Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 85

سورة البقرة

ثُمَّ اَنۡتُمۡ ہٰۤـؤُلَآءِ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ وَ تُخۡرِجُوۡنَ فَرِیۡقًا مِّنۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِہِمۡ ۫ تَظٰہَرُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ بِالۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ ؕ وَ اِنۡ یَّاۡتُوۡکُمۡ اُسٰرٰی تُفٰدُوۡہُمۡ وَ ہُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیۡکُمۡ اِخۡرَاجُہُمۡ ؕ اَفَتُؤۡمِنُوۡنَ بِبَعۡضِ الۡکِتٰبِ وَ تَکۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنۡ یَّفۡعَلُ ذٰلِکَ مِنۡکُمۡ اِلَّا خِزۡیٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یُرَدُّوۡنَ اِلٰۤی اَشَدِّ الۡعَذَابِ ؕ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸۵﴾

Then, you are those [same ones who are] killing one another and evicting a party of your people from their homes, cooperating against them in sin and aggression. And if they come to you as captives, you ransom them, although their eviction was forbidden to you. So do you believe in part of the Scripture and disbelieve in part? Then what is the recompense for those who do that among you except disgrace in worldly life; and on the Day of Resurrection they will be sent back to the severest of punishment. And Allah is not unaware of what you do.

لیکن پھر بھی تم نے آپس میں قتل کیا اور آپس کے ایک فرقے کو جلاوطن بھی کیا اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ان کے خلاف دوسرے کی طرف داری کی ، ہاں جب وہ قیدی ہو کر تمہارے پاس آئے تو تم نے ان کے فدیے دیئے ، لیکن ان کا نکالنا جو تم پر حرام تھا ( اس کا کچھ خیال نہ کیا ) کیا بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو ؟اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو تم میں سے جو بھی ایسا کرے اس کی سزا اس کے سوا کیا ہو کہ دنیا میں رسوائی اور قیامت کے دن سخت عذاب کی مار ، اور اللہ تعالٰی تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

ثُمَّ أَنتُمْ هَـوُلاء تَقْتُلُونَ أَنفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقاً مِّنكُم مِّن دِيَارِهِمْ تَظَاهَرُونَ عَلَيْهِم بِالاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَإِن يَأتُوكُمْ أُسَارَى تُفَادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ ... After this, it is you who kill one another and drive out a party of you from their homes, assist (their enemies) against them, in sin and transgression. And if they come to you as captives, you ransom them, although their expulsion was forbidden to you. Muhammad bin Ishaq bin Yasar reported that Ibn Abbas commented on the Ayah, "Allah mentioned what they were doing, and that in the Tawrah He had prohibited them from shedding each other's blood, and required them to free their prisoners. Now they were divided into two camps in Al-Madinah, Banu Qaynuqa, who were the allies of the Khazraj, and An-Nadir and Qurayzah, who were the allies of the Aws. When fighting erupted between Aws and Khazraj, Banu Qaynuqa would fight along with the Khazraj, while Banu An-Nadir and Qurayzah would fight along with the Aws. Each Jewish camp would fight against their Jewish brethren from the other camp. They would shed each other's blood, although they had the Tawrah with them, and they knew their rights and dues. Meanwhile, the Aws and Khazraj were polytheists who worshipped idols. They did not know about Paradise, the Fire, Resurrection, Divine Books the lawful and prohibited. When the war would end, the Jews would ransom their prisoners and implement the Tawrah. Consequently, Banu Qaynuqa would ransom their prisoners who were captured by the Aws, while Banu An-Nadir and Qurayzah would ransom their prisoners who were captured by the Khazraj. They would also ask for blood money. During these wars, they would kill whomever (Jews or Arabs) they could, while helping the polytheists against their brethren. Therefore, Allah reminded them of this when He said, ... أَفَتُوْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ .. Then do you believe in a part of the Book and reject the rest! This Ayah means, `Do you ransom them according to the rulings of the Tawrah, yet kill them while the Tawrah forbade you from killing them and from expelling them from their homes. The Tawrah also commanded that you should not aid the polytheists and those who associate with Allah in the worship against your brethren. You do all this to acquire the life of this world.' I was informed that the behavior of the Jews regarding the Aws and Khazraj was the reason behind revealing these Ayat." These noble Ayat criticized the Jews for implementing the Tawrah sometimes and defying it at other times, although they believed in the Tawrah and knew what they were doing was wrong. This is why they should not be trusted to preserve or convey the Tawrah. Further, they should not be believed when it comes to the description of the Messenger of Allah, his coming, his expulsion from his land, and his Hijrah, and the rest of the information that the previous Prophets informed them about him, all of which they hid. The Jews, may they suffer the curse of Allah, hid all of these facts among themselves, and this is why Allah said, ... فَمَا جَزَاء مَن يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنكُمْ إِلاَّ خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ... Then what is the recompense of those who do so among you, except disgrace in the life of this world, because they defied Allah's Law and commandments. ... وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَى أَشَدِّ الْعَذَابِ ... And on the Day of Resurrection they shall be consigned to the most grievous torment, as punishment for defying the Book of Allah that they had. ... وَمَا اللّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

85۔ 1 نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں انصار (جو اسلام سے قبل مشرک تھے) کے دو قبیلے تھے اوس اور خزرج، ان کی آپس میں آئے دن جنگ رہتی تھی۔ اس طرح یہود مدینہ کے تین قبیلہ تھے، بنو قینقاع، بنو نفیر اور بنو قریظ۔ یہ بھی آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ بنو قریظہ اوس کے حلیف (ساتھی) اور بنو قینقاع اور بنو نفیر، بنو خزرج کے حلیف تھے۔ جنگ میں یہ اپنے اپنے حلیفوں (ساتھیوں کی مدد کرتے اور اپنے ہی مذہب یہودیوں کو قتل کرتے، ان کے گھروں کو لوٹتے اور انہیں جلا وطن کردیتے حالانکہ تورات کے مطابق ایسا کرنا ان کے لئے حرام تھا۔ لیکن پھر انہی یہودیوں کو جب وہ مغلوب ہونے کی وجہ سے قیدی بن جاتے تو فدیہ دے کر چھڑاتے کہتے کہ ہمیں تورات میں یہی حکم دیا گیا ہے۔ ان آیات میں یہودیوں کے اسی کردار کو بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے شریعت کو موم کی ناک بنا لیا تھا۔ بعض چیزوں پر ایمان لاتے اور بعض کو ترک کردیتے، کسی حکم پر عمل کرلیتے اور کسی وقت شریعت کے حکم کو کوئی اہمیت ہی نہ دیتے۔ قتل، اخراج اور ایک دوسرے کے خلاف مدد کرنا ان کی شریعت میں بھی حرام تھا، ان امور کا توا نہوں نے بےمحابا ارتکاب کیا اور فدیہ دے کر چھڑالینے کا جو حکم تھا، اس پر عمل کرلیا، حالانکہ اگر پہلے تین امور کا وہ لحاظ رکھتے تو فدیہ دے کر چھڑانے کی نوبت ہی نہ آتی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٧] مدینہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد سے بیشتر مشرکین مدینہ کے دو مشہور قبائل اوس اور خزرج مدینہ میں آباد تھے اور یہ آپس میں ہمیشہ لڑتے رہتے تھے اور یہود مدینہ کے دو قبائل بنو قریظہ اور بنو نضیر ان عرب قبائل کے حلیف بن کر ان کو باہم لڑاتے رہنے کا کردار ادا کیا کرتے تھے۔ بنو قریظہ تو قبیلہ اوس کے حلیف تھے اور بنو نضیر قبیلہ خزرج کے۔ یہود گو تعداد میں کم تھے مگر یہ مالدار قوم تھی اور اوس و خزرج کو لڑا کر اپنا سیاسی تفوق بھی برقرار رکھتے تھے اور اسلحہ بھی بیچتے تھے۔ جس کے یہ تاجر تھے۔ ان یہود کی بالکل وہی مثال سمجھئے جو آج سے کچھ مدت پیشتر روس اور امریکہ کی تھی۔ یہ دونوں طاقتیں اسلام کی دشمن تھیں اور آپس میں بھی ان میں اختلاف تھا لیکن اسلام دشمنی میں دونوں متحد ہو کر مسلمان ممالک کو آپس میں لڑاتی رہتی تھیں۔ ان میں سے کوئی ایک، ایک مسلمان ملک کا حلیف بن جاتا اور دوسرا دوسرے کا۔ اس طرح یہود کئی طرح کے فوائد اٹھاتے تھے۔ ان کا اسلحہ بھی فروخت ہوتا تھا اور سیاسی تفوق بھی برقرار رہتا تھا۔ یہود کا اپنے قبیلہ کے قیدیوں کو فدیہ دے کر چھڑانا :۔ اللہ تعالیٰ نے یہود سے چار عہد لیے تھے (١) وہ ایک دوسرے کا خون نہ کریں گے (٢) ایک دوسرے کو جلاوطن نہ کریں گے (٣) ظلم اور زیادتی پر مدد نہ کریں گے (٤) اور فدیہ دے کر قیدیوں کو چھڑایا کریں گے۔ اب قبیلہ اوس و خزرج کی جنگ میں بنو قریظہ اور بنو نضیر بھی آپس میں حلیف ہونے کی حیثیت سے لڑتے اور ایک دوسرے کے گلے کاٹتے تھے۔ اب ایک جنگ میں مثلاً اوس اور بنو قریظہ کو فتح ہوئی تو لازماً بنو نضیر کے قیدی بھی ان کے ہاتھ آتے تھے اور بنو نضیر ان کا فدیہ ادا کر کے انہیں چھڑا لیتے تھے۔ جب ان سے اس کی وجہ پو چھی جاتی تو کہتے کہ قیدیوں کو فدیہ دے کر چھڑانا اللہ کا حکم ہے اور جب ان سے پوچھا جاتا کہ ان سے جو جنگ کرتے ہو تو وہ اللہ کے کس حکم کے تحت کرتے ہو ؟ تو کہتے کیا کریں اپنے دوستوں (حلیفوں) کو ذلیل نہیں کرسکتے۔ گویا تین کام تو اللہ کے حکم کے خلاف کرتے تھے اور ایک کام اللہ کے حکم کے مطابق جس کا سبب بھی وہ خود ہی بنتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انکی ایسی حرکات پر گرفت کرتے ہوئے فرمایا کہ && کیا تم اللہ کی کتاب کے کچھ حصے پر ایمان لاتے ہو اور کچھ حصے کا انکار کردیتے ہو ؟ && جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی شخص بعض احکام شرعیہ کی تعمیل کرے اور جو حکم اس کی طبیعت یا عادت یا مرضی کے خلاف ہو اس کو چھوڑ دے تو بعض احکام کی تعمیل اسے کچھ فائدہ نہیں دے سکتی اور ایسا انکار دراصل پوری کتاب اللہ کا انکار ہوتا ہے۔ ایسے لوگ حقیقتاً اپنے نفس کے پیرو کار ہوتے ہیں۔ کتاب اللہ کے نہیں ہوتے۔ [٩٨] دور نبوی میں یہود کا انجام :۔ دنیا میں یہ یہود عبرتناک انجام سے دو چار ہوئے۔ بنو نضیر تو ٤ ھ میں اس ذلت سے دو چار ہوئے جس کا تفصیلی ذکر سورة حشر میں کیا گیا ہے۔ مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کرلیا اور ان کے بعض باغات کو نذر آتش کردیا۔ اور وہ قلعہ بند ہو کر اپنے گھروں کو خود بھی برباد اور توڑ پھوڑ رہے تھے۔ کیونکہ انہیں اس بات کا یقین ہوچکا تھا کہ اب جلاوطنی ان کا مقدر بن چکی ہے اور وہ یہ گوارا نہیں کرسکتے تھے کہ مسلمان ان کے تعمیر شدہ مکانات سے فائدہ اٹھائیں۔ اس طرح لڑائی کے بغیر ہی انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ انہیں فوری جلاوطنی کا حکم دیا گیا تو انہوں نے شام کا رخ کیا اور جزیہ کا حکم نازل ہونے کے بعد ان سے جزیہ وصول کیا جاتا رہا اور بنو قریظہ پر جنگ خندق (احزاب ٥ ھ) کے فوراً بعد چڑھائی کی گئی اور ان کے مردوں کو تہ تیغ کردیا گیا اور عورتوں اور بچوں کو لونڈی غلام بنا لیا گیا، اور آخرت کو جو عذاب انہیں ہوگا وہ تو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

This verse recounts how the Israelites broke the pledge they had willingly made. Allah had laid down three special injunctions for the Israelites: (1) They should not kill one another in an internecine war. (2) They should not force their own people into exile. (3) If they found a man from amongst them a prisoner of war, they should pay a ransom, and get him released. The Israelites disregarded the first two injunctions, and acted upon the third alone which they supposed easier to be carried out. It happened like this. There lived in Madinah two tribes, the Aws اوس and the Khazraj خزرج ، who were hostile to each other, and would often go to war. In the environs of Madinah, there also lived two tribes of the Jews, the Bani Qurayzah بنی قریظہ and the Bani Nadir. The former had friendly relations with the Aws اوس ، and the latter with the Khazraj خزرج . When the Aws اوس and the Khazraj خزرج went to war against each other, the two tribes of the Jews also took part in the battle, each on the side of its own friends. In these battles, many Jews lost their lives or were rendered homeless as much as the non-Jews. In other words, the Jews of the Bani Qurayzah بنی قریظہ tribe had a share in the slaughter and exile of the Jews of the Bani Nadir tribe, and vice versa. However, when some of the Jews became prisoners of war, each of the two Jewish groups would persuade their respective friends among the non-Jews to accept a ransom and to release the prisoners. When they were asked why they showed such a solicitude for the prisoners, they would say that it was obligatory for them to get prisoners released. But when someone objected to their helping the non-Jews in slaughtering the Jews, they used to reply that it would be a real disgrace if they did not go to the aid of their friends, even if they were not Jews. So, the present verse exposes their duplicity and their perversity. The Holy Qur&an indicts their behaviour as |"sin and aggression,|" and this suggests that the Israelites were infringing on two kinds of rights -- the right of Allah, by disobeying Him; and the right of His creatures, by inflicting pain and loss on them. The verse proceeds to reprimand them for accepting certain injunctions laid down in the Torah, while rejecting others, and following their own whims in both the cases. At the end, this long verse announces the grave punishment for such misdeeds the Israelites will have to bear in this world as well as in the other. Let it be clearly understood that the Jews referred to in this verse had already become infidels (Kafirs کفار) by refusing to accept and affirm the prophethood of Sayyidna Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . But instead of referring to this aspect of their infidelity, the verse points out another aspect. It reprimands them for having faith (&Iman ایمان ) only in some part of the Book (Torah تورات ) and not having faith in some other. If we take the words of the present verse literally, it means that the Jews had become infidels by not having faith in some parts (that is to say, some injunctions) of the Torah. For, a Divine Book has to be accepted as a whole; to reject a part is to reject the whole, and clearly amounts to disbelief and infidelity (Kufr کفر ). But if we interpret the present verse in a different way, and take it to be reprimanding the Jews for not acting upon certain injunctions, then a question would arise here: How is it that the verse delineates their infringement of certain commandments as Kufr کفر or infidelity, although a believer cannot be considered an infidel so long as he accepts, at least in principle, the distinctions between the Halal حلال (lawful) and the Haram حرام ( unlawful) exactly as laid down by the Shari&ah? The answer to the question is that when a sin is very grave, the idiom of the Shari&ah sometimes delineates it as Kufr کفر (infidelity) in order to emphasize its gravity and its moral nature. This is also what the hadith intends to do when it says: مَن تَرَکَ الصَلاۃ مُتَعمَّداً فَقَد کَفَرَ :|"He who gave up the Salah wilfully became an infidel. This second interpretation does not, however, attenuate or modify the Kufr کفر (infidelity) of the Jews of which they had already been guilty by denying the prophethood of Sayyidna Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . The verse announces that the Jews will have to bear a punishment not only in the other world, but in this world too - in the shape of humiliation and disgrace. It took place as it had been foretold. In the time of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) himself, the Jews of the Bani Qurayzah بنی قریظہ tribe had to lose their lives or to undergo imprisonment, and those of the Bani Nadir tribe were expelled for having broken the pact they had earlier made with the Muslims. A doctrinal point Verse 85 announces the |"punishment|" for Jews. One may very well ask here why the direst punishment should be reserved for the Jews, and not for atheists, for the Jews at least believe in Allah. The famous Commentator &Aids& says in his |"Ruh al-Ma&ani|" that every punishment meted out to the infidels will be |"the direst|" in the sense that it will have no end or limit. So, what the verse implies is not that the punishment given to the Jews will be more severe than the one given to all the other infidels, but that they will be given the kind of punishment which is |"the direst|" in the sense of having no end or limit. In other words, the verse suggests that the punishment given to the infidels will be more severe than the one given to Muslim sinners. But if there are going to be different degrees in the punishment meted out to different kinds of infidels, it does not in any way go against the implications of this verse. (Bayan al-Qur an)

