Surat ul Mominoon

Surah: 23

Verse: 112

سورة المؤمنون

قٰلَ کَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِی الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِیۡنَ ﴿۱۱۲﴾

[ Allah ] will say, "How long did you remain on earth in number of years?"

اللہ تعالٰی دریافت فرمائے گا کہ تم زمین میں باعتبار برسوں کی گنتی کے کس قدر رہے؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah tells them how much they wasted in their short lives in this world by failing to obey Allah and worship Him Alone. If they had been patient during their short stay in this world, they would have attained victory just like His pious close friends. قَالَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الاْاَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ He will say: "What number of years did you stay on earth!" means, how long did you stay in this world. قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَاسْأَلْ الْعَادِّينَ

مختصر زندگی طویل گناہ بیان ہو رہا ہے کہ دنیا کی تھوڑی سے عمر میں یہ بدکاریوں میں مشغول ہوگئے اگر نیکوں کار رہتے تو اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ ان نیکیوں کا بڑا اجر پاتے آج ان سے سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس قدر رہے جواب دیں گے کہ بہت ہی کم ایک دن یا اس بھی کم حساب داں لوگوں سے دریافت کرلیا جائے جواب ملے گا کہ اتنی مدت ہو یا زیادہ لیکن واقع میں وہ آخرت کی مدت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے اگر تم اسی کو جانتے ہوتے تو اس فانی کو اس جاودانی پر ترجیح نہ دیتے اور برائی کرکے اس تھوڑی سی مدت میں اس قدر اللہ کو ناراض نہ کردیتے وہ ذرا سا وقت اگر صبر وضبط سے اطاعت الہٰی میں بسر کردیتے تو آج راج تھا ۔ خوشی ہی خوشی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب جنتی دوزخی اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے تو جناب باری عزوجل مومنوں سے پوچھے گا کہ تم دنیا میں کتنی مدت رہے ؟ وہ کہیں گے یہی کوئی ایک آدھ دن اللہ فرمائے گا پھر تو بہت ہی اچھے رہے کہ اتنی سی دیر کی نیکیوں کا یہ بدلہ پایا کہ میری رحمت رضامندی اور جنت حاصل کر لی ۔ جہاں ہمیشگی ہے پھر جہنمیوں سے یہ سوال ہوگا وہ بھی اتنی ہی مدت بتائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہاری تجارت بڑی گھاٹے والی ہوئی کہ اتنی سی مدت میں تم نے میری ناراضگی غصہ اور جہنم خرید لیا ، جہاں تم ہمیشہ پڑے رہوگے کیا تم لوگ یہ سمجھے ہوئے ہو کہ تم بیکار بےقصد ارادہ پیدا کئے گے ہو؟ کوئی حکمت تمہاری پیدائش میں نہیں ؟ محض کھیل کے طور پر تمہیں پیدا کردیا گیا ہے ؟ کہ مثل جانوروں کے تم اچھلتے کودتے پھرو ثواب عذاب کے مستحق ہو یہ گمان غلط ہے تم عبادت کے لئے اللہ کے حکموں کی بجا آوری کے لئے پیدا کیے گئے ہو ۔ کیا تم یہ خیال کرکے بے فکر ہوگے ہوگئے ہو کہ تمہیں ہماری طرف لوٹنا ہی نہیں؟ یہ بھی غلط خیال ہے جیسے فرمایا آیت ( اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى 36؀ۭ ) 75- القيامة:36 ) کیا لوگ یہ گماں کرتے ہیں کہ وہ مہمل چھوڑ دئیے جائیں گے اللہ کی بات اس سے بلندوبرتر ہے کہ وہ کوئی عبث کام کرے بیکار بنائے بگاڑے وہ سچا بادشاہ اس سے پاک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش عظیم کا مالک ہے جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا ہوا ہے وہ بہت بھلا اور عمدہ ہے خوش شکل اور نیک منظر ہے جیسے فرمان ہے زمین میں ہم نے ہرجوڑا عمدہ پیدا کردیا ہے خلیفۃ المسلمین امیر المومنین حضرت عمربن عبداالعزیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے آخری خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کے بعد فرمایا کہ لوگو! تم بیکار اور عبث پیدا نہیں کئے گئے اور تم مہمل چھوڑ نہیں دئے گئے یاد رکھو کہ وعدے کا ایک دن ہے جس میں خود اللہ تعالیٰ فیصلے کرنے اور حکم فرمانے کیلئے نازل ہوگا ۔ وہ نقصان میں پڑا اس نے خسارہ اٹھایا وہ بےنصیب اور بدبخت ہوگیا ، وہ محروم اور خالی ہاتھ رہا ، جو اللہ کی رحمت سے دور ہوگیا اور جنت سے روک دیا گیا ، جس کی چوڑائی مثل کل زمینوں اور آسمانوں کے ہے ۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کل قیامت کے دن عذاب الٰہی سے وہ بچ جائے گا ، جس کے دل میں اس دن کا خوف آج ہے اور جو اس فانی دنیا کو اس باقی آخرت پر قربان کر رہا ہے ، اس تھوڑے کو اس بہت کے حاصل کرنے کیلئے بےتکان خرچ کر رہا ہے اور اپنے اس خوف کو امن سے بدلنے کے اسباب مہیا کر رہا ہے ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم سے گزشتہ لوگ ہلاک ہوئے ، جن کے قائم مقام اب تم ہو ۔ اسی طرح تم بھی مٹا دیئے جاؤ گے اور تمہارے بدلے آئندہ آنے والے آئیں گے یہاں تک کہ ایک وقت آئے گا کہ ساری دنیا سمٹ کر اس خیرالوراثین کے دربار میں حاضری دے گی ۔ لوگو خیال تو کرو کہ تم دن رات اپنی موت سے قریب ہو رہے ہو اور اپنے قدموں سے اپنی گور کی طرف جا رہے ہو ، تمہارے پھل پک رہے ہیں ، تمہاری امیدیں ختم ہو رہی ہیں ، تمہاریں عمریں پوری ہو رہی ہیں ۔ تمہاری اجل نزدیک آگئی ہے ، تم زمین کے گڑھوں میں دفن کردیئے جاؤ گے ، جہاں نہ کوئی بستر ہوگا ، نہ تکیہ ، دوست احباب چھوٹ جائیں گے ، حساب کتاب شروع ہو جائے گا ، اعمال سامنے آ جائیں گے ، جو چھوڑ آئے وہ دوسروں کا ہو جائے گا ۔ جو آگے بھیج چکے ، اسے سامنے پاؤ گے ، نیکیوں کے محتاج ہوگے ، بدیوں کی سزائیں بھگتو گے ۔ اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو ، اس کی باتیں سامنے آ جائیں اس سے پہلے موت تم کو اچک لے جائے ۔ اس سے پہلے جواب دہی کیلئے تیار ہو جاؤ ، اتنا کہا تھا کہ رونے کے غلبہ نے آواز بلند کردی ۔ منہ پر چادر کا کونہ ڈال کر رونے لگے اور حاضرین کی بھی آہ و زاری شروع ہوگئی ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک بیمار شخص جسے کوئی جن ستا رہا تھا ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے افحسبتم سے سورت کے ختم تک کی آیتیں اس کے کان میں تلاوت فرمائیں وہ اچھا ہوگیا ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم نے اس کے کان میں کیا پڑھا تھا ؟ آپ نے بتایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے یہ آیتیں اس کے کان میں پڑھ کر اسے جلا دیا ۔ واللہ ان آیتوں کو اگر کوئی باایمان اور بایقین شخص کسی پہاڑ پر پڑھے تو وہ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائے ۔ ابو نعیم نے روایت کی ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر میں بھیجا اور حکم فرمایا کہ ہم صبح شام آیت ( اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ ١١٥؁ ) 23- المؤمنون:115 ) پڑھتے رہیں ہم نے برابر اس کی تلاوت دونوں وقت جاری رکھی ۔ الحمدللہ ہم سلامتی اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت کا ڈوبنے سے بچاؤ کشتیوں میں سوار ہونے کے وقت یہ کہنا ہے ۔ دعاو آیت ( بسم اللہ الملک الحق و ماقدرو واللہ حق قدرہ والارض جمعیا قبضتہ یوم القیامتہ والسموت مطویات بیمینہ سبحانہ و تعالیٰ عما یشرکون بسم اللہ مجریھا و مرسھا ان ربی لغفور رحیم ) ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَ : کفار قیامت کا انکار کرتے تھے اور دنیا کی زندگی کے علاوہ کسی زندگی کو نہیں مانتے تھے۔ ان کے خیال میں مٹی اور ہڈیاں ہوجانے کے بعد زندہ ہونا ممکن نہ تھا، اس لیے انھوں نے دنیا کی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھا، اسے آخرت پر ترجیح دی اور اسے اس طرح گزارا جیسے انھیں ہمیشہ یہیں رہنا ہے، حالانکہ یہ تھوڑا سا وقت غنیمت جان کر اگر آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتے اور اسے اللہ کی فرماں برداری میں گزارتے تو اس کے صلے میں ہمیشہ ہمیشہ جنت کی نہ ختم ہونے والی نعمتوں کے مالک بنتے۔ لیکن انھوں نے یہ تھوڑا سا وقت بہت لمبا زمانہ سمجھ کر اللہ کی نافرمانی میں گزارا تو اس کے بدلے میں ہمیشہ ہمیشہ جہنم کے مستحق ٹھہرے۔ قیامت کے دن جب وہ اس عذاب میں مبتلا ہوں گے جو ختم ہونے والا ہی نہیں، تو اللہ تعالیٰ انھیں اس زندگی کی حقیقت یاد دلانے کے لیے، جسے وہ سبھی کچھ سمجھتے تھے، ان سے سوال کریں گے کہ تم زمین میں کتنے سال رہے ہو ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَ۝ ١١٢ كم كَمْ : عبارة عن العدد، ويستعمل في باب الاستفهام، وينصب بعده الاسم الذي يميّز به نحو : كَمْ رجلا ضربت ؟ ويستعمل في باب الخبر، ويجرّ بعده الاسم الذي يميّز به . نحو : كَمْ رجلٍ. ويقتضي معنی الکثرة، وقد يدخل «من» في الاسم الذي يميّز بعده . نحو : وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها[ الأعراف/ 4] ، وَكَمْ قَصَمْنا مِنْ قَرْيَةٍ كانَتْ ظالِمَةً [ الأنبیاء/ 11] ، والکُمُّ : ما يغطّي الید من القمیص، والْكِمُّ ما يغطّي الثّمرةَ ، وجمعه : أَكْمَامٌ. قال : وَالنَّخْلُ ذاتُ الْأَكْمامِ [ الرحمن/ 11] . والْكُمَّةُ : ما يغطّي الرأس کالقلنسوة . کم یہ عدد سے کنایہ کے لئے آتا ہے اور یہ دو قسم پر ہے ۔ استفہامیہ اور خبریہ ۔ استفہامیہ ہوتا اس کا مابعد اسم تمیزبن کر منصوب ہوتا ( اور اس کے معنی کتنی تعداد یا مقدار کے ہوتے ہیں ۔ جیسے کم رجلا ضربت اور جب خبریہ ہو تو اپنی تمیز کی طرف مضاف ہوکر اسے مجرور کردیتا ہے اور کثرت کے معنی دیتا ہے یعنی کتنے ہی جیسے کم رجل ضربت میں نے کتنے ہی مردوں کو پیٹا اور اس صورت میں کبھی اس کی تمیز پر من جارہ داخل ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها[ الأعراف/ 4] اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کروالیں ۔ وَكَمْ قَصَمْنا مِنْ قَرْيَةٍ كانَتْ ظالِمَةً [ الأنبیاء/ 11] اور ہم نے بہت سے بستیوں کو جو ستم گار تھیں ہلاک کر ڈالا ۔ لبث لَبِثَ بالمکان : أقام به ملازما له . قال تعالی: فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ [ العنکبوت/ 14] ، ( ل ب ث ) لبث بالمکان کے معنی کسی مقام پر جم کر ٹھہرنے اور مستقل قیام کرنا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ [ العنکبوت/ 14] تو وہ ان میں ۔ ہزار برس رہے ۔ عد العَدَدُ : آحاد مركّبة، وقیل : تركيب الآحاد، وهما واحد . قال تعالی: عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] ، وقوله تعالی: فَضَرَبْنا عَلَى آذانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَداً [ الكهف/ 11] ، فَذِكْرُهُ للعَدَدِ تنبيه علی کثرتها . والعَدُّ ضمُّ الأَعْدَادِ بعضها إلى بعض . قال تعالی: لَقَدْ أَحْصاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا [ مریم/ 94] ، فَسْئَلِ الْعادِّينَ [ المؤمنون/ 113] ، أي : أصحاب العَدَدِ والحساب . وقال تعالی: كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ [ المؤمنون/ 112] ، وَإِنَّ يَوْماً عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ [ الحج/ 47] ، ( ع د د ) العدد ( گنتی ) آحا د مرکبہ کو کہتے ہیں اور بعض نے اس کے معنی ترکیب آحاد یعنی آجا د کو ترکیب دینا بھی کئے ہیں مگر ان دونوں معنی کا مرجع ایک ہی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] بر سوں کا شمار اور ( کاموں ) کا حساب بر سوں کا شمار اور ( کاموں ) کا حساب ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَضَرَبْنا عَلَى آذانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَداً [ الكهف/ 11] ہم نے غار میں کئی سال تک ان کانوں پر ( نیند کا ) بردہ ڈالے ( یعنی ان کو سلائے ) رکھا ۔ کے لفظ سے کثرت تعداد کی طرف اشارہ ہے ۔ العد کے معنی گنتی اور شمار کرنے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ لَقَدْ أَحْصاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا[ مریم/ 94] اس نے ان سب کا اپنے علم سے احاطہ اور ایک ایک کو شمار کر رکھا ہے ۔ اور آیت ۔ فَسْئَلِ الْعادِّينَ [ المؤمنون/ 113] کے معنی یہ ہیں کہ حساب دانوں سے پوچھ دیکھو ۔ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ [ المؤمنون/ 112] زمین میں کتنے برس رہے ۔ وَإِنَّ يَوْماً عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ [ الحج/ 47] بیشک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کی رو سے ہزار برس کے برابر ہے :

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٢) ارشاد خداوندی ہوگا کہ اچھا یہ تو بتلاؤ کہ تم مہینوں اور دنوں کے اعتبار سے کتنی مدت قبروں میں رہے ہو گے ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١١٢۔ ١١٤:۔ ان دوزخیوں کو قائل کرنے کے لیے جس طرح ان سے یہ پوچھا جاوے گا کہ کیا تم کو قرآن کی آیتیں نہیں سنائی گئیں اور تم نے ان کو نہیں جھٹلایا ‘ اسی طرح یہ بھی ان سے پوچھا جاوے گا کہ دنیا کی جس زندگی کے نشہ میں تم عقبیٰ کو بھول گئے اور اللہ کے کلام کو تم نے جھٹلایا ‘ آخر تم کو کچھ یہ بھی یاد ہے کہ دنیا میں تم کتنے برس رہے ‘ عذاب کی سختی کے سبب سے یہ لوگ بالکل بدحواس ہوجاویں گے ‘ اس لیے بدحواسی کا جواب دیویں گے کہ جن کی صحیح گنتی یاد ہو ان سے یہ بات پوچھی جاوے کہ دنیا میں ہم کتنے برس رہے۔ اس ہمیشہ کے سخت عذاب کے آگے تو ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہم دنیا میں ایک دن یا اس سے بھی کچھ کم رہے ‘ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا اب تو تم کو دنیا میں رہنے کی مدت یاد نہیں لیکن اگر یاد کر کے تم اس مدت کو اس وقت جان بھی لیتے تو اس ہمیشہ کے عذاب کے آگے وہ مدت کچھ شمار کے قابل نہ رہتی ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے مالدار نافرمان لوگ قیامت کے دن دوزخ کے پہلے ہی جھونکے میں دنیا کے سب عیش و آرام کو بالکل بھول جاویں گے اس حدیث کو ان آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ دوزخ کے عذاب کی سختی کے آگے دوزخی لوگ دنیا کی راحت کو سب چیزوں کو بھول جاویں گے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(23:112) قال ای قال اللہ تعالیٰ شانہ۔ کم۔ اگر استفہامیہ ہو تو سوال کے لئے آتا ہے۔ کتنی مقدار ۔ کتنی تعداد ۔ کتنی مدت۔ اس کی تمیز ہمیشہ مفرد منصوب ہوتی ہے ۔ جیسے کم درھما عند تیرے پاس کتنے درہم ہیں۔ کبھی تمیز محذوف ہوتی ہے جیسے آیۃ ہذا میں۔ کم لبثتم ای کم زمانا لبثتم۔ تم کتنی مدت ٹھہرے۔ یا اس کی تمیز عدد سنین ہے۔ ای کم عدد سنین لبثتم۔ (2) اگر خبر یہ ہو تو تعداد کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے اور تمیز مجرور ہوتی ہے ۔ جیسے کم قریۃ اھلکناھا۔ ہم نے کتنی ہی بستیوں کو برباد کردیا۔ تمیز سے پہلے اکثر من آتا ہے جیسے کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ (2:249) کتنی ہی چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آگئی ہیں اللہ کے حکم سے۔ عدد سنین۔ بحساب سالوں کے۔ سالوں کی تعداد کے حساب سے۔ یہ کم کی تمیز ہے یا کم ظرف زمان ہے لبثتم کا۔ ای کم زمانا لبثتم اور عدد بدل ہے کم سے اور سنین بدل ہے عدد سے یعنی سالوں کے حساب سے تم (دنیا میں) کتنی مدت رہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کا جہنمیوں سے ایک اور سوال :۔ انسان کی بغاوت اور نافرمانی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں وہ سمجھتا ہے مرنے کے بعد میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش نہیں ہونا۔ جہنمیوں کی حسرتوں میں اضافہ کرنے اور دنیا میں دی جانے والی مہلت کا احساس دلانے کے لیے۔ اللہ تعالیٰ جہنمیوں سے استفسار فرمائیں گے۔ بتاؤ کہ تم دنیا میں کتنا عرصہ ٹھہرے تھے ؟ جہنمی جہنم کی ہولناکیوں سے گھبرا کر کہیں گے کہ ہم دنیا میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے۔ اس کے ساتھ ہی فریاد کریں گے کہ الٰہی ہمیں کچھ یاد نہیں کہ ہم کتنی دیر ٹھہرے رہے۔ آپ ان لوگوں سے استفسار فرمائیں جو گنتی کو جاننے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ تم ایک دن یا اس کا کچھ حصہ نہیں ٹھہرے بلکہ ایک مدت تک ٹھہرے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مدّت کو قلیل مدت قرار دیا ہے اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی زندگی اور اس کی نعمتیں آخرت کے مقابلے میں قلیل ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جہنمیوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ تمہیں دنیا کی زندگی میں معمولی اختیارات اور تھوڑی سی مہلت دی گئی مگر تم نے پھر بھی اپنے رب کی نافرمانی کی۔ اگر تم دنیا کی زندگی کو قلیل اور عارضی جانتے اور آخرت کی حقیقت کو سمجھتے تو آج جہنم کے عذاب سے نجات پاتے۔ (وَعَنِ المُسْتَوْرِ دِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ : وَاللّٰہِ مَا الدُّنْیَا فِی الْآخِرَۃِ إِ لَّا مِثْلُ مَا یَجْعَلُ اَحَدُکُمْ إِصْبَعَہٗ فِی الْیَمِّ فَلْیَنْظُرْ بِمَ یَرْجِعُ ) [ رواہ مسلم : باب فَنَاء الدُّنْیَا وَبَیَانِ الْحَشْرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ] ” حضرت مستورد بن شداد (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیان کرتے ہوئے سنا اللہ کی قسم ! دنیا کی مثال آخرت کے مقابلے میں اتنی سی ہے ‘ جتنا کہ تم میں سے کوئی دریا میں اپنی انگلی ڈالے۔ پھر دیکھے کہ اس کے ساتھ کتنا پانی آیا ہے ؟ “ (وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بِبَعْضِ جَسَدِی فَقَالَ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ وَعُدَّ نَفْسَکَ مِنْ أَھْلِ القُبُوْرِ ) [ رواہ البخاری : باب قول النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْل ] حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے کندھے کو پکڑکر فرمایا۔ دنیا میں اجنبی یا مسافر کی طرح رہو اور اپنے آپ کو اہل قبور میں شمار کرو۔ ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخیوں میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا ‘ جو دنیا میں سب سے زیادہ عیش و آرام کی زندگی بسر کرتا رہا۔ اسے دوزخ میں ایک غوطہ دیا جائے گا اس کے بعد اس سے پوچھا جائے گا۔ اے آدم کے بیٹے ! کیا تو نے کبھی آرام دیکھا ؟ اور تجھ پر نعمتوں کا کوئی دور گزرا ؟ وہ کہے گا۔ اللہ کی قسم ! کبھی نہیں ‘ اے میرے رب ! میں نے کبھی آرام نہیں پایا۔ پھر جنتیوں میں سے ایسے شخص لا یا جائے گا ‘ جس نے دنیا میں سب سے زیادہ تنگ زندگی گزاری ہوگی اسے جنت کی ایک جھلک دکھاکر پوچھا جائے گا ‘ کیا تو نے کبھی تنگی دیکھی ؟ کیا تجھ پر کبھی سختی کا وقت آیا ؟ وہ جواب دے گا۔ اللہ کی قسم ! مجھ پر کوئی تنگی نہیں آئی اور نہ ہی میں نے کبھی برا دن دیکھا۔ “ [ رواہ مسلم : باب صَبْغِ أَنْعَمِ أَہْلِ الدُّنْیَا فِی النَّارِ وَصَبْغِ أَشَدِّہِمْ بُؤْسًا فِی الْجَنَّۃ ] مسائل ١۔ جہنمی جہنم کے عذاب کی وجہ سے دنیا کی عیش و عشرت بھول جائیں گے۔ ٢۔ جہنمی دنیا میں طویل مدت تک رہنے کے باوجود اسے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ قرر دیں گے۔ تفسیر بالقرآن آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حیثیت : ١۔ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ (الاعلیٰ : ١٧) ٢۔ دنیا کھیل اور تماشا ہے۔ (الانعام : ٣٢) ٣۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی عارضی ہے۔ (الرعد : ٢٦) ٤۔ دنیا کی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے۔ (الحدید : ٢٠) ٥۔ دنیا عارضی اور آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔ (المؤمن : ٣٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قل کم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدد سنین۔ اللہ کو تو خوب معلوم ہے کہ انہوں نے کتنا عرصہ دنیا میں گزارا سے لیکن مقصد یہ بتانا ہے کہ دنیا کی یہ زندگی کس قدر مختصر ہے ‘ کس قدر حقیر ہے اور دنیا کے دن کس قدر چھوٹے ہیں۔ انہوں نے دنیا کی اس مختصر زندگی کے لیے آخرت کی دائمی زندگی کو خراب کیا۔ وہ تو آج محسوس کرتے ہیں کہ یہ دنیا کس قدر مختصر ہے۔ کس قدر معتبر ہے لیکن وہ مایوس ہیں اور ان کے سینے تنگ ہیں۔ اب ان کو کیا پڑی ہے کہ حساب کریں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ برتر ہے مالک ہے حق ہے وحدہ لا شریک ہے، کافر کامیاب نہیں ہونگے کافروں سے اللہ تعالیٰ شانہٗ کا یہ بھی سوال ہوگا کہ تم زمین میں برسوں کی گنتی کے اعتبار سے کتنے دن رہے ؟ وہ وہاں ہیبت اور ہول کی وجہ سے ہوش و حواس گم کرچکے ہونگے اس لیے جواب میں کہیں گے کہ ہمیں تو کچھ ایسا خیال آتا ہے کہ ایک دن یا اس سے بھی کم دنیا میں رہے ہونگے اور صحیح بات یہ ہے کہ ہمیں یاد ہی نہیں ہے شمار کرنے والوں سے یعنی فرشتوں سے سوال فرما لیجیے ہماری عمروں کا صحیح حساب ان کو معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ تم دنیا میں تھوڑی ہی مدت رہے وہاں جتنے دن بھی زندگی گزاری وہ آخرت کے مقابلہ میں تھوڑی ہی ہے، وہ دارالفنا تھا اب دارلقرار میں آئے ہو۔ یہاں موت نہیں ہے اگر تم دنیا میں ہی حقیقیت کو سمجھ لیتے۔ اور موت کے بعد زندہ ہو کر حساب کتاب کی پیشی کا یقین کرلیتے تو تمہارے حق میں اچھا ہوتا۔ مزید ارشاد ہوگا کہ تم نے دنیا میں جو زندگی گزاری اس میں تم یہ جانتے تھے کہ ہمارے خالق نے ہمیں پیدا کیا ہے کیا یہ بات جاننے کے باو جود تم نے یہ سمجھا کہ ہمارے خالق کا ہم پر حق ہے وہ حکیم مطلق ہے اس نے ہمیں حکمت کے موافق پیدا کیا ہے تم نے اس حقیقت کو نہ سمجھا اور الٹے یوں سمجھے کہ ہماری پیدائش بطور عبث ہے اس میں خالق جل مجدہ کی نہ کوئی حکمت ہے اور نہ ہمیں مر کر اپنے خالق کی طرف واپس لوٹنا ہے، تمہاری اس ناسمجھی اور غلط بیانی نے تمہیں برباد کردیا اور آج تمہیں دوزخ میں جانا پڑا۔ سورة حم سجدہ میں ہے (وَذٰلِکُمْ ظَنُّکُمْ الَّذِیْ ظَنَنتُمْ بِرَبِّکُمْ اَرْدَاکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ ) (اور تمہارا یہ گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا اس نے تمہیں ہلاک کردیا سو تم خسارہ والوں میں ہوگئے) (فَتَعٰلَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ) (سو برتر ہے اللہ بادشاہ ہے حق ہے) (لَا اِِلٰہَ اِِلَّا ھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیمِ ) (اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے) سب سے بڑا بادشاہ ہے ملک الملوک ہے اس کے علاوہ کسی دوسرے کو بھی معبود ماننا یہ بہت بڑی بغاوت ہے یہ باغی یوں نہ سمجھیں کہ ہمارا کوئی مواخذہ اور محاسبہ نہ ہوگا۔ محاسبہ ضرور ہوگا اور کافر لوگ وہاں میدان آخرت میں نا کام ہونگے۔ یعنی دوزخ میں جائیں گے مشرکین جو شرک کرتے ہیں ان کے پاس اس کے صحیح ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے اسی کو فرمایا کہ (وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِِلٰہًا آخَرَ لاَ بُرْھَانَ لَہٗ بِہٖ فَاِِنَّمَا حِسَابُہُ عِنْدَ رَبِّہٖ اِِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الْکٰفِرُوْنَ ) (جو شخص اللہ کے ساتھ اور کسی معبود کو پکارے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہوگا بلاشبہ بات یہ ہے کہ کافر لوگ کامیاب نہ ہونگے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

82:۔ ” قال کم لبثتم الخ “ جو کافر دنیا میں واپس جانے کی تمنا ظاہر کریں گے ان سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ بتاؤ تم دنیا میں کتنے سال رہے۔ ” قالوا لبثنا یوما الخ “ وہ کہیں گے ہمیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک دن یا اسے بھی کم رہے ہیں اے ہمارے پروردگار شدت ہول و عذاب سے ہم سب کچھ بھول چکے ہیں ہمیں کچھ یاد نہیں فرشتوں سے پوچھ جو انسانوں کی عمریں لکھتے تھے انہیں اچھی طرح معلوم ہوگا۔ الملئکۃ العادین لا عماد العباد واعمالھم (روح ج 18 ص 70) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(112) اللہ تعالیٰ فرمائے گا بھلا تو زمین پر برسوں کی گنتی سے کتنے عرصے رہے ہوگے یعنی زمین میں تمہارے رہنے کی مدت کیا ہوگی اس کا جواب بھلا گھبراہٹ اور پریشانی میں کیا بنتا گھبرا کر کہیں گے۔