Surat ul Mominoon

Surah: 23

Verse: 41

سورة المؤمنون

فَاَخَذَتۡہُمُ الصَّیۡحَۃُ بِالۡحَقِّ فَجَعَلۡنٰہُمۡ غُثَآءً ۚ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۱﴾

So the shriek seized them in truth, and We made them as [plant] stubble. Then away with the wrongdoing people.

بالآخر عدل کے تقاضے کے مطابق چیخ نے پکڑ لیا اور ہم نے انہیں کوڑا کرکٹ کر ڈالا پس ظالموں کے لئے دوری ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بِالْحَقِّ ... So, The Sayhah overtook them in truth, meaning, they deserved that from Allah because of their disbelief and wrongdoing. The apparent meaning is that the Sayhah was combined with the furious cold wind, تُدَمِّرُ كُلَّ شَىْءٍ بِأَمْرِ رَبِّهَا فَأْصْبَحُواْ لاَ يُرَى إِلاَّ مَسَـكِنُهُمْ Destroying everything by the command of its Lord! So they became such that nothing could be seen except their dwellings! (46:25) ... فَجَعَلْنَاهُمْ غُثَاء ... and We made them as rubbish of dead plants. means, they are dead and destroyed, like the scum and rubbish left by a flood, i.e., something insignificant and useless that is of no benefit to anyone. ... فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ So, away with the people who are wrongdoers. As Allah's statement: وَمَا ظَلَمْنَـهُمْ وَلَـكِن كَانُواْ هُمُ الظَّـلِمِينَ We wronged them not, but they were the wrongdoers. (43:76) means, who are wrongdoers because of their disbelief and stubborn opposition to the Messenger of Allah, so let those who hear this beware of disbelieving in their Messengers.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

