Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 37

سورة الأنبياء

خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ ؕ سَاُورِیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ﴿۳۷﴾

Man was created of haste. I will show you My signs, so do not impatiently urge Me.

انسان جلد باز مخلوق ہے میں تمہیں اپنی نشانیاں ابھی ابھی دکھاؤں گا تم مجھ سے جلد بازی نہ کرو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Man is created of haste. I will show you My Ayat. So ask Me not to hasten (them).

جلدباز انسان ابوجہل وغیرہ کفار قریش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی ہنسی مذاق شروع کردیتے اور آپ کی شان میں بے ادبی کرنے لگتے ۔ کہنے لگتے کہ لو میاں دیکھ لو ، یہی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں ۔ اللہ کے منکر ، رسول اللہ کے منکر اور آیت میں ان کے اسی کفر کا بیان کرکے فرمایا گیا ہے آیت ( اِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْلَآ اَنْ صَبَرْنَا عَلَيْهَا ۭ وَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ حِيْنَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِيْلًا 42؀ ) 25- الفرقان:42 ) یعنی وہ تو کہیے ہم جمے رہے ورنہ اس نے تو ہمیں ہمارے پرانے معبودوں سے برگشتہ کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی ۔ خیر انہیں عذاب کے معائنہ سے معلوم ہوجائے گا کہ گمراہ کون تھا ؟ انسان بڑا جلدباز ہے ۔ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کی پیدائش کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنا شروع کیا شام کے قریب جب ان میں روح پھونکی گئی سر آنکھ اور زبان میں جب روح آگئی تو کہنے لگے الٰہی مغرب سے پہلے ہی میری پیدائش مکمل ہوجائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تمام دنوں میں بہتر وافضل دن جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے اسی میں جنت میں داخل ہوئے اسی میں وہاں سے اتارے گئے اسی میں قیامت قائم ہوگی اسی دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت جو بندہ نماز میں ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو کچھ طلب کرے اللہ اسے عطا فرماتا ہے آپ نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کرکے بتلایا کہ وہ ساعت بہت تھوڑی سی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مجھے معلوم ہے کہ وہ ساعت کون سی ہے وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے اسی وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی ۔ پہلی آیت میں کافروں کی بدبختی کا ذکر کرکے اس کے بعد ہی انسانی عجلت کا ذکر اس حکمت سے ہے کہ گویا کافروں کی سرکشی سنتے ہی مسلمان کا انتقامی جذبہ بھرک اٹھتا ہے اور وہ جلد بدلہ لینا چاہتا ہے اس لئے کہ انسانی جبلت میں جلدبازی ہے ۔ لیکن عادت الٰہی یہ ہے کہ وہ ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں ۔ اسی لئے فرمایا کہ میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھانے والا ہوں کہ عاصیوں پر کس طرح سختی ہوتی ہے ۔ میرے نبی کو مذاق میں اڑنے والوں کی کس طرح کھال ادھڑتی ہے تم ابھی دیکھ لوگے ۔ جلدی نہ مچاؤ دیر ہے اندھیر نہیں مہلت ہے بھول نہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

37۔ 1 یہ کفار کے متعلق عذاب کے جواب میں ہے کہ چونکہ انسان کی فطرت میں عجلت اور جلد بازی ہے اس لئے وہ پیغمبروں سے بھی جلدی مطالبہ کرنے لگ جاتا ہے کہ اپنے اللہ سے کہہ کہ ہم پر فوراً عذاب نازل کروا دے۔ اللہ نے فرمایا جلدی مت کرو، میں عنقریب اپنی نشانیاں تمہیں دکھاؤں گا۔ ان نشانیوں سے مراد عذاب بھی ہوسکتا ہے اور صداقت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دلائل وبراہین بھی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٥] یعنی جلد بازی انسان کی سرشت میں داخل ہے۔ وہ چاہتا یہ ہے کہ جو خواہش اس کے دل میں پیدا ہوئی ہے وہ جلد از جلد وقوع پذیر ہوجائے۔ خواہ یہ خواہش اچھی ہو یا بری۔ اس آیت میں چونکہ انسان کی فطرت کا ذکر ہوا ہے۔ لہذا اس آیت کے مخاطب مسلمان بھی ہوسکتے ہیں اور کافر بھی۔ بات یہ تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعوت اسلام کے سلسلہ میں قرآن میں مذکور وعید سنائی کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرو گے، ان کا مذاق اڑاؤ گے یا یہ راستہ روکو گے تو تم پر اللہ کا عذاب آئے گا۔ جیسا کہ سابقہ اقوام پر آچکا ہے۔ اب کافر یہ سوچتے تھے کہ اس دعوت کا علی الاعلان انکار بھی کر رہے ہیں اور صرف انکار ہی نہیں ان مسلمانوں پر سختیاں بھی کر رہے ہیں۔ اور اتنی مدت گزر چکی ہے تو ہمارا تو بال بھی بیکا نہیں ہوا۔ لہذا اب وہ بےباک ہو کر کہنے لگے کہ یہ روز روز کی تکرار چھوڑو اور جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے ؟ اور ممکن ہے کہ بعض مسلمانوں کو بھی یہ خیال آتا ہو کہ ان ظالموں پر اگر فوراً عذاب آجائے تو کیا ہی اچھا ہو۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کہ ہر کام کا میرے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے اور وقت معین ہے۔ لہذا اپنے وقت تمہیں ایسی سب نشانیاں دکھلا دی جائیں گی اور ان نشانیوں کے وقوع پذیر ہونے کی داغ بیل آپ کے واقعہ ہجرت سے ہی پڑگئی تھی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ : کسی چیز کے وقت سے پہلے اس کا ارادہ عجلہ (جلد بازی) ہے، یعنی جلد بازی انسان کی فطرت میں شامل ہے، وہ پیدا ہی جلد باز کیا گیا، جیسا کہ فرمایا : (ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا) [ بني إسرائیل : ١١ ] ” اور انسان ہمیشہ سے بہت جلد باز ہے۔ “ ” جلد بازی سے پیدا کیا گیا ہے “ سے مراد مبالغہ ہے، جیسے فرمایا : (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ) [ الروم : ٥٤ ] ” اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ضعف سے پیدا کیا۔ “ سَاُورِيْكُمْ اٰيٰتِيْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ : ” فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ “ اصل میں ” فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِيْ “ ہے۔ آیات کے آخری حروف کی موافقت کے لیے نون پر کسرہ باقی رکھ کر ” یاء “ حذف کردی گئی۔ اس آیت کی تفسیر دو طرح سے کی گئی ہے، ایک یہ کہ کفار کی شدید مخالفت اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑانے پر مسلمان سخت غم زدہ اور پریشان تھے اور کفار پر جلد از جلد عذاب کے منتظر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عمل کو جلد بازی قرار دے کر تسلی دی کہ میں تمہیں اپنی نشانیاں ضرور دکھاؤں گا، مگر ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے، اس سے پہلے اس کا مطالبہ مت کرو۔ نشانیوں سے مراد کفار پر آنے والی آفات و مصائب ہیں، مثلاً بدر، احد، خندق، حدیبیہ اور فتح مکہ میں کفار کی شکست اور ان کے اقتدار کا خاتمہ۔ اس مطلب کا قرینہ یہ ہے کہ کفار کے عذاب جلدی لانے کے مطالبے کا ذکر اگلی آیت میں ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان کی سرشت میں جلد بازی ہے، وہ کسی سے ناراض ہو اور اس کے پاس طاقت ہو تو وہ فوراً انتقام لیتا ہے۔ اپنی اس سرشت کے مطابق انھوں نے اللہ تعالیٰ کے متعلق بھی یہ خیال کیا کہ اگر اس کے پاس انتقام کی طاقت ہوتی تو وہ فوراً عذاب نازل کردیتا، چناچہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑاتے اور عذاب میں دیر کی وجہ سے بار بار اس کے جلد لانے کا مطالبہ کرتے۔ فرمایا، تم عذاب کے جلدی آنے کا مطالبہ کیوں کرتے ہو ؟ اب تک جو ہم نے تمہیں ڈھیل دی ہے اس میں ہماری کئی حکمتیں ہیں، جن میں سے تم پر حجت پوری کرنا اور تم میں سے کئی لوگوں کا اسلام قبول کرنا بھی ہے۔ اس سے تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہمیں تمہاری کارستانیاں اور شرارتیں گوارا ہیں ؟ ذرا ٹھہرو ! ابھی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم تم سے کیسے انتقام لیتے ہیں۔ دنیا میں بھی قتل ہو گے اور ذلت و رسوائی برداشت کرنا پڑے گی اور آخرت میں بھی تمہیں جہنم کی آگ کا ایندھن بنایا جائے گا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Haste is undesirable خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ (Man is made of haste. - 21:37). عَجَل (&ajal) means haste or hurry. The word is used in situations when one desires things to happen before their time, and this trait is bad by its very nature. In another place also the word is used to denote human weakness. For instance وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا i.e. Man is prone to haste - 17:11, meaning that he is very impatient. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) went to the mount Tur in a hurry leaving his people behind, he was censured by Allah Ta` ala. Prophets (علیہم السلام) and the devout people who try to excel each other in the performance of righteous deeds have been commended and their zeal to do good deeds does not constitute haste and hurry because they do not try to do these deeds before their time. In fact they do the deeds on time, but try to excel each other in quantity and quality. Here خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ (Man is made of haste - 21:37) means that haste and hurry is one of the many weaknesses which are inherent in human nature. When a man is identified by some intrinsic trait of his character, me Arabs used to say that he is &made of that trait. For instance a short tempered man would be called a &man made of anger&. سَأُرِ‌يكُمْ آيَاتِي فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ (I shall show you my signs -.21:37) Here the word آیات (signs) refers to those miracles and events which bear evidence to the honesty of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the truth of his message. (Qurtubi) These miracles also occurred during the battle of Badr (غزوہ بدر) when the Muslims who were considered weak and worthy of contempt gained a great victory over their enemies.

جلد بازی مذموم : خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ، عجل بمعنے عجلت اور جلدی کے ہے جس کی حقیقت کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے طلب کرنا ہے اور یہ وصف فی نفسہ مذموم ہے قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی اس کو انسانی کمزوری کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا یعنی انسان بڑا جلد باز ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب کوہ طور پر اپنی قوم سے آگے بڑھ کر حق تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو وہاں بھی اس عجلت پر عتاب ہوا اور انبیاء و صلحاء کے بارے میں جو مسارعت اور مسابقت فی الخیرات کو بطور مدح کے ذکر کیا گیا ہے وہ جلد بازی اور عجلت کے مفہوم میں داخل نہیں۔ کیونکہ وہ وقت سے پہلے کسی چیز کی طلب نہیں بلکہ وقت پر تکثیر خیرات و حسنات کی کوشش ہے واللہ اعلم اور خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی طبیعت میں جس طرح کچھ دوسری کمزوریاں رکھ دی گئی ہیں ان میں سے ایک کمزوری عجلت کی بھی ہے اور جو چیز طبیعت اور جبلت میں داخل ہوتی ہے عرب اس کو اسی عنوان سے تعبیر کرتے ہیں کہ یہ شخص اس چیز سے پیدا کیا گیا جیسے کسی کے مزاج میں غصہ غالب ہوگا تو کہا جائے گا کہ یہ غصہ کا بنا ہوا آدمی ہے۔ سَاُورِيْكُمْ اٰيٰتِيْ ، اس میں آیات سے مراد وہ معجزات اور حالات ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدق و حقانیت پر شہادت دیتے ہیں (قرطبی) جیسے غزوہ بدر وغیرہ میں یہ نشانیاں کھلے طور پر ظاہر ہوئیں اور انجام کار ان مسلمانوں کا غلبہ سب کی آنکھوں نے دیکھ لیا جن کو سب سے زیادہ ضعیف و ذلیل سمجھا جاتا تھا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ۝ ٠ۭ سَاُورِيْكُمْ اٰيٰتِيْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ۝ ٣٧ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ عجل العَجَلَةُ : طلب الشیء وتحرّيه قبل أوانه، وهو من مقتضی الشّهوة، فلذلک صارت مذمومة في عامّة القرآن حتی قيل : «العَجَلَةُ من الشّيطان» «2» . قال تعالی: سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] ، ( ع ج ل ) العجلۃ کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے ہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا اس کا تعلق چونکہ خواہش نفسانی سے ہوتا ہے اس لئے عام طور پر قرآن میں اس کی مذمت کی گئی ہے حتی کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا العجلۃ من الشیطان ( کہ جلد بازی شیطان سے ہے قرآن میں ہے : سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤ نگا لہذا اس کے لئے جلدی نہ کرو ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٧) انسان جلدی ہی کے خمیر کا بنا ہوا ہے یا یہ کہ انسان سے مراد نضر بن حارث ہے کہ وہ جلدی ہی کے خمیر کا بنا ہوا ہے اسی بنا پر نزول عذاب کے بارے میں جلدی کرتا ہے۔ ہم عنقریب اپنی وحدانیت کے دلائل آفاق میں دکھائے دیتے ہیں یا یہ کہ اپنی عذاب بالسیف کی نشانی عنقریب بدر کے دن دکھائے دیتے ہیں سو تم وقت آنے سے پہلے نزول عذاب کے بارے میں جلدی مت کرو ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٧ (خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ط) ” یعنی انسان کی خلقت میں عجلت پسندی رکھی گئی ہے۔ عجلت پسندی انسان کی سرشت میں داخل ہے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ انسان کی ذات یا شخصیت کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ مادی ‘ جسمانی یا حیوانی ہے جس کی تخلیق زمین یعنی مٹی سے ہوئی ہے۔ اس مادی وجود میں بہت سی کمزوریاں اور کوتاہیاں رکھی گئی ہیں۔ سورة النساء کے یہ الفاظ اس حقیقت پر شاہد ہیں : (وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا ) کہ بنیادی طور پر انسان کمزور اور ضعیف پیدا کیا گیا ہے۔ انسانی ذات کا دوسرا پہلو روحانی ہے۔ انسانی روح چونکہ نور سے پیدا کی گئی ہے اس لیے اس کا یہ پہلو بہت بلند اور ارفع ہے۔ اسی پہلو کے بارے میں سورة التین میں فرمایا گیا ہے : (لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ) ” ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے “۔ گویا اصل انسان تو وہ روح ہی ہے جو انسانی تخلیق کے مرحلہ اوّل (وضاحت کے لیے الانعام : ٩٤ کی تشریح ملاحظہ ہو) میں اَحْسَنِ تَقْوِیْم کی کیفیت میں پیدا کی گئی۔ اس ” نور “ کو پھر اس انسانی جسم کے اندر رکھا گیا جو مٹی سے بنا ہے۔ اور اسی وجہ سے اس میں بہت سی کمزوریاں پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ فطری اور جبلی طور پر عجلت پسند ہے۔ (سَاُورِیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ ) ” کیا عجب کہ تمہارے عذاب کے بارے میں وعیدوں کے پورا ہونے کا وقت قریب ہی آ لگا ہو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

41. This is not the literal translation of the text; its purport according to the Arabic usage is: Man is a hasty and impatient creature by his very nature. The same thing has been stated in (Surah Al-Isra, Ayat 11): Man is very hasty and impatient. 42. From the succeeding sentences it is obvious that signs here stands for the things that have been mentioned therein, the threat of the scourge of Allah, Resurrection and Hell. They made fun of these, as if to say: This man threatens us with the scourge of Allah and the torment of the Day of Resurrection if we deny him and that we shall become fuel of Hell, but nothing of the sort has befallen us. We are as strong as ever and nothing seems to be happening.

سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :41 اصل میں : خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کا لفظی ترجمہ ہے انسان جلد بازی سے بنایا گیا ہے ، یا پیدا کیا گیا ہے ۔ لیکن یہ لفظی معنی اصل مقصود کلام نہیں ہیں ۔ جس طرح ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں فلاں شخص عقل کا پتلا ہے ، اور فلاں شخص حرفوں کا بنا ہوا ہے ، اسی طرح عربی زبان میں کہتے ہیں کہ وہ فلاں چیز سے پیدا کیا گیا ہے ، اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ فلاں چیز اس کی سرشت میں ہے ۔ یہی بات جس کو یہاں : خُلِقَ الْاِنْسَنُ مِنْ عَجَلٍ کہہ کر ادا کیا گیا ہے ، دوسری جگہ : وَکَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا ، انسان جلد باز واقع ہوا ہے ، ( بنی اسرائیل آیت 11 ) کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے ۔ سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :42 بعد کی تقریر صاف بتا رہی ہے کہ یہاں نشانیوں سے کیا مراد ہے ۔ وہ لوگ جن باتوں کا مذاق اڑاتے تھے ان میں سے ایک عذاب الہٰی ، اور قیامت اور جہنم کا مضمون بھی تھا ۔ وہ کہتے تھے کہ یہ شخص آئے دن ہمیں ڈراوے دیتا ہے کہ میرا انکار کرو گے تو خدا کا عذاب ٹوٹ پڑے گا ، اور قیامت میں تم پر یہ بنے گی اور تم لوگ یوں جہنم کے ایندھن بنائے جاؤ گے ۔ مگر ہم روز انکار کرتے ہیں اور دندناتے پھر رہے ہیں ۔ نہ کوئی عذاب آتا دکھائی دیتا ہے اور نہ کوئی قیامت ہی ٹوٹی پڑ رہی ہے ۔ اسی کا جواب ان آیات میں دیا گیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

20: جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے تھے تو یہ لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ عذاب ابھی لے آؤ۔ ان آیتوں میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:37) خلق من عجل۔ العجلۃ کسی چیز کو اس کے وقت مقررہ سے پہلے طلب کرنے کو کہتے ہیں۔ اس کا تعلق چونکہ انسان کی خواہش نفسانی سے ہوتا ہے اس لئے عام طور پر قرآن میں اس کی مذمت کی گئی ہے۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث مبارک ہے کہ :۔ العجلۃ من الشیطن۔ جلد بازی شیطان کا فعل ہے (جامع ترمذی) اھل عرب کا محاورہ ہے کہ جو وصف کسی میں بدرجہ اتم پائی جائے اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو اس سے پیدا ہوا ہے۔ مثلاً جو بڑا غصیل ہو اسے کہتے ہیں خلق من غضب۔ اس لئے خلق من عجل اس کو کہا جائے گا جو بہت جلد باز ہو۔ لہٰذا اس کے معنی ہوئے کہ انسان کی سرشت میں ہی جلد بازی ہے۔ وہ فطرتا جلد باز واقع ہوا ہے۔ لا تستعجلون۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر اصل میں لا تستعجلونی تھا یا کو گرادیا گیا۔ تم مجھ سے جلدی کا مطالبہ کا مت کرو۔ استعجال (استفعال) مصدر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی جلد بازی اس کی سرشت بن چکی ہے۔ (اسراء 11)8 قدرت کی نشانیوں سے مراد جیسا کہ آئندہ مضمون سے معلوم ہوتا ہے۔ انتقامی کارروئیاں میں یعنی تم عذاب کے جلدی آنے کا مطالبہ کیوں کرتے ہو ؟ اب تک جو ہم نے تمہیں ڈھیل دی ہے اس سے تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہمیں تمہاری کارستانیاں اور شرارتیں گوارا ہیں۔ ذرا ٹھہرو ! ابھی تمہیں معلوم ہو ائے گا کہ ہم تم سے کیسے انتقام لیتے ہیں۔ دنیا میں بھی قتل ہو گے اور ذلت و رسوائی برداشت کرنی پڑے گی اور آخرت میں بھی تمہیں جہنم کی آگ کا ایندھن بنایا جائے۔ (کبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

9۔ یعنی جلدی مثل اس کے اجزاء عنصریہ کے ہے، اس واسطے یہ لوگ عذاب جلدی مانگتے ہیں، اور اس میں دیر ہونے کو دلیل عدم وقوع کی سمجھتے ہیں، لیکن اے کافرو ! یہ تمہاری غلطی ہے کیونکہ اس کا وقت معین ہے، سو ذرا صبر کرو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفار نہ صرف رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اور آپ کی دعوت کو مذاق کا نشانہ بناتے تھے بلکہ وہ عذاب کے بارے میں بھی جلد بازی کا مظاہرہ کرتے بلکہ اسے بھی مذاق سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بطور امتحان ہر انسان میں کچھ طبعی کمزوریاں رکھی ہیں تاکہ اس کی آزمائش کی جائے۔ ان کمزوریوں میں عجلت پسندی بھی ہے۔ جو ہر انسان میں کسی نہ کسی حد تک پائی جاتی ہے۔ خوشی، غمی، کامیابی، ناکامی، تنگدستی اور کشادگی، اقتدار اور اختیار ملنے پر انسان کسی نہ کسی موقع پر ضرور جلد باز ہوجاتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ ایماندار خوشی کے موقع پر شکر اور غم کے موقع پر صبر کرکے اس کمزوری پر قابو پالیتا ہے۔ لیکن جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا وہ ان مواقعوں پر جلد بازی کا مظاہرہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ رسول اکرم جب کفار اور مشرکین کو ان کے کفر و شرک کے انجام سے ڈراتے تو وہ لوگ اپنے خوفناک انجام سے ڈرنے کی بجائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عذاب کا مطالبہ کرتے کہ جس عذاب سے ہمیں صبح و شام ڈرایا جاتا ہے اس کے آنے میں آخر کیا رکاوٹ ہے ؟ اے محمد ! تم سچے ہو تو یہ وعدہ اب تک پورا کیوں نہیں ہوا ؟ بسا اوقات ان کے مظالم اور پراپیگنڈہ سے متاثر ہو کر مسلمان بھی یہ سوچتے کہ ان لوگوں پر عذاب کیوں نہیں آتا ؟ یہاں مسلمانوں کو تسلّی دینے کے ساتھ کفار کو انتباہ کیا گیا ہے کہ جلد بازی کا مظاہرہ مت کرو۔ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائے گا یعنی جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو بہت جلد اسے اپنے سامنے پاؤ گے۔ (اَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الأَنَاۃُ مِنَ اللَّہِ وَالْعَجَلَۃُ مِنَ الشَّیْطَانِ ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی التَّأَنِّی وَالْعَجَلَۃِ ] ” حضرت سہل بن سعد اپنے باپ سے وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تحمل مزاجی اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ أَنَّ یَہُودَ أَتَوُا النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالُوا السَّامُ عَلَیْکُمْ فَقَالَتْ عَاءِشَۃُ عَلَیْکُمْ ، وَلَعَنَکُمُ اللَّہُ ، وَغَضِبَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ قَالَ مَہْلاً یَا عَاءِشَۃُ ، عَلَیْکِ بالرِّفْقِ ، وَإِیَّاکِ وَالْعُنْفَ وَالْفُحْشَ قَالَتْ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قالَ أَوَلَمْ تَسْمَعِی مَا قُلْتُ رَدَدْتُ عَلَیْہِمْ ، فَیُسْتَجَابُ لِی فیہِمْ ، وَلاَ یُسْتَجَابُ لَہُمْ فِیَّ ) [ باب لَمْ یَکُنِ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا ] ” حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ یہودی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے انہوں نے آپ کو مخاطب کر کے کہا السام علیکم یعنی تم پر موت واقع ہو۔ حضرت عائشہ نے جواباً کہا تم پر بھی موت واقع ہو، اللہ تعالیٰ تم پر لعنت کرے اور اپنا غضب نازل فرمائے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عائشہ ! نرمی اختیار کرو سختی اور بد کلامی نہ کرو حضرت عائشہ (رض) نے عرض کی اے اللہ کے نبی آپ نے ان کی بات نہیں سنی آپ نے فرمایا جو میں نے ان کو جواب دیا ہے آپ نے وہ نہیں سنا۔ میری بات ان کے بارے میں قبول ہوگئی ہے ان کی بات میرے بارے میں قبول نہیں ہوئی۔ “ مسائل ١۔ انسان بنیادی طور پر جلد باز ہے۔ ٢۔ اللہ اور آخرت کا منکر ضرور جلد باز ہوتا ہے۔ ٣۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کفار بار بار عذاب کا مطالبہ کرتے تھے۔ تفسیر بالقرآن انسان کی طبعی کمزوریاں : ١۔ انسان جلد باز ہے۔ (بنی اسرائیل : ١١) ٢۔ انسان فطرتاً جلد باز ہے۔ (الانبیاء : ٣٧) ٣۔ لوگ عذاب طلب کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔ (الحج : ٤٧) ٤۔ کیا وہ ہمارے عذاب کے معاملے میں جلدی کرتے ہیں۔ (الشعرا : ٢٠٤) ٥۔ میں عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا سو جلدی نہ کرو۔ (الانبیاء : ٣٧) ٦۔ اللہ کا حکم آنے والا ہے جلدی نہ کرو۔ (النحل : ١) ٧۔ یقیناً انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ ( العادیات : ٦) ٨۔ اکثر انسان رب کے ناشکرے ہیں۔ ( بنی اسرائیل : ٨٩) ٩۔ انسان دل کا تنگ ہے۔ ( بنی اسرائیل : ١٠٠) ١٠۔ یہ لوگ عذاب الٰہی میں جلدی کرتے ہیں حالانکہ اس سے پہلے عذاب آنے کے واقعات گزرچکے ہیں۔ (الرعد : ٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

خلق الانسان۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین ” انسان پیدا ہی جلد بازی سے کیا گیا ہے۔ عجلت اس کے مزاج اور اس کی تخلیق میں رکھی گئی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنی نظریں اس پر لگائے رکھتا ہے کہ مستقبل کے پردے کے پیچھے سے کیا نمودار ہوتا ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ مستقبل کے راز بھی یہ ہاتھ میں لے لے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے تمام تاثرات حقیقت کا روپ اختیارکر لیں۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ جو وعدے ہوتے ہیں وہ اس کے سامنے آجائیں اگرچہ انمیں اس کو تکلیف ہی ملے۔ یہ صورت حال تب بدلتی ہے جب انسان کا رابطہ اللہ کے ساتھ قائم ہوجائے۔ اس صورت میں اس کی زندگی میں ٹھہرائو آجاتا ہے۔ وہ مطمئن ہوجاتا ہے اور اپنے معاملات اللہ کے سپرد کردیتا ہے ‘ پھر جلد بازی نہیں کرتا۔ ایمان نام ہی یقین ‘ صبر اور اطمینان کا ہے۔ یہ مشرکین جو عذاب کے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور کہتی ہیں کہ جلدی کیوں نہیں آتا ‘ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی یعنی عذاب آخرت کب ہوگا اور عذاب دنیا کب آئے گا جس سے تم ڈراتے ہو۔ اس موقع پر صرف عذاب آخرت کا ایک منظر ان کے سامنے پیش کردیا جاتا ہے اور ڈرایا جاتا ہے کہ تم سے قبل بھی کئی لوگوں نے اس قسم کا مذاق کیا تھا ‘ لیکن جب عذاب آیا تو وہ سامان عبرت بن گئے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

جب مشرکین کے سامنے دنیا میں عذاب آنے یا قیامت آنے کا تذکرہ ہوتا تھا تو کہتے تھے کہ یہ ڈرانا خواہ مخواہ کا ہے۔ عذاب آنا ہی ہے تو بس آجائے دیر کیوں لگ رہی ہے۔ اسی کو فرمایا (خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ) (انسان جلدی سے پیدا کیا گیا ہے) یعنی اس کے مزاج میں جلد بازی رکھ دی گئی ہے۔ اپنے اس مزاج کی وجہ سے عذاب کو بھی وقت سے پہلے بلانے کو تیار ہے۔ (سَاُورِیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ ) (سو میں عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دوں گا سو تم مجھ سے عذاب کی جلدی مت مچاؤ) کیونکہ عذاب وقت مقرر سے پہلے نہیں آتا اور جب آجائے تو ٹالا نہیں جاتا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے قہر کی نشانیاں ظاہر ہوئیں جن میں غزوۂ بدر کے مواقع پر سردار ان قریش کا مارا جانا اور قید ہونا بھی تھا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

26:۔ زجر ہے انسان کیسا جلد باز ہے کہ ایسے واضح دلائل کے باوجود توحید کو ماننے کے بجائے شرک کی طرف دوڑتا ہے۔ ” سَاُرِیْکُمْ اٰیٰتِیْ “ الخ تخویف دنیوی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

37 فطرت انسانی کی وضع جلدی پر کی گئی ہے میں تم کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھائے دیتا ہوں پس تم ان نشانیوں کے طلب کرنے میں جلدی نہ کرو۔ ایک طرف کافر عذاب کی وعید سن کر عذاب میں عجلت کرتے تھے اور دوسری طرف شاید مسلمان بھی ان کے توہین آمیز سلوک سے پریشان ہو کر ان کے لئے عذاب نازل ہونے میں جلدی کرتے ہوں گے۔ اس لئے فرمایا کہ انسان کے خمیر میں جلدی رکھی گئی ہے اس لئے دونوں گروہ جلدی کرتے ہیں عذاب کی سو میں اپنی نشانیاں اور سزائیں عنقریب ظاہر کروں گاجی سے دنیا میں بد کی سزا اور آخرت کا عذاب تو اپنی جگہ مقرر ہی ہے آگے جلدی کا وہ قول ہے جو کفار عام طریق پر کہا کرتے تھے۔