Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 94

سورة الأنبياء

فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا کُفۡرَانَ لِسَعۡیِہٖ ۚ وَ اِنَّا لَہٗ کٰتِبُوۡنَ ﴿۹۴﴾

So whoever does righteous deeds while he is a believer - no denial will there be for his effort, and indeed We, of it, are recorders.

پھر جو بھی نیک عمل کرے اور وہ مومن ( بھی ) ہو تو اسکی کوشش کی بے قدری نہیں کی جائیگی ہم تو اس کے لکھنے والے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُوْمِنٌ ... So whoever does righteous good deeds while he is a believer, meaning, his heart believes and his deeds are righteous. ... فَلَ كُفْرَانَ لِسَعْيِهِ ... his efforts will not be rejected. This is like the Ayah: إِنَّا لاَ نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلً certainly We shall not make the reward of anyone who does his deeds in the most perfect manner to be lost. (18:30) which means, his efforts will not be wasted; they will be appreciated and not even a speck of dust's weight of injustice will be done. Allah says: ... وَإِنَّا لَهُ كَاتِبُونَ Verily, We record it for him. means, all his deeds are recorded and nothing of them at all is lost.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ ۔۔ : یعنی ان مختلف گروہوں میں سے جو بھی اس کے مطابق کچھ عمل کرے گا جو اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے، جب کہ وہ اللہ تعالیٰ پر، اس کی توحید پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر، اس کی کتابوں پر، خیر و شر تقدیر پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو، تو اس کی کوشش کی کوئی ناقدری نہ ہوگی اور اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کو اس کے نامۂ اعمال میں درج فرمائے گا۔ مِنَ الصّٰلِحٰتِ “ میں ” مِنْ “ بعض کے معنی میں ہے۔ (ابوالسعود) یعنی جو شخص صالح اعمال میں سے کچھ اعمال کرے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ” پس جو شخص کچھ نیک اعمال کرے۔ “ اللہ تعالیٰ کی کریمی دیکھیے کہ ایمان کے بعد بعض اعمال صالحہ کی بھی قدر دانی ہو رہی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَہُوَمُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْيِہٖ۝ ٠ۚ وَاِنَّا لَہٗ كٰتِبُوْنَ۝ ٩٤ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات والعمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ كفر ( ناشکري) الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وكُفْرُ النّعمة وكُفْرَانُهَا : سترها بترک أداء شكرها، قال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] . وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ، فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] ويقال منهما : كَفَرَ فهو كَافِرٌ. قال في الکفران : لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] ، وقال : وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ کفر یا کفر ان نعمت کی ناشکری کر کے اسے چھپانے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] ؂ تو اس کی کوشش رائگاں نہ جائے گی ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا فَأَبى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُوراً [ الفرقان/ 50] مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا ۔ اور فعل کفر فھوا کافر ہر دو معانی کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ معنی کفران کے متعلق فرمایا : ۔ لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّما يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] تاکہ مجھے آز مائے کر میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوم ۔ اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے ۔ اور جو ناشکری کرتا ہے ۔ تو میرا پروردگار بےپروا اور کرم کر نیوالا ہے ۔ وَاشْكُرُوا لِي وَلا تَكْفُرُونِ [ البقرة/ 152] اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا ۔ سعی السَّعْيُ : المشي السّريع، وهو دون العدو، ويستعمل للجدّ في الأمر، خيرا کان أو شرّا، قال تعالی: وَسَعى فِي خَرابِها[ البقرة/ 114] ، وقال : نُورُهُمْ يَسْعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ [ التحریم/ 8] ، وقال : وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَساداً [ المائدة/ 64] ، وَإِذا تَوَلَّى سَعى فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 205] ، وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى [ النجم/ 39- 40] ، إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى [ اللیل/ 4] ، وقال تعالی: وَسَعى لَها سَعْيَها [ الإسراء/ 19] ، كانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُوراً [ الإسراء/ 19] ، وقال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] . وأكثر ما يستعمل السَّعْيُ في الأفعال المحمودة، قال الشاعر : 234- إن أجز علقمة بن سعد سعيه ... لا أجزه ببلاء يوم واحد «3» وقال تعالی: فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ [ الصافات/ 102] ، أي : أدرک ما سعی في طلبه، وخصّ المشي فيما بين الصّفا والمروة بالسعي، وخصّت السّعاية بالنمیمة، وبأخذ الصّدقة، وبکسب المکاتب لعتق رقبته، والمساعاة بالفجور، والمسعاة بطلب المکرمة، قال تعالی: وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آياتِنا مُعاجِزِينَ [ سبأ/ 5] ، أي : اجتهدوا في أن يظهروا لنا عجزا فيما أنزلناه من الآیات . ( س ع ی ) السعی تیز چلنے کو کہتے ہیں اور یہ عدو ( سرپٹ دوڑ ) سے کم درجہ ( کی رفتار ) ہے ( مجازا ) کسی اچھے یا برے کام کے لئے کوشش کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَسَعى فِي خَرابِها[ البقرة/ 114] اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو ۔ نُورُهُمْ يَسْعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ [ التحریم/ 8]( بلکہ ) ان کا نور ( ایمان ) ان کے آگے ۔۔۔۔۔۔ چل رہا ہوگا ۔ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَساداً [ المائدة/ 64] اور ملک میں فساد کرنے کو ڈوڑتے بھریں ۔ وَإِذا تَوَلَّى سَعى فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 205] اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں ( فتنہ انگریزی کرنے کے لئے ) دوڑتا پھرتا ہے ۔ وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى [ النجم/ 39- 40] اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی ۔ إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى [ اللیل/ 4] تم لوگوں کی کوشش طرح طرح کی ہے ۔ وَسَعى لَها سَعْيَها [ الإسراء/ 19] اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی اسے لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے ۔ فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] تو اس کی کوشش رائگاں نی جائے گی لیکن اکثر طور پر سعی کا لفظ افعال محمود میں استعمال ہوتا ہے کسی شاعر نے کہا ہے ( الکامل ) 228 ) ان جز علقمہ بن سیف سعیہ لا اجزہ ببلاء یوم واحد اگر میں علقمہ بن سیف کو اس کی مساعی کا بدلہ دوں تو ایک دن کے حسن کردار کا بدلہ نہیں دے سکتا اور قرآن میں ہے : ۔ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ [ الصافات/ 102] جب ان کے ساتھ دوڑ نے کی عمر کو پہنچا ۔ یعنی اس عمر کو پہنچ گیا کہ کام کاج میں باپ کا ہاتھ بٹا سکے اور مناسب حج میں سعی کا لفظ صفا اور مردہ کے درمیان چلنے کے لئے مخصوص ہوچکا ہے اور سعاد یۃ کے معنی خاص کر چغلی کھانے اور صد قہ وصول کرنے کے آتے ہیں اور مکاتب غلام کے اپنے آپ کو آزاد کردانے کے لئے مال کمائے پر بھی سعایۃ کا لفظ بولا جاتا ہے مسا عا ۃ کا لفظ فسق و محور اور مسعادۃ کا لفظ اچھے کاموں کے لئے کوشش کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آياتِنا مُعاجِزِينَ [ سبأ/ 5] اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں میں اپنے زعم باطل میں ہمیں عاجز کرنے کے لئے سعی کی میں سعی کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے ہماری نازل کر آیات میں ہمارے عجز کو ظاہر کرنے کے لئے پوری طاقت صرف کر دالی ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٤) سو جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری کرتا ہوگا اور وہ اپنے ایمان میں سچا بھی ہوگا تو اس کے اعمال صالحہ کا ثواب ضائع نہیں جائے گا بلکہ اسے اس کے اعمال پر ثواب دیا جائے گا اور ہم اس کو بدلہ اور ثواب دینے والے ہیں اور یہ کہ ہم ان کے اعمال لکھ لیتے ہیں اور ان کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩٤ (فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا کُفْرَانَ لِسَعْیِہٖ ج) ” اللہ تعالیٰ ” الشّکور “ (قدر دان) ہے۔ اگر کسی کے دل میں ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت موجود ہے تو اس کے اخلاص اور ایثار کے مطابق اس کے ہر نیک عمل کی جزا دی جائے گی۔ ایسے کسی شخص کے چھوٹے سے عمل کی بھی ناقدری نہیں کی جائے گی۔ رہے وہ لوگ جو اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے لیکن نیکی اور بھلائی کے مختلف کام بھی کرتے ہیں تو اللہ کو ان کے ایسے کسی عمل سے کوئی سروکار نہیں۔ بہر حال جو کوئی بھی نیکی کا کوئی کام اللہ کی رضا اور آخرت کے اجر کی نیت کے بجائے محض دکھاوے یا کسی اور غرض کی بنا پر کرے گا تو اسے اس کا کوئی اجر آخرت میں نہیں ملے گا۔ مثلاً اگر کوئی شخص الیکشن لڑنا چاہتا ہے اور اس کے لیے گھر گھر جا کر خیرات بانٹ رہا ہے تو اس کے اس عمل کے پیچھے اس کا خاص مقصد اور مفاد ہے نہ کہ اللہ کی رضا۔ لہٰذا اللہ کے ہاں ایسا کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں ہے۔ (وَاِنَّا لَہٗ کٰتِبُوْنَ ) ” خالص ہماری رضا کے حصول کے لیے یا ہمارے دین کی سربلندی کے لیے جو ‘ جہاں اور جب کوئی عمل انجام پارہا ہے ہم اسے اپنے ہاں لکھ رہے ہیں تاکہ ایسے ہر ایک عمل کا پورا پورا اجر دیا جائے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:94) کفران۔ کفر یکفر سے مصدر ہے۔ نعمتوں سے ناشکری۔ انکار کرنا۔ نعمت یا کوشش کی ناقدردانی۔ لا کفران لسعیہ اس کی کوشش رائیگاں نہیں جائے گی ! اس کی کوشش اکارت نہیں جائے گی۔ اس کی کوشش کی ناقدری نہیں جائے گی۔ یعنی اس کی ہر کوشش کی کما حقہ قدروقیمت لگائی جائے گی۔ انا لہ کاتبون۔ ہم تو اس کے ہر فعل وعمل کو لکھے جا رہے ہیں اس لئے اس کے عمل میں سے ذرہ برابر بھی بغیر قدروقیمت کے نہ رہے گا۔ یہاں فرشتوں کی کتابت اعمال کو اپنی جانب منسوب کر کے فرمایا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٧) اسرارومعارف اور آخرت میں تو وہ ایماندار لوگ ہی نام پائیں گے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں گے کہ ان کا کوئی عمل رائیگاں نہ جائے گا کہ اللہ کریم کے لکھنے والے ہر ہر عمل کو لکھ لیتے ہیں یعنی آخرت کے اجر کی بنیاد عقیدہ ہے کہ درست ہو اور صرف عقیدہ ہی نہ رہے اس کے ساتھ عمل صالح یعنی نبی (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق عمل بھی ہو تو ہر چھوٹا بڑا عمل انعام اور اجر پائے گا مگر جو لوگ ایمان ہی قبول نہیں کرتے وہ عمل تو کر ہی نہیں سکتے اور پھر عذاب الہی سے تباہ ہوجاتے ہیں تو آنکھ کھلتی ہے مگر ان کے لیے پھر سے عمل کے لیے دنیا میں واپس آنا ہرگز ممکن نہیں ، یہاں تک کہ دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی یاجوج ماجوج کی رکاوٹ یعنی سد سکندری ختم ہوجائے گی اور ہر پہاڑ ہر ٹیلے پر سے گذرتے ہر شے کو تباہ کرتے چلے آرہے ہوں گے یہاں ان کا ذکر قیامت کی بہت بڑی نشانی کے طور پر ہوا ہے اور پر اللہ جل جلالہ کا کھرا اور سچا وعدہ بہت قریب آچکا ہوگا ، جب کفار کی آنکھیں پتھرا جائیں گی جب قیامت قائم ہوگی ہر شے تباہی کی نذر ہوگی تو انہیں خبر ہوگی کہ وائے بدبختی ہم تو اس سے غفلت ہی کا شکار رہے ، بھلا کوئی اتنے بڑے حادثے سے بھی بیخبر رہ سکتا ہے یہ تو ہم ہی ظالم تھے کہ آخرت کا انکار کرتے رہے تو ارشاد ہوگا