Surat ul Furqan

Surah: 25

Verse: 73

سورة الفرقان

وَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِّرُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ لَمۡ یَخِرُّوۡا عَلَیۡہَا صُمًّا وَّ عُمۡیَانًا ﴿۷۳﴾

And those who, when reminded of the verses of their Lord, do not fall upon them deaf and blind.

اور جب ان کے رب کے کلام کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ اندھے بہرے ہو کر ان پر نہیں گرتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And those who, when they are reminded of the Ayat of their Lord, fall not deaf and blind thereat. This is also a characteristic of the believers, الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ ءَايَـتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَـناً وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ Those who, when Allah is mentioned, feel a fear in their hearts and when His Ayat are recited unto them, they increase their faith; and they put their trust in their Lord. (8:2) Unlike the disbelievers. When they hear the Words of Allah, they are not affected by them or moved to change their ways. They persist in their disbelief, wrongdoing, ignorance and misguidance, as Allah says: وَإِذَا مَأ أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُمْ مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـذِهِ إِيمَـناً فَأَمَّا الَّذِينَ ءامَنُواْ فَزَادَتْهُمْ إِيمَـناً وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ وَأَمَّا الَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَى رِجْسِهِمْ And whenever there comes down a Surah, some of them say: "Which of you has had his faith increased by it!" As for those who believe, it has increased their faith, and they rejoice. But as for those in whose hearts is a disease, it will add doubt to their doubt. (9:124-125) ... لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا fall not deaf and blind thereat. means, unlike the disbelievers who, when they hear the Ayat of Allah, are not moved by them, but continue as they are, as if they did not hear them but are deaf and blind. His saying:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

731یعنی وہ ان سے اعراض و غفلت نہیں برتتے جیسے وہ بہرے ہوں کہ سنیں ہی نہیں یا اندھے ہوں کہ دیکھیں ہی نہیں۔ بلکہ وہ غور اور توجہ سے سنتے اور انھیں آویزہ گوش اور حرز جان بناتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٠] یعنی جب اللہ کے بندوں کو آیات الٰہی سے نصیحت اور یاددہانی کرائی جاتی ہے تو اس نصیحت سے ان کے دل پوری طرح اثر قبول کرتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں وہ اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔ بعض عقل پرست حضرات اس آیت کا مفہوم یہ لیتے ہیں کہ اللہ کے بندوں کو جب آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ بلا سوچے سمجھے ان پر نہیں گرے پڑتے۔ بلکہ اگر وہ آیات عقل کے مطابق ہوں تو تب انھیں قبول کرتے ہیں اور اس سے مزید نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ قرآن کا کوئی حکم ایسا نہیں جو عقل انسان کے مطابق نہ ہو۔ اس طرح وہ وحی الٰہی کو عقل کے تابع بنادیتے ہیں۔ یہ سلوک تو ان کا قرآن سے ہے اور جو سلوک ان کا احادیث نبویہ سے ہوسکتا ہے اس کا آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ حالانکہ دین میں جتنے بھی تعیدی امور ہیں وہ سب ایسے ہیں جن تک عقلی کی رسائی ممکن نہیں۔ مثلاً یہ کہ حدث یا ہوا نکلنے سے وضو کیوں ٹوٹ جاتا ہے اور صاف ستھرے اجزائے بدن کو از سر نو کیوں دھونا پڑتا ہے۔ یا مثلاً یہ کہ اگر ذبح کرتے وقت جانور پر اللہ کا نام نہ لیا جائے تو وہ حرام کیوں ہوجاتا ہے اور اس کے گوشت میں کیا تبدیلی واقع ہوتی ہے کہ اس کا کھانا حرام قرار دیا گیا ہے۔ اور ایسی مثالیں بیشمار ہیں۔ گویا اصل مفہوم کے لحاظ سے اس آیت کا مقصد اللہ کی آیات میں غور و فکر اور اثر پذیری ہے لیکن عقل پرستوں کے نزدیک اس آیت کا مقصد اللہ کے احکام کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنا ہے۔ اگر وہ پوری اترے تو اسے قبول کرلیا جائے ورنہ اس کی تاویل کر ڈالی جائے۔ [٩١] مکی دور میں مسلمانوں کی زندگی کچھ اس طرح گزر رہی تھی کہ اگر باپ مسلمان ہے تو اولاد کافر ہے اور اولاد مسلمان ہے تو والدین کافر ہیں۔ شوہر مسلمان ہے تو بیوی کافر ہے اور بیوی مسلمان ہے تو شوہر کافر ہے۔ یہ صورت حال بھی مسلمانوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کا باعث بنی ہوئی تھی۔ لہذا اللہ کے بندوں کی صفات میں سے ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی کہ وہ یہ بھی دعا کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے ازواج اور ہماری اولاد کو بھی ایمان کی دولت نصیب فرما تاکہ ہمارے اس قلق و الم کا تدارک ہوسکے۔ واضح رہے کہ جس طرح ہر عورت کے لئے اس کا خاوند زوج ہے اسی طرح ہر مرد کے لئے اس کی بیوی اس کا زوج ہے اور اولاد دونوں کی ہوتی ہے اس لحاظ سے یہ دعا ہر مسلمان مرد اور عورت سب کے لئے یکساں ہے۔ پھر یہ دعا صرف اس دور کے مسلمانوں سے ہی مخصوص نہیں۔ ہر دور میں اس کی ضرورت برقرار ہے۔ بیوی اور اولاد ایسے چیزیں ہیں۔ جن سے انسان کو فطرۃ محبت ہوتی ہے اور اس کے لئے آزمائش کا سبب بن جاتی ہے لہذا ہر مسلمان کو جس طرح اپنے حق میں دعائے خیر کرنا ضروری ہے۔ ویسے ہی ان کے حق میں بھی ضروری ہے کہ وہ اللہ کے نافرمان اور دین سے بیگانہ رہ کر اس کے لئے پریشانیوں کا سبب نہ بن جائیں۔ بلکہ اللہ کے فرمانبردار اور دین کے خادم بن کر اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہوں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَالَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ ۔۔ : ” بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے “ بلکہ وہ انھیں نہایت غور و فکر سے سنتے اور ان کا گہرا اثر قبول کرتے ہیں۔ اس میں کفار پر چوٹ ہے کہ وہ اپنے رب کی آیات سن کر ذرہ بھر متاثر نہیں ہوتے، بلکہ اپنے کفر پر سختی سے جمے رہتے ہیں۔ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے کفار کا یہی نقشہ کھینچا ہے، فرمایا : (وَاِنِّىْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْٓا اَصَابِعَهُمْ فِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَاَصَرُّوْا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا ) [ نوح : ٧ ] ” اور بیشک میں نے جب بھی انھیں دعوت دی، تاکہ تو انھیں معاف کردے، انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اور اڑ گئے اور تکبر کیا، بڑا تکبر کرنا۔ “ کفار کی اس حالت کے بیان کے لیے دیکھیے سورة حم السجدہ (٥، ٢٦) ۔ زمخشری نے فرمایا کہ اس کا معنی یہ نہیں کہ رحمٰن کے بندے آیات کے ساتھ نصیحت سن کر گرتے نہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اندھے بہرے ہو کر نہیں گرتے بلکہ سنتے اور دیکھتے ہوئے گرجاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ ) [ السجدۃ : ١٥ ] ” ہماری آیات پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب انھیں ان کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ “ اور فرمایا : (اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّبُكِيًّا) [ مریم : ٥٨ ] ” جب ان پر رحمٰن کی آیات پڑھی جاتی تھیں وہ سجدہ کرتے اور روتے ہوئے گرجاتے تھے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Twelveth Characteristic وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُ‌وا بِآيَاتِ رَ‌بِّهِمْ لَمْ يَخِرُّ‌وا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا And those who, when