Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 131

سورة طه

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعۡنَا بِہٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡہُمۡ زَہۡرَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۬ ۙ لِنَفۡتِنَہُمۡ فِیۡہِ ؕ وَ رِزۡقُ رَبِّکَ خَیۡرٌ وَّ اَبۡقٰی ﴿۱۳۱﴾

And do not extend your eyes toward that by which We have given enjoyment to [some] categories of them, [its being but] the splendor of worldly life by which We test them. And the provision of your Lord is better and more enduring.

اور اپنی نگاہیں ہرگز چیزوں کی طرف نہ دوڑانا جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو آرائش دنیا کی دے رکھی ہیں تاکہ انہیں اس میں آزمالیں تیرے رب کا دیا ہوا ہی ( بہت ) بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Do not look at the Enjoyment of the Wealthy, be patient in the worship of Allah Allah, the Exalted, says, وَلاَ تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ... And strain not your eyes in longing for the things We have given for enjoyment to various groups of them, the splendor of the life of this world, that We may test them thereby. But the provision of your Lord is better and more lasting. Allah, the Exalted, says to His Prophet Muhammad, "Do not look at what these people of luxury and their likes and peers have of nice comforts. For verily, it is only short-lived splendor and a feeble bounty, which We are using to test them with. And very few of My servants are truly thankful." Mujahid said, أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ (various groups of them), "This means the wealthy people." This means, "Verily, We have given you (O Muhammad) better than that which We have given them." This is just as Allah says in another Ayah, وَلَقَدْ ءاتَيْنَـكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْءَانَ الْعَظِيمَ لااَ تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ And indeed, We have bestowed upon you seven repeatedly recited verses, and the Grand Qur'an. Look not with your eyes ambitiously. (15:87-88) Likewise, that which Allah has stored for His Messenger in the Hereafter is something extremely great. It is an unlimited reward that cannot be described. This is as Allah says, وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى And verily, your Lord will give you so that you shall be well-pleased. (93:5) For this reason, Allah says, ... وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَى But the provision of your Lord is better and more lasting. In the Sahih it is recorded that; Umar bin Al-Khattab entered upon the Messenger of Allah while he was in the small room in which he had separated himself from his wives after he had vowed to stay away from them. When he came in, he saw him (the Prophet) lying down upon a sandy straw mat. There was nothing in the house except a pile of sant tree pods and some hanging equipment. Umar's eyes filled with tears (upon seeing this), so the Messenger of Allah said to him, مَايُبْكِيكَ يَا عُمَرُ What makes you cry, O Umar? He replied, "O Messenger of Allah, verily Kisra and Caesar are living in their luxurious conditions, yet you are the chosen Friend of Allah amongst His creation!" The Prophet said, أَوَ فِي شَكَ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ أُولَيِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا Do you have doubt, O son of Al-Khattab? Those people have had their good hastened for them in the life of this world. Thus, the Prophet was the most abstinent of people concerning worldly luxuries, even though he had the ability to attain them. If he acquired anything of worldly treasures he would spend it on this and that for the servants of Allah. He would never save anything for himself for the next day. Ibn Abi Hatim reported from Abu Sa`id that the Messenger of Allah said, إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا يَفْتَحُ اللهُ لَكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا Verily, the thing I fear most for you all is what Allah will allow you to acquire of the splendor of this world. They (the Companions) said, "What is the splendor of this world, O Messenger of Allah?" He said, بَرَكَاتُ الاَْرْض The blessings of the earth. Qatadah and As-Suddi said, "The splendor of this worldly life means the beautiful adornments of the life of this world." Qatadah said, لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ (that We may test them thereby), "So that We may put them to trial." Concerning Allah's statement,

شکریا تکبر؟ ان کفار کی دنیوی زینت اور ان کی ٹیپ ٹاپ کو تو حسرت بھری نگاہوں سے نہ دیکھ ، یہ توذرا سی دیر کی چیزیں ہیں ۔ یہ صرف ان آزمائش کے لئے انہیں یہاں ملی ہیں کہ دیکھیں شکر وتواضع کرتے ہیں یا ناشکری اور تکبر کرتے ہیں؟ حقیقتاشکر گزاروں کی کمی ہے ۔ ان کے مالداروں کو جو کچھ ملا ہے اس سے تجھے توبہت ہی بہتر نعمت ملی ہے ۔ ہم نے تجھے سات آیتیں دی ہیں جو دوہرائی جاتی ہیں اور قرآن عظیم عطافرمارکھا ہے پس اپنی نظریں ان کے دنیوی سازوسامان کی طرف نہ ڈال ۔ اسی طرح اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لئے اللہ کے پاس جو مہمانداری ہے اس کی نہ توکوئی انتہا ہے اور نہ اس وقت کوئی اس کے بیان کی طاقت رکھتا ہے ۔ تجھے تیرا پرورگار اس قدر دے گا کہ تو راضی رضامند ہوجائے گا ۔ اللہ کی دین بہتر اور باقی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلا کیا تھا اور ایک بالاخانے میں مقیم تھے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ آپ ایک کھردرے بوریے پر لیٹے ہوئے ہیں چمڑے کا ایک ٹکڑا ایک طرف رکھا تھا اور کچھ مشکیں لٹک رہی تھیں ۔ یہ بےسروسامانی کی حالت دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیوں رو دیے ؟ جواب دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قیصروکسریٰ کس قدر عیش وعشرت میں ہے اور آپ باوجود ساری مخلوق میں سے اللہ کے برگزیدہ ہونے کے کس حالت میں ہیں؟ آپ نے فرمایا اے خطاب کے بیٹے کیا اب تک تم شک میں ہی ہو؟ ان لوگوں کو اچھائیوں نے دنیا میں ہی جلدی کر لی ہے ۔ پس رسول صلی اللہ علیہ وسلم باوجود قدرت اور دسترس کے دنیا سے نہایت ہی بےرغبت تھے ۔ جو ہاتھ لگتا اسے راہ للہ دے دیتے اور اپنے لئے ایک پیسہ بھی نہ بچا رکھتے ۔ ابن ابی حاتم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ آپ نے فرمایا مجھے تو تم پر سب سے زیادہ خوف اس وقت کاہے کہ دنیا تمہارے قدموں میں اپنا تمام سازو سامان ڈال دے گی ۔ اپنی برکتیں تم پر الٹ دے گی ۔ الغرض کفار کو زینت کی زندگی ، اور دنیا صرف ان کی آزمائش کے لئے دی جاتی ہے ۔ اپنے گھرانے کے لوگوں کو نماز کی تاکید کرو تاکہ وہ عذاب الٰہی سے بچ جائیں ، خود بھی پابندی کے ساتھ اس کی ادائیگی کرو ۔ اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم سے بچالو ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت مبارکہ تھی کہ رات کو جب تہجد کے لئے اٹھتے تو اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور اسی آیت کی تلاوت فرماتے ۔ ہم تجھ سے رزق کے طالب نہیں ۔ نماز کی پابندی کرلو اللہ ایسی جگہ سے رزوی پہنچائے گا جو خواب خیال میں بھی نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے لئے چھٹکاراکردیتا ہے اور بےشان وگمان جگہ سے روزی پہنچاتا ہے ۔ تمام جنات اور انسان صرف عبادت الٰہی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں رزاق اور زبردست قوتوں کے مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ فرماتا ہے ہم خود تمام مخلوق کے روزی رساں ہیں ہم تمیں طلب کی تکلیف نہیں دیتے ۔ حضرت ہشام کے والد صاحب جب امیر امراء کے مکانوں پر جاتے اور ان کا ٹھاٹھ دیکھتے تو واپس اپنے مکان پر آکر اسی آیت کی تلاوت فرماتے ۔ اور کہتے میرے کنبے والو نماز کی حفاظت کرو نماز کی پابندی کرو ۔ اللہ تم پر رحم فرمائے گا ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تنگی ہوتی تو اپنے گھرکے سب لوگوں کو فرماتے اے میرے گھر والوں نمازیں پڑھو نمازیں قائم رکھو ۔ تمام انبیاء علیہ السلام کا یہی طریقہ رہا ہے کہ اپنی ہر گھبراہٹ اور ہر کام کے وقت نماز شروع کردیتے ۔ ترمذی ابن ماجہ وغیرہ کی قدسی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم میری عبادت کے لئے فارغ ہوجا میں تیرا سینہ امیری اور بےپرواہی سے پر کردوں گا ۔ تیری فقیری اور حاجت کو دور کردوں گا اور اگر تونے یہ نہ کیا تو میں تیرا دل اشغال سے بھر دونگا اور تیری فقیری بند ہی نہ کروں گا ۔ ابن ماجہ شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نے اپنی تمام غور وفکر اور قصدوخیال کو اکٹھا کرکے آخرت کا خیال باندھ لیا اور اسی میں مشغول ہو گیا اللہ تعالیٰ اسے دنیا کی تمام پریشانیوں سے محفوظ کرلے گا ۔ اور جس نے دنیا کی فکریں پال لیں یہاں کے غم مول لئے اللہ کو اس کی مطلقا پرواہ نہ رہے گی خواہ کسی حیرانی میں ہلاک ہو جائے ۔ اور روایت میں ہے کہ دنیا کے غموں میں ہی اسی کی فکروں میں ہی مصروف ہوجانے والے کے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ پریشانیاں ڈال دے گا اور اس کی فقیری اس کی آنکھوں کے سامنے کردے گا اور دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی مقدر میں ہے اور جو دل کا مرکز آخرت کو بنا لے گا اپنی نیت وہی رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے ہر کام کا اطمینان نصیب فرما دے گا اس کے دل کو سیر اور شیر بنا دے گا اور دنیا اس کے قدموں کی ٹھوکروں میں آیا کرے گی ۔ پھر فرمایا دنیا وآخرت میں نیک انجام پرہیزگار لوگ ہی ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے آج رات خواب میں دیکھا کہ گویا ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں ۔ وہاں ہمارے سامنے ابن طاب کے باغ کی تر کھجوریں پیش کی گئی ہیں ۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ دنیا میں بھی انجام کے لحاظ سے ہمارا ہی پلہ گراں رہے گا اور بلندی اور اونچائی ہم کو ہی ملے گی اور ہمارا دین پاک صاف طیب وطاہر کامل ومکمل ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