خلاصہ تفسیر : تتمہ میثاق میں جو حکم ان کو دیا گیا ہے اس کے متعلق عہد شکنی کا بیان اس آیت میں فرمایا ہے پھر (اس اقرار صریح کے بعد) تم (جیسے ہو) یہ (آنکھوں کے سامنے) موجود (ہی) ہو کہ باہم قتل و قتال بھی کرتے ہو اور ایک دوسرے کو ترک وطن بھی کراتے ہو، (اس طور پر کہ) ان اپنوں کے مقابلہ میں (ان کی مخالف قوموں کی) امداد کرتے ہو، گناہ اور ظلم کے ساتھ (سو ان دونوں حکموں کو تو یوں غارت کیا) اور (ایک تیسرا حکم جو سہل سا سمجھا اس پر عمل کرنے کو خوب تیار رہتے ہو کہ) اگر ان لوگوں میں سے کوئی گرفتار ہو کر تم تک پہنچ جاتا تو ایسوں کو کچھ خرچ کرا کر رہا کرا دیتے ہو حالانکہ یہ بات (بھی معلوم) ہے کہ تم کو ان کا ترک وطن کرا دینا (اور قتل تو اور بھی بدرجہ اولیٰ ) نیز ممنوع ہے، معارف و مسائل : فائدہ : اس باب میں ان پر تین حکم لازم تھے اول قتل نہ کرنا، دوم اخراج یعنی ترک وطن نہ کرانا، سوم اپنی قوم میں سے کسی کو قید وبند میں گرفتار دیکھیں تو روپیہ خرچ کرکے چھڑا دینا تو ان لوگوں نے اول کے دو حکم کو تو چھوڑ دیا اور تیسرے حکم کو اہتمام کرنے لگے اور صورت اس کی یہ ہوئی تھی کہ اہل مدینہ میں دو قومیں تھیں : اوس و خزرج، اور ان میں باہم عداوت رہتی تھی اور کبھی کبھی قتال کی نوبت بھی آجاتی تھی اور مدینہ کے گرد ونواح میں یہودیوں کی دو قومیں بنی قریظہ اور بنی نضیر آباد تھیں اوس وبنی قریظہ کی باہم دوستی تھی اور خزرج و بنی نضیر میں باہم یارانہ تھا جب اوس و خزرج میں باہم لڑائی ہوتی تو دوستی کی بنا پر بنو قریظہ تو اوس کے مددگار ہوتے اور بنو نضیر خزرج کی طرفداری کرتے تو جہاں اوس و خزرج مارے جاتے اور خانماں آوارہ ہوتے ان کے دوستوں اور حامیوں کو بھی یہ مصیبت پیش آتی اور ظاہر ہے کہ بنو قریظہ کے قتل واخراج میں بنو نضیر کا بھی ہاتھ ہوتا اور ایسا ہی بالعکس البتہ یہود کی دونوں جماعتوں میں سے اگر کوئی جنگ میں قید ہوجاتا تو ہر جماعت اپنے دوستوں کو مال پر راضی کرکے اس قیدی کو رہائی دلا دیتے اور کوئی پوچھتا کہ ایسا کیوں کرتے ہو تو اس کو جواب دیتے کہ اسیر کر رہا کرا دینا ہم پر واجب ہے اور اگر کوئی قتل و قتال میں معین و مددگار بننے پر اعتراض کرتا تو کہتے کہ کیا کریں دوستوں کا ساتھ نہ دینے سے عار آتی ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کی شکایت فرمائی ہے اور ان کی حیلہ سازیوں کا پردہ چاک فرمایا ہے ، اس آیت میں جن مخالف قوموں کی امداد کا ذکر ہے اس سے اوس و خزرج مراد ہیں کہ اوس بنی قریظہ کی موافقت میں بنی نضیر کے مخالف تھے اور خزرج بنی نضیر کی موافقت میں بنی قریظہ کے مخالف تھے، اثم وعدوان (ظلم وگناہ) دو لفظ لانے سے اس طرف اشارہ ہوسکتا ہے کہ اس میں دو حق ضائع ہوتے ہیں حکم الہی کی تعمیل نہ کرکے حق ضائع کیا اور دوسرے کو آزار پہنچا کر حق العباد بھی ضائع کردیا، آگے اس عہد شکنی پر ملامت و شکایت کے ساتھ ساتھ سزا کو بھی بالتصریح بیان فرمایا ہے ارشاد ہے، کیا تو (بس یوں کہو کہ) کتاب (تورات) کے بعض (احکام) پر تم ایمان رکھتے ہو اور بعض (احکام) پر ایمان نہیں رکھتے تو اور کیا سزا ہونا (چاہئے) ایسے شخص کی جو تم لوگوں میں سے ایسی حرکت کرے بجز رسوائی کے دنیوی زندگانی میں اور روز قیامت کو بڑے سخت عذاب میں ڈال دیئے جاویں گے اور اللہ تعالیٰ (کچھ) بیخبر نہیں ہیں تمہارے اعمال (زشت) سے، فائدہ : ہرچند کہ وہ یہودی جن کا قصہ میں ذکر ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرنے کی بناء پر کافر ہی تھے مگر یہاں ان کا کفر مذکور نہیں بلکہ بعض احکام پر عمل نہ کرنے کو کفر سے تعبیر فرمایا ہے حالانکہ جب تک حرام کو حرام سمجھے کافر نہیں ہوتا سو اس شبہ کو جواب یہ ہے کہ جو گناہ بہت شدید ہوتا ہے اس پر محاورات شرعیہ میں اس کی شدت کے پیش نظر کفر کا اطلاق کردیا جاتا ہے ہم اپنے محاورات عرفیہ میں اس کی مثالیں دن رات دیکھتے ہیں جیسے کسی ذلیل حرکت کرنے والے کو کہہ دیتے ہیں تو باکل چمار ہے، حالانکہ مخاطب چمار یقیناً نہیں ہے اس سے مقصود شدت نفرت اور اس کام کی قباحت ظاہر کرنا ہوتا ہے اور یہی معنی ہیں اس حدیث من ترک الصلوم متعمدا فقد کفر وغیرہ، اس مقام پر جن دو سزاؤں کا ذکر ہے ان میں سے پہلی سزا یعنی دنیا میں ذلت و رسوائی تو اس کا وقوع اس طرح ہوا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کے زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کے سبب بنی قریظہ قتل وقید کئے گئے اور بنی نضیر ملک شام کی طرف بہزار ذلت و خواری نکال دئیے گئے،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ اَنْتُمْ ھٰٓؤُلَاۗءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَتُخْرِجُوْنَ فَرِيْـقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِيَارِھِمْ۝ ٠ ۡتَظٰھَرُوْنَ عَلَيْہِمْ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۝ ٠ ۭ وَاِنْ يَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْھُمْ وَھُوَمُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ اِخْرَاجُہُمْ۝ ٠ ۭ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ۝ ٠ ۚ فَمَا جَزَاۗءُ مَنْ يَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۝ ٠ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ يُرَدُّوْنَ اِلٰٓى اَشَدِّ الْعَذَابِ۝ ٠ ۭ وَمَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۝ ٨٥ «أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء «أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم موضوع للإشارة إلى جمع المذکر والمؤنث، ولا واحد له من لفظه، وقد يقصر نحو قول الأعشی: هؤلا ثم هؤلا کلّا أع طيت نوالا محذوّة بمثال الا) الا یہ حرف استفتاح ہے ( یعنی کلام کے ابتداء میں تنبیہ کے لئے آتا ہے ) ( الا) الا یہ حرف استثناء ہے اولاء ( اولا) یہ اسم مبہم ہے جو جمع مذکر و مؤنث کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس کا مفرد من لفظہ نہیں آتا ( کبھی اس کے شروع ۔ میں ھا تنبیہ بھی آجاتا ہے ) قرآن میں ہے :۔ { هَا أَنْتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ } ( سورة آل عمران 119) دیکھو ! تم ایسے لوگ ہو کچھ ان سے دوستی رکھتے ہواولائک علیٰ ھدی (2 ۔ 5) یہی لوگ ہدایت پر ہیں اور کبھی اس میں تصرف ( یعنی بحذف ہمزہ آخر ) بھی کرلیا جاتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع (22) ھؤلا ثم ھؤلاء کلا اعطیتہ ت نوالا محذوۃ بمشال ( ان سب لوگوں کو میں نے بڑے بڑے گرانقدر عطیئے دیئے ہیں قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ فریق والفَرِيقُ : الجماعة المتفرّقة عن آخرین، قال : وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقاً يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتابِ [ آل عمران/ 78] ( ف ر ق ) الفریق اور فریق اس جماعت کو کہتے ہیں جو دوسروں سے الگ ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقاً يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتابِ [ آل عمران/ 78] اور اہل کتاب میں بعض ایسے ہیں کہ کتاب تو راہ کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں ۔ دار الدَّار : المنزل اعتبارا بدورانها الذي لها بالحائط، وقیل : دارة، وجمعها ديار، ثم تسمّى البلدة دارا، والصّقع دارا، والدّنيا كما هي دارا، والدّار الدّنيا، والدّار الآخرة، إشارة إلى المقرّين في النّشأة الأولی، والنّشأة الأخری. وقیل : دار الدّنيا، ودار الآخرة، قال تعالی: لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ، أي : الجنة، ( د و ر ) الدار ۔ منزل مکان کو کہتے ہیں کیونکہ وہ چار دیواری سے گھرا ہوتا ہے بعض نے دراۃ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کی جمع دیار ہے ۔ پھر دار کا لفظ شہر علاقہ بلکہ سارے جہان پر بولا جاتا ہے اور سے نشاۃ اولٰی اور نشاہ ثانیہ میں دو قرار گاہوں کی طرف اشارہ ہے بعض نے ( باضافت ) بھی کہا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ : لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ان کے لئے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے ۔ ظَاهَرَ ( مدد) وَظَهَرَ عليه : غلبه، وقال : إِنَّهُمْ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ [ الكهف/ 20] ، وظاهَرْتُهُ : عاونته . قال تعالی: وَظاهَرُوا عَلى إِخْراجِكُمْ [ الممتحنة/ 9] ، وَإِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ [ التحریم/ 4] ، أي : تعاونا، تَظاهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ [ البقرة/ 85] ، وقرئ : ( تَظَّاهَرَا) الَّذِينَ ظاهَرُوهُمْ ظھر علیہ کے معنی ہیں وہ اس پر غالب آگیا قرآن پاک میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ [ الكهف/ 20] اگر وہ تم پر دسترس پالیں ۔ ظاھرتہ : میں نے اس کی مدد کی ( اور ظاھر علیہ کے معنی ہیں اس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کی ) قرآن پاک میں ہے : ۔ وَظاهَرُوا عَلى إِخْراجِكُمْ [ الممتحنة/ 9] اور انہوں نے تمہارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی ۔ وَإِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ [ التحریم/ 4] اور اگر پیغمبر کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کروگی ۔ ایک قرات میں تظاھر ا ہے ( یعنی تار کو ظاء میں ادغام کیسا تھ ) الَّذِينَ ظاهَرُوهُمْ [ الأحزاب/ 26] اور اہل کتاب میں سے جنہوں نے ان کی مدد کی ۔ تَظاهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ [ البقرة/ 85] تم ان کے خلاف گناہ اور زیادتی سے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہو ۔ إثم الإثم والأثام : اسم للأفعال المبطئة عن الثواب وجمعه آثام، ولتضمنه لمعنی البطء قال الشاعرجماليّةٍ تغتلي بالرّادفإذا کذّب الآثمات الهجير وقوله تعالی: فِيهِما إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنافِعُ لِلنَّاسِ [ البقرة/ 219] أي : في تناولهما إبطاء عن الخیرات . وقد أَثِمَ إثماً وأثاماً فهو آثِمٌ وأَثِمٌ وأَثِيمٌ. وتأثَّم : خرج من إثمه، کقولهم : تحوّب وتحرّج : خرج من حوبه وحرجه، أي : ضيقه . وتسمية الکذب إثماً لکون الکذب من جملة الإثم، وذلک کتسمية الإنسان حيواناً لکونه من جملته . وقوله تعالی: أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ [ البقرة/ 206] أي : حملته عزته علی فعل ما يؤثمه، وَمَنْ يَفْعَلْ ذلِكَ يَلْقَ أَثاماً [ الفرقان/ 68] أي : عذاباً ، فسمّاه أثاماً لما کان منه، وذلک کتسمية النبات والشحم ندیً لما کانا منه في قول الشاعر : تعلّى الندی في متنه وتحدّراوقیل : معنی: «يلق أثاماً» أي : يحمله ذلک علی ارتکاب آثام، وذلک لاستدعاء الأمور الصغیرة إلى الكبيرة، وعلی الوجهين حمل قوله تعالی: فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا [ مریم/ 59] . والآثم : المتحمّل الإثم، قال تعالی: آثِمٌ قَلْبُهُ [ البقرة/ 283] . وقوبل الإثم بالبرّ ، فقال صلّى اللہ عليه وسلم : «البرّ ما اطمأنّت إليه النفس، والإثم ما حاک في صدرک» وهذا القول منه حکم البرّ والإثم لا تفسیر هما . وقوله تعالی: مُعْتَدٍ أَثِيمٍ [ القلم/ 12] أي : آثم، وقوله : يُسارِعُونَ فِي الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ [ المائدة/ 62] . قيل : أشار بالإثم إلى نحو قوله : وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولئِكَ هُمُ الْكافِرُونَ [ المائدة/ 44] ، وبالعدوان إلى قوله : وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ [ المائدة/ 45] ، فالإثم أعمّ من العدوان . ( ا ث م ) الاثم والاثام ۔ وہ اعمال وافعال جو ثواب سے روکتے اور پیچھے رکھنے والے ہوں اس کی جمع آثام آتی ہے چونکہ اس لفظ میں تاخیر اور بطء ( دیرلگانا ) کا مفہوم پایا جاتا ہے اس لئے شاعر نے اونٹنی کے متعلق کہا ہے ۔ ( المتقارب ) (6) جمالیۃ تغتلی بالرادف اذا کذب الآثمات الھجیرا وہ اونٹ کی طرح مضبوط ہے جب سست رفتار اونٹنیاں دوپہر کے وقت چلنے سے عاجز ہوجاتی ہیں تو یہ ردیف کو لے کر تیز رفتاری کے ساتھ چلتی ہے اور آیت کریمہ { فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ } ( سورة البقرة 219) میں خمر اور میسر میں اثم کبیر کے یہ معنی ہیں کہ ان کا تناول ( اور ارتکاب ) انسان کو ہر قسم کے افعال خیر سے روک لیتا ہے ۔ اثم ( ص) اثما واثاما فھو آثم و اثم واثیم ( گناہ کا ارتکاب کرنا ) اور تاثم ( تفعل ) کے معنی گناہ سے نکلنا ( یعنی رک جانا اور توبہ کرنا ) کے ہیں جیسے تحوب کے معنی حوب ( گناہ ) اور تحرج کے معنی حرج یعنی تنگی سے نکلنا کے آجاتے ہیں اور الکذب ( جھوٹ ) کو اثم کہنا اس وجہ سے ہے کہ یہ بھی ایک قسم کا گناہ ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ انسان کو حیوان کا ایک فرد ہونے کی وجہ سے حیوان کہہ دیا جاتا ہے اور آیت کریمہ : { أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ } [ البقرة : 206] کے معنی یہ ہیں کہ اس کی عزت نفس ( اور ہٹ دھرمی ) اسے گناہ پر اکساتی ہے اور آیت : { وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا } [ الفرقان : 68] میں آثام سے ( مجازا ) عذاب مراد ہے اور عذاب کو اثام اس لئے کہا گیا ہے کہ ایسے گناہ ( یعنی قتل وزنا ) عذاب کا سبب بنتے ہیں جیسا کہ نبات اور شحم ( چربی ) کو ندی ( نمی ) کہہ دیا جاتا ہے کیونکہ نمی سے نباتات اور ( اس سے ) چربی پیدا ہوتی ہے چناچہ شاعر نے کہا ہے ( طویل ) (7) |" تعلی الندی فی متنہ وتحدار ، اس کی پیٹھ پر تہ برتہ چربی چڑھی ہوئی ہے اور نیچے تک پھیلی ہوئی ہے ۔ بعض نے آیت کریمہ : میں یلق آثاما کے یہ معنی بھی کئے ہیں مذکورہ افعال اسے دوسری گناہوں پر برانگیختہ کرینگے کیونکہ ( عموما) صغائر گناہ کبائر کے ارتکاب کا موجب بن جاتے ہیں اور آیت کریمہ : { فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا } [ مریم : 59] کی تفسیر بھی ان دو وجہ سے بیان کی گئی ہے ۔ لآثم ۔ گناہ کا ارتکاب کرنے والا ۔ قرآں میں ہے : { آثِمٌ قَلْبُهُ } [ البقرة : 283] وہ دل کا گنہگار ہے ۔ اور اثم کا لفظ بر ( نیکی ) کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا : (6) (6) البرما اطمانت الیہ النفس والاثم ما حاک فی صدرک کہ نیکی وہ ہے جس پر طبیعت مطمئن ہو اور گناہ وہ ہے جس کے متعلق دل میں تردد ہو ۔ یاد رہے کہ اس حدیث میں آنحضرت نے البرو الاثم کی تفسیر نہیں بیان کی ہے بلکہ ان کے احکام بیان فرمائے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : { مُعْتَدٍ أَثِيمٍ } [ القلم : 12] میں اثیم بمعنی آثم ہے اور آیت : { يُسَارِعُونَ فِي الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ } [ المائدة : 62] ( کہ وہ گناہ اور ظلم میں جلدی کر رہے ہیں ) کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ آثم سے آیت : { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ } [ المائدة : 44] کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ( یعنی عدم الحکم بما انزل اللہ کفرا اور عدوان سے آیت کریمہ : { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ } [ المائدة : 45] کے مفہوم کی طرف اشارہ ( یعنی عدم الحکم بما انزل اللہ ظلم ) اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ لفظ اثم عدوان سے عام ہے ۔ عُدْوَانِ ومن العُدْوَانِ المحظور ابتداء قوله : وَتَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ [ المائدة/ 2] ، ومن العُدْوَانِ الذي هو علی سبیل المجازاة، ويصحّ أن يتعاطی مع من ابتدأ قوله : فَلا عُدْوانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 193] ، وَمَنْ يَفْعَلْ ذلِكَ عُدْواناً وَظُلْماً فَسَوْفَ نُصْلِيهِ ناراً [ النساء/ 30] ، وقوله تعالی: فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ باغٍ وَلا عادٍ [ البقرة/ 173] ، أي : غير باغ لتناول لذّة، وَلا عادٍأي متجاوز سدّ الجوعة . وقیل : غير باغ علی الإمام ولا عَادٍ في المعصية طریق المخبتین «2» . وقد عَدَا طورَهُ : تجاوزه، وتَعَدَّى إلى غيره، ومنه : التَّعَدِّي في الفعل . وتَعْدِيَةُ الفعلِ في النّحو هو تجاوز معنی الفعل من الفاعل إلى المفعول . وما عَدَا كذا يستعمل في الاستثناء، وقوله : إِذْ أَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوى[ الأنفال/ 42] ، أي : الجانب المتجاوز للقرب . اور عدوان یعنی زیادتی کا بدلہ لینے کو بھی قرآن نے عدوان کہا ہے حالانکہ یہ جائز ہے جیسے فرمایا : ۔ فَلا عُدْوانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 193] تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں کرنی چاہئے ۔ وَمَنْ يَفْعَلْ ذلِكَ عُدْواناً وَظُلْماً فَسَوْفَ نُصْلِيهِ ناراً [ النساء/ 30] اور جو تعدی اور ظلم سے ایسا کرے گا ہم اس کو عنقریب جہنم میں داخل کریں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ باغٍ وَلا عادٍ [ البقرة/ 173] ہاں جو ناچار ہوجائے بشر طی کہ خدا کی نافرمانی نہ کرے اور حد ضرورت سے باہر نہ نکل جائے ۔ میں باغ سے وہ شخص مراد ہے جو لذت اندوزی کے لئے مردار کا گوشت کھانے کی خواہش کرتا ہے اور عاد سے مراد وہ شخص ہے جو قدر کفایت سے تجاوز کرتا ہے بعض نے باغ کے معنی خلیفہ وقت کا باغی اور عاد سے وہ شخص مراد لیا ہے جو عجزو نیاز کرنے والوں کے طریق سے تجاوز کرنے والا ہو اور یہ عدی طور سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں اپنے رتبہ سے تجاوز کرنے والا اور اسی سے تعدیتہ فی الفعل ہے اور علم نحو میں فعل کے تعدیتہ سے مراد ہوتا ہے فعل کا اپنے فاعل سے گزر کر مفعول تک پہنچ جانا اور ماعدا کا لفظ استثناء کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ الْعُدْوَةِ الدُّنْيا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوى[ الأنفال/ 42] جس وقت تم ( مدینے سے ) قریب کے ناکے پر تھے اور کافربعید کے ناکے پر ۔ میں عدوٹ الدنیا سے مدینہ کی جانب کا کنارہ مراد ہے جو حد قریب سے کچھ دور تھا ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعرأتيت المروءة من بابها فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته ويقال للسقاء إذا مخض وجاء زبده : قد جاء أتوه، وتحقیقه : جاء ما من شأنه أن يأتي منه، فهو مصدر في معنی الفاعل . وهذه أرض کثيرة الإتاء أي : الرّيع، وقوله تعالی: مَأْتِيًّا[ مریم/ 61] مفعول من أتيته . قال بعضهم معناه : آتیا، فجعل المفعول فاعلًا، ولیس کذلک بل يقال : أتيت الأمر وأتاني الأمر، ويقال : أتيته بکذا وآتیته كذا . قال تعالی: وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] .[ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . والإِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] . ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ ارض کثیرۃ الاباء ۔ زرخیز زمین جس میں بکثرت پیداوار ہو اور آیت کریمہ : {إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَأْتِيًّا } [ مریم : 61] بیشک اس کا وعدہ آیا ہوا ہے ) میں ماتیا ( فعل ) اتیتہ سے اسم مفعول کا صیغہ ہے بعض علماء کا خیال ہے کہ یہاں ماتیا بمعنی آتیا ہے ( یعنی مفعول بمعنی فاعل ) ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ محاورہ میں اتیت الامر واتانی الامر دونوں طرح بولا جاتا ہے اتیتہ بکذا واتیتہ کذا ۔ کے معنی کوئی چیز لانا یا دینا کے ہیں قرآن میں ہے ۔ { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی (بقیہ حصہ کتاب سے ملاحضہ فرمائیں)

