Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 18

سورة الأنبياء

بَلۡ نَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ عَلَی الۡبَاطِلِ فَیَدۡمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَ زَاہِقٌ ؕ وَ لَکُمُ الۡوَیۡلُ مِمَّا تَصِفُوۡنَ ﴿۱۸﴾

Rather, We dash the truth upon falsehood, and it destroys it, and thereupon it departs. And for you is destruction from that which you describe.

بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر پھینک مارتے ہیں پس سچ جھوٹ کا سر توڑ دیتا ہے اور وہ اسی وقت نابود ہو جاتا ہے ، تم جو باتیں بناتے ہو وہ تمہارے لئے باعث خرابی ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ ... Nay, We fling the truth against the falsehood, means, `We explain the truth and thus defeat falsehood.' Allah says: ... فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ ... so it destroys it, and behold, it disappears. it is fading and vanishing. ... وَلَكُمُ الْوَيْلُ ... And woe to you! O you who say that Allah has offspring. ... مِمَّا تَصِفُونَ for that which you ascribe. that which you say and fabricate. Then Allah informs of the servitude of the angels, and how they persevere in worship night and day: Everything belongs to Allah and serves Him Allah tells:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

18۔ 1 یعنی تخلیق کائنات کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ ہے کہ یہاں حق و باطل کی جو معرکہ آرائی اور خیرو شر کے درمیان جو تصادم ہے، اس میں ہم حق اور خیر کو غالب اور باطل اور شر کو مغلوب کریں چناچہ ہم حق کو باطل پر یا سچ کو جھوٹ پر یا خیر کو شر پر مارتے ہیں، جس سے باطل، جھوٹ اور شر کا بھیجہ نکل جاتا ہے اور چشم زدن میں وہ نابود ہوجاتا ہے۔ 18۔ 2 یعنی رب کی طرف سے تم جو بےسرو پا باتیں منسوب کرتے یا اس کی بابت باور کراتے ہو، (مثلاً یہ کائنات ایک کھیل ہے، ایک کھلنڈرے کا شوق فضول ہے وغیرہ) یہ تمہاری ہلاکت کا باعث ہے۔ کیونکہ اسے کھیل تماشہ سمجھنے کی وجہ سے تم حق سے گریز اور باطل کو اختیار کرنے میں کوئی تامل اور خوف محسوس نہیں کرتے، جس کا نتیجہ بالآخر تمہاری بربادی اور ہلاکت ہی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٥] بلکہ تخلیق کائنات کا اصل مقصد یہ ہے کہ یہاں میدان کار زار گرم ہو۔ حق و باطل کا معرکہ جاری رہے۔ حق باطل پر حملہ آور ہو اور اس کا کچھومر نکال کر بھاگنے پر مجبور کردے۔ پھر جن لوگوں نے حق کا ساتھ دیا ہو۔ اللہ انھیں اپنے انعامات سے نوازے اور اہل باطل کو تباہ و برباد کردے۔ یہاں ایک اشتباہ پیدا ہوتا ہے کہ اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ باطل قوتیں ہی غالب نظر آتی ہیں اور حق دبا رہتا ہے۔ انبیاء یا بعض دوسرے مصلحین آتے ہیں حق و باطل کا معرکہ ہوتا ہے اور حق غالب آجاتا ہے لیکن تھوڑی دیر بعد پھر باطل سر نکال لیتا ہے اور حق دب جاتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حق کی راہ صرف ایک ہے اور وہ ہے اللہ کی وحدانیت اور اس کائنات پر صرف اسی کا مکمل اقتدار و اختیار۔ جبکہ باطل کا راہیں لاتعداد ہیں۔ وہ اپنے روپ کو بدلتی رہتی ہیں اور اپنے الٰہ بھی۔ حق آتا ہے تو باطل کی راہوں کو مٹا دیتا ہے پھر باطل کسی نئے روپ میں ازسر نو جنم لیتا ہے۔ کبھی الٰہ بتوں کو ٹھہرایا جاتا ہے، کبھی شمس و قمر کو، کبھی ستاروں کو، کبھی فرشتوں کو، کبھی جنوں کو، کبھی انسانوں کو، کبھی ان کے آستانوں اور مزاروں کو اور کبھی شجر و حجر وغیرہ کو۔ تو یہ سب راہیں حق کے مقابلہ میں مغلوب ہی رہی ہیں اور اس کی پہلی دلیل یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آج تک حق کی راہ ایک ہی رہی ہے اور موجود رہی ہے۔ آج بھی موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گی۔ توحید کے پرستار قیامت تک موجود رہیں گے۔ خواہ ان کی تعداد کتنی ہی تھوڑی ہو۔ جبکہ باطل کے تمام راستے ہمیشہ سے بگڑتے اور حق سے زک ہی اٹھاتے رہے ہیں۔ اور حق اکثر اوقات میں دبا رہنے کے باوجود بھی قائم اور برقرار رہتا ہے۔ گویا جن کو جو استقلال میسر ہے وہ باطل کو کبھی نصیب نہیں ہوتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ ۔۔ : ” قَذَفَ یَقْذِفُ “ (ض) کا معنی کسی چیز کو سختی کے ساتھ پھینک مارنا۔ ” فَيَدْمَغُهٗ “ ” دَمَغَ یَدْمَغُ “ (ف) کسی چیز کا دماغ کو توڑنا، یہاں تک کہ اس کی وہ جھلی پھٹ جائے جس کے پھٹنے سے روح نکل جاتی ہے۔ ” زَاهِقٌ“ ” زُھُوْقٌ“ کا معنی کسی چیز کا مکمل طور پر ختم ہوجانا ہے۔ یعنی ہم نے اس کائنات کو بےمقصد نہیں بنایا، بلکہ اس میں حق و باطل کا معرکہ جاری ہے اور اس کا نظام ہم نے اس طرح بنایا ہے کہ باطل نے جب بھی سر اٹھایا حق نے ضرب کاری لگا کر اسے نیست و نابود کردیا۔ اسی طرح اب بھی بالآخر باطل فنا ہوجائے گا اور حق قائم و دائم رہے گا۔ ” فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ“ میں ”إِذَا “ فجائیہ یعنی اچانک کے معنی میں ہے اور ” هُوَ زَاهِقٌ“ جملہ اسمیہ ہے جو استمرار کے لیے ہے اور جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ باطل نہایت تیزی کے ساتھ مٹتا ہے اور اس کا مٹنا عارضی نہیں، دائمی ہوتا ہے۔ (آلوسی) وَلَـكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ : یعنی اگر تم یہ کہو گے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا یہ سلسلہ ایک کھیل بنایا ہے اور دوبارہ زندہ ہونا، حساب کتاب اور جنت و دوزخ سب فرضی قصے کہانیاں ہیں تو تمہارے اس بیان کا نتیجہ تمہاری بربادی کی صورت میں ظاہر ہوگا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ (Instead, We launch the truth against the falsehood, which smashes it, and in no time it is nothing. - 21:18) The literal meaning of قَذَف is to throw horizontally which has been translated above as launching) یدمَغُ means to hit on the head (to smash it) and زَاھِق means something which is gone or vanishes without leaving a trace. This verse explains that Allah has not created this marvelous universe with earth and the sky for amusement. This creation is the result of a carefully thought out plan which aims at distinguishing right from wrong. Observation of Nature&s creations leads people along the righteous path and protects them from evil. This idea is conveyed in the verse by saying that virtue is hurled against evil and smashes its head so completely that it disappears without a trace.

بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ، قذف کے لغوی معنی پھینکنے اور پھینک مارنے کے، یدمغ کے معنے دماغ پر ضرب لگانے کے ہیں اور زاہق کے معنے جانے والا اور بےنام و نشان ہوجانے والا۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ زمین و آسمان کی عجیب و غریب کائنات ہم نے کھیل کے لئے نہیں بلکہ بڑی حکمتوں پر مبنی کر کے بنائی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کے ذریعہ حق و باطل کا امتیاز ہوتا ہے، مصنوعات قدرت کا مشاہدہ انسان کو حق کی طرف ایسی رہبری کرتا ہے کہ باطل اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔ اسی مضمون کی تعبیر اس طرح کی گئی ہے کہ حق کو باطل کے اوپر پھینک مارا جاتا ہے جس سے باطل کا دماغ (بھیجا) نکل جاتا ہے اور وہ بےنام و نشان ہو کر رہ جاتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَزَاہِقٌ۝ ٠ۭ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ۝ ١٨ قذف الْقَذْفُ : الرّمي البعید، ولاعتبار البعد فيه قيل : منزل قَذَفٌ وقَذِيفٌ ، وبلدة قَذُوفٌ: بعیدة، وقوله : فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِ [ طه/ 39] ، أي : اطرحيه فيه، وقال : وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ [ الأحزاب/ 26] ، بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْباطِلِ [ الأنبیاء/ 18] ، يَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَّامُ الْغُيُوبِ [ سبأ/ 48] ، وَيُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جانِبٍ دُحُوراً [ الصافات/ 8- 9] ، واستعیر القَذْفُ للشّتم والعیب کما استعیر الرّمي . ( ق ذ ف ) القذف ( ض ) کے معنی دور پھیکنا کے ہیں پھر معنی بعد کے اعتبار سے دور دراز منزل کو منزل قذف وقذیف کہاجاتا ہے اسی طرح دور در ازشہر کو بلدۃ قذیفۃ بول لیتے ہیں ۔۔۔ اور آیت کریمہ : فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِ [ طه/ 39] پھر اس ( صندوق ) کو دریا میں ڈال دو ۔ کے معنی دریا میں پھینک دینے کے ہیں ۔ نیز فرمایا : وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ [ الأحزاب/ 26] اور ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی ۔ بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْباطِلِ [ الأنبیاء/ 18] بلک ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں ۔ يَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَّامُ الْغُيُوبِ [ سبأ/ 48] وہ اپنے اوپر حق اتارتا ہے اور وہ غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے ۔ وَيُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جانِبٍ دُحُوراً [ الصافات/ 8- 9] اور ہر طرف سے ( ان پر انگارے ) پھینکے جاتے ہیں ( یعنی ) وہاں سے نکال دینے کو ۔ اور رمی کی طرح قذف کا لفظ بھی بطور استعارہ بطل البَاطِل : نقیض الحق، وهو ما لا ثبات له عند الفحص عنه، قال تعالی: ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] ( ب ط ل ) الباطل یہ حق کا بالمقابل ہے اور تحقیق کے بعد جس چیز میں ثبات اور پائیداری نظر نہ آئے اسے باطل کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں سے : ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا کے پکارتے ہیں وہ لغو ہیں ۔ دمغ قال تعالی: بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْباطِلِ فَيَدْمَغُهُ [ الأنبیاء/ 18] ، أي : يكسر دِمَاغَهُ ، وحجّة دَامِغَة كذلك . ويقال للطّلعة تخرج من أصل النّخلة فتفسده إذا لم تقطع : دامغة، وللحدیدة التي تشدّ علی آخر الرّحل : دامغة، وكلّ ذلک استعارة من الدَّمْغ الذي هو کسر الدّماغ . ( د م غ ) الدمغ ( ف) کے اصل معنی دماغ پھوڑ دینے کے ہیں ( اس سے نیست ونابود کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ) قرآن میں ہے ؛۔ بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْباطِلِ فَيَدْمَغُهُ [ الأنبیاء/ 18] ( نہیں ) بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا مغز توڑ دیتا ہے ۔ حجۃ دامعۃ ۔ حجت قاطع ۔ سر پھوڑ دلیل ۔ نیز دامغۃ ای ک قسم کے شگوفہ کو کہتے ہیں جو کھجور تنا سے پھوٹ نکلتا ہے ۔ اگر اسے کاٹا نہ جائے تو کھجور کے درخت کو خشک اور خراب کردیتا ہے نیز دامعۃ اس لوہے کو بھی کہتے جو پالان کی لکڑی کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے ۔ یہ تمام الفاظ مغ ہے بطور استعارہ ہوتے ہیں ۔ جس کے معنی دماغ کو توڑنا کے ہیں ۔ زهق زَهَقَتْ نفسه : خرجت من الأسف علی الشیء، قال : وَتَزْهَقَ أَنْفُسُهُمْ [ التوبة/ 55] . ( ز ھ ق ) زھقت نفسہ کے معنی ہیں کسی چیز پر رنج وغم سے اس کی جان نکل گئی ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَتَزْهَقَ أَنْفُسُهُمْ [ التوبة/ 55] اور ان کی جانیں ( اس حال میں ) نکلیں ۔ وصف الوَصْفُ : ذكرُ الشیءِ بحلیته ونعته، والصِّفَةُ : الحالة التي عليها الشیء من حلیته ونعته، کالزِّنَةِ التي هي قدر الشیء، والوَصْفُ قد يكون حقّا وباطلا . قال تعالی: وَلا تَقُولُوا لِما تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ [ النحل/ 116] ( و ص ف ) الوصف کے معنی کسی چیز کا حلیہ اور نعت بیان کرنے کسے ہیں اور کسی چیز کی وہ حالت جو حلیہ اور نعمت کے لحاظ سے ہوتی ہے اسے صفۃ کہا جاتا ہے جیسا کہ زنۃ ہر چیز کی مقدار پر بولا جاتا ہے ۔ اور وصف چونکہ غلط اور صحیح دونوں طرح ہوسکتا ہے چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَلا تَقُولُوا لِما تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ [ النحل/ 116] اور یونہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آئے مت کہہ دیا کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٨) بلکہ ہم اس حق بات کو باطل بات پر پھینک مارتے ہیں سو وہ حق اس باطل کا خاتمہ کردیتا ہے یا یہ کہ ہم نے اثبات حق اور ایطال باطل کے لیے پیدا کیا ہے اور تمہارے لیے اس بات پر بڑا عذاب ہوگا جو تم کہتے ہو کہ عیاذ باللہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨ (بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَ زَاہِقٌ ط) ” یہ تاریخ انسانی کا قرآنی فلسفہ ہے۔ دوسری طرف ایک نظریہ سپنگلر کا بھی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ قوموں کی زندگی ایک فرد کی زندگی سے مشابہ ہے۔ جس طرح ایک بچہ پیدا ہوتا ہے ‘ بچپن گزارتا ہے ‘ جوانی کو پہنچتا ہے ‘ بوڑھا ہوتا ہے اور پھر مرجاتا ہے ‘ ایسے ہی دنیا میں قومیں اور ان کی تہذیبیں پیدا ہوتی ہیں ‘ ترقی کرتی ہیں ‘ بام عروج پر پہنچتی ہیں ‘ اور پھر کمزوریوں اور خرابیوں کے باعث زوال پذیر ہو کر ختم ہوجاتی ہیں۔ اس ضمن میں کارل مارکس نے جو Dialectical Materialism کا نظریہ ) وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو الرعد : ١٧ کی تشریح) پیش کیا ہے ‘ وہ بھی اپنی جگہ اہم ہے۔ بہر حال آیت زیر نظر میں جو فلسفہ دیا گیا ہے اس کے مطابق دنیا میں حق و باطل کی کشمکش مسلسل جاری ہے۔ ایک طرف ابلیس ‘ اس کی نسل اور اس کے ایجنٹ ہیں ‘ جبکہ دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ‘ انبیاء ورسل ‘ صدیقین ‘ شہداء اور مؤمنین صادقین ہیں۔ قرآن کے اس فلسفہ کو اقبالؔ نے اس طرح بیان کیا ہے : ؂ ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز چراغ مصطفوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شرار بولہبی مشیتِ الٰہی سے کبھی کبھی یہ کشمکش دھماکہ خیزہو کر باقاعدہ ایک معرکے کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ طالبانِ حق کی مدد کرتا ہے اور ان کی طاقت کے ذریعے باطل کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔ حق و باطل کا ایسا ہی ایک بہت خوفناک معرکہ قرب قیامت کے زمانے میں ہونے والا ہے۔ یہ جنگوں کا ایک طویل سلسلہ ہوگا جس کو عیسائی روایات میں Armageddon جبکہ احادیث میں ” المَلحَمۃ العُظمٰی “ کا نام دیا گیا ہے۔ علامہ اقبال نے مستقبل کے اس معرکے کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے : ؂ دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا اللہ کو پامردئ مؤمن پہ بھروسہ ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا یہاں علامہ اقبال نے لفظ ” تہذیب “ کے ذریعے اسی مخصوص ذہنیت اور سوچ کی طرف اشارہ کیا ہے جس کے تحت فرعون نے اپنے عوام کو ” طَرِیقَتکُمُ المُثْلٰی “ کے نام پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف ابھارنے کی کوشش کی تھی کہ اس وقت تمہارے مثالی تہذیب و تمدن کو بڑا خطرہ درپیش ہے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کو جب بھی منظور ہوتا ہے کوئی تحریک یا کوئی جمعیت حق کی علمبردار بن کر کھڑی ہوجاتی ہے اور باطل اس سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجاتا ہے۔ علامہ اقبال کے الفاظ میں ایسی ہی قوم یا جماعت اللہ کے دست قدرت کی وہ تلوار ہے جس سے وہ باطل کا قلع قمع کرتا ہے : ؂ صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب ! لیکن یہ مقام رفیع صرف وہی قوم حاصل کرسکتی ہے جو قدم قدم پر خود اپنا احتساب کرنے کی پالیسی پر عمل پیراہو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

17. That is, the object for which this world has been created is to stage a conflict between the truth and falsehood. And you yourselves know that in this conflict falsehood has always been defeated and destroyed. You should, therefore, consider this reality seriously. For, if you build the system of your life on the false presumption that it is mere fun, you will meet with the same consequences as the former people did, who presumed that the world was a mere show and pastime. Therefore you should reconsider your whole attitude towards the message which has come to you. Instead of making fun of it and scoffing at the Messenger, you should take a warning from the fate of the former peoples.

سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :17 یعنی ہم بازی گر نہیں ہیں ، نہ ہمارا کام کھیل تماشا کرنا ہے ۔ ہماری یہ دنیا ایک سنجیدہ نظام ہے جس میں کوئی باطل چیز نہیں جم سکتی ۔ باطل یہاں جب بھی سر اٹھاتا ہے ، حقیقت سے اس کا تصادم ہو کر رہتا ہے اور آخر کار وہ مٹ کر ہی رہتا ہے ، اس دنیا کو اگر تم تماشا گاہ سمجھ کر جیو گے ، یا حقیقت کے خلاف باطل نظریات پر کام کرو گے تو نتیجہ تمہاری اپنی ہی تباہی ہو گا ۔ نوع انسانی کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لو کہ دنیا کو محض ایک تماشا گاہ ، محض ایک خوان نعیم ، محض ایک عیش کدہ سمجھ کر جینے والی ، اور انبیاء کی بتائی ہوئی حقیقت سے منہ موڑ کر باطل نظریات پر کام کرنے والی قومیں پے در پے کس انجام سے دو چار ہوتی رہی ہیں پھر یہ کونسی عقلمندی ہے کہ جب سمجھانے والا سمجھائے تو اس کا مذاق اڑاؤ ، اور جب اپنے ہی کیے کرتوتوں کے نتائج عذاب الہٰی کی صورت میں سر پر آ جائیں تو چیخنے لگو کہ ہائے ہماری کم بختی ، بے شک ہم خطا وار تھے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

8: یعنی کھیل دل لگی ہمارا کام نہیں ہے۔ ہم تو جو کام کرتے ہیں، وہ حق ہی حق ہوتا ہے۔ اور اس کے مقابلے میں باطل آتا ہے تو حق ہی کے ذریعے اس کا توڑ کیا جاتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:18) نقذف۔ مضارع جمع متکلم قذف مصدر (باب ضرب) ہم پھینک مارتے ہیں قذف کے اصل معنی تیر کو دور پھینکنے کے ہیں۔ پھر تیر کی شرط کو ساقط کر کے مطلق پھینکنے، ڈالنے اور اتارنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ مجازا اس کے معنی گالی دینا۔ تہمت زنا لگانا۔ اور کسی کو عیب کی طرف منسوب کرنا بھی مراد لئے جاتے ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے فاقذ فیہ فی الیم (20:39) پھر اس صندوق کو دریا میں ڈال دو ۔ اور یقذف بالحق (34:48) وہ (اوپر سے) حق اتارتا ہے اور ویقذفون من کل جانب دحورا (37:8) اور ہر طرف سے (ان پر انگارے) پھینکے جاتے ہیں۔ بل نقذف بالحق علی الباطل۔ بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں۔ فیدمغہ۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ دمغ مصدر (باب فتح) پس وہ اس کو دماغ پر مارتا ہے (دماغ کی چوٹ بےہوش کرتی ہے اور اگر زیادہ قوی ہو تو موجب ہلاکت ہوتی ہے) ۔ دمغ کا معنی ہے ایسی قوی ضرب جس سے بھیجا ٹوٹ جائے۔ اس لئے آیۃ ہذا میں دماغ پر مارنے سے مراد ہوا ہلاک کرنا۔ نابود کردینا۔ فاذا۔ پس وہ فورا۔ زاھق۔ اسم فاعل واحد مذکر مٹ جانے والا۔ زائل ہوجانے والا۔ فاذا ھو زاھق تو وہ فورا مٹ جاتا ہے۔ ولکم الویل مما تصفون۔ اور تمہارے لئے خرابی (بربادی۔ ہلاکت۔ بدبختی) ہے بوجہ (ان من گھڑت باتوں کے) جو تم بیان کرتے ہو۔ مثلاً یہ تخلیق کائنات محض ایک کھیل ہے یا یہ کہ دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔ یا بیوی، بیٹیاں وغیرہ کو اس کی طرف منسوب کرتے ہو۔ وغیرہ ذالک۔ یا یہ جملہ انشائیہ بصورت جملہ خبریہ ہے۔ یعنی تمہاری ان باتوں پر پھٹکار ہو۔ یہاں خطاب یا تو قریش سے ہے یا جمیع کفار عرب سے۔ یا التفات ضمائر ہے اور خطاب اہل قری سے ہے جن کا ذکر اوپر ہوا ہے اور غیب سے ھاضر کا صیغہ وعید کی شدت کو ظاہر کرنے کے لئے لایا گیا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی تکوین عالم بےمقصد نہیں ہے بلکہ اس میں حق باطل کا معرکہ جاری ہے اور اس کا نظام ہم نے اس طور پر بنایا ہے کہ باطل نے جب بھی سر اٹھایا حق نے ضرب کاری لگا کر اسے نیت و نابود کردیا۔ اسی طرح اب بالاخر باطل فنا ہوجائے گا اور حق کو دوام و ثبات نصیب ہوگا۔9 ینی اگر تم حق کو چھوڑ کر باطل کا ساتھ دو گے اور ہماری کسی مخلوق کو ہمارا شریک یا بیوی یا بیٹا قرار دو گے تو نتیجہ تمہاری تباہی کی صورت میں ظاہر ہوگا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی دلائل توحید جو ان مصنوعات سے حاصل ہوتے ہیں شرک کی بالکلیہ نفی کردیتے ہیں جس کی جانب مخالف کا احتمال ہی نہیں رہتا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

بل نقذف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاھق (١٢ : ٨١) ” مگر ہم باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سر توڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے مٹ جاتا ہے “۔ نحو میں لفظ بل اضراب کے لیے آتا ہے یعنی ایک بات کو چھوڑ کر متکلم دوسری بات لیتا ہے۔ یعنی لہو کی بات چھوڑ کر بتایا جاتا ہے کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہاں حق و باطل کی کشمکش ہے اور سنت الہیہ یہ ہے کہ اس کشمکش میں حق کو غلبہ نصیب ہو۔ اس منظر کا انداز تعبیر نہایت ہی حسی محسوس ہونے والا ‘ زندگی سے بھرپور اور حرکت سے بھر پور ہے۔ نقشہ کچھ یوں ہے کہ سچائی ایک گولہ ہے جو دست قدرت میں ہے ‘ قدرت اسے پھینکتی ہے ‘ یہ باطل کے سر پر لگتا ہے اور اس کے دماغ کو پھوڑ کر رکھ دیتا ہے اور باطل صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ہے آناً فاناً ۔ یہ ایک طے شدہ سنت ہے ‘ اور سچائی اس کائنات کے اندر اصل ہے۔ کائنات کے وجود میں اس کا گہر ادخل ہے۔ باطل تو دائرہ کائنات سے خارج البلد ہے۔ اگر کہیں نظر آتا ہے تو یہ عارضی ہوتا ہے ‘ اس کی قوت گہری نہیں ہوسکتی ‘ اللہ اس باطل کو بھگاتا رہتا ہے۔ سچائی سے خود اللہ باطل پر بمباری کرتارہتا ہے اور اس کا سر توڑ تا رہتا ہے۔ لہٰذا جس چیز پر اللہ کی بمباری ہو ‘ جس چیز کو دست قدرت فنا کرتا ہو ‘ اس کے لیے بقا نہیں ہے۔ ہر گز نہیں ہے ! بعض سطحی لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس وقت عملی صورت حالات اس کرئہ ارض پر اس کے خلاف ہے ‘ جو اللہ علیم وخبیر فرمارہا ہے۔ بظاہر حالات اس کے برعکس ہیں۔ یہ سوال ان تاریخی وقفوں میں پیدا ہوتا ہے جن میں کبھی کبھار باطل پھولا ہوا نظر آتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ گویا اس کی حکمرانی رہے گی۔ اور ان وقفوں میں حق اور اہل حق اس قدر بدحال ‘ افسردہ اور غبار آلودہ ہوتے ہیں کہ وہ مغلوب نظر آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں بعض مختصر وقفوں میں یوں ہوتا رہتا ہے۔ ان وقفوں کو اللہ تعالیٰ بعض اوقات ذرا طویل بھی کردیتا ہے مگر یہ اہل حق کی آزمائش کے لیے ہوتا ہے۔ اس کے بعد سنت الہی کا دست غیب بمباری شروع کرتا ہے۔ یہ سنت الہیہ ہے اور اسی سنت پر ارض و سما کا نظام قائم ہے اور اسی پر اسلامی دعوتوں کا بھی نظام قائم ہے۔ جن لوگوں کا ایمان پختہ ہے ان کے دل میں تو ذرا شک بھی پیدا نہیں ہو سکتا کہ اس کائنات کی بنیاد سچائی پر ہے۔ وہ یہ شک نہیں کرسکتے کہ اللہ داعیان حق کی نصرت کرتے ہوئے باطل پر گولہ پھینکتا ہے اور اس کا بھیجا نکالا دیتا ہے۔ اہل حق کو اگر اللہ کچھ عرصہ کے لیے آزمائے تو ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کور اہ حق میں جم جانا چاہیے۔ اور اس آزمائش میں پورا اترنا چاہیے۔ ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ ان میں کچھ کمزور یاں ہیں اور اللہ چاہتا ہے کہ وہ دور ہوں اور وہ اس حق کے غلبے کے لیے تیار ہوں۔ وہ دست قدرت کا کام کریں ‘ اپنی کمزوریاں دور کریں ‘ اپنے اندر کمال پیدا کریں جس قدر وہ جلدی تیاریاں مکمل کریں گے ‘ ان کی آزمائش کا عرصہ اسی قدر جلدی ختم ہوگا اور پھر اللہ باطل پر جو گولہ باری کرے گا تو انہی کے ہاتھوں سے ہوگی۔ اہل حق کے غلبے کے لیے تیار ہوں۔ وہ دست دقدرت کا کام کریں ‘ اپنی کمزوریاں دور کریں ‘ اپنے اندر کمال پیدا کریں جس قدر وہ جلدی تیاریاں مکمل کریں گے ‘ ان کی آزمائش کا عرصہ اسی قدر جلدی ختم ہوگا اور پھر اللہ باطل پر جو گولہ باری کرے گا تو انہی کے ہاتھوں سے یہ ہوگی۔ (وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی) کا منظر ہوگا ‘ اچانک باطل اس دنیا سے نیست و نابود ہوجائے گا۔ یادرکھئے کہ باطل کا انجام مقرر ہے۔ بل نقذف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاھق (١٢ : ٨١) ” مگر ہم باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سر توڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے مٹ جاتا ہے “۔ اور اللہ جو چاہتا ہے ‘ وہ کرتا ہے۔ (روس میں دست قدرت نے یہ کام کردکھایا ہے۔ مترجم) قرآن کریم یہ حقیقت مشرکین مکہ کیذہن نشین کررہا ہے جو قرآن مجید کے بارے میں اس قسم کی باتیں کرتے تھے کہ یہ سحر ہے ‘ یہ شعر ہے ‘ یہ افتراء ہے۔ حالانکہ یہ برحق ہے اور قرآن کریم باطل پر حملہ آور ہے ‘ اس کا سر پھوڑ رہا ہے اور جلد ہی باطل اور شرک (جزیرۃ العرب سے ) مٹنے والا ہے۔ ان کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ تم قرآن مجید یا تحریک اسلامی کے بارے میں جو باتیں بناتے ہو ‘ وہ تمہارے لیے سامان ہلاکت ہیں۔ (ولکم الویل مما تصفون) اس کے بعد ان کے سامنے ان کی نافرمانی اور روگردانی کے مقابلے میں اطاعت کیش مخلوق کی اطاعت شعاری کا ایک نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ نمونہ ان لوگوں کی زندگی سے پیش کیا جاتا ہے جو ان کے مقابلے میں خدا تخالیٰ سے زیادہ قریب ہیں ‘ لیکن اس قربت کے باوجود وہ رات اور دن اس کی بندگی میں لگے ہوئے ہیں اور بندگی کرتے کرتے تھکتے بھی نہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اثبات توحید، ابطال شرک اور حق کی فتح یابی ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے جو آسمان و زمین پیدا کیے ہیں ان کا پیدا کرنا کوئی فعل عبث کے طور پر نہیں ہیں بلکہ اس میں بڑی حکمتیں ہیں جن میں ایک بہت بڑی حکمت یہ ہے کہ ان کے وجود اور ان کی بڑائی اور پھیلاؤ سے ان کے خالق کو پہچانیں۔ اگر آسمان و زمین کے بنانے سے کوئی حکومت مقصود نہ ہوتی محض ایک مشغلہ ہی کے طور پر بنانا مقصود ہوتا تو ہم اپنے پاس سے کسی چیز کو مشغلہ بنا لیتے لیکن ہمیں یہ کرنا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات عالی صفات اس سے برتر اور بالا ہے کہ وہ کسی چیز کو بطور لہو و لعب پیدا فرمائیں اور کسی چیز کو بطور لہو و لعب کے اختیار فرمائیں۔ دنیا میں چونکہ حق و باطل کا معرکہ رہتا ہے اور آخر میں حق ہی غالب ہوتا ہے اس لیے اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا (نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْ مَغُہٗ ) کہ ہم حق کو باطل پر پھینک دیتے ہیں سو وہ باطل کا سر پھوڑ دیتا ہے۔ یعنی اس کو مغلوب کردیتا ہے۔ قال صاحب معالم التنزیل اصل الدمغ شج الراس حتی یبلغ الدماغ فاذا ھو ذاھق سو باطل مغلوب ہو کر دفع ہوجاتا ہے۔ (وَلَکُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ ) اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو یعنی حق کے خلاف بولتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی شان میں جو ایسی باتیں کرتے ہو جن سے وہ پاک ہے اس حرکت کی وجہ سے تمہارے لیے خرابی ہے، یعنی ہلاکت ہے۔ (وَلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ ) (الآیتین) اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اسی کی مملوک اور مخلوق ہے اور جو بندے اس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے سر کشی نہیں کرتے اور اس میں عار نہیں سمجھتے کہ وہ اس کی عبادت میں مشغول ہوں۔ وہ برابر اس کی عبادت میں لگے رہتے ہیں ذرا سستی نہیں کرتے۔ رات دن اس کی تسبیح میں مشغول ہیں۔ تھکنے کا نام نہیں۔ ان تسبیح و تقدیس میں مشغول رہنے والوں سے فرشتے مراد ہیں۔ اس کی عبادت اور تسبیح اور تقدیس میں مشغول علی الدوام ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معبود برحق مانتے اور جانتے ہیں۔ اہل دنیا میں جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ اپنی جہالت اور بےعقلی سے شرک میں مبتلا ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

18 زمین و آسمان اور ان کی درمیانی چیزوں کو عبث اور کھیل نہیں بنایا بلکہ حق کو باطل کی آویزش میں حق کو ثابت کرنا مقصود ہے لہٰذا اثبات حق کے لئے ہم حق کو باطل پر کھینچ مارتے ہیں اور وہ حق اس باطل کا سر کچل دیتا ہے اور اس کا بھیجا نکال دیتا ہے اور وہ باطل اچانک نابود ہوجاتا ہے اور جو بےبنیاد باتیں تم گھڑتے ہو ان کی وجہ سے تمہارے لئے بڑی خرابی ہوگی۔ یعنی یہ مصنوعات اثبات توحید اور اثبات حق کے لئے بڑی طاقت ہیں جو شرک اور باطل کو کچل کر رکھ دیتی ہیں اور باطل بھاگتا نظر آتا ہے یعنی یہ چیزیں غلبہ حق کے لئے بنائی گئی ہیں تاکہ حق غالب اور باطل مغلوب ہو اور باطل کی بالکلیہ نفی ہوجائے اور جو باتیں تم لوگ دین حق کے خلاف گھڑتے رہتے ہو ان کی وجہ سے تمہارے لئے بڑی خرابی ہوگی دنیا میں بھی عذاب کے مستحق ہو گے اور آخرت میں تو بھی عذاب اور ہلاکت ہے ہی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ غیب سے قدرت کا ایک نمونہ بھیجتا ہے جھوٹ کے مٹانے کو ان کاملوں کو تم کہتے ہو خدا کا بیٹا۔ 12