Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 85

سورة الأنبياء

وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ اِدۡرِیۡسَ وَ ذَاالۡکِفۡلِ ؕ کُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۸۵﴾ۚ ۖ

And [mention] Ishmael and Idrees and Dhul-Kifl; all were of the patient.

اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل ( علیہم السلام ) یہ سب صابر لوگ تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ismail, Idris and Dhul-Kifl Allah tells: وَإِسْمَاعِيلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا الْكِفْلِ كُلٌّ مِّنَ الصَّابِرِينَ وَأَدْخَلْنَاهُمْ فِي رَحْمَتِنَا إِنَّهُم مِّنَ الصَّالِحِينَ

ذوالکفل نبی نہیں بزرگ تھے حضرت اسماعیل حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے فرزند تھے ۔ سورۃ مریم میں ان کا واقعہ بیان ہوچکاہے ۔ حضرت ادریس علیہ السلام کا بھی ذکر گزر چکا ہے ۔ ذوالکفل بہ ظاہر تو نبی ہی معلوم ہوتے ہیں کیونکہ نبیوں کے ذکر میں ان کا نام آیا ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ نبی نہ تھے بلکہ ایک صالح شخص تھے اپنے زمانہ کے بادشاہ تھے بڑے ہی عادل اور بامروت ، امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ اس میں توقف کرتے ہیں فاللہ اعلم ۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ ایک نیک بزرگ تھے جنہوں نے اپنے زمانے کے نبی سے عہد وپیمان کئے اور ان پر قائم رہے ۔ قوم میں عدل وانصاف کیا کرتے تھے ۔ مروی ہے کہ جب حضرت یسع علیہ السلام بہت بوڑھے ہوگئے تو ارادہ کیا کہ میں اپنی زندگی میں ہی ان کا خلیفہ مقرر کردوں اور دیکھ لوں کہ وہ کیسے عمل کرتا ہے ۔ لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ تین باتیں جو شخص منظور کرے میں اسے خلافت سونپتا ہوں ۔ دن بھر روزے سے رہے رات بھر قیام کرے اور کبھی بھی غصے نہ ہو ۔ کوئی اور تو کھڑا نہ ہوا ایک شخص جسے لوگ بہت ہلکے درجے کا سمجھتے تھے کھڑا ہوا اور کہنے لگا میں اس شرط کو پوری کردوں گا ۔ آپ نے پوچھا یعنی تو دنوں میں روزے سے رہے گا اور راتوں کو تہجد پڑھتا رہے گا اور غصہ نہ کرے گا ؟ اس نے کہا ہاں ۔ یسع علیہ السلام نے فرمایا اچھا اب کل سہی ۔ دوسرے روز بھی آپ نے اسی طرح مجلس میں عام سوال کیا لیکن اس شخص کے سوا کوئی اور کھڑا نہ ہوا ۔ چنانچہ انہی کو خلیفہ بنا دیا گیا ۔ اب شیطان نے چھوٹے چھوٹے شیاطین کو اس بزرگ کے بہکانے کے لئے بھیجنا شروع کیا ۔ مگر کسی کی کچھ نہ چلی ۔ ابلیس خود چلا دوپہر کو قیلولے کے لئے آپ لیٹے ہی تھے جو خبیث نے کنڈیاں پیٹنی شروع کردیں آپ نے دریافت فرمایا کہ تو کون ہے ؟ اس نے کہنا شروع کیا کہ میں ایک مظلوم ہوں فریادی ہوں میری قوم مجھے ستارہی ہے ۔ میرے ساتھ انہوں نے یہ کیا یہ کیا اب لمبا قصہ سنانا شروع کیا تو کسی طرح ختم ہی نہیں کرتا نیند کا سارا وقت اسی میں چلا گیا اور حضرت ذوالکفل دن رات بس صرف اسی وقت ذرا سی دیر کے لئے سوتے تھے ۔ آپ نے فرمایا اچھا شام کو آنا میں تمہارا انصاف کردوں گا اب شام کو آپ جب فیصلے کرنے لگے ہر طرف اسے دیکھتے ہیں لیکن اس کا کہیں پتہ نہیں یہاں تک کہ خود جا کر ادھر ادھر بھی تلاش کیا مگر اسے نہ پایا ۔ دوسری صبح کو بھی وہ نہ آیا پھر جہاں آپ دوپہر کو دو گھڑی آرام کرنے کے ارادے سے لیٹے جو یہ خبیث آگیا اور دروازہ ٹھونکنے لگا آپ نے کھول دیا اور فرمانے لگے میں نے تو تم سے شام کو آنے کو کہا تھا ، منتظر رہا لیکن تم نہ آئے ۔ وہ کہنے لگا حضرت کیا بتاؤں جب میں نے آپ کی طرف آنے کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگے تم نہ جاؤ ہم تمہارا حق ادا کردیتے ہیں میں رک گیا پھر انہوں نے اب انکار کردیا اور بھی کچھ لمبے چوڑے واقعات بیان کرنے شروع کردئے اور آج کی نیند بھی کھوئی اب شام کو پھر انتظار کیا لیکن نہ اسے آنا تھا نہ آیا ۔ تیسرے دن آپ نے آدمی مقرر کیا کہ دیکھو کوئی دروازے پر نہ آنے پائے مارے نیند کے میری حالت غیر ہو رہی ہے آپ ابھی لیٹے ہی تھے جو وہ مردود پھر آگیا چوکیدار نے اسے روکا یہ ایک طاق میں سے اندر گھس گیا اور اندر سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا آپ نے اٹھ کر پہرے دار سے کہا کہ دیکھو میں نے تمہیں ہدایت کردی تھی پھر بھی آپنے دروازے کے اندر کسی کو آنے دیا اس نے کہا نہیں میری طرف سے کوئی نہیں آیا ۔ اب جو غور سے آپ نے دیکھا تو دروازے کو بند پایا ۔ اور اس شخص کو اندر موجود پایا ۔ آپ پہچان گئے کہ یہ شیطان ہے اس وقت شیطان نے کہا اے ولی اللہ میں تجھ سے ہارا نہ تو نے رات کا قیام ترک کیا نہ تو اس نوکر پر ایسے موقعہ پر غصے ہوا پس اللہ نے ان کا نام ذوالکفل رکھا ۔ اس لئے کہ جن باتوں کی انہوں نے کفالت لی تھیں انہیں پورا کردکھایا ۔ ( ابن ابی حاتم ) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی کچھ تفسیر کے ساتھ یہ قصہ مروی ہے اس میں ہے کہ بنواسرائیل کے ایک قاضی نے بوقت مرگ کہا تھا کہ میرے بعد میرا عہدہ کون سنبھالتا ہے ؟ اس نے کہا میں چنانچہ ان کا نام ذوالکفل ہوا اس میں ہے کہ شیطان جب ان کے آرام کے وقت آیا پہرے والوں نے روکا اس نے اس قدر غل مچایا کہ آپ جاگ گئے دوسرے دن بھی یہی کیا تیسرے دن بھی یہی کیا اب آپ اس کے ساتھ چلنے کے لئے آمادہ ہوئے کہ میں تیرے ساتھ چل کر تیرا حق دلواتا ہوں لیکن راستے میں سے وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ کھڑا ہوا ۔ حضرت اشعری نے منبر پر فرمایا کہ ذوالکفل نبی نہ تھا بنواسرائیل کا ایک صالح شخص تھا جو ہر روز سو نمازیں پڑھتا تھا اس کے بعد انہوں نے اس قسم کی عبادتوں کا ذمہ اٹھایا ۔ اس لئے انہیں ذوالکفل کہا گیا ۔ ایک منقطع روایت میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ منقول ہے ۔ ایک غریب حدیث مسندامام بن حنبل میں ہے اس میں کفل کا ایک واقعہ بیان ہے ذوالکفل نہیں کہا گیا ۔ بہت ممکن ہے یہ کوئی اور صاحب ہوں ۔ واقعہ اس حدیث میں یہ ہے کہ کفل نامی ایک شخص تھا جو کسی گناہ سے بچتا نہ تھا ۔ ایک مرتبہ اس نے ایک عورت کو ساٹھ دینار دے کر بدکاری کے لئے آمادہ کیا جب اپنا ارادہ پورا کرنے کے لئے تیار ہوا تو وہ عورت رونے اور کانپنے لگی ۔ اس نے کہا میں نے تجھ سے کوئی زبردستی تو کی نہیں پھر رونے اور کانپنے کی وجہ کیا ہے؟ اس نے کہا میں نے ایسی کوئی نافرمانی آج تک اللہ تعالیٰ کی نہیں کی ۔ اس وقت میری محتاجی نے مجھے یہ برا دن دکھایا ہے ۔ کفل نے کہا تو ایک گناہ پر اس قدر پریشان ہے؟ حالانکہ اس سے پہلے تو نے کبھی ایسا نہیں کیا ۔ اسی وقت اسے چھوڑ کر اس سے الگ ہوگیا اور کہنے لگا جا یہ دینار میں نے تجھے بخشے ۔ قسم اللہ کی آج سے میں کسی قسم کی اللہ کی نافرمانی نہ کروں گا ۔ اللہ کی شان اسی رات اس کا انتقال ہوتا ہے ۔ صبح لوگ دیکھتے ہیں کہ اس کے دروازے پر قدرتی حروف سے لکھا ہوا تھا کہ اللہ نے کفل کو بخش دیا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

85۔ 1 ذوالکفل کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ نبی تھے یا نہیں ؟ بعض نے ان کی نبوت کے اور بعض ولایت کے قائل ہیں۔ امام ابن جریر نے ان کی بابت توقف اختیار کیا ہے، امام ابن کثیر فرماتے ہیں، قرآن میں نبیوں کے ساتھ ان کا ذکر ان کے نبی ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٦] ذوالکفل کے حالات بھی کتاب و سنت میں کم ہی مذکور ہوئے ہیں۔ آپ کی نبوت میں اختلاف ہے۔ یعنی آپ نبی تھے یا نہیں۔ مگر چونکہ آپ کا ذکر انبیاء کے ہی درمیان آیا ہے۔ اس لیے گمان غالب یہی ہے کہ آپ نبی تھے۔ آپ الیسع کے خلیفہ تھے۔ آپ کا لقب ذوالکفل (بمعنی صاحب نصیب) اور نام بشیر بن ایوب ہے۔ شام کا علاقہ ہی آپ کی دعوت کا مرکز ہے۔ عمالقہ شاہ وقت بنی اسرائیل کا سخت دشمن تھا۔ آپ نے اس سے بنی اسرائیل کو آزاد کرایا۔ پھر وہ بادشاہ بھی مسلمان ہوگیا اور حکومت آپ کے سپرد کی۔ جس کے نتیجہ میں شام کے علاقہ میں ایک دفعہ پھر خوب اسلام پھیلا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِدْرِيْسَ وَذَا الْكِفْلِ : یعنی ان تینوں کو یاد کرو۔ ایوب (علیہ السلام) کے صبر اور ان کے حسن انجام کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے تین پیغمبروں کا ذکر فرمایا جو خاص طور پر صبر کی صفت سے آراستہ تھے۔ اسماعیل (علیہ السلام) نے ذبح کے متعلق اپنے والد ماجد کے پوچھنے پر کہا : ( سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ ) [ الصافات : ١٠٢ ] ” اگر اللہ نے چاہا تو تو مجھے ضرور صبر کرنے والوں میں سے پائے گا۔ “ اور اس نے واقعی صبر کرکے دکھایا۔ اسی طرح وادی غیر ذی زرع میں مستقل رہائش پر اور شکار اور زمزم کے ساتھ زندگی گزارنے پر صبر کیا، پھر بیت اللہ کی تعمیر میں ہر طرح کی مشقت برداشت کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد میں سید ولد آدم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیدا فرمایا۔ اسماعیل اور ادریس ( علیہ السلام) کا ذکر سورة مریم (٥٤ تا ٥٧) میں گزر چکا ہے۔ ذوالکفل کے متعلق قرآن و حدیث میں تفصیل نہیں آئی۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ انبیاء کے ساتھ ذکر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے نبی تھے۔ (واللہ اعلم) اس کے علاوہ تفاسیر میں ان کے متعلق بیان کردہ تمام باتیں اسرائیلیات پر مبنی اور بےاصل ہیں۔ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِيْنَ : صبر کا لفظی معنی باندھنا ہے، یہ تین طرح کا ہوتا ہے : 1 اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر، یعنی اپنے آپ کو اس کی فرماں برداری کا پابند رکھنا۔ 