Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 5

سورة الأنبياء

بَلۡ قَالُوۡۤا اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍۭ بَلِ افۡتَرٰىہُ بَلۡ ہُوَ شَاعِرٌ ۚ ۖ فَلۡیَاۡتِنَا بِاٰیَۃٍ کَمَاۤ اُرۡسِلَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴿۵﴾

But they say, "[The revelation is but] a mixture of false dreams; rather, he has invented it; rather, he is a poet. So let him bring us a sign just as the previous [messengers] were sent [with miracles]."

اتنا ہی نہیں بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ یہ قرآن پراگندہ کن خوابوں کا مجموعہ ہے بلکہ اس نے از خود اسے گھڑ لیا ہے بلکہ یہ شاعر ہے ورنہ ہمارے سامنے یہ کوئی ایسی نشانی لاتے جیسے کہ اگلے پیغمبر بھیجے گئے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

بَلْ قَالُواْ أَضْغَاثُ أَحْلَمٍ بَلِ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ ... Nay, they say: "These are mixed up false dreams! Nay, he has invented it! -- Nay, he is a poet! Here Allah tells us of the stubbornness and heresy of the disbelievers, and the various things they said about the Qur'an, and how they were confused and misguided about it. Sometimes they described it as magic, and sometimes they described it as poetry, or mixed up false dreams, or a fabrication. As Allah says: انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُواْ لَكَ الاٌّمْثَالَ فَضَلُّواْ فَلَ يَسْتَطِيعْونَ سَبِيلً See what examples they have put forward for you. So they have gone astray, and never can they find a way. (17:48) ... فَلْيَأْتِنَا بِأيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الاَوَّلُونَ Let him then bring us an Ayah like the ones that were sent before! They were referring to the she-camel of Salih, and the signs of Musa and `Isa. And Allah says, وَمَا مَنَعَنَأ أَن نُّرْسِلَ بِالاٌّيَـتِ إِلاَّ أَن كَذَّبَ بِهَا الاٌّوَّلُونَ And nothing stops Us from sending the Ayat but that the people of old denied them. (17:59) So Allah said here: مَا امَنَتْ قَبْلَهُم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَفَهُمْ يُوْمِنُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 ان سرگوشی کرنے والے ظالموں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ کہا کہ یہ قرآن تو پریشان خواب کی طرح حیران کن افکار کا مجموعہ، بلکہ اس کا اپنا گھڑا ہوا ہے، بلکہ یہ شاعر ہے اور یہ قرآن کتاب ہدایت نہیں، شاعری ہے۔ یعنی کسی ایک بات پر ان کو قرار نہیں ہے۔ ہر روز ایک نیا پینترا بدلتے اور نئی سے نئی الزام تراشی کرتے ہیں۔ 5۔ 2 یعنی جس طرح ثمود کے لئے اونٹنی، موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے عصا اور ید بیضا وغیرہ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦] اصل بات یہ ہے کہ آپ کی مخالفت کی حد تک سارے قریشی سردار متفق تھے لیکن انھیں یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آپ کو کہیں تو کیا کہیں۔ جادوگر کہیں، آسیب شدہ کہیں، کاہن کہیں یا شاعر کہیں۔ لوگوں کو کیا کہہ کر اس ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے باز رکھیں۔ چناچہ اسی غرض کے لئے قریشی سردار والید بن مغیرہ کے پاس گئے جو ابو جہل کا چچا تھا اور حرب بن امیہ کی وفات کے بعد قریش کی سیادت اسی کے ہاتھ میں آئی تھی۔ سوال یہ سامنے آیا کہ اس نبی کی دعوت کو کیونکر غیر موثر بنایا جاسکتا ہے تاکہ باہر سے آنے والے حجاج اس شخص کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ ولید بن مغیرہ سمجھدار آدمی تھی۔ بولا && اس سلسلہ میں اپنی اپنی تجاویز پیش کرو && ایک شخص نے کہا : ہم کہیں گے کہ && یہ شخص کاہن ہے && ولید کہنے لگا : واللہ ! یہ شخص کاہن نہیں۔ اس کے کلام میں نہ کاہنوں جیسی گنگناہٹ ہے، نہ قاغیہ نہ کوئی اور تک بندی، وہ کاہن کیسے ہوسکتا ہے ؟ دوسرے نے کہا : ہم کہیں گے && وہ دیوانہ ہے && ولید کہنے لگا، بخدا وہ پاگل بھی نہیں۔ ہم نے پاگلوں کو بھی دیکھا ہے۔ اس کے اندر نہ پاگلوں جیسی دم گھٹنے کی کیفیت ہے، نہ الٹی سیدھی حرکتیں ہیں اور نہ ان جیسی بہکی بہلی باتیں ہیں && تیسرے نے کہا : ہم کیں گے && وہ شاعر ہے && ولید کہنے لگا، && وہ شاعر بھی نہیں۔ ہمیں رجز، حجز، قریض، مقبوض، مبسوط سارے ہی اصناف سخن معلوم ہیں۔ اس کی بات بہرحال شعر نہیں ہے && چوتھے نے کہا : ہم کہیں گے کہ وہ جادوگر ہے && ولید نے کہا، وہ جادوگر بھی نہیں۔ یہ شخص نہ تو کی طرح جھاڑ پھونک کرتا ہے اور نہ گرہ لگاتا ہے && تب لوگوں نے جھنجھلا کر کہا : پھر تم ہی اپنی بےداغ رائے پیش کرو && وہ کہنے لگا۔ مجھے ذرا سوچ لینے دو ۔ بڑی سوچ بچار کے بعد اس نے اپنی رائے پیش کی کہ تم لوگ یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ شخص ایسا کلام پیش کرتا ہے جو ایسا جادو ہے جس سے بھائی بھائی سے، باپ بیٹے سے، شوہر بیوی سے جدا ہوجاتا ہے۔ اور کنبے، قبیلے میں پھوٹ پڑجاتی ہے && چناچہ اس تجویز پر متفق ہو کر سب لوگ رخصت ہوگئے۔ چناچہ اس تجویز پر عمل درآمد کے لئے قریش نے ایک گیارہ رکنی کمیٹی تشکیل دی جس کا سربراہ ابو لہب تھا۔ جہاں کہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبلیغ کے لئے پہنچتے، وہاں ابو لہب بھی پیچھے پیچھے پہنچ جاتا اور کہتا : لوگو ! اس شخص کی بات پر کان نہ دھرنا، یہ بےدین ہے اور ایسا کلام پیش کرتا ہے جس سے کنبے قبیلے میں دشمنی پڑجاتی ہے۔ ان لوگوں کی معاندانہ سرگرمیوں کا نتیجہ ان کے خواہش کے بالکل برعکس نکلا۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کا نام ان کے ذریعہ عرب کے گوشے گوشے میں پہنچ گیا اور لوگوں میں جستجو پیدا ہوگئی کہ آخر ایسے شخص کی بات تو ضرور سننا چاہئے۔ اس طرح دشمنوں نے وہ کام تھوڑے ہی عرصہ میں کرکے دکھلا دیا جو مسلمان شائد مدت تک نہ کرسکتے۔ کافروں کی ایسی معاندانہ سرگرمیوں سے ہی اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے خیر کا پہلو پیدا کردیا۔ ابو لہب کے علاوہ ایک دوسرا شخص نضر بن حارث تھا جس کا طریق کار ابو لہب سے بالکل جداگانہ تھا۔ ایک دفعہ وہ سرداران قریش سے کہنے لگا : اے قریشیو ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے سب سے زیادہ پسندیدہ، سچے اور امانت دار آدمی تھے، اب اگر وہ اللہ کا پیغام لے کر آئے ہیں تو تم کبھی انھیں شاعر کہتے ہو، کبھی کاہن، کبھی پاگل اور کبھی جادوگر کہتے ہو۔ حالانکہ وہ نہ شاعر ہے نہ کاہن ہے، نہ پاگل ہے اور نہ جادوگر ہے۔ کیونکہ ہم ایسے لوگوں کو خوب جانتے ہیں۔ اے اہل قریش ! سوچو، تم پر یہ کیسی افتاد آپڑی ہے && پھر اس افتاد کا حل جو نضر بن حارث نے سوچا وہ یہ تھا کہ خود حیرہ گیا۔ وہاں سے بادشاہوں کے حالات اور ستم و اسفندیار کے قصے سیکھے۔ پھر یہ بھی ابو لہب کی طرح ہر اس مقام پر جا پہنچتا۔ جہاں پیغمبراسلام تبلیغ کے لئے جاتے۔ وہاں پہنچ کر یہ اپنے قصے سنا کر لوگوں سے پوچھتا کہ آخر کس بنا پر محمد کا کلام مجھ سے بہتر ہے ؟ && اس کی سرگرمیوں کا بھی وہی اثر ہوا جو ابو لہب کی سرگرمیوں کا ہوا تھا۔ [٧] یعنی وہ معجزہ کا مطالبہ تو اس طرح کرتے ہیں کہ جیسے وہ ایمان لانے کو بالکل تیار بیٹھے ہیں بس صرف ایک معجزہ دیکھنے کی ہی کسر باقی رہ گئی ہے۔ حالانکہ اقوام سابقہ کی ہلاکت کا سبب ہی یہ بنا تھا کہ انہوں نے معجزہ کا مطالبہ کیا۔ جو انھیں دیا گیا مگر وہ پھر بھی ایمان نہ لائے تھے۔ اب اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ معجزہ دیکھ کر ایمان لے ہی آئیں گے ؟ یہ بھی سابقہ اقوام کی طرح اپنی ہلاکت کے درپے ہوچکے ہیں ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

بَلْ قَالُـوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ ۔۔ : ” اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ “ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یوسف (٤٤) ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو جھٹلانے والے کفار کے مختلف اقوال ذکر کرکے ثابت کیا کہ یہ خوب جانتے ہیں کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، اس لیے سخت بدحواس اور مذبذب ہیں کہ قرآن کو کیا کہہ کر جھٹلائیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہ خوابوں کی پریشان باتیں ہیں، پھر کہتے ہیں کہ نہیں، بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے خود تصنیف کرکے اللہ کے ذمے لگا دیا ہے۔ پھر اس پر تسلی نہیں ہوتی تو کہتے ہیں کہ نہیں، اصل یہ ہے کہ آپ شاعر ہیں اور یہ قرآن آپ کے شاعرانہ تخیل کا نتیجہ ہے۔ سورة مدثر (١٨ تا ٢٥) میں کفار کے ایک کھڑپینچ کی اسی طرح کی پریشان خیالی کا ذکر فرمایا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی تمام باتوں کا جواب دے رکھا تھا کہ اگر تمہیں اس قرآن کے اللہ کا کلام ہونے میں شک ہے تو اس جیسی کتاب بنا کرلے آؤ، یا دس سورتیں بنا کرلے آؤ، چلو ! یہ بھی نہیں تو اس جیسی ایک سورت بنا کرلے آؤ۔ اگر یہ بھی نہ کرو اور کر بھی نہیں سکو گے، تو جہنم کی آگ سے ڈر کر اس پر ایمان لے آؤ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا کیا گیا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ کفار کے پاس اس کا کوئی جواب نہ اس وقت تھا اور نہ قیامت تک اس کا جواب لاسکتے ہیں۔ مگر وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہ تھے، اس لیے کہنے لگے کہ اس معجزے کو دیکھ کر ہم ایمان نہیں لائیں گے، ہمارے پاس تو یہ رسول وہ معجزے لے کر آئے جو پہلے رسولوں کو دیے گئے تھے، مثلاً صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی، موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا، عیسیٰ (علیہ السلام) کا مردہ کو زندہ کرنا، نابینا کو بینا کرنا وغیرہ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ (they said, [ The Further Qur&an is ] a mixture of hotch-potch dreams. - 21:5.) Dreams having an element of personal and shaitanic thoughts are called أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ. That is why this term (أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ ) has been translated as |"hotch-potch dreams|". What it means is that in the first place the unbelievers called the Qur&an as magic, then they described it as a collection of disturbed dreams, and then they said it was a forgery and fabrication against Allah Ta’ ala to call it His words; and finally they said that he (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was a poet and the Qur&an represented his poetic compositions. فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ (So let him bring to us a sign - 21:5) It means that the unbelievers demanded from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) certain specific miracles to be shown as a proof of his being a real Prophet. In response to this demand, Allah Ta` ala said in this verse that the same demand for miracles was also made by the people in the past from other prophets, and when their request was met, it was of no avail. They did not submit to Allah even after witnessing the miracles of their choice. And Allah has decreed that people who do not submit to Him even after they have seen the miracle of their choice are subjected to His wrath even in this world and are destroyed. Allah, in His Divine Mercy and in view of the honoured position of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had granted to his Ummah immunity from the terrible punishment which is the inevitable fate of those people who defy the Will of Allah. It was not, therefore, considered desirable to show them miracles of their choice because if they, like the earlier people, persisted in their unbelief even after seeing those miracles, they too would invite the wrath of Allah Ta` ala.

