Surat ul Mominoon

Surah: 23

Verse: 55

سورة المؤمنون

اَیَحۡسَبُوۡنَ اَنَّمَا نُمِدُّہُمۡ بِہٖ مِنۡ مَّالٍ وَّ بَنِیۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾

Do they think that what We extend to them of wealth and children

کیا یہ ( یوں ) سمجھ بیٹھے ہیں؟ کہ ہم جو بھی ان کے مال و اولاد بڑھا رہے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَل لاَّ يَشْعُرُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ ۔۔ : ” اَنَّمَا “ یہاں اکٹھا لفظ نہیں بلکہ ” أَنَّ “ اور ” مَا “ (بمعنی اَلَّذِيْ ) الگ الگ لفظ ہیں، قرآن کے رسم الخط میں انھیں اکٹھا لکھ دیا گیا ہے، معنی ہے ” کہ وہ چیزیں جو۔ “ 3 ہر گروہ کے اپنے حال پر بہت خوش رہنے کا سبب چونکہ انھیں لگنے والا دھوکا تھا کہ خوش حالی اور مال و اولاد کی کثرت اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی دلیل ہے، چناچہ کفار کہا کرتے تھے کہ ہم اموال و اولاد میں زیادہ ہیں اور ہمیں کسی صورت عذاب نہیں ہوگا۔ دیکھیے سورة سبا (٣٥) اور کہف (٣٤ تا ٣٦) اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تنبیہ کے لیے اس کا ردّ فرمایا۔ بَلْ لَّا يَشْعُرُوْنَ : یعنی ان کا یہ گمان درست نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انھیں شعور ہی نہیں کہ مال و اولاد کی یہ فراوانی انھیں مہلت دینے کے لیے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لیے ہے کہ جس قدر انھیں ڈھیل ملے اسی قدر ان کے گناہوں کا پیمانہ اور لبریز ہو اور پھر بھرپور طریقے سے ان پر گرفت کی جائے۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں کمی محسوس نہ کرے وہ فکر کرلے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسی دراز کی جا رہی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّہُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ۝ ٥٥ۙ حسب ( گمان) والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] ( ح س ب ) الحساب اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں ۔ کیا وہ لوگ جو بڑے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں : وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] اور ( مومنو ) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کررہے ہیں خدا ان سے بیخبر ہے ۔ فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا : أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ( یوں ہی ) جنت میں داخل ہوجاؤ گے ۔ مد أصل المَدّ : الجرّ ، ومنه : المُدّة للوقت الممتدّ ، ومِدَّةُ الجرحِ ، ومَدَّ النّهرُ ، ومَدَّهُ نهرٌ آخر، ومَدَدْتُ عيني إلى كذا . قال تعالی: وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الآية [ طه/ 131] . ومَدَدْتُهُ في غيّه، ومَدَدْتُ الإبلَ : سقیتها المَدِيدَ ، وهو بزر ودقیق يخلطان بماء، وأَمْدَدْتُ الجیشَ بِمَدَدٍ ، والإنسانَ بطعامٍ. قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَ [ الفرقان/ 45] . وأكثر ما جاء الإمْدَادُ في المحبوب والمدُّ في المکروه نحو : وَأَمْدَدْناهُمْ بِفاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ الطور/ 22] أَيَحْسَبُونَ أَنَّما نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مالٍ وَبَنِينَ [ المؤمنون/ 55] ، وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوالٍ وَبَنِينَ [ نوح/ 12] ، يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلافٍ الآية [ آل عمران/ 125] ، أَتُمِدُّونَنِ بِمالٍ [ النمل/ 36] ، وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذابِ مَدًّا[ مریم/ 79] ، وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيانِهِمْ يَعْمَهُونَ [ البقرة/ 15] ، وَإِخْوانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الغَيِ [ الأعراف/ 202] ، وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ [ لقمان/ 27] فمن قولهم : مَدَّهُ نهرٌ آخرُ ، ولیس هو مما ذکرناه من الإمدادِ والمدِّ المحبوبِ والمکروهِ ، وإنما هو من قولهم : مَدَدْتُ الدّواةَ أَمُدُّهَا «1» ، وقوله : وَلَوْ جِئْنا بِمِثْلِهِ مَدَداً [ الكهف/ 109] والمُدُّ من المکاييل معروف . ( م د د ) المد کے اصل معنی ( لمبائی میں ) کهينچنا اور بڑھانے کے ہیں اسی سے عرصہ دراز کو مدۃ کہتے ہیں اور مدۃ الجرح کے معنی زخم کا گندہ مواد کے ہیں ۔ مد النھر در کا چڑھاؤ ۔ مدہ نھر اخر ۔ دوسرا دریا اس کا معاون بن گیا ۔ قرآن میں ہے : أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَ [ الفرقان/ 45] تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارا رب سائے کو کس طرح دراز کرک پھیلا دیتا ہے ۔ مددت عینی الی کذا کسی کیطرف حریصانہ ۔۔ اور للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الآية [ طه/ 131] تم ۔۔ للچائی نظروں سے نہ دیکھنا ۔ مددتہ فی غیہ ۔ گمراہی پر مہلت دینا اور فورا گرفت نہ کرنا ۔ مددت الابل اونٹ کو مدید پلایا ۔ اور مدید اس بیج اور آٹے کو کہتے ہیں جو پانی میں بھگو کر باہم ملا دیا گیا ہو امددت الجیش بمدد کا مددینا ۔ کمک بھیجنا۔ امددت الانسان بطعام کسی کی طعام ( غلہ ) سے مددکرنا قرآن پاک میں عموما امد ( افعال) اچھی چیز کے لئے اور مد ( ثلاثی مجرد ) بری چیز کے لئے ) استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا : وَأَمْدَدْناهُمْ بِفاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ الطور/ 22] اور جس طرح کے میوے اور گوشت کو ان کا جی چاہے گا ہم ان کو عطا کریں گے ۔ أَيَحْسَبُونَ أَنَّما نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مالٍ وَبَنِينَ [ المؤمنون/ 55] کیا یہ لوگ خیا کرتے ہیں ک ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں سے مدد دیتے ہیں ۔ وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوالٍ وَبَنِينَ [ نوح/ 12] اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا ۔ يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلافٍ الآية [ آل عمران/ 125] تمہارا پروردگار پانچ ہزار فرشتے تمہاری مدد کو بھیجے گا ۔ أَتُمِدُّونَنِ بِمالٍ [ النمل/ 36] کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو ۔ وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذابِ مَدًّا[ مریم/ 79] اور اس کے لئے آراستہ عذاب بڑھاتے جاتے ہیں ۔ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيانِهِمْ يَعْمَهُونَ [ البقرة/ 15] اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت اور سرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں ۔ وَإِخْوانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الغَيِ [ الأعراف/ 202] اور ان ( کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں لیکن آیت کریمہ : وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ [ لقمان/ 27] اور سمندر ( کا تمام پانی ) روشنائی ہو اور مہار ت سمندر اور ( روشنائی ہوجائیں ) میں یمددہ کا صیغہ مدہ نھرا اخر کے محاورہ سے ماخوذ ہے اور یہ امداد یا مد سے نہیں ہے جو کسی محبوب یا مکروہ وہ چیز کے متعلق استعمال ہوتے ہیں بلکہ یہ مددت الداواۃ امد ھا کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی دوات میں روشنائی ڈالنا کے ہیں اسی طرح آیت کریمہ : وَلَوْ جِئْنا بِمِثْلِهِ مَدَداً [ الكهف/ 109] اگرچہ ہم دیسا اور سمندر اس کی مددکو لائیں ۔ میں مداد یعنی روشنائی کے معنی مراد ہیں ۔ المد۔ غلہ ناپنے کا ایک مشہور پیمانہ ۔ ۔ ميل المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین، والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا، ( م ی ل ) المیل اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٥۔ ٥٦) یہ مختلف گروہ والے کیا یہ سوچ رہے ہیں کہ ہم ان کو دنیا میں جو مال و اولاد دیتے چلے جاتے ہیں تو ہم ان کو دنیا میں جلدی جلدی فائدہ پہنچا رہے ہیں، ایسا ہرگز نہیں، بلکہ ان سے آخرت میں پوچھ گچھ ہوگی، اور یہ اس کی وجہ نہیں سمجھتے کہ ہم نے ان کو دنیا میں فائدہ پہنچایا اور آخرت میں ہم ان کو ذلیل ورسوا کریں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(23:55) ایحسبون۔ میں ہمزہ استفہام انکاری ہے یحسبون۔ مضارع صیغہ جمع مذکر غائب ہے حسبان مصدر سے (باب سمع ) کیا وہ خیال کرتے ہیں۔ کیا وہ گمان کرتے ہیں۔ نمدہم۔ نمد مضارع جمع متکلم امداد مصدر (باب افعال ) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم ان کو دیتے ہیں۔ ہم ان کی مدد کرتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا ایک سبب دنیوی مفاد ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذہبی اور سیاسی راہنماؤں کا ملت کو تقسیم کرنے کا ایک مقصد مال کی ہوس بھی ہے۔ یہ مال امت کو تقسیم کرنے یا دین کو نقصان پہنچانے سے حاصل ہوا ہو۔ یا اللہ نے ان کی رسی دراز کر رکھی ہو۔ بہرحال قوموں کے سنوار اور بگاڑ میں مذہبی، سیاسی اور سماجی رہنماؤں کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ جب یہ لوگ راہ راست سے ہٹ جائیں تو دین کو اتحاد کی بجائے گروہ بندی، اخلاص کی بجائے آمدن کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو مال اور اولاد میں بڑھائے دیتا ہے وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر خوش ہے جس کی وجہ سے ہمیں مال اور افرادی قوت سے نوازا جا رہا ہے ایسے لوگوں کو سوالیہ انداز میں متنبہ کیا گیا ہے کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ جو انہیں مال اور اولاد سے نوازا گیا ہے یہ ان کے لیے بہتر ہے۔ ؟ ایسا ہرگز نہیں یہ مہلت اور اسباب خیر کے طور پر دیے جانے کی بجائے آزمائش کے طور پر دیے گئے ہیں جس کی حقیقت سے یہ بیخبر ہیں۔ قرآن مجید نے دوسرے مقام پر اس بات کو یوں بیان کیا ہے کفار یہ گمان نہ کریں انہیں جو ہم مہلت دیتے ہیں وہ ان کے لیے بہتر ہے ہم انہیں اس لیے مہلت دیے ہوئے ہیں تاکہ وہ اور زیادہ سے زیادہ گناہ کرلیں ان کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب ہے۔ (آل عمران : ١٧٨) ” جو لوگ ناکردہ نیکیوں کی تعریف چاہتے ہیں ان کے بارے میں یہ خیال نہ کرنا کہ وہ عذاب سے بچ جائینگے ہرگز نہیں انہیں درد ناک عذاب ہوگا۔ “ (آل عمران : ١٨٨) مسائل ١۔ کفار کے لیے مال اور اولاد گناہ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ ٢۔ بعض لوگوں کو مال و دولت خیر کی بجائے برے انجام کے لیے دیا جاتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے نافرمان حقیقی شعور سے تہی دامن ہوتے ہیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فتقطعوا امرھم (رح) ٓ لا یشعرون (آیت نمبر ٥٣ تا ٥٦) ” رسولوں کے بیان میں یہ کہا گیا کہ وہ ایک ہی امت تھے۔ اور ان کا کلمہ بھی ایک تھا اور ان کی دعوت بھی ایک تھی ۔ ان کی بندگی اور عبادت بی ایک اللہ کے لیے تھی ۔ ان کی نظریاتی سمت بھی ایک تھی۔ لیکن رسولوں کے بعد لوگ گروہوں اور فرقوں میں بٹ گئے تھے ، گروہ بن گئے تھے اور وہ کسی ایک منہاج پر متفق نہ رہے۔ لوگوں کے اس افتراق کی تصویر کشی قرآن مجید نہایت عجیب حسی انداز میں کرتا ہے ۔ انہوں نے آپس میں اپنے دین کو پھاڑ پھاڑ کر ٹکرے ٹکرے کردیا تھا۔ ہر ایک ایک ٹکرالے لیا۔ ہر فرقہ اور ہر جماعت کے ہاتھ جو ٹکڑا آیا وہ اس کو لے کر بھاگ گئی ۔ بس وہ خوش تھی کہ اصل ٹکڑا اسی کے ہاتھ میں ہے اور یوں اس پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ ہر گروہ اپنی جگہ اس ٹکڑے کو لے بیٹھ اور دوسرے امور کے بارے میں سوچنا بھی بند کردیا مباد اس طرح ان کے دماغ تک کوئی بات یا کوئی دلیل روشنی پہنچ جائے۔ بس اپنے ہاں جو کچھ تھا اس میں سست ہوگئے اور ہر قسم کی روشنی اور ہدایت سے اپنے آپ کو محروم کرلیا۔ تخہیب اور فرقہ بندی کی یہ کیا خوب تصویر کشی ہے۔ یہ تصویر کھینچ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں خطاب کیا جاتا ہے ۔ فذرھم فی غمرتھم حتی حین (٢٣ : ٥٣) ” تو چھوڑو انہیں “ ڈوبے رہیں اپنی غفلت میں ایک وقت تک “۔ یعنی ان کو چھوڑ دین کہ جن حالات مین وہ مگن ہیں ان میں ڈوبے رہیں اور ان کا جو انجام ہونے والا ہے وہ اچانک ان کو آلے۔ کیونکہ مہلت کے بعد یہ انجام حتمی ہے۔ یہاں قرآن کی غفلت اور جمود بطور مذاق یہ کہتا ہے کہ ان لوگوں کو جو مہلت دی جارہی ہے اور مال و دولت اور آل و اولاد سے جو نوازا جا رہا ہے تو اس کے بارے میں یہ کیا سمجھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے بہت خوش ہے اور انہیں نواز رہا ہے اور مقبول بندے ہیں کہ ان پر عطا کی بارش ہورہی ہے۔ ایحسبون انما نمدھم بہ من مال و بنین (٢٣ : ٥٥) نسارع لھم فی الخیراژت (٢٣ : ٥٦) ” کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو انہیں مال و اولاد سے مدد دیئے جارہے ہیں تو گویا انہیں بھلائیاں دینے میں سر گرم ہیں “۔ بلکہ یہ تو نا کے لیے آزمائش ہیں۔ بل لا یشعرون (٢٣ : ٥٦) ” اصل معاملے کا انہیں شعور نہیں ہے “۔ یعنی وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ اس مال اور اولاد کے بعد ان پر کیا مصیبت آنے والی ہے اور یہ مصیبت کس قدر عام اور ہمہ گیر ہوگی وہ “۔ ایک طرف یہ لوگ ہیں جو غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور گمراہ ہیں ، ان کے مقابلے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ہر وقت بیدار اور رب کے معاملے میں بہت محتاط ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