they are reminded of the verses of their Lord, do not fall at them as deaf and blind ones - 25:73 That is when the blessed servants of Allah are reminded of His verses and the Hereafter, they do not throw themselves upon them as if they were blind and dumb, but pay heed to them like sober and sensible persons, and act upon them. They do not behave like the ignorant or negligent persons as if they have not seen or listened i.e. not understood the message. Two things are mentioned in this verse. One, to fall at Divine revelation i.e. to listen them with full attention. This is a virtuous and commendable act. Second, to fall at the verses like deaf and dumb people which means to listen to the message but without any purpose or commitment and act in a manner that the real message has not been registered, and even if they follow the Qur&anic message it is not in line with the practices of the companions of the Prophet or their followers. Such people follow their own whims based on hearsay, which is as bad as not following the Divine message. Self-study of religious precepts is not enough but they need to be acted upon in the light of interpretation given by classic scholars As it is condemned in the verses under study that Divine message is ignored. It is also pointed out with equal emphasis that it is listened and acted upon without due diligence, that is without comprehending the intent and spirit of the precept and according to one&s own sweet will. Ibn Kathir has reported on the authority of Ibn ` Aun that he inquired from Hadrat Sha&bi رحمۃ اللہ علیہ that if he comes across a people who are in the state of sajdah (prostration), whether it is correct for him to join them in sajdah. Sha&bi (رح) replied in the negative explaining that it would not be correct for him to join in their prostration unless he finds out the purpose of that act. It is not proper for a believer to join in any action without knowing the purport of that act, rather he should seek to know the purpose behind an act before taking it up for himself. When one has not listened the verse of prostration, nor does he know the reason for their prostration it is not allowed for him to go in prostration. It is a matter of great satisfaction that there is a new tendency among the younger generation and modern educated people to study the Qur’ an but to achieve this purpose they often deem it enough to study the Qur’ an and try to understand it through the translations of the Qur&an on their own. This practice being against the correct principles of learning something, often makes them fall into misconceptions. It is a well-settled fact that education and knowledge cannot be imparted only through books unless guidance of a teacher is available for explaining the intricacies of the subject which normally go unnoticed by an ordinary reader. It is rather strange why people feel that this basic rule does not apply to Qur&an and its related subjects and try to indulge in interpreting the Holy Book according to their own wishes. This type of study and interpreting Qur&an on one&s own without the help and guidance of a well qualified teacher also falls under the purview of this verse i.e. |"they do not throw themselves upon as if they were blind and dumb|". May Allah lead us to the right path.