2 اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے صبر، یعنی اپنے آپ کو اس سے روک کر رکھنا۔ 3 اللہ تعالیٰ کی طرف سے تقدیر میں لکھے ہوئے آلام و مصائب آنے پر اپنے آپ کو جزع فزع اور اللہ تعالیٰ یا مخلوق کے شکوہ و شکایت سے روک کر رکھنا۔ کوئی بھی شخص صابر نہیں کہلا سکتا جب تک وہ صبر کی ان تینوں قسموں سے پوری طرح آراستہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام پیغمبروں کے متعلق شہادت دی کہ انھوں نے صبر کا پورا حق ادا کیا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Whether Sayyidna Dhul-Kifl was a prophet or a saint and his strange story Three persons are mentioned in the above two verses. Out of these three there is no doubt about the prophethood of Sayyidna Isma1 (علیہ السلام) and Sayyidna Idris (علیہ السلام) as they are mentioned in the Qur&an as such several times. Ibn Kathir is of the opinion that the mention of the name of Sayyidna Dhul-Kifl along with the other two prophets in the above verse shows that he too was a prophet. However, some other versions do not include him in the category of prophets. They say that he was a saint or a pious person. Imam of Tafsir Ibn Jarir (رح) has reported on the authority of Mujahid (رح) that where Sayyidna Yasa& (علیہ السلام) (who is referred to as a prophet in the Holy Qur&an) became old and weak, he thought of appointing someone who could perform the duties of a prophet on his behalf during his life time. He assembled all his companions for this purpose and told them of his desire to appoint someone who would act as his deputy but who must fulfill three conditions namely that he should fast all the year round, should spend the nights in prayers and does not ever lose his temper. A relatively unknown person who was held in contempt by the people, stood up and offered himself for the job. Sayyidna Yasa& (علیہ السلام) asked him whether he fasted all the year round, spent his nights in prayers and never lost his temper. The man replied in the affirmative and confirmed that he fulfilled all the three conditions. Perhaps Sayyidna Yasa& (علیہ السلام) did not believe his claim and rejected him. After a few days Sayyidna Yasa& (علیہ السلام) reconvened the meeting and repeated his conditions and asked his companions if any of them met the requirements. Everyone remained seated but the same man stood up again and claimed that he fulfilled the three conditions. Then Yasa& (علیہ السلام) appointed him his deputy. When Shaitan realized that Sayyidna Dhul-Kifl had been selected as a deputy to Yasa& (علیہ السلام) he asked all his aides to go to Sayyidna Dhul-Kifl and inveigle him into doing something which would result in his removal from the post of deputy. All his aides excused themselves and said that he was beyond their power to harm. The Satan (Iblis) then said |"Alright, leave him to me. I will take care of him.|" Sayyidna Dhul-Kifl, true to his claim, used to fast during the day and pray the whole night and had a little nap in the afternoon. Satan went to him just when he was about to take his afternoon nap and knocked at the door. He got up and enquired who was there. The Shaitan replied |"I am an old tortured man|". So he opened the door and let him in. The Shaitan came in and started a yarn about the cruelty and injustice which he suffered at the hands of his community and relatives. He stretched the story so long that no time was left for Sayyidna Dhul-Kifl to take his usual nap. So, he told the old man (Shaitan) that he should come to him at the time when he came out, and he would cause justice to be done to him. Later on Sayyidna Dhul-Kifl sat in his court and waited for the old man but he did not turn up. Next morning he again waited for the old man in his court but again he did not come. Then in the afternoon when he was about to have his nap, the old man came and started beating at the door. He enquired who he was, and the Shaitan replied again - |"an old tortured man|" so, he opened the door and asked him |"Didn&t I tell you to come to my court yesterday but you failed to appear, nor did you come this morning?|" To this the Shaitan answered |"Sir, my enemies are very wicked people; when they learnt that you were sitting in your court and would force them to give back to me what was my due, they agreed to settle the matter out of court. But as soon as you left your court, they went back on their promise&. Sayyidna Dhul-Kifl asked him again to come to his court when he was there. All this conversation continued for such a long time that he could not have his usual nap on that day also. He then went to the court and waited for the old man, who again did not turn up. The next day again he waited for him until late in the noon but to no avail. When he returned home on that day, he was very sleepy because of lack of sleep for last two days. Therefore, he asked the family members not to allow anyone to knock at the door. The old man came again and wanted to knock at the door but the family members stopped him, so he entered the house through a ventilator, and started knocking at the door of his room, Sayyidna Dhul-Kifl got up again and saw that the old man had come inside the house while the door was still closed. So he asked him as to how he had entered the house. Then suddenly he became aware that the man standing before him was Shaitan and asked him |"Are you the God&s enemy Iblis?|" He admitted that he was Shaitan and remarked, |"You have thwarted all my plans and frustrated all my efforts to entice you in my design. My intention was to make you angry somehow, so that one of your claims before Yasa& (علیہ السلام) could be proved false.|" It was because of this episode that he was given the title Dhul-Kifl, which means a person who is true to his covenant and performs his duties faithfully, and this title was fully deserved by him. (Ibn Kathir) Another narrative is quoted in Masnad of Ahmad but has the name of the person Alkifl instead of Dhul-Kifl. That is why Ibn Kathir has observed after quoting this narrative that he was a different person and not Dhul-Kifl, who is mentioned in this verse. The narrative is as follows: Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Umar (رض) has reported that he had heard a hadith (حَدِیث) from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) not once, but more than seven times that there was a man by the name Kifl among the Bani Isra&il who did not abstain from any type of sin. Once a woman came to him and he persuaded her to have sexual intercourse with him on payment of sixty guineas. When he got down starting the intercourse, the woman started crying and trembling. So he enquired from her as to what the matter was because he had not used any kind of force on her. The woman replied that the cause of her distress was that she had never in all her life committed adultery and that it was only her adverse circumstances which had forced her to agree to the act. Hearing this, the man got up and told her to go away and keep the money he had given her. He also promised her that he would never again indulge in any sin. Then it so happened that he died the same night and in the morning it was seen that there was a hidden writing on his door that Kifl had been pardoned by Allah غَفَرَاللہ لکدفل . Ibn Kathir observed after quoting this from Masnad of Ahmad that none of the six authentic books on hadith has reported this tradition and its authority is weak. Even if the tradition is true, it mentioned the name as Kifl and not Dhul-Kifl, which means he was some other person. (Allah knows best). The sum and substance of this story is that Dhul-Kifl was the deputy of Prophet Yasa& (علیہ السلام) and it is possible that because of his virtuous deeds his name has been mentioned along with prophets. It is also possible that initially he was the deputy of Sayyidna Yasa` (علیہ السلام) and later on he was elevated to the status of a prophet by Allah Ta` ala.

