Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 23

سورة الأنبياء

لَا یُسۡئَلُ عَمَّا یَفۡعَلُ وَ ہُمۡ یُسۡئَلُوۡنَ ﴿۲۳﴾

He is not questioned about what He does, but they will be questioned.

وہ اپنے کاموں کے لئے ( کسی کے آگے ) جواب دہ نہیں اور سب ( اس کے آگے ) جواب دہ ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

He cannot be questioned about what He does, while they will be questioned. He is the Ruler Whose rule cannot be overturned and none can object to it, because of His might, majesty, pride, knowledge, wisdom, justice and subtlety. ... وَهُمْ يُسْأَلُونَ while they will be questioned. means, He is the One Who will ask His creation about what they did. This is like the Ayah: فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ So, by your Lord, We shall certainly call all of them to account. For all that they used to do. (15:92-93) وَهُوَ يُجْيِرُ وَلاَ يُجَارُ عَلَيْهِ And He protects (all), while against Whom there is no protector. (23:88)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩] یعنی اللہ تعالیٰ اس کائنات کا ایسا مطلق العنان اور مختار کل فرمانروا ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ بھی کرے کسی کے سامنے جواب دہ نہیں۔ جبکہ اس کے سوا جتنی بھی مخلوق ہے سب اس کے سامنے جوابدہ ہیں۔ اور الٰہ وہی ذات ہوسکتی ہے۔ جس میں یہ صفت بدرجہ اتم پائی جاتی ہو۔ یعنی وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہ ہو۔ اور جس سے باز پرس ہوسکتی ہے وہ الٰہ نہیں ہوسکتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْــَٔــلُوْنَ ۔۔ : اللہ تعالیٰ کی اس صفت کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ ہر چیز کا مالک اور سلطان وہ خود ہے، کسی کی کیا جرأت کہ اس کے کسی کام کے متعلق پوچھے کہ ایسا کیوں کیا ؟ کیونکہ اپنی ملکیت میں وہ جو چاہے کرے۔ اگر وہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق کو عذاب دے تو بھی عین عدل ہوگا، کیونکہ وہ مالک ہے اور اپنی چیز سے جو چاہے کرے۔ جس طرح انسان اپنی خریدی ہوئی ایک اینٹ کو مکان کی پیشانی پر لگا دیتا ہے، دوسری کو چولھے یا بھٹی میں لگا دیتا ہے اور کوئی اسے ظالم نہیں کہتا، حالانکہ وہ اینٹ کا خالق بھی نہیں، صرف عارضی مالک ہے اور اگر اللہ تعالیٰ مخلوق پر رحم فرمائے تو اس کا فضل ہے۔ دوسرا یہ کہ اس کا ہر کام اتنا محکم اور درست ہے کہ اس میں کوئی خامی یا خلل نہیں، اس نے جو کیا اور جو فرمایا سب نہایت عمدہ اور کمال حسن و خوبی والا ہے۔ اس لیے اس کے کسی کام کے متعلق سوال یا اعتراض کی گنجائش نہیں۔ مفسر بقاعی نے ایک قدیم فلسفی سے نقل کیا ہے کہ کسی نے اس سے پوچھا، جب اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور اس کے سوا کوئی چیز نہ تھی تو اس نے یہ جہان کیوں بنایا ؟ اس نے جواب دیا کہ اس سے ” کیوں “ کا سوال ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ کوئی اس سے اوپر ہو تو یہ سوال کرے۔ اس کے برعکس لوگوں سے دونوں وجہوں سے سوال ہوسکتا ہے اور ہوگا، کیونکہ وہ مالک نہیں غلام ہیں اور مالک غلام سے پوچھ سکتا ہے اور پوچھتا ہے کہ اس نے کوئی کام کیوں کیا اور اس لیے کہ ان کے ہر کام میں خامی اور خلل موجود ہے۔ قیامت کے دن سوال کا ذکر کئی آیات میں ہے، دیکھیے سورة حجر (٩٢) اور صافات (٢٤) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The next verse viz: لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ (He is not questioned of what He does, and they are questioned) probably reinforces the argument that anyone who is answerable for his actions to someone else cannot be God.

لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْــَٔــلُوْنَ میں بھی اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ جو شخص کسی قانون کا پابند ہو جس کے افعال و اعمال پر کسی کو مواخذہ کرنے کا حق ہو وہ خدا نہیں ہو سکتا۔ خدا وہ ہی ہے جو کسی کا پابند نہ ہو، جس سے کسی کو سوال کرنے کا حق نہ ہو۔ اگر دو خدا ہوں اور دونوں مشورہ کے پابند ہوں تو ہر ایک کو دوسرے سے سوال کرنے اور ترک مشورہ پر مواخذہ کرنے کا حق لازمی ہے جو خود منصب خدائی کے منافی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَہُمْ يُسْــَٔــلُوْنَ۝ ٢٣ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔ فعل الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله، ( ف ع ل ) الفعل کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو اور علم سے ہو یا بغیر علم کے قصدا کی جائے یا بغیر قصد کے پھر وہ تاثیر انسان کی طرف سے ہو یا دو سے حیوانات اور جمادات کی طرف سے ہو یہی معنی لفظ عمل کے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٣) اللہ تعالیٰ جو کچھ کہتا کرتا اور حکم دیتا ہے اس سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا اور بندوں کے اعمال واقوال پر باز پرس کی جاسکتی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:23) لا یسئل عما یفعل۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو کچھ کرتے ہیں اس سے باز پرس نہیں کی جاسکتی۔ وہم یسئلون۔ ای الناس۔ لوگون سے باز پرس کی جاسکتی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

