Surat ul Furqan

Surah: 25

Verse: 37

سورة الفرقان

وَ قَوۡمَ نُوۡحٍ لَّمَّا کَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغۡرَقۡنٰہُمۡ وَ جَعَلۡنٰہُمۡ لِلنَّاسِ اٰیَۃً ؕ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلظّٰلِمِیۡنَ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۳۷﴾ۚ ۖ

And the people of Noah - when they denied the messengers, We drowned them, and We made them for mankind a sign. And We have prepared for the wrongdoers a painful punishment.

اور قوم نوح نے بھی جب رسولوں کو جھوٹا کہا تو ہم نے انہیں غرق کر دیا اور لوگوں کے لئے انہیں نشان عبرت بنا دیا ۔ اور ہم نے ظالموں کے لئے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَقَوْمَ نُوحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ ... And Nuh's people, when they denied the Messengers, although Allah sent only Nuh to them, and he stayed among them for 950 years, calling them to Allah and warning them of His punishment, وَمَا امَنَ مَعَهُ إِلاَّ قَلِيلٌ (And none believed with him, except a few. (11:40) For this reason Allah أَغْرَقْنَاهُمْ drowned them all and left no one among the sons of Adam alive on earth apart from those who boarded the boat, ... وَجَعَلْنَاهُمْ لِلنَّاسِ ايَةً ... and We made them a sign for mankind. meaning a lesson to be learned. This is like the Ayah, إِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَأءُ حَمَلْنَـكُمْ فِى الْجَارِيَةِ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَأ أُذُنٌ وَعِيَةٌ Verily, when the water rose beyond its limits, We carried you in the boat. That We might make it a remembrance for you, and the keen ear may understand it. (69:11-12) which means: `We left for you ships that you ride upon to travel across the depths of the seas, so that you may remember the blessing of Allah towards you when He saved you from drowning, and made you the descendants of those who believed in Allah and followed His commandments.' .. وَأَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ عَذَابًا أَلِيمًا And We have prepared a painful torment for the wrongdoers. Allah further tells:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٨] اس سے معلوم ہوا ہے کہ قوم نوح کی طرف حضرت نوح سے پہلے بھی کچھ رسول آچکے تھے۔ جن کے قرآن میں نام مذکور نہیں ہیں یا اس کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا ہے کہ چونکہ اصول دین میں تمام انبیاء کی تعلیم ایک ہی رہی ہے تو اس لحاظ سے اسے ایک رسول کو جھٹلانے سے از خود باقی سب رسولوں کی تکذیب ہوجاتی ہے۔ [ ٤٩] نشانی اس لحاظ سے کہ ان ظالموں کی روئے زمین پر نسل ہی ختم ہوگئی۔ طوفان نوح کے بعد حضرت آدم کی نسل صرف ان لوگوں سے چلی جو حضرت نوح کے ہمراہ کشتی میں سوار تھے اور بعض کے نزدیک آئندہ نسل حضرت نوح کے تین بیٹوں حام، سام اور یافث سے چلی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ ۔۔ : اس قوم کی طرف صرف نوح (علیہ السلام) آئے تھے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ انھوں نے رسولوں کو جھٹلا دیا، وجہ اس کی یہ ہے کہ ایک پیغمبر کو جھٹلانا سب کو جھٹلانا ہے، کیونکہ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہے۔ ان کی تکذیب اور غرق کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة ہود (٢٥ تا ٤٩) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary In the above verses it is mentioned that it had been the common practice of the people through the ages to rebuff the prophets and the message they had brought. In order to give weight to this assertion a few of the well known prophets are mentioned who were rejected by their people and then they were subjected to Allah&s wrath and were annihilated completely. By drawing a parallel with the past generations it is elucidated that the pagans of Makkah would not listen to any reason as they were no better than the animals or even worse than that. It is stated about the people of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) that they had rejected the prophets, although they had neither seen the past prophets nor had they rejected them. at is actually meant here is that while denying Sayyidna Nuh (علیہ السلام) they had by implication rejected all the prophets, because the principals of religion expounded by all prophets are essentially the same. Hence rejection of one prophet is tantamount to rejection of all. أَصْحَابَ الرَّ‌سِّ (People of Rass - 25:38). In Arabic رَس (Rass) means unlined well. Neither Qur&an nor any authentic tradition describes these people in any detail. Whatever information is available about them is through Israelite traditions, which differ from one another. It is more likely that the remaining people of Thamud had settled down near a well. It is not mentioned in the Qur&an or any tradition as to how they were tormented. (Bayan u1-Qur&an)

خلاصہ تفسیر اور قوم نوح کو بھی (ان کے زمانہ میں) ہم ہلاک کرچکے ہیں (جن کی ہلاکت اور سبب ہلاکت کا بیان یہ ہے کہ) جب انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو (طوفان سے) غرق کردیا اور ہم نے ان (کے واقعہ) کو لوگوں (کی عبرت) کے لئے نشان بنادیا ( یہ تو دنیا میں سزا ہوئی) اور (آخرت میں) ہم نے (ان) ظالموں کے لئے دردناک سزا تیار کر رکھی ہے۔ اور ہم نے عاد اور ثمود اور اصحاب الرس اور ان کے بیچ بیچ میں بہت سی امتوں کو ہلاک کیا اور ہم نے (امم مذکورہ میں سے) ہر ایک ( کی ہدایت) کے واسطے عجیب عجیب (یعنی موثر اور بلیغ) مضامین بیان کئے اور (جب نہ مانا تو) ہم نے سب کو بالکل ہی برباد کردیا۔ اور یہ (کفار ملک شام کے سفر میں) اس بستی پر ہو کر گزرتے ہیں جس پر بری طرح پتھر برسائے گئے تھے (مراد قریہ قوم لوط کا ہے) سو کیا یہ لوگ اس کو دیکھتے نہیں رہتے ( پھر بھی عبرت نہیں پکڑتے کہ کفر و تکذیب کو چھوڑ دیں جس کی بدولت قوم لوط کو سزا ہوئی سو بات یہ ہے کہ عبرت نہ پکڑنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس قریہ کو دیکھتے نہ ہوں) بلکہ (اصل وجہ اس کی یہ ہے کہ) یہ لوگ مر کر جی اٹھنے کا احتمال ہی نہیں رکھتے (یعنی آخرت کے منکر ہیں اس لئے کفر کو موجب سزا ہی قرار نہیں دیتے اور اس لئے ان کی ہلاکت کو کفر کا وبال نہیں سمجھتے بلکہ امور اتفاقیہ میں سے سمجھتے ہیں یہ وجہ عبرت نہ پکڑنے کی ہے) اور جب یہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ سے تمسخر کرنے لگتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ کیا یہی (بزرگ) ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے (یعنی ایسا غریب آدمی رسول نہ ہونا چاہئے، اگر رسالت کوئی چیز ہے تو کوئی رئیس مالدار ہونا چاہئے تھا، پس یہ رسول نہیں البتہ) اس شخص ( کی جادو بیانی اس غضب کی ہے کہ اس) نے تو ہم کو ہمارے معبودوں سے ہٹا ہی دیا ہوتا اگر ہم ان پر (مضبوطی سے) قائم نہ رہتے ( یعنی ہم تو ہدایت پر ہیں اور یہ ہم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا تھا اللہ تعالیٰ ان کی تردید کے لئے فرماتے ہیں کہ یہ ظالم اب تو اپنے آپ کو ہدایت یافتہ اور ہمارے پیغمبر کو گمراہ بتلا رہے ہیں) اور (مرنے کے بعد) جلدی ہی ان کو معلوم ہوجاوے گا جب عذاب کا معائنہ کریں گے کہ کون شخص گمراہ تھا (آیا وہ خود یا نعوذ باللہ پیغمبر، اس میں ان کے بیہودہ اعتراض کے جواب کی طرف بھی اشارہ ہے کہ نبوت اور مالداری میں کوئی جوڑ نہیں مالدار نہ ہونے کے سبب نبوت سے انکار جہالت و گمراہی کے سوا کچھ نہیں۔ مگر دنیا میں جو چاہیں خیال پکا لیں مگر قیامت میں سب حقیقت کھل جاوے گی) اے پیغمبر آپ نے اس شخص کی حالت بھی دیکھی جس نے اپنا خدا اپنی خواہش نفسانی کو بنا رکھا ہے سو کیا آپ اس کی نگرانی کرسکتے ہیں یا آپ خیال کرتے ہیں کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں ( مطلب یہ کہ آپ ان کی ہدایت نہ ہونے سے مغموم نہ ہوجئے کیونکہ آپ ان پر مسلط نہیں کہ خواہی نخواہی ان کو راہ پر لاویں اور نہ ہدایت کی ان سے توقع کیجئے کیونکہ نہ یہ حق بات کو سنتے ہیں نہ عقل ہے کہ غور کریں) یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں (کہ وہ بات کو نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں) بلکہ یہ ان سے بھی زیادہ بےراہ ہیں ( کیونکہ وہ احکام دین کے مکلف نہیں تو ان کا نہ سمجھنا مذموم نہیں اور یہ مکلف ہیں پھر بھی نہیں سمجھتے، پھر یہ کہ وہ اگر معتقدان ضروریات دین کے نہیں ہیں منکر بھی تو نہیں اور نہ تو منکر ہیں اور رویت میں ان کی گمراہی کا منشاء بھی بیان کردیا کہ کسی شبہ و دلیل سے ان کو اشتباہ نہیں ہوا بلکہ اتباع ہویٰ اس کا سبب ہے۔ معارف و مسائل قوم نوح (علیہ السلام) کے متعلق یہ ارشاد کہ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا حالانکہ پہلے رسول نہ ان کے زمانے میں تھے نہ انہوں نے جھٹلایا، تو منشاء اس کا یہ ہے کہ انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور چونکہ اصول دین سب انبیاء کے مشترک ہیں اس لئے ایک کو جھٹلانا سبھی کے جھٹلانے کے حکم میں ہے۔ اَصْحٰبَ الرَّسِّ ، رس لغت میں کچے کنویں کو کہتے ہیں۔ قرآن کریم اور کسی صحیح حدیث میں ان لوگوں کے تفصیلی حالات مذکور نہیں۔ اسرائیلی روایات مختلف ہیں۔ راجح یہ ہے کہ قوم ثمود کے کچھ باقی ماندہ لوگ تھے جو کسی کنویں پر آباد تھے ( کذا فی القاموس والدر عن ابن عباس) ان کے عذاب کی کیفیت بھی قرآن میں منصوص اور کسی صحیح حدیث میں بھی مذکور نہیں (بیان القران)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰہُمْ وَجَعَلْنٰہُمْ لِلنَّاسِ اٰيَۃً ۭ وَاَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِيْنَ عَذَابًا اَلِـــيْمًا۝ ٣ ٧ ۖ نوح نوح اسم نبيّ ، والنَّوْح : مصدر ناح أي : صاح بعویل، يقال : ناحت الحمامة نَوْحاً وأصل النَّوْح : اجتماع النّساء في المَنَاحَة، وهو من التّناوح . أي : التّقابل، يقال : جبلان يتناوحان، وریحان يتناوحان، وهذه الرّيح نَيْحَة تلك . أي : مقابلتها، والنَّوَائِح : النّساء، والمَنُوح : المجلس . ( ن و ح ) نوح ۔ یہ ایک نبی کا نام ہے دراصل یہ ناح ینوح کا مصدر ہے جس کے معنی بلند آواز کے ساتھ گریہ کرنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ناحت الحمامۃ نوحا فاختہ کا نوحہ کرنا نوح کے اصل معنی عورتوں کے ماتم کدہ میں جمع ہونے کے ہیں اور یہ تناوح سے مشتق ہے جس کے معنی ثقابل کے ہیں جیسے بجلان متنا وحان دو متقابل پہاڑ ۔ ریحان یتنا وحان وہ متقابل ہوائیں ۔ النوائع نوحہ گر عورتیں ۔ المنوح ۔ مجلس گریہ ۔ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ غرق الغَرَقُ : الرّسوب في الماء وفي البلاء، وغَرِقَ فلان يَغْرَقُ غَرَقاً ، وأَغْرَقَهُ. قال تعالی: حَتَّى إِذا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ [يونس/ 90] ، ( غ ر ق ) الغرق پانی میں تہ نشین ہوجانا کسی مصیبت میں گرفتار ہوجانا ۔ غرق ( س) فلان یغرق غرق فلاں پانی میں ڈوب گیا ۔ قرآں میں ہے : حَتَّى إِذا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ [يونس/ 90] یہاں تک کہ جب اسے غرقابی نے آلیا ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ عد ( اعداد) والإِعْدادُ مِنَ العَدِّ كالإسقاء من السَّقْيِ ، فإذا قيل : أَعْدَدْتُ هذا لك، أي : جعلته بحیث تَعُدُّهُ وتتناوله بحسب حاجتک إليه . قال تعالی: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ، وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] ، وقوله : وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، قيل : هو منه، وقوله : فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ [ البقرة/ 184] ، أي : عدد ما قد فاته، وقوله : وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] ، أي : عِدَّةَ الشّهر، وقوله : أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] ، فإشارة إلى شهر رمضان . وقوله : وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] ، فهي ثلاثة أيّام بعد النّحر، والمعلومات عشر ذي الحجّة . وعند بعض الفقهاء : المَعْدُودَاتُ يومُ النّحر ويومان بعده «1» ، فعلی هذا يوم النّحر يكون من المَعْدُودَاتِ والمعلومات، والعِدَادُ : الوقت الذي يُعَدُّ لمعاودة الوجع، وقال عليه الصلاة والسلام :«ما زالت أكلة خيبر تُعَادُّنِي» «2» وعِدَّانُ الشیءِ : عهده وزمانه . ( ع د د ) العدد الاعداد تیار کرنا مہیا کرنا یہ عد سے ہے جیسے سقی سے اسقاء اور اعددت ھذا لک کے منعی ہیں کہ یہ چیز میں نے تمہارے لئے تیار کردی ہے کہ تم اسے شمار کرسکتے ہو اور جس قدر چاہو اس سے حسب ضرورت لے سکتے ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] اور جہاں تک ہوسکے ( فوج کی جمیعت سے ) ان کے ( مقابلے کے لئے مستعد رہو ۔ اور جو ) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں ۔ أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ایسے لوگوں کے لئے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] اور ہم نے جھٹلا نے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اعتدت بھی اسی ( عد ) سے ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] تم روزوں کا شمار پورا کرلو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تم ماہ رمضان کی گنتی پوری کرلو ۔ أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] گنتی کے چند روز میں ماہ رمضان کی طرف اشارہ ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] اور گنتی کے دنوں میں خدا کو یاد کرو ۔ میں سے عید قربان کے بعد کے تین دن مراد ہیں اور معلومات سے ذوالحجہ کے دس دن بعض فقہاء نے کہا ہے کہ ایام معدودۃ سے یوم النحر اور اس کے بعد کے دو دن مراد ہیں اس صورت میں یوم النحر بھی ان تین دنوں میں شامل ہوگا ۔ العداد اس مقرر وقت کو کہتے ہیں جس میں بیماری کا دورہ پڑتا ہو ۔ آنحضرت نے فرمایا مازالت امۃ خیبر تعادنی کہ خیبر کے دن جو مسموم کھانا میں نے کھایا تھا اس کی زہر بار بار عود کرتی رہی ہے عد ان الشئی کے معنی کسی چیز کے موسم یا زمانہ کے ہیں ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٧) اور قوم نوح (علیہ السلام) کو بھی ہم ہلاک کرچکے ہیں جب انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو طوفان سے غرق کردیا اور ہم نے ان کے واقعہ کو لوگوں کی عبرت کے لیے ایک نشان بنادیا تاکہ بعد میں آنے والے ان کی پیروی نہ کریں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَاَعْتَدْنَا للظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا ) ” یعنی پیغمبروں کی تکذیب کرنے والی ان قوموں کو عذاب استیصال کی صورت میں نقد سزا تو دنیا ہی میں مل گئی تھی مگر اصل عذاب ابھی ان کا منتظر ہے۔ یہ عذاب انہیں آخرت میں ملے گا اور وہ بیحد تکلیف دہ ہوگا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

50 They did not charge only Prophet Noah with imposture because he was a man, but, in fact, charged all the Prophets with imposture because they were aII human beings. 51 That is, a painful chastisement in the Hereafter.

سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :50 چونکہ انہوں نے سرے سے یہی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ بشر کبھی رسول بن کر آ سکتا ہے ، اس لیے ان کی تکذیب تنہا حضرت نوح کی تکذیب ہی نہ تھی بلکہ بجائے خود منصب نبوت کی تکذیب تھی ۔ سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :51 یعنی آخرت کا عذاب ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(25:37) قوم نوح۔ ای اذکر قوم نوح۔ اور قوم نوح کو یاد کرو۔ بعض کے نزدیک اس سے قبل دمرنا مضمر ہے۔ ای ودمرنا قوم نوح۔ ابوحیان کے نزدیک قوم نوح کا عطف دمرناہم کے مفعول پر ہے۔ اور یہ صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ قوم نوح کی ہلاکت فرعون اور اس کی تکذیب پر ترتب نہیں ہے اول الذکر (اذکر قوم نوح) ہی زیادہ صحیح ہے۔ لما۔ جب (کلمہ ظرف زمانی ہے) ۔ الرسل۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔ (1) اس سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں۔ ای رسولہم اپنے رسول (کی تکذیب کی) ومن کذب رسولا واحدا فقد کذب جمیع الرسل فلذا ذکرہ بلفظ الجمع۔ جس نے ایک رسول کی تکذیب کی اس نے جملہ رسولوں کی تکذیب کی (کیونکہ تمام کی تعلیم وہی توحید الٰہی تھی) اسی وجہ سے اس کو بلفظ جمع ذکر کیا گیا ہے۔ (2) اس سے مراد حضرت نوح اور ان کے ماقبل کے پیغمبران ہیں۔ (3) یا الرسل۔ جنس کے لئے ہے۔ یعنی وہ ہر رسول کے مخالف تھے۔ اور سلسلہ نبوت و رسالت کے منکر تھے۔ ایۃ۔ نشان (عبرت) ۔ اعتدنا۔ ماضی جمع متکلم اعتاد (افعال) سے ہم نے تیار کر رکھا ہے۔ للظلمین۔ ای للکفرین۔ مراد اس سے قوم مذکور ہے۔ عذابا الیما۔ موصوف وصفت۔ اعتدنا کے مفعول ہونے کی وجہ سے عذابا منصوب ہے اور الیما اپنے موصوف کی مطابقت ہوا۔ دردناک عذاب۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

8 ۔ چونکہ ایک پیغمبر کو جھٹلانا تمام پیغمبروں کو جھٹلاتا ہے۔ اس لئے ” کذبوا الرسل “ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قوم موسیٰ کی تباہی کے بعد قوم نوح کے انجام کا مختصر بیان۔ حضرت آدم اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان ہزاروں سال کا وقفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اس وقت نبوت سے سرفراز فرمایا جب ان کی قوم کے لوگ مجسموں کے پجاری بن چکے تھے۔ جس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ جب نوح (علیہ السلام) کی قوم کے نیک لوگ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی اولاد کے دل میں یہ خیال ڈالا کہ جہاں تمہارے بزرگ بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کے مجسمے تراش کر رکھ دیے جائیں تاکہ ان کا نام اور عقیدت باقی رہے۔ انھوں نے ایسا ہی کیا جب مجسمے رکھنے والے لوگ فوت ہوگئے تو ان کے بعد آنے والے لوگوں نے ان مجسموں کو اللہ تعالیٰ کی قربت کا وسیلہ بناناشروع کردیا اور پھر ان کی بالواسطہ عبادت اور ان کے حضور نذرانے پیش کیے جانے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ سورة نوح میں ودّ ، سواع، یغوث اور یعوق کے نام سے جن بتوں کا تذکرہ ہے وہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے صالح لوگوں کے نام ہیں۔ (بخاری : کتاب التفسیر) سورۃ العنکبوت آیت ١٤ میں بیان کیا گیا ہے کہ جناب نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال قوم کی اصلاح کرنے میں صرف فرمائے۔ سورة نوح : ٥۔ ٦ میں یہ وضاحت فرمائی گئی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ فریاد کی کہ میرے رب میں نے اپنی قوم کو رات اور دن انفرادی اور اجتماعی طور پر سمجھانے کی کوشش کی لیکن میری سر توڑ کوشش کے باوجود قوم شرک اور برائی میں آگے ہی بڑھتی جارہی ہے۔ قوم نہ صرف جرائم میں آگے بڑھتی گئی بلکہ الٹا انھوں نے نوح (علیہ السلام) کے خلاف گمراہ ہونے کا پراپیگنڈہ کرنے کے ساتھ بار بار مطالبہ کیا کہ اے نوح ! اگر تو واقعی اللہ کا سچا نبی ہے تو ہمارے لیے عبرت ناک عذاب کی بددعا کیجیے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے نہایت مجبور ہو کر ان کے لیے بد دعا کی ” اے میرے رب میں ان کے مقابلے میں بالکل بےبس اور مغلوب ہوچکا ہوں تو میری مدد فرما۔ “ (القمر : ١٠) حضرت نوح (علیہ السلام) نے بد دعا کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور یہ بھی درخواست کی کہ میرے رب اب زمین پر کافروں کا ایک شخص بھی نہیں بچنا چاہیے کیونکہ ان میں سے جو بھی پیدا ہوگا وہ برا اور کافر ہی ہوگا۔ ( نوح ٢٥ تا ٢٧) اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی بد دعا قبول کرتے ہوئے انھیں حکم دیا کہ آپ میرے سامنے ایک کشتی بنائیں۔ جب نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے تھے تو ان کی قوم نے ان کو بار بار تمسخر کا نشانہ بنایا۔ جس کے جواب میں نوح (علیہ السلام) انھیں یہی فرماتے کہ آج تم مجھے استہزاء کا نشانہ بنا رہے ہو لیکن کل تم ہمیشہ کے لیے مذاق اور عبرت کا نشان بن جاؤ گے۔ ( ھود : ٣٧ تا ٣٩) قوم نوح پر اللہ تعالیٰ نے پانی کا ایسا عذاب نازل فرمایا کہ جس کے بارے میں سورة القمر آیت ١١، ١٢ ا میں بیان ہوا ہے کہ آسمان کے دروازے کھل گئے زمین سے چشمے پھوٹ نکلے یہاں تک کہ تنور پھٹ پڑا۔ اس طرح نوح (علیہ السلام) کے نافرمان بیٹے سمیت ان کی قوم کو پانی میں ڈبکیاں دے دے کر ختم کردیا گیا۔ عذاب کی کیفیت : قوم نوح پر چالیس دن مسلسل دن رات بےانتہا بارش برستی رہی یہاں تک کہ جگہ جگہ زمین سے چشمے پھوٹ پڑے۔ حتٰی کہ تنور پھٹ پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے طوفان کے آغاز میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ اللہ کا نام لے کر کشتی میں سوار ہوجائیں اور اپنے ساتھ ہر جاندار کا جوڑا جوڑا یعنی نر اور مادہ دو دو کشتی میں اپنے ساتھ سوار کرلیں۔ البتہ کسی کافر اور مشرک کو کشتی میں سوار کرنے کی اجازت نہیں۔ (ہود : ٤٠ تا ٤٢) مفسرین نے لکھا ہے جس کی تائید موجودہ دور کے آثار قدیمہ کے ماہرین بھی کرتے ہیں کہ طوفان نوح نے فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیوں کو بھی ڈھانپ لیا تھا۔ بائبل میں لکھا ہے کہ سیلاب بلند ترین پہاڑوں کی چوٹیوں سے ١٥ فٹ اوپر بہہ رہا تھا۔ امام طبری سورة الحاقۃ آیت ١١ کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت ابن عباس (رض) کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ سیلاب اس قدر بےانتہا تھا کہ مشرق سے مغرب تک کوئی جاندار چیز باقی نہ رہی۔ مسائل ١۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال قوم کو سمجھایا لیکن قوم نے ان کی تکذیب کی۔ ١۔ قوم کے مطالبہ اور نوح (علیہ السلام) کی بد دعا کے نتیجہ میں ان کی قوم کو سیلاب کے ذریعہ تباہ کردیا گیا۔ ٣۔ مغضوب قوموں کی تاریخ لوگوں کے لیے عبرت کا نشان ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نے ظالموں کے لیے اذیّت ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ تفسیر بالقرآن حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے انجام کی ایک جھلک : ١۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم ظالم تھی۔ (النجم : ٥٢) ٢۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : ١٣٦) ٣۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو فرمایا آج کے دن اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں۔ (ہود : ٤٣) ٤۔ قوم نوح نے جب حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تو ہم نے انہیں غرق کردیا۔ (الفرقان : ٣٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(37) اور ہم نوح (علیہ السلام) کی قوم کو بھی ہلاک کرچکے ہیں جبکہ انہوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی اور رسولوں کو جھٹلا یا تو ہم نے ان کو سمندر کے طوفان میں غرق کردیا اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کو دوسرے لوگوں اور آئندہ نسلوں کے لئے ایک عبرت آموز نشان بنادیا اور ہم نے ان ظالموں کے لئے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ایک پیغمبر کو جھٹلانا ایسا ہے جیسے سب کو جھٹلانا کیوں کہ تمام انبیاء دین کے اصولوں میں ایک ہی ہیں۔