Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 32

سورة الأنبياء

وَ جَعَلۡنَا السَّمَآءَ سَقۡفًا مَّحۡفُوۡظًا ۚ ۖ وَّ ہُمۡ عَنۡ اٰیٰتِہَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴿۳۲﴾

And We made the sky a protected ceiling, but they, from its signs, are turning away.

آسمان کو محفوظ چھت بھی ہم نے ہی بنایا ہے ۔ لیکن لوگ اسکی قدرت کے نمونوں پر دھیان ہی نہیں دھرتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَجَعَلْنَا السَّمَاء سَقْفًا مَّحْفُوظًا ... And We have made the heaven a roof, safe and well-guarded. means, covering the earth like a dome above it. This is like the Ayah, وَالسَّمَأءَ بَنَيْنَـهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ With Hands We constructed the heaven. Verily, We are able to extend the vastness of space thereof. (51:47) وَالسَّمَأءِ وَمَا بَنَـهَا By the heaven and Him Who built it. (91:5) أَفَلَمْ يَنظُرُواْ إِلَى السَّمَأءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَـهَا وَزَيَّنَّـهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ Have they not looked at the heaven above them, how We have made it and adorned it, and there are no rifts in it. (50:6) The building and making described here refers to the raising of the dome, as when the Messenger of Allah said, بُنِيَ الاِْسْلَمُ عَلَى خَمْس Islam is built on five. i.e., five pillars, which can only refer to a tent as familiar among the Arabs. ... مَّحْفُوظًا ... safe and well-guarded. means, high and protected from anything reaching it. Mujahid said, "Raised up." ... وَهُمْ عَنْ ايَاتِهَا مُعْرِضُونَ Yet they turn away from its signs. This is like the Ayah: وَكَأَيِّن مِّن ءَايَةٍ فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ And how many a sign in the heavens and the earth they pass by, while they are averse therefrom. (12:105) They do not think about how Allah has created it, so vast and high, and adorned it with heavenly bodies both stationary and moving by night and day, such as the sun which completes its circuit in one day and night, until it completes its allotted time, which no one knows except Allah, Who created it and subjugated it and directed its course. Then Allah says, drawing attention to some of His signs,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

