Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 86

سورة الأنبياء

وَ اَدۡخَلۡنٰہُمۡ فِیۡ رَحۡمَتِنَا ؕ اِنَّہُمۡ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۸۶﴾

And We admitted them into Our mercy. Indeed, they were of the righteous.

ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کر لیا ۔ یہ سب لوگ نیک تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And (remember) Ismail, Idris and Dhul-Kifl: All were from among the patient. And We admitted them to Our mercy. Verily, they were of the righteous. Ismail was the son of Ibrahim Al-Khalil, peace be upon them both. He has already been mentioned in Surah Maryam, where mention was also made of Idris. From the context and the fact that Dhul-Kifl is mentioned alongside Prophets, it appears that he was also a Prophet. Others say that he was a righteous man, a just king and a fair judge. Ibn Jarir refrained from making any decisive comment. And Allah knows best.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاَدْخَلْنٰهُمْ فِيْ رَحْمَتِنَا ۭ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ : ” صَلَحَ یَصْلَحُ صَلَاحًا “ (ف، ن، ک) درست ہونا۔ یہ فساد کی ضد ہے۔ (قاموس) اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء کی تعریف فرمائی کہ وہ پوری طرح صالح تھے، ان کا دل اللہ تعالیٰ پر ایمان، اس کی محبت اور ہر وقت اس کے ذکر سے درست تھا۔ ان کی زبان اس کے ذکر، اس کے دین کی دعوت اور ہر وقت سچ کہنے سے درست تھی اور دوسرے تمام اعضاء اس کے احکام کی اطاعت اور منع کردہ چیزوں سے اجتناب کی وجہ سے درست تھے، کیونکہ ان تینوں کے درست ہوئے بغیر کوئی شخص صالح نہیں کہلا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ صبر و صالحیت کی وجہ سے ہم نے انھیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا اور انھیں نبوت عطا کی۔ دنیا و آخرت کی نعمتیں عطا فرمائیں، یہی کیا کم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان کی تعریف فرمائی اور قیامت تک کے لیے انھیں حقیقی ناموری عطا فرمائی۔ (سعدی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَدْخَلْنٰہُمْ فِيْ رَحْمَتِنَا۝ ٠ۭ اِنَّہُمْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ۝ ٨٦ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ حضرت ابن عمر (رض) کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے ایک فرد تھے جو گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے لیکن انہوں نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا۔ اکثر مفسرین (رح) کے نزدیک وہ نبی نہ تھے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ الکفل اور ذوالکفل ایک شخص ہو ممکن ہے یہ دو شخص ہوں۔ (ابن کثیر شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

واذخلنھم فی ۔۔۔۔ من الصلحین (١٢ : ٦٨) ” ان کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا کہ وہ صالحوں میں سے تھے “۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(86) اور ہم نے ان سب کو اپنی رحمت کاملہ میں لے لیا۔ بلاشبہ یہ نیک لوگوں میں سے تھے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سید نا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے ہیں جو احکامِ الٰہی کی بجا آوری میں نہایت ثابت قدم تھے۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کا ذکر سورة مریم میں گزرا ہے یہ بہت متقدمین میں سے ہیں۔ کہتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی وفات کے سو برس بعد حضرت ادریس (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے ان کا نام اخنوخ ہے درس و تدریس کے باعث ان کا نام ادریس (علیہ السلام) ہوگیا۔ ذوالکفل کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں بعض ان کی نبوت کے قائل ہیں بعض کہتے ہیں ایک صالح اور بزرگ آدمی تھے۔ کسی نے کہا یوشع (علیہ السلام) کا نام ذوالکفل ہے بعض نے کہا یہ الیاس ہیں۔ بہرحال ! یہ سب لوگ احکامِ شرعیہ کے بجالانے میں بڑے صابر اور ثابت قدم تھے۔ رحمت میں لے لینے کا مطلب وہی ہے کہ خواص میں سے تھے اس لئے خاص رحمت میں داخل کرلیا یا یہ کہ صالحین اور برگزیدہ لوگوں کی جماعت میں ان کو داخل کردیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہتے ہیں ذوالکفل تھے حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بیٹے ایک شخص کے ضامن ہوکر کئی برس قید رہے اور للہ یہ محنت سہی۔ 12۔ حضرت مجاہد نے ان کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے لیکن انہوں نے ذوالکفل کی نبوت سے انکار کیا البتہ ایک نبی کے ضامن ہوگئے تھے کہ ان کی قوم ان کو تکلیف نہ پہنچائے گی۔ ان پیغمبر نے اپنی آخری عمر میں ان کو اپنا وصی مقرر کردیا تھا اور تین باتوں کا ان سے عہد لیا ایک یہ کہ رات کو ہمیشہ نماز پڑھا کریں گے دوسرے یہ کہ دن کو روزہ رکھا کریں گے کبھی افطار نہیں کریں گے۔ تیسرے یہ کہ جب کبھی قضیے کے چکانے کے لئے حکم بنیں گے تو غضب اور غصہ نہ کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے یہ شرطیں منظور کرلیں اور اس پیغمبر نے ان کو اپنا خلیفہ بناکر ان کو خلافت دے دی ان کو ان تینوں شرطوں کے پورا کرنے میں بڑی بڑی مشکلات پیش آئیں لیکن یہ ثابت قدم رہے اور ان شرطوں کو پورا کیا جن پر خلافت حاصل کی تھی۔ بعض حضرات نے کہ ہے ذوالکفل حضرت زکریا (علیہ السلام) ہیں۔ (واللہ اعلم بالصواب)