Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 55

سورة طه

مِنۡہَا خَلَقۡنٰکُمۡ وَ فِیۡہَا نُعِیۡدُکُمۡ وَ مِنۡہَا نُخۡرِجُکُمۡ تَارَۃً اُخۡرٰی ﴿۵۵﴾

From the earth We created you, and into it We will return you, and from it We will extract you another time.

اس زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوبارہ تم سب کو نکال کھڑا کریں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Thereof We created you, and into it we shall return you, and from it We shall bring you out once again. meaning, `the earth is your beginning. For your father, Adam, was created with dirt from the surface of the earth. You also will be returned to the earth. This means that you will become dirt when you die and decay.' The statement, "And from it We shall bring you out once again," means, يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلاَّ قَلِيلً On the Day when He will call you, and you will answer with His praise and obedience, and you will think that you have stayed (in this world) but a little while! (17:52) This Ayah is similar to Allah's statement, قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ He said: "Therein you shall live, and therein you shall die, and from it you shall be brought out." (7:25) Musa showed Fir`awn all of the Signs but He did not believe Concerning Allah's statement, وَلَقَدْ أَرَيْنَاهُ ايَاتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَأَبَى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

55۔ 1 بعض روایات میں دفنانے کے بعد تین مٹھیاں (یا بکے) مٹی ڈالتے وقت اس آیت کا پڑھنا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے، لیکن سنداً یہ روایات ضعیف ہیں۔ تاہم آیت کے بغیر تین لپیں ڈالنے والی روایت، جو ابن ماجہ میں ہے، صحیح ہے، اس لئے دفنانے کے بعد دونوں ہاتھوں سے تین تین مرتبہ مٹی ڈالنے کو علماء نے مستحب قرارا دیا ہے۔ ملاحظہ ہو کتاب الجنائر صفحہ 152۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٧] انسان کا ذہن سے تعلق :۔ اس آیت میں انسان پر وارد ہونے والی تین کیفیتات کا ذکر کیا گیا ہے اور ان تینوں کا تعلق زمین سے ہے۔ اللہ نے انسان کو زمین یا مٹی سے پیدا کیا اور اس کی تمام تر ضروریات اسی سے متعلق کردیں۔ پیدائش سے لے کر موت تک یہ ایک مرحلہ ہوا۔ دوسرا مرحلہ موت سے قیامت تک ہے۔ اس مرحلے میں انسان اسی زمین میں دفن ہوتا ہے اور اکثر لوگوں کی میت مٹی بن کر مٹی ہی میں رل مل جاتی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ انبیاء کے اجسام کو مٹی نہیں کھاتی اس کا یہ مطلب نہیں کہ باقی سب لوگوں کو مٹی کھاجاتی ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء کے جسم کو تو بہرحال نہیں کھاتی اور بعض دوسرے لوگ بھی ایسے ہوسکتے ہیں جن کے اجسام ان کی قبروں میں محفوظ ہوں۔ اور تیسرا مرحلہ بعث بعد الموت ہے۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ اس مٹی میں ملے ہوئے ذرات کو جمع کرکے سب لوگوں کو زندہ کرکے اپنے حضور حاضر کرے گا۔ گویا پہلے دو مراحل تیسرے مرحلہ کے لئے دلیل کا کام دیتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيْهَا نُعِيْدُكُمْ ۔۔ : یعنی تم سب کے باپ آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی سے بنایا گیا اور تمہاری غذائیں اور ضرورت کی تمام چیزیں بھی مٹی سے نکلتی ہیں۔ یہ پہلا مرحلہ ہے جو موت تک چلتا ہے۔ دوسرا مرحلہ یہ کہ موت کے بعد دوبارہ مٹی میں جاؤ گے، پھر کوئی انسان قبر میں دفن ہو یا نہ ہو، بالواسطہ یا بلا واسطہ اس کے اجزا مٹی میں جائیں گے۔ تیسرے مرحلے میں قیامت کے دن انھی اجزا کو دوبارہ روح پھونک کر زندہ کردیا جائے گا، فرمایا : (قَالَ فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَفِيْهَا تَمُوْتُوْنَ وَمِنْهَا تُخْرَجُوْنَ ) [ الأعراف : ٢٥ ] ” فرمایا تم اسی میں زندہ رہو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی سے نکالے جاؤ گے۔ “ بعض روایات میں دفن کے وقت مٹی کی پہلی مٹھی ڈالتے ہوئے ” مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ “ ، دوسری مٹھی ڈالتے ہوئے ” وَفِيْهَا نُعِيْدُكُمْ “ اور تیسری مٹھی ڈالتے وقت ” وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى“ پڑھنے کا ذکر ہے، مگر وہ روایات ضعیف ہیں، البتہ آیت پڑھے بغیر تین مٹھی مٹی ڈالنا مسنون ہے۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے : ( أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلّٰی عَلٰی جِنَازَۃٍ ثُمَّ أَتٰی قَبْرَ الْمَیِّتِ فَحَثٰی عَلَیْہِ مِنْ قِبَلِ رَأْسِہٖ ثَلاَثًا ) [ ابن ماجہ، الجنائز، باب ما جاء في حثو التراب في القبر : ١٥٦٥، صحیح ] ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جنازے پر نماز پڑھی، پھر میت کی قبر پر آئے اور اس کے سر کی طرف (مٹی کی) تین مٹھیاں ڈالیں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The composition of every human being contains, together with the seed, the earth of the place when he will be buried The words مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ (From this We created you) in verse 55 means that Allah created you from the earth. This verse is addressed to all mankind although it is known that man is created from seed and not from earth, except Sayyidna &Adam (علیہ السلام) who was created directly from earth. One possible explanation for this is that since Sayyidna &Adam علیہ السلامٍ is the father of all mankind and was himself created from earth, therefore all his descendants have been similarly described. Others have said that the seed itself is made of earth therefore anything created from the seed is in fact created from the earth. According to Imam al-Qurtubi (رح) the text of the Qur&an clearly indicates that man is created from the earth.