خلاصہ تفسیر اور اسمعٰیل اور ادریس اور ذوالکفل (کے قصہ) کا تذکرہ کیجئے یہ سب (احکام الٰہیہ شریعیہ اور تکوینیہ پر) ثابت قدم رہنے والے لوگوں میں سے تھے اور ہم نے ان (سب) کو اپنی رحمت (خاصہ) میں داخل کرلیا تھا بیشک یہ (سب) کمال صلاحیت والوں میں تھے۔ معارف و مسائل حضرت ذوالکفل نبی تھے یا ولی اور ان کا قصہ عجیبہ : آیات مذکورہ میں تین حضرات کا ذکر ہے جن میں حضرت اسمعٰیل اور حضرت ادریس (علیہما السلام) کا نبی و رسول ہونا قرآن کریم کی بہت سی آیات سے ثابت اور ان کا تذکرہ بھی قرآن میں جا بجا آیا ہے۔ تیسرے بزرگ ذوالکفل ہیں۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ ان کا نام ان دونوں پیغمبروں کے ساتھ شامل کر کے ذکر کرنے سے ظاہر یہی ہے کہ یہ بھی کوئی اللہ کے نبی اور پیغمبر تھے مگر بعض دوسری روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ زمرہ انبیاء میں نہیں تھے بلکہ ایک مرد صالح اولیاء اللہ میں سے تھے۔ امام تفسیر ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ مجاہد سے نقل کیا ہے کہ حضرت یسع (جن کا نبی و پیغمبر ہونا قرآن میں مذکور ہے) جب بوڑھے اور ضعیف ہوگئے تو ارادہ کیا کہ کسی کو اپنا خلیفہ بنادیں جو ان کی زندگی میں وہ سب کام ان کی طرف سے کرے جو نبی کے فرائض میں داخل ہیں۔ اس مقصد کے لئے حضرت یسع (علیہ السلام) نے اپنے صحابہ کو جمع کیا کہ میں اپنا خلیفہ بنانا چاہتا ہوں جس کے لئے تین شرطیں ہیں جو شخص ان شرائط کا جامع ہو اس کو خلیفہ بناؤں گا۔ وہ تین شرطیں یہ ہیں کہ وہ ہمیشہ روزہ رکھتا ہو اور ہمیشہ رات کو عبادت میں بیدار رہتا ہو اور کبھی غصہ نہ کرتا ہو۔ مجمع میں سے ایک ایسا غیر معروف شخص کھڑا ہوا جس کو لوگ حقیر ذلیل سمجھتے تھے اور کہا کہ میں اس کام کے لئے حاضر ہوں۔ حضرت یسع نے دریافت کیا کہ کیا تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور ہمیشہ شب بیداری کرتے ہو اور کبھی غصہ نہیں کرتے۔ اس شخص نے عرض کیا کہ بیشک میں ان تین چیزوں کا عامل ہوں۔ حضرت الیسع (کو شاید کچھ اس کے قول پر اعتماد نہ ہوا اس لئے) اس روز اس کو رد کردیا پھر کسی دوسرے روز اس طرح مجمع سے خطاب فرمایا اور سب حاضرین ساکت رہے اور یہی شخص پھر کھڑا ہوگیا اس وقت حضرت یسع نے ان کو اپنا خلیفہ نامزد کردیا۔ شیطان نے یہ دیکھا کہ ذوالکفل اس میں کامیاب ہوگئے تو اپنے اعوان شیاطین سے کہا کہ جاؤ کسی طرح اس شخص پر اثر ڈالو کہ یہ کوئی ایسا کام کر بیٹھے جس سے یہ منصب اس کا سلب ہوجائے۔ اعوان شیطان نے عذر کردیا۔ کہ وہ ہمارے قابو میں آنے والا نہیں شیطان ابلیس نے کہا کہ اچھا تم اس کو مجھ پر چھوڑو (میں اس سے نمٹ لوں گا) حضرت ذوالکفل اپنے اقرار کے مطابق دن بھر روزہ رکھتے اور رات بھر جاگتے تھے صرف دوپہر کو قیلولہ کرتے تھے (قیلولہ دوپہر کے سونے کو کہتے ہیں) شیطان عین دوپہر کو ان کے قیلولہ کے وقت آیا اور دروازہ پر دستک دی یہ بیدار ہوگئے اور پوچھا کون ہے کہنے لگا کہ میں بوڑھا مظلوم ہوں، انہوں نے دروازہ کھول دیا۔ اس نے اندر پہنچ کر ایک افسانہ کہنا شروع کردیا کہ میری برادری کا مجھ سے جھگڑا ہے انہوں نے مجھ پر یہ ظلم کیا وہ ظلم کیا، ایک طویل داستان شروع کردی یہاں تک کہ دوپہر کے سونے کا وقت ختم ہوگیا۔ حضرت ذوالکفل نے فرمایا کہ جب میں باہر آؤں تو میرے پاس آجاؤ میں تمہارا حق دلواؤں گا۔ حضرت ذوالکفل باہر تشریف لائے اور اپنی مجلس عدالت میں اس کا انتظار کرتے رہے مگر اس کو نہیں پایا۔ اگلے روز پھر جب وہ عدالت میں فیصلہ مقدمات کے لئے بیٹھے تو اس بوڑھے کا انتظار کرتے رہے اور یہ نہ آیا۔ جب دوپہر کو پھر قیلولہ کے لئے گھر میں گئے تو یہ شخص آیا اور دروازہ کوٹنا شروع کردیا۔ انہوں نے پھر پوچھا کون ہے ؟ جواب دیا کہ ایک مظلوم بوڑھا ہے، انہوں نے پھر دروازہ کھول دیا اور فرمایا کیا میں نے کل تم سے نہیں کہا تھا کہ جب میں اپنی مجلس میں بیٹھوں تو تم آجاؤ (تم نہ کل آئے نہ آج صبح سے آئے) اس نے کہا کہ حضرت میرے مخالف بڑے خبیث لوگ ہیں جب انہوں نے دیکھا کہ آپ اپنی مجلس میں بیٹھے ہیں اور میں حاضر ہوں گا تو آپ ان کو میرا حق دینے پر مجبور کریں گے تو انہوں نے اس وقت اقرار کرلیا کہ ہم تیرا حق دیتے ہیں، پھر جب آپ مجلس سے اٹھ گئے تو انکار کردیا۔ انہوں نے پھر اس کو یہی فرمایا کہ اب جاؤ جب میں مجلس میں بیٹھوں تو میرے پاس آجاؤ۔ اسی گفت و شنید میں آج کے دوپہر کا سونا بھی رہ گیا اور وہ باہر مجلس میں تشریف لے گئے اور اس بوڑھے کا انتظار کرتے رہے (اگلے روز بھی دوپہر تک انتظار کیا وہ نہیں آیا پھر جب تیسرے روز دوپہر کا وقت ہوا اور نیند کو تیسرا دن ہوگیا تھا نیند کا غلبہ تھا) تو گھر میں آ کر گھر والوں کو اس پر مقرر کیا کہ کوئی شخص دروازے پر دستک نہ دے سکے۔ یہ بوڑھا پھر تیسرے روز پہنچا اور دروازے پر دستک دینا چاہا لوگوں نے منع کیا تو ایک روشندان کے راستے سے اندر داخل ہوگیا اور اندر پہنچ کر دروازہ بجانا شروع کردیا یہ پھر نیند سے بیدار ہوگئے اور دیکھا کہ یہ شخص گھر کے اندر ہے اور دیکھا کہ دروازہ بدستور بند ہے اس سے پوچھا، تو کہاں سے اندر پہنچا، اس وقت حضرت ذوالکفل نے پہچان لیا کہ یہ شیطان ہے اور فرمایا کہ کیا تو خدا کا دشمن ابلیس ہے ؟ اس نے اقرار کیا کہ ہاں، اور کہنے لگا کہ تو نے مجھے میری ہر تدبیر میں تھکا دیا کبھی میرے جال میں نہیں آیا، اب میں نے یہ کوشش کی کہ تجھے کسی طرح غصہ دلا دوں تاکہ تو اپنے اس اقرار میں جھوٹا ہوجائے جو یسع نبی کے ساتھ کیا ہے، اس لئے میں نے یہ سب حرکتیں کیں۔ یہ واقعہ تھا جس کی وجہ سے ان کو ذوالکفل کا خطاب دیا گیا، کیونکہ ذوالکفل کے معنی ہیں ایسا شخص جو اپنے عہد اور ذمہ داری کو پورا کرے، حضرت ذوالکفل اپنے اس عہد پر پورے اترے۔ (ابن کثیر) مسند احمد میں ایک روایت اور بھی ہے مگر اس میں ذوالکفل کے بجائے الکفل کا نام آیا ہے۔ اسی لئے ابن کثیر نے اس روایت کو نقل کر کے کہا کہ یہ کوئی دوسرا شخص کفل نامی ہے وہ ذوالکفل جن کا ذکر اس آیت میں آیا ہے وہ نہیں۔ روایت یہ ہے :۔ حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک حدیث سنی ہے اور ایک دو مرتبہ نہیں بلکہ سات مرتبہ سے زائد سنی ہے وہ یہ کہ آپ نے فرمایا کہ کفل بنی اسرائیل کا ایک شخص تھا جو کسی گناہ سے پرہیز نہ کرتا تھا، اس کے پاس ایک عورت آئی اس نے اس کو ساٹھ دینار (گنیاں) دیں اور فعل حرام پر اس کو راضی کرلیا۔ جب وہ مباشرت کے لئے بیٹھ گیا تو یہ عورت کانپنے اور رونے لگی اس نے کہا کہ رونے کی کیا بات ہے کیا میں نے تم پر کوئی جبر اور زبردستی کی ہے۔ اس نے کہا نہیں جبر تو نہیں کیا، لیکن یہ ایسا گناہ ہے جو میں نے کبھی عمر بھر نہیں کیا اور اس وقت مجھے اپنی ضرورت نے مجبور کردیا اس لئے اس پر آمادہ ہوگئی یہ سن کر وہ شخص اسی حالت میں عورت سے الگ ہو کر کھڑا ہوگیا اور کہا کہ جاؤ یہ دینار بھی تمہارے ہیں اور اب سے کفل بھی کوئی گناہ نہیں کرے گا، اتفاق یہ ہوا کہ اسی رات میں کفل کا انتقال ہوگیا اور صبح اس کے دروازے پر غیب سے یہ تحریر لکھی ہوئی دیکھی گئی غفر اللہ للکفل یعنی اللہ نے کفل کو بخش دیا ہے۔ ابن کثیر نے یہ روایت مسند احمد کی نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس کو صحاح ستہ میں سے کسی نے روایت نہیں کیا اور اسناد اس کی غریب ہے اور بہرحال اگر روایت ثابت بھی ہے تو اس میں ذکر کفل کا ہے ذوالکفل کا نہیں، یہ کوئی دوسرا شخص معلوم ہوتا ہے واللہ اعلم خلاصہ کلام یہ ہے کہ ذوالکفل حضرت یسع نبی کے خلیفہ اور ولی صالح تھے، ان کے خاص محبوب اعمال کی بنا پر ہوسکتا ہے کہ ان کا ذکر اس آیت میں بزمرہ انبیاء کردیا گیا اور اس میں بھی کوئی بعد نہیں معلوم ہوتا کہ شروع میں یہ حضرت یسع کے خلیفہ ہی ہوں پھر حق تعالیٰ نے ان کو منصب نبوت عطا فرما دیا ہو۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِدْرِيْسَ وَذَاالْكِفْلِ۝ ٠ۭ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِيْنَ۝ ٨٥ۚۖ كفل الْكَفَالَةُ : الضّمان، تقول : تَكَفَّلَتْ بکذا، وكَفَّلْتُهُ فلانا، وقرئ : وَكَفَّلَها زَكَرِيَّا [ آل عمران/ 37] «3» أي : كفّلها اللہ تعالی، ومن خفّف «4» جعل الفعل لزکريّا، المعنی: تضمّنها . قال تعالی: وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا[ النحل/ 91] ، والْكَفِيلُ : الحظّ الذي فيه الکفاية، كأنّه تَكَفَّلَ بأمره . نحو قوله تعالی: فَقالَ أَكْفِلْنِيها[ ص/ 23] أي : اجعلني کفلا لها، والکِفْلُ : الكفيل، قال : يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ [ الحدید/ 28] أي : كفيلين من نعمته في الدّنيا والآخرة، وهما المرغوب إلى اللہ تعالیٰ فيهما بقوله : رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً [ البقرة/ 201] ( ک ف ل ) الکفالۃ ضمانت کو کہتے ہیں اور تکفلت بکذا کے معنی کسی چیز کا ضامن بننے کے ہیں ۔ اور کفلتہ فلانا کے معنی ہیں میں نے اسے فلاں کی کفالت میں دے دیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَكَفَّلَها زَكَرِيَّا[ آل عمران/ 37] اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا ۔ بعض نے کفل تخفیف فاء کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں اس کا فاعل زکریا (علیہ السلام) ہوں گے یعنی حضرت زکریا (علیہ السلام) نے ان کو پانی کفالت میں لے لیا ۔ اکفلھا زیدا اسے زید کی کفالت میں دیدیا ) قرآن میں ہے : ۔ أَكْفِلْنِيها[ ص/ 23] یہ بھی میری کفالت مٰن دے دو میرے سپرد کر دو الکفیل اصل میں بقدر ضرورت حصہ کو کہتے ہیں ۔ گویا وہ انسان کی ضرورت کا ضامن ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا[ النحل/ 91] اور تم خدا کو اپنا کفیل بنا چکے ہو ۔ اور الکفل کے معنی بھی الکفیل یعنی حصہ کے آتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ [ الحدید/ 28] وہ تمہیں اپنی رحمت سے اجر کے دو حصے عطا فرمائیگا ۔ یعنی دنیا اور عقبیی دونون جہانوں میں تمہیں اپنے انعامات سے نوزے گا ۔ اور یہی دوقسم کی نعمیتں ہیں جن کے لئے آیت رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً [ البقرة/ 201 صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٥۔ ٨٦) اور اسماعیل (علیہ السلام) اور ادرس (علیہ السلام) اور ذوالکفل (علیہ السلام) کا بھی تذکرہ کیجیے یہ سب احکام الہیہ تشریعیہ، وتکوینیہ پر ثابت قدم رہنے والے لوگوں میں سے تھے، ہم ان کو آخرت میں اپنی جنت میں داخل کریں گے اور ذوالکفل (علیہ السلام) کے علاوہ یہ سب نبی تھے اور ذوالکفل (علیہ السلام) نبی نہیں تھے بلکہ ایک صالح نیکوکار شخص تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٥ (وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِدْرِیْسَ وَذَا الْکِفْلِطکُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَ ) ” حضرت ادریس ( علیہ السلام) کا ذکر سورة مریم کی آیت ٥٦ کے ضمن میں بھی آچکا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد اور حضرت نوح (علیہ السلام) سے پہلے مبعوث ہوئے تھے۔ ان سے قبل حضرت شیث (علیہ السلام) کی بعثت بھی ہوچکی تھی۔ حضرت ذوالکفل ( علیہ السلام) کے بارے میں کہیں سے کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں کہ آپ ( علیہ السلام) کب اور کس علاقے میں مبعوث ہوئے۔ احادیث میں بھی آپ ( علیہ السلام) کا تذکرہ نہیں ملتا۔ البتہ موجودہ دور کے ایک عالم اور محقق مولانا مناظر احسن گیلانی (رح) کا خیال ہے کہ ذوالکفل سے مراد گوتم بدھ ہیں اور یہ کہ گوتم بدھ اللہ کے نبی تھے۔ ان کے اس دعویٰ کے بارے میں یقین سے تو کچھ نہیں کہا جاسکتا ‘ لیکن اس سلسلے میں مولانا کے دلائل میں بہرحال بہت وزن ہے۔ گوتم بدھ کے بارے میں تاریخی اعتبار سے ہمیں اس قدر معلومات ملتی ہیں کہ وہ ریاست ” کپل وستو “ کے شہزادے تھے۔ مولانا کے مطابق ” کپل “ ہی دراصل ” کفل “ ہے یعنی ہندی کی ” پ “ عربی کی ” ف “ سے بدل گئی ہے۔ اس طرح ذوالکفل کا مطلب ہے : ” کفل (کپل ) والا “۔ یعنی کپل ریاست کا والی (سدھار کا بدھا یا گوتم بدھا) ۔ آج جو عقائد گوتم بدھ سے منسوب کیے جاتے ہیں ‘ ان میں یقینابہت کچھ تحریف بھی شامل ہوچکی ہوگی۔ جیسے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی تعلیمات میں بھی آپ ( علیہ السلام) کے پیروکاروں نے بہت سے من گھڑت عقائد شامل کرلیے ہیں۔ ممکن ہے کہ گوتم بدھ کی اصل تعلیمات الہامی ہی ہوں اور بعد کے زمانے میں ان میں تحریف کردی گئی ہو۔ بہر حال میں سمجھتا ہوں کہ اس ضمن میں مولانا مناظر احسن گیلانی کے دلائل کافی معقول اور ٹھوس ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

