Surat ul Mominoon

Surah: 23

Verse: 70

سورة المؤمنون

اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ بِہٖ جِنَّۃٌ ؕ بَلۡ جَآءَہُمۡ بِالۡحَقِّ وَ اَکۡثَرُہُمۡ لِلۡحَقِّ کٰرِہُوۡنَ ﴿۷۰﴾

Or do they say, "In him is madness?" Rather, he brought them the truth, but most of them, to the truth, are averse.

یا یہ کہتے ہیں کہ اسے جنون ہے ؟بلکہ وہ تو ان کے پاس حق لایا ہے ۔ ہاں ان میں اکثر حق سے چڑنے والے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

أَمْ يَقُولُونَ بِهِ جِنَّةٌ ... Or they say: There is madness in him, This is a narration of what the Quraysh said about the Prophet. They said that he was making up the Qur'an by himself, or that he was crazy and did not know what he was saying. Allah tells us that their hearts did not believe that, they knew that what they were saying about the Qur'an was falsehood, for it had come to them from the Words of Allah and could not be resisted or rejected. So Allah challenged them and all the people of the world to produce something like it if they could -- but they could not and would never be able to do so. So Allah says: ... بَلْ جَاءهُم بِالْحَقِّ وَأَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كَارِهُونَ Nay, but he brought them Al-Haqq, but most of them are averse to the truth. Truth does not follow Whims and Desires Allah says;

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

701یہ بھی زجر و توبیخ کے طور پر ہی ہے یعنی اس پیغمبر نے ایسا قرآن پیش کیا جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا قاصر ہے۔ اسی طرح اس کی تعلیمات نوع انسانی کے لئے رحمت اور امن و سکون کا باعث ہیں۔ کیا ایسا قرآن اور ایسی تعلیمات ایسا شخص بھی پیش کرسکتا ہے جو دیوانہ اور مجنون ہو۔ 702یعنی ان کے اعراض اور استکبار کی اصل وجہ حق سے ان کی کراہت (ناپسدیدگی) ہے جو عرصہ دراز سے باطل کو اختیار کئے رکھنے کی وجہ سے ان کے اندر پیدا ہوگئی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٠] انکار ایک تیسری وجہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لوگ اپنے رسول کو دیوانہ سمجھ کر اس کی باتوں کو درخور اعتناء نہ سمجھیں۔ اگر وہ اسے دیوانہ کہہ بھیدیں تو ان کے دل ہرگز اس بات کو تسلیم نہیں کرتے۔ چناچہ جب دعوت توحید کا چرچا عام ہونے لگا تو قریش سرداروں کو بہت فکر لاحق ہوگئی۔ وہ اس دعوت کو روکنے کے لئے مشورہ کی خاطر ولید بن مغیرہ کے پاس جمع ہوئے۔ ولید بن مغیرہ ابو جہل کا چچا تھا اور حرب بن امیہ کی وفات کے بعد قریش کی سیادت اسی کے ہاتھ آئی تھی) ولید بن مغیرہ ایک سمجھدار آدمی تھا۔ کہنے لگا اس سلسلہ میں اپنی اپنی تجاویز پیش کرو انھیں پیش کردہ تجاویز میں سے ایک سردار نے یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ ہم لوگوں کو کہیں گے کہ && وہ تو ایک مجنون آدمی ہے && یہ سن کر ولید بن مغیرہ کہنے لگا : && اللہ کی قسم ! وہ دیوانہ نہیں ہے۔ ہم نے دیوانوں کو بارہا دیکھا ہے۔ اس کے اندر نہ دیوانوں جیسی دم گھٹنے کی کیفیت ہے، نہ الٹی سیدھی حرکتیں ہیں اور نہ ہی ان جیسی بہکی بہکی باتیں ہیں && (الرحیق المختوم ص ١٢١) (نیز رسول اور مجنون میں فرق کے لئے دیکھئے سورة اعراف آیت نمبر ١٨٤) [٧١] پھر جب یہ سب باتیں ناممکن ہیں۔ تو اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جو دعوت یہ رسول پیش کر رہا ہے وہ حق اور درست ہو، اور ان کے انکار اور بدکنے کی وجہ صرف یہ ہوسکتی ہے کہ انھیں سچی بات سے چڑ ہوگئی ہے اور وہ اپنی ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کی بنا پر یہ سچی بات قبول کرنے کو تیار نہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَمْ يَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ ۔۔ :” جِنَّةٌ“ پر تنوین تنکیر کی ہے، یعنی یہ کہتے ہیں کہ اس کو کسی قسم کا جنون ہے۔ چوتھی وجہ ان کے انکار کی یہ ہوسکتی ہے کہ وہ کہتے ہوں کہ اسے کسی قسم کا جنون ہے اور واقعی وہ آپ کو کسی قسم کا دیوانہ یا پاگل سمجھتے ہوں۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی اصل وجہ نہیں ہے، کیونکہ وہ ہٹ دھرمی سے اپنی زبان سے جو چاہیں کہتے رہیں، مگر دل سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کمال دانائی کے قائل ہیں، کیونکہ خود انھوں نے صادق اور امین کا لقب دیا ہے۔ بھلا پاگلوں کو یہ لقب دیا جاتا ہے، پھر وہ کیسا دیوانہ ہے (یا مستشرقین کی ہرزہ سرائی کے مطابق مرگی کے دورے کا مریض ہے) کہ دیوانگی یا مرگی کے دورے کے وقت اس کی زبان سے قرآن جیسا کلام نکلتا ہے، جس کی سب سے چھوٹی سورت کا جواب پیش کرنے سے پوری کائنات قاصر ہے اور جس نے تیئیس (٢٣) برس کے مختصر عرصے میں ساری دنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ بَلْ جَاۗءَهُمْ بالْحَقِّ وَاَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْن : جب یہ بات بھی نہیں تو نتیجہ یہی ہے کہ جو دعوت اس رسول نے پیش کی ہے وہ حق ہے، جب کہ ان کے اکثر حق بات کو ناپسند کرتے ہیں، کیونکہ وہ ان کی شتر بےمہار خواہشات اور حیوانی خصلتوں کے خلاف ہے۔ چناچہ وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ سچی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ فرمایا : ” ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں۔ “ کیونکہ جو حق پسند تھے وہ ایمان لے آئے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَمْ يَقُوْلُوْنَ بِہٖ جِنَّۃٌ۝ ٠ ۭ بَلْ جَاۗءَہُمْ بِالْحَقِّ وَاَكْثَرُہُمْ لِلْحَقِّ كٰرِہُوْنَ۝ ٧٠ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ جِنَّة : جماعة الجن . قال تعالی: مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ [ الناس/ 6] ، وقال تعالی: وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَباً [ الصافات/ 158] . ۔ الجنتہ جنوں کی جماعت ۔ قرآن میں ہے ۔ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ [ الناس/ 6] جنات سے ( ہو ) یا انسانوں میں سے وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَباً [ الصافات/ 158] اور انہوں نے خدا میں اور جنوں میں رشتہ مقرر کیا ۔ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔ كره قيل : الْكَرْهُ والْكُرْهُ واحد، نحو : الضّعف والضّعف، وقیل : الكَرْهُ : المشقّة التي تنال الإنسان من خارج فيما يحمل عليه بِإِكْرَاهٍ ، والکُرْهُ : ما يناله من ذاته وهو يعافه، وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] ( ک ر ہ ) الکرہ ( سخت ناپسند یدگی ) ہم معنی ہیں جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے کہ کرۃ ( بفتح الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو انسان کو خارج سے پہنچے اور اس پر زبر دستی ڈالی جائے ۔ اور کرہ ( بضم الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو اسے نا خواستہ طور پر خود اپنے آپ سے پہنچتی ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] اور اگر چہ کافر ناخوش ہی ہوں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٠) یا یہ وجہ ہے کہ نعوذ باللہ یہ لوگ آپ کی نسبت جنون کے قائل ہیں بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس قرآن کریم اور توحید و رسالت لے کر آئے اور ان میں سے اکثر لوگ قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٠ ( اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِہٖ جِنَّۃٌ ط) ” کیا وہ سمجھتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آسیب کا اثر ہے یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنون ہوگیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