32۔ 1 زمین کے لئے محفوظ چھت، جس طرح خیمے اور قبے کی چھت ہوتی ہے یا اس معنی میں محفوظ کہ ان کو زمین پر گرنے سے روک رکھا ہے، ورنہ آسمان زمین پر گرپڑیں تو زمین کا سارا نظام تہ وبالا ہوسکتا ہے۔ یا شیاطین سے محفوظ جیسے فرمایا (وَحَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ ) 45 ۔ الحجر :17)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٠] یعنی کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ایسی بیشمار نشانیاں موجود ہیں جن میں غور کرنے سے باسانی انسان اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ ان اشیاء کو پیدا کرنے والی اور ان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے والی ضرور کوئی نہ کوئی ہستی موجود ہے جو اتنی بااختیار، علیم اور مقتدر ہے کہ ان تمام اشیاء پر کنٹرول کر رہی ہے اور وہ ایک ہی ہوسکتی ہے اور یہ لوگ جو کسی نئی نشانی یا کسی نئے معجزہ کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان نشانیوں کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے اگر وہ توجہ دیتے تو پھر انھیں کسی معجزہ کے مطالبہ کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَجَعَلْنَا السَّمَاۗءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا : زمین کے چند عجائب کے ذکر کے بعد آسمان کے عجائب کی طرف متوجہ فرمایا۔ لوگوں کی بنائی ہوئی چھوٹی سی چھتیں بھی دیواروں یا ستونوں کے بغیر قائم نہیں رہ سکتیں اور پھر ان میں ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ان سے گرنے والی چیزیں کسی نہ کسی نقصان کا باعث بنتی ہیں، وہ جتنی دیر بھی رہیں آخر گر پڑتی ہیں۔ چور ان میں نقب لگا کر مال و متاع چرا کرلے جاتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے آسمان کو زمین کے لیے ایسی چھت بنایا جو ستونوں کے بغیر قائم ہے۔ دیکھیے سورة رعد (٢) اور لقمان (١٠) اور گرنے سے ہر طرح سے محفوظ ہے۔ دیکھیے سورة فاطر (٤١) اور سورة حج (٦٥) اس سے کوئی نقصان دہ چیز نیچے آنے کے بجائے زندگی کو قائم رکھنے والی چیزیں، مثلاً سورج کی تیز روشنی (ضیا) اور حرارت، چاند اور ستاروں کا نور، رات دن کا آنا جانا، بادل، بارش، ہوائیں، فرشتے اور اللہ تعالیٰ کی بیشمار نظر نہ آنے والی رحمتیں اترتی ہیں۔ پھر نقب تو بہت دور، راز چرانے کی کوشش کرنے والے شیاطین سے بھی شہاب ثاقب کے ذریعے سے اس کی حفاظت کا زبردست انتظام کیا گیا ہے۔ دیکھیے سورة حجر (١٦ تا ١٨) اور صافات (٦ تا ١٠) ۔ وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ : یعنی مشرک لوگ آسمان اور اس میں پائی جانے والی نشانیوں کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے، مثلاً سورج، چاند، ستارے، رات، دن، بارش، بادل، بجلی، ہوائیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بیشمار چیزیں۔ کیونکہ اگر وہ عبرت کی نظر سے ان تمام چیزوں کو دیکھیں تو یقین کرلیں کہ ان کا بنانے والا موجود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَجَعَلْنَا السَّمَاۗءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا۝ ٠ وَّہُمْ عَنْ اٰيٰـتِہَا مُعْرِضُوْنَ۝ ٣٢ سقف سَقْفُ البیت، جمعه : سُقُفٌ ، وجعل السماء سقفا في قوله تعالی: وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ [ الطور/ 5] ، وقال تعالی: وَجَعَلْنَا السَّماءَ سَقْفاً مَحْفُوظاً [ الأنبیاء/ 32] ، وقال : لِبُيُوتِهِمْ سُقُفاً مِنْ فِضَّةٍ [ الزخرف/ 33] ، والسَّقِيفَةُ : كلّ مکان له سقف، کالصّفّة، والبیت، والسَّقَفُ : طول في انحناء تشبيها بالسّقف ( س ق ف ) سقف البیت مکان کی چھت کر کہتے ہیں اس کی جمع سقف ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفاً مِنْ فِضَّةٍ [ الزخرف/ 33]( ہم ) ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنادیتے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ [ الطور/ 5] اور اونچی چھت کی ۃ قسم میں مراد آسمان ہے جیسا کہ آیت : ۔ وَجَعَلْنَا السَّماءَ سَقْفاً مَحْفُوظاً [ الأنبیاء/ 32] میں آسمان کو محفوظ چھت فرمایا ہے ۔ اور ہر وہ جگہ جو مسقف ہو اسے سقیفہ کہا جاتا ہے جیسے صفۃ ( چبوترہ ) مکان وغیرہ ۔ اور چھت کے ساتھ تشبیہ دے کر ہر اس لمبی چیز الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٢) اور آسمان کو زمین کے اوپر چھت بنایا جو گرنے سے بھی اور بذریعہ ستاروں کی مار کے شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٢ (وَجَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًاج وَّہُمْ عَنْ اٰیٰتِہَا مُعْرِضُوْنَ ) ” اس سے پہلے یہ مضمون سورة الحجر میں اس طرح بیان ہوا ہے : (وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّزَیَّنّٰہَا للنّٰظِرِیْنَ ۔ وَحَفِظْنٰہَا مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ ) ” اور ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور اسے مزین کردیا ہے دیکھنے والوں کے لیے اور ہم نے حفاظت کی ہے اس کی ہر شیطان مردود سے “۔ یعنی آسمان دنیا پر جو ستارے ہیں وہ باعث زینت بھی ہیں ‘ لیکن دوسری طرف یہ شیاطین جن کے لیے میزائل سنٹر بھی ہیں۔ ان میں سے جو کوئی بھی اپنی حدود سے تجاوز کر کے غیب کی خبروں کی ٹوہ میں عالم بالا کی طرف جانے کی کوشش کرتا ہے اس پر شہاب ثاقب کی شکل میں میزائل داغا جاتا ہے اور یوں ان شیاطین کی پہنچ کے حوالے سے آسمان کو سَقْفًا مَّحْفُوْظًا کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اب تک کی سائنسی تحقیقات کے حوالے سے سَقْفًا مَّحْفُوْظًا کے دو پہلو اور بھی ہیں۔ ان میں سے ایک تو O-Zone Layer کی فراہم کردہ حفاظتی چھتری ہے جس نے پورے کرۂ ارض کو ڈھانپ رکھا ہے اور یوں سورج سے نکلنے والی تمام مضر شعاعوں کو زمین تک آنے سے روکنے کے لیے یہ فلٹر کا کام کرتی ہے (ماحولیاتی سائنس کے ماہرین آج کل اس کے بارے میں بہت فکر مند ہیں کہ مختلف انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے اسے نقصان پہنچ رہا ہے اور یہ بتدریج کمزور ہوتی جا رہی ہے) ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری فضا (زمین کے اوپر کرۂ ہوائی ) بھی حفاظتی چھت کا کام دیتی ہے۔ خلا میں تیرنے والے چھوٹی بڑی جسامتوں کے بیشمار پتھر (یہ پتھر یا پتھر نما ٹھوس اجسام مختلف ستاروں یا سیاروں میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں ہر وقت خلا میں بکھرے رہتے ہیں) جب کرۂ ہوائی میں داخل ہوتے ہیں تو اپنی تیز رفتاری کے سبب ہوا کی رگڑ سے جل کر فضا میں ہی تحلیل ہوجاتے ہیں اور یوں زمین ان کے نقصانات سے محفوظ رہتی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

