Surat ul Mominoon

Surah: 23

Verse: 88

سورة المؤمنون

قُلۡ مَنۡۢ بِیَدِہٖ مَلَکُوۡتُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُوَ یُجِیۡرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیۡہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۸﴾

Say, "In whose hand is the realm of all things - and He protects while none can protect against Him - if you should know?"

پوچھئے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناہ دیتا ہے اور جس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دیا جاتا اگر تم جانتے ہو تو بتلاؤ؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قُلْ مَن بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ ... Say: "In Whose Hand is the sovereignty of everything!" i.e., sovereignty is in His Hands. مَّا مِن دَابَّةٍ إِلاَّ هُوَ ءاخِذٌ بِنَاصِيَتِهَأ There is not a moving creature but He has grasp of its forelock. (11:56) meaning, He has control over it. The Messenger of Allah used to say, لاَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِه By the One in Whose hand is my soul. When he swore an oath, he would say, لاَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوب By the One Who turns over (controls) the hearts. He, may He be glorified, is the Creator, the Sovereign, the Controller, ... وَهُوَ يُجِيرُ وَلاَ يُجَارُ عَلَيْهِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ And He protects (all), while against Whom there is no protector, if you know! Among the Arabs, if a leader announced his protection to a person, no one could go against him in that, yet no one could offer protection against that leader. Allah says: ... وَهُوَ يُجِيرُ وَلاَ يُجَارُ عَلَيْهِ ... And He protects (all), while against Whom there is no protector, meaning, He is the greatest Master, and there is none greater than Him. His is the power to create and to command, and none can overturn or oppose His ruling. What He wills happens, and what He does not, will not happen. Allah says: لااَ يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْـَلُونَ He cannot be questioned about what He does, while they will be questioned. (21:23) He cannot be asked about what He does because of His greatness, Pride, overwhelming power, wisdom and justice, but all of His creation will be asked about what they did, as Allah says: فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ So, by your Lord, We shall certainly call all of them to account. For all that they used to do. (15:92-93)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

881یعنی جس کی حفاظت کرنا چاہے اسے اپنی پناہ میں لے لے، کیا اسے کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ 882یعنی جس کو وہ نقصان پہنچانا چاہے، کیا کائنات میں اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی ہے کہ وہ اسے نقصان سے بچا لے اور اللہ کے مقابلے میں اپنی پناہ میں لے لے ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٥] اس آیت میں ملکوت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس میں ملک، ملک اور ملک تینوں معنی پائے جاتے ہیں۔ نیز یہ مبالغہ کا صیغہ ہے جس کا مطلب ہے ہر چیز پر مکمل حاکمیت یا بادشاہی۔ ہر چیز کی پوری کی پوری ملکیت اور ہر چیز پر پورے کا پورا اختیار و تصرف۔ لہذا وہ جونسی بھی چیز کو چاہے اسے اپنا پناہ میں لے سکتا ہے اور کوئی دوسرا اس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ مگر جس چیز کو وہ پکڑے تو اسے نہ کوئی اس سے چھڑ سکتا ہے اور نہ ہی پکڑنے سے پیشتر پناہ دے سکتا ہے۔ اس آیت میں مشرکین مکہ کے اعتراف سے معلوم ہوا کہ ان کا عقیدہ تھا کہ جس کو اللہ پکڑ لے اس کو نہ کوئی پناہ دے سکتا ہے اور نہ چھڑا سکتا ہے۔ مگر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آج کے مشرکین، مکہ کے مشرکوں سے بھی آگے نکل گئے ہیں جو یہ کہتے ہیں : خدا جے پکڑے چھڑا لے محمد محمد جے پکڑے چھڑا کوئی نہیں سکدا یعنی اگر اللہ کسی کو پکڑ لے تو اسے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چھڑا لیں گے اور اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پکڑ لیں تو اسے کوئی چھڑا نہیں سکتا۔ اس شعر سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی پکڑنے اور لوگوں سے مواخذہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ دوسری یہ کہ ان کے یہ اختیارات اتنے وسیع ہیں کہ ان کے پکڑے ہوئے کو کوئی (یعنی اللہ تعالیٰ جیسا کہ شعر میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلہ پر خدا کا لفظ استعمال ہوا ہے) بھی چھڑا نہیں سکتا۔ پھر جب اس شعر پر اعتراض کیا جاتا ہے جو اس کی ایسی توجییہ بیان کرکے اسے درست ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو && عذر گناہ، بدتر از گناہ && کا مصداق ہوتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا رد پیش کیا جارہا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ مَنْۢ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ : ” مُلْکٌ“ اور ” مِلْکٌ“ دونوں کے مفہوم میں مبالغہ پیدا کرنے کے لیے لفظ ” مَلَكُوْتُ “ استعمال کیا گیا ہے، یعنی ایسی کامل ملکیت اور کامل بادشاہی جس میں کوئی نقص نہ ہو۔ ” بِيَدِهٖ “ کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ” کہہ کون ہے وہ کہ صرف اس کے ہاتھ میں ہر چیز کی مکمل بادشاہی ہے۔ “ وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ : ” أَجَارَ یُجِیْرُ “ (افعال) پناہ دینا، کسی کو ہر ایک سے بچا کر اپنی حفاظت میں لے لینا۔ ابن کثیر فرماتے ہیں : ” عرب کا دستور تھا کہ ان کا سردار کسی کو پناہ دے دیتا تو اس کی پناہ کی خلاف ورزی نہیں کی جاتی تھی اور کسی کو اس کے مقابلے میں پناہ دینے کا اختیار نہیں ہوتا تھا۔ “ 3 جب ان سے نیچے اور اوپر کے دونوں جہانوں کے مالک ہونے کا اقرار کروا لیا تو حکم دیا گیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے ہر چیز کے رب ہونے کا اعتراف کر واؤ، تاکہ اس میں وہ چیزیں آجائیں جن کا ذکر ہوا ہے اور وہ بھی جن کا ذکر نہیں ہوا۔ چناچہ فرمایا، کہہ دے وہ کون ہے کہ صرف اس کے ہاتھ میں ہر چیز کی مکمل ملکیت اور کامل بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے (یعنی جسے وہ پناہ دے دے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا) اور اس کے مقابلے میں پناہ نہیں دی جاتی (یعنی جسے وہ پکڑ لے اسے کوئی اپنی پناہ میں نہیں لے سکتا، نہ اس سے چھڑا سکتا ہے) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary وَهُوَ يُجِيرُ‌ وَلَا يُجَارُ‌ عَلَيْهِ (And who gives protection and no protection can be given against him - 23:88) The meaning of the verse is that Allah alone can deliver a person from pain and suffering as He wills, but there is none who can save a person from divine punishment. This is true of this world because nobody can stop Allah from rewarding virtuous people nor can anyone protect someone whom He chooses to punish. And the same is true of the Hereafter also. (Qurtubi)

