Surat ul Furqan

Surah: 25

Verse: 34

سورة الفرقان

اَلَّذِیۡنَ یُحۡشَرُوۡنَ عَلٰی وُجُوۡہِہِمۡ اِلٰی جَہَنَّمَ ۙ اُولٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿۳۴﴾٪  1

The ones who are gathered on their faces to Hell - those are the worst in position and farthest astray in [their] way.

جو لوگ اپنے منہ کے بل جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے وہی بدتر مکان والے اور گمراہ تر راستے والے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Those who will be gathered to Hell on their faces, such will be in an evil state, and most astray from the path. In the Sahih, it is reported from Anas that a man said, "O Messenger of Allah, how will the disbeliever be gathered on his face on the Day of Resurrection?" The Prophet said: إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى رِجْلَيْهِ قَادِرٌ أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَة The One Who caused him to walk on his two feet is able to make him walk on his face on the Day of Resurrection.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٥] یعنی کافروں کے اس قسم کے اعتراضات کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کی عقلیں اوندھی ہوچکی ہیں۔ جو سیدھی سادی باتوں پر غور کرنے کے لئے آمادہ ہی نہیں ہوتیں لہذا ہم قیامت کے دن اوندھے منہ جہنم کی طرف چلا کرلے جائیں گے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا : && یانبی اللہ ! قیامت کے دن کافر اپنے منہ کے بل حشر کئے جائیں گے ؟ && آپ نے فرمایا : && جس پروردگار نے انسان کو دو پاؤں پر چلایا ہے کیا وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل نہیں چلا سکتا && ( بخاری۔ کتاب التفسیر (

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَلَّذِيْنَ يُحْشَرُوْنَ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ ۔۔ : اس آیت کو پچھلی آیات کے ساتھ ملائیں تو ان الفاظ کا تقاضا ہے کہ یہاں کچھ عبارت محذوف ہے، جو یہ ہے کہ ” نبی اور قرآن پر اعتراض کرنے والے یہ لوگ اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے “ اور وہ لوگ جو اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے وہی ٹھکانے میں نہایت برے اور راستے کے اعتبار سے بہت زیادہ گمراہ ہیں۔ اُولٰۗىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ سَبِيْلًا : ” شَرٌّ“ اصل میں ” أَشَرُّ “ ہے، جیسے ” خَیْرٌ“ اصل میں ” أَخْیَرُ “ ہے، دونوں اسم تفضیل کے صیغے ہیں، ” اَضَلُّ “ بھی اسم تفضیل ہے، مگر یہاں تفضیل مراد نہیں، نہ یہ معنی ہے کہ یہ لوگ اہل جنت سے زیادہ برے ہیں۔ یہاں ” شر “ اور ” اضل “ کا لفظ کسی کے مقابلے میں زیادہ برے یا زیادہ گمراہ کے معنی میں نہیں بلکہ صرف مبالغے کے لیے ہے، یعنی نہایت برے اور بہت زیادہ گمراہ ہیں، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ” وہی ٹھکانے میں نہایت برے اور راستے کے اعتبار سے بہت زیادہ گمراہ ہیں۔ “ ٹھکانے سے مراد جہنم ہے اور راستے سے مراد کفر و شرک کا راستہ ہے، جو جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ چند آیات پہلے اہل جنت کا وصف بیان ہوا ہے : (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا ) [ الفرقان : ٢٤ ] اس کے مقابلے میں یہاں اہل جہنم کا وصف ” شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ سَبِيْلًا “ بیان ہوا ہے۔ اَلَّذِيْنَ يُحْشَرُوْنَ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ۔۔ : دیکھیے سورة بنی اسرائیل (٩٧) اور طٰہٰ (١٢٥) چہروں کے بل اکٹھے کیے جانے کی ایک تفسیر یہ ہے کہ انھیں چہروں کے بل گھسیٹتے ہوئے میدان محشر کی طرف لے جایا جائے گا، جیسا کہ جہنم میں بھی ان کے ساتھ یہی معاملہ ہوگا، فرمایا : (يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ) [ القمر : ٤٨ ] ” جس دن وہ آگ میں اپنے چہروں پر گھسیٹے جائیں گے، چکھو آگ کا چھونا۔ “ اور فرمایا : (وَمَنْ جَاۗءَ بالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ ) [ النمل : ٩٠ ] ” اور جو برائی لے کر آئے گا تو ان کے چہرے آگ میں اوندھے ڈالے جائیں گے۔ “ دوسری تفسیر وہ ہے جو انس (رض) نے روایت فرمائی ہے کہ ایک آدمی نے کہا : ” یا رسول اللہ ! کافر کو قیامت کے دن چہرے کے بل اکٹھا کیا جائے گا ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( أَلَیْسَ الَّذِيْ أَمْشَاہُ عَلَی الرِّجْلَیْنِ فِي الدُّنْیَا قَادِرًا عَلٰی أَنْ یُّمْشِیَہُ عَلٰی وَجْھِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ؟ ) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : ( الذین یحشرون علی۔۔ ) : ٤٧٦٠ ] ” کیا جس نے اسے ٹانگوں پر چلایا ہے وہ اس پر قادر نہیں کہ اسے قیامت کے دن اس کے چہرے پر چلائے ؟ “ اکثر مفسرین نے یہی تفسیر کی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَّذِيْنَ يُحْشَرُوْنَ عَلٰي وُجُوْہِہِمْ اِلٰى جَہَنَّمَ۝ ٠ۙ اُولٰۗىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ سَبِيْلًا۝ ٣٤ۧ حشر ، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار وحدّة . ( ح ش ر ) الحشر ( ن ) اور قیامت کے دن کو یوم الحشر بھی کہا جاتا ہے جیسا ک اسے یوم البعث اور یوم النشور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے لطیف اور باریک کانوں والا ۔ وجه أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] ( و ج ہ ) الوجہ کے اصل معنی چہرہ کے ہیں ۔ جمع وجوہ جیسے فرمایا : ۔ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] تو اپنے منہ اور ہاتھ دھو لیا کرو ۔ جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام «1» ، وقال أبو مسلم : كهنّام «2» ، والله أعلم . ( ج ھ ن م ) جھنم ۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔ شر الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ، وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] ( ش ر ر ) الشر وہ چیز ہے جس سے ہر ایک کراہت کرتا ہو جیسا کہ خیر اسے کہتے ہیں ۔ جو ہر ایک کو مرغوب ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] کہ مکان کس کا برا ہے وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے ہیں «مَكَانُ»( استکان) قيل أصله من : كَانَ يَكُونُ ، فلمّا كثر في کلامهم توهّمت المیم أصليّة فقیل : تمكّن كما قيل في المسکين : تمسکن، واسْتَكانَ فلان : تضرّع وكأنه سکن وترک الدّعة لضراعته . قال تعالی: فَمَا اسْتَكانُوا لِرَبِّهِمْ [ المؤمنون/ 76] . المکان ۔ بعض کے نزدیک یہ دراصل کان یکون ( ک و ن ) سے ہے مگر کثرت استعمال کے سبب میم کو اصلی تصور کر کے اس سے تملن وغیرہ مشتقات استعمال ہونے لگے ہیں جیسا کہ مسکین سے تمسکن بنا لیتے ہیں حالانکہ یہ ( ص ک ن ) سے ہے ۔ استکان فلان فلاں نے عاجز ی کا اظہار کیا ۔ گو یا وہ ٹہھر گیا اور ذلت کی وجہ سے سکون وطما نینت کو چھوڑدیا قرآن میں ہے : ۔ فَمَا اسْتَكانُوا لِرَبِّهِمْ [ المؤمنون/ 76] تو بھی انہوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی ۔ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٤) یہ ابوجہل اور اس کے ساتھی وہ لوگ ہیں جو قیامت کے دن اپنے مونہوں کے بل دوزخ میں ڈالے جائیں گے یہ لوگ آخرت میں جگہ کے اعتبار سے اور دنیا میں عمل کے اعتبار سے بھی بدتر اور حق وہدایت کے راستہ سے گمراہ ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