131۔ 1 یہ وہی مضمون ہے جو اس سے قبل سورة عمران 196۔ 197، سورة حجر، 87۔ 88 اور سورة کہف، 7 وغیرہ میں بیان ہوا ہے۔ 131۔ 2 اس سے مراد آخرت کا اجر وثواب ہے جو دنیا کے مال و اسباب سے بہتر بھی ہے اور اس کے مقابلے میں باقی رہنے والا بھی۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عمر، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، دیکھا کہ آپ ایک کھردری چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور بےسرو سامانی کا یہ عالم ہے، کہ گھر میں چمڑے کی دو چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں۔ حضرت عمر (رض) کی آنکھوں میں بےاختیار آنسو آگئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا، عمر کیا بات ہے، روتے کیوں ہو ؟ عرض کیا یا رسول اللہ ! قیصرو کسرٰی، کس طرح آرام و راحت کی زندگی گزار رہے ہیں اور آپ کا، باوجود اس بات کے کہ آپ افضل الخلق ہیں، یہ حال ہے، فرمایا، عمر کیا تم اب تک شک میں ہو۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کے آرام کی چیزیں دنیا میں ہی دے دی گئی ہیں۔ ' یعنی آخرت میں ان کے لئے کچھ نہیں ہوگا (مسلم بخاری)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٧] یہاں رزق سے مراد صرف کھانے، پینے کی چیزیں ہی نہیں بلکہ رزق کا لفظ اپنے وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے اور اس لفظ کا اطلاق پر اس خداداد نعمت پر ہوتا ہے تو جسمانی یا روحانی اعتبار سے انسان کی تربیت کا باعث بن سکے۔ یعنی اللہ نے آپ کو جو قرآن کریم، منصب رسالت، فتوحات عظیمہ، اور آخرت کے اعلیٰ ترین مراتب عطاء فرمائے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں اس چند روزہ زندگی کے ساز و سامان کی کیا حقیقت ہے۔ لہذا آپ کو اس ساز و سامان کی طرف اور دنیا میں مستغرق لوگوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھنا چاہئے۔ کیونکہ اللہ کا دیا ہوا ایسا رزق ہی ہر لحاظ سے بہتر اور پائیدار ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖٓ ۔۔ : ” مَدَّ یَمُدُّ “ (ن) پھیلانا، لمبا کرنا۔ آنکھیں پھیلانے سے مراد تعجب سے دیر تک دیکھتے رہنا ہے۔ ” مَدَّ یَمُدُّ “ عام طور پر پاؤں یا ہاتھ پھیلانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ” مَدَّ یَدَہُ “ یا ” مَدَّ رِجْلَہُ “ اس نے اپنا ہاتھ پھیلایا یا اپنا پاؤں پھیلایا۔ یہاں آنکھیں پھیلانا استعارہ ہے، یعنی جس طرح پسندیدہ چیز کی طرف شوق اور حرص سے ہاتھ پھیلایا جاتا ہے آپ اپنی آنکھیں مت پھیلائیں۔ معلوم ہوا دیکھنے پر پابندی نہیں، دیکھتے چلے جانے پر پابندی ہے، کیونکہ اس سے دل میں اس چیز کی خواہش پیدا ہوسکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت نہیں رکھتی۔ ” اَزْوَاجًا “ کی تنوین تقلیل کے لیے ہے، یعنی دنیا کی وہ زیب و زینت ہم نے ہر کافر کو نہیں دی، بلکہ ان کے چند قسم کے لوگوں ہی کو دی ہے، کیونکہ بہت سے کفار نہایت بدحال زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ” زَهْرَةَ “ ” زَھْرٌ“ کی واحد ہے، پھول، جیسے ” تَمْرَۃٌ“ ” تَمْرٌ“ کی واحد ہے۔ استعارے کے طور پر زیب و زینت کو بھی ” زَهْرَةَ “ کہتے ہیں، کیونکہ پھول کی طرح زینت بھی نگاہ و دل کو لے جاتی ہے۔ ” زَهْرَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا “ دنیا کی زندگی کی زینت۔ دنیا کی زینت کے جامع بیان کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (١٤) اور سورة توبہ (٢٤) بلکہ انسان کو ملنے والی ہر چیز ہی دنیا کی زندگی کی زینت ہے، چناچہ فرمایا : (وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَزِيْنَتُهَا ۚ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ) [ القصص : ٦٠ ] ” اور تمہیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے سو دنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے۔ “ معلوم ہوا کفار کو ملنے والی کسی بھی چیز کی طرف نگاہ پھیلانا جائز نہیں، کیونکہ یہ سب کچھ ان کے فتنہ و آزمائش کے لیے ہے اور حقیقت میں ان کی زندگی دشوار کرنے کا باعث ہے، جیسا کہ فرمایا : ( فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا ) [ طٰہٰ : ١٢٤ ] ” تو بیشک اس کے لیے تنگ گزران ہے۔ “ اور دیکھیے سورة توبہ (٥٥) ۔ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَّاَبْقٰی : ” تیرے رب کا رزق “ سے مراد حلال رزق ہے، کیونکہ وہ رب کے حکم کے مطابق کمایا گیا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی شان کی بلندی کے لیے اس کی نسبت اپنی طرف کی، ورنہ کافروں کو ملنے والا رزق بھی اللہ تعالیٰ ہی کا عطا کردہ ہے۔ یعنی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی حلال روزی اور آخرت میں اس کا عطا کردہ اجر و ثواب کفار کو ملنے والی نعمتوں سے کہیں بہتر اور پائیدار ہے، کیونکہ دنیا فانی اور آخرت باقی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Worldly wealth is a fleeting thing and is not an evidence of God&s favour, and for good Muslims it is a danger signal وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ (And never stretch your eyes - 20:13) The words are addressed to the Holy Prophet and are intended to provide guidance to his followers. They are told not to cast covetous eyes at the splendor and glitter of those who revel in the enjoyment of worldly pleasures, because all these things are fleeting and transient while the grace and blessings bestowed upon the Holy Prophet and through him upon his followers are everlasting and much more desirable than worldly luxuries. People have always wondered at the wealth and prosperity of the infidels and evil doers despite their being loathsome and contemptible in the eyes of Allah, while pious and obedient Muslims spend their lives in poverty and destitution. Even the great and highly respected Sayyidna ` Umar al-Faruq (رض) was made aware of this glaring disparity one day when he entered the private quarter of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and saw him lying on a mat of rough reeds which left their marks on his body. Sayyidna ` Umar (رض) stood there and wept. Then he said, |"0 Prophet of Allah! The kings of Persia and Byzantium live in comfort and luxury whereas you who are the chosen prophet of Allah and also his beloved live such a harsh life.|" To this the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) replied, |"0 son of Khattab! Has it not dawned upon you yet that Allah has given to these people everything that is dear to them in this world, but they will have no share of the good things in the Hereafter, only punishment and pain?|" This is the reason why the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) chose for himself a life which was free from the pomp and vanity of this wicked world, even though he had the means of accumulating all the comforts and luxuries of life. Whenever he received share of wealth even without physical toil or exertion, he immediately distributed it among the poor and the needy and kept nothing of it for himself. Ibn Abi Hatim has related, quoting Sayyidna Abu Said al-Khadri (رض) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) once said, ان اخوف ما اخاف علیکم ما یفتح اللہ لکم من زھرۃ الدُّنا (ابن کثیر) What I fear most about you is wealth and worldly splendor which will be arrayed before you. (Ibn Kathir) In this Hadith the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has foretold the Muslims about their conquests and the acquisition of vast territories which will bring them untold wealth and means of luxury. But there is no cause to feel satisfaction at these prospects; on the other hand there is every reason to fear such an eventuality because an excess of indulgence in luxuries may make people forget their duty to Allah.

