Surat ul Hajj

Surah: 22

Verse: 70

سورة الحج

اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ فِیۡ کِتٰبٍ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿۷۰﴾

Do you not know that Allah knows what is in the heaven and earth? Indeed, that is in a Record. Indeed that, for Allah , is easy.

کیا آپ نے نہیں جانا کہ آسمان و زمین کی ہرچیز اللہ کے علم میں ہے ۔ یہ سب لکھی ہوئی کتاب میں محفوظ ہے ۔ اللہ تعالٰی پر تو یہ امر بالکل آسان ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah tells us how perfect is His knowledge of His creation, and that He encompasses all that is in the heavens and on earth Allah says: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاء وَالاَْرْضِ ... Know you not that Allah knows all that is in the heaven and on the earth! Not even the weight of a speck of dust, or less than that or greater escapes His knowledge in the heavens or in the earth. He knows all things even before they happen, and He has written that in His Book, Al-Lawh Al-Mahfuz, as was reported in Sahih Muslim from Abdullah bin `Amr, who said, "The Messenger of Allah said: إِنَّ اللهَ قَدَّرَ مَقَادِيرَ الْخَلَيِقِ قَبْلَ خَلْقِ السَّموَاتِ وَالاَْرْضِ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاء Allah issued His decrees concerning the measurement and due proportion of the creatures fifty thousand years before He created the heavens and the earth, and His Throne was over the water. In the Sunan, it was reported from a group of the Companions that the Messenger of Allah said: أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ قَالَ لَهُ اكْتُبْ قَالَ وَ مَا أَكْتُبُ قَالَ اكْتُبْ مَا هُوَ كَايِنٌ فَجَرَى الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَايِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة The first thing that Allah created was the Pen. He said to it, "Write!" It said, "What should I write?" He said, "Write what will happen," so the Pen wrote everything that will happen until the Day of Resurrection. Allah says: ... إِنَّ ذَلِكَ فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ Verily, it is (all) in the Book. Verily, that is easy for Allah.

کمال علم رب کی شان رب کے کمال علم کا بیان ہو رہا ہے کہ زمین وآسمان کی ہر چیز اس کے علم کے احاطہ میں ہے ایک ذرہ بھی اس سے باہر نہیں کائنات کے وجود سے پہلے ہی کائنات کا علم اسے تھا بلکہ اس نے لوح محفوظ میں لکھوا دیا تھا ۔ صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان وزمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے جب کہ اس کا عرش پانی پر تھا مخلوق کی تقدیر لکھی ۔ سنن کی حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فلک کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ اس نے دریافت کیا کہ کیا لکھوں ؟ فرمایا جو کچھ ہونے والا ہے پس قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا اسے قلم نے قلم بند کردیا ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ سو سال کی راہ میں اللہ نے لوح محفوظ کو پیدا کیا اور مخلوق کی پیدائش سے پہلے جب کہ اللہ تعالیٰ عرش پر تھا قلم کو لکھنے کا حکم دیا اس نے پوچھا کیا لکھوں فرمایا میرا علم جو مخلوق کے متعلق قیامت کا ہے ۔ پس قلم چل پڑا اور قیامت تک کے ہونے والے امور جو علم الٰہی میں ہے اس نے لکھ لئے ۔ پس اسی کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں فرما رہا ہے کہ کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان وزمین کی ہر ایک چیز کا میں عالم ہوں ۔ پس یہ اس کا کمال علم ہے کہ چیز کے وجود سے پہلے اسے معلوم ہے بلکہ لکھ بھی لیا ہے اور وہ سب یوں ہی واقع میں ہونے والا ہے ۔ اللہ کو بندوں کے تمام اعمال کا علم ان کے عمل سے پہلے ہے ۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اس کرنے سے پہلے اللہ جانتا تھا ، ہر فرماں بردار اور نافرمان اس کے علم میں تھا اور اس کی کتاب میں لکھا ہوا تھا اور ہر چیز اس کے علمی احاطے کے اندر ہی اندر اور یہ امر اللہ پر مشکل بھی نہ تھا سب کتاب میں تھا اور رب پر بہت ہی آسان ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