47 That is, "They will be driven towards Hell upon their faces because of their perversion and their perverted thinking."

سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :47 یعنی جو لوگ سیدھی بات کو الٹی طرح سوچتے ہیں اور الٹے نتائج نکالتے ہیں ان کی عقل اوندھی ہے ۔ اسی وجہ سے وہ قرآن کی حقانیت پر دلالت کرنے والی حقیقتوں کو اس کے بطلان پر دلیل قرار دے رہے ہیں ، اور اسی وجہ سے وہ اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے جائیں گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(25:34) یحشرون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب ان کو جمع کیا جائے گا۔ ان کو سمیٹ کرلے جایا جائے گا۔ ای یساقون۔ گھسیٹ کرلے جایا جائے گا۔ شر۔ اضل۔ افعل التفضیل کے صیغے ہیں۔ شر کو بصیغہ تفضیل اور جگہ بھی استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً قل ھل انبئکم بشر من ذلک مثوبۃ عند اللہ۔ ہے (5:60) آپ کہہ دیجئے کیا میں تمہیں بتائوں وہ جو اللہ کے ہاں پاداش کے لحاظ سے اس سے بھی برا شر۔ بدترین۔ اضل۔ زیادہ گمراہ۔ ترکیب :۔ ہم (مبتدا محذوف) الذین یحشرون ۔۔ سبیلا خبر۔ یا اولئک اسم اشارہ مبتدا۔ شر مکانا۔ اس کی خبر اول واضل سبیلا۔ خبر ثانی۔ مبتدا وخبر مل کر یہ جملہ الذین اسم موصول مبتدا کی خبر ہوا۔ الذین۔۔ یہ وہ لوگ ہیں (یعنی اعتراض کرنے والے۔ عجیب سوال پوچھنے والے) جو اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ یہ لوگ جگہ کے لحاظ سے بدترین اور طریقہ و مذہب کے لحاظ سے بہت گمراہ ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

