Surat un Noor

Surah: 24

Verse: 13

سورة النور

لَوۡ لَا جَآءُوۡ عَلَیۡہِ بِاَرۡبَعَۃِ شُہَدَآءَ ۚ فَاِذۡ لَمۡ یَاۡتُوۡا بِالشُّہَدَآءِ فَاُولٰٓئِکَ عِنۡدَ اللّٰہِ ہُمُ الۡکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۳﴾

Why did they [who slandered] not produce for it four witnesses? And when they do not produce the witnesses, then it is they, in the sight of Allah , who are the liars.

وہ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے؟ اور جب گواہ نہیں لائے تو یہ بہتان باز لوگ یقیناً اللہ کے نزدیک محض جھوٹے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لَوْلاَ جَاوُوا عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاء ... Why did they not produce four witnesses against him! meaning, to prove that what they were saying was true. ... فَإِذْ لَمْ يَأْتُوا بِالشُّهَدَاء فَأُوْلَيِكَ عِندَ اللَّهِ هُمُ الْكَاذِبُونَ Since they have not produced witnesses! Then with Allah they are the liars. Allah has ruled that they are indeed wicked liars.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧] یہ اس واقعہ کا قانونی پہلو ہے کہ ایسی شہادتیں جو بدکاری پر دلالت کرتی ہوں وہ کبھی میسر آبھی نہ سکتیں تھی۔ کیونکہ قرائن سب کے سب خلاف تھے۔ واقعہ یہ تھا کہ پیچھے رہ جانے والی کوئی عام عورت نہ تھیں بلکہ تمام مسلمانوں کی ماں ہے اور پیچھے سے آنے والا بھی پکا مسلمان ہے جو انھیں فی الواقعہ اپنی ماں ہی سمجھتا ہے۔ ماں اس سے پردہ بھی کرلیتی ہے اور وہ آپس میں نہ اس وقت ہمکلام ہوتے ہیں اور نہ پورے دوران سفر۔ اور یہ سفر صبح سے لے کر دوپہر تک دن دیہاڑے ہو رہا ہے۔ عورت اونٹ پر سوار ہے اور مرد خاموش آگے آگے چل رہا ہے۔ تاآنکہ وہ مسلمان کے لشکر سے جاملتا ہے۔ ایسے حالات میں بدگمانی کی محرک صرف دو ہی باتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ گمان کرنے والا خود بدباطن اور خبیث ہو۔ جو ایسے حالات میں خود یہی کچھ سوچتا یا کرتا ہوں اور اس طرح دوسرے سب لوگوں کو بھی اپنی ہی طرح سمجھتا ہوں۔ اور دوسری یہ کہ وہ ایسے موقع کو غیمت مان کر از راہ دشمنی ایسی بکواس کرنے لگے اور منافقوں میں یہ دونوں باتیں پائی جاتی تھیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَوْلَا جَاۗءُوْ عَلَيْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاۗءَ ۔۔ : ام المومنین عائشہ (رض) پر بہتان لگانے والوں کے متعلق فرمایا کہ وہ اس دعویٰ پر چار گواہ کیوں نہیں لائے، تو جب وہ اس کے گواہ نہیں لائے تو وہی اللہ کے ہاں کامل جھوٹے ہیں۔ ابن عاشور نے اس کی تفسیر اس طرح فرمائی ہے : ” مطلب یہ ہے کہ جو شخص دیکھے بغیر کوئی خبر دے اسے لازم ہے کہ وہ مشاہدہ کرنے والے کا حوالہ دے اور وہ مشاہدہ کرنے والے اتنی تعداد میں ہونے ضروری ہیں کہ اس قسم کے واقعہ میں اتنی تعداد سے سچ کا یقین حاصل ہوجائے۔ (یہ تعداد زنا کے لیے کم از کم چار ہے) اب ان لوگوں نے جو اُمّ المومنین پر تہمت باندھی تو ان میں سے کسی نے بھی نہ دیکھا اور نہ اتنی تعداد میں دیکھنے والے پیش کیے جس سے کسی پر زنا کا جرم ثابت ہوتا ہے، بلکہ محض خیال اور گمان سے تہمت لگا دی، اس لیے اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِیْثِ ) [ بخاري، الأدب، باب : ( یأیھا الذین آمنوا اجتنبوا۔۔ ) : ٦٠٦٦ ] ”(برے) گمان سے بچو، کیونکہ (برا) گمان سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔ “ ” فَاُولٰۗىِٕكَ “ کی تاکید ” هُمُ “ کے ساتھ کرنے اور خبر ” الْكٰذِبُوْنَ “ پر الف لام لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا، جس سے مراد ان کے جھوٹا ہونے میں مبالغہ ہے۔ گویا وہ اتنے کامل جھوٹے ہیں کہ ان کے مقابلے میں کوئی اور جھوٹا ہے ہی نہیں۔ ” اللہ کے ہاں جھوٹے “ سے مقصود ان کے حقیقی جھوٹا ہونے کا بیان ہے، کیونکہ اللہ کا علم کبھی خلاف واقعہ نہیں ہوسکتا۔ رہا یہ مسئلہ کہ کوئی شخص اگر چار گواہ زنا کے ثبوت کے لیے پیش نہ کرسکے تو ممکن ہے وہ سچ ہی کہہ رہا ہو، مگر شرعی فیصلہ ظاہر کے مطابق ہوگا اور اسے جھوٹا قرار دے کر اس پر قذف کی حد نافذ کی جائے گی، تو اس آیت کا یہ مطلب نہیں (اگرچہ دوسرے دلائل سے یہ بات درست ہے) ۔ “ [ التحریر والتنویر ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