بَلْ قَالُـوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۢ، اضغاث احلام ان خوابوں کو کہا جاتا ہے جن میں کچھ نفسانی یا شیطانی خیالات شامل ہوجاتے ہیں اس لئے اس کا ترجمہ پریشان خیالات سے کیا گیا ہے۔ یعنی ان منکرین نے اول تو قرآن کو جادو کہا پھر اس سے آگے بڑھے تو پریشان خواب کہنے لگے پھر اس سے بھی آگے بڑھے تو کہنے لگے یہ تو اللہ تعالیٰ پر افتراء اور بہتان ہے کہ یہ اس کا کلام ہے پھر کہنے لگے کہ اصل بات یہ ہے کہ یہ کوئی شاعر آدمی ہے شاعرانہ خیالات اس کے کلام میں ہوتے ہیں۔ فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَةٍ یعنی اگر یہ واقعی نبی و رسول ہیں تو ہمارے مانگے ہوئے خاص معجزات دکھلائیں اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں اس کا بھی تجربہ اور مشاہدہ ہوچکا ہے کہ جس طرح کا معجزہ انہوں نے خود طلب کیا اللہ کے رسول کے ہاتھوں وہی معجزہ سامنے آ گیا مگر وہ پھر بھی ایمان نہ لائے اور منہ مانگے معجزے کو دیکھنے کے بعد بھی جو قوم ایمان سے گریز کرے اس کے لئے اللہ کا قانون یہ ہے کہ دنیا ہی میں عذاب نازل کر کے ختم کردی جاتی ہے اور چونکہ امت مرحومہ کو حق تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اعزاز میں دنیا کے عذاب عام سے محفوظ کردیا ہے اس لئے ان کو ان کے مانگے ہوئے معجزات دکھلانا مصلحت نہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

بَلْ قَالُـوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍؚبَلِ افْتَرٰىہُ بَلْ ہُوَشَاعِرٌ۝ ٠ۚۖ فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَۃٍ كَـمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ۝ ٥ ضغث الضِّغْثُ : قبضةُ ريحانٍ ، أو حشیشٍ أو قُضْبَانٍ ، وجمعه : أَضْغَاثٌ. قال تعالی: وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثاً [ ص/ 44] ، وبه شبّه الأحلام المختلطة التي لا يتبيّن حقائقها، قالُوا أَضْغاثُ أَحْلامٍ [يوسف/ 44] : حزم أخلاط من الأحلام . ( ض غ ث) الضغث ۔ ریحان ۔ خشک گھاس یا شاخیں جو انسان کی مٹھی میں آجائیں اس کی جمع اضغاث آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثاً [ ص/ 44] اپنے ہاتھ میں مٹھی پھر گھاس لو ۔ اسی سے ایسے خواب کو جو ملتبس سا ہو اور اس کا مطلب واضح نہ ہو ، اضغاث احلام کہاجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : قالُوا أَضْغاثُ أَحْلامٍ [يوسف/ 44] انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں ۔ یعنی پریشان اور بےمعنی خوابوں کے پلندے ہیں ۔ حلم ( خواب) ويقال : حَلَمَ «1» في نومه يَحْلُمُ حُلْماً وحُلَماً ، وقیل : حُلُماً نحو : ربع، وتَحَلَّمَ واحتلم، وحَلَمْتُ به في نومي، أي : رأيته في المنام، قال اللہ تعالی: قالُوا أَضْغاثُ أَحْلامٍ [يوسف/ 54] ، ( ح ل م ) الحلم حلم ( ن ) فی نومہ خواب دیکھنا مصدر حلم اور حلم مثل ربع بھی کہا گیا ہے ۔ اور ۔ یہی معنی تحلم واحتلم کے ہیں ۔ حلمت بہ فی نومی ۔ میں نے اسے خواب میں دیکھا ۔ قرآن میں ہے : ۔ قالُوا أَضْغاثُ أَحْلامٍ [يوسف/ 54] انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں ۔ فری الفَرْيُ : قطع الجلد للخرز والإصلاح، والْإِفْرَاءُ للإفساد، والِافْتِرَاءُ فيهما، وفي الإفساد أكثر، وکذلک استعمل في القرآن في الکذب والشّرک والظّلم . نحو : وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] ، ( ف ری ) القری ( ن ) کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں اور افراء افعال ) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ۔ افتراء ( افتعال کا لفظ صلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے اس کا زیادہ تر استعمال افسادی ہی کے معنوں میں ہوتا ہے اسی لئے قرآن پاک میں جھوٹ شرک اور ظلم کے موقعوں پر استعمال کیا گیا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا ۔ شعر ( شاعر) الشَّعْرُ معروف، وجمعه أَشْعَارٌ قال اللہ تعالی: وَمِنْ أَصْوافِها وَأَوْبارِها وَأَشْعارِها [ النحل/ 80] ، وشَعَرْتُ : أصبت الشَّعْرَ ، ومنه استعیر : شَعَرْتُ كذا، أي علمت علما في الدّقّة كإصابة الشَّعر، وسمّي الشَّاعِرُ شاعرا لفطنته ودقّة معرفته، فَالشِّعْرُ في الأصل اسم للعلم الدّقيق في قولهم : ليت شعري، وصار في التّعارف اسما للموزون المقفّى من الکلام، والشَّاعِرُ للمختصّ بصناعته، وقوله تعالیٰ حكاية عن الکفّار : بَلِ افْتَراهُ بَلْ هُوَ شاعِرٌ [ الأنبیاء/ 5] ، وقوله : لِشاعِرٍ مَجْنُونٍ [ الصافات/ 36] ، شاعِرٌ نَتَرَبَّصُ بِهِ [ الطور/ 30] ، وكثير من المفسّرين حملوه علی أنهم رموه بکونه آتیا بشعر منظوم مقفّى، حتی تأوّلوا ما جاء في القرآن من کلّ لفظ يشبه الموزون من نحو : وَجِفانٍ كَالْجَوابِ وَقُدُورٍ راسِياتٍ [ سبأ/ 13] ، وقوله : تَبَّتْ يَدا أَبِي لَهَبٍ [ المسد/ 1] . وقال بعض المحصّلين : لم يقصدوا هذا المقصد فيما رموه به، وذلک أنه ظاهر من الکلام أنّه ليس علی أسالیب الشّعر، ولا يخفی ذلک علی الأغتام من العجم فضلا عن بلغاء العرب، وإنما رموه بالکذب، فإنّ الشعر يعبّر به عن الکذب، والشَّاعِرُ : الکاذب حتی سمّى قوم الأدلة الکاذبة الشّعريّة، ولهذا قال تعالیٰ في وصف عامّة الشّعراء : وَالشُّعَراءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغاوُونَ [ الشعراء/ 224] ، إلى آخر السّورة، ولکون الشِّعْرِ مقرّ الکذب قيل : أحسن الشّعر أكذبه . وقال بعض الحکماء : لم ير متديّن صادق اللهجة مفلقا في شعره . ( ش ع ر ) الشعر بال اس کی جمع اشعار آتی ہے قرآن میں ہے ۔ وَمِنْ أَصْوافِها وَأَوْبارِها وَأَشْعارِها [ النحل/ 80] اون اور ریشم اور بالوں سے شعرت کے معنی بالوں پر مارنے کے ہیں ۔ اور اسی سے شعرت کذا مستعار ہے جس کے معنی بال کی طرح باریک علم حاصل کرلینے کے ہیں اور شاعر کو بھی اس کی فطانت اور لطافت نظر کی وجہ سے ہی شاعر کہا جاتا ہے تو لیت شعری کذا کے محاورہ میں شعر اصل میں علم لطیف کا نام ہے پھر عرف میں موزوں اور مقفیٰ کلام کو شعر کہا جانے لگا ہے اور شعر کہنے والے کو شاعر کہا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بَلِ افْتَراهُ بَلْ هُوَ شاعِرٌ [ الأنبیاء/ 5] بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے ۔ نہیں بلکہ ( یہ شعر ہے جو اس ) شاعر کا نتیجہ طبع ہے ۔ نیز آیت کریمہ : ۔ لِشاعِرٍ مَجْنُونٍ [ الصافات/ 36] ایک دیوانے شاعر کے کہنے سے ۔ اور آیت شاعِرٌ نَتَرَبَّصُ بِهِ [ الطور/ 30] شاعر ہے اور ہم اس کے حق میں ۔۔۔ انتظار کر رہے ہیں ۔ بہت سے مفسرین نے یہ سمجھا ہے کہ انہوں نے آنحضرت پر شعر بمعنی منظوم اور مقفیٰ کلام بنانے کی تہمت لگائی تھی ۔ حتی کہ وہ قران میں ہر اس آیت کی تاویل کرنے لگے جس میں وزن پایا جاتا ہے جیسے وَجِفانٍ كَالْجَوابِ وَقُدُورٍ راسِياتٍ [ سبأ/ 13] لیکن بعض حقیقت شناس لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے ان کا مقصد منظوم اور مقفیٰ کلام بنانے تہمت لگانا نہیں تھا ۔ کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ قرآن اسلوب شعری سے مبرا ہے اور اس حقیقت کو عوام عجمی بھی سمجھ سکتے ہیں پھر فصحاء عرب کا کیا ذکر ہے ۔ بلکہ وہ آپ پر ( نعوذ باللہ ) جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے کیونکہ عربی زبان میں شعر بمعنی کذب اور شاعر بمعنی کاذب استعمال ہوتا ہے ۔ حتی کہ جھوٹے دلائل کو ادلۃ شعریۃ کہا جاتا ہے اسی لئے قرآن نے شعراء کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے :۔ وَالشُّعَراءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغاوُونَ [ الشعراء/ 224] اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں ۔ اور شعر چونکہ جھوٹ کا پلندہ ہوتا ہے ۔ اس لیے مقولہ مشہور ہے کہ احسن الشعر اکذبہ سب سے بہتر شعروہ ہے جو سب سے زیادہ جھوٹ پر مشتمل ہوا اور کسی حکیم نے کہا ہے کہ میں نے کوئی متدین اور راست گو انسان ایسا نہیں دیکھا جو شعر گوئی میں ماہر ہو ۔ المشاعر حواس کو کہتے ہیں لہذا آیت کریمہ ؛ وَأَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ [ الحجرات/ 2] اور تم کو خبر بھی نہ ہو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تم حواس سے اس کا ادرک نہیں کرسکتے ۔ اور اکثر مقامات میں جہاں لایشعرون کا صیغہ آیا ہے اس کی بجائے ۔ لایعقلون کہنا صحیح نہیں ہے ۔ کیونکہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو محسوس تو نہیں ہوسکتی لیکن عقل سے ان کا ادراک ہوسکتا ہے الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ رسل ( ارسال) والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83] ، والْإِرْسَالُ يقابل الإمساک . قال تعالی: ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ [ فاطر/ 2] ( ر س ل ) الرسل الارسال ( افعال ) کے معنی بھیجنے کے ہیں اور اس کا اطلاق انسان پر بھی ہوتا ہے اور دوسری محبوب یا مکروہ چیزوں کے لئے بھی آتا ہے ۔ کبھی ( 1) یہ تسخیر کے طور پر استعمال ہوتا ہے جیسے ہوا بارش وغیرہ کا بھیجنا ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] اور ( اوپر سے ) ان پر موسلادھار مینہ برسایا ۔ اور کبھی ( 2) کسی بااختیار وار وہ شخص کے بھیجنے پر بولا جاتا ہے جیسے پیغمبر بھیجنا چناچہ قرآن میں ہے : وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] اور تم لوگوں پر نگہبان ( فرشتے ) تعنیات رکھتا ہے ۔ فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] اس پر فرعون نے ( لوگوں کی بھیڑ ) جمع کرنے کے لئے شہروں میں ہر کارے دوڑائے ۔ اور کبھی ( 3) یہ لفظ کسی کو اس کی اپنی حالت پر چھوڑے دینے اور اس سے کسی قسم کا تعرض نہ کرنے پر بولاجاتا ہے ہے جیسے فرمایا : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83]( اے پیغمبر ) کیا تم نے ( اس باٹ پر ) غور نہیں کیا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہ انہیں انگینت کر کے اکساتے رہتے ہیں ۔ اور کبھی ( 4) یہ لفظ امساک ( روکنا ) کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ [ فاطر/ 2] تو اللہ جو اپنی رحمت دے لنگر لوگوں کے لئے ) کھول دے تو کوئی اس کا بند کرنے والا نہیں اور بندے کرے تو اس کے ( بند کئے ) پیچھے کوئی اس کا جاری کرنے والا نہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥) بلکہ بعض نے یوں بھی کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو ہمارے پاس لے آکر آئے ہیں یہ منتشر خیالات ہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان قرآن کریم کو اپنی طرف سے بنالیا بلکہ بعض نے کہا یہ تو شاعر ہیں، شاعروں کی باتیں ایسی ہی ہوتی ہیں، ان کو چاہیے کہ ہمارے پاس کوئی بڑی نشانی لائیں جیسا کہ پہلے رسول اپنی اپنی قوم کے انکار کے وقت نشانیاں لائے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥ (بَلْ قَالُوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلاَمٍ م) ” کبھی وہ کہتے کہ یہ اللہ کا کلام تو ہرگز نہیں ہے ‘ بلکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوتے میں خواب دیکھتے ہیں اور خوابوں کے پراگندہ خیالات پر مبنی باتیں لوگوں کو سناتے رہتے ہیں۔ (بَلِ افْتَرٰٹہُ ) ” کبھی کہتے کہ یہ کلام تو خود ان کا اپنا گھڑا ہوا ہے مگر یہ غلط طور پر اسے اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔ (بَلْ ہُوَ شَاعِرٌ ج ) ” کبھی کہتے کہ خدا داد شاعرانہ صلاحیت کی بنا پر ان پر آمد ہوتی ہے اور یوں یہ کلام ترتیب پاتا ہے۔ (فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَۃٍ کَمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ ) ” اور کبھی کہتے کہ اگر یہ واقعتا اللہ کے رسول ہیں تو پھر پہلے رسولوں کی طرح ہمیں کوئی معجزہ دکھائیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