4 ۔ صحیح یعنی بخاری میں حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا گیا : ” لوگ اپنے منہ کے بل کیوں کرہانکے جائیں گے ؟ فرمایا : جس خدا نے انہیں پائوں کے بل چلایا وہ انہیں منہ کے بل بھی چلا سکتا ہے۔ “ اکثر مفسرین نے اس آیت کی یہی تفسیر بیان کی ہے۔ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ جگہ سے مراد دوزخ اور طریقہ سے مراد مسلک اور مذہب۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نبی کے دشمنوں اور قرآن پر اعتراض کرنے والوں کا انجام : جو لوگ تعصّب اور ہٹ دھرمی کی بناء پر رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اعتراض اور قرآن مجید کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں چہروں کے بل جہنم میں اکٹھا کرے گا یہ لوگ اپنے مقام اور انجام کے لحاظ سے بدترین ہوں گے۔ کیونکہ یہ پرلے درجے کے گمراہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید لوگوں کی ہدایت کے لیے نازل کیا ہے۔ جو شخص اخلاص کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرے اور اس پر غور کرے گا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے سرفراز کرے گا۔ ہاں وہ شخص کبھی ہدایت نہیں پاسکتا جو اللہ کی نازل کردہ ہدایت پر اعتراض کرے اور اس کا انکار کرتا ہو۔ ایسا شخص گمراہی میں اس قدر آگے بڑھ جاتا ہے کہ اس کے ہدایت پانے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ جو لوگ قرآن مجید کے بارے میں الٹی سوچ رکھیں اور اس کے خلاف چلنا ان کا وطیرہ ہوجائے۔ انھیں اوندھے منہ جہنم میں پھینکا جائے گا۔ ( عَنْ قَتَادَۃَ (رض) حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ یَا رَسُول اللّٰہِ کَیْفَ یُحْشَرُ الْکَافِرُ عَلٰی وَجْہِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ أَلَیْسَ الَّذِی أَمْشَاہُ عَلٰٰی رِجْلَیْہِ فِی الدُّنْیَا قَادِرًا عَلٰٰٰی أَنْ یُمْشِیَہُ عَلٰٰی وَجْہِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ قَتَادَۃُ بَلَی وَعِزَّۃِ رَبِّنَا) [ رواہ مسلم، کتاب القیامۃ والجنۃ والنار، باب یحشر الکافر علی وجھہ ] ” حضرت قتادہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک (رض) نے بیان کیا ایک شخص نے استفسار کیا اے اللہ کے رسول ! کافروں کو قیامت کے دن چہرے کے بل کس طرح اکٹھا کیا جائے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا جو ذات سب کو دنیا میں پاؤں کے بل چلانے پر قادر ہے وہ قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ہوگی۔ حضرت قتادہ کہتے ہیں ہمیں اپنے رب کی عزت کی قسم ایسا ہوگا۔ “ مسائل ١۔ مجرموں کو الٹے منہ جہنم میں پھینکا جائے گا۔ ٢۔ رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اعتراض اور قرآن مجید کا انکار کرنے والا حد درجے کا گمراہ ہوتا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(الَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی وُجُوْھِہِمْ ) (الآیۃ) اس آیت میں کافروں کا برا انجام بیان فرمایا اور وہ یہ کہ ان لوگوں کو چہروں کے بل گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا اور اس میں پھینک دیا جائے گا وہ جگہ عذاب کے اعتبار سے بری جگہ ہے یہاں دنیا میں ان کو بتایا جاتا تھا کہ اپنی حرکتوں کی سزا میں برے عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے اور یہ کہ تم گمراہ ہو راہ حق سے ہٹے ہوئے ہو لیکن یہاں نہیں مانتے تھے وہاں عذاب میں مبتلا ہوں گے تو دونوں باتیں سمجھ میں آجائیں گی لیکن وہاں کا سمجھنا اور ماننا فائدہ مند نہ ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

26:۔ ” الذین یحشرون الخ “ : یہ تخویف اخروی ہے جو لوگ محض ضد وعناد اور بےانصاری سے انکار کرتے اور لا یعنی اعتراض کرتے ہیں قیامت کے دن انہیں مونہوں کے بل گھسیٹا جائیگا اور ان کا ٹھکانا بہت ہی برا ہوگا یہ لوگ راہ راست اور ہدایت سے بہت ہی دور ہیں ضد وعناد نے ان کو راہ حق سے اس قدر دور کردیا ہے کہ اب ان کے راہ راست پر آنے کا امکان ختم ہوچکا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(34) یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے منھوں کے بل دوزخ کی طرف گھیر کرلے جائے جائیں گے یہ لوگ ازروئے مکان کے بھی بدتر ہیں اور با اعتبار راہ کے بھی بہت گمراہ ہیں منہ کے بل جانے کا مطلب یہ ہے کہ سر کے بل جائیں گے یا یہ کہ گھسیٹتے ہوئے لے جایاجائے گا ان کو جگہ بھی جہنم میں بہت بری ملے گی تو جگہ کے اعتبار سے بدتر اور چونکہ اپنی کج روی سے صحیح راستہ اختیار نہیں کیا اس لئے راہ کے اعتبار سے بھی گم کردہ راہیں اوندھی عقل تھی ویسا ہی سلوک ہوا۔