Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 6

سورة طه

لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا وَ مَا تَحۡتَ الثَّرٰی ﴿۶﴾

To Him belongs what is in the heavens and what is on the earth and what is between them and what is under the soil.

جس کی ملکیت آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان اور ( کرۂ خاک ) کے نیچے کی ہر ایک چیز پر ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

To Him belongs all that is in the heavens and all that is on the earth, and all that is between them, and all that is under the soil. This means all of this is owned by Him and in His grasp. It is all under His control, will, intent and judgement. He created all of this, He owns it and He is the God of all of it. There is no true God other than He and no Lord other than He. Concerning Allah's statement, ... وَمَا تَحْتَ الثَّرَى and all that is under the soil. Muhammad bin Ka`b said, "This means that which is beneath the seventh earth." Concerning Allah's statement, وَإِن تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَّهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

6۔ 1 ثَرَیٰ کے معنی ہیں السافلین یعنی زمین کا سب سے نچلا حصہ

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤] زمین اور آسمان کے درمیان کیا کچھ ہے :۔ زمین و آسمان کے درمیان بھی اللہ کی بیشمار مخلوق موجود ہے۔ مثلا ہوا، بادل، اڑنے والے پرندے اور ہوائی جہاز، ایتھر، آسمان سے زمین کی طرف اترنے والے فرشتے اور زمین سے آسمان کی طرف پرواز کرنے والے فرشتے، بد روحیں، فضا میں بروقت گردش کرنے والے سیارے، ٹوٹنے والے ستارے یہ چیزیں تو وہ ہیں جن کا ہمیں کسی نہ کسی طرح علم ہے۔ اور جو انسان کے علم میں نہیں آئیں ان کی تعداد اور ان کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ [٥] اللہ کی مخلوق کہاں کہاں ہے ؟ ثریٰ کے لغوی معنی صرف گیلی مٹی ہے جو زمین کی تہوں میں ہے۔ اور یہ لفظ عموما ً ثریا (کہکشاں) کے مقابلہ میں آتا ہے۔ ثریا سے مراد انتہائی بلنی اور ثریٰ سے مراد انتہائی پستی یا گہرائی لی جاتی ہے۔ گویا چار چیزیں یہاں مذکور ہوئی۔ ایک آسمان اور ان میں رہنے والی مخلوق، دوسرے زمین اور اس پر رہنے والی مخلوق تیسرے آسمانوں اور زمین کے درمیان کی مخلوق اور چوتھے زمین کا اندرونی حصہ اور وہاں کی موجود مخلوق۔ ہر طرح کی مخلوق کا خالق ومالک اللہ ہی ہے اور وہ سب اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ ۔۔ : ” الثَّرٰى“ گیلی مٹی کے نیچے سے مراد زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے، یعنی وہ عرش پر مستوی ہو کر آسمانوں سے لے کر زمین کی آخری گہرائی تک ہر چیز کی تدبیر ہی نہیں کر رہا بلکہ ان سب کا مالک بھی وہ اکیلا ہی ہے۔ ملک بھی اسی کا ہے، ملکیت بھی اسی کی۔ حاکم بھی وہی ہے، مالک بھی وہی۔ ہر چیز کا وجود، حرکت، سکون، تغیر یا ثبات سب کچھ اسی کے امر سے ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَمَا تَحْتَ الثَّرَ‌ىٰ (And whatever is beneath the soil - 20:6). (ثرٰی) (soil) means wet earth which comes out after digging upto a certain depth. Human knowledge does not go beyond) and what is beneath it is known only to Allah. Some years back scientists and researchers, using the latest and the most sophisticated instruments, spent considerable time and effort to pierce across the centre of the earth. According to newspaper reports they were able to penetrate upto a depth of six miles only after which they came across a rock casing and all their efforts to bore further down failed. Scientists were able to collect data only upto six miles, while the diameter of the earth covers thousands of miles. One has to admit, therefore, that the knowledge of what is below the soil is a special attribute of Allah.