7. The background of this verse is this: When the message of the Prophet (peace be upon him) started gaining adherents, the chiefs of Makkah decided among themselves to start a propaganda campaign to counteract it. For this purpose they decided that every visitor to Makkah for pilgrimage should be approached and his mind so poisoned against the Prophet (peace be upon him) that he does not even go near and listen to him. Though this campaign continued throughout the year, in the pilgrimage season specially a large number of men were deputed to go to the tents of the pilgrims to warn them to beware of the Prophet (peace be upon him). Different sorts of things were said against the Prophet (peace be upon him) during these talks. Sometimes it was said that he was a sorcerer or that he had fabricated the Quran by himself but attributed it to Allah. Some would say that his revelations were the words of an insane person and a bundle of incoherent ideas. Others would say that these were ordinary poetic ideas which were being dubbed as the words of Allah. All they wanted to do was to poison the minds of the visitors irrespective of the correctness of their own versions. They had no considered and definite opinion in the matter. This false propaganda, however, had just the opposite effect. The name of the Prophet (peace be upon him) became known throughout the country through the nefarious activities of the chiefs of Makkah. A positive kind of approach from the Muslims would not have achieved the same publicity in years as was achieved so rapidly through this negative campaign of the Quraish. It made everybody thinking: After all, who is this man against whom such a campaign of vilification has been started? The serious type among them rather came to the conclusion that they must hear to the Prophet (peace be upon him) himself and said to themselves: After all we are not children who can be easily enticed away. For instance, Ibn Ishaq has related in detail the story of Tufail-bin-Amr Dausi in his own words: I was a poet of the clan of Daus. Once I went to Makkah and was, on my arrival there, surrounded by some people of the Quraish who told me all sorts of things against the Prophet (peace be upon him). So I grew suspicious and tried to avoid him as much as possible. The very next day, when I went to visit the Sanctuary, I saw him saying his prayer. I heard a few sentences and felt that what he was reciting were excellent words. I said to myself: I am a poet and a sensible young man and no child who cannot discriminate between the right and the wrong. Why should I not therefore meet him and inquire what he is reciting? Accordingly, I followed him to his house and said: The people had so much poisoned me against you that I had actually put cotton into my ears lest I should hear your voice, but what I have heard today from you was so appealing that I feel urged to inquire into your message rather in detail. At this the Prophet (peace be upon him) recited a passage of the Quran. As a result of which I embraced Islam there and then. On my return home I induced my father and wife to become Muslims, which they did, and then invited the people of my clan to embrace Islam with the result that by time of the battle of the Trench, as many as eighty families from my clan had entered the fold of Islam. (Ibn Hisham, Vol. II, pp. 22-24). According to another tradition cited by Ibn Ishaq, the chiefs of the Quraish confessed in their private meetings that all their charges against the Prophet (peace be upon him) were false. According to him, addressing a meeting, Nadr bin Harith once said: You cannot overcome Muhammad by the methods you are adopting against him. When he was a young man you regarded him as your bestmannered person and looked upon him as your most truthful and honest man. Now that he has attained advanced age, you say, he is a sorcerer, he is a soothsayer, he is a poet, he is insane. By God, he is not a sorcerer, for we very well know what kind of people the sorcerers are and what kind of tricks they resort to. By God, he is not a soothsayer, for we are fully aware of the guess works of the soothsayers. By God, he is not a poet for we know what poetry is and can judge that his words cannot be classified under poetry in any sense. By God, he is not insane, for we all know what nonsensical things the insane people utter. Therefore, O chiefs of the Quraish, let us think of some other plan to defeat him. After this, he himself proposed that stories from Persia like those of Rustam and Asfandyar should be given publicity to divert the people’s attention from the Quran. Accordingly, they put this scheme into practice and Nadr himself began to relate such stories before the people. (Ibn Hisham, Vol. l, pp. 320-321).

سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :7 اس کا پس منظر یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوت کا اثر جب پھیلنے لگا تو مکہ کے سرداروں نے آپس میں مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ آپ کے مقابلے میں پروپیگنڈا کی ایک مہم شروع کی جائے اور ہر اس شخص کو ، جو مکہ میں زیارت کے لیے آئے آپ کے خلاف پہلے ہی سے اتنا بد گمان کر دیا جائے کہ وہ آپ کی بات سننے کے لیے آمدہ ہی نہ ہو ۔ یہ مہم ویسے تو بارہ مہینے جاری رہتی تھی ، مگر خاص طور پر حج کے زمانے میں کثرت سے آدمی پھیلا دیے جاتے تھے جو تمام بیرونی زائرین کے خیموں میں پہنچ کر ان کو خبردار کرتے پھرتے تھے کہ یہاں ایسا ایسا ایک آدمی ہے ، اس سے ہوشیار رہنا ۔ ان گفتگوؤں میں طرح طرح کی باتیں بنائی جاتی تھیں ۔ کبھی کہا جاتا کہ یہ شخص جادوگر ہے ۔ کبھی کہا جاتا کہ ایک کلام اس نے خود گھڑ رکھا ہے ، اور کہتا ہے خدا کا کلام ہے ۔ کبھی کہا جاتا کہ اجی وہ کلام کیا ہے ، دیوانوں کی بڑ اور پراگندہ خیالات کا پلندا ہے ۔ کبھی کہا جاتا کہ شاعرانہ تخیلات اور تک بندیاں ہیں جن کا نام اس نے کلام الہٰی رکھا ہے ۔ مقصد یہ تھا کہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کو بہکایا جائے ۔ صداقت کا ان کے سامنے سرے سے کوئی سوال ہی نہ تھا کہ جم کر کوئی ایک قطعی اور جچی تُلی رائے ظاہر کرتے ۔ لیکن اس جھوٹے پروپیگنڈے کا حاصل جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام انہوں نے خود ملک کے گوشے گوشے میں پہنچا دیا ۔ آپ کی جتنی شہرت مسلمانوں کی کوششوں سے سالہا سال میں بھی نہ ہو سکتی تھی وہ قریش کی اس مخالفانہ مہم سے تھوڑی مدت ہی کے اندر ہو گئی ۔ ہر شخص کے دل میں ایک سوال پیدا ہو گیا کہ آخر معلوم تو ہو وہ کون ایسا آدمی ہے جس کے خلاف یہ طوفان برپا ہے ، اور بہت سے سوچنے والوں نے سوچا کہ اس شخص کی بات سنی تو جائے ۔ ہم کوئی بچے تو نہیں ہیں کہ خواہ مخواہ بہک جائیں گے ۔ اس کی ایک دلچسپ مثال طُفَیل بن عَمرو دَوسی کا قصہ ہے جسے ابن اسحاق نے خود ان کی روایت سے بڑی تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں قبیلہ دوس کا ایک شاعر تھا ۔ کسی کام سے مکہ گیا ۔ وہاں پہنچتے ہی قریش کے چند لوگوں نے مجھے گھیر لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف خوب میرے کان بھرے یہاں تک کہ میں آپ سے سخت بد گمان ہو گیا اور میں نے طے کر لیا کہ آپ سے بچ کر ہی رہوں گا ۔ دوسرے روز میں نے حرم میں حاضری دی تو آپ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے ۔ میرے کانوں میں چند جملے جو پڑے تو میں نے محسوس کیا کہ یہ تو کوئی بڑا اچھا کلام ہے ۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں شاعر ہوں ، جوان مرد ہوں ، عقل رکھتا ہوں ، کوئی بچہ نہیں ہوں کہ صحیح اور غلط میں تمیز نہ کر سکوں ۔ آخر کیوں نہ اس شخص سے مل کر معلوم کروں کہ یہ کیا کہتا ہے ۔ چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر واپس چلے تو میں آپ کے پیچھے پیچھے ہو لیا اور آپ کے مکان پر پہنچ کر میں نے عرض کیا کہ آپ کی قوم نے آپ کے متعلق مجھ سے یہ یہ کچھ کہا تھا ، اور میں آپ سے اس قدر بد گمان ہو گیا تھا کہ میں نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی تھی تاکہ آپ کی آواز نہ سننے پاؤں ۔ لیکن ابھی جو چند کلمے میں نے آپ کی زبان سے سنے ہیں وہ مجھے کچھ اچھے معلوم ہوئے ۔ آپ مجھے ذرا تفصیل سے بتائیے ، آپ کیا کہتے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں مجھ کو قرآن کا ایک حصہ سنایا اور میں اس سے اس قدر متاثر ہوا کہ اسی وقت ایمان لے آیا ۔ پھر واپس جا کر میں نے اپنے باپ اور بیوی کو مسلمان کیا ۔ اس کے بعد اپنے قبیلے میں مسلسل اشاعت اسلام کرتا رہا ، یہاں تک کہ غزوہ خندق کے زمانے تک پہنچتے پہنچتے میرے قبیلے کے ستر اسی گھرانے مسلمان ہو گئے ۔ ( ابن ہشام جلد 2 ، ص 22 ۔ 24 ) ایک اور روایت جو ابن اسحاق نے نقل کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرداران قریش اپنی محفلوں میں خود اس بات کا اعتراف کرتے تھے کہ جو باتیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بناتے ہیں وہ محض جھوٹ ہیں ۔ وہ کہتا ہے کہ ایک مجلس میں نَضر بن حارث نے تقریر کی کہ تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ جس طرح کر رہے ہو اس سے کام نہ چلے گا ۔ وہ جب تمہارے درمیان نو عمر جوان تھا تو تمہارا سب سے زیادہ خوش اطوار آدمی تھا ۔ سب سے زیادہ سچا اور سب سے بڑھ کر امین سمجھا جاتا تھا ۔ اب کہ اس کے بال سفید ہونے کو آ گئے ، تم کہتے ہو یہ ساحر ہے ، کاہن ہے ، شاعر ہے ، مجنون ہے ۔ بخدا وہ ساحر نہیں ہے ، ہم نے سحروں کو دیکھا ہے اور ان کی جھاڑ پھونک سے ہم واقف ہیں ۔ بخدا وہ کاہن بھی نہیں ہے ، ہم نے کاہنوں کی تک بندیاں سنی ہیں اور جیسی گول مول باتیں وہ کیا کرتے ہیں انکا ہمیں علم ہے ۔ بخدا وہ شاعر بھی نہیں ہے ، شعر کی تمام اصناف سے ہم واقف ہیں اور اس کا کلام ان میں سے کسی صنف میں نہیں آتا ۔ بخدا وہ مجنون بھی نہیں ہے ، مجنون کی جو حالت ہوتی ہے اور جیسی بے تکی بڑ وہ ہانکتا ہے کیا اس سے ہم بے خبر ہیں ؟ اے سرداران قریش ، کچھ اور بات سوچو ، جس چیز کا مقابلہ تمہیں درپیش ہے وہ اس سے زیادہ بڑی ہے کہ یہ باتیں بنا کر تم اسے شکست دے سکو ۔ اس کے بعد اس نے یہ تجویز پیش کی کہ عجم سے رستم و اسفندیار کے قصے لا کر پھیلائے جائیں تاکہ لوگ ان میں دلچسپی لینے لگیں اور وہ انہیں قرآن سے زیادہ عجیب معلوم ہوں ۔ چنانچہ کچھ دنوں اس پر عمل کیا گیا اور خود نضر نے داستان گوئی شروع کر دی ۔ ( ابن ہشام جلد اول ، ص 32 ۔ 321 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

