Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 35

سورة طه

اِنَّکَ کُنۡتَ بِنَا بَصِیۡرًا ﴿۳۵﴾

Indeed, You are of us ever Seeing."

بیشک تو ہمیں خوب دیکھنے بھالنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Verily, You are ever seeing us. This means in Your choosing us, giving us the Prophethood and sending us to Your enemy, Fir`awn. So unto You is all praise for this.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

35۔ 1 یعنی تجھے سارے حالات کا علم ہے اور بچپن میں جس طرح تو نے ہم پر احسان کئے، اب بھی اپنے احسانات سے ہمیں محروم نہ رکھ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِيْرًا : ” كُنْتَ “ میں ” کَانَ “ استمرار کے لیے ہے کہ ” بیشک تو ہمیشہ ہمارا نگران اور نگہبان رہا ہے۔ “ یعنی جب ہم بچے تھے اس وقت بھی تو نے ہماری پرورش کی اور ہمیں دشمنوں سے محفوظ رکھا، اب بھی تیری اسی رحمت کے وسیلے سے تیری جناب میں درخواست ہے کہ ہماری یہ دعائیں قبول فرما۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفات اور پہلی نوازشوں کے وسیلے سے دعا کا سبق بھی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى۝ ٣٦ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٥ (اِنَّکَ کُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا ) ” تو خود ہمارے حالات کا چشم دید گواہ ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 یعنی جب ہم بچے تھے اس وقت بھی تو نے ہماری پرورش کی اور ہمیں دشمنوں سے محفوظ رکھا اب بھی ہم پر احسان فرما اور فرعون کے شر سے محفوظ رکھ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انک کنت بنا بصیرا (٠٢ : ٥٣) ” تو ہمیشہ ہمارے حال پر نگران ہے “۔ آپ کو ہمارا حال اچھی طرح معلوم ہے ہم ضعیف و قصور کھتے ہیں اور آپ کو ہماری ضروریات کا اچھی طرح علم ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بہت ہی طویل سوال کیا اور اپنی ضروریات بتائیں۔ اپنی کمزوری کا اظہار کیا ‘ مدد ‘ سہولیات اور مسلسل رابطے کی ضرورت کا ذکر کیا۔ رب تعالیٰ تو سنتا ہے اور جانتا ہے ۔ آپ کے سامنے موسیٰ (علیہ السلام) ضعیف ہیں۔ مانگتے ہیں اور بات کرتے جاتے ہیں۔ تو رب ذوالجلال اپنے مہمان کو شرمندہ نہیں فرماتے ‘ کوئی سوال رد نہیں کرتے ‘ منظوری میں دیر بھی نہیں کرتے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

35 بلاشبہ ! تو ہماری حال کو خوب دیکھ رہا ہے۔ تبلیغ کی راہ میں جو دشواریاں پیش آتی ہیں ان کے دور ہونے کے لئے حضرت موسیٰ نے دعا کی۔ شرح صدر کا مطلب یہ ہے کہ دل میں کشادگی پیدا ہو۔ برا کہنے والوں اور تکلیف پہنچانے والوں سے دل ملول نہ ہو۔ تبلیغ کے کاموں میں سہولت اور آسانی ہو زبان کی لکنت یا تو یہ لکنت پیدائشی تھی یا جھپٹنے میں ایک دفعہ فرعون کی ڈاڑھی پکڑ لی تھی اور وہ حضرت موسیٰ کو قتل کرنے کے در پے ہوگیا تھا فرعون کی عورت نے سمجھایا کہ یہ بچہ ہے۔ فرعون نے کہا اس کے آگے ایک آگ کا طشت رکھو اور اس کا امتحان لو جب طشت رکھا گیا تو حضرت موسیٰ نے آگ اٹھا کر منہ میں رکھ لی اور حضرت موسیٰ کی زبان جل گئی اور اس کے اثر سے زبان کے ایک حصہ میں لکنت ہوگئی۔ بہرحال ! لکنت کے کھل جانے کی دعا کی تاکہ لوگ بات سمجھ لیں اسی قدر لکنت کے اثر کو زائل کردیا گیا۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو طلب کیا اور سورة قصص میں وجہ بھی بیان کی کہ اس کی زبان زیادہ فصیح ہے۔ نیز یہ کہ ایک سے دوسرے کو تقویت پہونچے گی اور ہم دونوں مل کر ہر عیب سے اور ہر نقص سے تیری تقدیس اور پاکی بیان کریں گے اور تیرے اوصاف کا خوب ذکر کریں گے۔ کیونکہ تبلیغ کے موقع پر احتمال ہے کہ فرعون اور اس کے حاشیہ نشین آپ کی شان میں گستاخی کریں تو ہم دونوں مل کر خوب اچھی طرح ان کا رد کریں گے یا یہ کہ جب ہم ایک دوسرے سے تقویت حاصل کریں گے اور مطمئن ہوں گے تو ذکر اور شغل خوب دل جمعی کے ساتھ ہوگا آپ ہماری حالت کو خوب دیکھ رہے ہیں اور تو اچھی طرح جانتا ہے کہ ہم کو کس قدر آپ س میں ایک دوسرے کی احتیاج ہے اور موقع کس قدر نازک ہے اور معاملہ کیسے ظالم سے پڑنے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں سینہ کشادہ کر یعنی جلد خفا نہ ہوں اور زبان لڑکائی میں جل گئی تھی صاف نہ بول سکتے تھے۔ 12 اور فرماتے ہیں ایسے بڑوں پیغمبروں کو خلق کی طرف بہت خیال نہیں ہوتا ایک پیشکار چاہئے کہ خلق کو سہج میں سمجھا دے ہمارے پیغمبر کے آگے ابوبکر تھے اول پیغمبری کے وقت بہت لوگ ان کے سمجھائے سے ایمان لائے۔ 12