Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 3

سورة الأنبياء

لَاہِیَۃً قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجۡوَی ٭ۖ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ٭ۖ ہَلۡ ہٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ ۚ اَفَتَاۡتُوۡنَ السِّحۡرَ وَ اَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۳﴾

With their hearts distracted. And those who do wrong conceal their private conversation, [saying], "Is this [Prophet] except a human being like you? So would you approach magic while you are aware [of it]?"

ان کے دل بالکل غافل ہیں اور ان ظالموں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں کہ وہ تم ہی جیسا انسان ہے ، پھر کیا وجہ ہے جو تم آنکھوں دیکھتے جادو میں آجاتے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

They said: ... أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ Will you submit to magic while you see it! meaning, will you follow him and be like one who submits to magic when he knows that it is magic! Allah said in response to their fabrications and lies:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

3۔ 1 یعنی نبی کا بشر ہونا ان کے لئے ناقابل قبول ہے پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ تم دیکھ نہیں رہے کہ یہ تو جادوگر ہے، تم اس کے جادو میں دیکھتے بھالتے کیوں پھنستے ہو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤] قریش مکہ قرآن کی دعوت کے شدید مخالف تھے لیکن اس کے انداز بیان، فصاحت و بلاغت اور جادو کی سی تاثیر کے وہ خود بھی معترف تھے اور قرآن کو اسی لحاظ سے جادو کہتے تھے اور اس جادو کو روکنے کا طریقہ ابتداًء انہوں نے یہ اختیار کرلیا تھا کہ سب قریشی سرداروں نے مل کر یہ معاہدہ کیا کہ جہاں تک ہوسکے قرآن کے سننے اور پڑھنے پر پابندی لگا دی جائے۔ سننے پر پابندی تو انہوں نے اپنے آپ پر لگائی تھی مگر یہ قریشی سردار خود بھی اس پابندی کو نباہ نہ سکے اور خود بھی چوری چھپے قرآن سن لیتے تھے کیونکہ ان کے دل اور ان کے کام قرآن کی لذت سے محظوظ ہونا چاہتے تھے۔ چناچہ ایک دفعہ تین سردار رات کے وقت کعبہ کے گرد کھڑے ہو کر آپ کا قرآن سن رہے تھے۔ بعد میں یہ راز فاش ہوگیا تو ان میں سے ایک سردار نے ابو جہل سے پوچھا کہ && جو قرآن تم نے سنا ہے اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ؟ && اس نے اس سوال کا صحیح جواب دینے کے بجائے رخ کو دوسرا طرف موڑ دیا اور کہا کہ && ہم اور بنی عبدمناف سب باتوں میں ایک دوسرے کے ہم پلہ تھے، اب ہم ان کے نبی کو تسلیم کرکے ان کی اس برتری کو کیسے تسلیم کرسکتے ہیں (&& ابن ہشام : ص ١٠٨) ابو جہل کے اس جواب سے دو باتوں کا صاف طور پر پتا چلتا ہے۔ ایک یہ کہ سب قریشی سردار قرآن کی تاثیر سے متاثر تھے اور دوسری یہ بات کہ آپ کی نبوت کو تسلیم کرنے میں صرف یہ بات آڑے نہیں آرہی تھی کہ آپ بشر تھے بلکہ اس کی اور بھی کئی وجوہ تھیں۔ اور قرآن کو اونچی آواز سے پڑھنے پر پابندی ان لوگوں نے مسلمان پر لگا رکھی تھی۔ کیونکہ انھیں یہ خطرہ تھا کہ قرآن سن کر ان کی عورتیں اور ان کے بچے متاثر ہوجاتے ہیں اور یہ پابندی مسلمانوں پر ہجرت نبوی تک قائم رہی۔ علاوہ ازیں ایک تدبیر انہوں نے یہ اختیار کی تھی کہ جب کہیں قرآن پڑھا جارہا ہو تو وہاں خوب شوروغل مچاؤ تاکہ قرآن کی آواز کسی کے کان میں پڑنے ہی نہ پائے۔ یہ تھے وہ طریقے جو انہوں نے اس جادو کے شر سے بچنے کے لئے اختیار کئے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَاهِيَةً قُلُوْبُهُمْ ۭ وَاَسَرُّوا النَّجْوَي ۔۔ : ” لَاهِيَةً “ ” لَہِیَ یَلْھٰی “ (ع) یا ” لَھَا یَلْھُوْ “ (ن) سے اسم فاعل مؤنث کا صیغہ ہے۔ ” لَھْوٌ“ وہ چیز ہے جو انسان کو اس کے ضروری اور اہم کاموں سے کسی اور کام میں مشغول کر دے۔ (راغب) جیسا کہ مادہ پرست لوگ آخرت کی فکر چھوڑ کر صرف دنیا کی طلب میں مشغول ہیں۔ آج کل کے علوم و فنون سائنس، آرٹ وغیرہ میں کوئی چیز ایسی نہیں جو آخرت کی یاد دلانے والی ہو، بلکہ یہ سب روشن خیالیاں دن بدن موت اور آخرت کی فکر سے دور لے جا رہی ہیں۔ مزید دیکھیے سورة روم (٦، ٧) ۔ وَاَسَرُّوا النَّجْوَي : یہاں نحو کا ایک مشہور سوال ہے کہ جب فاعل ظاہر ہو تو خواہ وہ واحد ہو یا تثنیہ یا جمع، فعل واحد کے صیغے کے ساتھ آتا ہے۔ یہاں ” الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا “ فاعل ظاہر ہونے کے باوجود فعل جمع کے صیغے کے ساتھ کیوں آیا ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ ” وَاَسَرُّوا “ کا فاعل ضمیر جمع ہے اور ” الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا “ اس سے بدل ہے، یعنی کفار نے باہمی خفیہ مشورے سے لوگوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دور رکھنے کے لیے خفیہ مشاورت کرکے طے کیا کہ لوگوں سے یہ کہو اور خفیہ رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ اگر لوگوں کو پتا چل گیا کہ یہ ان کی طے کردہ بات ہے تو وہ اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔ هَلْ ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۔۔ : یعنی یہ کوئی فرشتہ نہیں ہے، بلکہ تمہاری طرح کا ایک انسان ہے، اب جو یہ معجزات دکھاتا ہے اور اس کلام کو سن کر لوگ گرویدہ ہو رہے ہیں تو یہ سب جادو ہے۔ کفار نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دو طرح سے طعن کیا، ایک یہ کہ آپ بشر ہیں اور بشر نبی نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کئی جگہ بیان فرمائی ہے، مثلاً دیکھیے سورة بنی اسرائیل (٩٤) ، تغابن (٦) ، قمر (٢٤) ، مومنون (٣٣، ٣٤) ، فرقان (٧) اور ابراہیم (١٠) پہلے کفار و مشرکین کہتے تھے کہ بشر نبی نہیں ہوسکتا، آج کل کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نبی بشر نہیں ہوسکتا، بات ایک ہی ہے، (بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْن) [ المؤمنون : ٨١ ] ” بلکہ انھوں نے کہا جیسے پہلوں نے کہا تھا۔ “ اللہ تعالیٰ نے آگے اس کا رد فرمایا۔ دوسرا طعن یہ تھا کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ جادو ہے۔ کفار کا یہ طعن بھی اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ ذکر فرمایا ہے، مثلاً دیکھیے سورة مدثر (٢٤) اور ذاریات (٥٢) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ‌ وَأَنتُمْ تُبْصِرُ‌ونَ (Would you then go along with sorcery while you have eyes to see? - 21:3) Those people used to discuss among themselves secretly that the claim of the Holy Prophet about his prophethood should not be accepted, because he was an ordinary human being like all others and not an angel. On the other hand not even the most rigid among the unbelievers could deny the supreme charm and eloquence of the Book of Allah nor its power to influence people when it was recited before them. Therefore, in order to turn people away from the Holy Book they started calling it magic and black art. They thought that they could keep people away from Islam by labeling the Qur&an as a book of magic thereby dissuading people from going to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and listening to Qur&an. Probably they used to discuss this subject secretly among themselves lest the Muslims come to know about their foolish views and unveil their fallacy.

اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ، یعنی یہ لوگ آپس میں آہستہ آہستہ سرگوشی کر کے یہ کہتے ہیں کہ یہ جو اپنے کو نبی اور رسول کہتے ہیں یہ تو ہم جیسے ہی انسان ہیں کوئی فرشتہ تو ہیں نہیں کہ ہم ان کی بات مان لیں اور پھر اس کلام الٰہی کو جو ان کے سامنے پڑھا جاتا تھا اور اس کی حلاوت و بلاغت اور دلوں میں تاثیر کا کوئی کافر بھی انکار نہ کرسکتا تھا، اس سے لوگوں کو ہٹانے کی صورت یہ نکالی کہ اس کو سحر اور جادو قرار دیں اور پھر لوگوں کو اسلام سے روکنے کے لئے یہ کہیں کہ جب تم سمجھ گئے کہ یہ جادو ہے تو پھر ان کے پاس جانا اور یہ کلام سننا دانشمندی کے خلاف ہے شاید یہ گفتگو آپس میں آہستہ اس لئے کرتے تھے کہ مسلمان سن لیں گے تو ان کی احمقانہ تلبیس کا پول کھول دیں گے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَاہِيَۃً قُلُوْبُہُمْ ۝ ٠ۭ وَاَسَرُّوا النَّجْوَي۝ ٠ۤۖ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا۝ ٠ۤۖ ہَلْ ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ۝ ٠ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ۝ ٣ لهي أَلْهاهُ كذا . أي : شغله عمّا هو أهمّ إليه . قال تعالی: أَلْهاكُمُ التَّكاثُرُ [ التکاثر/ 1] ، رِجالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ [ النور/ 37] ولیس ذلک نهيا عن التّجارة وکراهية لها، بل هو نهي عن التّهافت فيها والاشتغال عن الصّلوات والعبادات بها . الھاۃ کذا ۔ یعنی اسے فلاں چیز نے اہم کام سے مشغول کردیا ۔ قرآن میں ہے : أَلْهاكُمُ التَّكاثُرُ [ التکاثر/ 1] لوگوتم کو کثرت مال وجاہ واولاد کی خواہش نے غافل کردیا ۔ رِجالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ [ النور/ 37] یعنی ایسے لوگ جن کو خدا کے ذکر سے نہ سود اگر ی غافل کرتی ہے اور نہ خرید وفروخت ۔ اس آیت سے تجارت کی ممانعت یا کرامت بیان کرنا مقصود نہیں ہے ۔ بلکہ اس میں پروانہ دار مشغول ہو کر نماز اور دیگر عبادات سے غافل ہونے کی مذمت کی طرف اشارہ ہے نفس تجارت کو قرآن نے فائدہ مند اور فضل الہی سے تعبیر کیا ہے ۔ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ سرر (كتم) والسِّرُّ هو الحدیث المکتم في النّفس . قال تعالی: يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفى [ طه/ 7] ، وقال تعالی: أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْواهُمْ [ التوبة/ 78] ( س ر ر ) الاسرار السر ۔ اس بات کو کہتے ہیں جو دل میں پوشیدہ ہو ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفى [ طه/ 7] وہ چھپے بھید اور نہایت پوشیدہ بات تک کو جانتا ہے ۔ نجو) سرگوشي) والنَّجِيُّ : المُنَاجِي، ويقال للواحد والجمع . قال تعالی: وَقَرَّبْناهُ نَجِيًّا [ مریم/ 52] ، وقال : فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا [يوسف/ 80] ( ن ج و ) النجی کے معنی سر گوشی کرنے والے کے ہیں یہ بھی واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَقَرَّبْناهُ نَجِيًّا[ مریم/ 52] اور باتیں کرنے کیلئے نزدیک بلایا ۔ فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا [يوسف/ 80] جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہوکر صلاح کرنے لگے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں بشر وخصّ في القرآن کلّ موضع اعتبر من الإنسان جثته وظاهره بلفظ البشر، نحو : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] ، ( ب ش ر ) البشر اور قرآن میں جہاں کہیں انسان کی جسمانی بناوٹ اور ظاہری جسم کا لحاظ کیا ہے تو ایسے موقع پر خاص کر اسے بشر کہا گیا ہے جیسے فرمایا : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا ۔ إِنِّي خالِقٌ بَشَراً مِنْ طِينٍ [ ص/ 71] کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے سحر والسِّحْرُ يقال علی معان : الأوّل : الخداع وتخييلات لا حقیقة لها، نحو ما يفعله المشعبذ بصرف الأبصار عمّا يفعله لخفّة يد، وما يفعله النمّام بقول مزخرف عائق للأسماع، وعلی ذلک قوله تعالی: سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ [ الأعراف/ 116] والثاني : استجلاب معاونة الشّيطان بضرب من التّقرّب إليه، کقوله تعالی: هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّياطِينُ تَنَزَّلُ عَلى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الشعراء/ 221- 222] ، والثالث : ما يذهب إليه الأغتام «1» ، وهو اسم لفعل يزعمون أنه من قوّته يغيّر الصّور والطّبائع، فيجعل الإنسان حمارا، ولا حقیقة لذلک عند المحصّلين . وقد تصوّر من السّحر تارة حسنه، فقیل : «إنّ من البیان لسحرا» «2» ، وتارة دقّة فعله حتی قالت الأطباء : الطّبيعية ساحرة، وسمّوا الغذاء سِحْراً من حيث إنه يدقّ ويلطف تأثيره، قال تعالی: بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُونَ [ الحجر/ 15] ، ( س ح ر) السحر اور سحر کا لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے اول دھوکا اور بےحقیقت تخیلات پر بولاجاتا ہے جیسا کہ شعبدہ باز اپنے ہاتھ کی صفائی سے نظرون کو حقیقت سے پھیر دیتا ہے یانمام ملمع سازی کی باتین کرکے کانو کو صحیح بات سننے سے روک دیتا ہے چناچہ آیات :۔ سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ [ الأعراف/ 116] تو انہوں نے جادو کے زور سے لوگوں کی نظر بندی کردی اور ان سب کو دہشت میں ڈال دیا ۔ دوم شیطان سے کسی طرح کا تقرب حاصل کرکے اس سے مدد چاہنا جیسا کہ قرآن میں ہے : هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّياطِينُ تَنَزَّلُ عَلى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الشعراء/ 221- 222] ( کہ ) کیا تمہیں بتاؤں گس پر شیطان اترا کرتے ہیں ( ہاں تو وہ اترا کرتے ہیں ہر جھوٹے بدکردار پر ۔ اور اس کے تیسرے معنی وہ ہیں جو عوام مراد لیتے ہیں یعنی سحر وہ علم ہے جس کی قوت سے صور اور طبائع کو بدلا جاسکتا ہے ( مثلا ) انسان کو گدھا بنا دیا جاتا ہے ۔ لیکن حقیقت شناس علماء کے نزدیک ایسے علم کی کچھ حقیقت نہیں ہے ۔ پھر کسی چیز کو سحر کہنے سے کبھی اس شے کی تعریف مقصود ہوتی ہے جیسے کہا گیا ہے (174) ان من البیان لسحرا ( کہ بعض بیان جادو اثر ہوتا ہے ) اور کبھی اس کے عمل کی لطافت مراد ہوتی ہے چناچہ اطباء طبیعت کو ، ، ساحرۃ کہتے ہیں اور غذا کو سحر سے موسوم کرتے ہیں کیونکہ اس کی تاثیر نہایت ہی لطیف ادرباریک ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے : بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُونَ [ الحجر/ 15]( یا ) یہ تو نہیں کہ ہم پر کسی نے جادو کردیا ہے ۔ یعنی سحر کے ذریعہ ہمیں اس کی معرفت سے پھیر دیا گیا ہے ۔ بصر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، نحو قوله تعالی: كَلَمْحِ الْبَصَرِ [ النحل/ 77] ، ووَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں جیسے فرمایا ؛کلمح البصر (54 ۔ 50) آنکھ کے جھپکنے کی طرح ۔ وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] اور جب آنگھیں پھر گئیں ۔ نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣) ان لوگوں کے دل یوم حشر سے بالکل غافل ہیں اور یہ ظالم لوگ یعنی مشرکین مکہ ابوجہل اور اس کے ساتھی رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کی تکذیب کے بارے میں آپس میں چپکے چپکے سرگوشی کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم جیسے ایک معمولی آدمی ہیں تو کیا پھر بھی ان کے سحر میں مبتلا ہو اور جھوٹ سنتے جاتے، حالانکہ تم خوب جانتے ہو، کہ یہ جادو اور جھوٹ ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣ ( لَاہِیَۃً قُلُوْبُہُمْ ط) ” ان کا غیر سنجیدہ رویہ اس حد تک ان کے دلوں میں گھر کر گیا ہے کہ انہوں نے زندگی کو بھی ایک کھیل ہی سمجھ رکھا ہے۔ (ہَلْ ہٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ج) ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کلام اللہ سن کر اگر ان کا کوئی ساتھی متاثر ہوتا تو اسے الگ لے جا کر بڑے ناصحانہ انداز میں سمجھاتے کہ ارے تم خواہ مخواہ اپنے جیسے ایک انسان کو اللہ کا رسول اور اس کی باتوں کو اللہ کا کلام سمجھ رہے ہو۔ اس کی باتوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ (اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ) ” تم جانتے بھی ہو کہ یہ کلام وغیرہ سب جادو کا کمال ہے۔ تو کیا تم جانتے بوجھتے ہوئے اس کا شکار ہونے جا رہے ہو ؟ ان کی اس طرح کی سرگرمیوں کی خبریں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک بھی پہنچتی تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یقیناً اس سے بہت صدمہ پہنچتا ہوگا کہ اگر کوئی اللہ کا بندہ ہدایت قبول کرنے پر آمادہ ہوا تھا تو اس کو پھر ورغلا کر بھٹکا دیا گیا ہے۔ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے آپس کے شیطانی مشوروں کا سنتے تو یوں فرماتے :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

5. This may also be translated as: What, are you then being ensnared by his magic? The disbelievers, who were the chiefs of Makkah, whispered to one another to this effect: Anyhow this man cannot be a Prophet because he is a human being like us and eats and drinks and has wife and children like us. We see nothing unusual about him that might distinguish him from us and make him worthy of the office of Prophethood. We, however, admit that there is some magic in his talk and personality. That is why anyone who listens to him or goes near Him is charmed. Therefore, the best thing for you is not to listen to him at all, nor go near him, for listening to him or going near him will only be involving yourselves intentionally in his snare. The reason why they accused the Prophet (peace be upon him) of practicing magic was that even his antagonists were charmed by his personality when they met him. Muhammad bin Ishaq (152 A.H.) says: Once Utbah bin Rabiah, the father-in-law of Abu Sufyan, said to the chiefs that he wanted to see Muhammad and give him counsel. They said: We have full confidence in you. You may go and have a talk with him. Accordingly, he went to the Prophet (peace be upon him) and said: Dear nephew, you know that you were held in great honor here before this and you belong to a noble family. Why have you then brought this affliction to your people? You have caused discard among them. You consider your people to be fools. You speak ill of their religion and deities, and you declare their deceased forefathers to be disbelievers. My dear nephew, if your object is to become a rich man, we can give you so much wealth that you will become the richest man among us. If you are seeking a high rank, we will make you our chief, even our king, if you so like. But if you are suffering from a mental illness which makes you see illusions, we will have you treated by the best physicians. He went on talking in this strain and the Prophet (peace be upon him) remained silent. When he was done talking, the Prophet (peace be upon him) said: Abul Walid, have you had your say or do you want to say anything more? He replied that he had said what he had to say. Then the Prophet (peace be upon him) said: Now listen to me. And he began to recite Surah Ha-Mim-Sajdah after Bismillah and Utbah listened to him as if he had been charmed. When the Prophet (peace be upon him) came to (Ayat 38), he fell down in prostration. Then raising his head, he said: O Abul Walid, I have said whatever I had to say, and you have heard it. Now I have nothing more to say. After this Utbah walked back towards the chiefs who perceived him to be a changed man and remarked: By God, his face shows that he is not the same man that he was when he went from here. When he came to them, they asked: What has been the result of your mission? He answered: By God, today I have heard a thing the like of which I had never heard before. By Allah! It is not poetry nor sorcery nor divination. O people of Quraish, I advise you to leave him to himself. From what I have heard from him, I conclude that his message is going to bring about a great revolution here. If the Arabs overcome him, you will stand absolved from the charge of murdering your own brother, and if he overpowers the Arabs, his sovereignty will be your own sovereignty and his honor your own honor. The people answered: By God, you too, O Abul Walid, have been charmed by him. To this he replied: I have expressed my opinion. Now it is for you to accept or reject it. (Ibn Hisham, Vol. I, pp. 313-314). Baihaqi, in his narration of the above event, makes this addition: When the Prophet (peace be upon him) recited (Ayat 13): If they turn away from your message, say to them, I have warned you of the coming of a thunderbolt like the thunderbolt that visited the Aad and the Thamud, Utbah placed his hand on the mouth of the Prophet (peace be upon him), saying: For God’s sake, have mercy on your own people. In this connection, ibn Ishaq has cited another event. Once a man from the clan of Arash came to Makkah with some camels and Abu Jahl bought them. When he demanded their price, he put him off by lame excuses. At last the man came to the Sanctuary of the Kabah and began to bewail publicly the dishonesty of Abu Jahl. The Prophet (peace be upon him) was also sitting in a corner of the Sanctuary. The chiefs of the Quraish said to the man: We cannot help you in any way in this matter; look, there is a man sitting: go to him and he will get you your money. Accordingly, the Arashi went towards the Prophet (peace be upon him) and the chiefs began to whisper jokingly: Today there will be great fun. When the man expressed his complaint before the Prophet (peace be upon him), he at once stood up and accompanied him to the house of Abu Jahl, followed by an informer of the chiefs. The Prophet (peace be upon him) knocked at Abu Jahl’s door, who asked from inside: Who is there? He answered: Muhammad. Hearing this, he at once came out and the Prophet (peace be upon him) said to him: Pay this man his dues. Abu Jahl went in without uttering a word, brought the price of the camels and paid the man. At this the informer ran back to the Quraish and told them the whole story and said: By God, today I have seen something which I had never seen before. When Abu Jahl came out, Muhammad asked him to pay the dues, and he obeyed him as if he were spell bound. (Ibn Hisham, Vol. II, pp. 29-30). It was this charm of the personality, character and words of the Prophet (peace be upon him) which these people considered to be the effects of charm and warned the people not to go near him for fear of his magic.

سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :5 پھنسے جاتے ہو بھی ترجمہ ہو سکتا ہے ، اور دونوں ہی مطلب صحیح ہیں ۔ سرگوشیاں کفار مکہ کے وہ بڑے بڑے سردار آپس میں بیٹھ بیٹھ کر کیا کرتے تھے جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا مقابلہ کرنے کی بڑی فکر لاحق تھی وہ کہتے تھے یہ شخص بہرحال نبی تو ہو نہیں سکتا ، کیونکہ ہم ہی جیسا انسان ہے ، کھاتا ہے ، پیتا ہے ، بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ، بیوی بچے رکھتا ہے ۔ آخر اس میں وہ نرالی بات کیا ہے جو اس کو ہم سے ممتاز کرتی ہو اور ہماری بہ نسبت اس کو خدا سے ایک غیر معمولی تعلق کا مستحق بناتی ہو ؟ البتہ اس شخص کی باتوں میں اور اس کی شخصیت میں ایک جادو ہے کہ جو اس کی بات کان لگا کر سنتا ہے اور اس کے قریب جاتا ہے وہ اس کا گرویدہ ہوجاتا ہے ۔ اس لئے اگر اپنی خیر چاہتے ہو تو اس کی سنو اور نہ اس سے میل جول رکھو ، کیونکہ اس کی باتیں سننا اور اس کے قریب جانا گویا آنکھوں دیکھتے جادو کے پھندے میں پھنسنا ہے ۔ جس چیز کی وجہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سحر کا الزام چسپاں کرتے تھے اس کی چند مثالیں آپ کے قدیم ترین سیرت نگار محمد بن اسحاق ( متوفی 152 ھ ) نے بیان کی ہیں ۔ وہ لکھتا ہے کہ ایک دفعہ عُتْبَہ بن رَبیعہ ( ابو سفیان کے خسر ، ہند جگر خور کے باپ ) نے سرداران قریش سے کہا ، اگر آپ لوگ پسند کریں تو میں جا کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملوں اور اسے سمجھانے کی کوشش کروں ۔ یہ حضرت حمزہ کے اسلام لانے کے بعد کا واقعہ ہے جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی تعداد روز بروز بڑھتی دیکھ کر اکابر قریش سخت پریشان ہو رہے تھے ۔ لوگوں نے کہا ابو الولید ، تم پر پورا اطمینان ہے ، ضرور جا کر اس سے بات کرو ۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور کہنے لگا ، بھتیجے ، ہمارے ہاں تم کو جو عزت حاصل تھی ، تم خود جانتے ہو ، ور نسب میں بھی تم ایک شریف ترین گھرانے کے فرد ہو ۔ تم اپنی قوم پر یہ کیا مصیبت لے آئے ہو ؟ تم نے جماعت میں تفرقہ ڈال دیا ۔ ساری قوم کو بے وقوف ٹھہرایا ۔ اس کے دین اور اس کے معبودوں کی برائی کی ۔ باپ دادا جو مر چکے ہیں ان سب کو تم نے گمراہ اور کافر بنا یا ۔ بھتیجے ، اگر ان باتوں سے تمہارا مقصد دنیا میں اپنی بڑائی قائم کرنا ہے تو آؤ ہم سب مل کر تم کو اتنا روپیہ دے دیتے ہیں کہ تم سب سے زیادہ مال دار ہو جاؤ ۔ سرداری چاہتے ہو تو ہم تمہیں سردار مانے لیتے ہیں ۔ بادشاہی چاہتے ہو تو بادشاہ بنا دیتے ہیں ۔ اور اگر تمہیں کوئی بیماری ہو گئی ہے جس کی وجہ سے تم کو واقعی سوتے یا جاگتے میں کچھ نظر آنے لگا ہے تو ہم سب مل کر بہترین طبیبوں سے تمہارا علاج کرائے دیتے ہیں ۔ یہ باتیں وہ کرتا رہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش سنتے رہے ۔ جب وہ خوب بول چکا تو آپ نے فرمایا ابوالولید ، جو کچھ آپ کہنا چاہتے تھے کہہ چکے ہیں ، یا اور کچھ کہنا ہے ۔ اس نے کہا بس مجھے جو کچھ کہنا تھا میں نے کہہ دیا ۔ آپ نے فرمایا اچھا اب میری سنو ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ ، حٰمٓ ، تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ اس کے بعد کچھ دیر تک مسلسل آپ سورہ حٰم السجدہ کی تلاوت فرماتے رہے اور عتبہ پیچھے زمین پر ہاتھ ٹیکے غور سے سنتا رہا ۔ اڑتیسویں آیت پر پہنچ کر آپ نے سجدہ کیا ، اور پھر سر اٹھا کر عتبہ سے فرمایا ، ابو الولید ، جو کچھ مجھے کہنا تھا وہ آپ نے سن لیا ، اب آپ جانیں اور آپ کا کام ۔ عتبہ یہاں سے اٹھ کر سرداران قریش کی طرف پلٹا تو لوگوں نے دور سے ہی اس کو آتے دیکھ کر کہا خدا کی قسم ، ابوالولید کا چہرا بدلا ہوا ہے ۔ یہ وہ صورت نہیں ہے جسے لے کر وہ گیا تھا ۔ اس کے پہنچتے ہی لوگوں نے سوال کیا ، کہو ابوالولید ، کیا کر آئے ہو ؟ اس نے کہا خدا کی قسم ، آج میں نے ایسا کلام سنا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہ سنا تھا ۔ واللہ یہ شعر نہیں ہے ، نہ سحر ہے اور نہ کہانت ۔ اے معشر قریش ، میری بات مانو اور اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ اس کی باتیں جو میں نے سنی ہیں رنگ لا کر رہیں گی ۔ اگر عرب اس پر غالب آ گئے تو اپنے بھائی کا خون تمہاری گردن پر نہ ہو گا ، دوسروں پر ہو گا ۔ اور اگر یہ عرب پر غالب آگیا تو اس کی حکومت تمہاری حکومت ہو گی ۔ اور اس کی عزت تمہاری عزت ۔ لوگوں نے کہا واللہ ، ابوالولید تم پر بھی اس کا جادو چل گیا ۔ اس نے کہا یہ میری رائے ہے ، اب تم جانو اور تمہارا کام ۔ ( ابن ہشام ، جلد اول ، ص 313 ۔ 314 ) ۔ بیہقی نے اس واقعہ کے متعلق جو روایات جمع کی ہیں ان میں سے ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سورہ حٰم سجدہ کی تلاوت کرتے ہوئے اس آیت پر پہنچے کہ : فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صٰعِقَۃً مِّثْلَ صَاعِقَۃ عَادٍ وَّ ثَمُوْدٍ ، تو عتبہ نے بے اختیار آگے بڑھ کر آپ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہنے لگا کہ خدا کے لیے اپنی قوم پر رحم کرو ۔ دوسرا واقعہ ابن اسحاق نے یہ بیان کیا ہے کہ ایک دفعہ قبیلہ اَرَاش کا ایک شخص کچھ اونٹ لے کر مکہ آیا ۔ ابو جہل نے اس کے اونٹ خرید لیے اور جب اس نے قیمت طلب کی تو ٹال مٹول کرنے لگا ۔ اَرَشی نے تنگ آ کر ایک روز حرم کعبہ میں قریش کے سرداروں کو جا پکڑا اور مجمع عام میں فریاد شروع کر دی ۔ دوسری طرف حرم کے ایک گوشے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ۔ سرداران قریش نے اس شخص سے کہا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ، دیکھو ، وہ صاحب جو اس کونے میں بیٹھے ہیں ، ان سے جا کر کہو ، وہ تم کو تمہارا روپیہ دلوا دیں گے ۔ اَرَشی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلا ، اور قریش کے سرداروں نے آپس میں کہا آج لطف آئے گا ۔ اراشی نے جا کر حضور سے اپنی شکایت بیان کی ۔ آپ اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے ساتھ لے کر ابو جہل کے مکان کی طرف روانہ ہو گئے ۔ سرداروں نے پیچھے ایک آدمی لگا دیا کہ جو کچھ گزرے اس کی خبر لا کر دے ۔ ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ابو جہل کے دروازے پر پہنچے اور کنڈی کھٹکھٹائی ۔ اس نے پوچھا کون ؟ آپ نے جواب دیا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ حیران ہو کر باہر نکل آیا ۔ آپ نے اس سے کہا اس شخص کا حق ادا کر دو ۔ اس نے جواب میں کوئی چوں و چرا نہ کی ، اندر گیا اور اس کے اونٹوں کی قیمت لا کر اس کے ہاتھ میں دے دی ۔ قریش کا مخبر یہ حال دیکھ کر حرم کی طرف دوڑا اور سرداروں کو سارا ماجرا سنا دیا اور کہنے لگا کہ واللہ آج وہ عجیب معاملہ دیکھا ہے جو کبھی نہ دیکھا تھا ، حَکَم بن ہشام ( ابو جہل ) جب نکلا ہے تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھتے ہی اس کا رنگ فق ہو گیا اور جب محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اس سے کہا کہ اس کا حق ادا کر دو تو یہ معلوم ہوتا تھا کہ جیسے حکم بن ہشام کے جسم میں جان نہیں ہے ۔ ( ابن ہشام ، جلد 2 ، ص 29 ۔ 30 ) ۔ یہ تھا شخصیت اور سیرت و کردار کا اثر اور وہ تھا کلام کا اثر ، جس کو وہ لوگ جادو قرار دیتے تھے اور ناواقف لوگوں کو یہ کہہ کہہ کر ڈراتے تھے کہ اس شخص کے پاس نہ جانا ورنہ جادو کر دے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:3) لاھیۃ قلوبہم۔ یہ بھی استمعوا کے فاعل سے حال ہے۔ لاھیۃ اسم فاعل واحد مؤنث ۔ لاھی واحد مذکر۔ لاھیات جمع۔ غافل ۔ لہو میں پڑے ہوئے اللھو۔ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو اہم کاموں سے ہٹائے اور باز رکھے۔ یہ لھوت کذا سے اسم ہے جس کے معنی کسی مقصد سے ہٹ کر بےسود کام میں لگ جانے کے ہیں۔ لاھیۃ قلوبہم (درآں حالیکہ) ان کے دل (یوم جزا سے ہٹ کر) غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ما یاتیہم سے جو فقرہ شروع ہوا تھا وہ قلوبہم پر آکر ختم ہوا۔ واسروا سے نیا فقرہ شروع ہوتا ہے اسروا۔ وہ پوشیدہ رکھتے ہیں (ماضی بمعنی حال) ۔ النجوی۔ اسم معرف باللام۔ سرگوشی۔ یا یہ مصدر ہے بمعنی سرگوشی کرنا۔ نجوی میں خود ہی اخفاء کا پہلو شامل ہے۔ اسروا کے لفظ نے مزید تاکید وزور پیدا کردیا۔ واسروا النجوی الذین ظلموا کے متعلق صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں :۔ یہاں یاک نحوی پیچیدگی ہے۔ واسروا النجوی الذین ظلموا کے فقرہ میں اسروا فعل ہے نجوی مفعول۔ اور الذین فاعل۔ نحو کا قاعدہ ہے کہ جب فاعل اسم ظاہر ہو تو فعل واحد ہوتا ہے۔ اس قاعدہ کے مطابق اسر النجوی ہونا چاہیے تھے۔ مگر یہاں فاعل ظاہر ہونے کے باوجود اسروا جمع کا صیغہ کیوں استعمال کیا گیا۔ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ اسروا میں وائو ضمیر جمع نہیں ہے بلکہ علامت جمع ہے تاکہ اسروا کا لفظ سنتے ہی سننے والے کو پتہ چل جائے کہ اس کا ایک فاعل نہیں بلکہ متعدد ہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ وائو ضمیر جمع فاعل ہے اور الذین فاعل نہیں بلکہ وائو کا بدل ہے اور وائو مبدل منہ ہے جیسے ثم عموا وصموا کثیر منہم (5:71) میں گذر چکا ہے کہ کثیر فاعل نہیں بلکہ وائو علامت جمع اور ضمیر جمع فاعل ہے اور کثیر اس کا بدل ہے۔ تیسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ عرب کی ایک لغت میں ایسے موقعہ پر بھی فعل کا جمع کا صیغہ استعمال ہوتا رہتا ہے ۔ جیسے اکلونی البراغیث (مجھے پسوئوں نے (کاٹ) کھایا۔ ملاحظہ ہو سورة مائدہ آیت نمبر 71 ۔ ضیاء القرآن جلد اول۔ فقرہ کا ترجمہ ہوگا۔ (یہ) ظلم کار لوگ (آپ کے خلاف) سرگوشیوں کو چھپاتے رہتے ہیں۔ ھل۔ نفی کے لئے آیا ہے۔ ای ما ھذا الا بشر مثلکم۔ افتاتون۔ الف استفہامیہ۔ تأتون مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم آتے ہو۔ تم آئو گے۔ اتیان مصدر۔ باء کے ساتھ جب اس کا تعدیہ ہو تو معنی لانے کے ہوتے ہیں۔ افتاتون السحر۔ کیا تم (پھر بھی) جادو (کی باتیں سننے) آئو گے۔ وانتم تبصرون۔ حالانکہ تم دیکھ رہے ہو۔ یہ جملہ حال ہے تاتون کی ضمیر فاعل ہے ۔ اور یہ سارا جملہ ھل ھذا الا بشر مثلکم افتاتون السحر وانتم تبصرون۔ محل نصب میں ہے اور النجوی سے بدل ہے۔ یعنی ان کی سرگوشیاں یہ کلام ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی یہ کوئی فرشتہ نہیں ہے بلکہ تمہاری طرح کا ایک انسان ہے۔ اب جو یہ خارق عادت کارنامے دکھاتا ہے اور اس کلام کو سن کر لوگ گرویدہ ہو رہے ہیں تو یہ سب جادو ہے۔ کفار نے آنحضرت کی نبوت پر دو طرح سے طعن کیا۔ ایک یہ کہ آپ بشر ہیں اور شر نبی نہیں ہوسکتا اور قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ جادو ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے بارے میں لاپرواہی اور حق بات کو شغل کے طور پر لینے کا بنیادی سبب دل کی غفلت ہے۔ انسان کا دل، حق بات کے بارے میں غفلت کا شکار ہوجائے تو مؤثر ترین بات بھی اس پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ یہی حالت سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخالفین کی تھی۔ جس کا ” قَالُوْا قُلُوْا بُنَا غُلْفٌ“ کہہ کر برملا اعتراف کرتے تھے۔ (البقرۃ : ٨٨) کہ ہمارے دل پر دہ میں ہیں۔ اسی بناء پر انھوں نے اپنی خفیہ مجالس میں پوری راز داری کے ساتھ ایک منظم پراپیگنڈہ کا فیصلہ کیا جس کے پیش نظر وہ لوگوں کو کہتے کہ محمد یوں ہی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ حالانکہ ہمارے جیسا انسان ہے اس میں کوئی خاص خوبی نہیں ہے۔ وہ یہ کہہ کر بھی لوگوں کو متنفر کرتے کہ لوگو ! کیا تم جیتے جاگتے اور اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اس کے جادو میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ جادو کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ جادوگر پیٹ کے دھندے کی خاطر نہ صرف الٹے سیدھے کرتب دکھاتا ہے بلکہ اسے جادو کرنے کے لیے دانستہ طور پر گندا اور ناپاک رہنا پڑتا ہے۔ اس کے بغیر جادوگر کامیاب نہیں ہوسکتا۔ نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ایسی کوئی کمزوری موجود نہ تھی۔ لیکن اس کے باوجود وہ آپ کو جادوگر کہتے کیونکہ آپ کی ذات اور دعوت میں اس قدر تاثیر تھی کہ آپ پر ایمان نہ لانے والے لوگ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اور بات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ یہی وہ الزام ہے جو پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) پر بھی لگایا جاتا تھا۔ جہاں تک آپ کے بشر ہونے کا تعلق ہے اس بات کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ سے پہلے انبیاء (علیہ السلام) برملا اعتراف کرتے تھے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم تمہارے جیسے انسان ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا کہ ہمیں اپنے کام کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ (ابراہیم : ١١) اس اعتراف کے باوجود مخالفین آپ کے بشر ہونے کو بہانہ بنا کر لوگوں کو دین سے دور کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ بیشک آپ بشر تھے لیکن پوری بنی نوع سے اعلیٰ اور افضل تھے، مگر پھر بھی مشرکین مکہ آپ کو جادوگر کے طور پر پیش کرتے تھے۔ جس کا یہ کہہ کر جواب دیا گیا کہ میرا رب نہ صرف زمین پر ہونے والی باتوں کو جانتا ہے بلکہ وہ زمین و آسمان کی ہر بات کو سننے اور جاننے والا ہے۔ جادو کیا ہے ؟ (اَلسِّحْرُ ہُوَ عَقْدٌ وَرُقیً وَکَلَامٌ یُتَکَلَّمُ بِہٖ اَوْ یَکْتُبُہُ اَوْیَعْمَلُ شَیْءًا یُؤَثَّرُ فِیْ بَدَنِ الْمَسْحُوْرِ اَوْ قَلْبِہٖ اَوْ عَقْلِہٖ ) [ المغنی ابن قدامہ ] ” جادو، دم گرہیں ‘ دم اور ایسی تحریر یا حرکات پر مشتمل ہوتا ہے۔ جس کے ذریعے دوسرے کے وجود اور دل و دماغ پر اثر انداز ہوا جاتا ہے۔ “ (وَالسِّحْرُہُوَ مُرَکَّبُ مِّنْ تَأْ ثِیْرَاتِ الْاَرْوَاحِ الْخَبِیْثَۃِ وَانْفِعَالِ الْقُوٰی الطَّبِیْعِیَّۃِ عَنْھَا) [ زاد المعاد ] ” جادو خبیث جنات کے ذریعے کیا جاتا ہے جس سے لوگوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ “ جادو کوئی مستقل اور مستند علم نہیں کہ جس کو کرنے کے لیے کوئی خاص طریقہ متعین کیا گیا ہو کیونکہ جادو تصنّع بازی کا نام ہے اس لیے ہر دور میں اس کی کرشمہ سازی اور اثر انگیزی میں اضافہ کرنے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کیے گئے۔ ١۔ کفر یہ، شرکیہ الفاظ کے ہیر پھیر کے ذریعے جادو کرنا۔ ٢۔ خبیث جنّات اور شیاطین کے ذریعے کسی پر اثر انداز ہونا۔ ٣۔ علم نجوم کے ذریعے غیب کی خبریں دینا اور دوسرے کو متاثر کرنا۔ ٤۔ توجہ، مسمریز کی مخصوص حرکات، (ہیپناٹیزم) کیساتھ حواس خمسہ کو قابو کرنا۔ تفصیل کے لیے البقرۃ آیت 103 کی تفسیر دیکھیں۔ مسائل ١۔ قرآن مجید کی تاثیر سے مرعوب ہو کر کفار اسے جادو قرار دیتے تھے۔ ٢۔ کفار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف منظم پر اپیگنڈہ کیا کرتے کہ آپ ایک عام انسان اور جادوگر ہیں۔ ٣۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی نوع کے اعتبار سے انسان تھے مگر پوری کائنات سے اعلیٰ اور افضل ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے : ١۔ اللہ دلوں کے راز جانتا ہے۔ (ہود : ٥) ٢۔ جوا للہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ (البقرہ : ٢١٦) ٣۔ اللہ کا علم فرشتے بھی نہیں جانتے۔ (البقرہ : ٣٠) ٤۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ (المائدۃ : ٧) ٥۔ اللہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔ (المومن : ١٩) ٦۔ اللہ خشکی اور تری کی پوشیدہ چیزوں سے واقف ہے۔ (الانعام : ٥٩) ٧۔ کیا آپ نہیں جانتے اللہ آسمان و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ (الحج : ٧٠) ٨۔ اللہ تعالیٰ کے لیے مثالیں بیان نہ کرو اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (النحل : ٧٤) ٩۔ اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ اللہ تمہارے دلوں میں پرورش پانے والے خیالوں سے بھی واقف ہے۔ (البقرۃ : ٢٣٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

4:۔ یعنی جب قرآن سنتے ہیں تو اس کے خلاف آپس میں سرگوشیاں کرنے لگتے ہیں۔ ” الذین ظلموا “ بظاھر ” اسروا “ کا فاعل معلوم ہوتا ہے۔ مگر قاعدہ کے مطابق فاعل ظاہر جمع کے لیے فعل مفرد آنا چاہئے تھا۔ مفسرین اور ائمہ نحو نے اس کے بہت سے جواب دئیے ہیں۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ موصول ” اسروا “ کا فاعل نہیں بلکہ (1) ” اسروا “ کی ضمیر ” الناس “ کی طرف راجع ہے اور ” الذین ظلموا “ اس سے بدل ہے (2) الذین کا فعل یقول اس سے پہلے محذوف ہے (3) الذین سے پہلے فعل اعنی محذوف ہے اور یہ اس کا مفعول ہے۔ (4) یہ مجرور ہے۔ اور مع صلہ الناس کی صفت ہے۔ یا اسروا کی واو علامت جمع ہے۔ علامت فاعل نہیں (من القرطبی والبحر وغیرہما) ۔ 5:۔ یہ مشرکین کا بہت بڑا اعتراض تھا۔ کہ یہ پیغمبر تو ہماری طرح بشر اور انسان ہے ہم اسے اللہ کا رسول کیوں مانیں۔ پیغمبر تو کوئی فرشتہ ہونا چاہئے تھا۔ ” اَفَتَاتُوْنَ السِّحْرَ الخ “ اور پھر بشر اور آدمی بھی وہ جو (معاذ اللہ) جادوگر ہے تو کیا تم عقلمند ہو کر اس کی باتیں مانو گے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ جو بشر ہو وہ رسول نہیں ہوسکتا۔ بلکہ رسول فرشتہ ہوتا ہے اور جو بشر ہو کر رسالت کا دعوی کرے اور معجزہ دکھائے وہ جادوگر ہوتا ہے۔ وکانوا یعقدون ان الرسول من عنداللہ لا یکون الا ملکا وان کل من ادعی الرسالۃ من البشر وجاء بمعجزۃ فھو ساحر و معجزتہ سحر (بحر ج ص 297) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

3 ان کے دل اور جانب مشغول ہوتے ہیں اور یہ ظالم لوگ چپکے چپکے سر گوشیاں کرتے ہیں کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ نہیں مگر تم ہی جیسا ایک آدمی ہے تم تو آنکھوں دیکھتے کیوں جادو میں پھنسنے کو آتے ہو یعنی سنتے وقت ان کے دل اور جانب متوجہ و مشغول ہوتے ہیں اور چپکے چپکے سازشیں کرتے ہیں اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی تم ہی جیسا ایک آدمی ہے یہ کسی خاص شخصیت کا مالک نہیں ہے اور نہ یہ پیغمبر ہے اور یہ جو کلام سناتے ہیں اس میں ایک قسم کی دلکشی ضرور ہے مگر وہ دل کشی جادو کی ہے اور یہ جادو آمیز کلام ہے لہٰذا تم دیکھتے بھالتے اور جانتے بوجھتے کیوں جادو میں مبتلا ہونے کو آتے ہو۔ مکہ میں کافروں کی قوت اگرچہ کمزور تھی لیکن پھر بھی پروپیگنڈہ کرنے والوں کی عام عادت یہی ہے کہ وہ چپکے چپکے لوگوں کو اپنا ہم خیال بناتے ہیں اس لئے فرمایا واسروالنجوی یعنی چپکے چپکے سرگوشیاں کرتے ہیں۔