Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 83

سورة طه

وَ مَاۤ اَعۡجَلَکَ عَنۡ قَوۡمِکَ یٰمُوۡسٰی ﴿۸۳﴾

[ Allah ] said, "And what made you hasten from your people, O Moses?"

اے موسٰی! تجھے اپنی قوم سے ( غافل کرکے ) کون سی چیز جلدی لے آئی؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Musa goes to the Appointment with Allah and the Children of Israel succumb to worship the Calf Allah relates what happened when Musa traveled with the Children of Israel after Fir`awn's destruction. فَأَتَوْاْ عَلَى قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَى أَصْنَامٍ لَّهُمْ قَالُواْ يَمُوسَى اجْعَلْ لَّنَأ إِلَـهًا كَمَا لَهُمْ ءَالِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ إِنَّ هَـوُلاء مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَـطِلٌ مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ And they came upon a people devoted to some of idols. They said: "O Musa! Make for us god as they have gods." He said: "Verily, you are a people who know not. Verily, these people will be destroyed for that which they are engaged in. And all that they are doing is in vain." (7:138-139) Then, Allah made a covenant with Musa of thirty nights after which He added to them ten more nights. Thus, they were forty nights in all. The covenant was that he was to fast these number of days, during both the day and night. Thus, Musa made haste to go to the Mountain and he left his brother, Harun, in charge over the Children of Israel. This is why Allah says, وَمَا أَعْجَلَكَ عَن قَوْمِكَ يَا مُوسَى

بنی اسرائیل کا دریا پار جانا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب دریا پار کر کے نکل گئے تو ایک جگہ پہنچے جہاں کے لوگ اپنے بتوں کے مجاور بن کر بیٹھے ہوئے تھے تو بنی اسرائیل کہنے لگے موسیٰ ہمارے لئے بھی ان کی طرح کوئی معبود مقرر کردیجئے ۔ آپ نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو یہ تو برباد شدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تیس روزوں کا حکم دیا ۔ پھر دس بڑھا دئیے گئے پورے چالیس ہو گئے دن رات روزے سے رہتے تھے اب آپ جلدی سے طور کی طرف چلے بنی اسرائیل پر اپنے بھائی ہارون کو خلیفہ مقرر کیا ۔ وہاں جب پہنچے تو جناب باری تعالیٰ نے اس جلدی کی وجہ دریافت فرمائی ۔ آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی طور کے قریب ہی ہیں آرہے ہیں میں نے جلدی کی ہے کہ تیری رضامندی حاصل کرلوں اور اس میں بڑھ جاؤں ۔ موسی علیہ السلام کے بعد پھر شرک ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے چلے آنے کے بعد تیری قوم میں نیا فتنہ برپا ہوا اور انہوں نے گوسالہ پرستی شروع کردی ہے اس بچھڑے کو سامری نے بنایا اور انہیں اس کی عبادت میں لگا دیا ہے اسرائیلی کتابوں میں ہے کہ سامری کا نام بھی ہارون تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمانے کے لئے تورات کی تختیاں لکھ لی گئی تھی جیسے فرمان ہے ( وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ۭ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ ١٤٥؁ ) 7- الاعراف:145 ) یعنی ہم نے اس کے لئے تختیوں میں ہر شے کا تذکرہ اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی تھی اور کہہ دیا کہ اسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنی قوم سے بھی کہو کہ اس پر عمدگی سے عمل کریں ۔ میں تمہیں عنقریب فاسقوں کا انجام دکھا دوں گا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب اپنی قوم کے مشرکانہ فعل کا علم ہوا تو سخت رنج ہوا اور غم وغصے میں بھرے ہوئے وہاں سے واپس قوم کی طرف چلے کہ دیکھو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے باوجود ایسے سخت احمقانہ اور مشرکانہ فعل کا ارتکاب کیا ۔ غم واندوہ رنج وغصہ آپ کو بہت آیا ۔ واپس آتے ہی کہنے لگے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تم سے تمام نیک وعدے کئے تھے تمہارے ساتھ بڑے بڑے سلوک وانعام کئے لیکن ذرا سے وقفے میں تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلا بیٹھے بلکہ تم نے وہ حرکت کی جس سے اللہ کا غضب تم پر اتر پڑا تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کا مطلق لحاظ نہ رکھا ۔ اب بنی اسرائیل معذرت کرنے لگے کہ ہم نے یہ کام اپنے اختیار سے نہیں کیا بات یہ ہے کہ جو زیور فرعونیوں کے ہمارے پاس مستعار لئے ہوئے تھے ہم نے بہتر یہی سمجھا کہ انہیں پھینک دیں چنانچہ ہم نے سب کے سب بطور پرہیز گاری کے پھینک دئیے ۔ ایک روایت میں ہے کہ خود حضرت ہارون علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلا کر ان سے فرمایا کہ وہ زیور سب اس میں ڈال دو ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ سب زیور ایک جا ہوجائیں اور پگل کر ایک ڈلا بن جائے پھر جب موسیٰ علیہ السلام آجائیں جیسا وہ فرمائیں کیا جائے ۔ سامری نے اس میں وہ مٹی ڈال دی جو اس نے اللہ کے قاصد کے نشان سے لی تھی اور حضرت ہارون علیہ السلام نے کہا آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے کہ وہ میری خواہش قبول فرما لے آپ کو کیا خبر تھی آپ نے دعا کی اس نے خواہش یہ کی کہ اس کا ایک بچھڑا بن جائے جس میں سے بچھڑے کی سی آوازبھی نکلے چنانچہ وہ بن گیا اور بنی اسرائیل کے فتنے کا باعث ہو گیا پس فرمان ہے کہ اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیا ۔ حضرت ہارون علیہ السلام ایک مرتبہ سامری کے پاس سے گزرے وہ اس بچھڑے کو ٹھیک ٹھاک کر رہا تھا ۔ آپ نے پوچھا کیا کررہے ہو؟ اس نے کہا وہ چیز بنا رہا ہوں جو نقصان دے اور نفع نہ دے ۔ آپ نے دعا کی اے اللہ خود اسے ایسا ہی کردے اور آپ وہاں سے تشریف لے گئے سامری کی دعا سے یہ بچھڑا بنا اور آواز نکالنے لگا ۔ بنی اسرائیل بہکاوے میں آگئے اور اس کی پرستش شروع کردی ۔ اس کے سامنے سجدے میں گر پڑتے اور دوسری آواز پر سجدے سے سر اٹھاتے ۔ یہ گروہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بہکانے لگا کہ دراصل اللہ یہی ہے موسیٰ بھول کر اور کہیں اس کی جستجو میں چل دئیے ہیں وہ یہ کہنا بھول گئے کہ تمہارے رب یہی ہیں ۔ یہ لوگ مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھ گئے ۔ ان کے دلوں میں اس کی محبت رچ گئی ۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سامری اپنے سچے اللہ اور اپنے پاک دین اسلام کو بھول بیٹھا ۔ ان کی بیوقوفی دیکھئے کہ یہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا تو محض بےجان چیز ہے ان کی بات کا نہ تو جواب دے نہ سنے نہ دنیا آخرت کی کسی بات کا اسے اختیار نہ کوئی نفع نقصان اس کے ہاتھ میں ۔ آواز جو نکلتی تھی اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ پیچے کے سوراخ میں سے ہوا گزر کر منہ کے راستے نکلتی تھی اسی کی آواز آتی تھی ۔ اس بچھڑے کا نام انہوں نے بہموت رکھ چھوڑا تھا ۔ ان کی دوسری حماقت دیکھئے کہ چھوٹے گناہ سے بچنے کے لئے بڑا گناہ کر لیا ۔ فرعونیوں کی امانتوں سے آزاد ہونے کے لئے شرک شروع کردیا ۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ کسی عراقی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر اگر مچھر کا خون لگ جائے تو نماز ہوجائے گی یا نہیں؟ آپ نے فرمایا ان عراقیوں کو دیکھو بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر کو تو قتل کردیں اور مچھر کے خون کے مسئلے پوچھتے پھریں؟

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَآ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ يٰمُــوْسٰى : اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل اور موسیٰ (علیہ السلام) سے طور کے دائیں جانب میں آنا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کرنا طے فرمایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے خود قوم کے ساتھ آنے کے بجائے ہارون (علیہ السلام) کو اپنا جانشین مقرر کرکے انھیں طور کی طرف سفر جاری رکھنے کا حکم دیا اور خود اپنے رب سے کلام اور ملاقات کے شوق میں نہایت تیزی کے ساتھ وعدے کے مقام پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے مناجات اور تورات عطا کرنے کے بعد پوچھا کہ موسیٰ ! تجھے کیا چیز تیری قوم سے جلدی لے آئی ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Sayyidna Musa (علیہ السلام) and the Bani Isra&il, having escaped the Pharaoh&s wrath and having crossed the river in safety, proceeded on their journey. Soon they came upon a people who worshipped idols. They said to Sayyidna Musa |"These people have adopted the idols as their gods who are visible as well as tangible. Do give us also a god whom we can see and touch.|", Sayyidna Musa علیہ السلام replied,إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ ﴿١٣٨﴾ إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ‌ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿١٣٩﴾ (|"You are really an ignorant people. at these people are in, is sure to be destroyed; and false is what they are doing.