وَمَا تَحْتَ الثَّرٰى، ثریٰ ، نمناک گیلی مٹی کو کہتے ہیں جو زمین کھودنے کے وقت نکلتی ہے مخلوقات کا علم تو صرف ثریٰ تک ختم ہوجاتا ہے، آگے اس ثریٰ کے نیچے کیا ہے اس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں، اس نئی تحقیق و ریسرچ اور نئے نئے آلات اور سائنس کی انتہائی ترقی کے باوجود اب سے چند سال پہلے زمین کو برما کر ایک طرف سے دوسری طرف نکل جانے کی کوشش سے مدتوں تک جاری رہی۔ ان سب تحقیقات اور انتھک کوششوں کا نتیجہ اخبارات میں سب کے سامنے آ چکا ہے کہ صرف چھ میل کی گہرائی تک یہ آلات جدیدہ کام کرسکے، آگے ایک ایسا غلاف حجری ثابت ہوا جہاں کھودنے کے سارے آلات اور سائنس جدید کے سب افکار عاجز ہوگئے یہ صرف چھ میل تک کا علم انسان حاصل کرسکا ہے جبکہ زمین کا قطر ہزاروں میل کا ہے اس لئے اس اقرار کے سوا چارہ نہیں کہ ماتحت الثریٰ کا علم حق تعالیٰ ہی کی مخصوص صفت ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَہٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ وَمَا بَيْنَہُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرٰى۝ ٦ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تحت تَحْت مقابل لفوق، قال تعالی: لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] ، وقوله تعالی: جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ، تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ [يونس/ 9] ، فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] ، يَوْمَ يَغْشاهُمُ الْعَذابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ العنکبوت/ 55] . و «تحت» : يستعمل في المنفصل، و «أسفل» في المتصل، يقال : المال تحته، وأسفله أغلظ من أعلاه، وفي الحدیث : «لا تقوم الساعة حتی يظهر التُّحُوت» «4» أي : الأراذل من الناس . وقیل : بل ذلک إشارة إلى ما قال سبحانه : وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] . ( ت ح ت) تحت ( اسم ظرف ) یہ فوق کی ضد ہے قرآن میں ہے :۔ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ [ المائدة/ 66] تو ( ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے ۔ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ [ الحج/ 23] ( نعمت کے ) باغ میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ فَناداها مِنْ تَحْتِها [ مریم/ 24] اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے آواز دی ۔ تحت اور اسفل میں فرق یہ ہے کہ تحت اس چیز کو کہتے ہیں جو دوسری کے نیچے ہو مگر اسفل کسی چیز کے نچلا حصہ کو جیسے ۔ المال تحتہ ( مال اس کے نیچے ہے ) اس کا نچلا حصہ اعلیٰ حصہ سے سخت ہے ) حدیث میں ہے (48) لاتقوم الساعۃ حتیٰ یظھر النحوت کہ قیامت قائم نہیں ہوگی ۔ تا وقی کہ کمینے لوگ غلبہ حاصل نہ کرلیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ حدیث میں آیت کریمہ ؛۔ وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ وَأَلْقَتْ ما فِيها وَتَخَلَّتْ [ الانشقاق/ 3- 4] اور جب یہ زمین ہموار کردی جائے گی اور جو کچھ اس میں سے اسے نکلا کر باہر ڈال دے گی ۔ کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ۔ الثری۔ ثری خاک نمناک، گیلی مٹی۔ سیلی زمین کو کہتے ہیں۔ عام زمین کے نیچے گیلی مٹی ہے اور گیلی مٹی سے بھی نیچے سے مراد زمین کی اتھاہ گہرائیاں ہیں۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦) آسمان و زمین اس کی ملکیت ہیں اور تمام عجائبات اور تمام مخلوقات اور جو چیزیں تحت الثری ہیں یعنی جو چیزیں ساتویں زمین کے نیچے ہیں کیوں کہ ساتوں زمینیں پانی پر ہیں اور پانی مچھلی پر ہے اور مچھلی صخرہ پر ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦ (لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرٰی ) ” الثَّرٰی کے معنی گیلی مٹی کے ہیں ‘ یعنی گیلی مٹی کے نیچے بھی جو کچھ ہے وہ بھی اللہ ہی کی ملکیت ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦۔ ٨:۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان سے لے کر ساتویں زمین کے نیچے تک سب کچھ اللہ کے قبضہ اور اختیار میں ہے اور یہ سب کچھ اس نے اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے علم اس کا ایسا وسیع ہے کہ آدمی کے دل میں جو بات آچکی یا آنے والی ہے یہ سب اس کو معلوم ہے ایسے معبود کی تعظیم میں جو دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ بڑے نادان ہیں کیونکہ سوائے اللہ کے انسان کو انسان کی ضرورت کی چیزوں کو کسی دوسرے نے پیدا نہیں کیا جو انسان پر اس کی تعظیم واجب ہو نہ سوائے اللہ کے کسی دوسرے کو انسان کے دل کے مقصد کی خبر ہے نہ کسی مقصد کے پورا کرنے کا کسی دوسرے کو اختیار ہے مشرکین مکہ کو جب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی باتیں سمجھائی جاتی تھیں تو وہ مشرک مسلمانوں سے کہتے تھے کہ تم بھی تو کبھی اللہ ‘ کبھی رحمن ‘ کبھی رحیم کہہ کر دعائیں مانگتے ہو پھر اللہ کو وحدہ لاشریک بھی کہتے ہو اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا ١ ؎۔ زیادہ تفصیل اس کی سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔ ١ ؎ صحیح بخاری ص ١٠٩٩ ج ٢ باب ان للہ ماتہ اسم الا واحدا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:6) الثری۔ ثری خاک نمناک، گیلی مٹی۔ سیلی زمین کو کہتے ہیں۔ عام زمین کے نیچے گیلی مٹی ہے اور گیلی مٹی سے بھی نیچے سے مراد زمین کی اتھاہ گہرائیاں ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی زمین کے اندر جو تر مٹی ہے جس کو ثریٰ کہتے ہیں جو چیز کہ اس کے نیچے ہے مراد یہ کہ زمین کی تہہ میں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ یہ ماقبل ہی کی توضیح وتائید ہے۔ تمام نظام عالم اسی کے قبضے میں ہے۔ ” وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ الخ “ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ ظاہر و باطن اور سر و علانیہ اس کو یکساں طور پر معلوم ہے۔ سب کی دعائیں اور پکاریں وہی سنتا ہے۔ ” و ان تجهر “ شرط کی جزاء محذوف ہے۔ اور ” فانه یعلم السر واخفی “ جملہ ماقبل کی علت اور جواب محذوف کے قائم مقام ہے فانہ الخ قائم مقام بجواب الشرط ولیس الجواب فی الحقیقۃ والاصل عند البعض وان تجھر بالقول فاعلم ان اللہ یعلمہ فانہ یعلم السر واخفی الخ ّ (روح ج 16 ص 147) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

6 جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اور جو کچھ زمین کی تہ میں گیلی مٹی کے نیچے ہے یہ سب چیزیں اسی حق تعالیٰ کی مملوک ہیں۔ گیلی مٹی یا سیلی مٹی زمین کے نیچے کا وہ حصہ جہاں سے پانی شروع ہوتا ہے یہ حصہ پانی کی نمی کی وجہ سے سیلا ہوا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمام کائنات کا وہی مالک و قابض ہے خواہ وہ بالائی عالم ہو یا سفلی عالم ہو آسمان و زمین کے درمیان عالم ہو یا ہوا اور بادل اور پرندے وغیرہ یا کوئی دوسری مخلوق۔