80. For explanation, see( Surah Maryam E. N. 33). 81. Zul-Kifl is not the name but the title of a righteous man, which literally means a man of luck. Here it does not refer to worldly prosperity but to his high character and ranks in the Hereafter. He has also been mentioned by this title in( Surah Suad, Ayat 48). There are different opinions about his identity and nationality. Some have regarded him as Zacharias (but this is not correct because Zacharias has been mentioned separately in( verse 89). Others say that he was Elias, or Joshua, son of Nun, or Elisha, but this again is incorrect, because in (Surah Suad, Ayat 49 )Elisha and Zul- Kifl have been mentioned as separate personalities. Some others say that he was Prophet Job’s son, named Bishr, who succeeded him as Prophet. Allamah Alusi says: The Jews claim that he was Ezekiel who was appointed to Prophethood during the captivity (597 BC) of the Israelites and he performed his mission in a habitation by the side of the Chebar canal. These conflicting opinions indeed confirm nothing. The modern commentators, however, are inclined to believe that he was Ezekiel, though there is no convincing argument about it. This opinion is sound because his description in this verse that he was a patient and righteous man and was blessed by God is fully confirmed by the Book of Ezekiel. He was one of those people who had been taken prisoner by Nebuchadnezzer at the downfall of Jerusalem, who settled the Israeli exiles at Tel-abib by the river Chebar in Iraq. Here, in 594 BC, Ezekiel was raised to Prophethood when he was hardly 30, and he continued preaching the message of God to the exiled Israelites as well as to the iniquitous people and rulers of Jerusalem for full 22 years. In the 9th year of his mission, his wife whom he called the desire of his eyes died, but when the people came to mourn her death, he warned them of the wrath of God and the impending disaster. (Chapter 24: 15-21). The Book of the Prophet Ezekiel in the Bible is one of those scriptures which appear to be genuine and divinely inspired.

سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :80 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم تفسیر سورہ مریم ، حاشیہ 33 ۔ سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :81 ذوالکفل کا لفظی ترجمہ ہے صاحب نصیب ، اور مراد ہے اخلاقی بزرگی اور ثواب آخرت کے لحاظ سے صاحب نصیب ، نہ کہ دنیوی فوائد و منافع کے لحاظ سے ۔ یہ ان بزرگ کا نام نہیں بلکہ لقب ہے ۔ قرآن مجید میں دو جگہ ان کا ذکر آیا ہے اور دونوں جگہ ان کو اسی لقب سے یاد کیا گیا ہے ، نام نہیں لیا گیا ۔ مفسرین کے اقوال اس معاملہ میں بہت مضطرب ہیں کہ یہ بزرگ کون ہیں ، کس ملک اور قوم سے تعلق رکھتے ہیں ، اور کس زمانے میں گزرے ہیں ۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ حضرت زکریا کا دوسرا نام ہے ( حالانکہ یہ صریحاً غلط ہے ، کیونکہ ان کا ذکر ابھی آگے آرہا ہے ۔ ) کوئی کہتا ہے کہ یہ حضرت الیاس ہیں ، کوئی یوشع بن نون کا نام لیتا ہے ، کوئی کہتا ہے یہ الیسع ہیں ، ( حالانکہ یہ بھی غلط ہے ، سورہ ص میں ان کا ذکر الگ کیا گیا ہے اور ذوالکفل کا الگ ) ، کوئی انہیں حضرت الیسع کا خلیفہ بتاتا ہے ، اور کسی کا قول ہے کہ یہ حضرت ایوب کے بیٹے تھے جو ان کے بعد نبی ہوئے اور ان کا اصلی نام بِشْر تھا ۔ آلوسی نے روح المعانی میں لکھا ہے کہ یہودیوں کا دعوی ہے کہ یہ حزقیال ( حِزْقیِ اِیل ) نبی ہیں جو بنی اسرائیل کی اسیری ( 597 ق ۔ م ) کے زمانے میں نبوت پر سرفراز ہوئے اور نہر خابور کے کنارے ایک بستی میں فرائض نبوت انجام دیتے رہے ۔ ان مختلف اقوال کی موجودگی میں یقین و اعتماد کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ فی الواقع یہ کون سے نبی ہیں ۔ موجودہ زمانے کے مفسرین نے اپنا میلان جزقی ایک نبی کی طرف ظاہر کیا ہے ، لیکن ہمیں کوئی معقول دلیل ایسی نہیں ملی جس کی بنا پر یہ رائے قائم کی جا سکے ۔ تاہم اگر اس کے لیے کوئی دلیل مل سکے تو یہ رائے قابل ترجیح ہو سکتی ہے ، کیونکہ بائیبل کے صحیفہ جزقی ایل کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فی الواقع وہ اس تعریف کے مستحق ہیں جو اس آیت میں کی گئی ہے ، یعنی صابر اور صالح ۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو یروشلم کی آخری تباہی سے پہلے بخت نصر کے ہاتھوں گرفتار ہو چکے تھے ۔ بخت نصر نے عراق میں اسرائیلی قیدیوں کی ایک نو آبادی دریائے خابور کے کنارے قائم کر دی تھی جس کا نام تَل اَبیب تھا ۔ اسی مقام پر 594 ق ۔ م ، میں حضرت حزقی اہل نبوت کے منصب پر سرفراز ہوئے ، جبکہ ان کی عمر 30 سال تھی ، اور مسلسل 22 سال ایک طرف گرفتار بلا اسرائیلیوں کو اور دوسری طرف یروشلم کے غافل و سرشار باشندوں اور حکمرانوں کو چونکانے کی خدمت انجام دیتے رہے ۔ اس کار عظیم میں ان کے انہماک کا جو حال تھا اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ نبوت کے نویں سال ان کی بیوی ، جنہیں وہ خود منظور نظر کہتے ہیں ، انتقال کر جاتی ہیں ، لوگ ان کی تعزیت کے لیے جمع ہوتے ہیں ۔ اور یہ اپنا دکھڑا چھوڑ کر اپنی ملت کو خدا کے اس عذاب سے ڈرانا شروع کر دیتے ہیں جو اس کے سر پر تلا کھڑا تھا ( باب 24 ۔ آیات 15 ۔ 27 ) ۔ بائیبل کا صحیفہ حزقی ایل ان صحیفوں میں سے ہے جنہیں پڑھ کر واقعی یہ محسوس ہو گا ہے کہ یہ الہامی کلام ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