70۔ 1 اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال علم اور مخلوقات کے احاطے کا ذکر فرمایا ہے۔ یعنی اس کی مخلوقات کو جو جو کچھ کرنا تھا، اس کو علم پہلے سے ہی تھا، وہ ان کو جانتا تھا۔ چناچہ اس نے اپنے علم سے یہ باتیں پہلے ہی لکھ دیں۔ اور لوگوں کو یہ بات چاہے، کتنی ہی مشکل معلوم ہو، اللہ کے لئے بالکل آسان ہے۔ یہ وہی تقدیر کا مسئلہ ہے، اس پر ایمان رکھنا ضروری ہے، جسے حدیث میں اس طرح بیان فرمایا گیا ' اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے، جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا، مخلوقات کی تقدیریں لکھ دی تھیں (صحیح مسلم) اور سنن کی روایت ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ' اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم پیدا فرمایا، اور اس کو کہا ' لکھ ' اس نے کہا، کیا لکھوں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جو کچھ ہونے والا ہے، سب لکھ دے۔ چناچہ اس نے اللہ کے حکم سے قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا، سب لکھ دیا۔ (ابوداؤد کتاب السنۃ)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٨] یعنی مختلف انبیاء کی شریعت یا عبادات کے طریقوں میں تبدیلی اور اس کی وجوہ سب کچھ اللہ کے علم کے مطابق اور پہلے سے ہی طے شدہ ہیں اور اللہ کی کتاب میں پہلے ہی سے ثبت ہیں۔ پھر اللہ کو یہ بھی علم ہے کہ کون لوگ اس واضح سی بات پر بھی جھگرے پیدا کرنے والے ہیں۔ اللہ کو ان سب باتوں کا پہلے سے علم ہونا، پھر ان جھگڑا کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کرکے انھیں ان کی ہٹ دھرمی کی سزا دینا اللہ تعالیٰ کی وسعت علم اور عظیم قدرت کے مقابلہ میں بالکل ہیچ اور معمولی باتیں ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۔۔ : یعنی کیا تمہیں واضح بات بھی معلوم نہیں کہ آسمان و زمین میں جو کچھ بھی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اور کوئی بھی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ؟ نہ اس کے مخلص اور فرماں بردار بندوں کی فرماں برداری اس سے مخفی ہے اور نہ اس کے منکروں اور نافرمانوں کی شرارتیں اور فساد اس سے اوجھل ہے۔ اس لیے اس علم کے ساتھ وہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح فرما دیا کہ ہر شخص جو کچھ کر رہا ہے وہ پورے اہتمام کے ساتھ ایک کتاب میں محفوظ ہے، اس لیے کوئی اس خام خیالی میں نہ رہے کہ یہ محض ہوائی باتیں ہیں، اتنی مخلوق کے ہر عمل کا ریکارڈ کیسے رکھا جاسکتا ہے اور ان کے درمیان فیصلہ کیسے ہوگا ؟ فرمایا بیشک یہ تمہارے لیے ایک مشکل بلکہ ناممکن کام ہے مگر اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کچھ بھی مشکل نہیں، کیونکہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللہَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ۝ ٠ۭ اِنَّ ذٰلِكَ فِيْ كِتٰبٍ۝ ٠ۭ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَي اللہِ يَسِيْرٌ۝ ٧٠ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ إِنَّ وأَنَ إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ [ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ أعظم المحرمات من المطعومات في أصل الشرع هو هذه المذکورات . وأَنْ علی أربعة أوجه : الداخلة علی المعدومین من الفعل الماضي أو المستقبل، ويكون ما بعده في تقدیر مصدر، وينصب المستقبل نحو : أعجبني أن تخرج وأن خرجت . والمخفّفة من الثقیلة نحو : أعجبني أن زيدا منطلق . والمؤكّدة ل «لمّا» نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] . والمفسّرة لما يكون بمعنی القول، نحو : وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا [ ص/ 6] أي : قالوا : امشوا . وكذلك «إِنْ» علی أربعة أوجه : للشرط نحو : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبادُكَ [ المائدة/ 118] ، والمخفّفة من الثقیلة ويلزمها اللام نحو : إِنْ كادَ لَيُضِلُّنا [ الفرقان/ 42] ، والنافية، وأكثر ما يجيء يتعقّبه «إلا» ، نحو : إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا [ الجاثية/ 32] ، إِنْ هذا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ [ المدثر/ 25] ، إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَراكَ بَعْضُ آلِهَتِنا بِسُوءٍ [هود/ 54] . والمؤكّدة ل «ما» النافية، نحو : ما إن يخرج زيد ( ان حرف ) ان وان ( حرف ) یہ دونوں اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ ان جملہ مستقل پر آتا ہے اور ان کا مابعد ایسے مفرد کے حکم میں ہوتا ہے جو اسم مرفوع ، منصوب اور مجرور کی جگہ پر واقع ہوتا ہے جیسے اعجبنی انک تخرج وعجبت انک تخرج اور تعجب من انک تخرج جب ان کے بعد ما ( کافہ ) آجائے تو یہ عمل نہیں کرتا اور کلمہ حصر کے معنی دیتا ہے ۔ فرمایا :۔ { إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ } ( سورة التوبة 28) ۔ مشرک تو پلید ہیں (9 ۔ 28) یعنی نجاست تامہ تو مشرکین کے ساتھ مختص ہے ۔ نیز فرمایا :۔ { إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ } ( سورة البقرة 173) اس نے تم امر ہوا جانور اور لہو حرام کردیا ہے (2 ۔ 