Allah tells us how perfect is His knowledge of His creation, and that He encompasses all that is in the heavens and on earth
Allah says:
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاء وَالاَْرْضِ
...
Know you not that Allah knows all that is in the heaven and on the earth!
Not even the weight of a speck of dust, or less than that or greater escapes His knowledge in the heavens or in the earth. He knows all things even before they happen, and He has written that in His Book, Al-Lawh Al-Mahfuz, as was reported in Sahih Muslim from Abdullah bin `Amr, who said,
"The Messenger of Allah said:
إِنَّ اللهَ قَدَّرَ مَقَادِيرَ الْخَلَيِقِ قَبْلَ خَلْقِ السَّموَاتِ وَالاَْرْضِ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاء
Allah issued His decrees concerning the measurement and due proportion of the creatures fifty thousand years before He created the heavens and the earth, and His Throne was over the water.
In the Sunan, it was reported from a group of the Companions that the Messenger of Allah said:
أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللهُ الْقَلَمُ قَالَ لَهُ اكْتُبْ
قَالَ وَ مَا أَكْتُبُ
قَالَ اكْتُبْ مَا هُوَ كَايِنٌ
فَجَرَى الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَايِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة
The first thing that Allah created was the Pen. He said to it, "Write!"
It said, "What should I write?"
He said, "Write what will happen,"
so the Pen wrote everything that will happen until the Day of Resurrection.
Allah says:
...
إِنَّ ذَلِكَ فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
Verily, it is (all) in the Book. Verily, that is easy for Allah.
کمال علم رب کی شان
رب کے کمال علم کا بیان ہو رہا ہے کہ زمین وآسمان کی ہر چیز اس کے علم کے احاطہ میں ہے ایک ذرہ بھی اس سے باہر نہیں کائنات کے وجود سے پہلے ہی کائنات کا علم اسے تھا بلکہ اس نے لوح محفوظ میں لکھوا دیا تھا ۔ صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان وزمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے جب کہ اس کا عرش پانی پر تھا مخلوق کی تقدیر لکھی ۔ سنن کی حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فلک کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ اس نے دریافت کیا کہ کیا لکھوں ؟ فرمایا جو کچھ ہونے والا ہے پس قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا اسے قلم نے قلم بند کردیا ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ سو سال کی راہ میں اللہ نے لوح محفوظ کو پیدا کیا اور مخلوق کی پیدائش سے پہلے جب کہ اللہ تعالیٰ عرش پر تھا قلم کو لکھنے کا حکم دیا اس نے پوچھا کیا لکھوں فرمایا میرا علم جو مخلوق کے متعلق قیامت کا ہے ۔ پس قلم چل پڑا اور قیامت تک کے ہونے والے امور جو علم الٰہی میں ہے اس نے لکھ لئے ۔ پس اسی کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں فرما رہا ہے کہ کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان وزمین کی ہر ایک چیز کا میں عالم ہوں ۔ پس یہ اس کا کمال علم ہے کہ چیز کے وجود سے پہلے اسے معلوم ہے بلکہ لکھ بھی لیا ہے اور وہ سب یوں ہی واقع میں ہونے والا ہے ۔ اللہ کو بندوں کے تمام اعمال کا علم ان کے عمل سے پہلے ہے ۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اس کرنے سے پہلے اللہ جانتا تھا ، ہر فرماں بردار اور نافرمان اس کے علم میں تھا اور اس کی کتاب میں لکھا ہوا تھا اور ہر چیز اس کے علمی احاطے کے اندر ہی اندر اور یہ امر اللہ پر مشکل بھی نہ تھا سب کتاب میں تھا اور رب پر بہت ہی آسان ۔