Commentary Sayyidna Musa (علیہ السلام) and the Bani Isra&il, having escaped the Pharaoh&s wrath and having crossed the river in safety, proceeded on their journey. Soon they came upon a people who worshipped idols. They said to Sayyidna Musa |"These people have adopted the idols as their gods who are visible as well as tangible. Do give us also a god whom we can see and touch.|", Sayyidna Musa علیہ السلام replied,إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ ﴿١٣٨﴾ إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿١٣٩﴾ (|"You are really an ignorant people. at these people are in, is sure to be destroyed; and false is what they are doing.|" - 7:138-139.) It was then that Allah commanded Sayyidna Musa (علیہ السلام) to bring his people to the mount of Tur where he would receive the Book Torah which would be a code and a policy document for all of them. However, he would have to prepare himself to receive the Torah by observing a fast for thirty days and thirty nights continuously. This period was later extended by a further ten days so that the total period of fasting was forty days and forty nights. Then Sayyidna Musa (علیہ السلام) led his people towards the mount of Tur, but in his eagerness to receive the Torah he hastened ahead so that he could complete his prayers and fasts for the prescribed period of thirty days as early as possible. He appointed Sayyidna Harun (علیہ السلام) to be his deputy during his absence. The Bani Isra&il continued the journey at their leisurely pace while he pushed on hoping that they would join him in due course near the mount of Tur. In the meanwhile Samiri, by his wiles, seduced them into adopting the calf as the object of their worship and thus divided them into three factions. This unfortunate development seriously impeded their progress towards the Tur. Allah questioned Sayyidna Musa (علیہ السلام) about his haste and the wisdom behind the question When Sayyidna Musa (علیہ السلام) appeared before Divine Presence, Allah questioned him as to why he had hastened ahead of his people. The obvious purpose of the question was to inform Sayyidna Musa (علیہ السلام) of the mischief into which his people had fallen while he himself, unaware of what had happened in his absence, was expecting their arrival at the Tur (Ibn Kathir). On the other hand, according to Ruh ul-Maani, the question contained an implied rebuke to Sayyidna Musa (علیہ السلام) on his haste which deprived his people of his supervision and enabled Samiri to mislead them. His position as a prophet made it incumbent on him to stay with his people and keep a watchful eye on them and their activities. The learned commentator has further observed that this question implied an indication that a leader should remain behind his people when travelling with them, as Allah Ta` ala had ordered but to bring his people out of the city and to remain at their back وَاتَّبِعْ أَدْبَارَهُمْ (follow them at the rear -15:65) Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، ignorant of Samiri&s mischief, answered the question put to him by Allah that his haste was the result of his ardent desire to fulfill Allah&s command without loss of time so as to deserve His greater favour, and that his people were close behind him and might arrive at any time. It was at that moment that Allah informed him of the evil that had befallen his people and the part played by Samiri in bringing it about.
