Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 88

سورة الأنبياء

فَاسۡتَجَبۡنَا لَہٗ ۙ وَ نَجَّیۡنٰہُ مِنَ الۡغَمِّ ؕ وَ کَذٰلِکَ نُــۨۡجِي الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸۸﴾

So We responded to him and saved him from the distress. And thus do We save the believers.

تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ... So `We answered his call, and delivered him from the distress. means, `We brought him forth from the belly of the fish and from that darkness.' ... وَكَذَلِكَ نُنجِي الْمُوْمِنِينَ And thus We do deliver the believers. means, when they are in difficulty and they call upon Us and repent to Us, especially if they call upon Us with these words at the time of distress. The leader of the Prophets encouraged us to call upon Allah with these words. Imam Ahmad recorded that Sa`d bin Abi Waqqas, may Allah be pleased with him, said: "I passed by Uthman bin Affan, may Allah be pleased with him, in the Masjid, and greeted him. He stared at me but did not return my Salam. I went to Umar bin Al-Khattab and said: `O Commander of the faithful, has something happened in Islam!' I said that twice. He said, `No, why do you ask?' I said, `I passed by Uthman a short while ago in the Masjid and greeted him, and he stared at me but he did not return my Salam.' Umar sent for Uthman and asked him, `Why did you not return your brother's Salam?' He said, `That is not true.' Sa`d said, `Yes it is.' It reached the point where they both swore oaths. Then Uthman remembered and said, `Yes, you are right, I seek the forgiveness of Allah and I repent to Him. You passed by me a short while ago but I was preoccupied with thoughts of something I had heard from the Messenger of Allah, which I never think of but a veil comes down over my eyes and my heart.' Sa`d said: `And I will tell you what it was. The Messenger of Allah told us the first part of the supplication then a Bedouin came and kept him busy, then the Messenger of Allah got up and I followed him. When I felt worried that he would enter his house, I stamped my feet. I turned to the Messenger of Allah , who said, مَنْ هَذَا أَبُو إِسْحَاقَ Who is this Abu Ishaq? I said, "Yes, O Messenger of Allah." He said, فَمَه (What is the matter)? I said, "Nothing, by Allah, except that you told us the first part of the supplication, then this Bedouin came and kept you busy." He said, نَعَمْ دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ هُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ Yes, the supplication of Dhun-Nun when he was in the belly of the fish: لااَّ إِلَـهَ إِلااَّ أَنتَ سُبْحَـنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ الظَّـلِمِينَ There is no God but You, Glorified be You! Truly, I have been of the wrongdoers. فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا مُسْلِمٌ رَبَّهُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلاَّ اسْتَجَابَ لَه No Muslim ever prays to his Lord with these words for anything, but He will answer his prayer." It was also recorded by At-Tirmidhi, and by An-Nasa'i in Al-Yawm wal-Laylah. Ibn Abi Hatim recorded that Sa`d said that the Messenger of Allah said: مَنْ دَعَا بِدُعَاءِ يُونُسَ اسْتُجِيبَ لَه Whoever offers supplication in the words of the supplication of Yunus, will be answered. Abu Sa`id said: "He was referring to: وَكَذَلِكَ نُنجِي الْمُوْمِنِينَ (And thus We do deliver the believers)."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