39: حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس علیہما السلام کا ذکر تو پہلے سورۂ مریم میں گزرچکا ہے، حضرت ذوالکفل کا قرآن کریم میں صرف نام آیا ہے ان کا کوئی واقعہ قرآن کریم نے بیان نہیں فرمایا، بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ بھی کوئی پیغمبر تھے، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ حضرت یسع (علیہ السلام) کے خلیفہ تھے، اور نبی تو نہیں تھے، لیکن بڑے اونچے درجے کے ولی تھے، واللہ اعلم۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٨٥۔ ٨٦:۔ صحیح بخاری ١ ؎ میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی ایک بہت بڑی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) مکہ (رض) کے میدان میں جب ہاجرہ (علیہا السلام) اور دودھ پیتے بچے اسمعیل (علیہ السلام) کو چھوڑ گئے تو ان کو ایک مشک پانی کی بھری ہوئی دے گئے تھے ‘ جب اس مشک کا پانی ختم ہوچکا اور ہاجرہ (علیہا السلام) پیاس سے بہت پریشان ہوئی تو اللہ کے حکم سے جبرئیل (علیہ السلام) نے زمزم کے مقام پر اپنا پر مارا جس سے یہ زمزم کا چشمہ نکلا اور اس پانی کے سبب سے جرہم بن قحطان کے قبیلہ کے لوگ اس مکہ کے میدان میں آباد ہوئے اور جوان ہوجانے کے بعد اس قبیلہ کی ایک عورت سے اسمعیل (علیہ السلام) کا نکاح ہوا ‘ اس قبیلہ جرہم کے اسمعیل نبی تھے اور جرہم قبیلہ کے زمانہ تک مکہ میں ملت ابراہمی ( علیہ السلام) کو پوری پابندی جاری تھی ‘ قوم جرہم کے زمانہ کے بعد جب قوم خزاعہ کے حوالہ میں بیت اللہ آیا تو قوم خزاعہ کے سردار ایک شخص عمر وبن لحی نے پہلے پہل ملت ابراہمی کو مٹایا اور جدہ سے بت لاکر مکہ میں رکھے اور بت پرستی پھیلائی ‘ چناچہ صحیح بخاری کی ابوہریرہ (رض) کی روایت سے اور مسند امام احمد وغیرہ کی اور رواتیوں سے یہ قصہ سورة المائدہ میں گزر چکا ہے۔ قریش جو یہ کہتے تھے کہ بت پرستی ہمارے بڑوں کا طریقہ ہے قریش کی اس بات کو جھٹلانے کے لیے اسمعیل (علیہ السلام) کے قصہ سے قریش کو یوں قائل کیا گیا ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو بنی اسمعیل کہتے ہیں مگر ان کو یہ خبر نہیں کہ عمرو بن لحی کے پہلے ان کے بڑوں کے بڑے اسمعیل گزرے ہیں ان کا یہ طریقہ ہرگز نہیں تھا ان لوگوں کی یہ بڑی نادانی ہے کہ اپنے اصل بڑوں کے طریقہ کو چھوڑ کر عمروبن لحی کے طریقہ پر جمے ہوئے ہیں ‘ صحیح بخاری میں امام بخاری (رح) نے بغیر سند کے عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن عباس (رض) کا یہ قول جو بیان کیا ہے کہ الیاس اور ادریس ایک ہی پیغمبر کا نام ہے اس میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے قول کی سند تو ضعیف ہے ٢ ؎ اور عبداللہ بن مسعود کے قول کی سند تفسیر بن ابی حاتم ٣ ؎ میں اگرچہ معتبر ہے ‘ لیکن یہ قول ابوذر (رض) کی حدیث کے مخالف ہے ‘ جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ ادریس (علیہ السلام) نے پہلے پہل قلم سے لکھنا دنیا میں جاری کیا کیونکہ الیاس ( علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سے ہیں اور قلم سے لکھنا بنی اسرائیل سے پہلے دنیا میں جاری تھا ‘ چناچہ یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو جو خط لکھا ہے اس کا ذکر اکثر مفسروں نے اپنی تفسیروں میں کیا ہے ‘ اس واسطے یہی قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ ادریس (علیہ السلام) نوح (علیہ السلام) سے پہلے ہیں ‘ ادریس (علیہ السلام) کا قصہ سورة مریم میں گزر چکا ہے۔ ابوذر (رض) کی اوپر کی حدیث کو ابن حبان نے صحیح کہا ہے ٤ ؎‘ صحیح بخاری ومسلم کی مالک بن صعصعہ کی روایت ٥ ؎ کے اور صحیح مسلم کی انس بن مالک کی روایت ٦ ؎ کے موافق صحیح قول یہی ہے کہ معراج کے وقت اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ادریس (علیہ السلام) کی ملاقات چوتھے آسمان پر ہوئی ہے ‘ ذوالکفل کے نبی ہونے اور نہ ہونے میں صحابہ (رض) کے زمانہ سے اختلاف چلا آتا ہے چناچہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اسی بات کے قائل ہیں کہ ذوالکفل نبی نہیں تھے ٧ ؎ اور ابو موسیٰ اشعری (رض) منبر ٨ ؎ پر وعظ کی طرح بیان کیا کرتے تھے کہ بنی اسرائیل میں ذوالکفل ایک نیک شخص تھے ‘ نبی نہیں تھے ‘ مسند امام احمد میں عبداللہ بن عمر (رض) سے ایک روایت ہے ٩ ؎ جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ بنی اسرائیل میں الکفل نام کا ایک شخص بڑا گنہگار تھا ‘ اس نے ایک عورت کو ساٹھ اشرفیاں بدکاری کے وعدہ پر دیں اور جب اس نے اس عورت سے بدکاری کا ارادہ کیا تو وہ عورت رونے لگی ‘ الکفل نے اس عورت سے رونے کا سبب پوچھا تو اس عورت نے کہا۔ میں نے ایسا برا کام کبھی عمر بھر نہیں کیا ‘ تنگ دستی نے مجھے اس کام کے وعدہ پر مجبور کردیا ہے۔ الکفل نے عورت کی یہ بات سن کر اس کو رخصت کیا اور ساٹھ اشرفیاں بھی اس کے پاس چھوڑ دیں اور عہد کرلیا کہ آئندہ وہ عمر بھر کوئی گناہ نہ کرے گا ‘ اس عہد کی ہی رات کو الکفل کا انتقال ہوگیا اور صبح کو اس کے دروازے پر یہ لکھا ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے الکفل کی مغفرت فرما دی ‘ حافظ ابن کثیر (رح) نے مسندامام احمد کے حوالہ سے اس حدیث کو اپنی تفسیر میں نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ صحاح ستہ کے کسی مصنف نے اپنی کتاب میں اس حدیث کو نہیں لیا ‘ ترمذی کے ابواب ١٠ ؎ زہد میں یہ حدیث موجود ہے اور قصہ بھی پورا وہی ہے جو مسند امام احمد میں ہے اور ترمذی نے اس حدیث کو حسن بھی کہا ہے لیکن مسند امام احمد اور ترمذی کے لفظوں میں تھوڑا سافرق ہے اس لیے شاید حافظ ابن کثیر کا مطلب یہ ہے کہ مسند احمد کے لفظوں سے یہ حدیث صحاح ستہ کی کسی کتاب میں نہیں ہے ‘ مسند امام احمد اور ترمذی میں تو یہ قصہ الکفل کے نام سے ہے لیکن یہ روایت صحیح ابن حبان ‘ طبرانی اور شعب الایمان بیہقی میں بھی ہے اور ان کتابوں کی بعضی روایتوں میں کچھ قصہ الکفل کے نام سے بیان کیا گیا ہے ‘ اس سورة کا نام سورة الانبیاء ہے اور اللہ تعالیٰ نے ذوالکفل کا نام انبیاء کے ناموں کے ساتھ لیا ہے ‘ اس واسطے حافظ ابن کثیر (رح) نے صحابہ (رض) کے اس اختلاف کو یوں رفع کیا ہے ١١ ؎ کہ قرآن شریف میں جن ذوالکفل کا ذکر ہے وہ تو نبی ہیں اور عبداللہ بن عمر (رض) کی روایت میں جس کا ذکر ہے وہ بنی اسرائیل میں کا کوئی دوسرا شخص ہے ‘ آخر کو فرمایا ‘ جن انبیاء کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ سب آزمائش کے وقت صبر کرنے والے ‘ اللہ کی مرضی کے پابند نیک بندے تھے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت کے قابل ٹھہرایا۔ (١ ؎ صحیح بخاری مع فتح الباری ص ٢٣٥۔ ٢٣٩ ج ٣۔ ) (٢ ؎ فتح الباری ص ٢٢٤ ج ٣ ) (٣ ؎ فتح الباری ص ٣٣٤ ج ٣ وفتح البیان ص ٢٥ ج ٣ ) (٤ ؎ فتح الباری ص ٢٢٦ ج ٣ ) (٥ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٨ ج ٣ ) (٦ ؎) مشکوٰۃ ص ٥٢٧۔ (٧ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ١٩١ ج ٣ ) (٨ ؎ ایضا ) (٩ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٣٩١ ج ٣ اور لکھا ہے اسنا وہ غریب ) (١٠ ؎ راقم کو جابع ترمذی کے ابواب الزہد میں یہ روایت نہیں مل سکی واللہ علم ‘ البتہ منذری نے بحوالہ جامع ترمذی وحاکم ذکر کی ہے دیکھئے عنوان ” الترغیب فی الخوف “ ) (١١ ؎ اترغیب والترہیب باب مذکور میں تفسیر ابن کثیر ص ١٥١ ج ٣ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:85) واسمعیل وادریس وذا الکفل۔ ای واذکر فعل مقدرہ کے مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ حضرت ذوالکفل کے باب میں اختلاف ہے کہ آیا یہ نبی تھے یا ایک صالح شخص تھے، سیاق قرآن سے ان کا نبی ہونا مظنون ہوتا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : انبیاء کا ذکر جاری ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا تفصیلی ذکر سورة مریم میں ہوچکا ہے۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کا تعارف حضرت ادریس (علیہ السلام) کے نسب اور زمانہ کے بارے میں مؤرخین کی سوچ میں بڑا تضاد پایا جاتا ہے۔ اس عظیم پیغمبر کے بارے میں قرآن مجید اور احادیث کی دستاویزات میں نہایت ہی مختصر ذکر ہے۔ جس کسی نے ادریس (علیہ السلام) کے بارے میں لکھا ہے۔ اس کی تحریر کا مآخذ بنی اسرائیل کی روایات کے سوا کچھ نہیں۔ اسرائیلی روایات کے بارے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت کو اس اصول کا پابند کیا ہے کہ ان روایات کی تصدیق یا تردید نہ کرو۔ لہٰذا حرف آخر یہی ہے کہ ان کے بارے میں ثقہ معلومات موجود نہیں ہیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معراج کے موقعہ پر ادریس (علیہ السلام) سے ملاقات : آپ فرماتے ہیں پھر جبریل مجھے چوتھے آسمان پر لے کر چڑھے دروازہ کھولنے کو کہا۔ سوال ہوا کہ کون ہے ؟ کہا : میں جبریل ہوں۔ پوچھا : تمہارے ساتھ کون ہے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں پوچھا گیا کیا انہیں بلوایا گیا ہے ؟ جبریل نے کہا : ہاں کہا گیا : خوش آمدید جو آیا ہے کتنا ہی اچھا ہے ؟ دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں اندر داخل ہوا تو وہاں ادریس (علیہ السلام) تھے جبریل نے کہا : یہ ادریس (علیہ السلام) ہیں انہیں سلام کریں۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا : صالح بھائی اور پیغمبر کو خوش آمدیدکہتا ہوں۔ [ رواہ البخاری : باب المعراج ] حضرت ادریس (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں تذکرہ : ١۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں دو بار تذکرہ ہوا ہے۔ ٢۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) صدیق نبی تھے۔ (مریم : ٥٦) ٣۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) صبر کرنے والے تھے۔ (الانبیاء : ٨٥) (تفصیل کے لیے سورة مریم آیت ٥٦ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں) سیدنا ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر مبارک اس آیت کریمہ میں حضرت اسماعیل، حضرت ادریس (علیہ السلام) کے ساتھ جس پیغمبر یا شخصیت کا ذکر ہوا ہے ان کا نام نامی ذالکفل ہے قرآن و سنت میں ان کے نام کے تذکرہ کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ البتہ اسرائیلی روایات کے حوالے سے مؤرخین نے چند معلومات فراہم کی ہیں۔ قرآن مجید نے ان کی عظمت و فضیلت کا تذکرہ یہاں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کے ساتھ کیا ہے۔ سورة ص کی آیت ٤٨ میں ان کے بارے میں یوں بیان ہوا ہے۔ ” اے پیغمبر ! اسماعیل اور الیاس کے ساتھ ذالکفل کا تذکرہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی رحمت سے ہمکنار کیا کیونکہ وہ اللہ کے نیک بندوں میں تھے۔ (وَإِسْمَاعِیْلَ وَإِدْرِیْسَ وَذَا الْکِفْلِ کُلٌّ مِنَ الصَّابِرِیْنَ وَ اَدْخَلْنٰھُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا اِنَّھُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ) [ الانبیاء : ٨٥۔ ٨٦] ” اور اسماعیل وادریس اور ذوالکفل سب صبر کرنے والے تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت کے سایہ میں لے لیا۔ یقیناً وہ نیک بندوں میں سے تھے۔ “ (وَاذْکُرْ إِسْمَاعِیْلَ وَالْیَسَعَ وَذَا الْکِفْلِ وَکُلٌّ مِنَ الْأَخْیَارِ ) [ آ : ٤٨] ” اور یاد کرو اسمعیل اور الیسع اور ذوالکفل یہ سب نیکو کاروں میں سے تھے۔ “ ذوالکفل کا لفظی ترجمہ ” صاحب نصیب “ ہے اخلاق اور بزرگی میں بڑا حصہ پانے والا۔ قرآن حکیم نے ان کو اسی لقب سے یاد کیا ہے اور یہ لقب ان کے نام کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں جو ان کے بعد نبوت سے سرفراز ہوئے اور ان کا اصل نام بشر تھا۔ علامہ آلوسی (رض) نے تفسیر روح المعانی میں لکھا ہے کہ اہل کتاب ان کا نام ” حِزقی ایل “ بتاتے ہیں جو بنی اسرائیل کی اسیری کے زمانے میں نبوت سے سرفراز ہوئے۔ بُخت نصر نے عراق میں اسرائیلی قیدیوں کی ایک نو آبادی قائم کی تھی جس کا نام تل اَبِیب تھا۔ حضرت ذوالکفل اسی مقام پر ہدایت و رسالت کے منصب پر سرفراز کیے گئے اور طرح طرح کی تکالیف اٹھائیں مگر اس کے باوجود یروشلم کے حکمرانوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ جس کی وجہ سے ان کے مصائب میں مزید اضافہ ہوتا رہا۔ ممکن ہے ان کے اسی صبر وضبط کی وجہ سے انہیں ذوالکفل کا لقب دیا گیا ہو۔ مسائل ١۔ حضرت ذوالکفل بھی اللہ کے صابر، شاکر بندوں میں سے تھے۔ ٢۔ اللہ نے انھیں اپنی رحمت سے سرفراز فرمایا تھا۔ ٣۔ اللہ نے انھیں اپنے صالح بندوں میں شمار فرمایا ہے

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس کے بعد قرآن مجید حضرت اسماعیل ‘ حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل کی طرف صرف اشارہ کرتا ہے۔ واسمعیل و ادریس۔۔۔۔۔۔ من الصلحین (٥٨۔ ٦٨) ’ ان انبیاء کے حالات زندگی میں صبر کا عنصر بہت اہمیت رکھتا ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں ذبح کردیا جائے۔ جب ان کے علم میں یہ بات آئی تو انہوں نے سر تسلیم خم کردیا۔ یہ صبر کا مثالی نمونہ تھا۔ یا ابت افعل۔۔۔۔۔۔ من الصبرین ” اے باپ ‘ آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اس پر عمل کریں۔ انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے “۔ حضرت ادریس کے بارے میں اس سے قبل یہ بات آگئی ہے کہ ان کا زمان و مکان مجمول ہے۔ ان کے بارے میں بعض لوگوں نے یہ رائے دی ہے کہ وہ اور ادریس ہیں جن کی وفات کے بعد مصریوں نے ان کی پرستش شروع کردی تھی اور ان کے ساتھ کئی قصے اور کہانیاں وابستہ کردی تھیں مثلاً یہ کہ وہ انسانوں کے معلم اول ہیں ‘ جنہوں نے انسانوں کو زراعت سکھائی۔ صنعت کی تعلیم دی لیکن اس بات پر کوئی قطعی دلیل نہیں ہے۔ ہمیں اس کا یقین ہے کہ انہوں نے بھی کسی مشکل میں مثالی صبر کا مظاہرہ کیا جس کا ذکر اللہ کی آخری کتاب میں ضروری سمجھا گیا۔ حضرت ذوالکفل کے زمان و مکان کے بارے میں بھی معلومات نہیں ہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ وہ نبی اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ وہ صالحین بنی اسرائیل میں سے تھے۔ ان کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے کسی نبی کی کفالت اور خدمت کی اور انہوں نے ان کو اپنی خلافت تین شرائط کی ضمانت دینے پر ‘ ان کے حوالے کی کہ پوری رات عبادت کریں گے ‘ ہر دن روزے سے ہوں گے اور فیصلہ کرتے وقت کسی پر غصہ نہ کریں گے۔ انہوں نے ان ضمانتوں کو پورا کیا اس کیے ان کو ذوالکفل کیا گیا لیکن یہ بھی ایک قول ہے اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ قرآن کریم یہاں صرف یہ تصریح کرتا ہے کہ یہ صبر کرنے والے تھے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت اسماعیل و حضرت ادریس و حضرت ذوالکفل ( علیہ السلام) کا تذکرہ ان آیات میں حضرت اسماعیل، حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل ( علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا اور یہ فرمایا کہ یہ سب صابرین میں سے تھے۔ حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کا تذکرہ سورة مریم میں گزر چکا ہے اور حضرت ذوالکفل کا نام یہاں قرآن مجید میں پہلی جگہ آیا۔ اور سورة ص میں بھی حضرت ذوالکفل کا تذکرہ ہے۔ وہاں فرمایا (وَاذْکُرْ اِسْمَاعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْکِفْلَ وَ کُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِ ) (اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کیجیے اور یہ سب اچھے لوگوں میں سے ہیں) حضرت الیسع کا ذکر سورة انعام میں گزر چکا ہے یہاں حضرت ذوالکفل کے بارے میں لکھا جاتا ہے۔ احادیث مرفوعہ میں ان کے بارے میں بھی واضح معلومات نہیں ملتی ہیں، اسی لیے ان کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ نبی تھے یا انبیاء کے علاوہ صالحین میں سے تھے۔ حضرت ذوالکفل کون تھے ؟ تفسیر درمنثور میں حضرت ابن عباس و حضرت مجاہد وغیرھما سے کچھ باتیں نقل کی ہیں۔ بظاہر یہ سب اسرائیلی روایات ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ یہ انبیاء سابقین میں سے ایک نبی تھے۔ انہوں نے اپنی امت کو جمع کیا اور فرمایا کہ تم میں سے کون شخص ایسا ہے جو میری امت کے درمیان فیصلہ کرنے (یعنی قاضی بننے) کی ذمہ داری لیتا ہے اور میری شرط یہ ہے کہ جو شخص یہ عہدہ قبول کرے وہ غصہ نہ ہو۔ ان میں سے ایک جوان کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ میں اس کا ذمہ دار بنتا ہوں۔ تین مرتبہ یہی سوال و جواب ہوا۔ جب تین مرتبہ اس جوان نے ذمہ داری لے لی تو اس سے قسم کھلوائی۔ اس نوجوان نے قسم کھالی اور اس کو قضا کا عہدہ سپرد کردیا گیا۔ ایک دن دوپہر کے وقت شیطان آیا جبکہ یہ نوجوان قاضی نیند میں تھے۔ اس نے انہیں آواز دے کر جگایا اور ان سے کہا کہ فلاں شخص نے مجھ پر زیادتی کی ہے۔ میری مدد کیجیے۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر چل دیئے۔ تھوڑی دور چلے کہ شیطان اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا۔ چونکہ شیطان بےوقت مدعی بن آیا، اور ان کو سوتے سے جگایا پھر بھی غصہ نہ ہوئے اور جو ذمہ داری لی تھی اس پر قائم رہے۔ اس لیے ان کا نام ذوالکفل رکھ دیا گیا۔ یعنی ذمہ داری والا شخص۔ اس کو نقل کرنے کے بعد صاحب درمنثور نے بحوالہ عبدالرزاق و عبدبن حمید و غیرھما نقل کیا ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نے فرمایا کہ ذوالکفل نبی نہیں تھے لیکن بنی اسرائیل میں ایک صالح آدمی تھے جو روزانہ دن بھر نماز پڑھتے تھے۔ جب ان کی وفات ہوگئی تو ان کے بعد ایک اور شخص نے اسی طرح دن بھر نماز پڑھنے کا عہد کیا۔ چناچہ وہ اس پر عمل کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کا نام ذوالکفل (ذمہ داری والا شخص) رکھ دیا گیا۔ اس سلسلہ میں مفسرین نے سنن ترمذی سے بھی ایک حدیث نقل کی ہے اور وہ یہ ہے کہ ذوالکفل بنی اسرائیل میں سے ایک شخص تھا جو کسی بھی گناہ سے پرہیز نہیں کرتا تھا۔ اس کے پاس ایک عورت آئی اس نے اس عورت کو اس شرط پر ساٹھ دینار دیئے کہ اس کے ساتھ برا کام کرے۔ جب وہ اس کے اوپر بیٹھ گیا تو وہ عورت کانپ گئی اور رونے لگی۔ وہ کہنے لگا تو کیوں روتی ہے میں نے تجھ سے کوئی زبردستی تو نہیں کی۔ وہ کہنے لگی کہ بات تو ٹھیک ہے۔ لیکن یہ ایسا کام ہے جو میں نے کبھی نہیں کیا۔ ضرورت نے مجبور کیا اس لیے میں اس پر آمادہ ہوگئی۔ اس پر اس نے کہا کہ اچھا یہ بات ہے ؟ یہ کہہ کر وہ ہٹ گیا اور وہ ساٹھ دینار بھی دے دیئے اور کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اس کے بعد میں کوئی گناہ نہیں کروں گا۔ پھر اسی آنے والی رات میں مرگیا۔ صبح کو اس کے دروازہ پر یوں لکھا ہوا تھا کہ بلاشبہ اللہ نے کفل کو بخش دیا۔ امام ترمذی نے یہ واقعہ ابواب صفۃ القیامۃ میں نقل فرمایا ہے اور اس کو حدیث حسن بتایا ہے۔ لیکن یہ کوئی ضروری نہیں کہ یہ اسی شخص کا واقعہ ہو جس کو قرآن مجید نے ذوالکفل بتایا ہے اور اگر اسی شخص کا واقعہ ہو تو پھر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ ذوالکفل نبی نہیں تھے۔ چونکہ انبیاء کرام نبوت سے پہلے بھی کبائر سے محفوظ ہوتے ہیں۔ پھر مزید بات یہ ہے کہ حدیث شریف میں ذوالکفل نہیں ہے۔ لفظی مشابہت کی وجہ سے مفسرین نے اس قصہ کو یہاں نقل کردیا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

58:۔ ” وَ اِسْمَا عِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ الخ “ یہ ساتویں تفصیلی نقلی دلیل ہے۔ یہ سب صبرو استقلال سے توحید سناتے رہے۔ ” وَ اَدْخَلْنٰھُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا “ ان کو ہم نے کافروں کے شر سے بچا کر اپنی رحمت میں داخل کیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(85) اور اے پیغمبر اسماعیل (علیہ السلام) اور ادریس (علیہ السلام) اور ذوالکفل کا تذکرہ بھی کیجئے یہ سب ثابت قدم رہنے والے اور صبر کرنے والے تھے۔