173) یعنی مذکورہ اشیاء کے سوا اور کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیا اس میں تنبیہ ہے کہ معلومات میں سے جو چیزیں اصول شریعت میں حرام ہیں ان میں سے یہ چیزیں سب سے بڑھ کر ہیں ۔ ( ان ) یہ چار طرح پر استعمال ہوتا ہے (1) ان مصدریہ ۔ یہ ماضی اور مضارع دونوں پر داخل ہوتا ہے اور اس کا مابعد تاویل مصدر میں ہوتا ہے ۔ ایسی صورت میں یہ مضارع کو نصب دیتا ہے جیسے :۔ اعجبنی ان تخرج وان خرجت ۔ ان المخففہ من المثقلۃ یعنی وہ ان جو ثقیلہ سے خفیفہ کرلیا گیا ہو ( یہ کسی شے کی تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے جیسے ۔ اعجبنی ان زید منطلق ان ( زائدہ ) جو لما کی توکید کے لئے آتا ہے ۔ جیسے فرمایا { فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَشِيرُ } ( سورة يوسف 96) جب خوشخبری دینے والا آپہنچا (12 ۔ 92) ان مفسرہ ۔ یہ ہمیشہ اس فعل کے بعد آتا ہے جو قول کے معنیٰ پر مشتمل ہو ( خواہ وہ لفظا ہو یا معنی جیسے فرمایا :۔ { وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ } ( سورة ص 6) ان امشوا اور ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے ( اور بولے ) کہ چلو (38 ۔ 6) یہاں ان امشوا ، قالوا کے معنی کو متضمن ہے ان ان کی طرح یہ بھی چار طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ان شرطیہ جیسے فرمایا :۔ { إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ } ( سورة المائدة 118) اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں (5 ۔ 118) ان مخففہ جو ان ثقیلہ سے مخفف ہوتا ہے ( یہ تا کید کے معنی دیتا ہے اور ) اس کے بعد لام ( مفتوح ) کا آنا ضروری ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا } ( سورة الفرقان 42) ( تو ) یہ ضرور ہم کو بہکا دیتا ہے (25 ۔ 42) ان نافیہ اس کے بعداکثر الا آتا ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا } ( سورة الجاثية 32) ۔۔ ،۔ ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں (45 ۔ 32) { إِنْ هَذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ } ( سورة المدثر 25) (ٌپھر بولا) یہ ( خدا کا کلام ) نہیں بلکہ ) بشر کا کلام سے (74 ۔ 25) { إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ } ( سورة هود 54) ۔ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا ( کر دیوانہ کر ) دیا ہے (11 ۔ 54) ان ( زائدہ ) جو ( ما) نافیہ کی تاکید کے لئے آتا ہے جیسے : مان یخرج زید ۔ زید باہر نہیں نکلے گا ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، وذلک ضربان : أحدهما : إدراک ذات الشیء . والثاني : الحکم علی الشیء بوجود شيء هو موجود له، أو نفي شيء هو منفيّ عنه . فالأوّل : هو المتعدّي إلى مفعول واحد نحو : لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [ الأنفال/ 60] . والثاني : المتعدّي إلى مفعولین، نحو قوله : فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِناتٍ [ الممتحنة/ 10] ، وقوله : يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ إلى قوله : لا عِلْمَ لَنا «3» فإشارة إلى أنّ عقولهم طاشت . والعِلْمُ من وجه ضربان : نظريّ وعمليّ. فالنّظريّ : ما إذا علم فقد کمل، نحو : العلم بموجودات العالَم . والعمليّ : ما لا يتمّ إلا بأن يعمل کالعلم بالعبادات . ومن وجه آخر ضربان : عقليّ وسمعيّ ، وأَعْلَمْتُهُ وعَلَّمْتُهُ في الأصل واحد، إلّا أنّ الإعلام اختصّ بما کان بإخبار سریع، والتَّعْلِيمُ اختصّ بما يكون بتکرير وتكثير حتی يحصل منه أثر في نفس المُتَعَلِّمِ. قال بعضهم : التَّعْلِيمُ : تنبيه النّفس لتصوّر المعاني، والتَّعَلُّمُ : تنبّه النّفس لتصوّر ذلك، وربّما استعمل في معنی الإِعْلَامِ إذا کان فيه تكرير، نحو : أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] ، ( ع ل م ) العلم کسی چیش کی حقیقت کا اور راک کرنا اور یہ قسم پر ہے اول یہ کہ کسی چیز کی ذات کا ادراک کرلینا دوم ایک چیز پر کسی صفت کے ساتھ حکم لگانا جو ( فی الواقع ) اس کے لئے ثابت ہو یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی کرنا جو ( فی الواقع ) اس سے منفی ہو ۔ پہلی صورت میں یہ لفظ متعدی بیک مفعول ہوتا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے : ۔ لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [ الأنفال/ 60] جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے ۔ اور دوسری صورت میں دو مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِناتٍ [ الممتحنة/ 10] اگر تم کا معلوم ہو کہ مومن ہیں ۔ اور آیت يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَاسے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے ہوش و حواس قائم نہیں رہیں گے ۔ ایک دوسری حیثیت سے علم کی دوقسمیں ہیں ( 1) نظری اور ( 2 ) عملی ۔ نظری وہ ہے جو حاصل ہونے کے ساتھ ہی مکمل ہوجائے جیسے وہ عالم جس کا تعلق موجودات عالم سے ہے اور علم عمل وہ ہے جو عمل کے بغیر تکمیل نہ پائے جسیے عبادات کا علم ایک اور حیثیت سے بھی علم کی دو قسمیں ہیں ۔ ( 1) عقلی یعنی وہ علم جو صرف عقل سے حاصل ہو سکے ( 2 ) سمعی یعنی وہ علم جو محض عقل سے حاصل نہ ہو بلکہ بذریعہ نقل وسماعت کے حاصل کیا جائے دراصل اعلمتہ وعلمتہ کے ایک معنی ہیں مگر اعلام جلدی سے بتادینے کے ساتھ مختص ہے اور تعلیم کے معنی با ر بار کثرت کے ساتھ خبر دینے کے ہیں ۔ حتٰی کہ متعلم کے ذہن میں اس کا اثر پیدا ہوجائے ۔ بعض نے کہا ہے کہ تعلیم کے معنی تصور کیلئے نفس کو متوجہ کرنا کے ہیں اور تعلم کے معنی ایسے تصور کی طرف متوجہ ہونا کے اور کبھی تعلیم کا لفظ اعلام کی جگہ آتا ہے جب کہ اس میں تاکید کے معنی مقصود ہوں جیسے فرمایا ۔ أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو ۔ اور حسب ذیل آیات میں تعلیم کا لفظ استعمال ہوا ہے جیسے فرمایا ۔ الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [ الرحمن/ 1- 2] خدا جو نہایت مہربان اس نے قرآن کی تعلیم فرمائی ۔ قلم کے ذریعہ ( لکھنا ) سکھایا ؛ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ كتب) حكم) قوله : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] ، وقوله : إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنا عَشَرَ شَهْراً فِي كِتابِ اللَّهِ [ التوبة/ 36] أي : في حكمه . ويعبّر عن الإيجاد بالکتابة، وعن الإزالة والإفناء بالمحو . قال : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] ، يَمْحُوا اللَّهُ ما يَشاءُ وَيُثْبِتُ [ الرعد/ 39] نبّه أنّ لكلّ وقت إيجادا، وهو يوجد ما تقتضي الحکمة إيجاده، ويزيل ما تقتضي الحکمة إزالته، ودلّ قوله : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] علی نحو ما دلّ عليه قوله : كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ [ الرحمن/ 29] وقوله : وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتابِ [ الرعد/ 39] ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ اور نحو سے کسی چیز کا زائل اور فناکر نامراد ہوتا ہے چناچہ آیت : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] میں تنبیہ ہے کہ کائنات میں ہر لمحہ ایجاد ہوتی رہتی ہے اور ذات باری تعالیٰ مقتضائے حکمت کے مطابق اشیاء کو وجود میں لاتی اور فنا کرتی رہتی ہے ۔ لہذا اس آیت کا وہی مفہوم ہے ۔ جو کہ آیت كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ [ الرحمن/ 29] وہ ہر روز کام میں مصروف رہتا ہے اور آیت : وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتابِ [ الرعد/ 39] میں اور اس کے پاس اصل کتاب ہے کا ہے اور آیت : وَما کانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتاباً مُؤَجَّلًا[ آل عمران/ 145] اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مرجائے ( اس نے موت کا ) وقت مقرر کرکے لکھ رکھا ہے ۔ میں کتابا موجلا سے حکم الہی مراد ہے ۔ يسير واليَسِيرُ والمَيْسُورُ : السّهلُ ، قال تعالی: فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَيْسُوراً [ الإسراء/ 28] واليَسِيرُ يقال في الشیء القلیل، فعلی الأوّل يحمل قوله : يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ وَكانَ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيراً [ الأحزاب/ 30] ، وقوله : إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ [ الحج/ 70] . وعلی الثاني يحمل قوله : وَما تَلَبَّثُوا بِها إِلَّا يَسِيراً [ الأحزاب/ 14] الیسیر والمیسور سہل اور آسان قرآن میں ہے : ۔ فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَيْسُوراً [ الإسراء/ 28] تو ان سے نر می سے بات کہدیا کرو ۔ اور کبھی یسیر کے معنی حقیر چیز بھی آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ وَكانَ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيراً [ الأحزاب/ 30] اس کو دونی سزا دی جائیگی اور یہ بات خدا کو آسان ہے میں لفظ یسیرا کے معنی آسان اور سہل کے ہیں اور آیت وما تَلَبَّثُوا بِها إِلَّا يَسِيراً [ الأحزاب/ 14] اور اس کے لئے بہت کم توقف کریں میں اس کے معنی بہت کم عرصہ کے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٠) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ کو معلوم نہیں (خطاب خاص مراد عام ہے) کہ آسمان والوں میں جو نیکیاں اور زمین والوں میں جو کچھ نیکیاں اور برائیاں ہیں اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے اور یہ تمام چیزیں لوح محفوظ میں محفوظ ہیں اور لوح محفوظ کے بغیر بھی ان تمام چیزوں کا محفوظ رکھنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت آسان ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(اِنَّ ذٰلِکَ فِیْ کِتٰبٍ ط) ” یہ وہی کتاب ہے جسے ” اُمّ الکتاب “ بھی کہا گیا ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم قدیم کی کتاب۔ (اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ ) ” تمہیں یہ مشکل معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایک چیز کا علم کیسے رکھتا ہے لیکن اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل امر نہیں ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

