Surat ul Hajj

Surah: 22

Verse: 8

سورة الحج

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ وَّ لَا ہُدًی وَّ لَا کِتٰبٍ مُّنِیۡرٍ ۙ﴿۸﴾

And of the people is he who disputes about Allah without knowledge or guidance or an enlightening book [from Him],

بعض لوگ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے جھگڑتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Clarifying the State of the Leaders of the Innovators and Those Who lead People astray Allah has already told us about the ignorant imitators who are led astray: وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّبِعُ كُلَّ شَيْطَانٍ مَّرِيدٍ And among mankind is he who disputes about Allah, without knowledge, and follows every rebellious Shaytan. (22:3) And here He tells us about those who call others to misguidance, the leaders of disbelief and innovation: وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلاَ هُدًى وَلاَ كِتَابٍ مُّنِيرٍ And among men is he who disputes about Allah, without knowledge or guidance, or a Book giving light (from Allah). meaning, with no correct rational thought, and no clear transmitted text; what they say is based only on their opinions and whims. Allah's saying,

گمراہ جاہل مقلدلوگ چونکہ اوپر کی آیتوں میں گمراہ جاہل ملقدوں کا حال بیان فرمایا تھا یہاں ان کے مرشدوں اور پیروں کا حال بیان فرما رہے ہیں کہ وہ بےعقلی اور بےدلیلی سے صرف رائے قیاس اور خواہش نفسانی سے اللہ کے بارے میں کلام کرتے رہتے ہیں ، حق سے اعراض کرتے ہیں ، تکبر سے گردن پھیرلیتے ہیں ، حق کو قبول کرنے سے بےپراوہی کے ساتھ انکار کرجاتے ہیں جیسے فرعونیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کھلے معجزوں کو دیکھ کر بھی بےپراوہی کی اور نہ مانے ۔ اور آیت میں ہے جب ان سے اللہ کی وحی کی تابعداری کو کہا جاتا ہے اور رسول اللہ کے فرمان کی طرف بلایا جاتا ہے تو تو دیکھے گا کہ اے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ منافق تجھ سے دور چلے جایا کرتے ہیں ۔ سورۃ منافقون میں ارشاد ہوا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اور اپنے لئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کرواؤ تو وہ اپنے سرگھما کر گھمنڈ میں آکر بےنیازی سے انکار کرجاتے ہیں حضرت لقمان رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے صاحبزادے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا آیت ( وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ 18؀ۚ ) 31- لقمان:18 ) لوگوں سے اپنے رخسار نہ پھلادیا کر یعنی اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر ان سے تکبر نہ کر ۔ اور آیت میں ہے ہماری آیتیں سن کر یہ تکبر سے منہ پھیرلیتا ہے ۔ لیضل کا لام یہ تولام عاقبت ہے یا لام تعلیل ہے اس لئے کہ بسا اوقات اس کا مقصود دوسروں کو گمراہ کرنا نہیں ہوتا اور ممکن ہے کہ اس سے مراد معاند اور انکار ہی ہو اور ہوسکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ ہم نے اسے ایسا بداخلاق اس لئے بنا دیا ہے کہ یہ گمراہوں کا سردار بن جائے ۔ اس کے لئے دنیا میں بھی ذلت وخواری ہے جو اس کے تکبر کا بدلہ ۔ یہ یہاں تکبر کرکے بڑا بننا چاہتا تھا ہم اسے اور چھوٹا کردیں گے یہاں بھی اپنی چاہت میں ناکام اور بےمراد رہے گا ۔ اور آخرت کے دن بھی جہنم کی آگ کا لقمہ ہوگا ۔ اسے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے کا کہ یہ تیرے اعمال کا نتیجہ ہے اللہ کی ذات ظلم سے پاک ہے جیسے فرمان ہے کہ فرشتوں سے کہا جائے گا کہ اسے پکڑ لو اور گھسیٹ کر جہنم میں لے جاؤ اور اس کے سر پر آگ جیسے پانی کی دھار بہاؤ ۔ لے اب اپنی عزت اور تکبر کا بدلہ لیتا جا ۔ یہی وہ ہے جس سے عمربھر شک شبہ میں رہا ۔ حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ ایک دن میں وہ ستر ستر مرتبہ آگ میں جل کر بھرتا ہوجائے گا ۔ پھر زندہ کیا جائے گا پھر جلایا جائے گا ( اعاذنا اللہ ) ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨] اس آیت میں علم کے لفظ کا اطلاق شرعی زبان میں عموماً وحی الٰہی پر ہوتا ہے مگر یہاں علم سے مراد فطری یا پیدائشی یا بدیہی علم ہے جو ہر انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ مثلاً یہ کہ ہر جاندار کو اپنی زندگی کے بقاء کے لئے کھانے پینے کی ضرورت ہوتی ہے یا یہ کہ دو اور دو چار ہوتے ہیں۔ یا یہ کہ کل ہمیشہ اپنے جزء سے جڑا ہوتا ہے یا یہ کہ آگ میں جو چیز ڈالی جائے، آگ اسے جلا دیتی ہے یہ ایسے امور ہیں جن کے لئے کسی عقلی یا نقلی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نہ ہی کوئی شخص ایسے امور کے لئے دلیل کا مطالبہ کرتا ہے اور ھدی سے مراد عقلی دلیل ہے۔ مثلاً اسی کائنات کا مربوط نظام اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کو پیدا کرنے والی اور اسے کنٹرول میں رکھنے والی کوئی مقتدر علیم اور خبیر ہستی ہو۔ یا یہ کہ ہر چیز کا کوئی بنانے والا ہونا ضروری ہے۔ یا یہ کہ اگر کہیں راستہ میں اونٹ کی مینگنی پڑی ہوئی ہے تو وہ اس بات پر عقلی دلیل ہوتی ہے کہ یہاں سے کوئی اونٹ گزرا ہے اور کتاب منیر سے مراد کوئی نقلی یا سمعی دلیل ہے۔ یعنی ایسی دلیل جو کسی الہامی کتاب میں مذکور ہو۔ مثلاً یہ کہ اس کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے تصرف و اختیار میں یا اس کی ذات وصفات میں کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں اور قرآن کریم و احادیث ایسے سمعی یا نقلی دلائل سے بھرے پڑے ہیں۔ اب جو لوگ اللہ کی ذات یا اس کے اختیارات و تصرفات یا اس کی دوسری صفات کے بارے میں بحث یا کج بحثی یا جھگڑے کرتے ہیں۔ ان کے پاس نہ تو کوئی بدیہی یا تجرباتی دلیل (علم) ہوتا ہے۔ نہ کوئی عقلی دلیل (ھدی) ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی سمعی، نقلی (کتاب منیر) دلیل ہوتی ہے۔ ان کی بحث فقط برائے بحث یا کج بحثی ہوتی ہے۔ ان کے پاس یہ بات کہنے کے سوا کوئی جواب نہیں ہوتا کہ چونکہ ہمارے آباء و اجداد ایسا کرتے آئے ہیں۔ لہذا ہم بھی ایسا کرتے ہیں یا کرتے رہیں گے اور ظاہر ہے کہ یہ دلیل کوئی قسم نہیں اور اس جواب کا ماحصل یہی ہے کہ اگر بزرگوں نے گمراہی کی راہ اختیار کی تھی تو ان کی یہ گمراہی نسلاً بعد نسل ان کی اولاد در اولاد میں منتقل ہوتی چلی جائے۔ ان لوگوں کا اس جھگڑے سے اصل مقصد یہ ہوتا کہ دوسرے لوگوں کو بھی ایمان و یقین کی راہ سے دور رکھیں اور اپنی طرح ان کو بھی گمراہ کرکے چھوڑیں۔ ایسے بغض وعناد رکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں ذلیل اور رسوا کرے گا اور اخروی عذاب تو بہرحال اس سے شدید تر ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ ۔۔ : یہاں ایک سوال ہے کہ یہی الفاظ اس سے پہلے آیت (٣) میں گزرے ہیں، پھر انھیں دوبارہ لانے میں کیا حکمت ہے ؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ وہاں قیامت کے قیام پر اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے متعلق ان کج بحث جھگڑالوؤں کا ذکر ہے جو علم سے سراسر عاری اور محض مقلد ہیں اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چلتے ہیں۔ جبکہ یہاں ان جھگڑالوؤں کا ذکر ہے جو گمراہی کے پیشوا ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں، دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ جس طرح پہلی آیت : ” وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ “ میں واؤ سے پہلے کچھ لوگوں کا ذکر محذوف ہے (آیت : ٣ کی تفسیر ایک بار پھر دیکھ لیں) اسی طرح موقع کی مناسبت سے یہاں بھی ” وَمِنَ النَّاسِ “ کی واؤ سے پہلے کچھ لوگوں کا ذکر محذوف ہے، یعنی جو لوگ انسان کی پیدائش اور مردہ زمین کو زندہ کرنے کے دلائل سے پہلے قیامت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان نہیں لا رہے تھے ان قطعی دلائل کے بعد ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو ایمان لے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہٹ دھرم اور عقل و شعور سے عاری ہیں جو کسی بھی دلیل کے بغیر محض تکبر کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ خود ایمان نہیں لاتے، بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّلَا هُدًى ۔۔ : علم سے مراد بدیہی اور فطری دلیل ہے جو کسی غور و فکر کے بغیر ہر ایک کی سمجھ میں آتی ہے۔ ” هُدًى“ سے مراد غور و فکر اور نظر و استدلال سے حاصل ہونے والی عقلی دلیل ہے اور ” كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ “ سے مراد آسمان سے نازل ہونے والی کتابوں میں صحیح ثابت ہونے والی کوئی دلیل نقلی ہے۔ یعنی اس کے پاس قیامت کے انکار یا اللہ تعالیٰ کے وجود یا اس کی قدرت کے انکار کی کوئی فطری دلیل ہے نہ عقلی اور نہ نقلی۔ اس کے جھگڑے کا باعث صرف تکبر ہے۔ ثَانِيَ عِطْفِهٖ : ” ثَنٰی یَثْنِیْ ثَنْیًا “ بروزن ” لَوَی یَلْوِیْ لَیًّا “ (ض) موڑنے کے معنی میں آتا ہے۔ ” ثَنٰی عِنَانَ فَرَسِہِ “ اس نے اپنے گھوڑے کی باگ موڑی۔ جھکانے کے معنی میں بھی آتا ہے : (اَلَآ اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ ) [ ھود : ٥ ] ” سن لو ! بلاشبہ وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں۔ “ ” عِطْفٌ“ کا معنی کندھا بھی ہے اور پہلو بھی۔ یہ اس کے تکبر کی تصویر ہے کہ وہ کس طرح پہلو موڑتے ہوئے اور گردن کشی کرتے ہوئے حق سے اعراض کرتا ہے۔ لَهٗ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ : مراد مسلمانوں کے ہاتھوں قتل، شکست، اسیری یا محکومی ہے، جیسا کہ بدر، احد، خندق، فتح خیبر، فتح مکہ اور فتح طائف اور دوسری بیشمار جنگوں میں ہوا۔ مزید ذلت و رسوائی یہ کہ مال و اولاد کی فراوانی کے باوجود ” مَعِيْشَةً ضَنْكًا “ (طٰہٰ : ١٢٤) اور اموال و اولاد کے ذریعے سے مسلسل عذاب ہے۔ دیکھیے سورة توبہ (٥٥) جو دنیا میں کفار کا اور حق تعالیٰ کی یاد سے منہ موڑنے والے ہر شخص کا مقدر ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللہِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّلَا ہُدًى وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ۝ ٨ۙ جدل الجِدَال : المفاوضة علی سبیل المنازعة والمغالبة، وأصله من : جَدَلْتُ الحبل، أي : أحكمت فتله ۔ قال اللہ تعالی: وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ [ النحل/ 125] ( ج د ل ) الجدال ( مفاعلۃ ) کے معنی ایسی گفتگو کرنا ہیں جسمیں طرفین ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کریں اصل میں یہ جدلت الحبل سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی ہیں رسی کو مضبوط بٹنا اسی سے بٹی ہوئی رسی کو الجدیل کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ [ النحل/ 125] اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨) اور بعض آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ دین الہی اور کتاب خداوندی میں بدون واقفیت علم ضروری بغیر دلیل اور بغیر کسی روشن کتاب کے اپنے گردن مٹکاتے ہوئے اور آیات خداوندی سے اعراض اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کو جھٹلاتے ہوئے جھگڑا کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨ (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّلَا ہُدًی وَّلَا کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ ) ” ایسے لوگ بغیر کسی علمی دلیل اور الہامی رہنمائی کے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