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے : وان یاتوکم اسری تفادوھم وھو محرم علیکم اخراجہم افتومنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض (اور جب وہ لڑائی میں پکڑے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں تو ا ن کی رہائی کے لئے فدیہ کا لین دین کرتے ہو، حالانکہ انہیں گھروں سے نکالنا ہی سرے سے تم پر حرام تھ، تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو ؟ ) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ لڑائی میں قید ہوجانے پر یہودیوں کا فدیہ دے کر انہیں چھڑا لینا ان پر واجب تھا اور ان میں سے ایک گروہ کو ان کے گھروں سے نکالنا ان پر حرام تھا۔ جب ان میں سے بعض لوگوں اپنے دشمنوں کو گرفتار کرلیتے تو ان پر ان کی رہائی کے لئے فدیہ دینا واجب ہوتا۔ اس طرح یہ لوگ خود یہودیوں کے ایک گروہ کو ان کے گھروں سے نکال کر کتاب اللہ یعنی تورات کے ایک حصے کے ساتھ کفر کرتے کیونکہ اس طرح وہ اللہ کی طرف سے ایک ممنوعہ فعل کے مرتکب ہوجاتے تھے اور پھر گرفتار شدہ یہودیوں کی رہائی کے لئے فدیہ کالین دین کر کے تورات کے ایک حصے پر ایمان رکھتے کیونکہ ایسی صورت میں وہ اللہ کی طرف سے ان پر واجب شدہ کام سر انجام دے دیتے، اس پورے پس منظر کو ذہن نشین کرنے کے لئے درج ذیل اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔ ” نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد سے پہلے مدینے کے اطراف کے یہودی قبائل نے اپنے ہمسایہ عرب قبائل (اوس اور خزرج ) سے حلیفانہ تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ جب ایک عرب قبیلہ دوسرے قبیلے سے برسر جنگ ہوتا تو دونوں کے حلیف یہودی قبیلے بھی اپنے اپنے حلیف کا ساتھ دیتے تھے اور ایک دوسرے کے مقابلے میں نبرد آزما ہوجاتے تھے، ان کا یہ فعل صریح طور پر کتاب اللہ کے خلاف تھا اور وہ جانتے بوجھتے کتاب اللہ کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ مگر لڑائی کے بعد جب ایک یہودی قبیلے کے اسیران جنگ دوسرے یہودی قبیلے کے ہاتھ آتے تو غالب قبیلہ فدیہ لے کر انہیں چھوڑتا اور مغلوب قبیلہ فدیہ دے کر انہیں چھڑاتا تھا اور اس فدیے کے لین دین کو جائز ٹھہرانے کے لئے کتاب اللہ سے استدلال کیا جاتا تھا۔ گویا وہ کتاب اللہ کی اس اجازت کو تو سر آنکھوں پر رکھتے تھے کہ اسیران جنگ کو فدیے کو چھوڑا جائے مگر اس حکم کو ٹھکرا دیتے تھے کہ آپس میں جنگ ہی نہ کی جائے۔ (تفہیم القرآن جلد اول) قیدیوں کو فدیہ کا لین دین کر کے چھڑانے کے وجوب کا حکم ہم پر بھی ثابت ہے، الحجاج بن ارطاۃ نے الحکم سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت بیان کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرات مہاجرین و انصار کے درمیان ایک تحریر لکھ دی تھی کہ وہ ایک دوسرے پر لازم ہونے والا خون بہا اور تاوان ادا کریں گے۔ اپنے قیدیوں کا فدیہ معروف طریقے سے ادا کریں گے اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات کو درست رکھیں گے۔ منصوبے نے شقیق بن سلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت بیان کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” کھانا کھلائو، سلام کو عام کرو، مریض کی عیادت کرو اور قیدی کو چھڑائو۔ “ یہ دونوں حدیثیں قیدی کو چھڑانے پر دلالت کرتی ہیں، اس لئے کہ مذکورہ لفظ (العانی) کے معنی اسیر اور قیدی کے ہیں۔ حضرت عمران بن حصین اور حضرت سلمہ بن الاکوع نے روایت بیان کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کی رہائی کے بدلے میں مسلمان قیدیوں کو رہا کرایا تھا۔ سفیان ثوری نے عبداللہ بن شریک سے اور انہوں نے بشربن غالب سے روایت بیان کی ہے کہ حضرت حسین بن علی (رض) سے پوچھا گیا کہ اسیر کو فدیہ دے کر چھڑانا کس کے ذمہ ہوتا ہے تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ : اس سر زمین کے لوگوں پر جس کے دفاع میں مذکورہ قیدی جنگ کرتا ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٥) مگر اے قبول کرنے والو ! اس کے بعد پھر تم لوگوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور ایک دوسرے کو گھروں سے نکالا، ایک دوسرے کی ظلم و زیادتی کرنے پر مدد کرتے ہو اور جس وقت تمہارا ہم مذہب تمہارے پاس قید ہو کر آتا ہے تو دشمن کو فدیہ دے کر چھڑالیتے، حالانکہ ان کو نکالنا اور قتل کرنا دونوں چیزیں تم پر حرام کردی گئی تھیں تو کیا تم کتاب کے بعد احکام پر ایمان لاتے ہو کہ اپنے قیدیوں کا اپنے دشمنوں کو فدیہ دے کر چھڑا لیتے ہو اور اپنے ساتھیوں کے قیدیوں کو چھوڑ دیتے ہو، اس کا فدیہ نہیں ادا کرتے، اور ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ کتابی احکام میں سے جن احکام کو تمہارا نفس چاہے ہیں ان کو کرتے ہو اور جو تمہاری خواہش کے مطابق نہیں ہوتے ان کو چھوڑدیتے ہو۔ ایسے آدمی کی سزا یہی ہے کہ اسے دنیا میں قتل اور قید کیا جائے اور آخرت میں درد ناک عذاب دیاجائے، اور اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں اور تمہاری خفیہ باتوں پر عذاب دینے کو دینے کو ترک کرنے والے نہیں ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٥ (ثُمَّ اَنْتُمْ ہٰٓؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَکُمْ ) (وَتُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْکُمْ مِّنْ دِیَارِہِمْ ز) (تَظٰہَرُوْنَ عَلَیْہِمْ بالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ط) (وَاِنْ یَّاْتُوْکُمْ اُسٰرٰی تُفٰدُوْہُمْ ) (وَہُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْکُمْ اِخْرَاجُہُمْ ط) اب دیکھئے اس واقعہ سے جو اخلاقی سبق (moral lesson) دیا جا رہا ہے وہ ابدی ہے۔ اور جہاں بھی یہ طرز عمل اختیار کیا جائے گا تاویل عام کے اعتبار سے یہ آیت اس پر منطبق ہوگی۔ (اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ج) ’ (فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ ) (اِلاَّ خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج) (وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ الآی اَشَدِّ الْعَذَابِط ) ’ (وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ) یہ ایک بہت بڑی آفاقی سچائی (universal truth) بیان کردی گئی ہے ‘ جو آج امت مسلمہ پر صد فی صد منطبق ہو رہی ہے۔ آج ہمارا طرز عمل بھی یہی ہے کہ ہم پورے دین پر چلنے کو تیار نہیں ہیں۔ ہم میں سے ہر گروہ نے کوئی ایک شے اپنے لیے حلال کرلی ہے۔ ملازمت پیشہ طبقہ رشوت کو اس بنیاد پر حلال سمجھے بیٹھا ہے کہ کیا کریں ‘ اس کے بغیر گزارا نہیں ہوتا۔ کاروباری طبقہ کے نزدیک سود حلال ہے کہ اس کے بغیر کاروبار نہیں چلتا۔ یہاں تک کہ یہ جو طوائفیں ” بازار حسن سجا کر بیٹھی ہیں وہ بھی کہتی ہیں کہ کیا کریں ‘ ہمارا یہ دھندا ہے ‘ ہم بھی محنت کرتی ہیں ‘ مشقت کرتی ہیں۔ ان کے ہاں بھی نیکی کا ایک تصور موجود ہے۔ چناچہ محرم کے دنوں میں یہ اپنا دھندا بند کردیتی ہیں ‘ سیاہ کپڑے پہنتی ہیں اور ماتمی جلوسوں کے ساتھ بھی نکلتی ہیں۔ ان میں سے بعض مزاروں پر دھمال بھی ڈالتی ہیں۔ ان کے ہاں اس طرح کے کام نیکی شمار ہوتے ہیں اور جسم فروشی کو یہ اپنی کاروباری مجبوری سمجھتی ہیں۔ چناچہ ہمارے ہاں ہر طبقے میں نیکی اور بدی کا ایک امتزاج ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا مطالبہ کلیّ اطاعت کا ہے ‘ جزوی اطاعت اس کے ہاں قبول نہیں کی جاتی ‘ بلکہ الٹا منہ پردے ماری جاتی ہے۔ آج امت مسلمہ عالمی سطح پر جس ذلتّ و رسوائی کا شکار ہے اس کی وجہ یہی جزوی اطاعت ہے کہ دین کے ایک حصے کو مانا جاتا ہے اور ایک حصے کو پاؤں تلے روند دیا جاتا ہے۔ اس طرز عمل کی پاداش میں آج ہم ” ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ کا مصداق بن گئے ہیں اور ذلت و مسکنت ہم پر تھوپ دی گئی ہے۔ باقی رہ گیا قیامت کا معاملہ تو وہاں شدید ترین عذاب کی وعید ہے۔ اپنے طرز عمل سے تو ہم اس کے مستحق ہوگئے ہیں ‘ تاہم اللہ تعالیٰ کی رحمت دست گیری فرما لے تو اس کا اختیار ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا : (وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ) ” اور اللہ غافل نہیں ہے اس سے جو تم کر رہے ہو۔ سیٹھ صاحب ہر سال عمرہ فرما کر آ رہے ہیں ‘ لیکن اللہ کو معلوم ہے کہ یہ عمرے حلال کمائی سے کیے جا رہے ہیں یا حرام سے ! وہ تو سمجھتے ہیں کہ ہم نہا دھو کر آگئے ہیں اور سال بھر جو بھی حرام کمائی کی تھی سب پاک ہوگئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوتوں سے ناواقف نہیں ہے۔ وہ تمہاری داڑھیوں سے ‘ تمہارے عماموں سے اور تمہاری عبا اور قبا سے دھوکہ نہیں کھائے گا۔ وہ تمہارے اعمال کا احتساب کر کے رہے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

92. Before the advent of the Prophet (peace be on him) the Jewish tribes who lived on the outskirts of Madina had concluded an alliance with the Arab tribes of Aws and Khazraj. When the Arab tribes fought against one another each Jewish tribe fought on the side of its allies, which led to fratricide and so to a flagrant violation of the Book of God. Moreover, when the war ended the captives were ransomed. This ransom was justified on the basis of scriptural arguments; they extolled the Word of God when it permitted the ransom of prisoners of war, but attached no significance at all to the same Word of God when it prohibited mutual feuding.

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