119. In order to understand the significance of this paragraph, we should keep in view (verse 55- 57) with which this is connected.

سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :119 سلسلہ کلام سے اس پیرا گراف کا تعلق سمجھنے کے لیے اس سورے کی آیات 55 تا 57 نگاہ میں رہنی چاہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(22:70) کتب۔ ای لوح محفوظ۔ یسیر۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے واحد مذکر یسر سے بروزن فعیل۔ آسان سہل۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

2 ۔ لہٰذا وہ ان باتوں کو بھی جانتا ہے جن میں تم لوگ اختلاف کر رہے ہو۔ (شوکانی) 3 ۔ یعنی زمین و آسمان کی ہر چیز کا علم رکھنا یا قیامت کے دن لوگوں کے اختلافات کا صہ چکا دینا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اوپر توحید کا بیان تھا آگے شرک کا رد ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے لیکن اس کے باوجود اس نے لوح محفوظ پر ہر چیز لکھ رکھی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھگڑا لو لوگوں کے ساتھ نہ الجھنے کی تلقین کرنے کے بعد یہ کہہ کر تسلّی دی گئی ہے کہ اے پیغمبر ! آپ کو ان کے ساتھ الجھنے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نا صرف ان لوگوں کے اعمال کو جانتا ہے بلکہ وہ تو زمین و آسمانوں کے چپہ چپہ سے واقف ہے آپ سے اختلاف کرنے والے یہ خیال نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ صرف ان کے اعمال کو جانتا ہے وہ ان کے اعمال جاننے کے باوجود ان کا ہر قول و فعل لکھ بھی رہا ہے۔ ان کے اعمال کا احاطہ کرنا اور سب کا حساب لینا اللہ تعالیٰ کے لیے آسان ہے مشکل نہیں، کتاب سے مراد ہر انسان کا اعمال نامہ ہے اور جو کچھ زمین و آسمانوں میں ہوچکا اور ہوگا اور جو کچھ انسان نے کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے لوح محفوظ پر لکھ رکھا ہے۔ جسے شریعت کی زبان میں تقدیر کہا گیا ہے۔ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عَمْرٍو (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کَتَبَ اللّٰہُ مَقَادِےْرَ الْخَلَآ ءِقِ قَبْلَ اَنْ یَّخْلُقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِخَمْسِےْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ قَالَ وَکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَاءِ ) [ رواہ مسلم : باب حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسٰی ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوق کی تقدیریں لکھ دیں تھیں اس وقت اللہ کا عرش پانی پر تھا۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی ہر چیز سے باخبر ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال لکھ رہا ہے۔ ٣۔ زمین و آسمان میں جو کچھ موجود ہے اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ہی لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

