Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 75

سورة طه

وَ مَنۡ یَّاۡتِہٖ مُؤۡمِنًا قَدۡ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِکَ لَہُمُ الدَّرَجٰتُ الۡعُلٰی ﴿ۙ۷۵﴾

But whoever comes to Him as a believer having done righteous deeds - for those will be the highest degrees [in position]:

اور جو بھی اس کے پاس ایما ن کی حالات میں حاضر ہوگا اور اس نے اعمال بھی نیک کئے ہونگے اس کے لئے بلند و بالا درجے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَنْ يَأْتِهِ مُوْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ ... But whoever comes to Him (Allah) as a believer, and has done righteous good deeds, whoever meets his Lord on the Day of Judgment as a believer in his heart, then verily, his intentions in his heart will be affirmed to be true by his statements and deeds. ... فَأُوْلَيِكَ لَهُمُ الدَّرَجَاتُ الْعُلَى for such are the high ranks, Paradise, which has the highest levels, the most tranquil rooms and the nicest homes. Imam Ahmad reported from Ubadah bin As-Samit that the Prophet said, الْجَنَّةُ مِايَةُ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالاَْرْضِ وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلَاهَا دَرَجَةً وَمِنْهَا تَخْرُجُ الاْاَنْهَارُ الاْاَرْبَعَةُ وَالْعَرْشُ فَوْقَهَا فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْس Paradise has one hundred levels and between each level is a distance like the distance between the sky and the earth. Al-Firdaws is the name of the highest of its levels. From it springs the four rivers and the Throne is above it. Therefore, when you ask Allah, then ask Him for Al-Firdaws. This narration was also recorded by At-Tirmidhi. In the Two Sahihs it is recorded that the Messenger of Allah said, إِنَّ أَهْلَ عِلِّيِّينَ لَيَرَوْنَ مَنْ فَوْقَهُمْ كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الْغَابِرَ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ تِلْكَ مَنَازِلُ الاْاَنْبِيَاءِ قَالَ بَلى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ رِجَالٌ امَنُوا بِاللهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِين Verily, the people of the `Illiyyin will see those who are above them just as you see the fading star in the horizon of the sky, due to the different status of virtue between them. The people said, "O Messenger of Allah, these are the dwellings of the Prophets." He replied, (Of course. And I swear by the One Whom my soul is in His Hand, (it is for) men who had faith in Allah and they believed the Messengers. In the Sunan collections this narration is mentioned with the additional wording, وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَمِنْهُمْ وَأَنْعَمَا And verily Abu Bakr and Umar are of them and they will be most favored. His saying,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَاُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰي ۔۔ : ” الْعُلٰي “ ” عُلْیَا “ کی جمع ہے، جو اسم تفضیل ” أَعْلٰی “ کی مؤنث ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( فِي الْجَنَّۃِ ماءَۃُ دَرَجَۃٍ مَا بَیْنَ کُلِّ دَرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلاَھَا دَرَجَۃً وَمِنْھَا تُفَجَّرُ أَنْھَارُ الْجَنَّۃِ الْأَرْبَعَۃُ وَمِنْ فَوْقِھَا یَکُوْنُ الْعَرْشُ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْأَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ ) [ ترمذي، صفۃ الجنۃ، باب ما جاء فی صفۃ درجات الجنۃ : ٢٥٣١، عن عبادۃ بن الصامت (رض) ] ” جنت میں سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔ ان میں سب سے اعلیٰ درجہ فردوس ہے، اسی سے جنت کی چاروں نہریں جاری ہوتی ہیں اور اس کے اوپر رحمٰن کا عرش ہے تو جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو تو فردوس مانگا کرو۔ “ ایک حدیث میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ أَھْلَ الْجَنَّۃِ یَتَرَاءَوْنَ أَھْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِہِمْ کَمَا تَتَرَاءَوْنَ الْکَوْکَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَیْنَھُمْ ، قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! تِلْکَ مَنَازِلُ الْأَنْبِیَاءِ لَا یَبْلُغُھَا غَیْرُھُمْ ؟ قَالَ بَلٰی وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ ! رِجَالٌ آمَنُوْا باللّٰہِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِیْنَ ) [ بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ و أنھا مخلوقۃ : ٣٢٥٦، عن أبي سعید الخدري (رض) ]” جنت والے اپنے سے اوپر بالاخانوں والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم اس چمک دار ستارے کو دیکھتے ہو جو آسمان کے مشرقی یا مغربی کنارے میں باقی رہ گیا ہو، ان کے ایک دوسرے سے درجات زیادہ ہونے کی وجہ سے۔ “ لوگوں نے کہا : ” یا رسول اللہ ! یہ انبیاء کے مقام ہوں گے کہ ان کے سوا کوئی ان تک نہیں پہنچ سکے گا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” کیوں نہیں ؟ مجھے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یہ وہ آدمی ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور انھوں نے رسولوں کی تصدیق کی۔ “ جنت کی نہروں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة محمد (١٥) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَنْ يَّاْتِہٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰۗىِٕكَ لَہُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰي۝ ٧٥ۙ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے أمن والإِيمان يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ويقال لكلّ واحد من الاعتقاد والقول الصدق والعمل الصالح : إيمان . قال تعالی: وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمانَكُمْ [ البقرة/ 143] أي : صلاتکم، وجعل الحیاء وإماطة الأذى من الإيمان قال تعالی: وَما أَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنا وَلَوْ كُنَّا صادِقِينَ [يوسف/ 17] قيل : معناه : بمصدق لنا، إلا أنّ الإيمان هو التصدیق الذي معه أمن، وقوله تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيباً مِنَ الْكِتابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ [ النساء/ 51] فذلک مذکور علی سبیل الذم لهم، ( ا م ن ) الامن الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلما ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست (2 ۔ 62) میں امنوا کے یہی معنی ہیں اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید ہوۃ کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ اور کبھی ایمان کا لفظ بطور مدح استعمال ہوتا ہے اور اس سے حق کی تصدیق کرکے اس کا فرمانبردار ہوجانا مراد ہوتا ہے اور یہ چیز تصدیق بالقلب اقرار باللسان اور عمل بالجوارح سے حاصل ہوتی ہے اس لئے فرمایا ؛۔ { وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ } ( سورة الحدید 19) اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان لائے ہیں روہی صدیق میں یہی وجہ ہے کہ اعتقاد قول صدق اور عمل صالح میں سے ہر ایک کو ایمان کہا گیا ہے چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَمَا كَانَ اللهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ } ( سورة البقرة 143) ۔ اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یوں ہی کھودے (2 ۔ 143) میں ایمان سے مراد نماز ہے اور (16) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حیا اور راستہ سے تکلیف کے دور کرنے کو جزو ایمان قرار دیا ہے اور حدیث جبرائیل میں آنحضرت نے چھ باتوں کو کو اصل ایمان کہا ہے اور آیت کریمہ ؛۔ { وَمَا أَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنَا وَلَوْ كُنَّا صَادِقِينَ } ( سورة يوسف 17) اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے (12 ۔ 17) میں مومن بمعنی مصدق ہے ۔ لیکن ایمان اس تصدیق کو کہتے ہیں جس سے اطمینان قلب حاصل ہوجائے اور تردد جاتا رہے اور آیت کریمہ :۔ { أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ } ( سورة النساء 44 - 51) من ان کی مذمت کی ہے کہ وہ ان چیزوں سے امن و اطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں جو باعث امن نہیں ہوسکتیں کیونکہ انسان فطری طور پر کبھی بھی باطل پر مطمئن نہیں ہوسکتا ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ درج الدّرجة نحو المنزلة، لکن يقال للمنزلة : درجة إذا اعتبرت بالصّعود دون الامتداد علی البسیطة، کدرجة السّطح والسّلّم، ويعبّر بها عن المنزلة الرفیعة : قال تعالی: وَلِلرِّجالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ [ البقرة/ 228] ( د ر ج ) الدرجۃ : کا لفظ منزلہ ميں اترنے کی جگہ کو درجۃ اس وقت کہتے ہیں جب اس سے صعود یعنی اوپر چڑھتے کا اعتبار کیا جائے ورنہ بسیط جگہ پر امتداد کے اعتبار سے اسے درجۃ نہیں کہتے جیسا کہ چھت اور سیڑھی کے درجات ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا اطلاق منزلہ رفیع یعنی بلند مرتبہ پر بھی ہوجاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَلِلرِّجالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ [ البقرة/ 228] البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٥۔ ٧٦) اور جو شخص قیامت کے دن ایمان کی حالت میں حاضر ہوگا اور اس حال میں کہ اس نے نیک کام بھی کیے ہوں گے تو ایسے حضرات کے لیے جنتوں میں بڑے اونچے درجات ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اس کی تفصیل بیان فرما رہے ہیں کہ وہ دار الرحمن سے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے تمام جنتوں کے درمیان میں بنایا ہے جن کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ، شہد، شراب، اور پانی کی نہریں بہریں بہتی ہوں گی، وہ ان باغات اور جنتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، نہ وہاں موت آئے گی اور نہ یہ حضرات وہاں سے نکالے جائیں گے اور یہ باغات اور وہاں ہمیشہ کا قیام اس شخص کا انعام جو توحید خداوندی کا قائل ہو اور اعمال صالحہ کرے ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٥ (وَمَنْ یَّاْتِہٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓءِکَ لَہُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰی ) ” یعنی ایسے لوگ جن کے پاس ایمان حقیقی کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کی پونجی بھی ہوگی ان کے لیے بلند درجے ہوں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:75) اس آیت میں جن لوگوں کو الدرجت العلی عطا ہوں گے ان کی دو صفتیں بیان کی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مومن ہوں گے یعنی موت کے وقت ایمان کی دولت سے سرفراز ہوں گے اور دوسرے ایمان کے ساتھ انہوں نے نیک عمل بھی کئے ہوں گے سو ایسوں کے لئے بڑے بلند درجے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت کے سو درجے ہیں۔ ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان (مسند احمد) صحیحین میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا :” اعلی علیین والے اپنے سے اوپر والوں کو یوں دیکھیں گے جیسے تم افق میں غروب ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

75 اور جو شخص اس کے حضور میں مومن اور ایمان دار بن کر حاضر ہوا اور آنحالیکہ وہ نیک اعمال کا بھی پابند تھا اور نیک اعمال کیا کرتا تھا تو ایسے لوگوں کے لئے بڑے اونچے اونچے درجے ہوں گے۔