی: وَيَدْرَؤُنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ [ الرعد/ 22] ، وقال : وَيَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذابَ [ النور/ 8] ، وفي الحدیث :«ادْرَءُوا الحدود بالشّبهات» ( د ر ء ) الدواء ( ف ) کے معنی ونیزہ وغیرہ کے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں کہا جاتا ہے ۔ میں نے اس کی کجی کو درست کردیا میں نے اس سے دفع کیا قرآن میں ہے : ۔ وَيَدْرَؤُنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ [ الرعد/ 22] اور نیکی کے ذریعہ برائیوں کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ وَيَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذابَ [ النور/ 8] اور عورت سے سزا کو یہ بات ٹال سکتی ہے ۔ حدیث میں ہے ۔«ادْرَءُوا الحدود بالشّبهات» شرعی حدود کو شہبات سے دفع کرو ادارأتم ( ادّارأتم) ، أصله تدارأتم من الدرء وهو الدفع، اجتمعت التاء مع الدال وهما قریبتا المخرج فسهل الإدغام بينهما ولکن بقلب التاء دالا . فلمّا بدأ الفعل بالساکن بسبب الإدغام أضيفت همزة الوصل فقیل ادّارأتم وزنه أتفاعلتم المنقلب من تفاعلتم، ويجوز أن يكون افّاعلتم . ( مخرج) ، اسم فاعل من أخرج الرباعيّ ، فهو علی وزن مضارعه بإبدال حرف المضارعة ميما مضمومة وکسر ما قبل آخره . اصل میں تدارء تم تھا تدارء ( تفاعل) مصدر جس کے معنی لڑائی میں ایک دوسرے پر سے ہٹانا۔ متفق نہ ہونا۔ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنا ای تدافع۔ تدارء تم کی تاء کو دال میں بدل کر دال مابعد میں مدغم کردیا۔ پھر ابتداء بالسکون کی دشواری کی وجہ سے شروع میں ہمزہ وصل لائے۔ ادارؤتم ہوگیا۔ معنی یہ ہے کہ : تم ایک دوسرے پر ( اس قتل کا) الزام لگانے لگے۔ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ كتم الْكِتْمَانُ : ستر الحدیث، يقال : كَتَمْتُهُ كَتْماً وكِتْمَاناً. قال تعالی: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ [ البقرة/ 140] ، وقال : وَإِنَّ فَرِيقاً مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ [ البقرة/ 146] ، وَلا تَكْتُمُوا الشَّهادَةَ [ البقرة/ 283] ، وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ [ آل عمران/ 71] ، وقوله : الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ ما آتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ [ النساء/ 37] فَكِتْمَانُ الفضل : هو کفران النّعمة، ولذلک قال بعده : وَأَعْتَدْنا لِلْكافِرِينَ عَذاباً مُهِيناً [ النساء/ 37] ، وقوله : وَلا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثاً [ النساء/ 42] قال ابن عباس : إنّ المشرکين إذا رأوا أهل القیامة لا يدخل الجنّة إلّا من لم يكن مشرکا قالوا : وَاللَّهِ رَبِّنا ما كُنَّا مُشْرِكِينَ [ الأنعام/ 23] فتشهد عليهم جوارحهم، فحینئذ يودّون أن لم يکتموا اللہ حدیثا «2» . وقال الحسن : في الآخرة مواقف في بعضها يکتمون، وفي بعضها لا يکتمون، وعن بعضهم : لا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثاً [ النساء/ 42] هو أن تنطق جو ارحهم . ( ک ت م ) کتمہ ( ن ) کتما وکتما نا کے معنی کوئی بات چھپانا کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ [ البقرة/ 140] اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا کی شہادت کو جو اس کے پاس کتاب اللہ میں موجود ہے چھپائے ۔ وَإِنَّ فَرِيقاً مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ [ البقرة/ 146] مگر ایک فریق ان میں سچی بات جان بوجھ کر چھپا رہا ہے ۔ وَلا تَكْتُمُوا الشَّهادَةَ [ البقرة/ 283] اور ( دیکھنا ) شہادت کو مت چھپانا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ ما آتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ [ النساء/ 37] جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو ( مال ) خدا نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کے رکھیں ۔ میں کتمان فضل سے کفران نعمت مراد ہے اسی بنا پر اس کے بعد فرمایا : وَأَعْتَدْنا لِلْكافِرِينَ عَذاباً مُهِيناً [ النساء/ 37] اور ہم نے ناشکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَلا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثاً [ النساء/ 42] اور خدا سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے کی تفسیر میں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب قیامت کے روز مشرکین دیکھیں گے کہ جنت میں وہی لوگ داخل ہو رہے ہیں جو مشرک نہیں تھے ۔ تو چھٹ سے پکارا اٹھیں گے وَاللَّهِ رَبِّنا ما كُنَّا مُشْرِكِينَ [ الأنعام/ 23] خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شریک نہیں بناتے تھے ۔ مگر اس کے بعد ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے تو اس وقت وہ تمنا کریں گے کہ خدا تعالیٰ سے کوئی بات نہ چھپائے ہوتی حسن بصری فرماتے ہیں کہ آخرت میں متدد واقف ہوں گے بعض موقعوں پر وہ اپنی حالت کو چھپانے کی کوشش کریں گے ۔ اور بعض میں نہیں چھپائیں گے بعض نے کہا ہے کہ کوئی چھپا نہ سکنے سے مراد یہ ہے کہ ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دینگے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٢) اب اللہ تعالیٰ مقتول کا قصہ بیان فرماتے ہیں کہ جب تم لوگوں نے ” عامیل “ نامی آدمی کو قتل کیا پھر اس کے قتل کے حوالے سے تم میں اختلاف پڑگیا اور اس کے قتل سے متعلق جس چیز کو تم خفیہ رکھ رہے تھے اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر کرنے والے تھے۔ چناچہ ہم نے حکم دیا کہ اس قتل شدہ شخص کے جسم کے ساتھ گائے کا کوئی عضو لگاؤ، وہ زندہ ہو کر قاتل کا نام بتادے گا اور حکم یہ تھا کہ اس کی پونچھ یا زبان کا عضو لگاؤ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ” عامیل “ کو زندہ کیا اسی طرح مرنے کے بعد وہ مردہ لوگوں کو زندہ کرے گا اور تمہیں وہ زندہ کرنا دکھا رہا ہے تاکہ تم مرنے کے بعد اٹھنے پر ایمان لاؤ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٢ (وَاِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْ تُمْ فِیْہَا ط) چنانچہ پتا نہیں چل رہا تھا کہ قاتل کون ہے۔ (وَاللّٰہُ مُخْرِجٌ مَّا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ ) اللہ تعالیٰ فیصلہ کرچکا تھا کہ جو کچھ تم چھپا رہے ہو اسے نکال کر رہے گا اور واضح کردے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:72) فادرء تم فیہا ۔ فاء عاطفہ ہے۔ ادارأتم اصل میں تدارء تم تھا تدارء (تفاعل) مصدر جس کے معنی لڑائی میں ایک دوسرے پر سے ہٹانا۔ متفق نہ ہونا۔ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنا ای تدافع۔ تدارء تم کی تاء کو دال میں بدل کر دال مابعد میں مدغم کردیا۔ پھر ابتداء بالسکون کی دشواری کی وجہ سے شروع میں ہمزہ وصل لائے۔ ادارؤتم ہوگیا۔ معنی یہ ہے کہ : تم ایک دوسرے پر (اس قتل کا) الزام لگانے لگے۔ فیہا ای فی قتل نفس ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث کا مرجع نفسا ہے۔ مخرج۔ اسم فاعل واحد مذکر اخراج (افعال) مصدر سے۔ نکالنے والا۔ باہر نکالنے والا۔ ظاہر کرنے والا۔ ما کنتم تکتمون۔ ما موصولہ ، کنتم تکتمون اس کا صلہ ۔ جو تم چھپا رہے تھے اور موصول وصلہ مل کر مخرج کا مفعول بہ ہے۔ یعنی جو تم چھپا رہے تھے اللہ اس کو ظاہر کرنے والا تھا۔ کنتم تکتمون ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ کتمان یا کتم مصدر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 72 80 اسرارو معارف پھر اس بات کو یاد کرو جب تم نے یعنی تمہارے اجداد نے ایک قتل کردیا اور ایک دوسرے کو الزام دینے لگے مگر جس شئے کو تم چھپانا چاہتے تھے اللہ اسے ظاہر کرنا چاہتا تھا۔ یہاں تقدیم وتاخیرواقع نہیں ہے کہ قتل تو پہلے ہوا اور پھر گائے کے ذبح کا حکم اور واقعہ ہوا مگر اللہ کریم نے پہلے گائے کا واقعہ ارشاد فرمایا اور بعد میں قتل کا۔ اس کا باعث یہ ہے کہ یہاں بنی اسرائیل پر احسان ارشاد ہو رہے ہیں تاریخ دہرانا مقصود نہیں ۔ تو گائے کا واقعہ اس لحاظ سے پہلے بیان ہونا چاہیے کہ دیکھ لو کس بےدلی سے اوپر طرح طرح کی باتیں کرکے تم نے گائے ذبح کی مگر ہماری عنایات اور ہمارے کرم کو دیکھو کہ اس سے تمہیں وہ مقصد حاصل ہوگیا یعنی قاتل کا پتہ چل گیا۔ جو تمہارے اس بےدلی کے عمل سے ہونا تو نہ چاہیے تھا مگر ہم نے حکم دیا کہ گائے کا کوئی حصہ گوشت کا کوئی ٹکڑا اس کے جسم سے لگائو گوشت کا مس ہونا تھا کہ مردہ اٹھ بیٹھا اور ساری بات اپنی زبان سے بتا کر مرگیا۔ اس سے نہ صرف قاتل کا پتہ چل گیا بلکہ قدرت باری کا ایک اور مظہر تمہارے سامنے آیا اور تم نے اپنی آنکھوں سے مردے کو زندہ ہوتے اور باتیں کرتے دیکھا اور سنا۔ اسی طرح اللہ قادر ہے قیامت کے تمام مردوں کو زندہ کرے گا۔ تمہارے لئے کس قدر غور کرنے کا مقام ہے۔ یہاں یہ نہ سوچا جائے کہ اللہ قادر ہے تو خود ہی بغیر کسی گائے وغیرہ کے ذبح کے مردہ اٹھ بیٹھتا اور بتا دیتا کہ یہ درست ہے ، اللہ چاہتا تو یہ بھی ہوجاتا مگر ایک قانون ہے اللہ کا کہ دنیا کے امور اسباب سے متعلق فرمائے گئے ہیں یہاں گائے کا ذبح ایک سبب بنا۔ جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا مگر ترک سبب نہ فرمایا اور جبرائیل (علیہ السلام) کو حکم دیا جاکر دم کردو۔ یا کفار کی آنکھیں ریت سے بھردیں۔ مگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ مٹھی بھر ریت پھینکئے تو سہی ، اگر مثالیں دی جائیں تو مضمون لمبا ہوجائے گا۔ غرض اصلی یہ عرض کرنا ہے کہ ہر کام کے لئے اسباب اختیار کرنا ضروری ہے۔ توکل کی حقیقت : اسباب اختیار کرکے نتائج کی امید اللہ سے رکھنا توکل ہے اور جو نتیجہ بھی ظاہر ہو۔ اگر مرضی کے مطابق ہو تو اس پر اللہ کی تعریف کرنا شکر ہے اور اگر مرضی کے خلاف ہو تو اس پر دل میں تنگی محسوس نہ کرنے اور حرف شکایت لبوں پر نہ لانے کا نام صبر ہے ترک سبب کرکے بیٹھ جانا ہرگز توکل نہیں۔ ثم قست قلوبکم من بعد ذالک۔ اس قدر معجزات اور اتنی عنایات دیکھنے اور پانے کے بعد بھی تمہارے دل پتھروں کی طرح سخت ہوگئے بلکہ قساوت میں پتھروں سے بھی بڑھ گئے۔ یہ قساوت یا نرمی وجودی شے نہیں بلکہ کیفی ہے کے نام ہے جو عالم امر سے لطیفہ قلب میں رکھی ہے اور جس کی بدولت دل خطاب الٰہی کا رتبہ پاتا ہے اور جمال باری سے سیراب ہوتا ہے اور پھر خلق خدا کو سیراب کرتا ہے بعض اس کی وجہ سے ہدایت پاتے ہیں اور جو ہدایت نہیں پاتے دنیاوی نعمتیں وہ بھی انہی زندہ دلوں کے صدقے میں کھاتے ہیں کہ جب کوئی دل زندہ نہ رہا یہ جہاں ہی نہ رہے گا ، اور قیامت برپا ہوگی۔ تو جو دل اللہ کی عظمت کا احساس کھوبیٹھا اور یادالٰہی سے خالی ہوا تو پتھروں سے بھی گیا گزرا ہے کہ بعض پتھروں اور چٹانوں سے نہریں جاری ہیں جو ایک عالم کی سیرابی و شادابی کا باعث بنتی ہیں یا پھر بعض سے کم پانی نکلتا ہے مگر کسی نہ کسی درجہ میں خلق خدا کو فائدہ پہنچتا ہے اور اس سے کم تردرجہ میں وہ پتھر بھی ہیں جو بعض اوقات محض خشیت باری سے اور عظمت الٰہی کے خوف سے گر پڑتے ہیں ، چلو روحانی نہ سہی دنیا کے لئے مادی فوائد کا سبب تو بنتے ہیں تم تو ان سے بھی گئے گزرے ہو کہ تمہاری قساوت قلبی نے لوگوں کو مادی طور پر بھی دکھ اور مصیبت ہی ہی دی ہے کہ دنیا میں فساد پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے ۔ افتطمعون ان یومنوا لکم۔۔۔ وھم یعلمون۔ اب اے مسلمانو ! کیا تما ی سے مردہ دلوں سے ایمان کی امید رکھتے ہو ، حالانکہ اس مردہ دلی سے بڑھ کر اس قدر خواہشات نفسانی کے ا سیر ہیں کہ ان میں سے بعض ایسے بھی ہوئے ہیں جنہوں نے اللہ کے کلام کو سنا ، سمجھا اور پھر جان بوجھ کر اسے اپنے مطلب کے مطابق تبدیل کرلیا مقصد یہ ہے کہ بےعلمی کا گناہ بھی گناہ ہے مگر جانتے ہوئے محض اپنی غرض پوری کرنے کو تاویلات باطلہ کا سہارا لینا اور اللہ کے کلام کو بدل دینا یا اس کا مفہوم غلط بیان کرنا اس قدر گری ہوئی باطنی کیفیت کو ظاہر کر رہا ہے کہ ایسے لوگوں کو کبھی ایمان صیب ہونے کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ یہاں صرف قصہ خوانی مقصود نہیں بلکہ ان بیہودہ کو جن کے آباؤ اجداد کے یہ افعال تھے اور جن پر وہ بھی ناراض تھے متنبہ کیا جارہا ہے ۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو بھی یہ احساس دلایا جارہا ہے کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی شریعت سے یہ سلوک کیا تو اس درجہ ذلیل ہوگئے دھیان رکھنا تمہارے پاس تو محمد رسول اللہ اور ان کی شریعت ہے۔ خدا ہمیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا۔۔۔ وما یعلنون انہی کا حال بیان فرماتے ہوئے مزید ارشاد فرمایا کہ یہ ایسے بدبخت ہیں جو نہ صرف خود کو مذہب اور ہم مذہبوں کو دھوکا دیتے ہیں بلکہ مسلمانوں کو بھی دھوکے میں رکھتے ہیں اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان تک کر گزرتے ہیں مگر جب آپس میں جمع ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو ۔۔۔ کرتے ہیں کہ ایسی باتیں مسلمانوں سے کیوں کہہ دیتے ہو جو اللہ نے توریت کے ذریعے تم پر منکشف فرمائی ہیں کہ بعض یہودی یہ باتیں کر گزرتے تھے۔ نزولقرآن یا بعثت نبوی یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اتباع کرنے کی تاکید یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف و توصیف تورات میں اس طرح مذکور ہے تو وہ یہ کہتے کہ یہ باتیں کرکے تم اپنے خلاف ایک مضبوط دلیل مسلمانوں کے ہاتھ دے رہے ہو جو تمہیں آج دنیا میں بھی اور کل اللہ کی بارگاہ میں بھی مغلوب کردیں گے تمہیں اتنی بھی عقل نہیں۔ فرمایا یہ تو اس قدربودی عقل کے مالک ہوئے ہیں کہ یہ نہیں جان رہے کہ تم جس رب سے چھپانا چاہتے ہو وہ تو ایسا قادر ہے کہ اس کا علم اس قدر مکمل اور جامع ہے کہ تم کسی بات کو ظاہر کرو یا چھپائو وہ ہر حال میں جانتا ہے۔ یہ سب اثرات قساوت قلبی کے ہیں کہ جب دل سیاہ ہو کر سخت ہوجاتا ہے تو جسم سارے کا سارا غلط سمت کو چل نکلتا ہے ، ہاتھ پائو ہی نہیں بلکہ دماغ تک الٹی سمت رواں ہوجاتے ہیں اور عقل اندھی ہوجاتی ہے نہ صرف انسانوں سے بلکہ اللہ سے بھی دھوکا کرنے سعی ہوتی ہے حالانکہ یہ کتنی موٹی بات ہے کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور اس سے کچھ چھپانا ممکن ہی نہیں مگر یہ بات بھی عقل میں نہیں آتی بلکہ لوگ دو طرح سے بن جاتے ہیں۔ جیسے آگے یہود کے دو طبقوں کے حالات ارشاد ہوتے ہیں۔ کہ ایک طبقہ تو ان میں ناخواندہ اور جہلاء کا ہے لا یعفو والکتاب ، جو اللہ کی بات کی عزت عظمت اور برکات سے ناآشنا ہیں اور محض اپنی خواہشات کی تکمیل کے حیلوں کو مذہب کا درجہ دے رکھا ہے اور وہ اپنے زعم میں تو اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بھی ان کا وہم ہی ہے حقیقتاً وہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے یہ تو سادہ سی بات ہے کہ جب ان کے دل سے اللہ کی کتاب کی عظمت گئی اللہ کی بارگاہ سے ان کی عزت ختم ہوگئی اور کوئی حیثیت نہیں رہی۔ دوسرے وہ پڑھے لکھے لوگ ہیں جو کتاب اللہ کی آیات بدل دیتے ہیں اپنے ہاتھ سے لکھ لیتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ غرض روپیہ بٹورنا اور ذاتی وقار کو قائم رکھنا ہے مثلاً اسی موضوع پر کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہ تعریف جو ان کے ہاں مذکور ہے اپنی قوم کو نہیں بتاتے پھر حرام کو حلال اور حلال کو حرام بنادیتے ہیں محض حیلے بہانے کرکے غرض اصلی دنیا ہے دین نہیں ہے تو ان پر دوہری مار پڑگئی۔ ایک کلام الٰہی میں تحریف کرنے اور دوسرے لوگوں کا مال ناجائز طریقے پر کھانے کی۔ یہی حال ہمیشہ سے علمائے سو کا رہا ہے کہ کتابیں پڑھتے ہیں مگر دل اندھے رہتے اور پھر مقصد حیات بدل جاتا ہے کہ رضائے باری کی جگہ حصول دنیا لے لیتی ہے اور ان کا علم چند ٹکوں کے عوض بکتارہتا ہے یہاں تک کہ غلط سلط مسائل گھڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے خوف نہیں کھاتے۔ قالوالن تمسنا النار……………ھم فیھا خالدون۔ بایں ہمہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمیں آگ نہ چھوئے گی اگر گناہوں کے عوض دوزخ جانا پڑا تو وہ محض چند روز ہوگا کہ بوجہ ایماندار ہونے کے ہمیشہ دوزخ میں نہ رہیں گے یعنی حال یہ ہے کہ سارا دین بدل کر رکھ دیا حلال و حرام کو خلط ملط کردیا۔ جہلاء نے رواج کو دین کا درجہ دے رکھا ہے اور علماء ہیں کہ اپنی طرف سے مسائل گھڑتے چلے جا رہے ہیں جو صریحاً کتاب کی خلاف ورزی بھی ہے مثلاً تورات میں بھی تو حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا حکم موجود تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف بلکہ آپ کے خدام کے اوصاف موجود تھے ان ساری باتوں سے ہٹ کر ہنوز اپنے آپ کو آگ سے بری خیال کرتے ہیں تو ان سے ذرا یہ تو فرمائیے کہ تمہاری ذات سے اللہ کا کوئی وعدہ ہے ؟ اگر ایسا ہے تو پھر اللہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔ لیکن اگر بات ذات کی نہیں صفات کی ہے تو ایمانداروں کے سارے اوصاف تم میں ناپید ہیں پھر تو تم اللہ پر بھی بہتان تراشی کر رہے ہو کہ ان عقائد باطلہ کے ساتھ تمہیں بخش دے گا۔ اللہ اللہ یہ کیسی تصویر کشی ہے آج کے گمراہ معاشرے کی جو اپنے کرتوتوں کے ساتھ اپنے اسلام کا بھی مدعی ہے۔ فرمایا میاں ! سیدھی سی بات ہے کہ کسے باشد ، کوئی بھی ہو عالم ہو یا جاہل ، مرد ہو یا عورت شاہ ہو یا گدا ، جو برائی اور خطا کوئی کرتا رہے اور یہاں تک کہ وہی اس کا اوڑھنا بچھونا بن جائے اور اس میں نیکی کا اثر تک نہ رہے وہ دوزخ کا رہنے والا ہے جہاں ابد تو رہے گا کہ گناہ کی زد آخر ایمان پر پڑتی ہے اگر کوئی مسلسل گناہ کرتا رہے تو ایک روز اس کا عقیدہ بھی چلا جاتا ہے جب عقیدہ گیا تو پہلی نیکیاں بھی ضائع ہوگئیں اور آئندہ اگر کوئی اچھا کام بھی کر بیٹھاتو عنداللہ مقبول نہ ہوا تو گویا اس کے وجود میں ذرہ برابر نیکی کا اثر باقی نہ رہا۔ اور وہ ہمیشہ کا دوزخی بن گیا۔ ہاں ایسے لوگ والذین امنوا……جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات پر یقین رکھتے ہیں توحید ، کلام باری ، دین خدا یا طریق عبادت فرائض ہوں یا نوافل سب کیا ہے ؟ ارشادات رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا ہو کہ عقبیٰ ، جنت ہو یا دوزخ ، حشر ہو کہ نشر یا میزان سے تمام امور اور ان سے متعلق علم اور عقیدہ ، یہ سب کیا ہے ؟ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات کا نام ہے۔ تو جو صدق دل سے اس پر یقین کرے اور عملاً اپنے کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کا تابع بنالے وہ عملوالصلحت کو اچھے کام کرے تو اچھا کام بھی سنت خیرالانام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہی نام ہے۔ سو جس میں ایمان ہو اور نیکی کرے۔ وہ ہے جنت کے قابل اور ایسے لوگوں کو جنت نصیب ہوگی جہاں وہ ابدالآباد رہیں گے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کی شریعت کے بارے میں عادات اور حیلہ سازیوں کے ذکر کے بعداصل واقعہ کا ذکر۔ چچاکی دولت پر قبضہ کرنے کے لیے رات کی تاریکیوں میں بھتیجوں نے چچا کو قتل کرکے اس کی لاش اپنے مخالفوں کے محلہ میں پھینک دی۔ جب صبح ہوئی تو خود ہی مدعی بن کر بےگناہوں کو اس قتل کا ذمہ دار ٹھہرانے لگے۔ قریب تھا کہ اس کے رد عمل میں مزید قتل و غارت شروع ہوجاتی لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قاتلوں کا سراغ لگانے کے لیے ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا حکم رکھا کہ ایک گائے ذبح کرکے اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول کی لاش کو لگایا جائے اس طرح مردہ زندہ ہو کر اپنے قاتلوں کی نشاندہی کردے گا۔ متعدد سوالات کے جواب میں مجبورًا انہوں نے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے گائے ذبح کر کے اس کے گوشت کا ٹکڑا مقتول کی لاش کو لگایا۔ مقتول نے زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتلایا جس سے یہ لوگ مزید قتل و غارت سے محفوظ ہوئے اور مجرموں کو سزا ہوئی۔ اس حکم کی تعمیل پر ان کے گائے پرستی کے تصور کو کاری ضرب لگی جس سے اس بات کا مشاہدہ کر وایا گیا کہ گائے مشکل کشا اور معبود نہیں ہے جو اپنی جان نہیں بچا سکتی وہ مشکل کشا کس طرح ہوسکتی ہے اور یہ بھی واضح ہوا کہ جس طرح اس مقتول نے زندہ ہو کر قتل کی واردات اور اپنے قاتل کا نام بتلایا ہے ایسے ہی سب انسان قبروں سے زندہ ہو کر اپنے اپنے اعمال کا اقرار کریں گے اور بالآخر ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزاء وسزا ملے گی۔ مسائل مقتول کا زندہ ہونا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ ہے جو مرنے کے بعد زندہ ہونے پر واضح دلیل ہے۔ نوٹ : موت کے بعد زندہ ہونے کے ثبوت ” البقرۃ آیت ٢٥٩“ کے تحت تفسیر بالقرآن میں ملاحظہ فرمائیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہاں آکرہم قصہ بقرۃ کے ایک دوسرے پہلو تک آپہنچتے ہیں۔ یہ پہلو اللہ تعالیٰ کی قدرت بےپایاں کا اظہارکررہا ہے ۔ اس سے موت وحیات کی حقیقت اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی کیفیت معلوم ہوتی ہے اور یہاں اسلوب کلام ، کہانی کے انداز کے بجائے خطاب کی شکل اختیار کرجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے لئے گائے کو ذبح کرنے کا حکم کی حکمت کھول دیتے ہیں ۔ واقعہ یہ تھا کہ انہوں نے ایک شخص کو قتل کیا تھا ، اور ہر آدمی اپنے آپ کو اس قتل کے الزام سے بری قرار دے کر دوسرے پر الزام لگاتا تھا اور کوئی گواہ نہ تھا ۔ اللہ تعالیٰ کی مشیئت نے چاہا کہ مقتول خود صداقت کو ظاہر کردے اور اس شہادت حق سے پہلے گائے کا ذبح کیا جانا دراصل ادائیگی شہادت کا ایک ظاہری ذریعہ تھا ۔ یوں کہ بقرہ کے گوشت اسے مارتے ہی اس نے زندہ ہوجانا تھا ۔ چناچہ ایسا ہی ہوا ، انہوں نے اسے ذبح شدہ گائے کے ایک ٹکڑے سے مارا اور وہ زندہ ہوگیا ۔ تاکہ وہ خود اپنے قاتل کی نشاندہی کردے اور ان تمام شکوک و شبہات کو ختم کردے جو اس کے قتل کے مسئلے میں پھیلے ہوئے تھے ، اور یوں صداقت محکم ترین دلائل کے ساتھ سامنے آجائے ۔ حق حق ہوجائے اور باطل باطل ۔ دودھ ، دودھ اور پانی ، پانی ۔ سوال یہ ہے کہ اس ظاہری وسیلہ اور سبب کیا ضرورت تھی ؟ اللہ تعالیٰ تو اس کے بغیر بھی مردوں کو زندہ کرسکتا ہے ، بغیر کسی وسیلے اور ذریعے کے بھی ۔ سوال یہ ہے کہ ذبح شدہ گائے اور زندہ کئے جانے والے مقتول کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مردہ زندہ ہونے کا ایک واقعہ اور قصہ سابقہ کا تکملہ ان آیات میں سابقہ قصہ کا تتمہ بیان فرمایا ہے اور یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ذبح بقرہ کا حکم کیوں ہوا تھا۔ ارشاد فرمایا کہ تم نے ایک خون کردیا تھا اور اس خون کو ایک دوسرے پر ڈال رہے تھے۔ قاتل اقراری نہیں تھا اور ہمیں منظور تھا کہ اس کے قاتل کا لوگوں کو علم ہوجائے لہٰذا ہم نے یہ طریقہ بتایا کہ جو بیل ذبح کیا ہے اس کا ٹکڑا مقتول کی لاش سے لگا دو ۔ تفسیر کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ان لوگوں نے اس بیل کا ایک ٹکڑا لیکر مقتول کے مونڈھوں کے درمیان لگا دیا چناچہ وہ زندہ ہوگیا اس سے پوچھا کہ تجھے کس نے قتل کیا ہے تو اس نے کہا کہ مجھے میرے بھائی کے بیٹے نے قتل کیا۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ میرا مال لے لے اور میری بیٹی سے نکاح کرلے۔ یہ بات بیان کر کے وہ شخص دوبارہ مرگیا۔ اور قصاص میں قاتل کو قتل کردیا گیا۔ یہاں یہ سوال اٹھانا بےجا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یوں بھی قدرت ہے کہ جس مردہ کو چاہے زندہ فرمائے پھر اس کے لیے بیل کا ذبح ہونا اور مقتول کو اس کے گوشت کا ٹکڑا ماراجانا کیوں مشروط کیا گیا ؟ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کو سمجھنا مخلوق کے بس کا کام نہیں۔ اور نہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تکوین اور تشریع میں جو حکمتیں ہیں ان میں سے کوئی سمجھ میں آجاتی ہے کبھی سمجھ میں نہیں آتی۔ مومن بندہ کا کام ماننا اور عمل کرنا ہے۔ ذبح بقرہ سے متعلق ایک حکمت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بنی اسرائیل کی ...... حجت بازی اور کج روی کا حال عام لوگوں کو اور ان کے بعد آنے والی نسلوں کو معلوم ہوجائے تاکہ وہ ایسا نہ کریں۔ اس کے بعد اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا : (کَذٰلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتیٰ وَیُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ ) ” ایسے ہی اللہ تعالیٰ زندہ فرماتا ہے مردوں کو اور دکھاتا ہے تم کو اپنی نشانیاں تاکہ تم عقل سے کام لو۔ موت کے بعد زندہ کرنا اور حساب و کتاب کے لیے قبروں سے اٹھایا جانا قرآن و حدیث میں جگہ جگہ مذکور ہے۔ اس بات کے تسلیم کرنے سے بہت سے لوگوں کو انکار رہا ہے کہ موت کے بعد زندہ ہوں گے ان کے اشکالات قرآن مجید میں دور کئے گئے ہیں اور بعض مرتبہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو زندہ کر کے دکھایا ہے ان مواقع میں سے ایک موقعہ یہ بھی تھا کہ مقتول نے بحکم خدا زندہ ہو کر قاتل کا نام بتادیا اور یہ واقعہ حاضرین کے سامنے ہوا، سب نے دیکھ لیا کہ مردہ زندہ ہوا۔ اور تواتر کے ساتھ یہ قصہ لوگوں تک پہنچ گیا۔ تو اب موت کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرنے کی گنجائش نہیں رہی۔ عقلاً بھی یہ بات ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مردوں کے زندہ کرنے پر قدرت ہے۔ اور بعض مواقع میں حاضرین نے اپنی آنکھوں سے مردوں کو زندہ ہوتا دیکھا ہے، عقل کو کام میں لائیں تو انکار کی کوئی وجہ نہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

144 یہ تیسری خباثت ہے۔ پہلی تفسیر کے مطابق یہ مذکورہ واقعہ کا پہلا حصہ ہے جسے بعد میں ذکر کیا گیا ہے۔ اور دوسری تفسیر کے مطابق یہ مستقل واقعہ ہے جو پہلے واقعہ کے بعد پیش آیا۔ ادّٰرَءْتُمْ ۔ درئ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہٹانے اور دفع کرنے کے ہیں اور یہ اصل میں تدارئتم تھا۔ تا کو قرب مخرج کی وجہ سے دال سے تبدیل کیا گیا اور پھر اسے ساکن کر کے دوسرے دال میں ادغام کردیا گیا اور ابتدائ میں ہمزہ وصل کا اضافہ کیا گیا۔ باب تفاعل کا خاصہ مشارکت ہے اس لیے مطلب یہ ہوا کہ تم میں سے ہر شخص قتل کا الزام دوسرے پر پھینکنے لگا۔ وَاللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْن یعنی جس چیز کو تم مسلسل چھپانے کی کوشش کر رہے تھے اللہ اسے ظاہر کرنے کا فیصلہ کرچکا تھا۔ فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا۔ کی ضمیر نفس کی طرف راجع ہے کیونکہ نفس مؤنث معنوی ہے۔ اس کی طرف مذکر ومؤنث دونوں ضمیریں راجع ہوسکتی ہیں اور بَعْضِہَا کی ضمیر گائے کی طرف راجع ہے۔ القتیلۃ ببعض نفسہا کالید ونحوھا واللہ تعالیٰ اعلم۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi