Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 4

سورة الأنبياء

قٰلَ رَبِّیۡ یَعۡلَمُ الۡقَوۡلَ فِی السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ۫ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۴﴾

The Prophet said, "My Lord knows whatever is said throughout the heaven and earth, and He is the Hearing, the Knowing."

پیغمبر نے کہا میرا پروردگار ہر اس بات کو جو زمین و آسمان میں ہے بخوبی جانتا ہے ، وہ بہت ہی سننے والا اور جاننے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاء وَالاَرْضِ ... He said: "My Lord knows what is said in the heavens and on earth..." Nothing at all is hidden from the One Who knows that, and He is the One Who reveals this Qur'an which contains news of the earliest and last generations. No one can produce the like of this except the One Who knows all the secrets of the heavens and the earth. ... وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ And He is the All-Hearer, the All-Knower. means, He hears all that they say and He knows all their circumstances. This is a warning and a threat to them. The Disbelievers' Ideas about the Qur'an and the Messenger; their demand for a Sign and the Refutation of that: Allah says:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1 وہ تمام بندوں کی باتیں سنتا ہے اور سب کے اعمال سے واقف ہے، تم جو جھوٹ بکتے ہو، اسے سن رہا ہے اور میری سچائی کو اور جو دعوت تمہیں دے رہا ہوں، اس کی حقیقت کو خوب جانتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥] ایسی تدابیر اختیار کرنے کے بارے میں ان کے درمیان جو خفیہ مجلس منعقد ہوتی اور سازشیں تیار ہوتی تھیں۔ وہ طشت از بان تو ہو ہی جاتی تھیں۔ آپ نے ان سب باتوں کے جواب صرف اتنا ہی کہا کہ کوئی بات خواہ کتنی ہی رازداری سے کی جائے، میرا پروردگار اس سے پوری طرف واقف ہے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ تھا کہ تمہاری ان ساری سرگرمیوں کے باوجود اللہ اپنے دین کی دعوت کے کام کو آتے بڑھاتا رہے گا اور تمہاری کوئی تجویز کارگر نہ ہونے پائے گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قٰلَ رَبِّيْ يَعْلَمُ الْقَوْلَ ۔۔ : یعنی پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تم نے خفیہ مشورے سے جو بات طے کی ہے وہ میرے رب سے مخفی نہیں۔ وہ آسمان و زمین میں ہونے والی ہر بات کو جانتا ہے، کیونکہ وہ سمیع بھی ہے اور علیم بھی۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ” یَعْلَمُ السِّرَّ “ (وہ چھپی بات کو جانتا ہے) کے بجائے ” يَعْلَمُ الْقَوْلَ “ فرمایا، یعنی وہ ہر بات جانتا ہے، تمہاری خفیہ سرگوشیاں بھی اور بلند آواز سے گفتگو بھی۔ اس لیے اس کے پیغمبر کے خلاف تمہاری یہ خفیہ مجلسیں یا علانیہ مخالفت تمہارے کسی کام نہیں آئیں گی اور تم غلبۂ اسلام کو کسی طرح نہیں روک سکو گے۔ ایک قراءت میں ” قُلْ رَّبِّي “ ہے، یعنی کہہ دے کہ میرا رب آسمان و زمین میں ہونے والی ہر بات جانتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قٰلَ رَبِّيْ يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ۝ ٠ۡوَہُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۝ ٤ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا اور راک کرنا أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ، ( س م ع ) السمع ۔ قوت سامعہ ۔ کا ن میں ایک حاسہ کا نام ہے جس کے ذریعہ آوازوں کا اور اک ہوتا ہے اداس کے معنی سننا ( مصدر ) بھی آتے ہیں اور کبھی اس سے خود کان مراد لیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ اور کبھی لفظ سماع کی طرح اس سے مصدر ی معنی مراد ہوتے ہیں ( یعنی سننا ) چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] وہ ( آسمائی باتوں کے ) سننے ( کے مقامات ) سے الگ کردیئے گئے ہیں ۔ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے ۔ اور کبھی سمع کے معنی فہم و تدبر اور کبھی طاعت بھی آجاتے ہیں مثلا تم کہو ۔ اسمع ما اقول لک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو لم تسمع ماقلت لک تم نے میری بات سمجھی نہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ( یہ کلام ) ہم نے سن لیا ہے اگر چاہیں تو اسی طرح کا ( کلام ) ہم بھی کہدیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میرا رب ہر بات کو خواہ وہ پوشیدہ ہو خواہ آسمان میں ہو اور خواہ زمین میں ہو خوب جانتا ہے اور وہ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کی بات کو بخوبی سننے والا اور جو ان کو سزا ملے گی اسے خوب جاننے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

6. This was the answer of the Prophet (peace be upon him) to their false propaganda and whispering campaign. Instead of giving a tit for tat answer, he said: My Lord will deal with you for He hears everything and knows everything.

سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :6 یعنی رسول نے کبھی اس جھوٹے پروپیگنڈے اور سرگوشیوں کی اس مہم ( Whispering Campaign ) کا جواب اس کے سوا نہ دیا کہ تم لوگ جو کچھ باتیں بناتے ہو سب خدا سنتا اور جانتا ہے ، خواہ زور سے کہو ، خواہ چپکے چپکے کانوں میں پھونکو ۔ وہ کبھی بے انصاف دشمنوں کے مقابلے میں ترکی بہ ترکی جواب دینے پر نہ اتر آیا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

1: جو باتیں یہ کافر لوگ خفیہ طور پر کیا کرتے تھے، بعض اوقات آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وحی کے ذریعے ان سے باخبر ہو کر وہ باتیں بتا دیا کرتے تھے، اس بات کو وہ لوگ جادو کہہ دیا کرتے تھے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا کہ یہ جادو نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی وحی ہے جو زمین و آسمان میں کہی ہوئی ہر بات سے پوری طرح باخبر ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:4) قال۔ ای قال الرسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ القول۔ ہر بات خواہ وہ پوشیدہ طور پر کہی جائے یا بالجھر کہی جاوے تاکید کے لئے یعلم السر کو یعلم القول کہا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ سو تمہارے ان اقوال کفر یہ کو بھی جانتا ہے اور تم کو خوب سزا دے گا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قل ربی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وھو السمیع العلیم (١٢ : ٤) ” رسول نے کہا میرا بر ہر اس بات کو جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں کی جائے اور وہ سمیع وعلیم ہے “۔ زمین کے جس حصے میں بھی تحریک اسلامی کے خلاف کوئی سرگوشی ہو ‘ اللہ تعالیٰ سنتا اور جانتا ہے کیونکہ اللہ تو وہ ہے جو زمین و آسمان میں بولے جانے والے تمام اقوال کو جانتا ہے اور اس کے ہاں وہ ریکارڈ ہوتے ہیں اور وہ جو سازشیں بھی پکائیں اللہ اپنے رسول کو پہلے سے بتا دیتا ہے کہ وہ سمیع وعلیم ہے۔ انہوں نے بہت سوچا کہ قرآن کے اثرات کو کس پروپیگنڈے سے روکیں۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ سحر ہے۔ یہ ایک مخلوط قسم کی سوچ اور منتشر افکار ہیں ‘ جن کو محمد جمع کرکے پیش کرتا ہے ‘ کبھی شعر ‘ کبھی کہانت کیا کہا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6:۔ یہ سورت کا دعویٰ ہے۔ یعنی زمین و آسمان کے تمام غیوب صرف اللہ ہی جانتا ہے اور سب کچھ سننے والا بھی وہی ہے اور کوئی نہیں، لہذا فریاد رس، کارساز اور متصرف و مختار بھی وہی ہے اور کوئی نہیں لہذا تمہارے معبود کچھ نہیں کرسکتے۔حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس اعلان سے برا افروختہ ہو کر انہوں نے آپ کو جادوگر وغیرہ کہنا شروع کردیا۔ فیہ رد علیھم فی قولھم ھل ھذا الا بشر مثلکم (قرطبی ج 11 ص 271) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

4 پیغمبر نے فرمایا میرا پروردگار ہر باتک و خواہ وہ آسمان میں ہو یا زمین میں ہو خوب جانتا ہے اور وہ بڑا سننے والا اور بڑا جاننے والا ہے یعنی کوئی بات اس سے پوشیدہ نہیں ہے وہ ان کے اقوال کو سنتا اور ان کے افعال کو جانتا ہے۔