67. That is, do they reject his message because they regard Muhammad (peace be upon him) to be possessed by a jinn? No, this is also not correct, because in their hearts, they themselves regard him as a wise and sagacious person. It is therefore ridiculous to regard a man like him to be possessed by a jinn. For, such a person cannot say wise things and do noble deeds like him. How strange that a person possessed by a jinn (or having epileptic fits according to the western orientalists) should utter and recite sublime discourses of the Quran and start and guide a successful movement which should revolutionize the way of life not only of his own people but of the whole world.

سورة الْمُؤْمِنُوْن حاشیہ نمبر :67 یعنی کیا ان کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ واقعی وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مجنون سمجھتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ یہ بھی اصل وجہ نہیں ہے ، کیونکہ زبان سے چاہے وہ کچھ ہی کہتے رہیں ، دلوں میں تو ان کے دانائی وزیرکی کے قائل ہیں ۔ علاوہ بریں ایک پاگل اور ایک ہوش مند آدمی کا فرق کوئی ایسا چھپا ہوا تو نہیں ہوتا کہ دونوں میں تمیز کرنا مشکل ہو ۔ آخر ایک ہٹ دھرم ، اور بے حیا آدمی کے سوا کون اس کلام کو سن کر یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ کسی دیوانے کا کلام ہے ، اور اس شخص کی زندگی کو دیکھ کر یہ رائے ظاہر کر سکتا ہے کہ یہ کسی مخبوط الحواس آدمی کی زندگی ہے ؟ بڑا ہی عجیب ہے وہ جنون ( یا مستشرقین مغرب کی بکواس کے مطابق مرگی کا وہ دورہ ) جس میں آدمی کی زبان سے قرآن جیسا کلام نکلے اور جس میں آدمی ایک تحریک کی ایسی کامیاب راہ نمائی کرے کہ اپنے ہی ملک کی نہیں ، دنیا بھر کی قسمت بدل ڈالے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