لَّوْلَا جَاءُوا عَلَيْهِ بِأَرْ‌بَعَةِ شُهَدَاءَ ۚ فَإِذْ لَمْ يَأْتُوا بِالشُّهَدَاءِ فَأُولَـٰئِكَ عِندَ اللَّـهِ هُمُ الْكَاذِبُونَ Why did they (the accusers) not bring four witnesses to prove this? So, as they did not bring the witnesses, they are the liars in the sight of Allah - 24:13. In the first sentence of this verse it is emphasized that the Muslims should have demanded to produce evidence from those who were spreading this rumor, instead of becoming instrumental in passing on the rumor to others. Since the accusation of adultery cannot be proved without the production of four eyewitnesses, it should have been demanded of them either to produce four eyewitnesses or keep quiet. In the second sentence of the verse it is declared that, as they could not produce four eyewitnesses, so they are the ones who are liars before Allah. It is worth noting here that it is quite probable that a person sees such an event with his own eyes, but is unable to produce four witnesses. And if he relates the event, which, in fact, he has seen with his own eyes, then how can he be called a liar. More so, to call him liar before Allah is not at all understandable, because Allah knows the truth about everything happening. So, how could he be declared a liar before Allah, when the incident has actually taken place. There are two answers to this. First, here عند اللہ (in the sight of Allah) stands for Allah&s command and the rule of Allah, Therefore, it means that in accordance with the rule of Allah and His command this person would be declared a liar and awarded the punishment of false accusation, because the command of Allah is not to relate the incidence, despite the fact that you have seen it, if four witnesses are not available. If someone relates it without the support of four witnesses, then he will be declared liar by law and will be punished. The second explanation is that, it is against the dignity of a Muslim to do something having no purpose and object, especially a thing which would put blame on a Muslim. Hence, a Muslim should testify the commission of a crime or sin against another Muslim only with the intent of controlling and eradicating the crime and sin, and not for the purpose of defaming or hurting someone. So, if a person relates such an incident without the support of four witnesses claiming that he is doing it with the intent of reforming the society and. for removing the evil from it, knowing that without the production of four witnesses he would neither be able to prove the crime according to requirements of the Islamic law nor would the accused be punished, and on the other hand he will himself be liable to punishment for relating a lie, in such a situation he is gll1 (in the sight of Allah) a liar in the proclamation of his intent, claiming that he was testifying the incident for reforming the society and removing the evil. It is for the simple reason that in the absence of witnesses it is not possible to harbor this intention under the Islamic code. (Mazhari) An important and necessary warning In both the above verses it is emphasized that every Muslim should have good opinion about other Muslims, and it is made obligatory for them to contradict and deny any insinuation and accusations without proof against the Muslims. But one should not have any doubt as to why the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم did not have the belief that the rumor was false, and as such denied it at the outset, instead he suffered for a month and asked Sayyidah ` A&ishah (رض) to beg Allah&s pardon if there was a slip on her part. (Bukhari) The explanation for this is that the anxiety of the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم not inconsistent with the injunction for Muslims to have good opinion about other Muslims, because he neither denied this rumor nor did he act on its exigency, and also he did not like the spread of the rumor. All did he say in the gathering of companions was ما علمت علی اھلی الاخیرا (Bukhari) that is, ` I do not know anything but good and virtuous about my wife. All these things are proofs of acting in conformity with the injunction of the verses of having good opinion. However, the definite and absolute belief, which could also remove the natural anxiety, followed when the verses of exoneration were revealed. The substance of explanation is that in such a situation, creation of doubts and anxiety is but natural, but to act with care and caution, as the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم did, was not against having good opinion about the Muslims, especially when no action was taken on its exigency. Those Muslims who were awarded the punishment for false accusation and were reprimanded in these two verses, had actually acted on the exigency of the rumor and were involved in its spread. Spreading falsehood was unlawful and punishable even before the revelation of these verses.