ہر انسان کے خمیر میں نطفہ کے ساتھ اس جگہ کی مٹی بھی شامل ہوتی ہے جہاں وہ دفن ہوگا : مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ مِنْهَا کی ضمیر زمین کی طرف راجع ہے اور معنے یہ ہیں کہ ہم نے تم کو زمین کی مٹی سے پیدا کیا مخاطب اس کے سب انسان ہیں حالانکہ عام انسانوں کی پیدائش مٹی سے نہیں بلکہ نطفہ سے ہوئی بجز آدم (علیہ السلام) کے کہ ان کی پیدائش براہ راست مٹی سے ہوئی تو یہ خطاب یا تو اس بناء پر ہوسکتا ہے کہ انسان کی اصل اور سب کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں ان کے واسطے سے سب کی تخلیق مٹی کی طرف منسوب کردینا کچھ بعید نہیں بعض حضرات نے فرمایا کہ ہر نطفہ مٹی ہی کی پیداوار ہوتا ہے اس لئے نطفہ سے تخلیق درحقیقت مٹی ہی سے تخلیق ہوگئی۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ الفاظ قرآن کا ظاہر یہی ہے کہ ہر انسان کی تخلیق مٹی ہی سے تخلیق ہوگئی۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ الفاظ قرآن کا ظاہر یہی ہے کہ ہر انسان کی تخلیق مٹی سے ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ہر انسان کی تخلیق میں حق تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے مٹی شامل فرماتے ہیں اس لئے ہر ایک انسان کی تخلیق کو براہ راست مٹی کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ الفاظ قرآن کا ظاہر یہی ہے کہ ہر انسان کی تخلیق مٹی سے عمل میں آئی ہے اور حضرت ابوہریرہ کی ایک حدیث اس پر شاہد ہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد منقول ہے کہ ہر پیدا ہونے والے انسان پر رحم مادر میں اس جگہ کی مٹی کا کچھ جزء ڈالا جاتا ہے جس جگہ اس کا دفن ہونا اللہ کے علم میں مقدر ہے۔ یہ حدیث ابو نعیم نے ابن سیرین کے تذکرہ میں روایت کر کے فرمایا ہے ہذا حدیث غریب من حدیث عون لم نکتبہ الا من حدیث عاصم بن نبیل و ہو احد الثقات الاعلام من اہل بصرہ، اور اسی مضمون کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود سے بھی منقول ہے اور عطا خراسانی نے فرمایا کہ جب رحم میں نطفہ قرار پاتا ہے تو جو فرشتہ اس کی تخلیق پر مامور ہے وہ جا کر اس جگہ کی مٹی لاتا ہے جس جگہ اس کا دفن ہونا مقرر ہے اور یہ مٹی اس نطفہ میں شامل کردیتا ہے اس لئے تخلیق نطفہ اور مٹی دونوں سے ہوتی ہے اور اسی آیت سے استدلال کیا۔ مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيْهَا نُعِيْدُكُمْ (قرطبی) تفسیر مظہری میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والے بچے کی ناف میں ایک جزء مٹی کا ڈالا جاتا ہے اور جب مرتا ہے تو اسی زمین میں دفن ہوتا ہے جہاں کی مٹی اس کے خمیر میں شامل کی گئی تھی اور فرمایا کہ میں اور ابوبکر و عمر ایک ہی مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں اور اسی میں دفن ہوں گے۔ یہ روایت خطیب نے نقل کر کے فرمایا ہے کہ حدیث غریب ہے اور ابن جوزی نے اس کو موضوعات میں شمار کیا ہے مگر شیخ محدث میرزا محمد حارثی بدخشی نے فرمایا کہ اس حدیث کے بہت سے شواہد حضرت ابن عمر، ابن عباس، ابو سعید، ابوہریرہ (رض) سے منقول ہیں۔ جن سے اس روایت کو قوت پہنچتی ہے اس لئے یہ حدیث حسن (لغیرہ) سے کم نہیں (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مِنْہَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيْہَا نُعِيْدُكُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُكُمْ تَارَۃً اُخْرٰى۝ ٥٥ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے عود الْعَوْدُ : الرّجوع إلى الشیء بعد الانصراف عنه إمّا انصرافا بالذات، أو بالقول والعزیمة . قال تعالی: رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/ 107] ( ع و د ) العود ( ن) کسی کام کو ابتداء کرنے کے بعد دوبارہ اس کی طرف پلٹنے کو عود کہاجاتا ہی خواہ وہ پلٹا ھذایۃ ہو ۔ یا قول وعزم سے ہو ۔ قرآن میں ہے : رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/ 107] اے پروردگار ہم کو اس میں سے نکال دے اگر ہم پھر ( ایسے کام ) کریں تو ظالم ہوں گے ۔ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ تارة أَنْ يُعِيدَكُمْ فِيهِ تارَةً أُخْرى[ الإسراء/ 69] ، وقال تعالی: وَمِنْها نُخْرِجُكُمْ تارَةً أُخْرى [ طه/ 55] ، أي مرّة وكرّة أخری، هو فيما قيل من تار الجرح : التأم . ( تا ر ۃ ) تارۃ کے معنی ایک مرتبہ کے ہیں قرآن میں ہے ؛۔ نُخْرِجُكُمْ تارَةً أُخْرى [ طه/ 55] پھر ہم دوسری مرتبہ نکالیں گے ۔ بقول بعض یہ تا رالجرح سے مشتق ہے جس کے معنی زخم کا بھرجانا اور مندمل ہوجانا کے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٥) اور اسی طرح اسی زمین سے ہم نے تمہیں کو پیدا کیا یعنی تم سب کو حضرت آدم (علیہ السلام) کے ذریعے پیدا کرلیا اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے اور وہ مٹی اسی زمین کی تھی اور اسی زمین میں تم دفن کیے جاؤ گے۔ اور مرنے کے بعد پھر قبروں سے قیامت کے دن ہم تمہیں کو دوبارہ نکالیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

28. That is, every man has to pass through three stages: (1) From birth to death. (2) From death to Resurrection, and (3) From the Day of Resurrection to Eternity. According to this verse, all the three stages will take place on this earth.

سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :28 یعنی ہر انسان کو لازماً تین مرحلوں سے گزرنا ہے ۔ ایک مرحلہ موجودہ دنیا میں پیدائش سے لے کر موت کا ۔ دوسرا مرحلہ موت سے قیامت تک کا ۔ اور تیسرا قیامت کے روز دوبارہ زندہ ہونے کے بعد کا مرحلہ ۔ یہ تینوں مرحلے اس آیت کی رو سے اسی زمین پر گزرنے والے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:55) منھا۔ میں ضمیر ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الارض (آیۃ 53 ہے) ۔ نعیدکم۔ نعید مضارع جمع متکلم۔ اعادۃ (افعال) مصدر بمعنی لوٹانا۔ (اور اسی میں) ہم پھر تم کو لوٹا دیں گے۔ تارۃ۔ کرۃ۔ باری۔ مرتبہ۔ دفعہ۔ یہ اصل میں تارۃ تھا۔ ہمزہ کثرت استعمال سے متروک ہوگیا۔ اس کی جمع تارات ہے اور تیر اور تئر بھی۔ ت ا۔ ر مادہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 یعنی تم سب کے باپ حضرت آدم کا پتلا مٹی سے بنایا گیا اور تمام غذائیں بھی مٹی سے نکلتی ہیں مرنے کے بعد خواہ کوئی انسان قبر میں دنف ہو یا نہ ہو، بالواسطہ یا بلاواسطہ اس کے اجزا بھی مٹی ہی میں مل جائیں گے۔ قیامت کے روز انہی اجزا کو دوبارہ جمع کر کے اور ان میں روح پھونک کر زندہ کردیا جائے گا۔ بعض روایات سے جن کی سند گو ضعیف ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ میت کو قبر میں اتارنے کے بعد مٹی ڈالتے وقت یہ آیت پڑھ لی جائے اس طرح کہ پہلی مٹھی کے وقت ” منھا خلقنا کم “ دوسری کے وقت وفیھا نعیدکم “ اور تیسری کے وقت ” ومنھا نخرجکم تازہ اخری “ ایک اور روایت میں ہے کہ آنحضرت نے اپنے لخت جگر حضرت ام کلثوم کو دفن کرتے وقت یہ آیت پڑھی اور نیز فرمایا : بسم اللہ علی ملۃ رسول اللہ، (ابن کثیر ۔ فتح البیان)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٣) اسرارومعارف اور خود تم کو بھی اسی مٹی سے پیدا فرمایا کہ ان سبزیوں ، پھلوں اور غلے وغیرہ کو مٹی ہی سے بناتا ہے جنہیں مختلف مراحل سے گزار کر نطفہ اور پھر انسانی وجود بننے کا شرف بخشتا ہے اور پھر تمہارے اس وجود کو اس مٹی میں دوبارہ ملا دیا جائے گا کہ ایک بار تمہارے اجزاء پھر سے بکھر جاتے ہیں ۔ کوئی جل جائے یا دفن ہو یا جانوروں کی غذا بن جائے بہرحال آخر مادے ہی کی ابتدائی صورت میں منتقل ہوتا ہے سوائے ان ابدان کے جن کو اللہ کریم سلامت رکھے اور ایسا قادر ہے کہ دوبارہ پھر انہیں ذرات کو انسانی وجود میں ڈھال دے گا اور تمہیں پھر سے زندہ کر دے گا ان اشارات اور خوبصورت وپر مغز نصیحتوں کے ساتھ وہ سب معجزات بھی فرعون کو دکھلا دیئے گئے جو موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئے تھے لیکن اس نے جھٹلایا اور ماننے سے صاف انکار کردیا مگر معجزات ایسے تھے کہ نہ تو انہیں نظر انداز کرنا ممکن تھا اور نہ ہی فرعون کو قید یا قتل کرانے کا حکم دینے کی جرات ہوئی تو کہنے لگا کہ واقعی تمہارا جادو بہت بڑا ہے اور اب آپ چاہتے ہو کہ اس جادو کے زور پر ہم سے ہمارا ملک ہی چھین لو ، (معجزہ اور جادو) یہ دوسری بات فرعون نے پھر حقائق کے خلاف اور محض اپنا بھرم رکھنے کے لیے کی جیسے پہلے کہا تھا کہ پہلے مرنے والوں کا کیا حال ہوا اب تمام معجزات دیکھ کر جو اسے اللہ جل جلالہ کی طرف دعوت دینے کے لیے پیش کیے گئے بات الجھانے لگا کہ یہ جادو ہے حالانکہ جادو محض دنیاوی فوائد اور شہرت وغیرہ کے لیے کیا جاتا ہے اور معجزہ احقاق حق کے لیے ۔ مصر میں بھی وہ جادو کا دور تھا اور فرعون کے پاس بڑے بڑے جادوگر تھے لہذا کہنے لگا کہ ہم آپ کا مقابلہ کریں گے اور ایسا ہی سب کچھ جادو کے زور پر ظاہر کردیں گے جس کو آپ معجزہ کہہ رہے ہیں لیکن اس کے لیے وقت اور مقام مقرر کر دیجئے تاکہ آپ پھر کوئی عذر نہ کرسکیں اور اس مقام اور وقت پر ضرور حاضر ہوں اور ہم تو ہوں گے ہی کہ ہمیں آپ سے مقابلہ کرنا ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یوم الزنیہ جو ان کا ایک طرح کا میلہ یا عید کا روز ہوا کرتا تھا وہ مقرر کرلو کہ سب لوگ جمع ہو کر دیکھیں اور چاشت کا وقت رکھو کہ لوگ تیار ہو کر پہنچ سکیں ، فرعون نے یہ بات قبول کرلی اور جادوگروں کو جمع کرنے کا اہتمام کرنے لگا اور پوری تیاری کے بعد مقررہ مقام پر سب کو لے کر آگیا ، موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے بھی بات کی کہ جادوگری کا مقابلہ نہیں نہ کسی فن کا اظہار مقصود ہے بلکہ اللہ جل جلالہ کی طرف دعوت دینے کا کام ہے اور تم اس میں رکاوٹ نہ بنو کہ اسے جادو کہنا اللہ جل جلالہ پر جھوٹ ہے یہ تو اس کے عطا کردہ معجزات ہیں جو اس کے کامل بندوں کو عطا ہوتے ہیں اور جادو محض ایک فن ہے جسے بدکار اور کافر بھی سیکھ سکتا ہے لہذا ایسا کرنے سے ڈر یہ ہے کہ تم پر کوئی آفت ٹوٹ پڑے اور تم عذاب میں مبتلا ہو کر تباہ ہوجاؤ کہ پہلے بھی جس نے اللہ جل جلالہ پر بہتان باندھا وہ تباہ وبرباد ہوا تاریخ ایسے حقائق بتاتی ہے ۔ (وعظ حقائق کو دلائل سے پیش کرنا) اور واقعی آپ کے اس ارشاد نے جادوگروں کو بھی ہلا دیا کہ وعظ تو تھا ہی مگر اس کے ساتھ ایسے دلائل اور تاریخی شواہد کا حوالہ بھی ارشاد ہوا جن کو جھٹلایا نہیں جاسکتا تھا لہذا وہ آپس میں الگ ہو کر خفیہ مشورے کرنے لگے کہ مقابلہ کیا جائے یا نہ ؟ آخر وہ بھی اسی نتیجہ پر پہنچے کہ یہ دونوں بھی جادوگر ہیں مگر ہیں بہت اعلی پائے کے اور اب یہ اپنے جادو سے ایک تو پورے ملک پر قابض ہونا چاہتے ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ ہمارے قدیم مذہب کو بھی ختم کردینا چاہتے ہیں ، لہذا اب ایسا کرو کہ جس قدر ممکن ہو اپنا جادو جمع کرو اور سب مل کر مقابلجے میں آؤ کہ یہ ذاتی مقابلہ نہیں بلکہ بات قومی ہو چلی ہے اور یہ بھی دیکھ لو کہ آج جو غالب رہا اور جیت گیا وہ غلبہ واقتدار بھی حاصل کرلے گا پھر کوئی اسے روک نہ سکے گا چناچہ اپنے تمام علوم اور تجربات کا حاصل لے کر اور ایک مقصد پہ متفق ہو کر میدان میں اترے مگر ان کے دلوں میں موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کی عظمت پیدا ہوچکی تھی وہ نبوت اور معجزہ کو تو نہ جان سکے ۔ (عظمت انبیاء کرام (علیہ السلام) باعث ہدایت بن جاتی ہے) مگر یہ ضرور جان لیا کہ یہ بھی بہت عظیم ہیں خواہ جادوگر ہی جانا لہذا احترام سے کہنے لگے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) آپ پہلے اپنے کمال کا اظہار کریں گے یا ہمیں اجازت ہے کہ ہم اپنے کمالات دکھائیں تو حضرت نے اجازت مرحمت فرمائی اور فرمایا کرو بھئی تم ہی اپنا کمال ظاہر کرو تو وہ بہت بڑے بڑے رسے اور بڑی بڑی لکڑیاں ساتھ لائے تھے جو انہیں نے میدان میں ڈال دیں ۔ (جادو سے قلب ماہیت نہیں ہوتی) تو ان کے جادو کا کمال یہ تھا کہ دیکھنے والے کے خیال میں وہ سب اژدھے بن کر دوڑنے لگے اور میدان ان سے بھر گیا یعنی وہ اصل میں تو لکڑیاں اور رسیاں ہی تھیں مگر جادو کے اثر سے اژدھے نظر آتی تھیں ، ان کی ماہیت تبدیل نہیں ہوئی تھی یہ اتنا بڑا مظاہرہ تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی لرز گئے ، انہوں نے مقابل پر ظاہر نہ ہونے دیا ۔ (انبیاء کرام (علیہ السلام) میں بھی فطری تقاضے موجود ہوتے ہیں) مگر بتقاضائے بشریت یہ سب کچھ انہیں بھی بہت ہی بڑا محسوس ہوا ، فورا اللہ جل جلالہ کی طرف سے وحی فرمایا گیا کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں نہ آپ پر غالب آسکتے ہیں اور نہ اللہ جل جلالہ کے دین کا راستہ روک سکتے ہیں لہذا فتح آپ کی ہوگی بس آپ اپنا عصا پھینک دیجئے آپ نے عصا پھینکا تو وہ اتنا بڑا اژدھا بن گیا کہ نہ صرف سب پر چھا گیا بلکہ اس نے ان سانپوں اور اژدھوں کو نگلنا شروع کردیا اور پلک جھپکنے میں میدان صاف ہوگیا اس لیے کہ جادوگر کا کھیل تو فریب محض ہوتا ہے اور معجزہ قدرت الہی کا اظہار ، اسی طرح کرامت بھی معجزے ہی کی فرع ہوتی ہے ۔ (عامل اور کامل کا فرق) اور عامل بڑے بڑے عملیات کرکے جو فریب بنتا ہے کامل کی اک نگاہ سے سب زائل اور تباہ ہوجاتے ہیں کہ جادوگر عامل یا آج کی مروجہ زبان میں پروفیسر کہلوانے والے کسی بھی صورت بھلائی حاصل نہیں کر پاتے ، خود ہی بھلائی سے محروم ہوتے ہیں تو دوسرے کو کیا دیں گے۔ (معجزے کا اثر انسانی مزاج اور قلب پہ اس کی اپنی باطنی کیفیت کے مطابق ہوتا ہے ، کوئی ہدایت پاتا ہے اور کوئی مزید گمراہی میں چلا جاتا ہے) جب یہ عجیب و غریب معجزہ ظاہر ہوا تو جادوگر جان گئے کہ یہ جادو نہیں ، اگر یہ جادو ہوتا تو ہمارا جادو ختم کردیتا اور اژدھے پھر سے رسیاں اور لاٹھیاں تو بن جاتے مگر یہاں تو سرے سے ہر شے کا وجود ہی ختم ہوگیا ، پھر سب چیزوں کو نگل لینے کے بعد جب موسیٰ (علیہ السلام) نے پکڑا تو وہی عصا تھا اس کا حجم بھی نہ بڑھا تھا لیکن حق بات یہ ہے کہ یہی دلیل فرعون کے سامنے بھی تھی مگر وہ بھی بھڑک اٹھا جبکہ جادوگر سجدے میں گر گئے وجہ صرف ایک نظر آتی ہے کہ ان کے دل میں احترام ضرور تھا خواہ بنی جان کر نہ سہی مگر صاحب کمال ضرور جانتے تھے جبکہ فرعون کا سیاہ دل نفرت سے اور تاریک ہو رہا تھا لہذا اہل اللہ سے اگر استفادہ نہ بھی کرسکے تو ان کی عقیدت سے دل کو خالی نہ رکھے ، وہ لوگ نہ صرف سربسجود ہوگئے بلکہ انہوں نے اعلان کردیا کہ ہم اسی رب کو مان گئے جو موسیٰ اور ہارون (علیہا السلام) کا رب ہے جس کی دعوت لے کر یہ مبعوث ہوئے ہیں اب ایمان کا کمال یہ ہے جو اکثر مفسرین نے نقل فرمایا ہے اور احادیث میں وارد ہے ۔ rnّ (کمال ایمان اور توجہ کا اثر) انھیں سجدے میں ہی آخرت اور جنت و دوزخ تک کا مشاہدہ نصیب ہوگیا نیز آئندہ آیات میں ان کا فرعون کے سامنے آخرت کو بیان کرنا ظاہر کرتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی توجہ سے نبی کے علوم ان کے قلوب میں براہ راست داخل ہوگئے ، آخرت کے مشاہدے نے جرات عطا کی اور یوں وہ علوم فرعون پر بھی بیان فرمائے ، یہی وہ کمال ہے جو شیخ یا پیر میں تلاش کیا جانا چاہئے کہ آخرت کا مشاہدہ اور یقین نصیب ہوا اور سینہ دینی علوم کے لیے کھل جائے ، فرعون بھڑک اٹھا اور کہنے لگا اچھا تو میری اجازت کے بغیر تم نے اتنا بڑا اعلان کردیا ، اگر حق ہوتا تو میں خود بھی مانتا تمہیں بھی اجازت دیتا مگر اب سمجھا یہ تو تمہارا استاد رہا ہوگا اور تم نے اسی سے جادو سیکھا اور ساتھ دھوکا کیا اور دراصل وہ خود اس مخلوق کو دھوکا دے رہا تھا جنہوں نے خود یہ سب کچھ دیکھا اب اس کے ساتھ ڈرانا بھی چاہا تو ان کی سزا اسی مجمع میں سنا دی کہ میں تمہارا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں کٹوا کر تمہیں کھجور کے بلند تنوں پر لٹکا دوں گا اور تم سسک سسک کر مرو گے تب تمہیں خبر ہوگی کہ کس کے غصے سے بچنا ضروری ہے اور کون سخت سزا دیتا ہے نیز تمہیں یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ کون بااختیار ہے اور اقتدار کے ساتھ باقی ہے ، وہ فرمانے لگے کہ جو مشاہدہ ہمیں نصیب ہوا اور جن علوم سے ہمارا دل روشن ہوا ان کے مقابل تیری باتوں کی رائی برابر حیثیت نہیں اور تو خود کو رب منواتا ہے اس کے مقابلے میں جو ہم سب کا پیدا کرنے والا ہے ، اب تو ہمیں اس کی معرفت نصیب ہوگئی ہم نے اسے جان لیا تیری کیا مجال ہاں تو جو چاہتا ہے کر گزر کہ وقتی طور پر اور دار دنیا میں اس نے تجھے اختیار بخشا ہے مگر یاد رکھ تیرا فیصلہ صرف دنیا کی زندگی کو متاثر کرے گا اور ہمارے نزدیک اس کا خاتمہ اس کی بارگاہ میں حاضری کا ذریعہ ہوگا ، وہ عظیم رب جسے ہم نے مان لیا اور اب صرف ایک تمنا ہے کہ وہ ہماری خطائیں معاف کر دے اور یہ آخری گناہ کہ تیرے کہنے پر تیرے شاہی دبدبے سے مرعوب ہو کر اس کے محبوب کے مقابل جادو کرنے کے لیے آئے اور یاد رکھ اللہ جل جلالہ ہی کی طرف سب خیر ہے اور وہی ہمیشہ رہنے والا ہے تو فانی بھی ہے اور خیر سے محروم بھی اور یہ بھی سن رکھ کہ اس کی بارگاہ میں جو نافرمانی کرتا ہوا پہنچے گا وہ اسے جہنم میں پھینکے گا جہاں نہ تو اس کو موت آئے گی اور نہ زندگی کا کوئی تصور ہوگا ، اب بھی وقت ہے سوچ لے جو بھی ایمان قبول کرے گا اس کے نبیوں کی اطاعت اختیار کرے گا اللہ جل جلالہ اسے بہت بلند مقامات عطا فرمائے گا اور ایسے ہمیشہ کے شاداب اور خوبصورت باغوں میں رہے گا جن میں نہریں جاری ہوں گی اور اسے کبھی وہاں سے نکالا نہ جائے گا جس نے بھی دل کا تزکیہ کرلیا اور نور ایمان سے دل منور کرلیا اسے ایسے ہی انعامات نصیب ہوں گے اور یوں وہ حق کے نقیب جو طلوع ہونے والے سورج نے فرعون کے جادوگروں کی صورت دیکھے تھے وقت غروب اسے موسیٰ (علیہ السلام) کے شہدا کی صورت میں نظر آرہے تھے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ چناچہ آدم (علیہ السلام) مٹی سے بنائے گئے، سو ان کے واسطے سے سب کا مادہ بعید خاک ہوئی۔ 4۔ چناچہ کوئی مردہ کسی حالت میں ہو لیکن آخر کو گو مدتوں کے بعد سہی مگر مٹی میں ضرور ملے گا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس زمین کو فرش بنایا گیا ہے اسی سے نباتات اگتی ہیں اور اسی سے انسان کو پیدا کیا گیا۔ اسی میں انسان نے جانا ہے اور اسی سے دوسری مرتبہ اسے نکالا جائے گا۔ اے لوگو ! یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھو کہ جو زمین تمہارے لیے فرش بنائی گئی اور جس کو تم اپنے پاؤں تلے روندتے ہو۔ اسی زمین سے تمہیں پیدا کیا گیا ہے اسی میں تم نے دفن ہونا ہے اسی سے تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ گویا کہ انسان کی پوری زندگی کو تین مراحل میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ جس سے بڑے سے بڑے باغی اور فرعون کو بھی مفرّحاصل نہیں تھا۔ زمین سے نباتات اگانے کا حوالہ دے کر ثابت کیا ہے کہ جس طرح زمین میں پڑا بیج اپنے وقت پر اللہ کے حکم سے اگتا ہے اسی طرح اس زمین سے لوگوں کو قیامت کے دن نکال لیا جائے گا۔ پہلا مرحلہ : حضرت آدم (علیہ السلام) کا مٹی سے پیدا کیا جانا اور اس کی تمام ضروریات کا تعلق مٹی سے قائم کیا جانا ہے۔ بیشک اس کی کوئی بھی صورت ہو بالآخر اس کا تعلق مٹی سے ہی جڑتا ہے۔ جہاں تک جمادات، معدنیات، نباتات حتی کہ انسان جو کچھ کھاتا، پیتا اور پہنتا ہے اس کا تعلق بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ زمین سے ہی ہوتا ہے۔ دوسرا مرحلہ : انسان کی موت جس صورت میں ہو بیشک وہ پانی میں ڈوب کر مرے یا اسے جلا دیا جائے بالآخر اس نے خاک کے ساتھ ملنا ہے۔ تیسرا مرحلہ : کوئی مر کر جی اٹھنے پر یقین کرے یا اس کا انکار کرے اسے ہر صورت دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اس لیے ارشاد ہوا ہے کہ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آخرت کے منکروں کو خبردار کردو کہ تم لوہابن جاؤ، پتھر یا تمہارے دل میں جو آتا ہے اس کے مطابق بن جاؤ اللہ تعالیٰ تمہیں پہلے کی طرح ضرور زندہ کرے گا۔ (بنی اسرائیل ،: ٤٩‘ ٥٠‘ ٥١) اس آیت سے یہ استدلال کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ جس کی بعض ضعیف روایات سے تائید بھی ہوتی ہے کہ انسان جس مٹی سے پیدا کیا گیا اسی خطۂ زمین ہی میں دفن کیا جائے گا۔ (واللہ اعلم) (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خُلِقَتِ الْمَلاَ ءِکَۃُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَکُمْ )[ رواہ مسلم : باب فِی أَحَادِیثَ مُتَفَرِّقَۃٍ ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ملائکہ کو نور سے پیدا کیا گیا ہے اور جنوں کو بھڑکتی ہوئی آگ سے اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ “ مسائل ١۔ انسان مٹی سے ہی پیدا کیا گیا ہے۔ اسی میں اس نے جانا ہے اور اسی سے ہی دوسری مرتبہ اٹھایا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن انسانی تخلیق کے مختلف مراحل : ١۔ تخلیق انسان کے مختلف مراحل۔ (المؤمنون : ١٢ تا ١٤) ٢۔ حضرت آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا ہوئے۔ (آل عمران : ٥٩) ٣۔ ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ (المومنون : ١٢) ٤۔ یقیناً ہم نے انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ (الحجر : ٢٦) ٥۔ کیا تو اس ذات کا کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا فرمایا۔ (الکہف : ٣٧) ٦۔ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا۔ (الروم : ٢٠) ٧۔ اللہ نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا۔ (النحل : ٤) ٨۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے نطفہ بنایا، پھر اس سے خون کا لوتھڑا، پھر اس سے بوٹی بنا کر انسان بنایا۔ (الحج : ٥) ٩۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ، پھر لوتھڑا بنا کر تمہیں پیدا کرتا ہے کہ تم بچے ہوتے ہو۔ (المومن : ٦٧) ١٠۔ حضرت حواحضرت آدم سے پیدا ہوئی۔ (النساء : ١) ١١۔ ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ (الدھر : ٢) ١٢۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر تمہارے جوڑے جوڑے بنائے۔ (فاطر : ١١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حضرت موسیٰ کی اس بات کی تکمیل کے لئے اب اللہ کا یہ فرمان آجاتا ہے : منھا خلقنکم ……وابی (٦٥) اس زمین سے تمہیں پیدا کیا ہے جو تمہارے لئے گہوارہ ہے۔ جس میں تمہارے لئے راستے بنائے۔ جس پر ہم نے بارشیں برسائیں اور مختلف قسم کے نباتات پیدا کئے ، کھانے کے لئے اور چارے کے طور پر۔ اس زمین سے تم پیدا کئے گئے ہو ، اس میں تم دفنائے جائو گے اور سای سے ہم تمہیں دوبارہ نکال کر زندہ کردیں گے۔ انسان اس زمین کے مادے سے تخلیق کیا گیا ہے۔ زمین کے اکثر عناصر اس کے جسم میں موجود ہیں۔ اس کی فصل اور پیداوار اس کی خوراک ہے۔ اس کا پانی وہ پیتا ہے ، اسی کی ہوا میں سانس لیتا ہے۔ یہ اسی کا بیٹا ہے اور یہ اس کے لئے گہوارہ ہے اور جب یہ اس میں دفن کیا جاتا ہے تو اس کا جسم گل سڑ کے خاک ہوجاتا ہے ، گس بن کر ہوا میں شامل ہوجاتا ہے ، اس زمین سے اسے پھر نکال کر حیات جدید دی جائے گی جیسا کہ پہلے اسے زندگی دی گئی۔ فرعون کے ساتھ گفتگو میں زمین کا تذکرہ بہت ہی مناسب ہے ، یہ بہت ہی متکبر تھا ، یہ اپنے آپ کو رب مخلوق سمجھتا تھا ، حالانکہ وہ اس زمین کا بچہ تھا اور اس زمین میں اسے جانا تھا وہ اس زمین میں تخلیق کردہ اشیاء میں سے ایک شے تھا اور زین ار اس کی ہر چیز کا ایک فرض منصبی مقرر ہے لیکن ولقد ارینہ ایتنا کلھا فکذب وابی (٠ : ٦٥) ” ہم نے فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھائیں مگر وہ جھٹالئے چلا گیا۔ “ اس کے ماحول سے حضرت موسیٰ نے اسے جو آیات دکھائیں ان کی بھی اس نے تکذیب کی۔ اس کو عصا اور ید بیضا کی نشانیاں بھی دکھائیں ، جو آیات تکوینی کا ایک حصہ ہی ہیں مگر اس نے انکار ہی کیا ، اور آیات تکوینی اور آیات خارق عادت میں قرآن کے نزدیک کوئی زیادہ فرق نہیں ہے ، اس لئے قرآن نے یہاں دونوں کا ذکر مشترکہ طور پر کردیا۔ قرآن نے صرف اس بات کا ذکر کیا کہ فرعون نے ان تمام آیات و معجزات کو رد کردیا جادو کہہ کر۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا (مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ ) (اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹا دیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوسری بار نکالیں گے) زمین سے انسان کو جو اصل تعلق ہے اس آیت میں اس کو بیان فرما دیا انسان کی تخلیق بھی مٹی سے ہے اور موت کے بعد بھی ہر شخص اسی میں چلا جاتا ہے سورة المرسلات میں فرمایا (اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ کِفَاتًا اَحْیَآءً وَّاَمْوَاتًا) (کیا ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں کو جمع کرنے والی نہیں بنایا) پھر جب قیامت قائم ہوگی تو ہر شخص اسی میں سے نکل کر میدان حشر میں حاضر ہوجائے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

33:۔ جس زمین سے تمہاری روزی پیدا ہوتی ہے۔ تمہیں بھی اس سے پیدا کیا گیا اور مرنے کے بعد دوبارہ تم اسی میں لوٹا دئیے جاؤ گے اور پھر قیامت کے دن اسی سے تمہیں دوبارہ زندہ کر کے نکالا جائے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

55 ہم نے تم کو اسی زمین سے پیدا کیا ہے اور تم کو پھر اسی زمین میں لوٹا دیں گے اور اسی زمین سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔ ینی مٹی سے پیدا کئے گئے ہو مٹی ہی میں مل کر خاک ہو جائو گے پھر اس مٹی سے دوبارہ قیامت میں نکال لے جائو گے۔