48:۔ ” اَیَحْسَبُوْنَ الخ “ ہم نے ان مشرکین کو دنیا کی تمام نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے اس سے انہیں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ ہم ان کے بھلے میں ہیں اور ان سے خوش ہیں اور ان ک نیک کاموں کے کے بدلے میں یہ سب کچھ انہیں دے رہے ہیں۔” بَلْ لَّایَشْعُرُوْنَ “ یہ ” یَحْسَبُوْنَ “ کے مضمون سے اضراب ہے یعنی ایسا ہرگز نہیں بلکہ یہ لوگ تو کالنعام ہیں اصل بات کو سمجھنے کا شعور ہی نہیں رکھتے ضد وعناد کی وجہ سے ان کے مسلسل انکار کی بناء پر ان کے دلوں پر مہر جباریت لگا دی گئی ہے اور ان سے حقیقت کا احساس و شعور سلب کرلیا گیا ہے یہ دنیا کی نعمتیں تو ہم نے ان کو استدراج اور امہال کے طور پردے رکھی ہیں یعنی ہم نے ان کی باگ ڈھیلی چھوڑ دی ہے کہ خوب نافرمانی کرلو اور اپنے لیے زیادہ سے زیادہ جہنم کا سامان بہم پہنچالو۔ بل لایشعرون اضراب من قولہ ایحسبون ای بل ھم اشباہ البھائم لافظنۃ لھم ولا شعور فیتاملواوی تفکروا اھو استدراج ام مسارعۃ فی الخیر فیہ تھدید و وعید (بحر ج 6 ص 410) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(55) کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے اور یوں سمجھتے ہیں کہ ہم جو ان کو مال اور اولاد دیئے چلے جاتے ہیں۔