دولت دنیا چند روزہ ہے یہ اللہ کے نزدیک مقبولیت کی علامت نہیں بلکہ مومن کے لئے خطرہ کی چیز ہے : وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ ، اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے اور دراصل ہدایت کرنا امت کو ہے کہ دنیا کے مالداروں سرمایہ داروں کو قسم قسم کی دنیوی رونق اور طرح طرح کی نعمتیں حاصل ہیں۔ آپ ان کی طرف نظر بھی نہ اٹھایئے کیونکہ یہ سب عیش فانی اور چند روزہ ہے اللہ تعالیٰ نے جو نعمت آپ کو اور آپ کے واسطے سے مؤمنین کو عطا فرمائی ہے وہ بدرجہا ان کی اس چند روزہ رونق حیات سے بہتر ہے۔ دنیا میں کفار و فجار کی عیش و عشرت اور دولت و حشمت ہمیشہ ہی سے ہر شخص کے لئے یہ سوال بنتی رہی ہے کہ جب یہ لوگ اللہ کے نزدیک مبغوض اور ذلیل ہیں تو ان کے پاس یہ نعمتیں کیسی اور کیوں ہیں اور اطاعت شعار مؤمنین کی غربت و افلاس کیوں ؟ یہاں تک کہ فاروق اعظم جیسے عالی قدر بزرگ کو اس سوال نے متاثر کیا۔ جس وقت وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آپ کے خاص حجرہ میں داخل ہوئے جس میں آپ خلوت گزیں تھے اور یہ دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک موٹی موٹی تیلیوں کے بوریئے پر لیٹے ہوئے ہیں اور ان تیلیوں کے نشانات آپ کے بدن مبارک پر کھڑے ہوگئے ہیں تو بےاختیار رو پڑے اور عرض کیا یا رسول اللہ یہ کسری و قیصر اور ان کے امراء کیسی کیسی نعمتوں اور راحتوں میں ہیں اور آپ ساری مخلوق میں اللہ کے منتخب رسول اور محبوب ہیں اور آپ کی معیشت کا یہ حال ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے ابن خطاب کیا تم اب تک شک و شبہ میں مبتلا ہو۔ یہ لوگ تو وہ ہیں جن کی لذات و محبوبات اللہ نے اسی دنیا میں ان کو دے دی ہیں آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں وہاں عذاب ہی عذاب ہے (اور مومنین کا معاملہ برعکس ہے) یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا کی زینت اور راحت طلبی سے بالکل بےنیاز اور بےتعلق زندگی کو پسند فرماتے تھے باوجودیکہ آپ کو پوری قدرت حاصل تھی کہ اپنے لئے بہتر سے بہتر راحت کا سامان جمع کرلیں اور جب کبھی دنیا کی دولت آپ کے پاس بغیر کسی محنت مشقت اور سعی و طلب کے آبھی جاتی تھی تو فوراً اللہ کی راہ میں غرباء فقراء پر اس کو خرچ کر ڈالتے تھے اور اپنے واسطے کل کے لئے بھی کچھ باقی نہ چھوڑتے تھے۔ ابن ابی حاتم نے بروایت ابو سعید خدری نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ : ان اخوف ما اخاف علیکم ما یفتح اللہ لکم من زھرۃ الدنیا (ابن کثیر) مجھے تم لوگوں کے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ خوف اور خطرہ ہے وہ دولت وزینت دنیا ہے جو تم پر کھول دی جاوے گی۔ اس حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت کو پہلے ہی یہ خبر بھی دے دی ہے کہ آئندہ زمانے میں تمہاری فتوحات دنیا میں ہوں گی اور مال و دولت اور عیش و عشرت کی فراوانی ہوجائے گی۔ وہ صورت حال کچھ زیادہ خوش ہونے کی نہیں بلکہ ڈرنے کی چیز ہے کہ اس میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کے احکام سے غفلت نہ ہوجائے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ زَہْرَۃَ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۝ ٠ۥۙ لِنَفْتِنَہُمْ فِيْہِ۝ ٠ۭ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَّاَبْقٰي۝ ١٣١ مد أصل المَدّ : الجرّ ، ومنه : المُدّة للوقت الممتدّ ، ومِدَّةُ الجرحِ ، ومَدَّ النّهرُ ، ومَدَّهُ نهرٌ آخر، ومَدَدْتُ عيني إلى كذا . قال تعالی: وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الآية [ طه/ 131] . ومَدَدْتُهُ في غيّه، ومَدَدْتُ الإبلَ : سقیتها المَدِيدَ ، وهو بزر ودقیق يخلطان بماء، وأَمْدَدْتُ الجیشَ بِمَدَدٍ ، والإنسانَ بطعامٍ. قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَ [ الفرقان/ 45] . وأكثر ما جاء الإمْدَادُ في المحبوب والمدُّ في المکروه نحو : وَأَمْدَدْناهُمْ بِفاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ الطور/ 22] أَيَحْسَبُونَ أَنَّما نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مالٍ وَبَنِينَ [ المؤمنون/ 55] ، وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوالٍ وَبَنِينَ [ نوح/ 12] ، يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلافٍ الآية [ آل عمران/ 125] ، أَتُمِدُّونَنِ بِمالٍ [ النمل/ 36] ، وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذابِ مَدًّا[ مریم/ 79] ، وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيانِهِمْ يَعْمَهُونَ [ البقرة/ 15] ، وَإِخْوانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الغَيِ [ الأعراف/ 202] ، وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ [ لقمان/ 27] فمن قولهم : مَدَّهُ نهرٌ آخرُ ، ولیس هو مما ذکرناه من الإمدادِ والمدِّ المحبوبِ والمکروهِ ، وإنما هو من قولهم : مَدَدْتُ الدّواةَ أَمُدُّهَا «1» ، وقوله : وَلَوْ جِئْنا بِمِثْلِهِ مَدَداً [ الكهف/ 109] والمُدُّ من المکاييل معروف . ( م د د ) المد کے اصل معنی ( لمبائی میں ) کهينچنا اور بڑھانے کے ہیں اسی سے عرصہ دراز کو مدۃ کہتے ہیں اور مدۃ الجرح کے معنی زخم کا گندہ مواد کے ہیں ۔ مد النھر در کا چڑھاؤ ۔ مدہ نھر اخر ۔ دوسرا دریا اس کا معاون بن گیا ۔ قرآن میں ہے : أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَ [ الفرقان/ 45] تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارا رب سائے کو کس طرح دراز کرک پھیلا دیتا ہے ۔ مددت عینی الی کذا کسی کیطرف حریصانہ ۔۔ اور للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الآية [ طه/ 131] تم ۔۔ للچائی نظروں سے نہ دیکھنا ۔ مددتہ فی غیہ ۔ گمراہی پر مہلت دینا اور فورا گرفت نہ کرنا ۔ مددت الابل اونٹ کو مدید پلایا ۔ اور مدید اس بیج اور آٹے کو کہتے ہیں جو پانی میں بھگو کر باہم ملا دیا گیا ہو امددت الجیش بمدد کا مددینا ۔ کمک بھیجنا۔ امددت الانسان بطعام کسی کی طعام ( غلہ ) سے مددکرنا قرآن پاک میں عموما امد ( افعال) اچھی چیز کے لئے اور مد ( ثلاثی مجرد ) بری چیز کے لئے ) استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا : وَأَمْدَدْناهُمْ بِفاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ الطور/ 22] اور جس طرح کے میوے اور گوشت کو ان کا جی چاہے گا ہم ان کو عطا کریں گے ۔ أَيَحْسَبُونَ أَنَّما نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مالٍ وَبَنِينَ [ المؤمنون/ 55] کیا یہ لوگ خیا کرتے ہیں ک ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں سے مدد دیتے ہیں ۔ وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوالٍ وَبَنِينَ [ نوح/ 12] اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا ۔ يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلافٍ الآية [ آل عمران/ 125] تمہارا پروردگار پانچ ہزار فرشتے تمہاری مدد کو بھیجے گا ۔ أَتُمِدُّونَنِ بِمالٍ [ النمل/ 36] کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو ۔ وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذابِ مَدًّا[ مریم/ 79] اور اس کے لئے آراستہ عذاب بڑھاتے جاتے ہیں ۔ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيانِهِمْ يَعْمَهُونَ [ البقرة/ 15] اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت اور سرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں ۔ وَإِخْوانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الغَيِ [ الأعراف/ 202] اور ان ( کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں لیکن آیت کریمہ : وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ [ لقمان/ 27] اور سمندر ( کا تمام پانی ) روشنائی ہو اور مہار ت سمندر اور ( روشنائی ہوجائیں ) میں یمددہ کا صیغہ مدہ نھرا اخر کے محاورہ سے ماخوذ ہے اور یہ امداد یا مد سے نہیں ہے جو کسی محبوب یا مکروہ وہ چیز کے متعلق استعمال ہوتے ہیں بلکہ یہ مددت الداواۃ امد ھا کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی دوات میں روشنائی ڈالنا کے ہیں اسی طرح آیت کریمہ : وَلَوْ جِئْنا بِمِثْلِهِ مَدَداً [ الكهف/ 109] اگرچہ ہم دیسا اور سمندر اس کی مددکو لائیں ۔ میں مداد یعنی روشنائی کے معنی مراد ہیں ۔ المد۔ غلہ ناپنے کا ایک مشہور پیمانہ ۔ ۔ عين ويقال لذي العَيْنِ : عَيْنٌ «3» ، وللمراعي للشیء عَيْنٌ ، وفلان بِعَيْنِي، أي : أحفظه وأراعيه، کقولک : هو بمرأى منّي ومسمع، قال : فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنا[ الطور/ 48] ، وقال : تَجْرِي بِأَعْيُنِنا [ القمر/ 14] ، وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنا[هود/ 37] ، أي : بحیث نریونحفظ . وَلِتُصْنَعَ عَلى عَيْنِي[ طه/ 39] ، أي : بکلاء تي وحفظي . ومنه : عَيْنُ اللہ عليك أي : كنت في حفظ اللہ ورعایته، وقیل : جعل ذلک حفظته وجنوده الذین يحفظونه، وجمعه : أَعْيُنٌ وعُيُونٌ. قال تعالی: وَلا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ [هود/ 31] ، رَبَّنا هَبْ لَنا مِنْ أَزْواجِنا وَذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أَعْيُنٍ [ الفرقان/ 74] . ويستعار الْعَيْنُ لمعان هي موجودة في الجارحة بنظرات مختلفة، واستعیر للثّقب في المزادة تشبيها بها في الهيئة، وفي سيلان الماء منها فاشتقّ منها : سقاء عَيِّنٌ ومُتَعَيِّنٌ: إذا سال منها الماء، وقولهم : عَيِّنْ قربتک «1» ، أي : صبّ فيها ما ينسدّ بسیلانه آثار خرزه، وقیل للمتجسّس : عَيْنٌ تشبيها بها في نظرها، وذلک کما تسمّى المرأة فرجا، والمرکوب ظهرا، فيقال : فلان يملك كذا فرجا وکذا ظهرا لمّا کان المقصود منهما العضوین، وقیل للذّهب : عَيْنٌ تشبيها بها في كونها أفضل الجواهر، كما أنّ هذه الجارحة أفضل الجوارح ومنه قيل : أَعْيَانُ القوم لأفاضلهم، وأَعْيَانُ الإخوة : لنبي أب وأمّ ، قال بعضهم : الْعَيْنُ إذا استعمل في معنی ذات الشیء فيقال : كلّ ماله عَيْنٌ ، فکاستعمال الرّقبة في المماليك، وتسمية النّساء بالفرج من حيث إنه هو المقصود منهنّ ، ويقال لمنبع الماء : عَيْنٌ تشبيها بها لما فيها من الماء، ومن عَيْنِ الماء اشتقّ : ماء مَعِينٌ. أي : ظاهر للعیون، وعَيِّنٌ أي : سائل . قال تعالی: عَيْناً فِيها تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا[ الإنسان/ 18] ، وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] ، فِيهِما عَيْنانِ تَجْرِيانِ [ الرحمن/ 50] ، يْنانِ نَضَّاخَتانِ [ الرحمن/ 66] ، وَأَسَلْنا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ [ سبأ/ 12] ، فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الحجر/ 45] ، مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الشعراء/ 57] ، وجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ [ الدخان/ 25- 26] . وعِنْتُ الرّجل : أصبت عَيْنَهُ ، نحو : رأسته وفأدته، وعِنْتُهُ : أصبته بعیني نحو سفته : أصبته بسیفي، وذلک أنه يجعل تارة من الجارحة المضروبة نحو : رأسته وفأدته، وتارة من الجارحة التي هي آلة في الضّرب فيجري مجری سفته ورمحته، وعلی نحوه في المعنيين قولهم : يديت، فإنه يقال : إذا أصبت يده، وإذا أصبته بيدك، وتقول : عِنْتُ البئر أثرت عَيْنَ مائها، قال :إِلى رَبْوَةٍ ذاتِ قَرارٍ وَمَعِينٍ [ المؤمنون/ 50] ، فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِماءٍ مَعِينٍ [ الملک/ 30] . وقیل : المیم فيه أصليّة، وإنما هو من : معنت «2» . وتستعار العَيْنُ للمیل في المیزان ويقال لبقر الوحش : أَعْيَنُ وعَيْنَاءُ لحسن عينه، وجمعها : عِينٌ ، وبها شبّه النّساء . قال تعالی: قاصِراتُ الطَّرْفِ عِينٌ [ الصافات/ 48] ، وَحُورٌ عِينٌ [ الواقعة/ 22] . ( ع ی ن ) العین اور عین کے معنی شخص اور کسی چیز کا محافظ کے بھی آتے ہیں اور فلان بعینی کے معنی ہیں ۔ فلاں میری حفاظت اور نگہبانی میں ہے جیسا کہ ھو بمر ا ئ منی ومسمع کا محاورہ ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنا[ الطور/ 48] تم تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہو ۔ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی ۔ وَلِتُصْنَعَ عَلى عَيْنِي[ طه/ 39] اور اس لئے کہ تم میرے سامنے پر دریش پاؤ ۔ اور اسی سے عین اللہ علیک ہے جس کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت اور نگہداشت فرمائے یا اللہ تعالیٰ تم پر اپنے نگہبان فرشتے مقرر کرے جو تمہاری حفاظت کریں اور اعین وعیون دونوں عین کی جمع ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَلا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ [هود/ 31] ، اور نہ ان کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ ۔ رَبَّنا هَبْ لَنا مِنْ أَزْواجِنا وَذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أَعْيُنٍ [ الفرقان/ 74] اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے آ نکھ کی ٹھنڈک عطا فرما ۔ اور استعارہ کے طور پر عین کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے جو مختلف اعتبارات سے آنکھ میں پائے جاتے ہیں ۔ مشکیزہ کے سوراخ کو عین کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ہیئت اور اس سے پانی بہنے کے اعتبار سے آنکھ کے مشابہ ہوتا ہے ۔ پھر اس سے اشتقاق کے ساتھ کہا جاتا ہے ۔ سقاء عین ومعین پانی کی مشک جس سے پانی ٹپکتا ہو عین قر بتک اپنی نئی مشک میں پانی ڈالواتا کہ تر ہو کر اس میں سلائی کے سوراخ بھر جائیں ، جاسوس کو عین کہا جاتا ہے کیونکہ وہ دشمن پر آنکھ لگائے رہتا ہے جس طرح کو عورت کو فرج اور سواری کو ظھر کہا جاتا ہے کیونکہ ان دونوں سے مقصود یہی دو چیزیں ہوتی ہیں چناچنہ محاورہ ہے فلان یملک کذا فرجا وکذا ظھرا ( فلاں کے پاس اس قدر لونڈ یاں اور اتنی سواریاں ہیں ۔ (3) عین بمعنی سونا بھی آتا ہے کیونکہ جو جواہر میں افضل سمجھا جاتا ہے جیسا کہ اعضاء میں آنکھ سب سے افضل ہوتی ہے اور ماں باپ دونوں کی طرف سے حقیقی بھائیوں کو اعیان الاخوۃ کہاجاتا ہے ۔ (4) بعض نے کہا ہے کہ عین کا لفظ جب ذات شے کے معنی میں استعمال ہوجی سے کل مالہ عین تو یہ معنی مجاز ہی ہوگا جیسا کہ غلام کو رقبۃ ( گردن ) کہہ دیا جاتا ہے اور عورت کو فرج ( شرمگاہ ) کہہ دیتے ہیں کیونکہ عورت سے مقصود ہی یہی جگہ ہوتی ہے ۔ (5) پانی کے چشمہ کو بھی عین کہاجاتا ہے ۔ کیونکہ اس سے پانی ابلتا ہے جس طرح کہ آنکھ سے آنسو جاری ہوتے ہیں اور عین الماء سے ماء معین کا محاورہ لیا گیا ہے جس کے معنی جاری پانی کے میں جو صاف طور پر چلتا ہوا دکھائی دے ۔ اور عین کے معنی جاری چشمہ کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : عَيْناً فِيها تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا[ الإنسان/ 18] یہ بہشت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے ۔ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] اور زمین میں چشمے جاری کردیئے ۔ فِيهِما عَيْنانِ تَجْرِيانِ [ الرحمن/ 50] ان میں دو چشمے بہ رہے ہیں ۔ يْنانِ نَضَّاخَتانِ [ الرحمن/ 66] دو چشمے ابل رہے ہیں ۔ وَأَسَلْنا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ [ سبأ/ 12] اور ان کیلئے ہم نے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا ۔ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الحجر/ 45] باغ اور چشموں میں ۔ مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الشعراء/ 57] باغ اور چشمے اور کھیتیاں ۔ عنت الرجل کے معنی ہیں میں نے اس کی آنکھ پر مارا جیسے راستہ کے معنی ہوتے ہیں میں نے اس کے سر پر مارا فادتہ میں نے اس کے دل پر مارا نیز عنتہ کے معنی ہیں میں نے اسے نظر بد لگادی جیسے سفتہ کے معنی ہیں میں نے اسے تلوار سے مارا یہ اس لئے کہ اہل عرب کبھی تو اس عضو سے فعل مشتق کرتے ہیں جس پر مارا جاتا ہے اور کبھی اس چیز سے جو مار نے کا آلہ ہوتی ہے جیسے سفتہ ورمحتہ چناچہ یدیتہ کا لفظ ان ہر دومعنی میں استعمال ہوتا ہے یعنی میں نے اسے ہاتھ سے مارا یا اس کے ہاتھ پر مارا اور عنت البئر کے معنی ہیں کنواں کھودتے کھودتے اس کے چشمہ تک پہنچ گیا قرآن پاک میں ہے :إِلى رَبْوَةٍ ذاتِ قَرارٍ وَمَعِينٍ [ المؤمنون/ 50] ایک اونچی جگہ پر جو رہنے کے لائق تھی اور ہوا پانی جاری تھا ۔ فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِماءٍ مَعِينٍ [ الملک/ 30] تو ( سوائے خدا کے ) کون ہے جو تمہارے لئے شیریں پال کا چشمہ بہالائے ۔ بعض نے کہا ہے کہ معین میں لفظ میم حروف اصلیہ سے ہے اور یہ معنت سے مشتق ہے جسکے معنی ہیں کسی چیز کا سہولت سے چلنا یا بہنا اور پر بھی بولا جاتا ہے اور وحشی گائے کو آنکھ کی خوب صورتی کہ وجہ سے اعین دعیناء کہاجاتا ہے اس کی جمع عین سے پھر گاواں وحشی کے ساتھ تشبیہ دے کر خوبصورت عورتوں کو بھی عین کہاجاتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : قاصِراتُ الطَّرْفِ عِينٌ [ الصافات/ 48] جو نگاہیں نیچی رکھتی ہوں ( اور ) آنکھیں بڑی بڑی ۔ وَحُورٌ عِينٌ [ الواقعة/ 22] اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ۔ متع الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا ارتفع في أول النّبات، والْمَتَاعُ : انتفاعٌ ممتدُّ الوقت، يقال : مَتَّعَهُ اللهُ بکذا، وأَمْتَعَهُ ، وتَمَتَّعَ به . قال تعالی: وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] ، ( م ت ع ) المتوع کے معنی کیس چیز کا بڑھنا اور بلند ہونا کے ہیں جیسے متع النھار دن بلند ہوگیا ۔ متع النسبات ( پو دا بڑھ کر بلند ہوگیا المتاع عرصہ دراز تک فائدہ اٹھانا محاورہ ہے : ۔ متعہ اللہ بکذا وامتعہ اللہ اسے دیر تک فائدہ اٹھانے کا موقع دے تمتع بہ اس نے عرصہ دراز تک اس سے فائدہ اٹھایا قران میں ہے : ۔ وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] اور ایک مدت تک ( فوائد دینوی سے ) ان کو بہرہ مندر کھا ۔ زوج يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات الْمُتَزَاوِجَةُ زَوْجٌ ، ولكلّ قرینین فيها وفي غيرها زوج، کالخفّ والنّعل، ولكلّ ما يقترن بآخر مماثلا له أو مضادّ زوج . قال تعالی: فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39] ( ز و ج ) الزوج جن حیوانات میں نرا اور پایا جاتا ہے ان میں سے ہر ایک دوسرے کا زوج کہلاتا ہے یعنی نرا اور مادہ دونوں میں سے ہر ایک پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ حیوانات کے علا وہ دوسری اشیائیں سے جفت کو زوج کہا جاتا ہے جیسے موزے اور جوتے وغیرہ پھر اس چیز کو جو دوسری کی مما ثل یا مقابل ہونے کی حثیت سے اس سے مقترن ہو وہ اس کا زوج کہلاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39] اور خر کار اس کی دو قسمیں کیں ( یعنی مرد اور عورت ۔ حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ «1» ، وتارة عن الأرذل فيقابل بالخیر، نحو : أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] ، دنا اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا ہ ۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ فتن أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] ( ف ت ن ) الفتن دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔ بقي البَقَاء : ثبات الشیء علی حاله الأولی، وهو يضادّ الفناء، وعلی هذا قوله : بَقِيَّتُ اللَّهِ خَيْرٌ لَكُمْ [هود/ 86] ( ب ق ی ) البقاء کے معنی کسی چیز کے اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں یہ فناء کی ضد ہے ۔ یہ باب بقی ( س) یبقی بقاء ہے ۔ یہی معنی آیت کریمہ : بَقِيَّتُ اللَّهِ خَيْرٌ لَكُمْ [هود/ 86] ، میں بقیۃ اللہ کے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف مضاف ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣١) اور آپ ہرگز ان اموال کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیے کہ جن سے ہم نے بنو قریظہ اور بنو نضیر (یہودی قبائل) کو ان کو آزمایش کے لیے متمتع کر رکھا تھا تاکہ اس دنیاوی رونق و بہار سے ان کی آزمایش کریں یہ محض دنیاوی زندگی کی رونق ہے اور دنیا میں جو ان کو مال و دولت دے رکھا ہے، اس سے جنت بہت افضل اور دیرپا ہے۔ شان نزول : ( آیت) ” ولا تمدن عینیک “۔ (الخ) ابن شیبہ (رح)، ابن مردویہ (رح)، بزاز (رح) اور ابو یعلی (رح) نے حضرت ابو رافع (رض) سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں ایک مہمان آئے، آپ نے مجھے ایک یہودی کے پاس بھیجا کہ رجب کے چاند تک کچھ آٹا قرض لے آؤ اس نے انکار کردیا اور کہنے لگا کہ کوئی چیز رہن رکھ دو میں وہاں سے آپ کی خدمت میں آیا اور آپ کو صورت حال بتائی، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم میں آسمان والوں میں بھی امین ہوں اور زمین میں بھی امین ہوں، ابورافع (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں آپ کے پاس سے نہیں آیا تاآنکہ فورا آپ پر یہ آیت کریمہ نازل ہوگئی، یعنی اور ہرگز ان چیزوں کی طرف آپ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیے جن کو ہم نے کفار کی مختلف جماعتوں کو ان کی آزمایش کے لیے دے کر رکھا ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣١ (وَلَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ ) ” ہو بہو یہی الفاظ سورة الحجر ‘ آیت ٨٨ میں بھی آئے ہیں کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ! ان کے مال و اسباب اور دنیوی آسائش و آرائش کے سامان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں ‘ مبادا کسی کو گمان ہو کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نظروں میں بھی ان چیزوں کی کوئی وقعت اور اہمیت ہے۔ (زَہْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَالا لِنَفْتِنَہُمْ فِیْہِ ط) ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو حقیقت آشنا ہیں ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو جانتے ہیں کہ یہ دنیا اور اس کا مال و متاع سب کچھ فانی ہے اور مقصود اس سے صرف لوگوں کی آزمائش ہے۔ سورة الکہف میں اس حقیقت کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : (اِنَّاجَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّہَا لِنَبْلُوَہُمْ اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ) ” ہم نے تو جو کچھ بھی زمین پر ہے اسے اس کا بناؤ سنگھار بنایا ہے تاکہ انہیں ہم آزمائیں کہ ان میں کون بہتر ہے عمل میں۔ “ (وَرِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی (رض) ” اور وہ رزق کون سا ہے ؟ سورة الحجر کی آخری آیات سے موازنہ کریں (جن آیات سے ان آیات کی مشابہت کا ذکر کیا گیا ہے) تو اس سوال کا جواب ان الفاظ میں ملتا ہے : (وَلَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ ) ” اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی ہیں سات بار بار پڑھی جانے والی آیات اور عظمت والا قرآن۔ “ یعنی سورة الفاتحہ کی سات آیات ! یہ سورت ایک مؤمن کے لیے زندگی بھر کا وظیفہ ہے۔ ہر نماز کی ہر رکعت میں وہ اس کی تلاوت کرتا ہے۔ گویا یہ روحانی غذا اور روحانی دولت جو ایک مؤمن کو اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وساطت سے عطا ہوئی ہے ‘ دنیوی مال و متاع سے کہیں زیادہ عمدہ اور کہیں زیادہ باقی رہنے والی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

113. It means: It does not behoove you and your companions to be envious of the riches of the wicked people who are amassing wealth by unlawful means. The best thing for you is the lawful provision which you earn by your hard labor, even though this may be meager in quantity. That is better for the pious and righteous and is of everlasting virtue.

سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :113 رزق کا ترجمہ ہم نے رزق حلال کیا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی حرام مال کو رزق رب سے تعبیر نہیں فرمایا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارا اور تمہارے ساتھی اہل ایمان کا یہ کام نہیں ہے کہ یہ فسّاق و فجّار ناجائز طریقوں سے دولت سمیٹ سمیٹ کر اپنی زندگی میں جو ظاہر چمک دمک پیدا کر لیتے ہیں ، اس کو رشک کی نگاہ سے دیکھو ۔ یہ دولت اور یہ شان و شوکت تمہارے لیے ہرگز قابل رشک نہیں ہے ۔ جو پاک رزق تم اپنی محنت سے کماتے ہو وہ خواہ کتنا ہی تھوڑا ہو ، راستباز اور ایماندار آدمیوں کے لیے وہی بہتر ہے اور اسی میں وہ بھلائی ہے جو دنیا سے آخرت تک برقرار رہنے والی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٣١:۔ مسند بزار مسند ابویعلی ‘ مصنف ابن ابی شیبہ تفسیر ابن مردویہ وغیرہ ١ ؎ میں جو شان نزول اس آیت کی ابورافع (رض) کی روات سے بیان کی گئی ہے اس میں ابو رافع (رض) کہتے ہیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں ایک روز کوئی مہمان آیا تھا اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں اس روز کچھ کھانے کو نہیں تھا اس واسطے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ کو ایک یہودی سے کچھ آٹا قرض لینے کو بھیجا۔ اس یہودی نے جواب دیا کہ بغیر کوئی چیز گروی رکھنے کے میں قرض نہیں دیتا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس یہودی کا جواب سن کر بڑا رنج ہوا اور آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان میں مجھ کو صاحب اعتبار کیا ہے بغیر کسی چیز کے گروی رکھنے کے وہ آٹا قرض دیتا تو ضرور اس کا قرضہ ادا کردیتا۔ پھر آپ نے اپنی زرہ گروی رکھنے کو دی ‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ‘ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ بد دین لوگوں کو دنیا میں چند روز کے لیے خدا تعالیٰ نے کچھ ثروت یا کچھ خوش حالی جو دی ہے ‘ نیک لوگوں کو اس پر کچھ نظر نہیں ڈالنی چاہیے کیونکہ نیک لوگوں کے لیے عاقبت میں جو کچھ خدا نے ہمیشہ کے لیے رکھا ہے اس کے مقابلہ میں اس دنیا کی چند روزہ ثروت اور خوشحالی کی کچھ حقیقت نہیں ہے اور دنیا میں ان لوگوں کو خدا تعالیٰ نے جو کچھ خوش حالی دی ہے وہ فقط خفگی کے لیے دی ہے کہ خوش حالی کے سبب سے ان کی اور سرکشی بڑھے پھر ان سے ایک ہی دفعہ مواخذہ کیا جائے گا۔ مسند امام احمد ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے ٢ ؎ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ دنیا کی خوشحالی کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی اگر قدرو منزلت ہوتی تو کسی منکر شریعت کو میٹھے پانی کا ایک گھونٹ تک بھی پینے کو اللہ تعالیٰ نہ دیتا ‘ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ٣ ؎۔ معتبر سند سے مسند امام احمد شعب الایمان بیہقی ‘ تفسیر ابن ابی حاتم تفسیر ابن المنذر وغیرہ میں عقبہ بن عامر سے روایت ہے ٤ ؎۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو باوجود بد دینی کے دنیا میں فراغت اور خوشحالی سے رکھتا ہے تو جان لو کہ وہ خوش حالی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک جانچ ہے پھر آپ نے قرآن شریف کی یہ آیت پڑھی (فلما نسوا ماذکروا بہ فتحنا علیھم ابواب کل شئی۔ الایۃ) جس کا مطلب یہ ہے کہ جب لوگ وعظ ونصیحت پر عمل نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کی دنیا کی سب مرادیں پوری کردیتا ہے ‘ پھر ایک دفعہ ہی ان کو پکڑ لیتا ہے ‘ حاصل کلام ہے کہ دنیا کی زیادہ خوشحالی دیندار کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسی ہے ‘ جیسے بیمار آدمی کے لیے بد پرہیزی کی چیز چناچہ مستدرک حاکم ‘ صحیح ابن حبان اور طبرانی میں معتبر سند سے ابوسعید خدری (رض) ٥ ؎‘ رافع بن خدیج ٦ ؎ اور ابی قتادہ ٧ ؎ کی روایتیں ہیں۔ جن میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی مثال بیان فرمائی ہے کہ دیندار شخص کو اللہ تعالیٰ دنیا سے اس طرح بچاتا ہے جس طرح کوئی شخص اپنے بیمار آدمی کو بد پرہیزی کی چیز سے بچاتا ہے پھر یہ ایک عادتی بات ہے کہ جس طرح بیمار کی زیست کی توقع نہیں رہتی اس کا پرہیز توڑ دیا جاتا ہے اور جو کچھ کھانے پینے کو وہ بیمار مانگتا ہے وہ اس کو دے دیا جاتا ہے اسی طرح جو لوگ اس طرح کے ناامید بیمار کی حالت تک حرص دنیا میں پہنچ جاتے ہیں کہ آخرت کی بہبودی سے بالکل ناامید ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی دنیا کی سب تمنا پوری کردیتا ہے اور وہ پرہیز ان کا توڑ دیتا ہے جو دین داروں کے لیے اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ پھر جس طرح بد پرہیز بیمار فورا ہلاک ہوجاتا ہے اسی طرح ایسے لوگوں سے مواخذہ ہوجاتا ہے۔ یہ ابو رافع (رض) اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پروردہ ہیں ان کا نام ابراہیم ہے ‘ ابو رافع (رض) کی یہ شان نزول کی روایت تفسیر اسحاق بن راہویہ ‘ اور تفسیر محمد بن ابرہیم ابن منذر میں بھی ہے ٨ ؎۔ یہ دونوں کتابیں ٣٠٠ ھ کی معتبر تفسیروں میں ہیں ‘ یہ اسحاق بن راہویہ فن حدیث میں امیر المؤمنین مشہور اور امام بخاری (رح) کے استادوں میں ہیں ‘ امام بخاری (رح) نے ان ہی کی ترغیب سے صحیح بخاری کی تالیف کی ہے۔ چناچہ حافظ ابن حجر (رح) نے مقدمہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں صحیح سند سے امام بخاری کا قول لکھا ہے جس میں امام بخاری (رح) نے یہ بات جتلائی ہے کہ صحیح بخاری ان کے استاد اسحاق بن راہویہ کی ترغیب سے انہوں نے تالیف کی ہے نیشاپور کے علماء میں یہ محمد بن ابراہیم بن المنذر مشہور اور ان کی تالیف کی کتابیں معتبر ہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا نیک لوگوں کے لیے جنت میں جو نعمتیں پیدا کی گئی ہیں وہ نہ دنیا میں کسی نے آنکھوں سے دیکھیں ‘ نہ کانوں سے سنیں ‘ نہ کسی دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے ٩ ؎۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمر (رض) کی روایت بھی گزر چکی ہے ١٠ ؎۔ جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب ہمیشہ کے دوزخ میں رہنے والے دوزخی دوزخ میں روجاویں گے تو موت کو ذبح کیا جاکر جنتیوں اور دوزخیوں کو یہ حکم سنا دیا جائے گا کہ یہ نعمتیں ہمیشہ رہیں گی اور جو شخص جہاں ہے ‘ ہمیشہ وہیں دوزخ اور جنت میں رہے گا ‘ یہ حدیثیں رزق ربک خیر وابقی کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ عقبیٰ کی خوشحالی کے آگے دنیا کی خوشحالی کی کچھ حقیقت نہیں ‘ کیونکہ دنیا کی خوشحالی میں جو راحت کی چیزیں ہیں ‘ ان میں کوئی چیز ایسی نہیں کہ جو نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھی ہوں نہ کانوں سے سنی ہوں ‘ نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزرا ہو اسی طرح دنیا کی راحت کی چیزوں اور ان کے برتنے والوں کے پیچھے ہر وقت فنا اور موت لگی ہوئی ہے عقبیٰ کی راحت کی چیزوں کو ایسی ہمیشگی ہے کہ ان کے برتنے والوں کو نہ کبھی موت کا اندیشہ ہے ‘ نہ وہ راحت کی چیزیں نبڑنے والی ہیں۔ ١ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٣١٢ ج ٤۔ ٢ ؎ مشکوٰۃ ص ٤٤١ کتاب الرقاق ‘ فصل ثانی۔ ٣ ؎ الترغیب والترہیب ص ١٧٢ ج ٤۔ ٤ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ١٢ ج ٣ ومشکوٰۃ ؎ ص ٢٢٣ ج ١ بروایت عبد اللہ بن عمر (رض) ؎ شرح صحیح مسلم امام نووی ص ٣٢٢ ج ١۔ ٥ ؎ الترغیب والترہیب ص ٣٢ ج ٤۔ ٦ ؎ ایضا۔ ٧ ؎ مشکوٰۃ ص ٤٤٨ باب فضل الفقراء ) ٨ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٣١٣ ج ٤ مگر الفاظ مختلف ہیں۔ ٩ ؎ مشکوٰۃ باب صنقہ اہل الخنۃ۔ ١٠ ؎ بحوالہ مشکوٰۃ ص ٤٩٣‘ باب الحوض والشفاعۃ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:131) لا تمدن۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر بانون تاکید ثقیلہ مد یمد مدا (باب نصر) المد کے اصل معنی (لمبائی میں) کھینچنے اور بڑھانے کے ہیں اسی سے عرصہ دراز کو مدت کہتے ہیں مددت عینی الی کذا۔ کسی کی طرف حریصانہ اور للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا۔ لا تمدن عینیک الی (دنیا کا سازوسامان جو کفار کو دیا گیا ہے) تو اس کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھ ۔ مددت فی۔ مہلت دینا متعنا۔ متع یمتع تمتیع (تفعیل) ہم نے دنیاوی سامان دے کر بہر مند کیا۔ ما اسمیہ موصولہ اور بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما ہے۔ ما متعنا بہ۔ جو دنیاوی سامان ہم نے دیا۔ ازواجا منہم۔ ان میں کے چند گروہ۔ یہ متعنا کا مفعول ہے۔ لا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منہم (کافروں کے) جن چند گروہوں کو ہم نے دنیاوی سامان دے کر متمتع کیا ہے تو اس کی طرف ہرگز آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھ۔ زھرۃ الحیوۃ الدنیا۔ زھرۃ مضاف۔ جعلناہم کا مفعول ہے اسی لئے منصوب ہے یا یہ منصوب اس وجہ سے ہے کہ متعنا کا مفعول ثانی ہے۔ اور متعنا اس صورت میں اعطینا کے معنی کو متضمن ہے۔ لنفتنہم۔ لام برائے تعلیل نفتن مجارع منصوب جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تاکہ ہم ان کا امتحان لیں۔ فنتۃ وفتون مصدر۔ رزق ربک۔ تیرے پروردگار کا رزق۔ یعنی وہ اجرو ثواب جو آخرت میں آپ کے لئے ہوگا اور نبوت و ہدایت جو اس دنیا میں آپ کو عطا کر رکھی ہے۔ یا رزق سے مراد رزق حلال ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی رزق کو اپنی طرف منسوب نہیں کرنا ماسوائے اس رزق کے جو طیب اور حلال ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی دنیا میں حلال روزی اور آخرت میں اجر وثواب

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ مطلب اوروں کو سنانا ہے، کہ جب معصوم کے لئے یہ ممانعت ہے جنہیں احتمال بھی نہیں تو غیر معصوم کو تو اس کا اہتمام کیونکر ضروری نہ ہوگا، آزمائش یہ کہ کون احسان مانتا ہے اور کون سرکشی کرتا ہے۔ 5۔ خلاصہ کلام کا یہ ہوا کہ نہ ان کی اعراض کی طرف التفات کیا جاوے نہ ان کے اعراض کی طرف، سب کا انجام عذاب ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تیسری تلقین۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فطری اور طبعی طور پر مستغنی طبیعت پیدا فرمایا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یتیمی اور انتہائی غربت کا دور دیکھا لیکن کسی کے سامنے دست سوال نہیں پھیلایا۔ نبوت کے دور میں بھی ایسے مواقع آئے کہ کئی کئی دن تک گھر میں چولہا نہیں جلتا تھا۔ اس کے باوجود اپنے اور بیگانے سے کچھ مانگنا تو درکنار کبھی کسی سے اپنی تنگدستی کا اشارتاً بھی ذکر نہیں کیا۔ اسی لیے مفسرین نے اس آیت کا یہ مفہوم لیا ہے کہ آپ کو ان الفاظ سے مخاطب کرنے کا معنٰییہ ہے کہ آپ مالدار طبقے کے بارے میں ایک حد سے زیادہ امید نہ رکھیں کہ یہ لوگ اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں انواع و اقسام کی نعمتیں اور دنیا کی زیب وزینت اس لیے دی ہے تاکہ ان کو اچھی طرح آزمایا جائے۔ تیرے رب کا بہتر اور حقیقی رزق وہ ہے جو ہمیشہ رہنے والا ہے۔ عام طور پر رزق کا معنٰیکھانے پینے والی چیز لیا جاتا ہے۔ لیکن اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے پیدا فرمائی ہے۔ یہاں ” رِزْقُ رَبِّک “ کے الفاظ استعمال فرما کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور آپ کے ذریعے یہ بات سمجھائی ہے کہ حقیقی رزق وہ ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جنت میں اپنے بندوں کو عنایت فرمائے گا۔ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بُرَیْدَۃَ یَقُولُ کَانَ رَسُول اللَّہ یَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ عَلَیْہِمَا السَّلاَمُ عَلَیْہِمَا قَمِیصَانِ أَحْمَرَانِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُول اللَّہِ مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَہُمَا وَوَضَعَہُمَا بَیْنَ یَدَیْہِ ثُمَّ قَالَ صَدَقَ اللَّہُ (إِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلاَدُکُمْ فِتْنَۃٌ) فَنَظَرْتُ إِلَی ہَذَیْنِ الصَّبِیَّیْنِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّی قَطَعْتُ حَدِیثِی وَرَفَعْتُہُمَا) [ رواہ الترمذی : باب مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ عَلَیْہِمَا السَّلاَمُ ] ” حضرت عبداللہ بن بریدہ (رض) سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے باپ بریدہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم کو واعظ کر رہے تھے اچانک حسن اور حسین (رض) آئے انہوں نے چھوٹی چھوٹی سرخ قمیض پہن رکھی تھیں وہ چلتے ہوئے گر رہے تھے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر سے نیچے اترے اور ان کو اپنے ہاتھوں پر اٹھا کر فرمایا۔ اللہ نے سچ کہا ہے (کہ بیشک تمہارے مال واولاد تمہارے لیے فتنہ ہیں) میں نے ان دونوں بچوں کو دیکھا کہ وہ گرتے گراتے آرہے تھے تو میں ضبط نہ کرسکا میں نے اپنی بات کاٹ کر انہیں اٹھا لیا۔ “ (عَنْ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ یُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبِی ِّ قَالَ کَان بالْکُوفَۃِ أَمِیرٌ قَالَ فَخَطَبَ یَوْماً فَقَالَ إِنَّ فِی إِعْطَاءِ ہَذَا الْمَالِ فِتْنَۃً وَفِی إِمْسَاکِہِ فِتْنَۃً وَبِذَلِکَ قَامَ بِہِ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِی خُطْبَتِہِ حَتَّی فَرَغَ ثُمَّ نَزَلَ ) [ رواہ احمد : مسند عبداللہ بن الشخیر ] ” مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے روایت ہے وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صحابی کے بارے میں بیان کرتے ہیں جو کوفہ میں امیر تھے انہوں نے ایک دن اپنے خطبے میں کہا کہ مال کے عطا کیے جانے میں بھی فتنہ ہے اور اس کے روک لیے جانے میں بھی فتنہ ہے اسی بات کو بیان کرنے کے لیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر چڑھے اور بیان کرنے کے بعد نیچے اتر آئے۔ “ (روک لیے جانے سے مراد غربت ہے جو انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش ہے۔ ) مسائل ١۔ دنیا داروں کے مال و دولت کو للچائی آنکھ سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ٢۔ دنیا کا مال ہر انسان بالخصوص کافر کے لیے بڑی آزمائش ہے۔ ٣۔ حقیقی اور ہمیشہ رہنے والا رزق جنت کی نعمتیں ہیں۔ تفسیر بالقرآن مال اور اولاد آزمائش ہیں : ١۔ مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی زینت ہیں۔ (الکہف : ٤٦) ٢۔ مال اور اولاد تمہارے لیے فتنہ ہے۔ (التغابن : ١٥) ٣۔ مال واولاد انسان کے لیے آزمائش ہے اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔ (التغابن : ١٥) ٤۔ یقیناً مال اور اولاد تمہارے لیے فتنہ ہیں اور اللہ کے ہاں ہی بہتر اجر ہے۔ ( الانفال : ٢٨) ٥۔ اے ایمان والو ! تمہیں تمہارے مال اور اولاد ہلاکت میں میں مبتلا نہ کردیں۔ ( المنافقون : ٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ورزق ربک خیر و ابقی (٠٢ : ١٣١) ” اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق ہی اچھا اور پائندہ ہے۔ “ اللہ کا دیا ہوا رزق ایک نعمت ہوتی ہے ، آزمائش نہیں۔ رزق حلال اچھا ہوتا ہے اور باقی رہتا ہے وہ دھوکہ بھی نہیں دیتا اور فتنہ بھی پیدا نہیں کرتا۔ یہ حیات دنیا کو چھوڑ دینے کی دعوت نہیں ہے لیکن اس میں یہ پیغام ضرور ہے کہ حقیقی اور پائیدار اقدار کو اہمیت دو ، اور یہ پائیدار اقدار تعلق باللہ اور اللہ کی رضامندی میں ہیں۔ لوگوں کو دنیا کے ساز و سامان کے آگے گر نہیں جانا چاہئے۔ ہم کہیں اعلیٰ اقدار پر فخر کرنے کی صفت کو گم ہی نہ کردیں۔ دنیا کا وہ ساز و سامان جو نظروں کو چکا چوند کردیتا ہے۔ یہ کہیں تمہاری نظر بلند کو پست نہ کر دے۔ اس کے مقابلے میں سربلند رہنا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دنیاوی حالات میں مالیات کی کمی رہتی تھی اور آپ کا یہ فقر اختیاری تھا۔ ایک شخص کو ہزار ہزار بکریاں دے دیتے تھے لیکن اپنے لیے فقر ہی کو اختیار فرمایا اور آپ کے ساتھ جو مومنین تھے جنہوں نے ابتدائے مکہ مکرمہ میں ایمان قبول کیا تھا وہ بھی تنگدستی میں مبتلا رہتے تھے اور ان کے مقابل کفار اس زمانہ کے اعتبار سے خوش عیش تھے۔ کھانے، پہننے اور رہنے کے مکانوں میں انہیں برتری حاصل تھی۔ دنیاوی رونق اور زینت انہیں میسر تھی اور ان کے پاس بیویاں بھی تھیں۔ اللہ جل شانہٗ نے اپنے نبی کو خطاب کرکے فرمایا (یہ خطاب گو بظاہر آپ کو ہے لیکن مقصود آپ کے ساتھیوں کو تلقین فرمانا ہے) کہ ان لوگوں کو جو ہم نے بیویاں دیں، زیب وزینت کا سامان دیا، ان کی طرف نظریں نہ اٹھائیں۔ یہ تو ہم نے اس لیے دیا ہے کہ انہیں فتنہ میں ڈالیں۔ لہٰذا یہ چیزیں اس لائق نہیں کہ ان کی طرف توجہ کی جائے اور ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا جائے۔ (وَ رِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی) اور آپ کے رب کا رزق جو دنیا میں اس کی رضا کے ساتھ ملے اور جو اس کی رضا کے کاموں میں لگے یہ بہتر ہے اور اس کی طرف سے جو آخرت میں رزق ملے گا وہ بہتر بھی ہے اور دیرپا بھی ہے۔ کیونکہ وہاں نعمتیں ہمیشہ رہیں گی اور اہل جنت ان سے ہمیشہ متمتع ہوں گے۔ اہل دنیا کی نعمتوں اور لذتوں اور احوال کو دیکھ کر رال ٹپکانا مومن کی شان نہیں۔ مومن آخرت کے لیے عمل کرتا ہے۔ وہاں کی دائمی نعمتوں کی امید رکھتا ہے۔ دنیا میں جو چیزیں اللہ کی رضا کے ساتھ مل جائیں وہ بھی خیر ہیں لیکن کفر اور فسق کے ساتھ جو ملیں اور معاصی میں خرچ ہوں وہ تو دنیا اور آخرت میں و بال ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : لا تغبطن فاجر بنعمتہ فانک لا تدری ماھو لاق بعد موتہ ان لہ عنداللہ قاتلا لا یموت یعنی النار۔ ہرگز کسی بدکار کی نعمت پر رشک نہ کر، کیونکہ تجھے معلوم نہیں کہ موت کے بعد اسے کس مصیبت میں مبتلا ہونا ہے۔ موت کے بعد اس کے لیے اللہ کی طرف سے ایک قاتل ہوگا۔ اس قاتل کو کبھی موت نہیں آئے گی۔ یہ قاتل آتش دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ جلے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح، ص ٤٤٧) جسے دوزخ میں جانا ہو اس کی نعمت و دولت پر رشک کرنا سراپا ناسمجھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی کوئی حیثیت نہیں۔ اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی حیثیت مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو اس میں سے کسی کافر کو ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔ (رواہ احمد والترمذی و ابن ماجہ، کمافی المشکوٰۃ، ص ٤٤١)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

89:۔ یہ امر سوم ہے۔ یعنی آپ مسئلہ توحید کو جرات و شجاعت سے خوب پہنچائیں اور کفار و مشرکین کے مختلف طبقات کو جو ہم نے وافر دولت دے رکھی ہے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں یہ محض چند روزہ رونق اور شان و شوکت ہے۔ ان کو مال و دولت دینے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ہمارے نزدیک ان کی کوئی قدر و منزلت ہے بلکہ یہ محض ابتلا اور امتحان ہے اور آخرت میں ان کیلئے جہنم کے سوا کچھ نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

131 اور ہم نے کافروں کے مختلف گروہوں کو دنیوی زندگی کی رونق کا جو سامان برتنے کو دے رکھا ہیتا کہ ہم ان کو اس سے آزمائیں آپ اس سامان کی طرف آرزو بھری نظر نہ دوڑائیے اور آپ کے پروردگار کا عطیہ اور اس کی دی ہوئی بدرجہا بہتر اور دیرپا اور باقی رہنے والی ہے۔ یعنی منکرین کے مختلف طبقات کو جو ہم نے آزمانے کے لئے رونق اور عیش کے سامان دے رکھے ہیں ان پر نظر نہ دوڑائیے اور استحسان و اعجاب اور تمنا کی نظر نہ ڈالئے یعنی اس سامان کو اچھا سمجھنا یا ا ن کے سامان کو تعجب یا ان کے سامان اور رونق کی تمنا کرنا اور للچائی ہوئی نظر نہ ڈالو اور جو کچھ پروردگار نے دے رکھا ہے یا جو آخرت میں عطا ہونے والا ہے وہ آپ کے پر ورگدار کا عطیہ بدرجہا بہتر اور باقی رہنے والا ہے یعنی دائمی رونق اور عیش کے مقابلہ میں یہ سب کچھ بےحیثیت ہے اور نگاہ اٹھا کر دیکھنے کے قابل نہیں ہے۔ یہ اپنے پیغمبر کو فرمایا۔ دوسروں کے سنانے کو ورنہظاہر ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی کفار کے سامان آرائش کو نگاہ بھر کے نہیں دیکھا۔