46 This is yet another point of wisdom of sending down the Qur'an by degrees. Allah did not intend to produce a book on "Guidance" and spread its teachings through the agency of His Prophet. Had it been so the disbelievers would have been justified in their objection as to why the Qur'an had not been sent down as a complete book all at once. The real object of the revelation of the Qur'an was that Allah intended to start a Movement of faith, piety and righteousness to combat disbelief, ignorance and sin, and He had raised a Prophet to lead and guide the Movement. Then, on the one hand, Allah had taken it upon Himself to send necessary instructions and guidance to the leader and his followers as and when needed, and on the other, He had also taken the responsibility to answer the objections and remove the doubts of opponents and give the right interpretation of things which they misunderstood. Thus the Qur'an was the collection of the differentdiscourses that were being revealed by Allah; it was not merely meant to be a code of laws or of moral principles, but a Book, which was being sent down piecemeal to guide the Movement in all its stages to suit its requirements on different occasions. (See also Introduction: The Meaning of the Qur'an, Vol. I, pp. 9- 18).
سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :46
یہ نزول قرآن میں تدریج کا طریقہ اختیار کرنے کی ایک اور حکمت ہے ۔ قرآن مجید کی شان نزول یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہدایت کے موضوع پر ایک کتاب تصنیف کرنا چاہتا ہے اور اس کی اشاعت کے لیے اس نے نبی کو ایجنٹ بنایا ہے ۔ بات اگر یہی ہوتی تو یہ مطالبہ بجا ہوتا کہ پوری کتاب تصنیف کر کے بیک وقت ایجنٹ کے حوالے کر دی جائے ۔ لیکن دراصل اس کی شان نزول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کفر اور جاہلیت اور فسق کے مقابلہ میں ایمان و اسلام اور اطاعت و تقویٰ کی ایک تحریک برپا کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے اس نے ایک نبی کو داعی و قائد بنا کر اٹھایا ہے ۔ اس تحریک کے دوران میں اگر ایک طرف قائد اور اس کے پیروؤں کو حسب ضرورت تعلیم اور ہدایت دینا اس نے اپنے ذمہ لیا ہے تو دوسری طرف یہ کام بھی اپنے ہی ذمہ رکھا ہے کہ مخالفین جب کبھی کوئی اعتراض یا شبہہ یا الجھن پیش کریں اسے وہ صاف کر دے ۔ اور جب بھی وہ کسی بات کو غلط معنی پہنائیں وہ اس کی صحیح تشریح و تفسیر کر دے ۔ ان مختلف ضروریات کے لیے جو تقریریں اللہ کی طرف سے نازل ہو رہی ہیں ان کے مجموعے کا نام قرآن ہے ، اور یہ ایک کتاب آئین یا کتاب اخلاق و فلسفہ نہیں بلکہ کتاب تحریک ہے جس کے معرض وجود میں آنے کی صحیح فطری صورت یہی ہے کہ تحریک کے اول لمحہ آغاز کے ساتھ شروع ہو اور آخری لمحات تک جیسے جیسے تحریک چلتی رہے یہ بھی ساتھ ساتھ حسب موقع و ضرورت نازل ہوتی رہے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اول ، صفحہ 13 تا 25 ) ۔