411یہ چیخ کہتے ہیں کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی چیخ تھی، بعض کہتے ہیں کہ ویسے ہی سخت چیخ تھی، جس کے ساتھ باد صر صر بھی تھی۔ دونوں نے مل کر ان کو چشم زدن میں فنا کے گھاٹ اتار دیا۔ 412غُثْآءَ اس کوڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جو سیلابی پانی کے ساتھ ہوتا ہے، جس میں درختوں کے پتے، خشک تنے، تنکے اور اسی طرح کی چیزیں ہوتی ہیں۔ جب پانی کا زور ختم ہوجاتا ہے، تو خشک ہو کر بیکار پڑے ہوتے ہیں، یہی حال ان منکرین اور متکبرین کا ہوا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٤] یعنی بالکل ٹھیک اسی وقت ان پر عذاب آیا جو وقت ان کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ یہاں ہیبت ناک چیخ کے عذاب سے بعض علماء نے یہ قیاس کیا ہے کہ یہ قصہ قوم عاد اولیٰ کا نہیں کیونکہ ان پر تند و تیز اور شدید سرد آندھی کا عذاب آیا تھا۔ بلکہ یہ قصہ عاد ثانی۔ یعنی ثمود) کی قوم کا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب اس آیت میں بالحق کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے جو انھیں سزا دی تو وہ ٹھیک ان کے گناہوں کی پاداش کے مطابق تھی۔ عدل و اصناف کا یہی تقاضا تھا اور اس سلسلہ میں ان پر ذرہ بھر ظلم نہیں ہوا۔ [٤٥] غثاء بمعنی کوڑا، کرکٹ، کچرا، خس و خاشاک۔ یعنی وہ ہمارے عذاب کی رو میں یوں بہہ گئے جیسے سیلاب خس و خاشاک کو بہا لے جاتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بالْحَقِّ : یعنی جو سزا انھیں دی گئی تھی وہ عین عدل و انصاف کے مطابق تھی، ان پر کوئی زیادتی نہیں کی گئی۔ بعض نے ” فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بالْحَقِّ “ کا ترجمہ یہ کیا ہے : ” آخر سچے وعدے کے مطابق ایک چیخ نے انھیں آدبوچا۔ “ یعنی وہ وعدہ جو ” عَمَّا قَلِيْلٍ لَّيُصْبِحُنَّ نٰدِمِيْنَ “ کے ضمن میں پایا جاتا ہے۔ ” اَلْحَقُّ “ سے مراد قطعی امر بھی ہوسکتا ہے، جسے کوئی روک نہ سکتا ہو۔ (روح)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاَخَذَتْہُمُ الصَّيْحَۃُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰہُمْ غُثَاۗءً۝ ٠ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِــمِيْنَ۝ ٤١ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ صاح الصَّيْحَةُ : رفع الصّوت . قال تعالی: إِنْ كانَتْ إِلَّا صَيْحَةً واحِدَةً [يس/ 29] ( ص ی ح ) الصیحۃ کے معنی آواز بلندکرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنْ كانَتْ إِلَّا صَيْحَةً واحِدَةً [يس/ 29] وہ تو صرف ایک چنگھاڑ تھی ( آتشین ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ غثا الغُثَاءُ : غُثَاءُ السّيل والقدر، وهو ما يطفح ويتفرّق من النّبات الیابس، وزبد القدر، ويضرب به المثل فيما يضيع ويذهب غير معتدّ به، ويقال : غَثَا الوادي غَثْواً ، وغَثَتْ نفسُه تَغْثِي «4» غَثَيَاناً : خبثت . ( غ ث و ) الغثاء ہانڈی کے جھاگ اور اس کو ڑاکرکٹ کہتے ہیں جسے سیلاب بہا کر لاتا ہے اور یہ ہر اس چیز کے لئے ضرب المثل ہے جسے ( بوجہ بےسود ہونے کے ) ضائع ہونے دیا جائے اور اس کی کچھ بھی پرواہ نہ کی جائے ۔ اسی سے کہا جاتا ۔ غثا الوادی ( ن ) غثو ا یعنی وادی میں کوڑا کرکٹ زیادہ ہوگیا ۔ غثت ( ض ) نفسہ تغثی غثیانا اس کی طبیعت خراب ہوگئی ۔ بعد البُعْد : ضد القرب، ولیس لهما حدّ محدود، وإنما ذلک بحسب اعتبار المکان بغیره، يقال ذلک في المحسوس، وهو الأكثر، وفي المعقول نحو قوله تعالی: ضَلُّوا ضَلالًابَعِيداً [ النساء/ 167] ( ب ع د ) البعد کے معنی دوری کے ہیں یہ قرب کی ضد ہے اور ان کی کوئی حد مقرر نہیں ہے بلکہ ایک ہی جگہ کے اعتبار سے ایک کو تو قریب اور دوسری کو بعید کہا جاتا ہے ۔ محسوسات میں تو ان کا استعمال بکثرت ہوتا رہتا ہے مگر کبھی کبھی معافی کے لئے بھی آجاتے ہیں ۔ جیسے فرمایا ضَلُّوا ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 167] وہ راہ ہدایت سے بٹھک کردور جا پڑے ۔ ۔ ان کو ( گویا ) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤١ (فَاَخَذَتْہُمُ الصَّیْحَۃُ بالْحَقِّ فَجَعَلْنٰہُمْ غُثَآءً ج) ” جیسے کھیت سے فصل کٹ جانے کے بعد پیچھے بھوسہ اور خس و خاشاک پڑے رہ جاتے ہیں اسی طرح انہیں جھاڑ جھنکاڑ اور کوڑے کرکٹ میں تبدیل کردیا گیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

37. Lexically, the word ghutha means the rubbish which is brought by flood waters and is deposited on the banks to rot there.