معارف و مسائل وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ ، یعنی اللہ تعالیٰ جس کو چاہے عذاب اور مصیبت رنج و تکلیف سے پناہ دیدے اور یہ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے مقابلہ پر کسی کو پناہ دے کر اس کے عذاب و تکلیف سے بچا لے۔ یہ بات دنیا کے اعتبار سے بھی صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو کوئی نفع پہنچانا چاہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا اور جس کو کوئی تکلیف و عذاب دینا چاہے اس سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ اور آخرت کے اعتبار سے بھی یہ مضمون صحیح ہے کہ جس کو وہ عذاب میں مبتلا کرے گا اس کو کوئی بچا نہ سکے گا اور جس کو جنت اور راحت دے گا اس کو کوئی روک نہ سکے گا (قرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ مَنْۢ بِيَدِہٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّہُوَيُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْہِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝ ٨٨ يد الْيَدُ : الجارحة، أصله : وقوله : فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] ، ( ی د ی ) الید کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں یہ اصل میں یدی ( ناقص یائی ) ہے کیونکہ اس کی جمع اید ویدی اور تثنیہ یدیان اور آیت کریمہ : ۔ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دئے ۔ ملك) بادشاه) المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور وَالمِلْكُ ضربان : مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] ( م ل ک ) الملک ۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے . اور ملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا ہے عملا کسی کا متولی اور حکمران ہونے کو کہتے ہیں ۔ دوم حکمرانی کی قوت اور قابلیت کے پائے جانے کو کہتے ہیں ۔ خواہ نافعل اس کا متولی ہو یا نہ ہو ۔ چناچہ پہلے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] بادشاہ جب کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں ۔ تو اس کو تباہ کردیتے ہیں ۔ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] کہ اس نے تم میں پیغمبر کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا ۔ جار الجار : من يقرب مسکنه منك، وهو من الأسماء المتضایفة، فإنّ الجار لا يكون جارا لغیره إلا وذلک الغیر جار له، قال تعالی: لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا [ الأحزاب/ 60] ، وقال تعالی: وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُتَجاوِراتٌ [ الرعد/ 4] ( ج و ر ) الجار پڑسی ۔ ہمسایہ ہر وہ شخص جس کی سکونت گاہ دوسرے کے قرب میں ہو وہ اس کا جار کہلاتا ہے یہ ، ، اسماء متضا یفہ ، ، یعنی ان الفاظ سے ہے جو ایک دوسرے کے تقابل سے اپنے معنی دیتے ہیں قرآن میں ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا [ الأحزاب/ 60] وہ اس ( شہر ) میں عرصہ قلیل کے سوا تمہارے ہمسایہ بن کر نہیں رہ سکیں گے ۔ وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُتَجاوِراتٌ [ الرعد/ 4] اور زمین ایک دوسرے سے متصل قطعات ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٨۔ ٨٩) آپ ان سے یہ بھی فرمائیے اچھا وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں تمام چیزوں کا اختیار ہے اور وہ جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی بھی فیصلہ نہیں کرسکتا یہ مطلب ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے اپنے عذاب سے پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی کسی کو اس کے عذاب سے پناہ نہیں دے سکتا، اس بات کا جواب دو اگر تمہیں کچھ خبر ہے۔ البتہ وہ ضرور یہی کہیں گے کہ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں تو آپ ان سے اس وقت کہیے کہ پھر تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں کیوں تکذیب کر رہے ہو، یا یہ کہ آپ دیکھے یہ کیسے جھوٹ کی طرف جا رہے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