خلاصہ تفسیر اور (جب اللہ تعالیٰ کو توراة دینا منظور ہوا تو موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر آنے کا حکم فرمایا اور قوم کو بھی یعنی بعضوں کو ساتھ آنے کا حکم ہوا (کذا فی فتح المنان عن الباب التاسع عشر من سفر الخروج) موسیٰ (علیہ السلام) شوق میں سب سے آگے تنہا جا پہنچے اور دوسرے لوگ اپنی جگہ رہ گئے طور کا ارادہ ہی نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ) اے موسیٰ آپ کو اپنی قوم سے آگے جلدی آنے کا کیا سبب ہوا، انہوں نے (اپنے گمان کے موافق) عرض کیا کہ وہ لوگ یہی تو ہیں میرے پیچھے پیچھے (آ رہے ہیں) اور میں (سب سے پہلے) آپ کے پاس (یعنی اس جگہ جہاں مکالمت و مخاطبت کا آپ نے وعدہ فرمایا) جلدی سے اس لئے چلا آیا کہ آپ (زیادہ) خوش ہوں گے (کیوکنہ امتثال امر میں پیش قدمی کرنا زیادہ موجب خوشنودی کا ہے) ارشاد ہوا کہ تمہاری قوم کو تو ہم نے تمہارے (چلے آنے کے) بعد ایک بلا میں مبتلا کردیا اور ان کو سامری نے گمراہ کردیا (جس کا بیان آگے آتا ہے فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْــلًا الخ اور فَتَنَّا میں اس ابتلاء کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب اس لئے کیا کہ خالق ہر فعل کا وہی ہے ورنہ اصل نسبت اس فعل کی سامری کی طرف ہے جس کو اَضَلَّـهُمُ السَّامِرِيُّ میں ظاہر فرمایا ہے) غرض موسیٰ (علیہ السلام بعد انقضائے میعاد کے) غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف واپس آئے ( اور) فرمانے لگے کہ اے میری قوم کیا تم سے تمہارے رب نے ایک اچھا (اور سچا) وعدہ نہیں کیا تھا ( کہ ہم تم کو ایک کتاب احکام کی دیں گے تو اس کتاب کا تو تم کو انتظار واجب تھا) کیا تم پر (میعاد مقرر سے بہت) زیادہ زمانہ گزر گیا تھا ( کہ اس کے ملنے سے ناامیدی ہوگئی اس لئے اپنی طرف سے ایک عبادت ایجاد کرلی) یا (باوجود ناامیدی نہ ہونے کے) تم کو یہ منظور رہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب واقع ہوا اس لئے تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا ( کہ آپ کی واپسی تک کوئی نیا کام نہ کریں گے اور آپ کے نائب ہارون (علیہ السلام) کی اطاعت کریں گے ( اس کے خلاف کیا وہ کہنے لگے کہ ہم نے جو آپس سے وعدہ کیا تھا اس کو اپنے اختیار سے خلاف نہیں کیا (یہ معنی نہیں کہ کسی نے ان سے زبردستی یہ فعل کرا لیا بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس رائے کو ہم نے ابتداءً جبکہ خالی الذہن تھے اختیار کرلیا تھا، اس کے خلاف سامری کا فعل ہمارے لئے منشاء اشتباہ بن گیا جس سے ہم نے وہ رائے سابق یعنی توحید اختیار نہ کی بلکہ رائے بدل گئی۔ گو اس پر بھی عمل اختیار ہی سے ہوا چناچہ آئندہ کہا گیا و لیکن قوم (ضبط) کے زیور میں سے ہم پر بوجھ لد رہا تھا سو ہم نے اس کو (سامری کے کہنے سے آگ میں) ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے (بھی اپنے ساتھ کا زیور) ڈال دیا (آگے اللہ تعالیٰ قصہ کی تکمیل اس طرح فرماتے ہیں) پھر اس (سامری) نے ان لوگوں کے لئے ایک بچھڑا (بنا کر) ظاہر کیا کہ وہ ایک قالب (خالی از کمالات) تھا جس میں ایک (بےمعنی) آواز تھی سو (اس کی نسبت وہ احمق لوگ (ایک دوسرے سے) کہنے لگے کہ تمہارا اور موسیٰ کا بھی معبود تو یہ ہے (اس کی عبادت کرو) موسیٰ تو بھول گئے ( کہ طور پر خدا کی طلب میں گئے ہیں حق تعالیٰ ان کی احمقانہ جسارت پر فرماتے ہیں کہ) کیا وہ لوگ اتنا بھی نہیں دیکھتے تھے کہ وہ (بواسطہ یا بلاواسطہ) نہ تو ان کی کسی بات کا جواب دے سکتا ہے اور نہ ان کے کسی ضرر یا نفع پر قدرت رکھتا ہے (ایسا ناکارہ خدا کیا ہوگا اور الہ حق بواسطہ انبیاء کے خطاب و کلام ضروری فرماتا ہے۔ ) معارف و مسائل جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل فرعون کے تعاقب اور دریا سے نجات پانے کے بعد آگے بڑھے تو ان کا گزر ایک بت پرست قوم پر ہوا اور ان کی عبادت پرستش کو دیکھ کر بنی اسرائیل کہنے لگے کہ جس طرح انہوں نے موجود اور محسوس چیزوں یعنی بتوں کو اپنا خدا بنا رکھا ہے ہمارے لئے بھی کوئی ایسا ہی معبود بنا دیجئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے احمقانہ سوال کے جواب میں بتلایا کہ تم بڑے جاہل ہو یہ بت پرست لوگ تو سب ہلاک ہونے والے ہیں اور ان کا طریقہ باطل ہی اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْـهَلُوْنَ ، اِنَّ هٰٓؤ ُ لَاۗءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيْهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، اس وقت حق تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ وعدہ فرمایا کہ اپنی قوم کے ساتھ کوہ طور پر آ جایئے تو ہم آپ کو اپنی کتاب تورات عطا کریں گے جو آپ کے اور آپ کی قوم کے لئے دستور العمل ہوگا مگر عطاء تورات سے پہلے آپ تیس روز اور تیس رات کا مسلسل روزہ رکھیں پھر اس کے بعد اس میعاد میں دس کا اور اضافہ کر کے چالیس روز کردیئے گئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مع اپنی قوم کے کوہ طور کی طرف روانہ ہوگئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس وعدہ ربانی کی وجہ سے شوق بھڑک اٹھا اور اپنی قوم کو یہ وصیت کر کے آگے چلے گئے کہ تم بھی میرے پیچھے آجاؤ، میں آگے جا کر عبادت روزہ وغیرہ میں مشغول ہوتا ہوں جس کی میعاد مجھے تیس روز بتلائی گئی ہے، میری غیبت میں ہارون (علیہ السلام) میرے نائب اور قائم مقام ہوں گے۔ بنی اسرائیل مع ہارون (علیہ السلام) کے اپنی رفتار سے پیچھے چلتے رہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جلدی کر کے آگے بڑھ گئے اور خیال یہ تھا کہ قوم کے لوگ بھی پیچھے پیچھے کوہ طور کے قریب پہنچیں گے مگر وہاں وہ سامری کا فتنہ گو سالہ پرستی کا پیش آ گیا۔ بنی اسرائیل کے تین فرقے ہو کر اختلاف میں مبتلا ہوگئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پیچھے پیچھے پہنچنے کا معاملہ رک گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب حاضر ہوئے تو حق تعالیٰ نے یہ خطاب فرمایا وَمَآ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ يٰمُــوْسٰى یعنی اے موسیٰ آپ اپنی قوم سے آگے جلدی کر کے کیوں آگئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عجلت کرنے کا سوال اور اس کی حکمت : سوال کا مقصد بظاہر یہ تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی حالت سے بیخبر رہ کر یہ توقع کر رہے تھے کہ وہ بھی کوہ طور کے قریب پہنچ گئے ہوں گے اور قوم فتنہ میں مبتلا ہوچکی ہے اس کی خبر موسیٰ کو دے دیجائے (از تفسیر ابن کثیر) اور روح المعانی میں بحوالہ کشف اس سوال کی وجہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی قوم کی تربیت کے متعلق ایک خاص ہدایت دینا اور ان کی اس عجلت پر تنبیہ کرنا تھا کہ آپ کے منصب رسالت کا تقاضا یہ تھا کہ قوم کے ساتھ رہتے ان کو اپنی نظر میں رکھتے اور ساتھ لاتے۔ آپ کی عجلت کرنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ قوم کو سامری نے گمراہ کردیا۔ اس میں خود فعل عجلت کی مذمت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ شان انبیاء کی نہ ہونی چاہئے اور بحوالہ انتصاف نقل کیا ہے کہ اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قوم کے ساتھ سفر کرنے کا طریقہ بتلایا گیا کہ رئیس القوم کو پیچھے رہنا چاہئے جیسے لوط (علیہ السلام) کے واقعہ میں حق تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کو مؤمنین کو اپنے ساتھ لے کر شہر سے نکل جایئے، ان کو آگے رکھ کر خود ان سب کے پیچھے رہئے۔ وَاتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ اللہ تعالیٰ کے مذکورہ سوال کے جواب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گمان کے مطابق عرض کیا کہ میری قوم کے لوگ بھی پیچھے پیچھے پہنچنا ہی چاہتے ہیں اور میں کچھ جلدی کر کے آگے اس لئے آگیا کہ حکم کی تعمیل میں پیش قدمی کرنا حاکم کی زیادہ خوشنودی کا سبب ہوا کرتا ہے۔ اس وقت حق تعالیٰ نے ان کو قوم بنی اسرائیل میں پیش آنے والے فتنہ گو سالہ پرستی کی اطلاع دے دی اور یہ کہ ان کو تو سامری نے گمراہ کردیا ہے اور وہ فتنہ میں مبتلا ہوچکے ہیں۔