58 : اس کا پس منظر یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں یہودیوں کے دو قبیلے آباد تھے، بنو قریظہ اور بنو نضیر، دوسری طرف بت پرستوں کے بھی دو قبیلے تھے اوس اور خزرج، قریظہ کی دوستی اوس قبیلے سے تھی، اور بنو نضیر کی خزرج سے، جب اوس وخزرج میں لڑائی ہوئی تو قریظہ اوس کا ساتھ دیتے اور بنو نضیر خزرج کا، نتیجہ یہ کہ یہودیوں کے دونوں قبیلے بالواسطہ ایک دوسرے کے مدمقابل آجاتے اور ان لڑائیوں میں جہاں اوس اور خزرج کے آدمی مارے جاتے وہاں قریظہ اور نضیر کے یہودی بھی قتل ہوتے یا اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوتے، اس طرح اگرچہ بنو قریظہ اور بنو نضیر دونوں قبیلے یہودی تھے مگر وہ ایک دوسرے کے دشمنوں کی امداد کرکے آپس میں ایک دوسرے کے قتل اور خانماں بربادی میں حصہ دار ہوتے تھے، ہاں اگر کوئی یہودی دشمن کے ہاتھوں قید ہوجاتا تو وہ سب مل کر اس کا فدیہ ادا کرتے اور اسے چھڑالیتے جس کی وجہ یہ بیان کرتے تھے کہ ہمیں تورات نے حکم دیا ہے کہ اگر کوئی یہودی دشمن کی قید میں چلا جائے تو اسے چھڑائیں، قرآن کریم فرماتا ہے کہ جس تورات نے یہ حکم دیا ہے اسی نے یہ حکم بھی تو دیا تھا کہ نہ ایک دوسرے کو قتل کرنا نہ ایک دوسرے کو گھر سے نکالنا، ان احکام کو تو تم نے چھوڑدیا اور صرف فدیہ کے حکم پر عمل کرلیا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:85) ثم۔ یہاں ثم تراخی زمانی کے لئے نہیں بلکہ بعد عہد کے لئے ہے۔ عہد کے توڑ دینے کے استبعاد کو ظاہر کرنے کے لئے آیا ہے۔ ثم انتم ھولائ۔ پھر یہ تمہی ہو کہ (اس میثاق کو توڑ کر) آپس میں خون ریزی کرتے ہو انتم ھولاء تقتلون انفسکم ۔ صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں انتم مبتدا ہے اور ھولاء خبر ہے اور معنی یہ ہیں کہ : پھر تم وہی بد عہد ہو جیسے کہا کرتے ہیں کیا تم وہی شخص ہو جس نے ایسا کیا۔ صفت بدلنے کو بمنزلہ ذات کے بدلنے کے ٹھہرا کر ایسے کلام کا استعمال کیا کا تے ہیں اور جملہ تقتلون انفسکم یا تو حال ہے اور عامل اس میں معنی اشارہ کے ہیں اور یا انتم ھولاء کا بیان ہے اور یا یہ کہا جائے ھولاء بمعنی الذی ہے اور جملہ تقتلون ۔۔ الخ۔ صلہ ہے اور صلہ و موصول مل کر انتم کی خبر ہے۔ تظاھرون۔ مضارع جمع مذکر حاضر تظاھر (تفاعل) مصدر سے ، تم آپس میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے ہو۔ اصل میں تتظھرون تھا۔ ایک تاء گرگئی۔ علیہم میں ھم ضمیر جمع مذکر غائب ۔ ان لوگوں کے لئے ہے جن کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے وہ کشت و خون کرتے ہیں اور جن کو وہ ان کے گھروں سے باہر نکالتے ہیں۔ انعدوان۔ ظلم و زیادتی۔ یہ عدا یعدو (باب نصر) کا مصدر ہے۔ عدوان کے معنی تعدی اور ظلم کے ہیں (امام ابوبکر سبستانی) بعض علماء سے نقل ہے کہ عدوان کے معنی بری طرح حد سے بڑھ جانے کے ہیں خواہ یہ بات قوت میں ہو یا فصل میں ہو یا حال میں ہو۔ عدوان اس زیادتی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو ظلم کے بدلہ کے طور پر ہو مثلاً قرآن مجید میں ہے فلا عدوان الا علی الظالمین (2:193) ظلم کا بدلہ صرف ظالموں ہی سے لیا جائیگا۔ یا زیادتی نہیں صرف ظالم لوگوں پر۔ یا جرم کی سزا صرف ظالموں ہی کو ملے گی۔ تظھرون علیہم بالاثم والعدوان۔ یہ جملہ فاعل تخرجون سے حال ہے۔ یاتوکم۔ یاتوا مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان شرطیۃ) کم، ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اگر (وہی لوگ غیر قوموں کے) قیدی ہوکر تمہارے پاس آئیں۔ اسری۔ اسیر کی جمع ۔ قیدی۔ تفادوھم : تفادوا۔ مضارع مجزوم (جواب شرط) صیغہ جمع مذکر ھاضر۔ مفاداۃ (مفاعلۃ) مصدر ، جس کا مطلب ہے فدیہ دے کر چھڑانا۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اس کا مرجع فعل یاتوا کی ضمیر فاعل ہے، یعنی وہ لوگ جو قیدی بن کر آئے ہیں تم فدیہ دے کر ان کو چھڑالیتے ہو۔ وھو محرم علیکم اخراجھم۔ واؤ حالیہ ہے ھو ضمیر شان جو اخراج کی طرف عائد ہے۔ حالانکہ ان کا نکال دینا ہی تم پر حرام تھا۔ جملہ حالیہ ہے اور ہم ضمیر فاعل یاتوا سے حال ہے یا یہ جملہ معترضہ بھی ہوسکتا ہے۔ افتؤمنون۔ ہمزہ استفہامیہ ہے اور فاء عاطفہ تو کیا تم ایمان لاتے ہو۔ (نیز ملاحظہ ہو 2:44) فما۔ فائ۔ عاطفہ۔ ما۔ نافیہ۔ خزی۔ ذلت و خواری۔ رسوائی۔ خزی یخزی (باب سمع) کا مصدر ہے یوم القیامۃ۔ مجاف، مضاف الیہ ۔ یوم بوجہ مفعول فیہ کے منصوب سے۔ یردون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب، رد (باب نصر) مصدر۔ وہ لوٹائے جائیں گے۔ اشد۔ نہایت سخت، بہت شدید۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ العذاب : مضاف الیہ۔ الی اشد العذاب ای الی عذاب اشد من عذاب الدنیا (اور قیامت کے روز) ایسے عذاب کی طرف (لوٹائے جاؤگے) جو اس دنیاوی عذاب سے شدید تر ہوگا۔ وما اللہ بغافل عما تعملون ۔ جملہ معترضہ ہے ما نافیہ ہے ۔ عما۔ عن حرف جار اور ما موصولہ سے مرکب ہے۔ فائدہ : مدینہ میں مشرکوں کے دو قبیلے تھے۔ اوس اور خزرج۔ یہ دونوں قبیلے آپس میں برسرپیکار رہتے تھے۔ یہودیوں کے بھی اس وقت مدینہ میں یا کہ جوار مدینہ میں دو بڑے قبیلے تھے، بنی نضیر اور بنی قریضہ، یہ دونوں قبیلے ۔ اور بنی قریظ قبیلہ اوس کے ساتھی تھے اوس اور خزرج کی باہمی خانہ جنگیوں میں یہودی قبیلے بھی اپنے اپنے حلیف کے ہمراہ اپنے ہی ہم مذہب قبیلوں کے مقابل لڑتے تھے اور ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے اور ایک دوسرے کو ان کے گھروں سے بےگھر کرتے تھے۔ لیکن (عجیب بات ہے کہ) ان یہودی قبیلوں میں سے کوئی لڑائی کے دوران اگر دوسری قوم کے ہاتھ میں اسیر ہوجاتا تو اسرائیلی کا آزاد کرانا کار ثواب سمجھ کر فدیہ دے کر اسے رہا کرا لیتے تھے حالانکہ اس کا جلاوطن کرنا ہی حرام تھا جس کے سبب وہ اسیر ہوا تھا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 مدینہ منورہ میں یہود کے تین قبیلے تھے بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریضہ۔ مدینہ کے عرب قبیلوں سے ان کے حلیفانہ تعلقات تھے۔ بنو قینقاع اور بنو نضیر قبیلہ خزرج اور بنو قر یظہ قبیلہ اوس کے حلیف تھے خزرج اور اوس کی آپس میں جنگ رہا کرتے تھی۔ جب کبھی ان کے درمیان لڑائی ہوتی تو وہ دنوں کو حلیف یہودی قبیلے بھی اپنے اپنے حلیف کا ساتھ دیتے یہودی اپنے دشمن کو مارتا اور کبھی دوسرے یہودی کو بھی قتل کر یتا اور اس کا گھر بار لوٹ لیتا۔ وہ جانتے تھے کہ ان کا یہ فعل توریت میں دیئے ہوئے احکام کو خلاف ہے لیکن لڑائی ختم ہوتی اور مغلوب قبیلے کے کچھ آدمی غالب کی قید میں آجاتے تو وہ خود ہی فدیہ دے کر غالب قبیلہ سے اپنے قیدی بھایئوں کو آزاد کراتے اور کہتے کہ ہمیں کتاب الہی کا حکم ہے کہ اپنے بھائیوں کی مدد کرو اور انہیں قید سے آزاد کراؤ ،۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان سے فرماتے ہیں کہ تو یاد رکھتے ہو مگر اس چیز کو بھول جاتے ہو کہ تمہیں آپس میں ایک دوسرے کے خلاف لڑنے اور ایک دوسرے سے نکا لنے سے بھی منع کیا گیا تھا۔ گو یا تم کتاب الہی کے جس حکم کو اپنی مرضی کے مطابق پاتے ہو اسے مانتے ہو اور جسے اپنی مرضی کے مطابق نہیں پاتے اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ اگر تم واقعی خدا کے حکم پر چلتے ہو تو دونوں جگہ چلو۔ (ابن کثیر) اہل علم فرماتے ہیں کہ ان سے چا عہد لیے گئے تھے (1) قتل (2) اخراج اور ایک دوسرے کے خلاف مدد نہ کرنا اور قیدی کو فدیہ دے کر چھڑالینا وہ صرف فدیہ پر عمل کرتے اور باقی تین کی مخالفت کرتے اور بےمحابا ان کا ارتکاب کرتے۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ اس باب میں ان پر تین حکم واجب تھے اول قتل نہ کرنا دوم اخراج نہ کرنا، سوم اپنی قوم میں سے کسی کو گرفتار وبندی دیکھیں تو روپیہ خرچ کرکے چھڑا دینا۔ سو ان لوگوں نے حکم اول ودوم کو ضائع کردیا تھا اور سوم کا اہتمام کیا کرتے تھے ضن مخالف قوموں کی امداد کا ذکر فرمایا ہے مراد ان قوموں سے اوس اور خزرج ہیں کہ اول بنی قریظہ کی موافقت میں بنی نضیر کے مخالف تھے اور خزرج بنی نضیر کی موافقت میں بنی قریظہ کے مخالف تھے گناہ اور ظلم دو لفظ لانے میں اشارہ ہوسکتا ہے کہ اس میں دو حق ضائع ہوتے ہیں حق اللہ بھی کہ حکم الہی کی تعمیل نہ کی اور حق العبد بھی کہ دوسرے کو آزار پہنچا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل نے نہ صرف اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو توڑا بلکہ اس حد تک عہد شکن ثابت ہوئے کہ انہوں نے باہمی تعلقات کو توڑتے ہوئے اپنوں میں سے کمزور لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کیا۔ اس بات پر یہودیوں کو سمجھایا گیا ہے کہ مظلوموں کی حالت زار تمہاری سیاست اور مذموم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے جبکہ تورات میں تمہیں اس بات سے منع کیا اور تم سے عہد لیا گیا تھا کہ اپنوں کو قتل کرنا اور کمزوروں کو ان کے گھروں سے نکالنا سنگین اخلاقی اور معاشرتی جرم ہے۔ یہاں بار بار مخاطب کی ضمیر لا کر انہیں شرم دلائی جارہی ہے کہ یہ تمہارے ہی ہم نسب اور ہم وطن ہیں۔ جن میں سے کچھ کو تم قتل کردیتے ہو اور کچھ کو ان کے گھروں سے نکال کر باہر پھینکتے ہو۔ تمہاری سازشوں کی وجہ سے وہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے جاتے ہیں۔ اس کے بعد فدیہ دے کر چھڑاتے ہو۔ ایسا کرنا نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے کہ کلام اللہ کے جس حصہ پر چاہا عمل کرلیا اور جس سے دنیا کے نقصان کا اندیشہ ہوا اسے چھوڑ دیا۔ اس طرح نہ صرف شریعت بازیچۂ ا طفال بن جاتی ہے بلکہ آدمی کی طبیعت میں مستقل طور پر منافقت اور مفاد پرستی پیدا ہوجاتی ہے۔ جس کی سزا دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں شدید ترین عذاب ہے۔ جو لوگ دین کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیتے ہیں اور خیر خواہی کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں ان پر نہ آخرت کا عذاب ہلکا ہوگا اور نہ ہی کوئی ان کی مدد کرنے والا ہوگا۔ ” نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں انصار ( جو اسلام سے قبل مشرک تھے) کے دو قبیلے تھے۔ اوس اور خزرج، ان کی آپس میں آئے دن جنگ رہتی تھی، اسی طرح یہود مدینہ کے تین قبیلے تھے۔۔ بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ۔ یہ بھی آپس میں لڑتے رہتے تھے، بنو قریظہ اوس کے حلیف تھے اور بنو قینقاع اور بنو نضیر خزرج کے حلیف تھے، جنگ میں یہ اپنے اپنے حلیفوں کی مدد کرتے اور اپنے ہی ہم مذہب یہودیوں کو قتل کرتے، ان کے گھروں کو لوٹتے اور انہیں جلاوطن کردیتے۔ حالانکہ تورات کے مطابق ایسا کرنا ان کے لیے حرام تھا، پھر جو لوگ مغلوب ہونے کی وجہ سے قیدی بن جاتے تو انہیں فدیہ دے کر چھڑاتے اور کہتے کہ ہمیں تورات میں یہی حکم دیا گیا ہے۔ ان آیات میں یہودیوں کے اسی کردار کو بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے شریعت کو موم کی ناک بنالیا تھا، مرضی سے حکم پر عمل کرلیتے اور مرضی کے خلاف حکم کو کوئی اہمیت نہ دیتے۔ قتل، لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالنا اور ایک دوسرے کی ظلم پر مدد کرنا، ان کی شریعت میں حرام تھا، ان جرائم کا انہوں نے کھلم کھلا ارتکاب کیا اور جو فدیہ دے کر چھڑا لینے کا حکم تھا اس پر عمل کیا۔ حالانکہ اگر وہ پہلے تین امور کا لحاظ رکھتے (قتل و غارت گری سے باز رہتے، دوسروں کو جلاوطن نہ کرتے، ظلم وستم سے رک جاتے) تو فدیہ دے کر چھڑانے کی نوبت ہی نہ آتی۔ “ (ماخوذ از ” تفسیر احسن البیان “ ) اہل کتاب کے ایک دوسرے پر مظالم : ہربرٹ ملر نے لکھا ہے : ” رومی بادشاہ تھیوڈو سیس نے دوسرے مذاہب کی عبادت گاہیں حکماً بند کردیں اور کیتھولک عیسائیت کو ملک کا واحد قانونی مذہب قرار دیتے ہوئے ان سب ” دیوانوں “ (madmen) سے ہر قسم کے شہری حقوق چھین لیے جو کیتھولک عیسائیت سے متفق نہ تھے۔ “ When The odosius deprived heretics of civil rights, religious orthodoxy became the price of citizenship for the first time in history. (Herbert Muller: op.cit pp.86-87; Cambridge Modern History (1907) vol.10 p.152) ” جب تھیوڈو سیس نے ملحدین کو شہری حقوق سے محروم کیا ‘ تو عقیدہ کی تبدیلی شہریت کی قیمت قرار پائی۔ “ اور پوپ لیو دواز دہم نے تو رواداری (Toleration) کو صاف الفاظ میں سچے مذہب سے بےپروائی (Indifference) سے تعبیر کرتے ہوئے بتادیا کہ عیسائیت میں نقطۂ نظر کے اختلاف کو برداشت کرنے کی قوت و صلاحیت کہاں تک ہے۔ عملاً بھی اس نے تنخواہ دار مخبرین (Informers) کی مدد سے مسلمہ عقائد سے ہٹے ہوئے افراد سے اپنی جیلیں بھر دیں۔ ” مشرکین “ (pagans) اور ” ملحدین “ (heretics) کے بعد جو طبقہ مسیحی عدم رواداری اور تشدد کا پہلا نشانہ بنا ‘ وہ یہودی تھے۔ یہودیوں سے مسیح کے ” خون کا بدلہ “ لینے کے لیے انجیل کی اس آیت کا حوالہ استعمال کیا گیا جس میں مسیح کے وقت کے یہودیوں نے رومی حاکم پیلاطس کی مسیح کو مصلوب کرنے پر ہچکچاہٹ دیکھتے ہوئے کہا تھا ” اس کا خون ہماری اور ہماری اولاد کی گردن پر ! “ (متی ٢٧: ٢٥) : With the triumph of Christianity, the children of Israel had to repay his duffering a million fold. (Herbert Muller : op.cit., p.91) ” عیسائیت کے غلبہ کے بعد بنی اسرائیل کو مسیح کی تکالیف کا کئی لاکھ گنا بدلہ چکانا پڑا۔ “ ملحدین ‘ مشرکین اور یہود وغیرہ پر ظلم وتشدد اور ان کے قتل و غارت پر عیسائی حکمرانوں اور امراء کو اکساتے ہوئے ایک مشہور پوپ ہلڈر برینڈ (Hilderbrand) نے کہا تھا : Cursed be he that refraineth his sword from blood. (H.C.Lea: A history of the Inquisition in spain (New York 1906) vol. 1, pp.81, 115) ” جو اپنی تلوار کو (ان لوگوں کا) خون کرنے سے روک رکھے وہ لعنتی ہے۔ “ (عیسائیت تجزیہ ومطالعہ) مسائل ١۔ بنی اسرائیل عہد توڑنے والی قوم ہے۔ ٢۔ بنی اسرائیل پر رشوت لینا حرام تھا۔ ٣۔ دین کے کچھ ارکان پر عمل کرنا اور کچھ کو چھوڑ دینا دنیا میں ذلت اور آخرت میں عذاب جہنم کا سبب ہوگا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ثُمَّ أَنْتُمْ هَؤُلاءِ تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقًا مِنْكُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ تَظَاهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالإثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُسَارَى تُفَادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ” مگر آج وہی تم ہو کہ اپنے بھائی بندوں کو قتل کرتے ہو ۔ اپنی برادری کے کچھ لوگوں کو بےخانماں کردیتے ہو۔ ظلم و زیادتی کرنے کے ساتھ ان کے خلاف جتھا بندیاں کرتے ہو ، اور جب لڑائی میں پکڑے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں تو ان کی رہائی کے لئے فدیہ کا لین دین کرتے ہو ۔ حالانکہ ان کو ان کے گھروں سے نکالنا ہی سرے سے تم پر حرام تھا تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو۔ “ یہ واقعہ جو قرآن کریم ان کے خلاف پیش کررہا ہے ، وہی تھا جو غلبہ اسلام سے کچھ زمانہ پہلے اوس اور خزرج کی جنگوں میں پیش آچکا تھا۔ اوس و خزرج مشرکین یثرب کے دوقبیلے تھے اور ان کے درمیان ایسی شدید دشمنی تھی جس کی مثال پورے عرب میں نہ تھی ۔ یثرب میں یہودیوں کے بھی تین قبائل تھے جن میں سے بعض ایک قبیلے اور بعض دوسرے قبیلے کے حلیف ہوتے تھے ۔ جب ان دوقبائل کے درمیان جنگ ہوتی تو ان کے یہودی حلیف بھی جنگ میں شریک ہوتے ۔ اس طرح بعض اوقات ایک یہودی مدمقابل کے حلیف دوسرے یہودی کو قتل کرتا اور اللہ کے ساتھ انہوں نے جو پختہ عہد باندھا تھا یہ اس کے سراسر خلاف تھا ۔ جب ایک قبیلے کا حلیف غالب آتا تو خود بنی اسرائیل ، بنی اسرائیل کو لوٹتے ۔ انہیں گھروں سے نکالتے ، ان کی عورتوں کو غلام بناتے حالانکہ میثاق کی نص کی رو سے یہ حرکت ان پر حرام تھی ۔ لیکن جب جنگ ختم ہوجاتی تو پھر یہ غالب یہودی مقابل کے مغلوب یہودیوں کا فدیہ دیتے ۔ انہیں قید اور غلامی سے رہائی دلاتے ۔ جہاں جہاں بھی وہ قید ہوتے خواہ اپنے کیمپ میں یا مخالفین کے کیمپ میں ہوتے ۔ اور یہ کام وہ تورات کے اس حکم پر عمل کرتے تھے جس میں کہا گیا تھا ” تجھے بنی اسرائیل کا جو شخص غلام ملے اسے خریدو اور رہا کرو۔ “ یہ تھا ان کی زندگی کا اہم تضاد اور اسے ان کے سامنے رکھ کر قرآن کریم ان سے پوچھتا ہے ، أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ” تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو۔ “ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ عہد کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ اس لئے انہیں اس بات کی تہدید کی جاتی ہے کہ اس وجہ سے وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں اس پر انہیں دردناک عذاب دیا جائے گا ۔ نیز انہیں تنبیہ کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ ان سے غافل ہے اور نہ ہی ایسی صریح غلطیوں کو معاف کرے گا ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ) ” کیا تم کتاب کے بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض پر ایمان نہیں رکھتے۔ “ کیا توریت شریف میں قیدی کے چھڑانے ہی کا حکم ہے اور کیا آپس کا قتل و قتال اور ایک دوسرے کو جلا وطن کرنا توریت شریف میں ممنوع نہیں ہے ؟ یعنی قتل و قتال کی ممانعت پر تو عمل نہ کیا اور قیدی کو چھڑانے کے لیے پیسے خرچ کرنے کو تیار ہوگئے۔ حالانکہ اس کا قیدی ہونا قتل و قتال کی بنیاد پر ہے۔ نہ قتل و قتال کرتے نہ یہ قیدی ہو کر آتا۔ لہٰذا معاملہ شریعت موسوی کا نہ رہا بلکہ اپنی طبیعت کا رہا۔ جس حکم کو چاہا مانا اور جس حکم کو چاہا نہ مانا، جس حکم کو مانا اسے ایمان سے اور جس حکم کو نہ مانا اسے کفر سے تعبیر فرمایا اگر دل سے کسی حکم قطعی کا منکر ہوجائے تب تو کافر ہو ہی جاتا ہے اور اگر دل سے منکر نہ ہو لیکن عمل حکم کے خلاف ہو تو اس عمل کا کرنے والا گناہ کا مرتکب تو ہو ہی جاتا ہے جو منکروں اور کافروں کا طریقہ ہے۔ یہودیوں کی مذکورہ بالا بےعملی کا ذکر کر کے ارشاد فرمایا کہ ایسے لوگوں کی سزا اس کے سوا کیا ہے کہ دنیا میں رسوا اور ذلیل ہوں اور آخرت میں ان کے لیے عذاب ہے ہی۔ چناچہ بنو نضیر مسلمانوں کے ہاتھوں ذلیل ہوئے مدینہ منورہ سے خیبر کو نکال دیے گئے اور پھر خیبر سے حضرت عمر (رض) نے ان کو نکال دیا، اور در بدر مارے مارے پھرتے رہے۔ اور بنی قریظہ مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ آخر میں فرمایا کہ ان لوگوں نے دنیاوی زندگی کو آخرت کے بدلہ مول لے لیا۔ سو آخرت میں ان کے عذاب میں تخفیف نہ ہوگی اور نہ ان کی کسی طرح کی کوئی مدد ہوگی۔ کوئی حامی مددگار طرفدار وکیل مختار موجود نہ ہوگا جو ان کی کچھ مدد کرسکے۔ مسلمانوں کی تنبیہ جو پورے دین پر عمل کرنے کو تیار نہیں ! جو حال یہودیوں کا تھا وہی آج مسلمانوں کا ہے۔ وہ بھی کتاب اللہ کے بعض حصے پر عمل کرتے اور بعض پر عمل نہیں کرتے، جو لوگ بےعمل ہیں وہ تو درکنار جو لوگ بظاہر دین دار ہیں ان کی دینداری بھی نماز روزہ اور دو چار کاموں تک محدود ہے۔ حرام ذریعہ سے مال کمانا اور حرام محکموں میں ملازمت کرنا، رشوتیں دینا اور رشوتیں لینا، میراث کا مال کھا جانا، بہنوں کو اور یتیموں کو اور بیواؤں کی میراث کا شرعی حصہ نہ دینا، بیاہ شادی اور مرنے جینے میں غیر اسلامی طور طریق اختیار کرنا، اس طرح کے امور میں دینداری کے دعویدار بھی مبتلا ہیں۔ بہت سے لوگ زکوٰۃ بھی دیتے ہیں۔ حج بھی کرلیتے ہیں لیکن ان کے سامنے اسلامی تعزیرات حدود اور قصاص نافذ کرنے کی بات آتی ہے تو ٹھٹھک کر رہ جاتے ہیں اور اس کے نفاذ کے لیے ہاں کرنے کو تیار نہیں۔ حاکم اور محکوم دونوں ہی انکاری ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