ّ (21:5) اضغاث احلام۔ مضاف مضاف الیہ۔ اضغاث ضغث کی جمع ہے جس کے معنی خشک گھاس یا شاخیں جو انسان کی مٹھی میں آجائیں۔ چناچہ ارشاد ربانی ہے :۔ خذ بیدک ضغثا (38:44) اپنے ہاتھ میں مٹھی بھر گھاس لو۔ احلام حلم کی جمع ہے جس کے معنی خواب دیکھنے کے ہیں اور چونکہ گھاس کے تنکے یا خشک شاخیں مٹھے میں بری بھلی سب ملی جلی ہوتی ہیں اس لئے خواب ہائے پریشان کو اضغاث احلام کہتے ہیں۔ جیسے کہ سورة یوسف میں ہے قالوا اضغاث احلام (12:44) انہوں نے کہا کہ یہ تو پراگندہ و پریشان خواب ہیں۔ اسی طرح جس بات یا کلام کا کوئی سرمنہ نہ ہو اور بےربط وملتبس ہوا سے بھی تشبیہا اضغاث احلام کہتے ہیں جیسا کہ آیت ہذا میں ہے یعنی یہ کلام پریشان خیالات کا مجموعہ ہے ۔ بل افتراہ۔ یہ محض پریشان خواب نہیں کیونکہ خواب میں ایسے کلام کو موزوں کرنا بھی ایک شان بےاختیاری ومجذوبیت کا مظہر ہے بلکہ یہ تو ایک من گھڑت کلام ہے جو ان کے اپنے دماغ کی اختراع ہے۔ بل ھو شاعر بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ ایک شاعر ہے اور یہ کلام ایک شاعرانہ جولائی طبع کا نتیجہ ہے۔ جس کی کوئی بنیاد نہیں اور جس میں کوئی ٹھوس حقیقت نہیں اور واقعیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ (علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں کہ اہل عرب شعر کو جھوٹ کے معنی میں استعمال کرتے تھے۔ اور شاعر سے مراد ان کے نزدیک کا ذب تھا۔ اسی لئے اہل عرب جھوٹی دلیلوں کو ادلۃ شعریۃ کہتے ہیں) ۔ فلیاتنا بایۃ۔ یہ جواب شرط محذوف ہے تقدیر کلام یوں ہے ان لم یکن کما قلنا بل کان رسولا من اللہ عزوجل کما یقول فلیاتنا بایۃ۔ اگر یہ ایسا نہیں جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے بلکہ جیسا وہ خود کہتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرستادہ ہے تو پھر لائے ہمارے پاس کوئی (بھاری) معجزہ۔ کما ارسل الاولون۔ جیسا کہ پہلے رسول (بھاری معجزہ ) کے ساتھ بھیجے گئے تھے مثلاً حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ عصا۔ وید بیضاء یا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کہ ان کوڑھی تندرست ہوجاتے تھے اور مردہ زندہ ہوجاتے تھے۔ یہ سارا کلام بل قالوا اضغاث احلام سے لے کر الاولون تک النجوی کے ضمن میں آتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 اگر یہ سچا ہے تو جیسے حضرت صالح موسیٰ اور عیسیٰ معجزے لے کر آئے تھے اس قسم کے معجزے یہ بھی ملا کر دکھائے۔ ان کے یہ الزامات اور فرمائشیں ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر تھیں ورنہ قرآن کی صداقت کے مقابلے میں یہ معجزے کچھ حیثیت نہیں رکھتے، اور یہی کیفیت ہر اس شخص کی ہوتی ہے جو حق سے مغلوب ہوجاتا ہے مگر اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ (قرطبی ۔ شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ خلاصہ یہ کہ رسول نہیں ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات پر کفار کا دوسرا اور تیسرا الزام۔ سرورِ دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت میں کفار اس حد تک بدحواس ہوچکے تھے کہ وہ قرآن مجید کی تاثیر اور اس کی فصاحت و بلاغت ماننے کے باوجود لوگوں کے سامنے یہ پراپیگنڈہ کرتے کہ یہ تو خواب میں دیکھے جانے والے پراگندہ خیالات ہیں۔ جنھیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جو سراسر جھوٹ ہے۔ کبھی کہتے یہ شخص توشاعر ہے۔ اگر یہ واقعی ہی رسول ہوتا تو جس طرح پہلے انبیاء (علیہ السلام) معجزات کے ساتھ بھیجے گئے یہ بھی کوئی معجزہ پیش کرتا۔ یہاں ان الزامات کا فقط یہ جواب دیا گیا ہے کہ جنھیں ہم نے ہلاک کیا تھا۔ وہ بھی معجزات دیکھنے کے باوجود اپنے انبیاء پر ایمان نہیں لائے تھے اگر ان کے پاس ان کا منہ مانگا معجزہ آجائے تو کیا پھر یہ ایمان لے آئیں گے ؟ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے چاند کا دو ٹکڑے ہونا، معراج کے موقعہ پر مسجد اقصیٰ کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لایا جانا اور اس کو دیکھ دیکھ کر کفار کو ٹھیک ٹھیک مسجد اقصیٰ کی نشانیاں بتلانا، پتھروں کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی شہادت دینا۔ اس طرح کے کئی معجزات کفار کے مطالبات پر ظاہر ہوچکے تھے۔ مگر اس کے باوجود اہل مکہ کی غالب اکثریت فتح مکہ سے پہلے ایمان نہیں لائی تھی۔ جس بناء پر ارشاد ہوا کہ اگر ان کا منہ مانگا معجزہ بھی انھیں دکھلا دیا جائے تو پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ جہاں تک آپ پر شاعر ہونے کا الزام ہے۔ اس کا جواب یوں دیا گیا کہ ” شاعر کے دماغ میں شیطان ادھر ادھر کی باتیں ڈالتا ہے اور وہ اکثر جھوٹ ہوتی ہیں اور شاعروں کی پیروی کرنے والے اکثر لوگ گمراہ ہوتے ہیں۔ “ ( نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر شاعر ہونے کا الزام لگانے والو ! غور کرو) کہ شاعر تو ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں اور وہ باتیں کہتے ہیں جن پر ان کا عمل نہیں ہوتا۔ (الشعراء : ٢٢٣ تا ٢٢٦) قرآن مجید کے دوسرے مقام پر اس الزام کا یہ بھی جواب دیا گیا ہے۔ ” ہم نے اپنے پیغمبر کو شاعری نہیں سکھلائی اور نہ ہی اس کی شایان شان ہے۔ وہ شعر کہیں جس بات کو یہشاعری کہتے ہیں یہ تو نصیحت اور واقع ہی قرآن مجید ہے۔ (یٰس : ٩٦) ستائیسویں پارہ میں اس الزام کا اس طرح جواب دیا ہے : کفار کہتے ہیں کہ یہ تو شاعر ہے۔ اس لیے ہم اس کے متعلق حادثات زمانہ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان سے فرما دئیں کہ انتظار کرو میں بھی تمہارے بارے میں منتظر ہوں۔ (الطور : ٢٩۔ ٣٠) اچھے شعر قابل تعریف ہیں : (وَعَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَصْدَقُ کَلِمَۃٍ قَالَھَا الشَّاعِرُ کَلِمَۃُ لَبِیْدٍ أَلَاکُلُّ شَیْءٍ مَاخَلا اللّٰہَ بَاطِلُ ) [ رواہ البخاری : باب مَا یَجُوزُ مِنَ الشِّعْرِ وَالرَّجَزِ وَالْحُدَاءِ وَمَا یُکْرَہُ مِنْہُ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ سب سے زیادہ درست بات، جو کسی شاعر نے کہی وہ لبید کی بات ہے کہ ” سنو ! اللہ کے علا وہ تمام چیزیں فنا ہونے والی ہیں۔ “ (وَعَنْ أُبَیِّ ابْنِ کَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِکْمَۃً ۔ ) [ رواہ البخاری : باب مَا یَجُوزُ مِنَ الشِّعْرِ وَالرَّجَزِ وَالْحُدَاءِ وَمَا یُکْرَہُ مِنْہُ ] ” حضرت ابی بن کعب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ بلا شبہ بعض اشعار حکمت سے لبریز ہوتے ہیں۔ “ مسائل ١۔ کفار قرآن مجید کو خواب کی باتیں قرار دیتے تھے۔ ٢۔ کفار نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاعر کہتے تھے۔ ٣۔ کفار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نئے سے نیا معجزہ مانگتے تھے۔ تفسیر بالقرآن شعر اور شاعر کی حقیقت : ١۔ ہم نے آپ کو شعر نہیں سکھلائے اور نہ ہی یہ آپ کے لیے لائق ہے۔ (یٰس : ٦٩) ٢۔ شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ ہی کرتے ہیں وہ ہر وادی میں گھومتے ہیں اور وہ کچھ کہتے ہیں جو وہ کرتے نہیں (الشعراء : ٢٢٤ تا ٢٢٦) ٣۔ قرآن مجید کسی شاعر کا کلام نہیں مگر تھوڑے ہی لوگ ایمان لاتے ہیں۔ (الحاقۃ : ٤١) ٤۔ آپ اپنے رب کے فضل وکرم سے شاعر اور مجنون نہیں ہیں۔ ( القلم : ٢) شعر اور شعراء کے بارے میں سورة الشعراء کی آیت ٢٢٥ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

بل قالو۔۔۔۔۔۔۔ شاعر (١٢ : ٥) ” وہ کہتے ہیں بلکہ یہ پراگندہ خواب ہیں بلکہ یہ اس کی من گھڑت بات ہے بلکہ یہ شخص شاعر ہے “۔ یہ بلکہ بلکہ ہی کرتے رہیں گے ‘ کسی ایک بات پر بھی جم نہیں سکتے ‘ نہ ان کی ایک رائے ہے ‘ اصل بلکہ یہ ہے کہ دراصل یہ لوگ مختلف تدابیر اختیار کرتے ہیں کہ قرآن کے ان ولولہ انگیزاثرات کو کس طرس روکیں ‘ جو لوگوں پر اثر کررہے اور یہ لوگ دعوے پر دعویٰ کرتے چلے آرہے ہیں ‘ ایک سبب کے بعد دوسرا سبب لاتے ہیں۔ لیکن سخت حیراں ہیں ‘ کسی ایک بات پر جمتے نہیں ‘ اس لیے تمام حرکتوں اور اقوال کو چھوڑ کر آئو اس طرف آتے ہیں کہ کوئی ایسا معجزہ دکھا دیا جائے جو گزرے ہوئے رسولوں نے دکھائے تھے۔ فلیاتنا بأیۃ کمآ ارسل الاولون (١٢ : ٥) ” ورنہ یہ لائے کوئی ایسی نشانی جس طرح پرانے زمانے کے رسول نشانیوں کے ساتھ بھیجے گئے تھے “۔ ہاں اس سے قبل رسولوں نے خارق عادت معجزات دکھائے تھے لیکن کیا جن کے سامنے معجزے پیش ہوئے تھے وہ سب ایمان لائے تھے۔ نہیں وہ تو ایمان نہ لائے اسی لیے تو ہلاک ہوئے اور یہ سنت الہیہ ہے۔ اٹل سنت الہیہ کہ جب کوئی خارق عادت معجزہ پیش ہوجائے اور پھر بھی لوگ نہ مانیں تو ان کو تباہ کرنا لازم ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

7:۔ باطل کی راہیں بیشمار ہیں۔ اس لیے باطل پرست ہمیشہ حیران اور مضطرب رہتا ہے اور اسے کسی ایک بات پر ثبات نصیب نہیں ہوتا۔ مشرکین کبھی تو کہتے کہ یہ پیغمبر جادوگر ہے اور کبھی اس سے ترقی کر کے کہتے۔ بلکہ ویسے ہی بےتکی اور لا یعنی باتیں کہتا ہے۔ ” بَلِ افْتَراہُ “ بلکہ وہ خدا پر افترا اور بہتان باندھ رہا ہے۔ ” بَلْ ھُوَ شَاعِرٌ“ بلکہ ایسا بھی نہیں۔ یہ سب شاعرانہ تخیلات ہیں۔ جنہیں وہ فصیح وبلیغ زبان میں ڈھاک کر بیان کرتا ہے۔ یہ تمام باتیں مشرکین نے محض اس دعوے کی ضد سے کہیں جو ” رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَاءِ وَ الْاَرْضِ “ میں پیش کیا گیا۔ 8:۔ مشرکین کا ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ عصائے موسیٰ اور ناقہ صالح کی قسم کے معجزات ان کو دکھائے جائیں۔ ” مَا اٰمَنَتْ قَبْلَھُمْ الخ “ تخویف دنیوی اور مطالبہ مشرکین کا جواب ہے۔ یعنی عصائے موسیٰ اور ناقہ صالح جیسے معجزے دیکھنے والے ایمان نہ لائے اور آخر ہلاک کردئیے گئے۔ اگر مشرکین مکہ کو ان کے منہ مانگے معجزے دکھا دئیے جاتے تو وہ ایمان لے آتے ؟ ہرگز نہیں بلکہ انکار کردیتے۔ اوراقوام سابقہ کی طرح ہلاک کردئیے جاتے۔ والمعنی ان اھل القری اقترحوا علی انبیائھم الایات وعاھدوا انھم یومنون عندھا فلما جاء تھم نکثوا وخالفوا فاھلکھم اللہ فلو اعطیت ھؤلاء ما یقترحون لنکثوا ایضاً (مدارک ج 3 ص 56) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

5 ان لوگوں نے صرف جادو ہی نہیں کہا بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ قرآن کریم پریشان خواب و خیالات ہیں اور پر یاشن خواب و خیالات کا مجموعہ ہے بلکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود اس کو اپنے قصد و اختیار سے گھڑ لیا اور بنا لیا ہے نہیں بلکہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک شاعر ہیں اور شعر کہتے ہیں اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو کوئی نشانی ایسی لائیں جیسے پہلے لوگ رسول بنائے گئے اور جیسی نشانیوں کے ساتھ وہ رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں کفار مکہ قرآن کریم کے باری میں مختلف خیال رکھتے تھے کوئی جادو کہتا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جادوگر یا جادو زدہ کہتا کوئی اس سے بڑھ کر پریشانی خوابی اور پریشان خیالی کا مجموعہ بتاتا کوئی اس سے بڑھ کر یہ کہتا کہ انہوں نے خود اپنے اختیار اور ارادے سے گھڑ لیا ہے کوئی یہ کہتا کہ یہ ایک شاعر ہے اور یہ سجع بندی اور شعر گوئی ہے اور یہ مطالبہ کرتے کہ اچھا یہ رسول ہیں تو جس طرح ان سے پہلے رسول نشانیاں لے کر آتے تھے ویسے ہی یہ بھی کوئی بڑی نشانی لے کر آتے۔ حالانکہ یہ بدنصیب نہ پہلے رسولوں کو جانتے تھے نہ ان کے معجزات کی خبر تھی نہ ان کو یہ معلوم تھا کہ منہ مانگی نشانی کے بعد ایمان نہ لانے کا انجام کیا ہوتا ہے یہ باتیں محض مسلمانوں کو تنگ اور پریشانی کنے کے لئے کرتے تھے چناچہ حضرت حق تعالیٰ جواب فرماتے ہیں۔