الم تعلم ان اللہ یعلم ما فی السمآء والارض ان ذلک فی کتب ان ذلک علی اللہ یسیر (٢٢ : ٠٨) ” کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے ؟ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے۔ اللہ کے لئے یہ کچھ بھی مشکل نہیں ہے “۔ اللہ کا علم نہایت کامل اور نہایت ہی باریک ہے اور اس پر اس کائنات کی کوئی شے مخفی نہیں ہے۔ وہ ایسی چیز سے متاثر نہیں ہوتا ، جس کی وجہ سے کوئی چیز محو ہوجاتی ہے یا بھول جاتی ہے۔ یہ سب کچھ تو ایک کتاب میں قلم بند ہے اور یہ ریکارڈ رکھنا اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے۔ انسانی عقل تو تھک جاتی ہے۔ خصوصاً اس کلیاتی نظام پر غور کرتے ہوئے بھی عقل تھک جاتی ہے۔ پھر جب ہم اس پوری کائنات کے بارے میں اللہ کے علم کی جامعیت پر غور کرتے ہیں اور اسے حاطہ تصور میں لاتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ بیشمار اشیاء اشخاص ، اعمال ، نیات ، خیالات اور حرکات ، عالم منظور میں اور عالم مخفی میں ہیں تو ہمارے تصور کا دامن تار تار ہوجاتا ہے ، لیکن اللہ کے علم وقدرت کے حوالے سے یہ تو شے یسیر ہے۔ ان ذلک علی اللہ یسیر (٢٢ : ٠٨) ” یہ اللہ کے لئے مشکل نہیں ہے۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدیات دینے کے بعد کہ آپ مشرکین کو بحثو جدال کا کوئی موقع ہی نہ دیں کہ وہ آپ کی راہ مستقیم پر بحث کریں۔ اب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سمجھایا جاتا ہے کہ خود ان کی جو راہ ہے اور جو منہاج ہے اس میں تو بحث کی گنجائش ہے اور اس میں تو ٹیڑھ ، ضعف ، جہالت ، ظلم اور دوسرے تمام نقائص موجود ہیں اور یہ کہ یہ لوگ باطل پرست ہونے کی وجہ سے اللہ کی نصرت اور معاونت سے بھی محروم ہیں۔ کوئی مددگار ان کا نہیں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ ) (اے مخاطب کیا تجھے معلوم نہیں جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اللہ اس سب کو جانتا ہے) (اِنَّ ذٰلِکَ فِیْ کِتٰبٍ ) (بلاشبہ یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے) یعنی لوح محفوظ میں مرقوم ہے (اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ) (بلاشبہ یہ اللہ پر آسان ہے) لوح محفوظ میں سب کچھ محفوظ فرمانا اس کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں ہے کہ کوئی منکر اور معاند یہ نہ سمجھے کہ اتنی زیادہ مخلوق کے حالات ایک ہی کتاب میں کیسے سمائیں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