10. That is, they are so proud, arrogant, obdurate and obstinate that they do not pay any heed to admonition. 11. Knowledge: That personal information which is gained directly through observation and experience. 12. Guidance: That information which is gained by reasoning or through another person who has knowledge. 13. Book with light: Source of information gained from divine revelation.

سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :10 یعنی وہ ذاتی واقفیت جو براہ راست مشاہدے اور تجربے سے حاصل ہوئی ہو ۔ سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :11 یعنی وہ واقفیت جو کسی دلیل سے حاصل ہوئی ہو یا کسی علم رکھنے والے کی رہنمائی سے ۔ سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :12 یعنی وہ واقفیت جو خدا کی نازل کردہ کتاب سے حاصل ہوئی ہو ۔ سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :13 اس میں تین کیفیتیں شامل ہیں : جاہلانہ ضد اور ہٹ دھرمی ۔ تکبر اور غرور نفس ۔ اور کسی سمجھانے والے کی بات کی طرف التفات نہ کرنا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 ۔ تاکہ ان کے اعمال کا حساب لیا جائے اور جیسا کسی کا عمل ہو ویسا ہی اسے بدلہ دیا جائے۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں۔ اوپر دوبارہ زندہ کئے جانے کے امکان پر دلائل قائم کئے۔ اب دوبارہ زندگی کے وقوع کی خبر دی اور یہ ظاہر ہے کہ کسی ممکن چیز کے وقوع کی ایک صادق مصدوق خبر دے تو اس کے وقوع میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہوسکتا۔ (کبیر) 6 ۔ یعنی اس کے پاس ضروری (بدیہی) علم سے کوئی دلیل ہے نہ نظر و استدلال سے اور نہ کوئی وحی ہی ہے جو خدا کی طرف سے کتاب کی شکل میں نازل کی گئی ہو بلکہ وہ محض اٹکل پچو اللہ تعالیٰ اور اس کی قدرت کے بارے میں جھگڑا کرتا ہے۔ پہلی آیت میں شیاطین کے مقدارین کا حال بیان فرمایا اور اس آیت میں ان کے پیشوائوں کا۔ (ابن کثیر، شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ومن الناس ……بظلام للحمید (١٠) ان دلائل کی موجودگی کے بعد بھی اللہ کے بارے میں کلام کرنا عجیب و غریب لگتا ہے اور نہایت ہی برا فعل ہے۔ نیز یہ جھگڑا جو لوگ کرتے ہیں وہ اہل علم ہی نہیں ہیں۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ نہ اس میدان میں انہیں کوئی خصوصی معرفت ہے۔ نہ وہ ایسی کسی کتاب سے دلیل لائے ہیں جو عقل کو روشن کردیتی ہو۔ حق کی وضاحت کرتی ہو اور یقینی راہ بتلاتی ہو۔ یہاں ایسے لوگوں کی مخصوص تصویر کشی بھی کی جاتی ہے جنہوں نے غرور کی وجہ سے گردن اکڑائی ہوئی ہے۔ ثانی عطفہ (٢٢ : ٩) ” گردن اکڑائے ہوئے “۔ اور اس کی بات دلیل کے ساتھ نہیں ہوتی بلکہ وہ اکڑ کر بات کرتا ہے۔ درجہ متکبر ہوتا ہے۔ لیضل عن سبیل اللہ (٢٢ : ٩) ” تاکہ لوگوں کو خدا کی راہ سے بھٹکا دے۔ “ ایسے لوگ صرف اس پر اکتفا نہیں کرتے کہ وہ خود گمراہ ہوں بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ لہٰذا ایسا غرور اور ایسی کرخت بڑائی اور گردن فرازی کا توڑنا ضروری ہے اس طرح کہ وہ ریزہ ریزہ ہوجائے۔ لہ فی الدنیا خزی (٢٢ : ٩) ” ایسے شخص کے لئے دنیا میں رسوائی ہے۔ “ رسوائی اور شرمنگدی کبر اور غرور کے عین متضاد حالت ہے۔ اللہ کا یہ قانون ہے کہ وہ ان منکرین ، گردن فرازوں اور اکڑ والوں اور گمراہ ہونے والوں اور ایک دوسرے کو گمراہ کرنے والوں کی اس اکڑ کو توڑ کر رکھ دیتا ہے ، اگرچہ ایک زمانے کے بعد۔ ہاں ایسے لوگوں کو اللہ مہلت دیتا ہے تاکہ جب زوال آئے تو وہ بہت زیادہ شرمندہ اور ذلیل ہوں اور اس تذلیل کا ان پر زیادہ اثر ہو۔ رہا آخرت کا عذاب تو وہ بہت ہی سخت اور بہت ہی درد ناک ہے۔ ونذیقہ یوم القیمۃ عذاب الحریق (٢٢ : ٩) ” اور قیامت کے دن ہم اسے جلنے کا عذاب چکھائیں گے۔ “ چند لمحے بھی نہیں گزرتے کہ یہ دھمکی حقیقت کا روپ اختیار کرلیتی ہے یوں کہ دوران کلام انداز کلام کو اچانک حکایتی انداز سے خطاب میں بدل دیا جاتا ہے۔ ذلک بما قدمت یدک و ان اللہ لیس بظلام للعبید (٢٢ : ١٠) ” یہ ہے تیرا یہ مستقبل جو تیرے اپنے ہاتھوں نے تیرے لئے تیار کیا ہے ورنہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ “ گویا ایک ہی لمحے میں اس کی سرزنش بھی ہوگئی اور وہ عذاب میں بھی جاگرا۔ …… اب قرآن کریم لوگوں میں سے بعض دوسروں قسم کے لوگوں کا نمونہ پیش کرتا ہے۔ اگرچہ اس قسم کے لوگ اس وقت دعوت اسلامی کے مقابلے پر تھے ، لیکن ایسے نمونے ہر دور میں موجود رہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو یہودی مزاج رکھتے ہیں اور نظریہ کو بھی تاجرانہ انداز میں لیتے ہیں اور شہر مارکیٹ میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