لَوْلَا جَاۗءُوْ عَلَيْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاۗءَ ۚ فَاِذْ لَمْ يَاْتُوْا بالشُّهَدَاۗءِ فَاُولٰۗىِٕكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ ، اس آیت کے پہلے جملہ میں تو اس کی تلقین ہے کہ ایسی خبر مشہور کرنے والوں کے بارے میں مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ ان کی بات کو چلتا کرنے کے بجائے ان سے مطالبہ دلیل کا کرتے اور چونکہ تہمت زنا کے معاملے میں دلیل شرعی چار گواہوں کے بغیر قائم نہیں ہوتی اس لئے ان سے مطالبہ یہ کرنا چاہئے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس پر چار گواہ پیش کرو یا زبان بند کرو۔ دوسرے جملے میں فرمایا کہ جب وہ چار گواہ نہیں لا سکے تو اللہ کے نزدیک یہی لوگ جھوٹ ہیں۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ ایسا ہونا کچھ بعید نہیں کہ ایک شخص نے اپنی آنکھ سے ایک واقعہ دیکھا مگر اس کو اس پر دوسرے گواہ نہیں ملے تو اگر یہ شخص اپنے چشم دید واقعہ کو بیان کرتا ہے تو اس کو جھوٹا کیسے کہا جاسکتا ہے خصوصاً اللہ کے نزدیک جھوٹا کہنا تو کسی طرح سمجھ ہی میں نہیں آتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو سب واقعات کے حقائق معلوم ہیں اور یہ واقعہ وجود میں آنا بھی معلوم ہے تو وہ عند اللہ جھوٹ بولنے والا کیسے قرار پایا۔ اس کے دو جواب ہیں اول یہ کہ یہاں عنداللہ سے مراد حکم اللہ اور قانون الٰہی ہے یعنی یہ شخص قانون الہی اور حکم خداوندی کی رو سے جھوٹا قرار دیا جائے گا اور اس پر حد قذف جاری کی جائے گی کیونکہ حکم ربانی یہ تھا کہ جب چار گواہ نہ ہوں تو واقعہ دیکھنے کے باوجود اس کو بیان نہ کرو اور جو بغیر چار گواہوں کے بیان کرے گا وہ قانوناً اور حکماً جھوٹا قرار پا کر سزا پائے گا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ مسلمان کی شان یہ ہے کہ کوئی کام فضول نہ کرے جس کا کوئی فائدہ نتیجہ نہ ہو خصوصاً ایسا کام جس میں دوسرے مسلمان پر کوئی الزام عائد ہوتا ہو تو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے خلاف کسی عیب و گناہ کی شہادت صرف اس نیت سے دے سکتا ہے کہ جرم و گناہ کا انسداد مقصود ہو کسی کو رسوا کرنا یا ایذا دینا مقصود نہ ہو تو جس شخص نے چار گواہوں کے بغیر اس قسم کی شہادت زبان سے نکالی گویا اس کا دعویٰ یہ ہے کہ میں یہ کلام اصلاح خلق اور معاشرہ کو برائی سے بچانے اور انسداد جرائم کی نیت سے کر رہا ہوں۔ مگر جب شریعت کا قانون اس کو معلوم ہے کہ بغیر چار گواہوں کے ایسی شہادت دینے سے نہ اس شخص پر کوئی حد و سزا جاری ہوگی اور نہ ثبوت بہم پہنچے گا بلکہ الٹی جھوٹ بولنے کی سزا کا میں مستحق ہوجاؤں گا تو اس وقت وہ عند اللہ اپنی اس نیت کے دعویٰ میں جھوٹا ہے کہ میں اصلاح خلق اور انسداد جرائم کی نیت سے یہ شہادت دے رہا ہوں کیونکہ شرعی ضابطہ کے مطابق شہادت نہ ہونے کی صورت میں یہ نیت ہو ہی نہیں سکتی۔ (مظہری) ایک اہم اور ضروری تنبیہ : مذکورہ دونوں آیتوں میں ہر مسلمان کو دوسرے مسلمانوں سے حسن ظن رکھنے کی ہدایت اور اس کے خلاف بےدلیل باتوں کی تردید کو واجب قرار دیا ہے اس پر کسی کو یہ شبہ نہ ہونا چاہئے کہ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے ہی سے اس خبر کے غلط ہونے پر یقین کیوں نہ فرمایا اور اس خبر کی تردید کیوں نہ کردی اور ایک مہینہ تک تردد کی حالت میں کیوں رہے یہاں تک کہ حضرت صدیقہ عائشہ سے فرمایا کہ اگر تم سے کوئی لغزش ہوگئی ہو تو توبہ کرلینا چاہئے۔ (کما رواہ البخاری) وجہ یہ ہے کہ یہاں ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان پر حسن ظن رکھنے کا جو حکم ہے وہ اس تردد کے منافی نہیں جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیش آیا۔ کیونکہ آپ نے اس خبر کی نہ تصدیق فرمائی اور نہ اس کے مقتضی پر کوئی عمل فرمایا نہ اس کا چرچا کرنا پسند فرمایا بلکہ صحابہ کرام کے مجمع میں یہی فرمایا کہ ما علمت علی اھلی الاخیرا رواہ البخاری یعنی میں اپنی اہلیہ کے بارے میں بھلائی اور نیکی کے سوا کچھ نہیں جانتا۔ یہ سب انہیں آیات مذکورہ کے مقتضی پر عمل اور حسن ظن رکھنے کے شواہد ہیں۔ البتہ قطعی اور یقینی علم جس سے طبعی تردد بھی رفع ہوجاوے وہ اس وقت ہوا جب آیات برات نازل ہوگئیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ دل میں کوئی شک و تردد پیدا ہوجانا اور احتیاطی تدابیر استعمال کرنا جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حسن ظن بالمومنین کے منافی نہیں تھا جبکہ اس کے مقتضی پر کوئی عمل نہ کیا گیا ہو۔ جن مسلمانوں پر اس معاملے میں حد قذف کی سزا جاری کی گئی اور ان دو آیتوں میں ان پر عتاب کیا گیا انہوں نے اس خبر کے مقتضیٰ پر عمل کیا تھا کہ اس کا چرچا کیا اور پھیلایا وہ نزول آیات سے پہلے بھی ناجائز و موجب سزا تھا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَوْلَا جَاۗءُوْ عَلَيْہِ بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَاۗءَ۝ ٠ۚ فَاِذْ لَمْ يَاْتُوْا بِالشُّہَدَاۗءِ فَاُولٰۗىِٕكَ عِنْدَ اللہِ ہُمُ الْكٰذِبُوْنَ۝ ١٣ شهد وشَهِدْتُ يقال علی ضربین : أحدهما جار مجری العلم، وبلفظه تقام الشّهادة، ويقال : أَشْهَدُ بکذا، ولا يرضی من الشّاهد أن يقول : أعلم، بل يحتاج أن يقول : أشهد . والثاني يجري مجری القسم، فيقول : أشهد بالله أنّ زيدا منطلق، فيكون قسما، ومنهم من يقول : إن قال : أشهد، ولم يقل : بالله يكون قسما، ( ش ھ د ) المشھود والشھادۃ شھدت کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1) علم کی جگہ آتا ہے اور اسی سے شہادت ادا ہوتی ہے مگر اشھد بکذا کی بجائے اگر اعلم کہا جائے تو شہادت قبول ہوگی بلکہ اشھد ہی کہنا ضروری ہے ۔ ( 2) قسم کی جگہ پر آتا ہے چناچہ اشھد باللہ ان زید ا منطلق میں اشھد بمعنی اقسم ہے عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے :( لو لا جائوا علیہ باربعۃ شھدآء فاذلم یاتوا بالشھدآء فاولئک عنداللہ ھم الکاذبون۔ ) وہ لوگ (اپنے الزام کے ثبوت میں) چار گواہ کیوں نہ لائے، اب کہ وہ گواہ نہیں لائے ہیں اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ اس آیت نے دو باتیں واضح کردی ہیں۔ اول یہ کہ قاذف پر اگر وہ چار گواہ پیش نہ کرے حد واجب ہوگی۔ دوم یہ کہ زنا کے اثبات کے سلسلے میں چار سے کم گواہ قبول نہیں کیے جائیں گے۔ قول باری ہے : (فاذلم یاتوا بالشھدآء فاولئک عند اللہ ھم الکاذبون) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت بھی دو معنوں پر مشتمل ہے اول یہ کہ انہوں نے جب چار گواہ پیش نہ کیے تو ایجاب حد کے سلسلے میں عنداللہ ان پر جھوٹے ہونے کا حکم عائد کردیا گیا۔ اس بنا پر آیت کے معنی یہ ہوں گے ” یہ لوگ اللہ کے حکم کے اندر جھوٹے ہیں۔ “ یہ چیز ان پر کذب بیانی کا حکم لگانے کے امر کی مقتضی ہے خواہ عنداللہ وہ سچے ہی کیوں نہ ہوں۔ فی الواقع ایسا ہوسکتا ہے اور اس کی گنجائش بھی ہے۔ جس طرح ہمیں اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ جو شخص اچھے کام کرتا ہو اور برے کاموں سے بچتا ہوا نظر آئے اس پر ہم عادل ہونے کا حکم لگائیں خواہ اللہ کے نزدیک وہ درپردہ فاسق ہی کیوں نہ ہوں ۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ آیت کا نزول حضرت عائشہ (رض) اور ان پر لگائے جانے والے بہتان کے سلسلے میں ہوا تھا اللہ تعالیٰ نے : (فاولئک عنداللہ ھم الکاذبون) فرما کر ان بہتان باندھنے والوں کے بہتان کی اصلیت سے آگاہ کردیا کہ یہ سراسر جھوٹ ہے اور ان لوگوں نے اس بہتان طرازی میں سچائی سے یکسر چشم پوشی کی ہے۔ اس لئے جو شخص ان لوگوں کی صداقت کے جواز کا قائل ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اصل حقیقت کی نقاب کشائی کو رد کرنے کا مرتکب قرار پائے گا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣) یہ جھوٹے لوگ اپنے اس قول پر چار عادل گواہ کیوں نہ لائے جو ان کی تصدیق کرتے، سو جس حالت میں یہ لوگ گواہ قاعدہ مطابق نہیں لائے تو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣ (لَوْلَا جَآءُ وْ عَلَیْہِ بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَآءَ ج) “ اس طرح کے الزام کے ثبوت کے لیے چار گواہ پیش کرنے کا حکم اس سے پہلے سورة النساء ‘ آیت ١٥ میں نازل ہوچکا تھا (سورۃ النساء ٤ ہجری میں نازل ہوچکی تھی) ۔ چناچہ ان لوگوں کے لیے لازمی تھا کہ چار گواہ پیش کرتے ورنہ خاموش رہتے۔ (فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بالشُّہَدَآءِ فَاُولٰٓءِکَ عِنْدَ اللّٰہِ ہُمُ الْکٰذِبُوْنَ ) ” چار گواہوں کی عدم موجود گی میں اسلامی قانون کے مطابق وہ لوگ جھوٹے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

14. “With Allah”: In the sight of Allah or in the law of Allah, or according to the law of Allah. Obviously, in Allah’s knowledge, the accusation was by itself false and its falsehood was in no way dependent on the production of witnesses by the accusers. Here nobody should have the misunderstanding that failure to bring witnesses is being regarded as the basis and argument to prove that the accusation was false, and that the Muslims are also being told to regard it as a manifest calumny only because the accusers did not bring four witnesses. This misunderstanding can arise if one does not keep in view the background of the actual incident. As a matter of fact, none of the accusers had actually witnessed the thing which they were uttering with their tongues. The only basis of their accusation was that Aishah had been left behind from the caravan and afterwards Safwan had brought her to the camp on his camel. From this nobody with a little common sense could conclude that Aishah’s being left behind was intentional. These are not the ways of those who do these things. It cannot happen that the wife of the army commander quietly stays back with a man, and then the same man makes her ride on his camel and makes haste to catch up with the army at the next halting place in the open daylight at noon. The situation itself warranted that they were innocent. There could, however, be some justification in the charge if the accusers had seen something with their own eyes, otherwise the circumstances on which the accusers had based their accusation did not contain any ground for doubt and suspicion.