83:۔ ” اَلَمْ تَعْلَمُ الخ “ یہ دونوں مضمونوں سے متعلق ہے اور ان پر بمنزلہ دلیل ہے۔ ” فِیْ کُتُبٍ “ یعنی لوح محفوظ اور علم الٰہی میں۔ اللہ تعالیٰ ہی عالم الغیب ہے۔ اس کے سوا کوئی بشر، کوئی فرشتہ اور کوئی جن اس صفت سے متصف نہیں اس لیے اس کے سوا متصرف و کارساز اور مستحق نذر و نیاز بھی کوئی نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(70) کیا اے مخاطب تجھ کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سب چیزوں سے واقف ہے اور ان سب چیزوں کو جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں ہیں بلاشبہ یہ سب کچھ کتاب میں لکھا ہوا ہے یہ سب امور اللہ تعالیٰ پر بہت آسان ہیں۔ یعنی ہر چیز کو آسمان و زمین کی جانتا ہے لہٰذا تمہارے اقوال و افعال کو بھی جانتا ہے اور تمہارے تمام اقوال و افعال لوح محفوظ میں یا اعمال ناموں میں موجود بھی ہیں پھر فیصلہ کردینا کیا مشکل ہے جب مجرم کے جرم کا ثبوت بھی موجود ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بندوں کے عمل بھی ایک کتاب میں لکھے ہیں۔ 12