سورة الْمُؤْمِنُوْن حاشیہ نمبر :37 اصل میں لفظ غُثَاء استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں وہ کوڑا کرکٹ جو سیلاب کے ساتھ بہتا ہوا آتا ہے ۔ اور پھر کناروں پر لگ لگ کر پڑا سڑتا رہتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(23:41) الصیحۃ۔ دراصل صحیح کے معنی آواز پھاڑنا کے ہیں۔ لکڑی چرنے یا کپڑے پھٹنے سے جو زور کے جھراٹے کی آواز پیدا ہوتی ہے اس آواز کے نکلنے کو الصیاح کہتے ہیں۔ اس سے صیحۃ ہے بلند آواز، چیخ۔ پھر چیخ چونکہ گھبراہٹ کا باعث ہوتی ہے اس لئے صیحۃ بمعنی گھبراہٹ یا عذاب بھی استعمال ہوتا ہے۔ الصیحۃ بمعنی چیخ۔ کڑک۔ ہولناک آواز۔ چنگھاڑ ہے۔ یہ صاح یصیح (ضرب) کا مصدر ہے اور حاصل مصدر کے معنی میں بھی آتا ہے۔ صیحۃ صور (نرسنگھے) میں پھونکنے کی آواز کو بھی کہتے ہیں۔ صحیح مادہ۔ بالحق۔ یہ اخذتہم سے متعلق ہے یعنی وعدہ برحق کے موافق (چنگھاڑنے انہیں آلیا) ۔ غثائ۔ ہانڈی کی جھاگ اور اس کوڑا کرکٹ کو کہتے ہیں جسے سیلاب بہا کر لاتا ہے اور یہ اس چیز کے لئے ضرب المثل ہے جسے (بوجہ بیکارہونے کے ) ضائع ہونے دیا جائے اور اس کی کچھ بھی پرواہ نہ کی جائے۔ غثا یغثوا غثو وغصو (نصر) الوادی۔ نالے میں غثائ۔ یعنی کوڑا کرکٹ کا زیادہ ہونا۔ غثو مادہ۔ غثا یغثی غثیان (باب ضرب) سے بمعنی خبث نفس کے لئے آتا ہے۔ غثت نفسہ اس کی طبیعت خراب ہوگئی یا محاورہ کے طور پر اس کی نیت بد ہوگئی۔ بعدا۔ فعل مقدر کا مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای بعد وابعدا من رحمۃ اللہ تعالی۔ اللہ کی رحمت سے دور ہوگئے۔ بعدا عربی محاورہ میں اسی موقع پر آتا ہے۔ جسے اردو میں ” خدا کی مار “ کہتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ چونکہ صحیحہ سے ثمود کا معذب ہونا دوسری آیات میں بھی آیات ہے، اس قرینہ سے بعض نے تو اس کو ثمود کا قصہ سمجھا ہے، اور چونکہ اکثر جگہ بعد قوم نوح کے عاد کا قصہ آیا ہے، اس قرینہ سے بعض نے اس کو عاد کا قصہ سمجھا ہے، اور مراد صحیحہ سے عقوبت ہائلہ لی ہے، یا ممکن ہے کہ عاد پر بھی صحیحہ آیا ہو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(41) لہٰذا ہمارے وعدئہ برحق کے مطابق ان کو ایک سخت ہولناک آواز نے آپکڑا پھر ہم نے ان کو خشک اور سوکھا ہوا کوڑا بنادیا پس ظالم لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے دوری ہو اور کافروں پر خدا کی مار ہو یعنی پیغمبر سے جو وعدہ ہم نے کیا تھا اس کے مطابق ان پر چیخ کا عذاب آیا ی صیحہ مطلقاً کوئی عذاب ہوکر کہیں ہوا ہو کہیں چیخ ہو کہیں زلزلہ ہو۔ بعض حضرات مفسرین نے قوم عاد مراد لیا ہے۔ اور بعض نے اس قصہ سے ثمود مراد لیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے یہ قصہ ہے ثمود کا کہ چنگھاڑ سے وہی مرے ہیں۔ 12