81. The word malakut in the text is a strong word which combines both sovereignty and ownership. The verse therefore means: Whose is the Sovereignty and Who possesses the real ownership rights over everything?

سورة الْمُؤْمِنُوْن حاشیہ نمبر :81 اصل میں لفظ مَلَکُوْت استعمال ہوا ہے جس میں ملک ( بادشاہی ) اور ملک ( مالکیت ) ، دونوں مفہوم شامل ہیں ، اور اس کے ساتھ یہ انتہائی مبالغہ کا صیغہ ہے ۔ اس تفصیل کے لحاظ سے آیت کے پیش کردہ سوال کا پورا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز پر کامل اقتدار کس کا ہے اور ہر چیز پر پورے پورے مالکانہ اختیارات کس کو حاصل ہیں ؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(23:88) یجیر۔ مضارع واحد مذکر غائب اجارۃ مصدر (باب افعال) ۔ جور مادہ۔ وہ پناہ دیتا ہے۔ لا یجار علیہ۔ مضارع مجہول منفی اجارۃ سے۔ اس کے خلاف پناہ نہیں دی جاسکتی۔ استجارۃ پناہ طلب کرنا۔ پناہ چاہنا۔ الجار۔ پڑوسی۔ ہمسایہ۔ جو پڑوس میں رہے ہمسایہ کہلاتا ہے یہ اسمائے متضائفہ سے ہے۔ یعنی ان الفاظ سے ہے جو ایک دوسرے کے تقابل سے اپنے معنی دیتے ہیں ۔ جیسا کہ اخ۔ صدیق۔ کہ اخوت و صداقت دونوں جانب سے ہوتی ہے کیونکہ کسی کا پڑوسی ہونا اسی وقت متصور ہوسکتا ہے جب دوسرا بھی اس کا پڑوسی ہو۔ چونکہ شرعا وعقلا ہمسائے کا حق بہت بڑا ہوتا ہے اس رعائت سے اس کو بمعنی حامی و مددگار بھی لیا جاتا ہے۔ مثلاً وانی جار لکم (8: 48) میں تمہارا حامی و مددگار ہوں۔ جار عن الطریق۔ وہ راستہ سے ہٹ گیا۔ جار علیہ اس نے ظلم کیا۔ اسی سے جور ظلم کو کہتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