معاندین کا متکبرانہ طرز عمل اور آخرت میں ان کا عذاب و رسوائی روح المعانی میں حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی۔ بعض حضرات کا یہ قول بھی لکھا ہے کہ آیت کریمہ میں جس شخص کا ذکر ہے وہ اخنس بن شریق تھا اور بہت سے حضرات نے یوں فرمایا ہے کہ نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی۔ سبب نزول جو بھی ہو بہر حال آیت کا عموم ہر اس شخص کی مذمت اور دنیا و آخرت کی ذلت اور بد حالی کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں بےت کے سوال کرے اور اللہ کے بھیجے ہوئے دین کو قبول نہ کرے۔ نہ اس کے پاس علم ہے اور نہ اس کی عقل رہبر ہے اور نہ اس کے پاس کوئی کتاب ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہو۔ وہ ہر اعتبار سے جاہل ہے یہ تو اس کا حال ہے اور جب ہدایت سامنے آتی ہے تو یہ سمجھ کر کہ اس کے قبول کرنے میں میری بےآبروئی ہے اور ہیٹی ہے تکبر کے انداز میں گردن موڑ کر چلا جاتا ہے۔ وہ اس متکبرانہ طور طریق کی وجہ سے خود بھی گمراہی میں پڑا ہوا ہے اور دوسروں کو بھی اللہ کے راستہ سے ہٹاتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے ارشاد فرمایا کہ ان کے لیے دنیا میں ذلت ہے اور آخرت میں دوزخ کی آگ میں جلنے کا عذاب چکھیں گے۔ جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو ان سے کہا جائے گا (ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰکَ ) (کہ یہ وہ ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا یعنی تو نے جو اعمال کیے یہ انہیں کی سزا ہے) بغیر کفر اور شرک اور بغیر معصیت کے اللہ تعالیٰ عذاب نہیں دیتا۔ اور وہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ اسی کو فرمایا (وَ اَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ ) دنیا میں تو نضر بن حارث اور ابو جہل کی یوں ذلت ہوئی کہ وہ بدر میں مقتول ہوئے اور اخنس بن شریق کی موت کا حال معلوم نہ ہوسکا۔ بہر حال یہ بات لازمی ہے کہ جو لوگ بھی آیت کے مصداق ہوئے یا آئندہ ہوں گے سب دنیا میں ذلیل ہوں گے اور آخرت میں دوزخ میں جائیں گے جلنے کا عذاب چکھیں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

16:۔ ” وَ مِنَ النَّاسِ الخ “ یہ زجر اول کا تفصیلی اعادہ ہے یعنی ضدی اور معاند لوگ اللہ کی توحید میں خواہ مخواہ جھگڑا کرتے اور شبہات نکالتے ہیں حالانکہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں جسے وہ اپنے مشرکانہ عقائد و اعمال کی تائید میں اور توحید کے خلاف پیش کرسکیں۔ عقل و نقل اور وحی سے کوئی بھی دلیل ان کے پاس نہیں۔ ” بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا ھُدًي وَّلَا کِتٰبٍ مُّنِیْرٍ “” عِلْمٍ “ دلیل عقلی۔ ” ھُدًي دلیل وحی “ اور ” کِتَاب منیر “ دلیل نقلی۔ یہ نادان لوگ اللہ کی توحید میں شک کر رہے ہیں باوجودیکہ ان کے پاس نہ کوئی علم ہے یعنی دلیل عقلی اور نہ ہدایت یعنی وحی اور نہ کتاب منیر یعنی دلیل نقلی۔ قالہ الشیخ وقال فی جامع البیان لیس لہ علم فطری ولا مایستند الی دلیل نقلی ولا الی وحی (ص 219) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(8) اور لوگوں میں بعض شخص وہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر کسی علم و واقفیت اور بدون کسی دلیل اور بدون کسی روشن کتاب کے۔