لایسئل عما یفعل و ھم یسئلون (١٢ : ٣٢) ” وہ اپنے کاموں کے لیے جواب دہ نہیں ہے اور دوسرے سب جواب دہ ہیں “۔ وہ تو خود اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے۔ اس کا ارادہ آزاد ہے۔ اس کے اوپر کوئی قید و بند نہیں ہے اور نہ کوئی دوسرا ارادہ آڑے آسکتا ہے۔ اس کے ارادے کے سامنے وہ قانون قدر بھی رکاوٹ نہیں بن سکتا جو اس نے خود جاری کیا ہے۔ سوال اور محاسبہ تو کسی معیار اور کسی پیمانے اور حدود کے مطاق ہوتا ہے جو وضع کیے گئے ہوں اور اللہ تو خود واضع حدود ہے اور معیار اور پیمانے مقرر کرنے والا ہے۔ وہ خود اپنیمقرر کردہ حدود اور معیار و مقیاس کا پا بند نہیں ہے۔ لوگوں کے لیے چونکہ اللہ کے مقرر کردہ حدود کی پابندی ضروری ہے اس لیے وہ سب اس کے سامنے مسئول ہیں۔ بعض انسانوں کو غور اس قدر اپنی گرفت میں لے لیتا ہے کہ وہ عجیب احمقانہ سوالات کرتے رہتے ہیں۔ اللہ نے یہ کام کیوں کیا ؟ یہ چیز کو یں بنائی ؟ اس کی کیا حکمت ہے ‘ ان کی منشا یہ ہے کہ وہ اس حکمت کو سمجھ نہیں پار ہے۔ ایسے لوگ اس میدان میں خالق کائنات کے بارے میں نہایت بےادبی کا رویہ بھی اختیار کرتے ہیں ‘ جس طرح وہ انسانی فہم و ادراک کی حدود سے بھی آگے جارہے ہیں ‘ کیونکہ انسان کے محدود قوائے مدر کہ ہر چیز کا سبب اور علت معلوم نہیں کرسکتے۔ اللہ وہ ذات ہے جو ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ تمام کائنات کی ہر چیز کی تدبیر اس کے ہاتھ میں ہے۔ تمام چیزوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ وہی ہے جو قادر مطلق ‘ مدبر اور حاکم اور حکیم ہے۔ لایسئل عما یفعل وھم یسئلون (١٢ : ٣٢) ” وہ اپنے کاموں کے لیے جواب دہ نہیں ہے ‘ اور دوسرے سب جواب دہ ہیں “۔ اب اس تکوینی دلیل کے ساتھ ساتھ اللہ ان سے نقلی دلیل کا بھی مطالبہ کرتے ہیں ‘ کہ وہ کیا نقلی دلیل ہے جس کی بنا پر یہ لوگ شرک کرتے ہیں حالانکہ شرک پر تو کوئی دلیل نہیں ہوتی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(لَا یُسْءَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ ھُمْ یُسْءَلُوْنَ ) وہ قادر مطلق ہے مختار کامل ہے۔ احکم الحاکمین ہے۔ کسی کی کوئی مجال نہیں کہ اس سے کوئی باز پرس کرے اور یوں پوچھے کہ یہ کیوں کیا اور یہ کیوں نہیں کیا۔ (وَ ھُمْ یُسْءَلُوْنَ ) اور اس کی مخلوق سے باز پرس کی جاتی ہے اور کی جائے گی یعنی دنیا میں بھی ان سے مواخذہ ہے اور آخرت میں بھی۔ جس کسی نے غلط عقائد اختیار کیے اور برے اعمال کیے اس سے باز پرس ہوگی اور مستحق سزا ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

23 اس کی عظمت و شان ایسیے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے اس سے اس کے کئے کی کوئی باز پرس نہیں کرسکتا اور ان سے باز پرس کی جاسکتی ہے۔ یعنی وہ ایسا مالک و مختار اور قادر مطلق ہے کہ وہ جو کچھ کرے اس پر اس سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں اور باقی تمام مخلوقات سے یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ تم نے ایسا کیوں کیا اور ایسا کیوں نہیں کیا۔ خلاصہ ! یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق سے باز پرس کرسکتا ہے اور اس سے کوئی دوسرا باز پرس نہیں کرسکتا جس کی یہ عظمت و شان ہے کہ اس کی معبودیت میں کوئی دوسرا کس طرح شریک ہوسکتا ہے۔