سورة النُّوْر حاشیہ نمبر :14 اللہ کے نزدیک یعنی اللہ کے قانون میں ، اللہ کے قانون کے مطابق ۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اللہ کے علم میں تو الزام بجائے خود جھوٹا تھا ، اس کا جھوٹ ہونا اس بات پر مبنی نہ تھا کہ یہ لوگ گواہ نہیں لائے ہیں ۔ اس جگہ کسی شخص کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہاں الزام کے غلط ہونے کی دلیل اور بنیاد محض گواہوں کی غیر موجودگی کو ٹھہرایا جا رہا ہے ۔ اور مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم بھی صرف اس وجہ سے اس کو صریح بہتان قرار دو کہ الزام لگانے والے چار گواہ نہیں لائے ہیں ۔ یہ غلط فہمی اس صورت واقعہ کو نگاہ میں نہ رکھنے سے پیدا ہوتی ہے جو فی الواقع وہاں پیش آئی تھی ۔ الزام لگانے والوں نے الزام اس وجہ سے نہیں لگایا تھا کہ انہوں نے ، یا ان میں سے کسی شخص نے وہ بات دیکھی تھی جو وہ زبان سے نکال رہے تھے ، بلکہ صرف اس بنیاد پر اتنا بڑ الزام تصنیف کر ڈالا تھا کہ حضرت عائشہ قافلے سے پیچھے رہ گئی تھیں اور صفوان بعد میں ان کو اپنے اونٹ پر سوار کر کے قافلے میں لے آئے ۔ کوئی صاحب عقل آدمی بھی اس موقع پر یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ حضرت عائشہ کا اس طرح پیچھے رہ جانا ، معاذ اللہ کسی ساز باز کا نتیجہ تھا ۔ ساز باز کرنے والے اس طریقہ سے تو ساز باز نہیں کیا کرتے کہ سالار لشکر کی بیوی چپکے سے قافلے کے پیچھے ایک شخص کے ساتھ رہ جائے اور پھر وہی شخص اس کو اپنے اونٹ پر بٹھا کر دن دہاڑے ، ٹھیک دوپہر کے وقت لیے ہوئے علانیہ لشکر کے پڑاؤ پر پہنچے ۔ یہ صورت حال خود ہی ان دونوں کی معصومیت پر دلالت کر رہی تھی ۔ اس حالت میں اگر الزام لگایا جا سکتا تھا تو صرف اس بنیاد پر ہی لگایا جا سکتا تھا کہ کہنے والوں نے اپنی آنکھوں سے کوئی معاملہ دیکھا ہو ۔ ورنہ قرائن ، جن پر ظالموں نے الزام کی بنا رکھی تھی ، کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ رکھتے تھے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(24:13) علیہ۔ ای علی القذف۔ اپنی تہمت کے ثبوت میں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

3 ۔ ” اللہ کے نزدیک “ یعنی اللہ کے قانون کے مطابق جسے اسلامی عدالت نافذ کرتی ہے ورنہ اللہ کے علم میں تو وہ جھوٹے ہی تھے اس لئے جھوٹا جاننے کے لئے چار گواہوں کی ضرورت نہ تھی۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : مسلمانوں کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ تہمت لگانے والے سے ثبوت طلب کریں۔ کسی پاکدامن مرد یا عورت پر تہمت لگ جائے تو مومنوں کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اس تہمت پر یقین کرنے اور اسے آگے بڑھانے کی بجائے تہمت لگانے والے سے چار گواہوں کا مطالبہ کریں اگر وہ شریعت کے مقرر کردہ معیار اور ضابطے کے مطابق چار گواہ پیش نہیں کرتا تو وہ شریعت کی نظر میں جھوٹا ہے۔ اس پر عدالت کی ذمہ داری ہوگی کہ ایسے شخص کو مجمع عام میں اسّی (٨٠) کوڑے لگوائے تاکہ اس کی زبان درازی کی اسے ٹھیک ٹھیک سزا مل سکے اور مسلمانوں کی عزت و حرمت ایک دوسرے سے محفوظ رہے۔ کیونکہ یہ واقعہ صحابہ اکرام (رض) کے دور میں ہوا اور اس میں چند مسلمان ملوث ہوئے اور یہ پہلا واقعہ تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے اگر اللہ کا تم پر دنیا اور آخرت میں فضل نہ ہوتا تو اس تہمت درازی کی وجہ سے تم پر عظیم عذاب نازل ہوتا۔ یہ اس کے فضل کا نتیجہ ہے کہ اتنے عظیم جرم میں ملوث ہونے کے باوجود اس نے تمہیں توبہ و استغفار کا موقعہ دیتے ہوئے عظیم عذاب سے محفوظ فرمایا۔ صحابہ (رض) کی عظمت : (وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَاْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ فَیَغْزُوْ فِءَامٌ مِّنَ النَّاسِ فَیَقُوْلُوْنَ ھَلْ فِیْکُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ فَیُفْتَحُ لَھُمْ ثُمَّ یَاْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ فَیَغْزُوْ فِءَامٌ مِّنَ النَّاسِ فَیُقَالُ ھَلْ فِیْکُمْ مَنْ صَاحَبَ اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ فَیُفْتَحُ لَھُمْْْْْْ ثُمَّ یَاْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ فَیَغْزُوْ فِءَامٌ مِّنَ النَّاسِ فَیُقَالُ ھَلْ فِیْکُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ فَیُفْتَحُ لَھُمْ (متفق علیہ) ۔ وَفِیْ رِوَایَہٍ لِّمُسْلِمٍ قَالَ یَاْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یُبْعَثُ مِنْھُمُ الْبَعْثُ فَیَقُوْلُوْنَ اُنْظُرُوْا ھَلْ تَجِدُوْنَ فِیْکُمْ اَحَدًا مِّنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَیُوْجَدُ الرَّجُلُ فَیُفْتَحُ لَھُمْ ثُمَّ یُبْعَثُ البَعْثُ الثَّانِیْ فَیَقُوْلُوْنَ ھَلْ فِیْھِمْ مَنْ رَّاٰی اَصْحَاب النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَیُفْتَحُ لَھُمْ ثُمَّ یُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّالِثُ فَیُقَالُ انْظُرُوْا ھَلْ تَرَوْنَ فِیْھِمْ مَنْ رَاٰی مَنْ رَاٰی اَصْحَاب النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ثُمَّ یَکُوْنُ الْبَعْثُ الرَّابِعُ فَیُقَالُ اُنْظُرُوْاھَلْ تَرَوْنَ فِیْھِمْ اَحَدًارَاٰی مَنْ رَاٰی اَحَدًا رَاٰی اَصْحَاب النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَیُوْجَدُالرَّجُلُ فَیُفْتَحُ لَہٗ ۔ ) [ رواہ مسلم : باب فَضْلِ الصَّحَابَۃِ ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ ] حضرت ابو سعید خدری (رض) کا بیان ہے کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمانوں پر ایسا وقت آئے گا ‘ کہ ان کا ایک گروہ۔ اللہ کے راستے میں لڑائی کرے گا۔ جہاد کرنے والے پوچھیں گے ‘ کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت نصیب ہوئی ہو ؟ وہ جواب دیں گے ‘ ہاں۔ چناچہ اس صحابی کی برکت سے ان کو فتح نصیب ہوگی۔ پھر مسلمانوں پر ایسا وقت آپڑے گا کہ ان کا ایک گروہ۔ اللہ کے راستے میں لڑائی کرے گا۔ پوچھا جائے گا ‘ کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس کو اصحاب رسول کی صحبت حا صل ہوئی (یعنی تابعی ہے) ؟ وہ جواب دیں گے ہاں۔ تو ان کو فتح نصیب ہوجائے گی۔ پھر مسلمانوں پر ایک ایسا دور آئے گا کہ ان کی ایک جماعت جہاد فی سبیل اللہ کرے گی۔ پو چھا جائے گا کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس کو کسی اصحاب رسول کے ساتھی یعنی تابعی کی صحبت میسر آئی ہو یعنی تبع تابعی ہے ؟ بتایا جائے گا ‘ ہاں۔ تو وہ بھی فتح یاب ہوں گے۔ مسلم کی دوسری روایت ہے۔ مسلمانوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ مسلمانوں کا ایک لشکر بھیجا جائے گا۔ وہ کہیں گے دیکھو تم میں کوئی صحابی رسول ہے ؟ چناچہ وہ صحابی پائیں گے تو انہیں فتح حاصل ہوگی۔ پھر دوسرا لشکر بھیجا جائے گا تو لوگ دریافت کریں گے کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے کسی صحابیِ کو پایا ہو ؟ چناچہ ان کو کامیابی حاصل ہوگی۔ پھر تیسرا لشکر بھیجا جائے گا تو لوگ پوچھیں گے کیا تم میں سے کوئی ایسا شخص موجود ہے جس نے کسی ایسے شخص کو دیکھا ہو جو صحابی رسول کی صحبت سے فیض یاب ہوا ہو ؟ وہ ایسا شخص پائیں گے اور وہ فتح یاب ہوں گے۔ پھر چوتھا لشکر بھیجا جائے گا۔ ان سے پوچھا جائے گا ‘ کیا تم میں صحابہ کرام کے شاگردوں کا کوئی شاگرد ہے ؟ تو وہ ایسا شخص پائیں گے۔ تو فتح سے ہمکنار ہوں گے۔ مسائل ١۔ تہمت لگانے والے پر لازم ہے کہ وہ چار عادل گواہ پیش کرے ورنہ اسے اسّی کوڑے لگائے جائیں گے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام (رض) پر خاص فضل اور خصوصی رحمت فرمائی۔ تفسیر بالقرآن صحابہ کرام (رض) کا مرتبہ و مقام : ١۔ اللہ نے صحابہ کے ایمان کو آزمالیا۔ (الحجرات : ٣) ٢۔ صحابہ کا ایمان امت کے لییمعیار ہے۔ (البقرۃ : ١٣٧) ٣۔ صحابہ اللہ کی جماعت ہیں۔ (المجادلۃ : ٢٢) ٤۔ صحابہ کو براکہنے والے بیوقوف ہیں۔ (البقرۃ : ١٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(لولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھم الکذبون) (٢٤ : ١٣) ” یہ افتراء جس نے نہایت ہی بلند مقامات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ‘ پاک ترین لوگوں کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے۔ اسے تو اس قدر آسان اور سہل نہ سمجھنا چاہیے تھا۔ بغیر ثبوت کے اس کی اشاعت کیوں ہوئی اور کیوں اس قدر چرچا ہوا۔ کیوں یہ نقل درنقل ہوتی رہی بغیر شہادت کے ۔ اس الزام کے حق میں تو کوئی شہادت نہ تھی لہٰذا سمجھ لینا چاہیے تھا کہ یہ جھوٹ بکا جارہا ہے۔ یہ اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں۔ حقیقت واقعہ کے مطابق جھوٹے ہیں اور اللہ کا فیصلہ اور اللہ کا حکم تو بدلتا نہیں۔ اس لیے یہ ان لوگوں کی اب دائمی صفت ہے جنہوں نے افتراء میں حصہ لیا اور یہ کبھی بھی اس کے نتائج سے بچ کر نکل نہیں سکتے۔ یہ ہیں دو طریقے۔ ایک یہ کہ کسی بھی معاملے کو سب سے پہلے عقل و قیاس کے مفتی کے سامنے پیش کردو۔ خود اپنے قلب و ضمیر میں اس کا فیصلہ کرو۔ اور دوسرا طریقہ ہے قانون ثبوت کا ۔ حادثہ افک میں عام لوگوں نے یہ دونوں طریقے استعمال نہ کیے اور منافقین کی چال میں سب لوگ آگئے۔ پھر بعض اہل ایمان بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ، خلاف چلائی ہوئی اس مہم میں شریک ہوگئے۔ جبکہ یہ ایک عظیم معاملہ تھا۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ڈراتے ہیں کہ وہ آئندہ محتاط رہیں۔ دوبارہ یہ حرکت نہ کریں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(لَوْلاَ جَاءُوا عَلَیْہِ بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَاءَ ) (یہ لوگ اپنی بات پر چار گواہ کیوں نہ لائے) (فَاِِذْ لَمْ یَاْتُوا بالشُّہَدَاءِ فَاُوْلٰٓءِکَ عِنْدَ اللّٰہِ ھُمُ الْکَاذِبُوْنَ ) (سو جب وہ گواہ نہ لائیں تو اللہ کے نزدیک یعنی اس کے نازل فرمودہ قانون شرعی کے اعتبار سے جھوٹے ہیں) اس میں تہمت لگانے والوں کو تنبیہ ہے کہ بن دیکھے ایک مسلمان مرد اور ایک مسلمان عورت پر تہمت لگا رہے ہیں، جو لشکر سے پیچھے رہ گئے کیا لشکر سے پیچھے رہ جانا ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ اس کی طرف بری بات منسوب کی جائے نہ خود دیکھا اور نہ کسی اور شخص نے گواہی دی بس برائی کی تہمت لگا کر اچھالنا شروع کردیا ان کا جھوٹا ہونا اسی سے ظاہر ہے۔ اگر کسی کو کوئی شخص تہمت لگائے تو اس کے لیے چار عینی گواہ پیش کرے، گواہ نہ ہوں تو وہ قانون شرعی میں جھوٹا مانا جائے گا۔ اور اس پر حد قذف لگے گی جس کا پہلے رکوع میں ذکر ہوچکا ہے اس میں حکام اور قضاۃ کو بتادیا کہ جو شخص کسی پر تہمت دھرے اس سے چار گواہ طلب کریں اگر وہ چار گواہ نہ لایا تو اس کو جھوٹا سمجھیں اور اس پر حد قائم کردیں چونکہ یہ آبرو کا معاملہ ہے اس لیے اس ثبوت کے لیے چار گواہوں کی شرط رکھی گئی ہے اور دیگر حقوق کے ثابت کرنے کے لیے دو گواہوں پر کفایت کی گئی ہے۔ یہاں یہ شبہ ہوتا ہے جب یہ قانون شرعی ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تہمت لگانے والوں سے کیوں گواہ طلب نہ فرمائے۔ گواہ طلب فرماتے اور چونکہ وہ گواہ طلب کرنے سے عاجز تھے اس لیے دن کے دن تہمت لگانے والوں پر حد جاری فرما دیتے ایک مہینہ تک پریشانی میں مبتلا رہنے کی کیا ضرورت تھی، اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رحمتہ اللعالمین تھے آپ کہ یہ گوارا نہ تھا کہ ایمان لانے کے باو جود کوئی شخص آپ کی طرف سے بد گمان ہو کر اور کوئی ایسا ویسا کلمہ زبان سے نکال کر کافر ہوجائے بات کا اٹھانے اور پھیلانے والا تو منافقوں کا سردار تھا لیکن تین مسلمان بھی اس کے ہمنوا ہوگئے تھے اور بعض مسلمان خاموش تھے بعض متردد تھے اگر بات سنتے ہی اس وقت چٹ پٹ حد لگا دی جاتی تو اندیشہ تھا کچھ لوگ یوں خیال کرلیتے یا زبان سے کہہ دیتے کہ دیکھا چونکہ اپنا معاملہ تھا اس لیے بات کہنے والوں کی پٹائی کر کے دبا دیا اگر کوئی ایسا کہتا تو کافر ہوجاتا لوگوں میں سب طرح کے آدمی ہوتے ہیں ضعیف الایمان بھی پائے جاتے ہیں اور اس وقت مولفتہ القلوب بھی تھے اس لیے آپ نے ضعیف الایمان لوگوں کو ایمان پر باقی رکھنے کے لیے اپنی جان پر تکلیف برداشت فرما لی اور معاملہ کی تحقیق فرمائی پھر جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے برأت نازل ہوگئی تو سب کو ماننا پڑا اور آپ نے بھی حد جاری فرما دی۔ یہ بات ہر عقلمند آدمی سمجھ سکتا ہے کہ جب کسی کی بیوی کو تہمت لگائی جائے اور وہ غلط بھی ثابت ہوجائے تو وہ اسے اپنی کتاب میں ذکر نہیں کرسکتا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چہیتی بیوی کو تہمت لگائی گئی تو اس کا ذکر قرآن مجید میں نازل ہوگیا اگر قرآن مجید اللہ کی کتاب نہ ہوتی یا آپ کی لکھی ہوئی ہوتی یا آپ کو کسی آیت یا مضمون کو چھپانے کا اختیار ہوتا تو آپ تہمت والے مضمون کو باقی نہ رکھتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید نہ آپ کی لکھی ہوئی کتاب ہے اور نہ آپ کو کسی آیت یا مضمون کے چھپانے کا اختیار تھا اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نازل فرمایا حکم الہٰی کے مطابق اللہ کے بندوں تک پہنچایا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

14:۔ ” لولا جاء وا الخ “ یہ عام مسلمانوں پر زجر ہے تہمت لگانے والوں نے چار گواہ پیش کیوں نہیں کیے ؟ جب وہ چار گواہ پیش نہیں کرسکے تو ظاہر ہے کہ وہ جھوٹے ہیں لہذا اے ایمان والو تمہارا فرض تھا کہ تم یہ غلط بات سنتے ہی اعلان کردیتے کہ یہ سراسر جھوٹی تہمت ہے اور اس میں سچائی کا شائبہ تک نہیں مگر اس کے باوجود تم نے خاموشی اختیار کی۔ وھذا توبیخ و تعنیف للذین سمعوا الفک و لم یجدوا فی دفعہ وانکارہ الخ (بحر ج 6 ص 438) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(13) جو لوگ اس طوفان بندی اور قذف کے مرتکب ہوئے وہ اپنے دعویٰ پر چار گواہ کیوں نہ لائے پھر جب کہ وہ چار گواہ نہ لاسکے تو بس یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹے ہیں یعنی جب چار گواہوں کی شہادت قانون الٰہی میں نازل ہوچکی تو اب مدعی اگر خود بھی معائنہ کرے تب بھی اس کو چار عینی شاہدوں کی شہادت دلیل کے طور پر پیش کرنی ہوگی ورنہ حدقذف کا مستحق ہوگا۔ لہٰذا ان لوگوں کو قانون الٰہی کے مطابق شہادت پیش کرنی تھی اور جب یہ شاہد نہیں لاسکتے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک یعنی اس کے قانون کے مطابق یہ لوگ جھوٹے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چاہئے مسلمان کو کہ جب لوگ ایک نیک شخص کو بری تہمتیں لگادیں ان کو جھٹلا دے۔ پیغمبر نے فرمایا جو کوئی پیٹھ پیچھے بھائی مسلمان کی مدد کرے اللہ اس کی پیٹھ پیچھے مدد کرے اور بےتحقیق تہمتیں لگانی ایمان سے بعید ہے۔ 12