کہ اب مزہ چکھو نہ صرف تم بلکہ تمہارے وہ سب بت یا وہ مخلوق جو اپنی پوجا کروانے پہ خوش تھی ، جن ہوں یا انسان اب سب مل کر دوزخ کا ایندھن بنو گے اور تمہیں ثابت ہوجائے گا کہ یہ ہرگز عبادت کے لاحق نہ تھے ورنہ خود تو دوزخ میں نہ جلتے اور یوں یہ سب لوگ کافر بھی اور ان کے معبودان باطل بھی ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے ، شجر وحجر جو پوجے جاتے تھے ان کا عاجز ہونا بھی معلوم ہوگا اور اپنے پوجنے والوں کو جلانے کے لیے ایندھن کا کام بھی کریں گے اور جن یا انسان جو اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے میں اپنی رائے منواتے تھے اور اپنی پوجا کرواتے تھے ان کا عجز بھی ظاہر ہوگا اور خود وہ بھی سزا بھگتیں گے نیز اس قدر چیخیں اور چلائیں گے کہ کوئی کسی کی سن نہیں رہا ہوگا ، کوئی انہیں ملامت بھی کیا کرے گا سب اپنی اپنی مصیبت میں چلا رہے ہوں گے اور اللہ کے مقرب بندے جو ہمیشہ اللہ جل جلالہ کی عبادت کی دعوت دیتے رہے مگر لوگوں نے گمراہ ہو کر انہی کو پوجنا شروع کردیا جیسے عیسائی عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور یہودی عزیر (علیہ السلام) کو اللہ جل جلالہ کا بیٹا ماننے لگے تو اس میں ان انبیاء کرام (علیہ السلام) صلحا یا فرشتوں کا دخل نہیں ، لوگ اپنی گمراہی کے باعث اللہ جل جلالہ سے بھی شرک کرتے اور ان کی بات کے خلاف بھی کرتے تھے لہذا ایسے لوگوں کے لیے تو اللہ جل جلالہ کی طرف سے بہت ہی نیک اور اعلی انعام کا وعدہ ہوچکا وہ تو جہنم کی آہٹ اور ہلکے سے ہلکے اثر سے بھی کوسوں دور ہوں گے بلکہ وہ تو اپنے مزے میں ہوں جنت میں جہاں جو چاہیں گے پائیں گے اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معبودان باطل کو بھی جہنم میں جانے کی وعید سنائی تو مشرکین مشتعل ہوئے اور یہود کے علماء کے پاس گئے اور کہا ہمارے بتوں کی بہت توہین کی گئی ہے جبکہ ہم انہیں خدا مانتے ہیں تو انہوں نے کہا تم کہہ دو کہ اگر جن کی عبادت ہوتی ہے سب جہنم میں جائیں گے تو نبی فرشتہ اور ولی بھی شامل ہوں گے کہ لوگ تو انہیں بھی پوجتے ہیں ، اس مندرجہ بالا آیت میں جواب ارشاد ہوا کہ لوگوں نے گمراہی اختیار کی وہ خود بھگتیں گے اور اللہ کے مقرب بندے نہ صرف دوزخ سے دور اور جنت میں مقیم ہوں گے بلکہ قیامت کی سختیاں اور نفخہ صور جس سے ارض وسما پھٹ رہے ہوں گے ان کو ذرہ پریشان نہ کرے گا نہ صرف اللہ جل جلالہ انہیں اس سے محفوظ رکھے گا بلکہ اکراما فرشتے انہیں لینے کو آئیں گے اور انہیں مبارک باد دیں گے کہ یہی تو وہ لمحہ ہے اور یہی وہ دن ہے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا تھا اور دنیا کے امتحان میں ثابت قدم رہنے کے انعامات کی گھڑی ہے یہ دن نافرمانوں کے لیے بہت سخت اور اسی لمحے اطاعت گذاروں کے لیے باعث رحمت ہوگا ۔ ورنہ تو وہ روز اس قدر سخت ہوگا کہ زمین تو زمین آسمان تک بوسیدہ کاغذ کی طرح لپٹے ہوئے دست قدرت میں ہونگے اور تمام نظام عالم تباہ وبرباد ہو کر کچھ نہ بچے گا پھر قدرت باری سے ایسے ہی بنایا جائے گا جیسا کہ پہلے بنایا گیا ، یہ ہمارا وعدہ ہے جو ضرور پورا کیا جائے گا اور جس پر ہر حال میں عمل ہوگا ، یہ بات ہم نے تمام آسمانی کتب میں ارشاد فرما دی کہ ہماری زمین یعنی جنت ایسا ملک جس پر عارضی ملکیت کا دعوی بھی کسی کا نہیں ہمارے نیک بندوں کی وراثت ہے ، ان ہی کا ہے جیسے وراثت وارث ہی کو پہنچتی ہے یہ انہیں کو ملے گا نیز ان سب باتوں میں اور مذکورہ حقائق میں ان لوگوں کے لیے جو اللہ کی اطاعت کا راستہ اپنانا چاہتے ہیں بہت بڑی نصیحت موجود ہے کہ ابھی وارعمل میں ہیں توبہ کرسکتے ہیں اور اعمال کا افرادی نتیجہ نیز دنیا پر گذرنے والے احوال بھی بتادیئے گئے تو اپنی اصلاح کرسکتے ہیں لیکن جو اپنی اصلاح کرنا ہی نہ چاہے تو اسے کیا حاصل ۔ rnّ (رحمۃ للعلمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ صرف یہ کہ کتاب ہدایت عطا فرمائی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات ستودہ صفات کو تو ہم نے سب جہانوں کے لیے سراپا رحمت بنایا ہے اور آپ کی ہر ادا رحمت الہی کا ایک روپ ہے ، آپ کی ہر سنت انعامات باری کا سبب ہے اور آپ کا وجود مسعود ہی انوار و تجلیات کا برستا ہوا بادل ہے ، جہاں جہاں کوئی کرشمہ رحمت الہی کا ہے اس کا ذریعہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی جو اس سے محروم ہے اس کا سبب اس کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات سے دوری ہی تو ہے ۔ اللہ جل جلالہ کا یہ کرم کہ انسانوں کو یہ شرف بخشا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فخر انسانیت ہیں سارے جہان سے ممتاز کر رہا ہے پھر بھی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی برکات سے محروم ہیں ان سا بدنصیب کون ہوگا ، اب بھلا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد وہ کسے چاہیں گے ، ایسا محبوب کہاں سے لائیں گے جو ظاہر باطن کے ہر کمال میں صرف اور صرف اللہ کے بعد سب سے اعلی اور مخلوق میں بےمثل ہو۔ rnّ (ذکر کی اہمیت مفتی صاحب کی نظر میں) یہاں وہ پیراگراف ہو بہو لکھنے کو جی چاہتا ہے جو مفتی محمد شفیع صاحب (رح) نے اپنی معرکۃ الآرا تفسیر معارف القرآن میں لکھا ہے ، اللہ ان پر کروڑوں کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے آمین ، تو لیجئے ” عالمین عالم کی جمع ہے جس میں ساری مخلوقات انسان جن حیوانات نباتات جمادات سبھی داخل ہیں ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان سب چیزوں کے لیے رحمت ہونا اس طرح ہے کہ تمام کائنات کی حقیقی روح اللہ جل جلالہ کا ذکر اور اس کی عبادت ہے یہی وجہ ہے کہ جس وقت زمین سے یہ روح نکل جائے گی اور زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو ان سب چیزوں کو موت یعنی قیامت آجائیگی اور جب ذکر اللہ و عبادت کا ان سب چیزوں کی روح ہونا معلوم ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان سب چیزوں کے لیے رحمت ہونا خود بخود ظاہر ہوگیا کیونکہ اس دنیا میں قیامت تک ذکر اللہ اور عبادت آپ ہی کے دم قدم اور تعلیمات سے قائم ہے اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ” انا رحمۃ مھداۃ “ میں اللہ جل جلالہ کی طرف سے بھیجی ہوئی رحمت ہوں (اخرجہ ابن عساکر عن ابی ہریرہ) اور حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انا رحمۃ مھداۃ برفع قوم وخفض اخرین “ یعنی میں اللہ جل جلالہ کی بھیجی ہوئی رحمت ہوں تاکہ (اللہ جل جلالہ کے حکم ماننے والی) ایک قوم کو سربلند کر دوں اور دوسری قوم (جو اللہ جل جلالہ کا حکم ماننے والی نہیں ان کو) پست کر دوں ۔ (ابن کثیر) اس سے معلوم ہوا کہ کفر شرک مٹانے کے لیے کفار کو پست کرنا اور ان کے مقابلے میں جہاد کرنا بھی عین رحمت ہے جس کے ذریعے سرکشوں کو ہوش آکر ایمان اور عمل صالح کا پابند ہوجانے کی امید کی جاسکتی ہے ” واللہ وسبحانہ وتعالی اعلم “ معارف القرآن جلد ششم صفحہ ٣٢٢۔ ان سے کہہ دیجئے کہ میں اپنے پاس سے کچھ نہیں کہتا بلکہ اللہ جل جلالہ جو فرماتا اور وحی سے جو حاصل ہوتا وہی تم کو پہنچاتا ہوں جس کا حاصل یہ ہے کہ صرف اللہ جل جلالہ ہی عبادت کا مستحق ہے ، واحد اور اکیلا تو کیا تم یہ بھی قبول نہیں کرو گے ، اگر تم نے نہ ماننے کا ہی فیصلہ کرلیا تو میں نے تمہیں دونوں طرف کی بات بتا دی اور عقیدے کا اثر بھی بتا دیا ، اعمال کا نتیجہ بھی اب یہ میرے فرائض میں نہیں کہ قیامت کے وقت کا تعین بھی کروں ، یہ تمہارا اور تمہارے رب کا معاملہ ہے وہ جلدی قائم کردے یا دیر سے اس کی مرضی کہ وہ تمہارے ہر ظاہر قول وعمل سے بھی باخبر ہے اور جو چھپا کر کرتے ہو اسے بھی جانتا ہے ، مجھے اس سے سروکار نہیں کہ شاید دنیا میں مہلت دے کر تمہیں اور آزمائش میں مبتلا کرنا چاہتا ہے یا اس کی کیا مصلحت ہے اور میری تو دعا ہے کہ اے اللہ اے پروردگار عالم انصاف کا فیصلہ صادر فرما دے ، رہی وہ ایذا جو تمہاری طرف سے ہے تو ہمارا پروردگار ہی اس بارے میں بہترین مددگار ہے کہ وہ بہت بڑا رحم کرنے والا ہے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 103 لاکفران ناقدری نہ ہوگی۔ سعی کوشش، جدوجہد۔ کاتبون لکھنے والے۔ فتحت کھول دی گئی۔ حدب ٹیلہ، بلند مقام۔ ینسلون وہ گھستے چلے آئیں گے۔ شاخصۃ پھٹ جانے والی۔ حصب ایندھن، جلنے کی چیز۔ واردون پہنچنے والے، اترنے اولے۔ زفیر چیخ و پکار۔ سبقت فیصلہ ہوچکا، گذر چکا۔ مبعدون دور رہنے والے۔ حسیس آہٹ، سرسراہٹ۔ اشتھت من پسند۔ الفزع گھبراہٹ۔ توعدون وعدہ کیا جاتا ہے۔ تشریح : آیت نمبر 94 تا 103 فرمایا کہ وہ صاحب ایمان شخص جو کوئی بھی نیک یا بھلا کام کرے گا تو اس کی سعی، کوشش اور جدوجہد کو ضائع نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال کو لکھ رہے ہیں۔ اب جن بستیوں کے رہنے والوں کو ان کے برے اعمال اور کردار کی وجہ سے (عذاب یا موت سے ) تباہ کیا جا چکا ہے ان کے لئے یہ ناممکن ہے کہ وہ کسی عمل کے لئے اس دنیا میں لوٹ کر واپس آئیں اور بہتر عمل کی کوشش کرسکیں۔ قیامت کی علامتیں بتاتے ہوئے فرمایا کہ جب یاجوج ماجوج کی قوم جو سدذوالقرنین کی وجہ سے رکی ہوئی ہے وہ دنیا پر ٹوٹ پڑے گی اور وہ لوگ ایک سیلاب کی طرح ہر بلندی سے پہاڑوں سے آ رہے ہوں گے جیسے وہ اونچائی سے پھسل رہے ہیں وہ لوگوں کا بےدریغ قتل عام کریں گے اور ہر طرف بربادی مچا کر رکھ دیں گے۔ وہ اتنی بڑی طاقت ہوں گے کہ ان کو روکنا کسی کے بس میں نہ ہوگا۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں تشریف لائیں گے اور ان کی بد دعا سے قوم یاجوج وماجوج تباہ ہو کر رہ جائے گی۔ فرمایا کہ جب تم یہ دیکھو کہ یاجوج ماجوج کا فتنہ عام ہوگیا ہے تو سمجھ لینا کہ اب قیامت بہت زیادہ دور نہیں ہے۔ قیامت کیا ہے ؟ قیامت ایک ایسا ہیبت ناک دن ہوگا۔ جب کافر اس کی ہولناکیوں کو دیکھیں گے تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ ہر طرف کفار اور مشرکین کے لئے تباہی اور بربادی کا سامان ہوگا۔ اب وہ پچھتائیں گے، چلائیں گے اور کہیں گے کہ ہماری شامت آگئی ہے۔ وہ اس بات پر افسوس کریں گے کہا نہوں نے پوری زندگی اس غفلت میں گذار دی اور اپنے اس انجام کی طرف کبھی دھیان دینے کا موقع ہی نہ ملا اور اس پر شرمندہ ہوں گے کہ انہوں نے اللہ کے نبیوں اور رسولوں کی ان تعلیمات کا کیوں انکار کیا جو ان کی ہدایت کے لئے وہ پیش کرتے تھے۔ فرمایا جائے گا کہ تم اللہ کو چھوڑ کر جن بتوں اور کافر ہستیوں کی عبادت و بندگی کرتے تھے وہ سب کے سب آج جہنم کا ایندھن بن جائیں گے۔ وہ تمہیں جہنم سے کیسے بچا سکتے ہیں جب کہ وہ خود ہی دوزخ میں جلا دیئے جائیں گے۔ اگر وہ معبود ہوتے تو ان کی یہ درگت نہ بنتی۔ فرمایا جائے گا کہ اب ان سب کو اس جہنم میں ہمیشہ رہنا ہے وہ روئیں گے، چلائیں گے اور اس شور شرابے میں کچھ بھی سن نہ سکیں گے۔ اس کے برخلاف جن لوگوں کے لئے اللہ نے بھلائی کا فیصلہ کردیا ہے وہ ان سے بہت دور ہوں گے۔ وہ آہٹ بھی نہ سنیں گے کہ جہنمیوں پر کیا گذر رہی ہے۔ وہ جنت کی ان نعمتوں اور راحتوں میں گذار رہے ہوں گے جہاں ہر چیز ان کی خواہش اور تمنا کے مطابق ہوگی۔ ہر طرف گھبراہٹ اور ہولناکی کا ڈیرہ ہوگا۔ لیکن یہ اہل جنت کسی طرح سے رنجیدہ اور غمگین نہ ہوں گے۔ فرشتے مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہیں گے کہ آج تمہارا وہ مبارک دن ہے جس میں تمہیں وہ سب کچھ دے دیا گیا ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ ان آیت کے سلسلے میں چند باتیں۔ 1- اللہ تعالیٰ ہر صاحب ایمان شخص کی ہر جدوجہد اور اکوشش کو پوری طرح قبول فرمائیں گے اور ان کی کوئی نیکی ضائع نہ کی جائے گی ان کے ایک ایک عمل کو فرشتے لکھ رہے ہیں اللہ اپنے نیک بندوں کی اس طرح قدر فرمائیں گے اور ان کو اتنا کچھ عطا فرمائیں گے جس کی وہ تمنایا آرزو کرسکتے تھے۔ 2- قیامت کا دن ایک ہولناک اور ہیبت ناک دن ہوگا۔ جہاں کوئی کسی کو نہ پوچھے گا اور ہر ایک کو اپنی نجات اور اعمال کی فکر دامن گیر ہوگی۔ 3- یہ ناممکن ہے کہ اللہ نے جن بستیوں، اس کے رہنے والوں اور بد عمل لوگوں کو فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے وہ دوبارہ اس دنیا میں واپس آسکیں گے۔ کیونکہ جب کفار کو اپنا برا انجام سامنے نظر آئے گا وہ کہیں گے الٰہی ! ہم سے بہت بڑی غفلت ہوگئی ہے اگر ہمیں دنیا میں جانے کا ایکا ور موقع دے دیا جائے تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اب ہم ہر وہ کام کریں گے جو آپ کا حکم ہوگا۔ لیکن اللہ کی طرف سے اعلان ہوگا۔ کہ عمل کرنے کی مہلت ختم ہوچکی ہے ہے اب صرف فیصلے کا دن ہے کسی کو دوبارہ اس کا موقع نہیں دیا جائے گا موت کے فرشتے نظر آنے سے پہلے پہلے جس نے توبہ کرلی اس کی نجات ہونے کا امکان ہے لیکن جس نے پوری زندگی غفلت میں گذار دی ہو اس کا برا انجام اس کے سامنے ہوگا۔ ۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اختلافات سے بچ کر نیک اعمال کرنے والوں کی جزا انبیاء (علیہ السلام) اور حضرت مریم [ کا ذکر کرنے کے بعد ہر انسان کے لیے یہ اصول واضح کردیا گیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ انبیائے کرام (علیہ السلام) اپنے رب کے برگزیدہ بندے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں بڑے بڑے مراتب سے سرفراز فرمایا تھا۔ لیکن جو شخص بھی عقیدہ توحید پر رہتے ہوئے نیک اعمال کرے گا اس کے کسی نیک عمل کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے نیک آدمی کی ہر نیکی لکھی جا رہی ہے۔ لکھنے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی طرف فرما کر یہ ثابت کیا ہے کہ اس کے ہاں مومن کی نیکی کی کتنی قدر ہے۔ سورة النساء آیت ١٤٧ میں یہ فرمایا کہ لوگو ! تمہیں عذاب دینے سے اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اگر تم اس پر صحیح صحیح ایمان لاؤ اور اس کے شکر گزار بندے بن کر رہو تو اللہ تمہارے ہر نیک عمل کی قدر کرنے والا اور اسے پوری طرح جاننے والا ہے۔ سورۃ الزلزال میں ارشاد فرمایا۔ جس نے رائی کے برابر نیکی یا برائی کی قیامت کے دن وہ اسے اپنے سامنے پائے گا۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طَےِّبٍ وَّلَا ےَقْبَلُ اللّٰہُ اِلَّا الطَّےِّبَ فَاِنَّ اللّٰہَ ےَتَقَبَّلُھَا بِےَمِےْنِہٖ ثُمَّ ےُرَبِّےْھَا لِصَاحِبِھَا کَمَا ےُرَبِّیْ اَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ ) [ رواہ البخاری : باب الصَّدَقَۃِ مِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ ] حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کیا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ صرف حلال چیزوں سے صدقہ قبول فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے شرف قبولیت بخشتا ہے اور اپنے دائیں ہاتھ میں لیتے ہوئے۔ اس کو اس طرح بڑھاتا ہے جس طرح تم بچھڑے کی پرورش کرکے اسے بڑا کرتے ہو۔ یہاں تک کہ ایک کھجور کا ثواب پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ہر مومن کے نیک اعمال لکھ رہا ہے۔ ٢۔ مومن کے کسی نیک عمل کی ناقدری نہیں کی جائے گی۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فمن یعمل من اصلحت وھو مومن فلا کفران لسعیہ وانا لہ کتبون (٢١ : ٩٣) ” پھر جو نیک عمل کرے گا اس حال میں کہ وہ مومن ہو ، تو اس کے کام کی ناقدری نہ ہوگی اور اسے ہم لکھ رہے ہیں۔ “ یہ ہے قانون عمل اور جزائے عمل۔ عمل صالح اگر قاعدہ ایمان کے اوپر مبنی ہو تو نہ اس کا انکار ہوگا اور نہ اس کی ناقدری ہوگی۔ وہ اللہ کے ہاں لکھا جا چکا ہوگا اور اس میں سے کوئی چیز لکھنے سے چھوٹ نہیں سکتی۔ اور ایمان پر مبنی ہونا اس لئے ضروری ہے کہ ایمان اور عمل کی قدر و قیمت ہو ، اگر ایمان نہ ہو تو عمل صالح ایمان موجود ہی نہیں ہو سکتا۔ ضروری ہے کہ عمل صالح ایمان کا ثمرہ ہو بلکہ وہ ایمان کا ثبوت ہو۔ ایمان زندگی کی بنیاد ہے کیونکہ ایمان دراصل انسان اور اس کائنات کے درمیان حقیقی رابطہ ہے۔ ایسا رابطہ جو اس کائنات کو اور اس کے اندر تمام موجودات کو خالق واحد کے ساتھ مربوط کردیتا ہے۔ پھر یہ سب کچھ اس ناموس قدرت کی طرف پھرجاتا ہے جس کے مطابق پوری کائنات چل رہی ہے اور جب تک پختہ اساس نہ ہوگی اس وقت تک اس کے اوپر عمارت کھڑی ہی نہیں ہو سکتی۔ عمل صالح کی مثال اونچی بلڈنگ کی ہے۔ اگر یہ اونچی عمارت کسی مضبوط اساس پر نہ اٹھائی جائے تو وہ کسی بھی وقت دھڑام سے گر جاتی ہے۔ پھر عمل صالح ہمیشہ اس ایمان کا ثمر ہوتا ہے جو اگرچہ دلوں میں ہو لیکن زندہ ایمان ہو۔ اسلام کس چیز کا نام ہے ؟ یہ ایک متحرک عقیدہ ہے۔ جس وقت یہ متحرک عقیدہ ضمیر میں اچھی طرح بیٹھ جاتا ہے تو پھر وہ جسم انسانی سے عمل صالح کی شکل میں نمودار ہوتا ہے بلکہ عمل صالح دراصل ایمان کا ایک پختہ پھل ہوتا ہے۔ یہ پھل لگتا ہی تب ہے اور پختہ بھی تب ہی ہوتا ہے جب درخت زمین کے اندر گہرائی میں جانے والی جڑوں پر کھڑا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم جب عمل اور جزاء کا ذکر کرتا ہے تو وہ ایمان اور عمل کو ایک ساتھ لاتا ہے لہٰذا ایسے ایمان پر کوئی جزاء نہیں ہے وہ منجمد ہو ، بالکل بچھا وہا ہو او اس کے ساتھ بالکل کوئی پھل نہ لگتا ہو۔ اسی طرح اس عمل پر جزاء نہیں ہے جو ایمان سے کٹا ہوا ہو۔ بعض اوقات بغیر ایمان کے بھی ایک اچھا عمل دیکھا جاتا ہے ، لیکن یہ ایک عارضی اتفاق ہوتا ہے ، کیونکہ یہ عمل ایک مکمل نقشے کے مطابق نہیں ہوتا نہ کسی قاعدے اور قانون پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ دراصل بعض اوقات ایک عاضری جذبے یا عارضی خواہش کے مطابق ظاہر ہوجاتا ہے اور اس کی پشت پر کوئی حقیقی باعث یا سبب نہیں ہوتا جو اس کائنات کے اندر کوئی حقیقت رکھتا ہو۔ مضبوط حقیقت یہ ہے کہ عمل صالح خدائے ذوالجلال کی رضا مندی کے لئے کیا جائے۔ ایسا ہی عمل دراصل تعمیری عمل ہوتا ہے۔ ایسا ہی عمل اس کمال اور ترقی کا سبب بنتا ہے جو اللہ نے اس دنیا کی زندگی کی ترقی کے لئے طے کیا ہے۔ پس عمل صالح وہ بامقصد تحریک ہے جو اس زندگی کے مقصد کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔ محض عارضی جذبہ یا محض اتفاقی اثر اس کا باعث نہیں ہوتا بلکہ وہ با مقصد عمل ہوتا ہے۔ پھر یہ عمل ایسا ہو کہ جس طرح یہ پوری کائنات خالق کائنات کے قانون قدرت کے مطابق چل رہی ہے اسی طرح وہ عمل بھی خالق کائنات کے قانون انسانی اور قانون فطرت کے مطابق ہو۔ دونوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہو۔ عمل کی مکمل جزاء تو آخرت میں ملتی ہے اگرچہ اس کا ایک حصہ اس دنیا میں بھی مل جائے۔ جن بستیوں کو دنیا میں بلاک کیا گیا ان کو ان کی بد اعمالیوں کی سزا آخرت میں بھی ملے گی۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ ان کو میدان حشر میں نہ اٹھایا جائے۔ لازماً حشر کے میدان میں یہ سب لوگ اٹھائے جائیں گے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مومن کے اعمال صالحہ کی ناقدری نہیں ہے اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ جو بھی کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے کوئی بھی نیک کام کرے گا۔ وہ اس کا بھر پور اجر پائے گا۔ کسی کے کسی بھی نیک عمل کی ناقدری نہ ہوگی۔ جس کا جو عمل ہوگا چند در چند بڑھا دیا جائے گا اور کسی نیکی کا ثواب دس نیکی سے کم تو ملنا ہی نہیں ہے۔ دس گنا تو کم سے کم ہے اور اس سے زیادہ بھی بہت بڑھا چڑھا کر ثواب ملے گا۔ (وَ اِنَّا لَہٗ کٰتِبُوْنَ ) (اور ہم ہر شخص کا عمل لکھ لیتے ہیں) جو فرشتے اعمال لکھنے پر مامور ہیں تمام اعمال لکھتے ہیں قیامت کے دن یہ اعمال نامے پیش ہوں گے۔ جو اعمال کیے تھے سب سامنے آجائیں گے۔ سورة الکہف میں فرمایا (وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا وَّ لَا یَظْلِمُ رَبُّکَ ) (اور جو کچھ عمل کیے تھے ان سب کو موجود پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

67:۔ ” فَمَنْ یَّعْمَلْ الخ “ ایمان و توحید والوں اور نیکو کاروں کے لیے بشارت اخروی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(94) پس جو شخص نیک عمل کا پابند رہتا ہے اور نیک کام کرتا رہتا ہے بشرطیکہ وہ مومن اور صحیح ایمان رکھنے والا ہو تو ایسے شخص کی محنت ضائع نہ ہوگی اور اس کی سعی کو نظر انداز نہیں کی جائے گی اور ہم اس کی محنت اور سعی کو لکھ لیا کرتے ہیں اور اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ یعنی جو سعی اور دوڑ دھوپ اور اعمالِ صالح کے بجالانے میں کوشش کرتا ہے وہ سب نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے وہی نامۂ اعمال قیامت میں ظاہر ہوجائے گا اور اس کے موافق اجر ملے گا اس میں کوئی کمی نہ ہوگی۔