Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 42

سورة طه

اِذۡہَبۡ اَنۡتَ وَ اَخُوۡکَ بِاٰیٰتِیۡ وَ لَا تَنِیَا فِیۡ ذِکۡرِیۡ ﴿ۚ۴۲﴾

Go, you and your brother, with My signs and do not slacken in My remembrance.

اب تو اپنے بھائی سمیت میری نشانیاں ہمراہ لئے ہوئے جا ، اور خبردار میرے ذکر میں سستی نہ کرنا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

اذْهَبْ أَنتَ وَأَخُوكَ بِأيَاتِي ... Go you and your brother with My Ayat, This means with My proofs, evidences and miracles. ... وَلاَ تَنِيَا فِي ذِكْرِي And do not, you both, slacken and become weak in My remembrance. Ali bin Abi Talhah related from Ibn Abbas that he said, "This means do not be slow." Mujahid reported that Ibn Abbas said, "This means do not be weak." The meaning here is that they should not slacken in the remembrance of Allah. Rather, they both should remember Allah during their meeting with Fir`awn so that the remembrance of Allah can be an aid for them against him. The remembrance of Allah would be their strength and their power that would defeat him. Allah's statement; اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

42۔ 1 اس میں اللہ سے دعا کے لئے بڑا سبق ہے کہ انھیں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا چاہئے

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٨] اللہ کے ذکر کا فائدہ :۔ پہلے صرف سیدنا موسیٰ کو یہی بات کہی تھی کہ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سر اٹھا ہے۔ اب جب سیدنا ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا کرکے ان کا مددگار بنادیا گیا تو ان دونوں سے وہی بات کہی گئی اور اب ان دونوں کو تاکید کی کہ میرے ذکر میں کوتاہی نہ کرنا کیونکہ اللہ کا ذکر ہی وہ چیز ہے جو اللہ والوں کی کامیابی کا ذریعہ اور دشمن کے مقابلہ میں بہترین ہتھیار ہے۔ اس سے اللہ کی طرف لو لگائے رکھنے اور اللہ پر بھروسہ کرنے کی صفت پیدا ہوتی ہے۔ پھر اس راہ میں جو مصائب پیش آئیں ان کو صبر و استقلال سے برداشت کرنے کی قوت پیدا ہوتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِذْهَبْ اَنْتَ وَاَخُوْكَ بِاٰيٰتِيْ : یہ ہے وہ مقصد جس کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش فرعون کے گھر میں اور پھر مدین میں کی گئی، چونکہ اس وقت وہاں ہارون (علیہ السلام) موجود نہیں تھے، اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر پہنچ کر انھیں ساتھ لے جانے کا حکم دیا۔ ” بِاٰيٰتِيْ “ یعنی تم فرعون کے پاس خالی ہاتھ نہیں جاؤ گے بلکہ میری نشانیاں عصا اور ید بیضا تمہارے پاس ہوں گی، اس لیے بلاجھجک جاؤ اور میرا پیغام پہنچاؤ۔ وَلَا تَنِيَا فِيْ ذِكْرِيْ : ” وَلَا تَنِيَا “ ” وَنٰی یَنِيْ وَنْیًا “ بروزن ” وَعَدَ یَعِدُ “ سستی کرنا، کوتاہی کرنا، تھک کر رہ جانا۔ یعنی میری یاد میں کمی نہ کرنا، اس سے تمہارا عزم قوی اور قدم ثابت رہے گا، کیونکہ جب تم مجھے یاد کرو گے تو میرے بیشمار عظیم احسانات تمہارے سامنے رہیں گے، جس سے ادائے رسالت میں کوئی ضعف نہیں آئے گا۔ (طبری) اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی دشمن کے مقابلے کے وقت اپنے ذکر کثیر کا حکم دیا (دیکھیے انفال : ٤٥) اور ہر حال میں ذکر کرنے والوں کی تعریف فرمائی اور انھیں ” اُوُلُوْا الْبَابِ “ قرار دیا۔ دیکھیے سورة آل عمران (١٩٠) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِذْہَبْ اَنْتَ وَاَخُوْكَ بِاٰيٰتِيْ وَلَا تَنِيَا فِيْ ذِكْرِيْ۝ ٤٢ۚ ذهب الذَّهَبُ معروف، وربما قيل ذَهَبَةٌ ، ويستعمل ذلک في الأعيان والمعاني، قال اللہ تعالی: وَقالَ إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] ، ( ذ ھ ب ) الذھب ذھب ( ف) بالشیء واذھبتہ لے جانا ۔ یہ اعیان ومعانی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں ۔ أخ أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 73] وَإِلى عادٍ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 65] ، وَإِلى مَدْيَنَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 85] ، ( اخ و ) اخ ( بھائی ) اصل میں اخو ہے اور ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص کا ولادت میں ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک کی طرف سے یا رضاعت میں شریک ہو وہ اس کا اخ کہلاتا ہے لیکن بطور استعارہ اس کا استعمال عام ہے اور ہر اس شخص کو جو قبیلہ دین و مذہب صنعت وحرفت دوستی یا کسی دیگر معاملہ میں دوسرے کا شریک ہو اسے اخ کہا جاتا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ { لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ } ( سورة آل عمران 156) ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کی نسبت کہتے ہیں ۔ میں اخوان سے ان کے ہم مشرب لوگ مراد ہیں اور آیت کریمہ :۔{ أَخَا عَادٍ } ( سورة الأَحقاف 21) میں ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کا بھائی کہنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ وہ ان پر بھائیوں کی طرح شفقت فرماتے تھے اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا : ۔ { وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا } ( سورة هود 61) اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا ۔ { وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ } ( سورة هود 50) اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ( ہود ) کو بھیجا ۔ { وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا } ( سورة هود 84) اور مدین کی طرف ان کے بھائی ( شعیب ) کو بھیجا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٢۔ ٤٣) تم اور ہارون (علیہ السلام) دونوں میری نشانیاں یعنی یدبیضاء اور عصا لے کر جاؤ اور میری عبادت میں سستی مت کرنا یا یہ کہ فرعون کی طرف تبلیغ رسالت میں کسی قسم کی کوئی غفلت نہ کرنا، لہذا تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے بہت تکبر اور کفر اختیار کرلیا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