2 ۔ یعنی کون ہر چیز پر کامل اقتدار رکھتا ہے۔ ” ملکوت “ کے لفظی معنی ملک (بادشاہی) کے ہیں ” و ء ت “ کا اضافہ مبالغہ کے لئے ہے۔ (شوکانی) 3 ۔ یعنی ہر ایک کو بچا سکتا اور پناہ دے سکتا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مشرکوں سے استفسار کا سلسلہ جاری ہے۔ سروردوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پھر حکم ہوا کہ آپ مشرکین سے استفسار فرمائیں کہ کسے ہر چیز پر اختیار اور اقتدار حاصل ہے ؟ جو سب کو پناہ دینے والا ہے اسے کسی کی پناہ کی ضرورت نہیں اگر اس حقیقت کو جانتے ہو تو اس کا جواب دو ؟ وہ ضرور جواب دیں گے کہ ہر چیز پر صرف ایک اللہ کی بادشاہی ہے۔ انہیں فرمائیں کہ اس کے باوجود تم ” اللہ “ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو کیا تمہیں جادو ہوگیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس عقیدہ توحید کے ٹھوس اور حقیقت پر مبنی دلائل پہنچ چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود مشرک جھوٹ بولتے ہیں۔ عقیدہ توحید کے اس قدر ٹھوس اور مبنی برحقیقت دلائل ہیں کہ حددرجے کا مشرک بھی ان کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتا لیکن اس کے باوجود مشرک جھوٹے اور بےبنیاد دلائل دینے سے باز نہیں آتا ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا دنیا میں سب سے بڑا جھوٹ ہے لیکن مشرک جھوٹے عقیدہ اور جھوٹ بولنے سے باز نہیں آتا۔ اس لیے ان سے کہا جاتا ہے کہ کیا تمہیں جادو ہوگیا ہے ؟ جس وجہ سے عقیدہ توحید تمہیں سمجھ نہیں آتا۔ عربی زبان میں سحر کا معنٰی ہے ایسا علم یا عمل جس سے دیکھنے والے کو کوئی چیز حقیقت کے خلاف نظر آئے۔ ” مَلَکُوْتُ “ سپر ڈگری کا لفظ ہے جس کا معنٰی ہے بادشاہی اور کسی چیز کا مالک ہونا گویا کہ ہر دور کا مشرک یہ ماننے پر مجبور ہے کہ سدا بہار بادشاہی اور حقیقی ملکیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ وہی ہر کسی کو پناہ دینے والا ہے اسے کسی کی پناہ کی حاجت نہیں۔ (عَنِ الْبَرَآءِ ابْنِ عَازِبٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِذَا اٰوٰی اِلٰی فِرَاشِہٖ نَامَ عَلٰی شِقِّہِ الْاَےْمَنِ ثُمَّ قَالَ (اَللّٰھُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِیْ اِلَےْکَ وَوَجَّھْتُ وَجْھِی اِلَےْکَ وَفَوَّضْتُ اَمْرِیْ اِلَےْکَ وَاَلْجَأْتُ ظَہْرِیْ اِلَےْکَ رَغْبَۃً وَّرَھْبَۃً اِلَےْکَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَأَ مِنْکَ اِلَّا اِلَےْکَ اٰمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْ اَنْزَلْتَ وَنَبِےِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ ) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ قَالَھُنَّ ثُمَّ مَاتَ تَحْتَ لَےْلَتِہٖ مَاتَ عَلَی الْفِطْرَۃِ وَفِیْ رِوَاے ۃٍٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لِرَجُلٍ یَّا فُلَانُ اِذَا اَوَےْتَ اِلٰی فِرَاشِکَ فَتَوَضَّأْ وُضُوْءَٓکَ للصَّلٰوۃِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلٰی شِقِّکَ الْاَےْمَنِ ثُمَّ قُلِ (اللّٰھُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِیْ اِلَےْکَ اِلٰی قَوْلِہٖ اَرْسَلْتَ ) وَقَالَ فَاِنْ مُتَّ مِنْ لَّےْلَتِکَ مُتَّ عَلَی الْفِطْرَۃِ وَاِنْ اَصْبَحْتَ اَصَبْتَ خَےْرًا۔ ) [ رواہ البخاری : باب اذا بات طاہرا ] حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے بستر پر لیٹے تو دائیں کروٹ پر لیٹ کر یہ دعا پڑھتے۔ ” ہمارے معبود حقیقی ! تیری طرف رغبت کے ساتھ اور تجھ سے ڈرتے ہوئے میں نے اپنی جان تیرے سپرد کی ‘ اپنا چہرہ تیری ہی طرف کرلیا ‘ اپنے کام تیرے حوالے کیے، اور تجھ پر بھروسہ کیا “ تیری جائے پناہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں۔ میں تیری نازل کردہ کتاب اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لایا “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص یہ کلمات کہے اگر اسی رات مرجائے تو اس کی موت اسلام پر ہوگی۔ دوسری روایت میں ہے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کا نام لے کر فرمایا جب تو اپنے بستر پر جائے تو وضو کرلے جس طرح نماز کے لیے کیا جاتا ہے پھر دائیں پہلو پر لیٹ کر یہ دعا کرو ” میں نے اپنی جان تیرے سپرد کی نبی پر ایمان لایا۔ “ اگر تو اس رات مرجائے تو فطرت کی موت مرے گا اور اگر صبح کرے تو تجھے خیروبرکت حاصل ہوگی۔ “ مسائل ١۔ آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے۔ ٢۔ جسے اللہ اپنی پناہ میں لے اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ٣۔ کفار بھی اللہ کی الوہیّت کے اقراری تھے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کا پیغام برحق ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(88) اے پیغمبر ! آپ ان سے یہ بھی پوچھئے کہ اگر تم کو کچھ خبر ہے اور تم جانتے ہو تو یہ بتائو کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں اور جس کے قبضہ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ ہر ایک کو پناہ دے سکتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ یعنی وہ کون ہے جس کے قبضہ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے وہ ہر ایک کے مجرم کو پناہ دے سکتا ہے اور اس کی فریاد رسی کرسکتا ہے لیکن اس کے مجرم کو اس کے ہاتھ سے نہ کوئی بچا سکتا ہے نہ کوئی پناہ دے سکتا ہے نہ فریاد رس بن سکتا ہے اور نہ کوئی مدد کرسکتا ہے۔