88۔ 1 ہم نے یونس (علیہ السلام) کی دعا قبول کی اور اسے اندھیروں سے اور مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اور جو بھی مومن ہمیں اس طرح شدائد اور مصیبتوں میں پکارے گا، ہم اسے نجات دیں گے۔ حدیث میں آتا ہے۔ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ' جس مسلمان نے بھی اس دعا کے ساتھ کسی معاملے کے لئے دعا مانگی تو اللہ نے اسے قبول فرمایا (جامع ترندی نمبر 3505 وصححہ الالبانی)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٨] یعنی اللہ تعالیٰ کو عاجزی سے پکارنے پر اللہ تعالیٰ کا سابقہ خطاؤں کو معاف کرکے مزید انعامات سے نوازنا حضرت یونس سے ہی مخصوص نہیں بلکہ جو بھی ایماندار لوگ ہمیں اسی طرح پکاریں گے ہم انھیں مصائب سے نجات دیں گے۔ حضرت یونس مچھلی کے پیٹ میں یہ دعا کرتے رہے (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ 87؀ښ) 21 ۔ الأنبیاء :87) احادیث میں اس دعا کی بہت فضیلت آئی ہے اور امت نے شدائد و مصائب میں اس دعاء کو بہت مجرب پایا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَكَذٰلِكَ نُـــــْۨـجِي الْمُؤْمِنِيْنَ : اس کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی مراد ہیں، ایک یہ کہ جس طرح ہم نے یونس (علیہ السلام) کی دعا قبول کرکے انھیں غم سے نجات دی اسی طرح ہم ایمان والوں کو ان کی دعائیں قبول کرکے غم سے نجات دیتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ جس طرح اس دعا کے ساتھ ہم نے یونس (علیہ السلام) کو غم سے نجات دی اسی طرح ایمان والوں کو ہم اس دعا کے ساتھ غم سے نجات دیتے ہیں۔ سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( دَعْوَۃُ ذِي النُّوْنِ إِذْ دَعَا وَھُوَ فِيْ بَطْنِ الْحُوْتِ ( لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ ) فَإِنَّہٗ لَمْ یَدْعُ بِھَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِيْ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَاب اللّٰہُ لَہٗ ) [ ترمذي، الدعوات، باب [ في دعوۃ ذي النون ] : ٣٥٠٥۔ مسند أحمد : ١؍١٧٠، ح : ١٦٤٤، و صححہ الألباني ]” ذو النون (یونس (علیہ السلام ) کی دعا، جو اس نے مچھلی کے پیٹ میں کی ” لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ “ کوئی مسلم آدمی اس کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں دعا نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The prayer of Yunus (علیہ السلام) is invoked by all people at all times and for all their needs وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ (And this is how We rescue the believers - 21:88.) That is, just as We released Yunus (علیہ السلام) from his misery and distress, so do We deliver other believers (مُؤْمِنِينَ ) when they turn towards Us repenting their sins sincerely. According to a hadith of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) if a Muslim prays to Allah Ta` a1a for the grant of a wish in the words used by Yunus (علیہ السلام) when he was in the stomach of the fish i.e. لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ (21:87) He would accept his prayer and grant his wish. (Ahmad, Tirmidhi, Mahari)