19: یہاں یہ سبق دینا مقصود ہے کہ ایک داعی حق کو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رکھنا چاہئے اور ہر مشکل میں اسی سے مدد مانگنی چاہئے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:42) ولا تنیا۔ فعل نہی۔ تثنیہ مذکر حاضر۔ تم دونوں سستی نہ کرنا۔ تم دونوں سست نہ ہودنی مصدر (باب ضرب)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ اصل دو معجزے ہیں عصا و ید بیضائ، اور ہر ایک میں وجوہ اعجاز متعدد ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جس کام کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو منتخب کیا تھا اس کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلا حکم۔ انبیاء (علیہ السلام) میں موسیٰ (علیہ السلام) پہلے پیغمبر ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا کرنے کے ساتھ ہی دو عظیم معجزے عنایت فرمائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی بغل میں ہاتھ دبا کر باہر نکالتے تو وہ سورج سے زیادہ روشن دکھائی دیتا اپنا عصا پھینکتے تو اللہ کے حکم سے وہ اژدھا بن جاتا اس کے ساتھ کئی کام لیتے اس کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اپنے بھائی ہارون کو نبوت دینے اور اپنی زبان کی لکنت دور کرنے کی درخواست کی دونوں درخواستوں کو من و عن قبول کرلیا گیا۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ تو اور تیرا بھائی دلائل اور معجزات کے ساتھ فرعون کے پاس جاؤ۔ لیکن کسی لمحہ میری یاد سے سستی نہ کرنا۔ فرعون کے پاس جاؤ مگر یاد رکھنا وہ بڑا ہی باغی اور سرکش ہے۔ اس کے باوجود اس کے ساتھ نہایت ہی نرم لب و لہجہ کے ساتھ بات کرنا۔ ممکن ہے کہ وہ اس پر غور کرے یا اپنے رب سے ڈر جائے۔ اس موقع پر موسیٰ (علیہ السلام) کو بالخصوص دو نصیحتیں کی گئیں۔ ١۔ فرعون کی طرف جاتے ہوئے اور اس سے گفتگو کے دوران اپنے رب کو مسلسل یاد کرتے رہنا۔ کیونکہ رب کی یاد ہی انسان کو دشمن کے خوف اور ہر قسم کی گھبراہٹ سے محفوظ رکھتی ہے۔ اس لیے قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ لوگو ! اللہ کا ذکر دلوں کے لیے اطمینان اور تسکین کا باعث ہے۔ (الرعد : ٢٨) ٢۔ فرعون کو توحید کی دعوت دیتے ہوئے سخت لب و لہجہ اور ترش الفاظ استعمال کرنے کی بجائے نرم انداز اور الفاظ میں سمجھانا کیونکہ جو بات اچھے انداز میں کی جائے اس کا بہتر نتیجہ نکلنے کی امید ہوتی ہے اگر اچھی بات برے انداز اور تلخ لہجہ میں کی جائے تو اس کا نتیجہ اکثر منفی نکلتا ہے۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تلقین کی گئی کہ وہ فرعون کی تلخی کا جواب تلخی سے دینے کے بجائے نرمی اختیار کریں۔ (اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْھُمْ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَ ھُوَ اَعْلَمُ بالْمُھْتَدِیْنَ ) [ النحل : ١٢٥] ” اے پیغمبر لوگوں کو دانش اور اچھی نصیحت سے اپنے پروردگار کے راستے کی طرف بلاؤ۔ بہت ہی اچھے طریق سے ان سے بحث کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے خوب جانتا ہے اور جو راستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے۔ “ (وَلاَ تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلا السَّیِئَۃُادْفَعْ بالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ) [ حم السجدۃ : ٣٤] ” اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی۔ ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو۔ ایسا کرنے سے تم دیکھو گے کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے۔ “ مسائل ١۔ مخالف کس قدر ہی مغرور اور متکبر کیوں نہ ہو دعوت کے دوران اسے بھی نرمی کے ساتھ سمجھانا چاہیے۔ ٢۔ فرعون پرلے درجے کا باغی اور اپنے رب کا نافرمان تھا۔ ٣۔ مبلغ کو اپنے رب کے ذکر سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔ ٤۔ اللہ کو بہت زیادہ یاد کیا کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ تفسیر بالقرآن ذکر کے مختصر دینی اور دنیوی فوائد : ١۔ اللہ کا ذکر دلوں کے لیے سکون و اطمینان کا باعث ہے۔ (الرعد : ٢٨) ٢۔ اپنے رب کی حمد و تسبیح بیان کرو اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجاؤ۔ (الحجر : ٩٨) ٣۔ اللہ کے ذکر سے غافل لوگ گھاٹے میں رہتے ہیں۔ (المنافقون : ٩) ٤۔ اللہ کے ذکر سے اعراض کرنا اس کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔ (الجن : ١٧) ٥۔ اللہ کو کثرت کے ساتھ یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (الجمعۃ : ١٠ ) ٦۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والوں کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔ (الاحزاب : ٣٥) ٧۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا۔ (البقرۃ : ١٥٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اذھب انت و اخوک۔۔۔۔۔ او یخشی (٢٤ تا ٤٤) ” ۔ تم اور تمہارے بھائی دونوں میرے معجزات کے ساتھ مسلح ہو کر جائو ‘ انن میں سے معجزہ عصا اور ید بیضا کا مشاہدہ تو کرایا جاچکا ہے۔ تم میرے ذکر میں سستی نہ کرنا کیونکہ یہ اس میدان میں تمہارے لئے اہم سازو سامان ہے ‘ یہ تمہارا بڑا اسلحہ اور سہارا ہے اور مشکلات کے وقت یہی تمہارے لئے لیے جائے پناہ ہوگی۔ جائو تم فرعون کے پاس۔ اس سے قبل میں نے تم کو فرعون کے شر سے محفوظ کیا ہے جبکہ تم ایک بچے تھے۔ جسے تابوت میں بند کر کے سمندر کی نذر کردیا گیا تھا اور سمندر نے اسے ساحل پر پھینک دیا تھا تو ان مشکلات نے تمہیں کوئی نقصان نہ دیا۔ ان خوفناگ حالات میں تمہیں کوئی اذیت نہ دی گئی۔ اب تو تم تیاریوں کے ساتھ اس دربار میں جا رہے ہو ‘ تمہارے ساتھ تمہارے بھائی بھی ہیں۔ اس لیے پرواہ مت کرو۔ جبکہ ایسے مشکل حالات میں بھی ہم نے تمہیں نجات دی ہے۔ فرعون کے پاس رسالت لے کر جائو ‘ وہ بڑاسرکش ‘ جبار اور سر پھرا ہے۔ فقولا لہ قولا لبنا (٠٢ : ٤٤) ” اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا “۔ اس لیے کہ نرم بات کے رد عمل میں کوئی شخص اپنی بےعزتی سمجھ کر ضد میں نہیں آتا۔ اور سرکش جس جھوٹی کبریاتی کے ماحول میں رہتے ہیں ‘ اس کی وجہ سے وہ طیش میں نہیں آتے ۔ نرم بات کی یہ خاصیت ہوتے ہے کہ وہ دلوں کو بیدار کردیتی ہے ‘ اور ایک سرکش بھی نرم بات کی وجہ سے اپنے موقف پر غور کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔ تم فرعون کے پاس جائو اور اس بات سے مایوس نہ ہوجانا کہ وہ راہ ہدایت پر کب آسکتا ہے۔ امید رکھنا کہ وہ نصیحت سے فائدہ بھی اٹھا سکتا ہے اور اس کے دل میں خدا کا خوف بھی پیدا ہو سکتا ہے ‘ کیونکہ ایک داعی اگر ذہن میں یہ بات بسا لے کہ جس کے پاس وہ جا رہا ہے وہ تو راہ ہدایت پر آہی نہیں سکتا تو وہ پر جوش طریقے سے اسے دعوت نہیں دے سکتا۔ اور اگر وہ انکار کر دے تو یہ ثابت قدمی کے ساتھ دعوت کا مشن جاری نہیں رکھ سکتا۔ اللہ کو تو معلوم تھا کہ فرعون کیا جواب دینے والا ہے۔ لیکن دعوت دینا اور اس کے لئے تمام طریقوں سے جدوجہداختیار کرنا ضروری ہے۔ اللہ کسی شخص کے بارے میں عملی فیصلہ تب ہی کرتا ہے ‘ جب اس سے خیروشر عملاً صادر ہوجائے۔ اگرچہ اللہ کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ نتیجہ خیر ہے یا شر۔ اللہ کا علم حادثات مستقبل کے بارے میں ایسا ہی ہے جیسا کہ حاضر کے واقعات کے بارے میں اللہ کا علم ہے یا ماضی کے واقعات کے بارے میں اللہ کا علم ہوتا ہے۔ یہاں تک خطاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تھا اور یہ منظر وادی طوی میں بندئہ و معبود کے درمیان مناجات کا منظر تھا۔ اب یہاں سیاق کلام میں درمیان کے واقعات کو لپیٹ لیا جاتا ہے۔ زمان و مکان کے فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ اب موسیٰ اور ہارون دونوں ہیں۔ یہ دونوں دربار میں جانے سے قبل اپنے خدشات کا اظہار پھر کرتے ہیں کہ دربا رفرعون میں انہیں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کی بات سنتے ہی وہ کوئی غلط فیصلہ کر بیٹھے اور جب ان کی بات اسے بری لگے تو وہ سر کشی اختیار کرلے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

42 اب تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں اور معجزات لے کر جائو اور تم دونوں میری یاد اور میرے ذکر میں سستی نہ کرنا۔ یعنی وہ نشانیاں جن کی تعداد نو ہے اور جن کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ آیا ہے یا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی لکڑی اور ہاتھ کے روشن ہونے کی طرف اشارہ ہو اور جمع کا لفظ ان کی عظمت اور تعداد اعجاز کی وجود کے اعتبار سے ہو بہرحال ! دلائل و معجزات کے ہمراہ جانے کا حکم ہوا اور لاتینآ محض اہتمام کے لئے فرمایا ورنہ انبیاء علیہم ال صلوۃ والسلام تو ذکر الٰہی میں خود ہی بہت چست ہوتے ہیں چونکہ سخت دشمن سے مقابلہ تھا اس لئے ذکر الٰہی میں تاکید فرمائی کیونکہ ذکر الٰہی اور اللہ تعالیٰ کو ہر وقت یاد کرتے رہنا ہی اطمینان قلب کا موجب ہے۔