|" - 7:138-139.) It was then that Allah commanded Sayyidna Musa (علیہ السلام) to bring his people to the mount of Tur where he would receive the Book Torah which would be a code and a policy document for all of them. However, he would have to prepare himself to receive the Torah by observing a fast for thirty days and thirty nights continuously. This period was later extended by a further ten days so that the total period of fasting was forty days and forty nights. Then Sayyidna Musa (علیہ السلام) led his people towards the mount of Tur, but in his eagerness to receive the Torah he hastened ahead so that he could complete his prayers and fasts for the prescribed period of thirty days as early as possible. He appointed Sayyidna Harun (علیہ السلام) to be his deputy during his absence. The Bani Isra&il continued the journey at their leisurely pace while he pushed on hoping that they would join him in due course near the mount of Tur. In the meanwhile Samiri, by his wiles, seduced them into adopting the calf as the object of their worship and thus divided them into three factions. This unfortunate development seriously impeded their progress towards the Tur. Allah questioned Sayyidna Musa (علیہ السلام) about his haste and the wisdom behind the question When Sayyidna Musa (علیہ السلام) appeared before Divine Presence, Allah questioned him as to why he had hastened ahead of his people. The obvious purpose of the question was to inform Sayyidna Musa (علیہ السلام) of the mischief into which his people had fallen while he himself, unaware of what had happened in his absence, was expecting their arrival at the Tur (Ibn Kathir). On the other hand, according to Ruh ul-Maani, the question contained an implied rebuke to Sayyidna Musa (علیہ السلام) on his haste which deprived his people of his supervision and enabled Samiri to mislead them. His position as a prophet made it incumbent on him to stay with his people and keep a watchful eye on them and their activities. The learned commentator has further observed that this question implied an indication that a leader should remain behind his people when travelling with them, as Allah Ta` ala had ordered but to bring his people out of the city and to remain at their back وَاتَّبِعْ أَدْبَارَ‌هُمْ (follow them at the rear -15:65) Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، ignorant of Samiri&s mischief, answered the question put to him by Allah that his haste was the result of his ardent desire to fulfill Allah&s command without loss of time so as to deserve His greater favour, and that his people were close behind him and might arrive at any time. It was at that moment that Allah informed him of the evil that had befallen his people and the part played by Samiri in bringing it about.

خلاصہ تفسیر اور (جب اللہ تعالیٰ کو توراة دینا منظور ہوا تو موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر آنے کا حکم فرمایا اور قوم کو بھی یعنی بعضوں کو ساتھ آنے کا حکم ہوا (کذا فی فتح المنان عن الباب التاسع عشر من سفر الخروج) موسیٰ (علیہ السلام) شوق میں سب سے آگے تنہا جا پہنچے اور دوسرے لوگ اپنی جگہ رہ گئے طور کا ارادہ ہی نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ) اے موسیٰ آپ کو اپنی قوم سے آگے جلدی آنے کا کیا سبب ہوا، انہوں نے (اپنے گمان کے موافق) عرض کیا کہ وہ لوگ یہی تو ہیں میرے پیچھے پیچھے (آ رہے ہیں) اور میں (سب سے پہلے) آپ کے پاس (یعنی اس جگہ جہاں مکالمت و مخاطبت کا آپ نے وعدہ فرمایا) جلدی سے اس لئے چلا آیا کہ آپ (زیادہ) خوش ہوں گے (کیوکنہ امتثال امر میں پیش قدمی کرنا زیادہ موجب خوشنودی کا ہے) ارشاد ہوا کہ تمہاری قوم کو تو ہم نے تمہارے (چلے آنے کے) بعد ایک بلا میں مبتلا کردیا اور ان کو سامری نے گمراہ کردیا (جس کا بیان آگے آتا ہے فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْــلًا الخ اور فَتَنَّا میں اس ابتلاء کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب اس لئے کیا کہ خالق ہر فعل کا وہی ہے ورنہ اصل نسبت اس فعل کی سامری کی طرف ہے جس کو اَضَلَّـهُمُ السَّامِرِيُّ میں ظاہر فرمایا ہے) غرض موسیٰ (علیہ السلام بعد انقضائے میعاد کے) غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف واپس آئے ( اور) فرمانے لگے کہ اے میری قوم کیا تم سے تمہارے رب نے ایک اچھا (اور سچا) وعدہ نہیں کیا تھا ( کہ ہم تم کو ایک کتاب احکام کی دیں گے تو اس کتاب کا تو تم کو انتظار واجب تھا) کیا تم پر (میعاد مقرر سے بہت) زیادہ زمانہ گزر گیا تھا ( کہ اس کے ملنے سے ناامیدی ہوگئی اس لئے اپنی طرف سے ایک عبادت ایجاد کرلی) یا (باوجود ناامیدی نہ ہونے کے) تم کو یہ منظور رہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب واقع ہوا اس لئے تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا ( کہ آپ کی واپسی تک کوئی نیا کام نہ کریں گے اور آپ کے نائب ہارون (علیہ السلام) کی اطاعت کریں گے ( اس کے خلاف کیا وہ کہنے لگے کہ ہم نے جو آپس سے وعدہ کیا تھا اس کو اپنے اختیار سے خلاف نہیں کیا (یہ معنی نہیں کہ کسی نے ان سے زبردستی یہ فعل کرا لیا بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس رائے کو ہم نے ابتداءً جبکہ خالی الذہن تھے اختیار کرلیا تھا، اس کے خلاف سامری کا فعل ہمارے لئے منشاء اشتباہ بن گیا جس سے ہم نے وہ رائے سابق یعنی توحید اختیار نہ کی بلکہ رائے بدل گئی۔ گو اس پر بھی عمل اختیار ہی سے ہوا چناچہ آئندہ کہا گیا و لیکن قوم (ضبط) کے زیور میں سے ہم پر بوجھ لد رہا تھا سو ہم نے اس کو (سامری کے کہنے سے آگ میں) ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے (بھی اپنے ساتھ کا زیور) ڈال دیا (آگے اللہ تعالیٰ قصہ کی تکمیل اس طرح فرماتے ہیں) پھر اس (سامری) نے ان لوگوں کے لئے ایک بچھڑا (بنا کر) ظاہر کیا کہ وہ ایک قالب (خالی از کمالات) تھا جس میں ایک (بےمعنی) آواز تھی سو (اس کی نسبت وہ احمق لوگ (ایک دوسرے سے) کہنے لگے کہ تمہارا اور موسیٰ کا بھی معبود تو یہ ہے (اس کی عبادت کرو) موسیٰ تو بھول گئے ( کہ طور پر خدا کی طلب میں گئے ہیں حق تعالیٰ ان کی احمقانہ جسارت پر فرماتے ہیں کہ) کیا وہ لوگ اتنا بھی نہیں دیکھتے تھے کہ وہ (بواسطہ یا بلاواسطہ) نہ تو ان کی کسی بات کا جواب دے سکتا ہے اور نہ ان کے کسی ضرر یا نفع پر قدرت رکھتا ہے (ایسا ناکارہ خدا کیا ہوگا اور الہ حق بواسطہ انبیاء کے خطاب و کلام ضروری فرماتا ہے۔ ) معارف و مسائل جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل فرعون کے تعاقب اور دریا سے نجات پانے کے بعد آگے بڑھے تو ان کا گزر ایک بت پرست قوم پر ہوا اور ان کی عبادت پرستش کو دیکھ کر بنی اسرائیل کہنے لگے کہ جس طرح انہوں نے موجود اور محسوس چیزوں یعنی بتوں کو اپنا خدا بنا رکھا ہے ہمارے لئے بھی کوئی ایسا ہی معبود بنا دیجئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے احمقانہ سوال کے جواب میں بتلایا کہ تم بڑے جاہل ہو یہ بت پرست لوگ تو سب ہلاک ہونے والے ہیں اور ان کا طریقہ باطل ہی اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْـهَلُوْنَ ، اِنَّ هٰٓؤ ُ لَاۗءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيْهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، اس وقت حق تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ وعدہ فرمایا کہ اپنی قوم کے ساتھ کوہ طور پر آ جایئے تو ہم آپ کو اپنی کتاب تورات عطا کریں گے جو آپ کے اور آپ کی قوم کے لئے دستور العمل ہوگا مگر عطاء تورات سے پہلے آپ تیس روز اور تیس رات کا مسلسل روزہ رکھیں پھر اس کے بعد اس میعاد میں دس کا اور اضافہ کر کے چالیس روز کردیئے گئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مع اپنی قوم کے کوہ طور کی طرف روانہ ہوگئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس وعدہ ربانی کی وجہ سے شوق بھڑک اٹھا اور اپنی قوم کو یہ وصیت کر کے آگے چلے گئے کہ تم بھی میرے پیچھے آجاؤ، میں آگے جا کر عبادت روزہ وغیرہ میں مشغول ہوتا ہوں جس کی میعاد مجھے تیس روز بتلائی گئی ہے، میری غیبت میں ہارون (علیہ السلام) میرے نائب اور قائم مقام ہوں گے۔ بنی اسرائیل مع ہارون (علیہ السلام) کے اپنی رفتار سے پیچھے چلتے رہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جلدی کر کے آگے بڑھ گئے اور خیال یہ تھا کہ قوم کے لوگ بھی پیچھے پیچھے کوہ طور کے قریب پہنچیں گے مگر وہاں وہ سامری کا فتنہ گو سالہ پرستی کا پیش آ گیا۔ بنی اسرائیل کے تین فرقے ہو کر اختلاف میں مبتلا ہوگئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پیچھے پیچھے پہنچنے کا معاملہ رک گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب حاضر ہوئے تو حق تعالیٰ نے یہ خطاب فرمایا وَمَآ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ يٰمُــوْسٰى یعنی اے موسیٰ آپ اپنی قوم سے آگے جلدی کر کے کیوں آگئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عجلت کرنے کا سوال اور اس کی حکمت : سوال کا مقصد بظاہر یہ تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی حالت سے بیخبر رہ کر یہ توقع کر رہے تھے کہ وہ بھی کوہ طور کے قریب پہنچ گئے ہوں گے اور قوم فتنہ میں مبتلا ہوچکی ہے اس کی خبر موسیٰ کو دے دیجائے (از تفسیر ابن کثیر) اور روح المعانی میں بحوالہ کشف اس سوال کی وجہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی قوم کی تربیت کے متعلق ایک خاص ہدایت دینا اور ان کی اس عجلت پر تنبیہ کرنا تھا کہ آپ کے منصب رسالت کا تقاضا یہ تھا کہ قوم کے ساتھ رہتے ان کو اپنی نظر میں رکھتے اور ساتھ لاتے۔ آپ کی عجلت کرنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ قوم کو سامری نے گمراہ کردیا۔ اس میں خود فعل عجلت کی مذمت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ شان انبیاء کی نہ ہونی چاہئے اور بحوالہ انتصاف نقل کیا ہے کہ اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قوم کے ساتھ سفر کرنے کا طریقہ بتلایا گیا کہ رئیس القوم کو پیچھے رہنا چاہئے جیسے لوط (علیہ السلام) کے واقعہ میں حق تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کو مؤمنین کو اپنے ساتھ لے کر شہر سے نکل جایئے، ان کو آگے رکھ کر خود ان سب کے پیچھے رہئے۔ وَاتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ اللہ تعالیٰ کے مذکورہ سوال کے جواب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گمان کے مطابق عرض کیا کہ میری قوم کے لوگ بھی پیچھے پیچھے پہنچنا ہی چاہتے ہیں اور میں کچھ جلدی کر کے آگے اس لئے آگیا کہ حکم کی تعمیل میں پیش قدمی کرنا حاکم کی زیادہ خوشنودی کا سبب ہوا کرتا ہے۔ اس وقت حق تعالیٰ نے ان کو قوم بنی اسرائیل میں پیش آنے والے فتنہ گو سالہ پرستی کی اطلاع دے دی اور یہ کہ ان کو تو سامری نے گمراہ کردیا ہے اور وہ فتنہ میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَآ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ يٰمُــوْسٰى۝ ٨٣ عجل العَجَلَةُ : طلب الشیء وتحرّيه قبل أوانه، وهو من مقتضی الشّهوة، فلذلک صارت مذمومة في عامّة القرآن حتی قيل : «العَجَلَةُ من الشّيطان» «2» . قال تعالی: سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] ، ( ع ج ل ) العجلۃ کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے ہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا اس کا تعلق چونکہ خواہش نفسانی سے ہوتا ہے اس لئے عام طور پر قرآن میں اس کی مذمت کی گئی ہے حتی کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا العجلۃ من الشیطان ( کہ جلد بازی شیطان سے ہے قرآن میں ہے : سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤ نگا لہذا اس کے لئے جلدی نہ کرو ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11]

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٣۔ ٨٤) چناچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور کی طرف اپنی قوم کے ستر آدمیوں کے ساتھ روانہ ہوئے تو شوق میں سب سے آگے تنہا جاپہنچے اور دوسرے لوگ اپنی جگہ رہ گئے، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا آپ کو اپنی قوم سے آگے جلدی آنے کا کیا سبب ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے (اپنے گمان کے موافق) عرض کیا کہ وہ لوگ بھی میرے پیچھے آرہے ہیں اور میں سب سے پہلے جلدی سے آپ کے پاس اس لیے آیا کہ آپ مجھ سے زیادہ خوش ہوں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٣ (وَمَآ اَعْجَلَکَ عَنْ قَوْمِکَ یٰمُوْسٰی ) ” اس سے پہلے سورة مریم کی آیت ٦٤ اور آیت ٨٤ میں عجلت سے منع کیا جا چکا ہے۔ آیت ٦٤ میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بالواسطہ انداز میں فرمایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وحی کے جلد آنے کے بارے میں خواہش نہ کیا کریں ‘ کیونکہ یہ تو اللہ کی مشیت کے مطابق ہی نازل ہوگی۔ چناچہ فرشتے کی زبان سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے کہلوایا گیا : (وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ ج) کہ ہم تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کے حکم سے ہی نازل ہوتے ہیں۔ جبکہ آیت ٨٤ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے فرمایا گیا : (فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْہِمْ ط) ” تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر (عذاب کے بارے میں ) جلدی نہ کریں “۔ اب آیت زیر نظر میں جلدی کرنے پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جواب طلبی ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات دینے کے لیے ایک معین وقت پر کوہ طور پر بلایا تو آپ ( علیہ السلام) فرط اشتیاق سے قبل از وقت وہاں پہنچ گئے۔ اس پر آپ ( علیہ السلام) سے پوچھا گیا کہ آپ ( علیہ السلام) اپنی قوم کو پیچھے چھوڑ کر وقت سے پہلے یہاں کیوں آگئے ہیں ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

61. From here the same account is resumed that was interrupted by the parenthesis (Ayats 81-82). The Israelites were told to stay on the right side of Mount Toor, and they would be given the commandments after forty days. 62. This shows that in his eagerness to see his Lord as soon as possible, Prophet Moses (peace be upon him) had left them in the way and reached the meeting place alone. For the details of that meeting the reader should see (Surah Al- Aaraf, Ayats 143-145). Here only that portion has been mentioned which is connected with the calf-worship by the Israelites. This has been stated here to bring home to the disbelievers of Makkah how idol-worship starts and how deeply a Prophet of Allah is concerned about this evil.

سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :61 یہاں سے سلسلہ بیان اس واقعہ کے ساتھ جڑتا ہے جو ابھی اوپر بیان ہوا ہے ۔ یعنی بنی اسرائیل سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ تم طور کے دائیں جانب ٹھہرو ، اور چالیس دن کی مدت گزرنے پر تمہیں ہدایت نامہ عطا کیا جائے گا ۔ سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :62 اس فقرے سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم کو راستے ہی میں چھوڑ کر حضرت موسیٰ اپنے رب کی ملاقات کے شوق میں آگے چلے گئے تھے ۔ طور کی جانب ایمن میں ، جہاں کا وعدہ بنی اسرائیل سے کیا گیا تھا ، ابھی قافلہ پہنچنے بھی نہ پایا تھا کہ حضرت موسیٰ اکیلے روانہ ہو گئے اور حاضری دے دی ۔ اس موقع پر جو معاملات خدا اور بندے کے درمیان ہوئے ان کی تفصیلات سورہ اعراف رکوع 17 میں درج ہیں ۔ حضرت موسیٰ کا دیدار الہٰی کی استدعا کرنا اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ تو مجھے نہیں دیکھ سکتا ، پھر اللہ کا ایک پہاڑ پر ذرا سی تجلی فرما کر اسے ریزہ ریزہ کر دینا اور حضرت موسیٰ کا بیہوش ہو کر گر پڑنا ، اس کے بعد پتھر کی تختیوں پر لکھے ہوئے احکام عطا ہونا ، یہ سب اسی وقت کے واقعات ہیں ۔ یہاں ان واقعات کا صرف وہ حصہ بیان کیا جا رہا ہے جو بنی اسرائیل کی گو سالہ پرستی سے متعلق ہے ۔ اس کے بیان سے مقصود کفار مکہ کو یہ بتانا ہے کہ ایک قوم میں بت پرستی کا آغاز کس طرح ہوا کرتا ہے اور اللہ کے نبی اس فتنے کو اپنی قوم میں سر اٹھاتے دیکھ کر کیسے بے تاب ہو جایا کرتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

31: صحرائے سینا میں قیام کے دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلایا تھا، تاکہ وہ وہاں چالیس دن تک اعتکاف کریں تو انہیں تورات عطا کی جائے گی۔ شروع میں بنی اسرائیل کے کچھ منتخب لوگوں کے بارے میں بھی یہ طے ہوا تھا کہ وہ بھی آپ کے ساتھ جائیں گے۔ لیکن حضرت موسی جلدی روانہ ہوگئے، اور ان کا خیال تھا کہ باقی ساتھی بھی پیچھے آرہے ہوں گے۔ لیکن وہ لوگ نہیں آئے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٨٣۔ ٨٤:۔ مدین سے مصر واپس آتے وقت جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں اس وقت اسرائیل میں کا کوئی شخص حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ نہیں تھا اس واسطے اس کی تصدیق کے لیے کہ حضرت موسیٰ سچے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اور ان سے باتیں ہوتی ہیں جس وقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تورات لینے کوہ طور پر گئے تو بنی اسرائیل میں سے چند شخصوں کو منتخب کرکے اپنے ساتھ لے گئے تھے اور جب کوہ طور قریب آیا تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) قوم کے لوگوں سے آگے بڑھ کے جلدی سے پہاڑ پر پہنچ گئے اور ان کے ساتھ کے لوگ پیچھے رہ گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے پوچھا کہ قوم کے لوگوں کو چھوڑ کر جلدی کرکے کیوں چلے آئے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے جواب دیا کہ وہ لوگ بھی پیچھے آتے ہیں یا اللہ میں جلدی کر کے اس واسطے چلا آیا کہ کوہ طور پر حاضر ہونے کے تیرے حکم کی تعمیل میں جلدی کروں تاکہ تو مجھ سے خوش ہو ١ ؎۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نظر انسان کے دل پر لگی رہتی ہے کہ انسان ہر ایک کام کس نیت سے کرتا ہے اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا بنی اسرائیل کو پچھے چھوڑ کر چلے آنے کا اور جس نیت سے موسیٰ (علیہ السلام) جلدی کر کے پہاڑ پر آگئے اس کا حال اللہ تعالیٰ کو پہلے سے ہی معلوم تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ بات اس لیے پوچھی کہ اللہ تعالیٰ کا بندوں کی ہر ایک حالت سے واقف ہونے کا حال لوگوں کو معلوم ہوجائے۔ ١ ؎ نیز مشکوٰۃ ص ٤٥٤ باب اریاء والسمعۃ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:83) اعجلک اعجل اس نے جلد کرائی۔ اعجال (افعال) مصدر۔ عجلت جلدی۔ جیسا کہ اوپر آیت نمبر 80 میں گذر چکا ہے کہ وعدنکم جانب الطور الایمن اور یہ وہ وعدہ تھا کہ پیغمبر (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے اکابر آئیں اور اپنے لئے احکام و ہدایت لے جائیں اس کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ستر سر برآورہ آدمی ہمراہ لئے اور کوہ طور کی طرف چل پڑے اور جاتی دفعہ اپنی قوم کو تاکید فرمائی کہ وہ ان کی غیر موجودگی میں کوئی ناشائستہ حرکت نہ کریں۔ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنا نائب بنا کر ان کے پاس چھوڑ گئے۔ جب وہ اپنے ستر آدمیوں کو لے کر کوہ طور کے نزدیک پہنچے تو شوق ملاقات الٰہی سے بیتاب ہو کر ساتھیوں کو پیچھے چھوڑا اور خود مقام مقررہ پر پہنچ گئے ارشاد الٰہی ہوا کہ اپنے ساتھیوں کو پیچھے کیوں چھوڑ آئے۔ عرض کہ کہ شوق ملاقات اور تجھے راضی کرنے کی تمنا کشاں کشاں دوڑا لائی ہے ساتھی بھی پیچھے آہی رہے ہیں۔ ارشاد ہوا فانا قد فتنا قومک۔۔ الخ ہم نے تیری قوم کو (تیرے پیچھے) ایک آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ ما اعجلک عن قومک۔ کونسی بات تجھے اپنی قوم سے پہلے کھینچ لائی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی جب حضرت موسیٰ قوم پر اپنے بھائی ہارون کو نگران مقرر کر کے توراۃ لینے طور پر آئے تو ہم نے کہا :” اے موسیٰ !……مفسرین کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ اپنی قوم کے جو ستر آدمی ساتھ لے کر جا رہے تھے ان کو پیچھے راستہ میں چھوڑ کر اپنے رب کی ملاقات کے شوق میں آگے بڑھ گئے اور ان سے پہلے طور پر پہنچ گئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ سوال کیا۔ (فتح القدیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کوہ طور کی طرف جانا اور ان کی عدم موجودگی میں ان کی قوم کا گمراہ ہونا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کوہ طور کی دائیں جانب فلاں مقام پر فلاں وقت حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ہدایت فرمائی کہ وہ ان کی نیابت کرتے ہوئے بنی اسرائیل کی اصلاح کا فریضہ انجام دیتے رہیں یہ کہہ کر موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لیے کوہ طور کی دائیں جانب پہنچ کر عبادت میں مصروف ہوگئے۔ جونہی موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو چھوڑ کر کوہ طور کے دامن میں معتکف ہوئے تو پیچھے سے ان کی قوم کے لوگوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کردی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو استفسار فرمایا کہ اے موسیٰ ! آپ نے اس قدر یہاں آنے کی کیوں جلدی کی ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی کہ اے میرے رب آپ کی ملاقات کی خواہش نے مجھے بےتاب کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے موسیٰ ! ہم نے آپ کے بعد آپ کی قوم کی آزمائش کی جنہیں سامری نے گمراہ کردیا ہے۔ ثابت ہوا کہ بنی اسرائیل بڑے ہی متلون مزاج اور طوطا چشم لوگ تھے۔ کیونکہ جب دریا عبور کرنے کے بعد بیت المقدس کی طرف سفر کر رہے تھے تو راستے میں انھوں نے ایسی قوم دیکھی جو اپنے بتوں کے سامنے اعتکاف کر رہی تھی۔ انھوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کر ڈالا کہ اے موسیٰ ہمارے لیے بھی ایسے خدا بنا دیجیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو۔ (وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰی قَوْمٍ یَّعْکُفُوْنَ عَلٰٓی اَصْنَامٍ لَّھُمْ قَالُوْا یٰمُوْسَی اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰھًا کَمَا لَھُمْ اٰلِھَۃٌ قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْھَلُوْن۔ اِنَّ ھآؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا ھُمْ فِیْہِ وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ قَالَ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْغِیْکُمْ اِلٰھًا وَّ ھُوَ فَضَّلَکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ) [ الاعراف : ١٣٨] ” اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پاراتارا۔ وہ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو اپنے بتوں پر جمے بیٹھے تھے کہنے لگے اے موسیٰ ہمارے لیے بھی کوئی معبود بنادے، جیسے ان کے معبود ہیں ! اس نے کہا تم تو جاہل لوگ ہو۔ بیشک یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ تباہ کیا جانے والا ہے اور جو کچھ کرتے آرہے ہیں وہ باطل ہے۔ کیا میں اللہ کے سوا تمہارے لیے کوئی معبود تلاش کروں ؟ حالانکہ اس نے تمہیں پوری دنیا پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ “ بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کے دیگر احسانات کے ساتھ یہ احسان بھی فراموش کردیا اور لمحہ بھر سوچنے کی زحمت نہ کی کہ ابھی تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دشمن سے نجات دی ہے اور ہمارے دشمن کو ذلیل و خوار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ سامری کے بارے میں اہل قلم نے لکھا ہے کہ اس کا تعلق سامرہ قبیلہ کے ساتھ تھا۔ جس کی وجہ سے اسے سامری کہا گیا ہے۔ اس کا تعلق سامرہ شہر کے ساتھ نہیں تھا۔ جو بہت مدّت بعدفلسطین کا دارالحکومت بنا تھا۔ مسائل ١۔ رب کی رضا حاصل کرنے کے لیے جلدی کرنا چاہیے۔ ٢۔ بنی اسرائیل کو سامری نے راہ راست سے بھٹکا دیا۔ تفسیر بالقرآن بنی اسرائیل کی جلد بازیاں : ١۔ بنی اسرائیل نے کھانے کی چیزیں طلب کرنے میں جلدبازی سے کام لیا۔ ( البقرۃ : ٦١) ٢۔ بنی اسرائیل نے اپنے رب کے حکم میں جلدی کی اور بچھڑے کی عبادت شروع کردی۔ ( الاعراف : ١٥٠) ٣۔ بنی اسرائیل نے جلد بازی میں مطالبہ کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ ( البقرۃ : ٥٥) ٤۔ بنی اسرائیل سوالات کرنے میں بڑے جلد باز تھے۔ ( البقرۃ : ٦٨ تا ٧٠) ٥۔ اللہ تعالیٰ کے احکام پامال کرنے میں بنی اسرائیل جلد باز تھے۔ ( الاعراف : ١٦٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یہ سن کر حیران رہ گئے ۔ وہ رب تعالیٰ کی ملاقات کے لئے بےتاب تھے ۔ انہوں نے چالیس دن کا وقت بھی گزار لیا تھا اور ملاقات کی تیاری بھی کرلی تھی تاکہ وہ بنی اسرائیل کے لئے نیا نظام زندگی حاصل کرلیں کیونکہ ابھی ابھی وہ آپ کی قیادت میں فرعون کی غلامی سے رہا ہوئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل ایک ایسی امت ہو جس کے پاس ایک پغیام ہو اور اس کے کچھ فرائض ہوں۔ لیکن بنی اسرائیل کی حالت یہ تھی کہ ایک طویل ذلت کی زنگدی اور بت پرستانہ فرعونیت کی غلامی نے ان کا ضمیر بدل دیا تھا۔ وہ مشقت برداشت کرنے کے قابل نہ تھے۔ نہ مشکلات میں صبر کرسکتے تھے اور نہ کسی قول وقرار پر ثابت قدم رہ سکتے تھے۔ ان کے شعور میں غلامی تقلید اور سہل پسندی رچ بس گئی تھی۔ جونہی موسیٰ ان کو حضرت ہارون کی نگرانی میں چھوڑ کر ان سے ذرا دور ہوئے ان کے عقائد بدل گئے اور پہلی ہی آزمائش میں وہ چار شانے چت ہوگئے۔ ان کے لئے تو مسلسل امتحان ضروری تھا اور مسلسل مشکلات اور آزمائمشوں میں ان کو بار بار ڈالنا ضروری تھا تاکہ ان کی نفسیاتی تربیت ہو۔ گو سالہ پرستی ان کی پہلی آزمائش تھی ، یہ ایک مصنوعی بچھڑا تھا جو سامری نے ان کے لئے تیار کیا تھا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

55:۔ حسب میقات خداوندی جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم کے ستر نقباء اور سرداروں کو لے کر کوہ طور کی طرف روانہ ہوئے تو وفور اشتیاق کی وجہ سے راستہ میں تیزی سے آگے نکل گئے۔ اور نقباء سے پہلے میقات پر پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے موسیٰ ! ایسی جلدی کیوں کی کہ ساتھیوں کو پیچھے چھوڑ آئے عرض کیا میرے پروردگار تیری رضا و خوشنودی کی خاطر جلد حاضر ہوا ہوں اور وہ بھی کوئی دور نہیں یہ میرے پیچھے ہی آرہے ہیں۔ یا قوم سی ساری قوم مراد ہے یعنی قوم کو پیچھے چھوڑ کر اتنی جلدی کیوں آگئے۔ جواب دیا وہ بھی قریب ہی ہیں اور میری واپسی کا انتظار کر رہے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

83 ارشاد ہوا اور اے موسیٰ (علیہ السلام) تجھ کو اپنی قوم سے جلدی اگٓے آنے کا کیا سبب ہوا ۔ یعنی جو قوم کے نمائنے اور نقبا تیرے ساتھ آ رہے تھے تو ان سے آگے کیسے چلا آیا اور اس کا سبب کیا ہے۔