25: ان کے جھٹلانے کی نہ یہ وجہ ہے کہ آپ کوئی ایسی نئی بات لے کر آئے ہیں جو پچھلے انبیائے کرام لے کر نہ آئے ہوں، نہ آپ کے اعلیٰ اخلاق ان لوگوں سے پوشیدہ ہیں اور یہ سچ مچ آپ کو (معاذ اللہ) مجنون سمجھتے ہیں۔ اصل وجہ اس کے برعکس یہ ہے کہ حق کی جو بات آپ لے کر آئے ہیں، وہ ان کی خواہشات کے خلاف ہے، اس لیے اسے جھٹلانے کے لیے مختلف بہانے بناتے رہتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(23:70) جنۃ۔ جنون۔ دیوانگی۔ سودا۔ جن سے مشتق ہے کیونکہ دیوانگی عقل کو چھپا دیتی ہے اس لئے اسے جنۃ کہتے ہیں۔ بہ جنۃ اس کو دیوانگی ہے جنون کا لاحقہ ہے۔ اسے جنون ہے یا وہ سودا کا مریض ہے۔ یا جاء ہم بالحق۔ (ایسا نہیں جیسا کہ وہ خیال کرتے ہیں) بلکہ وہ تو ان کے پاس حق لے کر آیا (حق سے مراد توحید اور دین اسلام ہے یا ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد قرآن ہی ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

9 ۔ یعنی کیا وہ واقعی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مجنون (پاگل) سمجھتے ہیں ہرگز نہیں کیونکہ چاہے وہ زبان سے انہیں مجنون کہتے ہوں لیکن دل سے ان کی عقلمندی کے کے قائل ہیں۔ 10 ۔ یعنی اگر یہ لوگ مخلص اور حق پسند ہوتے تو ان کے پاس آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو ٹھکرانے کے لئے ان اسباب میں سے کوئی ایک سبب ہوسکتا تھا مگر جب ان اسباب میں سے کوئی سبب بھی نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ یہ لوگ مخلص اور حق پسند نہیں ہیں اس لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دور بھاگ رہے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ پس یہ تمام تر وجہ ہے، تکذیب کی اور عدم اتباع حق کی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

59:۔ ” بَلْ جَاءَھُمْ الخ “ یہ ماقبل سے اضراب ہے یعنی ہمارا پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسا پیغام لے کر ان کے پاس آیا ہے جو سراپا حق ہے اور ایسا ثابت وعیاں ہے کہ ہر شخص اس کو سمجھ سکتا ہے اور یہ وہی پیغام حق ہے جو پہلے تمام انبیاء (علیہم السلام) اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کو پہنچا چکے ہیں اور نبوت سے سرفراز ہو کر پیغام توحید لے کر قوم کے پاس جانا ہی ہمارے پیغمبر (علیہ السلام) کے صدق وامانت کی واضح دلیل ہے اور پھر جو شخص ایسا پیغام حق پیش کرے جس کی تائید دلائل عقلیہ و نقلیہ سے ہوتی ہو اس کو دیوانہ اور مجنون کہنا سراسر باطل ہے اس لیے انکار حق کی وجوہات یہ نہیں ہیں۔ ” وَ اَکْثَرُھُمْ لِلْحَقِّ کٰرِھُوْنَ “ انکار حق کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان مشرکین کی اکثریت کو حق (مسئلہ توحید) سے چر اور حق بیان کرنے والے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ضد ہے اس لیے وہ محض حسد و ضد کی وجہ سے اور اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید کی بناء پر انکار کرتے ہیں۔ ” جاءھم بالحق “ یعنی القران و التوحید الحق والدین الحق ” واکثرھم للحق کارھون “ حسدا وبغیا و تقلیدا (قرطبی ) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(70) کیا یہ لوگ اس رسول کی شان میں یوں کہتے ہیں کہ اس کو جنون ہے اور یہ اس رسول کی طرف جنون اور دیوانگی کو منسوب کرتے ہیں یوں نہیں بلکہ رسول ان کے پاس ایک حق بات لیکر آیا ہے اور ان منکرین کا حال یہ ہے کہ ان میں کے اکثر حق بات سے نفرت کرتے ہیں یعنی پیغمبر کو نہ جنون ہے نہ دیوانگی وہ تو دین حق لے کر آیا اور اسی دین حق کا پرچار کرتا ہے ان دین حق کے منکروں کی حالت یہ ہے کہ ان میں ایسے لوگوں کی اکثریت ہے جو دین حق سے نفرت کرتے ہیں اور ان کو حق کی اشاعت ناگوار معلوم ہوتی ہے یعنی اکثریت ایسے نفرت کرنے والوں کی ہے اور جو کم ہیں وہ تکبر کی وجہ سے اور برادری کے پاس کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے اور دین حق کے منکروں کی خواہش یہ ہے کہ حق بھی ایسا ہو جو ان کی خواہشات کا پیرو اور متبع ہو جو یہ چاہیں ویسا ہی دین حق بھی ہو آگے اس کا جواب ارشاد ہوتا ہے۔