33. For explanation, see (Surah Al-Hijr, E. Ns 8 and 10-12). 34. That is, those signs which are in the sky.

سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :33 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ الحجر ، حواشی نمبر 8 ، 10 ، 110 ۔ 120 ۔ سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :34 یعنی ان نشانیوں کی طرف جو آسمان میں ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

16: یعنی وہ گرنے اور ٹوٹنے پھوٹنے سے بھی محفوظ ہے، اور شیطانوں کی دست برد سے بھی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:32) ایتھا۔ اس کی نشانیاں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب السماء کی طرف راجع ہے ۔ ایتھا ای ما خلق اللہ فیھا من الشمس والقمر والنجوم وکیفیۃ حرکا تہافی افلاکھا ومطالعھا ومغاربھا وغیرہم۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آسمانوں میں سورج۔ چاند۔ ستارے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ پھر ان کے افلاک میں دائمی گھومتے رہنا ان کے طلوع ان کے غروب کی کیفیات وغیرہم۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 امام رازی لکھتے ہیں کہ پہلی تشریح زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے گو دوسری تشریح بھی غلط نہیں ہے۔ دیکھیے (سورج حج 65، فاطر 41، حجرات :17) 3 جیسے چاند سورج اور تارے وغیرہ

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی محفوظ بنایا گرن سے بھی، ٹوٹنے سے بھی، شیاطین کے استراق اخبار سے بھی اور یہ محفوظیت دہر طویل تک رہے گی، ابدیت کے ساتھ موصوف نہیں۔ 6۔ یعنی ان میں تدبر نہیں کرتے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے اِلٰہ ہونے کا چھٹا، ساتواں اور آٹھواں ثبوت۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو زمین والوں کے لیے محفوظ چھت بنایا۔ اس کے باوجود لوگ اپنے رب کی نشانیوں سے اعراض کرتے ہیں۔ اسی نے رات اور دن پیدا کیے، چاند اور سورج بنائے جو فضا میں تیر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو کسی ستون کے بغیر چھت بنایا یہ ایسی مضبوط چھت ہے کہ نامعلوم کتنے عرصہ سے قائم ہے اور اس وقت تک قائم رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ اسے قائم رکھے گا اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھنے والے کو بالکل ہموار، صاف اور شفاف نظر آتی ہے۔ نہ اس کا رنگ بدلا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی دراڑ اور جھکاؤ واقع ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ اس نے سات آسمان اوپر نیچے بنائے دیکھنے والا اس کی آفرینش میں کوئی نقص نہیں پاسکتا پھر آنکھ اٹھا کر دیکھ۔ کیا تجھے اس میں کوئی شگاف اور دراڑ نظر آتی ہے ؟ اس نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین فرمایا اور اس میں ستارے بنائے جو شیاطین کے لیے کوڑوں کا کام دیتے ہیں۔ اس نے شیاطین کے لیے جلا دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (الملک : ٣۔ ٥) اُسی نے رات اور دن بنائے۔ سورج اور چاند اپنے اپنے مدار میں چل رہے ہیں۔ اگر ” اللہ “ رات کو قیامت تک طویل کر دے تو اس کے سوا کسی کے پاس طاقت نہیں کہ جو دن کی روشنی لاسکے لیکن اس کے باوجود لوگ حقیقت سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اگر اللہ تعالیٰ دن کو قیامت تک لمبا کر دے تو اس کے سوا کسی کے پاس قوت نہیں جو رات لے آئے جس میں تم سکون پاتے ہو لیکن لوگ غور نہیں کرتے۔ (القصص : ٧١۔ ٧٢) چاند اور سورج کی طرف دیکھو حقیقتاً کوئی نہیں جانتا کتنی مدت سے رواں دواں ہیں یہ اس وقت تک طلوع اور غروب ہوتے رہیں گے جب تک ان کے بنانے والی ذات ان کو رواں دواں رہنے کا حکم دے گی۔ جو نہی اس کا حکم ہوگا کہ رک جاؤ تو سورج بےحرارت اور چاند بےنور ہو کر زمین پر گرپڑے گا۔ لیکن جب تک انھیں چلتے رہنے کا حکم ہے اس وقت تک سورج میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ چاند کو پالے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے ہر کوئی اپنے مدار میں گھوم رہا ہے۔ (یٰس : ٤٠) (عَنْ أَبِی ذَرٍّ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لأَبِی ذَرٍّ حینَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ تَدْرِی أَیْنَ تَذْہَبُ قُلْتُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّہَا تَذْہَبُ حَتَّی تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ ، فَتَسْتَأْذِنَ فَیُؤْذَنَ لَہَا، وَیُوشِکُ أَنْ تَسْجُدَ فَلاَ یُقْبَلَ مِنْہَا، وَتَسْتَأْذِنَ فَلاَ یُؤْذَنَ لَہَا، یُقَالُ لَہَا ارْجِعِی مِنْ حَیْثُ جِءْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِہَا، فَذَلِکَ قَوْلُہُ تَعَالَی (وَالشَّمْسُ تَجْرِی لِمُسْتَقَرٍّ لَہَا ذَلِکَ تَقْدِیرُ الْعَزِیزِ الْعَلِیمِ ) [ رواہ البخاری : باب صِفَۃِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ] ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے جب سورج غروب ہوتا ہے تو کہاں جاتا ہے ؟ میں نے کہا ‘ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم ہے۔ آپ نے فرمایا سورج عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے۔ اسے اجازت مل جاتی ہے قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے گا اور اس کا سجدہ قبول نہ ہو وہ طلوع ہونے کی اجازت طلب کرے گا اس کو اجازت نہ ملے۔ اسے حکم ہو کہ جدھر سے آیا اسی طرف سے طلوع ہوجا چناچہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سورج اپنے مستقر کی طرف چلا جاتا ہے آپ نے فرمایا اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ مُکَوَّرَانِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ) [ رواہ البخاری : باب صِفَۃِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن سورج اور چاند کو لپیٹ لیا جائے گا۔ “ مسائل ١۔ ” اللہ “ نے ہی رات اور دن بنائے۔ ٢۔ ” اللہ “ نے ہی چاند اور سورج بنا کر ان کے لیے مدار قائم کیے۔ ٣۔ چاند اور سورج اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ تفسیر بالقرآن رات اور دن کا نظام : ١۔ دن اور ات کے مختلف ہونے اور زمین و آسمان کی پیدائش میں نشانیاں ہیں۔ (یونس : ٦) ٢۔ آسمانوں و زمین کی پیدائش، دن اور رات کی گردش، سمندر میں کشتیوں کے چلنے، آسمان سے بارش نازل ہونے، بارش سے زمین کو زندہ کرنے، چوپایوں کے پھیلنے، ہواؤں کے چلنے اور بادلوں کے مسخر ہونے میں (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں۔ (البقرۃ : ١٦٤) ٤۔ رات اور دن کے مختلف ہونے، آسمان سے رزق اتارنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (الجاثیۃ : ٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وجعلنا فیھا ۔۔۔۔۔۔۔ یھتدون (١٢ : ١٣) ” اور اس میں کشادہ راہیں بنا دیں شاید کہ لوگ اپنا راستہ معلوم کریں “۔ پہاڑروں کے درمیان کشادہ راہیں اور وادیاں ہیں تاکہ لوگ انمیں اپنے راستے متعین کریں۔ یہاں وادیوں اور شاہراہوں کا پہلا مفہوم تو یہ ہے کہ لوگ اس میں چلنے پھرنے کے راستے معلوم کریں لیکن اس میں ایک خفیہ سا اشارہ اس طرف بھی ہے کہ ان ظاہری راستوں سے وہ راہ ہدایت بھی معلوم کریں کیونکہ یہ پوری کائنات انسان کے لیے راہ ہدایت فراہم کرتی ہے۔ وجعلنا السمآء سقفا محفوظا (١٢ : ٢٣) ” اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا “۔ آسمان سے مراد ہر وہ چیز ہے جو اوپر نظر آئے۔ ہم جب سر کی سمت دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنے اوپر نیلی چھت نظر آتی ہے۔ قرآن کریم اسے سقف محفوظ کہتا ہے۔ یہ سقف اس کائنات کے نہایت ہی حساس نظام کی حفاظت کررہا ہے اور یہ سقف ان ناپاکیوں سے بھی محفوظ ہے اور ان کمزوریوں سے بھی محفوظ ہے جو زمین میں ہیں۔ اوپر کا نظام اس طرح محفوظ ہے کہ آیات قرآنی نہایت ہی حفاظت سے اترتی ہیں۔ وھم عن ایتھا معرضون (١٢ : ٢٣) ” مگر یہ لوگ کائنات کی نشانیوں کی طرف توجہ نہیں دیتے “۔ حالانکہ عقل کے لیے یہ ایک وسیع میدان ہے کہ کائنات میں آیات الہیہ تلاش کرے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

32 اور ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ یہ اس کی نشانیوں سے اعراض اور روگردانی کرتے ہیں۔ یعنی آسمان ایک چھت کی طرح معلوم ہوتا ہے نہ ٹوٹتا ہے نہ پرانا ہوتا ہے نہ اس میں کوئی شگاف اور ڈراڑ ہے یغیر کسی ستون کے قائم ہے ہر طرح سے محفوظ ہے کسی شیطان رجیم کو اس میں جانے کی ہمت نہیں اس کی نشانیاں یہ کہ اندھیرا اجالا رات اور دن کا تغیر و تبدل ان باتوں پر دھیان نہیں دیتے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بچائو کی چھت یعنی کوئی اس کو توڑ نہیں سکتا اور اس کے نمونے تارے اور چاند اور رات اور دن 11