162 یہاں سے اسرائیلیوں کی عہد شکنی کا بیان ہے۔ یعنی تمہیں خانہ جنگی سے منع کیا تھا مگر تم پختہ اقرار کے باوجود باز نہ رہے اور اپنے بھائی بندوں کو قتل کرنا شروع کردیا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں مدینہ کے دو مشہور قبیلے اوس اور خزرج صدیوں سے ایک دوسرے کے دشمن چلے آرہے تھے۔ مدینہ میں اور اس کے گردونواح کی بستیوں میں یہودی بھی ایک اقلیت کی حیثیت سے آباد تھے اور ان کے دو قبیلے بنی قریظہ اور بنی نضیر مشہور تھے۔ اقلیت کو ہمیشہ دوسروں کے سہارے جینا پڑتا ہے اس لیے بنی قریظہ نے قبیلہ اوس سے معاہدہ کرلیا اور بنی نضیر قبیلہ خزرج کے حلیف بن گئے۔ اوس اور خزرج کے درمیان آئے دن خونریز لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں اس لیے ان کے معاہد یہودیوں کو بھی اپنے حلیف قبیلہ سے مل کر ان لڑائیوں میں حصہ لینا پڑتا تھا اور اس طرح ایک طرف کے یہودیوں کے ہاتھوں دوسری طرف کے کئی یہودی قتل ہوجاتے تھے۔ اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے۔163 مذکورہ جنگ وجدال اور قتل و غارت کے دوران فریقین میں سے کئی خاندانوں کو اپنے گھر چھوڑ کر بےخانما ہونا پڑتا۔ ہر فریق کی اپنے گھروں سے بےدخلی کا سبب دوسرے فریق کے یہودی بنتے کیونکہ یہودیوں کا ایک فریق اپنے حلیف کافروں سے مل کر فریق ثانی کے حلیف یہودیوں کو ان کے گھروں سے نکال دیتا۔ اس لیے اخراج کو ان کی طرف منسوب کیا۔164 تظاہرون اصل میں تتظاہرون تھا ایک تائ بغرض تخفیف حذف کردی گئی ہے اور یہ تخرجون کی ضمیر سے حال ہے۔ علیھم میں ھم ضمیر فریقاً کی طرف راجع ہے جو معنیً جمع ہے۔ اِثْمٌ سے مراد خدا کی نافرمانی اور دعدوان سے مراد ظلم ہے۔ بالاثم والعدوان بالمعصیۃ والظلم (معالم ص 67 ج 1) مطلب یہ ہے کہ تم اپنے بھائیوں کے خلاف غیر اقوام کی مدد کرتے ہو اور یہ مدد بھی کسی نیک اور تعمیری کام کے لیے نہیں ہوتی۔ اس میں ایک طرف تو تم خدا کی نافرمانی کرتے ہو۔ کیونکہ اس نے تمہیں اپنے بھائی بندوں کے قتل اور اخراج سے منع کیا ہے اور دوسری طرف قتل واخراج کے ذریعے اپنے بھائیوں پر ظلم کرتے اور ان کی حق تلفی کرتے ہو۔165 بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ یہودیوں کے ایک فریق کے آدمی دوسرے فریق کے ہاتھوں قید ہوجاتے تو یہ لوگ فدیہ دے کر اپنے قیدیوں کو چھڑا لیتے۔ جب ان سے پوچھا جاتا کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو تو وہ لوگ کہتے کہ خدا نے ہمیں فدیہ دیکر قیدیوں کو چھڑا لینے کا حکم دیا ہے ہم اس لیے ایسا کرتے ہیں۔ وَھُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ ۔ یہ جملہ بھی تخرجون کی ضمیر سے حال ہے یعنی فدیہ دیکر قیدی کو چھوڑنے کے حکم پر تو تم عمل کرتے ہو مگر اپنے بھائیوں کو ان کے گھروں سے نکالتے وقت یہ خیال نہیں کرتے ہو کہ ایسا کرنا تم پر حرام ہے۔ۭاَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ۔ استفہام تہدید اور دھمکی کے طور پر ہے اور الکتاب سے مراد تورات ہے کیونکہ خطاب بنی اسرائیل سے ہے یعنی تم نے تورات کے ایک حصے کو مان لیا اور ایک حصہ کو ٹھکرا دیا فدیہ دینے کے حکم پر عمل کرلیا اور قتل واخراج سے نہی کی پروا نہ کی۔166 خدا کی بعض حکموں کو ماننا اور بعض کو رد کردینا یہ بہت بڑا جرم ہے اور خدائی احکام کے ساتھ ایک قسم کا تمسخر اور استہزائ ہے اس آیت میں اس جرم کی سزا بیان فرمائی ہے کہ تم میں سے جو شخص ایسا کرے گا وہ دنیا وآخرت میں مغضوب اور مقہور ہوگا۔ دنیا میں ذلت ورسوائی کے سوا اسے کچھ نہیں ملے گا۔ چناچہ یہودیوں کا یہی حشر ہوا کہ اس کے چند ہی سال بعد بنی نضیر کو ذلت و خواری سے جلا وطن کیا گیا اور بنی قریظہ کے مردوں کو قتل کیا گیا اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا گیا۔167 اور قیامت کے دن انہیں بہت ہی سخت عذاب میں مبتلا کیا جائیگا۔ اشد العذاب سے مراد جہنم کا ابدی عذاب ہے اور وہ سب سے سخت اس لحاظ سے ہوگا کہ وہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ والمراد بہ الخلود فی النار واشدیتہ من حیث انہ لا انقضائ لہ (روح ص 314 ج 1) 168 یہ گذشتہ وعید کے لیے ایک قسم کی تاکید ہے یعنی اللہ تعالیٰ گھات میں ہے۔ وہ تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں وہ تمہارے اعمال کی تم کو پوری پوری سزا دیگا۔ ان آیتوں کے مخاطب وہ بنی اسرائیل ہیں جو حضرت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں موجود تھے لیکن اب پوری امت محمدیہ بھی ان احکام کی مخاطب اور مکلف ہے جیسا کہ حضرت عمر (رض) سے منقول ہے۔ عن عمر (رض) انہ قال ان بنی اسرائیل قد۔۔ وانتم تعنون بھذا یا امۃ محمد وبما یجری مجراہ (روح ص 315 ج 1) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 پھر اس عہد و پیماں کے بعد تم لوگ اب موجود ہی ہو کہ باہم ایک دوسرے کو قتل بھی کرتے ہو اور اپنوں ہی میں سے کچھ کو ان کے گھروں سے جلا وطن بھی کرتے ہو اور اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اپنوں کے مقابلہ میں دوسری مخالف قوموں کی گناہ اور ظلم کے ساتھ امداد کرتے ہو اور مخالفوں کے ساتھ بن کر اپنوں سے لڑتے ہو نیز گناہ اور ظلم کی حمایت میں لڑتے ہو پھر لطف یہ کہ اگر ان اپنوں میں سے کوئی گرفتار ہو کر اور قیدی بن کر تمہارے پاس پہونچ جائے تو تم اس کو فدیہ اور کچھ لے دے کر قید سے رہا کراتے ہو حالانکہ ان کا جلا وطن کرنا اور ان کو ان کے گھروں سے نکالنا بھی تم پر توریت کے حکم کے بموجب حرام کیا گیا ہے تو ایک حکم کی تعمیل تو اس طرح دوڑ کر کرتے ہو اور دوسری چیز جو ممنوع اور حرام تھی اس کا بےتکلف ارتکاب کرتے ہو تو پھر کیا توریت کے بعض حصے کو مانتے ہو اور بعض حصے کو ماننے سے منکر ہوتے ہو تو تم لوگوں میں سے جو ایسا جو کرتا ہے اس کی سزا سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ دنیوی زندگی میں کم از کم اس کو ذلت و رسوائی نصیب ہو اور قیامت کے دن اس قسم کے لوگ شدید ترین عذاب میں ڈال دیئے جائیں اور جو اعمال بدتم کر رہے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بیخبر اور غافل نہیں ہے۔ (تیسیر) مدینہ منورہ میں کفار عرب کے دو مشہور قبیلے آباد تھے اوس اور خزرج ان دونوں قبیلوں میں باہمی سخت عداوت تھی اور یہ دونوں قبیلے باہم جنگ بھی کیا کرتے تھے اور ان کی لڑائیاں بڑی دیرپا ہوتی تھیں اور مدتوں چلتی رہتی تھیں۔ مدینہ منورہ کے آس پاس یہودیوں کے بھی مختلف قبائل آباد تھے جیسے بنی قریظہ اور بنی نفیر اور بنی قینقاع وغیرہ جس طرح کفار میں اوس اور خزرج مشہور تھے اسی طرح یہود کے بنی قریضہ اور بنی نضیر دو قبیلے مشہور تھے اور چونکہ اس میں بھی باہم چشمک رہتی تھی اس لئے ضرورت تھی کہ یہ لوگ اپنے حمایتیوں کی تعداد بڑھائیں اور پانے مخالفوں کو نیچا دکھائیں۔ چناچہ اوس نے تو بنی فریظہ سے عرب کے دستور کے مطابق حلف کر رکھا تھا اور خزرج نے بنی نضیر سے حلف کر رکھا تھا۔ اب جب کبھی ان قبائل میں جنگ ہوتی تھی خواہ وہ اوس اور خزرج کے مابین ہو یا بنی قریظہ اور بنی نضیر کے درمیان ہو تو ان کے ح لفاء اور معاہد لوگوں کو بھی ساتھ لڑنا پڑتا تھا اوس لڑیں تو بنی قریظہ ان کے ساتھ ہوں اور بنی قریظہ لڑیں تو اوس ان کے ساتھ ہوں اس طرح خزرج لڑیں تو بنی نضیر ساتھ ہوں اور نبی نضیر لڑیں تو خزرج ساتھ ہوں۔ یعنی جب جنگ ہو تو ایک طرف کفار عرب اور اہل کتاب ہوں اور دوسری طرف کفار عرب اور اہل کتاب ہوں ۔ مدینہ کی مشہور لڑائیوں میں اسی دستور کے موافق جنگ ہوا کرتی تھی۔ اگرچہ اہل کتاب یہودی اور کفار عرب کے ہمراہ مل کر دوسرے کافروں اور یہودیوں سے لڑتے تھے لیکن بہرحال یہود یہود سے لڑتے تھے اور یہود یہود کو قتل بھی کرتے تھے اور یہود یہود کی بستیوں کو برباد بھی کرتے تھے اور ان بستیوں کے رہنے والوں کو ترک وطن پر مجبور بھی کرتے تھے اور جب اس جنگ میں کچھ یہودی گرفتار اور قید ہوجاتے تھے تو ان کو فدیہ وغیرہ دیکر چھڑاتے بھی تھے یہ یہود مدینہ کا طرز عمل تھا۔ لیکن توریت میں ان کو تین حکم دیئے گئے تھے۔ ایک تو یہ کہ آپس میں کشت و خون نہ کرنا۔ دوم یہ کہ آپس میں ایک دوسرے کو جلا وطن نہ کرنا۔ سوم یہ کہ اگر کوئی اپنا بھائی کبھی گرفتار ہوجائے اور قیدی بنا لیا جائے تو اس کا فدیہ ادا کر کے اس کو چھڑا لینا اب یہ لوگ توریت کے پہلے اور دوسرے حکم کی تو کھلم کھلا مخالفت کرتے تھے اور تیسرے حکم کو بڑے اہتمام کے ساتھ پورا کرتے تھے اسی کو فرمایا کہ توریت کا کچھ حصہ مانتے ہو اور کچھ کے منکر ہوتے ہو اگر یہ لوگ پہلے اور دوسرے حکم کو حکم ہی نہ مانتے ہوں تب تو شریعت موسوی کی رو سے بھی صریح کافر تھے اور تکفرون حقیقی کفر کے معنی میں ہوگا اور اگر حکم کو حکم مان کر خلاف ورزی کرتے تھے جیسا کہ ظاہر بھی ہے تو کفر کا تہدیداً استعمال ہوگا اور یہ بات ایک شرعی اصول کی بنا پر ہم نے کہی ہے ورنہ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار ہی ان کے کفر کے لئے کافی ہے۔ لیکن یہاں اس کفر کی بحث نہیں ہے بلکہ اس کفر میں گفتگو ہے۔ جس کا تعیل توریت کے احکام کے ساتھ ہے۔ صاحب تفسیر عزیزی یہاں کفر سے حقیقی کفر مراد لیتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے احتمال اول میں ذکر کیا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں رسوائی اور ذلت تو ان کی سزا ہے ہی جیسا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور خلفاء راشدین کے دور میں ہوا جو انشاء اللہ آگے آئیگا لیکن اس سے زیادہ بھی سزا ہوسکتی ہے جیسے قتل وغیرہ۔ خلاصہ یہ ہے کہ الاخزی میں کمی کی نفی کا حصہ ہے زیادتی کا نہیں یعنی دنیا کی زندگی میں ان کی ذلت و رسوائی تو ضروری ہے خواہ اس کا وقوع کبھی ہو ۔ باقی اس سے زیادہ بھی کوئی اور سلوک ہو تو ہوسکتا ہے اور چونکہ ان قبائل کی لڑائیاں محض باہمی انتقام اور لغو (فضول باتوں پر ہوا کرتی تھیں اس لئے تظاھرون علیھم بالا ثم دالعددان ) فرمایا کہ ہر حلیف اپنے حلیف کا ظلم اور گناہ پر ساتھ دیتا تھا۔ یعنی لڑائی کا مقصد خواہ کتنا ہی برا ہو مگر اپنے حلیف کا ساتھ دینا ہوتا تھا تو یہ اثم اور عدوان پر تعاون اور امداد ہوئی۔ تظاہر کے معنی ہیں تعاون اثم کے معنی ہیں گناہ اور ذنب عدوان کے معنی ہیں۔ تجاوزنی الظلم ، حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں۔ یعنی اپنی قوم غیر کے ہاتھ پھنسے تو چھڑانے کو موجود ہو اور آپ ان کے ستانے میں قصور نہیں کرتے۔ اگر خدا کے حکم پر چلتے ہو تو دونوں جگہ چلو۔ (موضع القرآن) (تسہیل)