دعا یونس (علیہ السلام) ہر شخص کے لئے ہر زمانے میں ہر مقصد کے لئے مقبول ہے : وَكَذٰلِكَ نُـــــْۨـجِي الْمُؤ ْمِنِيْنَ ، یعنی جس طرح ہم نے یونس (علیہ السلام) کو غم اور مصیبت سے نجات دی اس طرح ہم سب مومنین کے ساتھ بھی یہی معاملہ کرتے ہیں جبکہ وہ صدق و اخلاص کے ساتھ ہماری طرف متوجہ ہوں اور ہم سے پناہ مانگیں۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ذوالنون کی وہ دعا جو انہوں نے بطن ماہی کے اندر کی تھی یعنی لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ ، جو مسلمان اپنے کسی مقصد کے لئے ان کلمات کے ساتھ دعا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمادیں گے (رواہ احمد والترمذی و الحاکم و صححہ من حدیث سعد بن ابی وقاص۔ از مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ۝ ٠ۙ وَنَجَّيْنٰہُ مِنَ الْغَمِّ۝ ٠ۭ وَكَذٰلِكَ نُـــــْۨجِي الْمُؤْمِنِيْنَ۝ ٨٨ نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔ غم الغَمُّ : ستر الشیء، ومنه : الغَمَامُ لکونه ساترا لضوء الشمس . قال تعالی: يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ [ البقرة/ 210] . والغَمَّى مثله، ومنه : غُمَّ الهلالُ ، ويوم غَمٌّ ، ولیلة غَمَّةٌ وغُمَّى، قال : ليلة غمّى طامس هلالها وغُمَّةُ الأمر . قال : ثُمَّ لا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً [يونس/ 71] ، أي : كربة . يقال : غَمٌ وغُمَّةٌ. أي : كرب وکربة، والغَمَامَةُ : خرقة تشدّ علی أنف النّاقة وعینها، وناصية غَمَّاءُ : تستر الوجه . ( غ م م ) الغم ( ن ) کے بنیادی معنی کسی چیز کو چھپا لینے کی ہیں اسی سے الغمیٰ ہے جس کے معنی غبار اور تاریکی کے ہیں ۔ نیز الغمیٰ جنگ کی شدت الغمام کہتے ہیں کیونکہ وہ سورج کی روشنی کو ڈھانپ لیتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ [ البقرة/ 210] کہ خدا کا عذاب بادلوں کے سائبانوں میں آنازل ہوا ۔ اسی سے غم الھلال ( چاند ابر کے نیچے آگیا اور دیکھا نہ جاسکا ۔ ویوم غم ( سخت گرم دن ولیلۃ غمۃ وغمی ٰ ( تاریک اور سخت گرم رات ) وغیرہ ہا محاورات ہیں کسی شاعر نے کہا ہے ( جز ) ( 329) لیلۃ غمی ٰ طامس ھلالھا تاریک رات جس کا چاند بےنور ہو ۔ اور غمۃ الامر کے معنی کسی معاملہ کا پیچدہ اور مشتبہ ہونا ہیں ، قرآن پاک میں ہے : ۔ ثُمَّ لا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً [يونس/ 71] پھر تمہارا معاملہ تم پر مشتبہ نہ رہے ۔ یعنی پھر وہ معاملہ تمہارے لئے قلق و اضطراب کا موجب نہ ہو اور غم وغمۃ کے ایک ہی معنی ہیں یعنی حزن وکرب جیسے کرب وکربۃ اور غمامۃ اس چیتھڑے کو کہتے ہیں جو اونٹنی کی ناک اور آنکھوں پر باندھ دیا جاتا ہے تاکہ کسی چیز کو دیکھ یاسونگھ نہ سکے ) اور ناصیۃ غماء پیشانی کے لمبے بال جو چہرے کو چھالیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٨) ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اور ان کو تاریکیوں سے نجات دی اور اسی طرح ہم اور ایمان والوں کو بھی غم و پریشانی سے دعا کے وقت نجات دیا کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَکَذٰلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْنَ ) ” یعنی یہ معاملہ حضرت یونس ( علیہ السلام) کے ساتھ مخصوص نہیں۔ جو اہل ایمان بھی ہم کو اسی طرح پکاریں گے ہم ان کو مصائب سے نجات دیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:88) ننجی مضارع جمع متکلم۔ انجاء (افعال) مصدر۔ ہم نجات دیتے ہیں۔ ہم رہائی دیتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ۔ یعنی یہ حجرت یونس ( علیہ السلام) کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ ہم ایمان والوں کو … ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس مسلمان نے بھی کسی مصیبت میں اس دعا سے پکارا اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرمائی۔ (شوکانی بحوالہ ترمذی، نسائی) 3 ۔ یعنی حقیقی وارث تو ہی ہے اگر تو مجھے اولاد نہ بھی دے گا تب بھی میرے بعد اپنے دن کا کوئی انتظام ضرور کرے گا۔ (عرصبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ حضرت یونس (علیہ السلام) سے اس واقعہ میں کوئی امر کی مخالفت نہیں ہوئی، صرف اجتہاد میں غلطی ہوئی، جو امت کے لئے عفو ہے مگر انبیاء کی تربیت و تہذیب زائد مقصود ہوتی ہے، اس لئے یہ ابتلاء ہوا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(88) پھر ہم نے اس کی دعا قبول کرلی اور اس کو غم اور الم سے نجات دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں۔ یعنی جب بطن ماہی میں یونس (علیہ السلام) نے پکارا تو ہم نے اس کو اس غم اور گھٹن سے نجات دے دی اور ہم اسی طرح دوسرے اہل ایمان کو بھی کرب و غم سے نجات دیا کرتے ہیں کسی مصیبت اور کرب و شدت کے موقع پر لآ الٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظٰلمین کا پڑھنا موثر ثابت ہوا ہے اپنے اکابر کا سوا لاکھ بار پڑھنا معمول ہے۔ دیگرمشائخ سے مختلف طریقے منقول ہیں۔