بارہویں صفت : وَالَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِـرُّوْا عَلَيْهَا صُمًّا وَّعُمْيَانًا یعنی ان مقبول بندوں کی یہ شان ہے کہ جب ان کو اللہ کی آیات اور آخرت کی یاد دلائی جاتی ہے تو وہ ان آیات کی طرف اندھے بہروں کی طرح متوجہ نہیں ہوتے بلکہ سمیع وبصیر انسان کی طرح ان میں غور کرتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ غافل اور مغفل لوگوں کی طرح ایسا معاملہ نہیں کرتے کہ انہوں نے سنا ہی نہیں یا دیکھا ہی نہیں۔ اس آیت میں دو چیزیں مذکور ہیں ایک آیات الہیہ پر گر پڑنا یعنی اہمتام کے ساتھ متوجہ ہونا یہ تو امر محمود و مقصود اور بہت بڑی نیکی ہے۔ دوسرے اندھے بہروں کی طرح گرنا کہ قرآن کی آیات پر توجہ تو دیں مگر یا تو اس پر عمل کرنے میں معاملہ ایسا کریں کہ گویا انہوں نے سنا اور دیکھا ہی نہیں اور یا آیات قرآن پر عمل بھی کریں مگر ان کو اصول صحیحہ اور تفسیر صحابہ وتابعین کے خلاف اپنی رائے یا سنی سنائی باتوں کے تابع کر کے غلط عمل کریں یہ بھی ایک طرح سے اندھے بہرے ہو کر گرنے کے حکم میں ہے۔ احکام دین کا صرف مطالعہ کافی نہیں بلکہ اسلاف کی تفسیر کے مطابق سمجھ کر عمل کرنا ضروری ہے : آیات مذکورہ میں جس طرح اس امر کی سخت مذمت ہے کہ آیات الہیہ کی طرف توجہ ہی نہ دیں، اندھے بہروں کا سا معاملہ کریں، اسی طرح اس کی بھی مذمت ہے کہ توجہ تو دیں اور عمل بھی کریں مگر بےسمجھے بےبصیرتی کے ساتھ اپنی رائے سے جس طرح چاہیں عمل کرنے لگیں۔ ابن کثیر نے ابن عون سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت شعبی سے پوچھا کہ اگر میں کسی مجلس میں پہنچوں جہاں لوگ سجدہ میں پڑے ہوں اور مجھے معلوم نہیں کہ کیسا سجدہ ہے تو کیا میں بھی ان کے ساتھ سجدہ میں شریک ہوجاؤں۔ حضرت شعبی نے فرمایا نہیں۔ مومن کے لئے یہ درست نہیں ہے کہ بےسمجھے کسی کام میں لگ جائے بلکہ اس پر لازم ہے کہ بصیرت کے ساتھ عمل کرے۔ جب تم نے وہ آیت سجدہ نہیں سنی جس کی بناء پر یہ لوگ سجدہ کر رہے ہیں اور تمہیں ان کے سجدہ کی حقیقت بھی معلوم نہیں تو اس طرح ان کے ساتھ سجدہ میں شریک ہونا جائز نہیں۔ اس زمانے میں یہ بات تو قابل شکر ہے کہ نوجوان اور نو تعلیم یافتہ طبقہ میں قرآن پڑھنے اور اس کے سمجھنے کی طرف کچھ توجہ پیدا ہوئی ہے اور اس کے تحت وہ بطور خود قرآن کا ترجمہ یا کسی کی تفسیر دیکھ کر قرآن کو خود سمجھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں مگر یہ کوشش بالکل بےاصول ہے۔ اس لئے قرآن کو صحیح سمجھنے کے بجائے بہت سے مغالطوں کے شکار ہوجاتے ہیں۔ اصول کی بات یہ ہے کہ دنیا کا کوئی معمولی سے معمولی فن بھی نری کتاب کے مطالعہ سے کسی کو معتدبہ نہیں حاصل ہوسکتا جب تک اس کو کسی استاد سے نہ پڑھے۔ معلوم نہیں قرآن اور علوم قرآن ہی کو کیوں ایسا سمجھ لیا گیا ہے کہ جس کا جی چاہے خود ترجمہ دیکھ کر جو چاہے اس کی مراد متعین کرلے۔ یہ بےاصول مطالعہ جس میں کسی ماہر استاد کی رہنمائی شامل نہ ہو یہ بھی آیات الہیہ پر اندھے بہرے ہو کر گرنے کے مفہوم میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم کی توفیق بخشیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ يَخِـرُّوْا عَلَيْہَا صُمًّا وَّعُمْيَانًا۝ ٧٣ ذكر ( نصیحت) وذَكَّرْتُهُ كذا، قال تعالی: وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] ، وقوله : فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] ، قيل : معناه تعید ذكره، وقد قيل : تجعلها ذکرا في الحکم «1» . قال بعض العلماء «2» في الفرق بين قوله : فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] ، وبین قوله : اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] : إنّ قوله : فَاذْكُرُونِي مخاطبة لأصحاب النبي صلّى اللہ عليه وسلم الذین حصل لهم فضل قوّة بمعرفته تعالی، فأمرهم بأن يذكروه بغیر واسطة، وقوله تعالی: اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ مخاطبة لبني إسرائيل الذین لم يعرفوا اللہ إلّا بآلائه، فأمرهم أن يتبصّروا نعمته، فيتوصّلوا بها إلى معرفته . الذکریٰ ۔ کثرت سے ذکر الہی کرنا اس میں ، الذکر ، ، سے زیادہ مبالغہ ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ذَكَّرْتُهُ كذا قرآن میں ہے :۔ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یاد دلاؤ ۔ اور آیت کریمہ ؛فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] تو دوسری اسے یاد دلا دے گی ۔ کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اسے دوبارہ یاد دلاوے ۔ اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں وہ حکم لگانے میں دوسری کو ذکر بنادے گی ۔ بعض علماء نے آیت کریمہ ؛۔ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] سو تم مجھے یاد کیا کر میں تمہیں یاد کروں گا ۔ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] اور میری وہ احسان یاد کرو ۔ میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ کے مخاطب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہیں جنہیں معرفت الہی میں فوقیت حاصل تھی اس لئے انہیں براہ راست اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور دوسری آیت کے مخاطب بنی اسرائیل ہیں جو اللہ تعالیٰ کو اس نے انعامات کے ذریعہ سے پہچانتے تھے ۔ اس بنا پر انہیں حکم ہوا کہ انعامات الہی میں غور فکر کرتے رہو حتی کہ اس ذریعہ سے تم کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوجائے ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ خر فَكَأَنَّما خَرَّ مِنَ السَّماءِ [ الحج/ 31] ، وقال تعالی: فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ [ سبأ/ 14] ، وقال تعالی: فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ [ النحل/ 26] ، فمعنی خَرَّ سقط سقوطا يسمع منه خریر، والخَرِير يقال لصوت الماء والرّيح وغیر ذلک ممّا يسقط من علوّ. وقوله تعالی: خَرُّوا سُجَّداً [ السجدة/ 15] ( خ ر ر ) خر ( ن ) خر یر ا کے معنی کسی چیز کے آواز کے ساتھ نیچے گرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَكَأَنَّما خَرَّ مِنَ السَّماءِ [ الحج/ 31] جب عصا گر پرا تب جنوں کو معلوم ہوا ۔ تو وہ گویا ایسا ہے جیسے آسمان سے گر پڑے ۔ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ [ النحل/ 26] اور چھت ان پر ان کے اوپر سے گر پڑی الخریر پانی وغیرہ کی آواز کو کہتے ہیں جو اوپر سے گر رہاہو اور آیت کریمہ : ۔ خَرُّوا سُجَّداً [ السجدة/ 15] تو سجدے میں گر پڑتے میں خرو ا کا لفظ دو معنوں پر دلالت کرتا ہے یعنی ( 1) گرنا اور ( 2 ) ان سے تسبیح کی آواز کا آنا ۔ اور اس کے بعد آیت سے تنبیہ کی ہے کہ ان کا سجدہ ریز ہونا اللہ تعالیٰ کی تسبیح کے ساتھ تھا نہ کہ کسی اور امر کے ساتھ ۔ صمم الصَّمَمُ : فقدانُ حاسّة السّمع، وبه يوصف من لا يُصغِي إلى الحقّ ولا يقبله . قال تعالی: صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] ، ( ص م م ) الصمم کے معنی حاصہ سماعت ضائع ہوجانا کے ہیں ( مجاز) اس کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوتا ہے جو نہ تو حق کی آواز سنے اور نہ ہی اسے قبول کرے ( بلکہ اپنی مرضی کرتا چلا جائے ) قرآن میں ہے : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں ۔ عمی العَمَى يقال في افتقاد البصر والبصیرة، ويقال في الأوّل : أَعْمَى، وفي الثاني : أَعْمَى وعَمٍ ، وعلی الأوّل قوله : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] ، وعلی الثاني ما ورد من ذمّ العَمَى في القرآن نحو قوله : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] ( ع م ی ) العمی ٰ یہ بصارت اور بصیرت دونوں قسم اندھے پن کے لئے بولا جاتا ہے لیکن جو شخص بصارت کا اندھا ہو اس کے لئے صرف اعمیٰ اور جو بصیرت کا اندھا ہو اس کے لئے اعمیٰ وعم دونوں کا استعمال ہوتا ہے اور آیت کریمہ : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] کہ ان کے پاس ایک نا بینا آیا ۔ میں الاعمیٰ سے مراد بصارت کا اندھا ہے مگر جہاں کہیں قرآن نے العمیٰ کی مذمت کی ہے وہاں دوسرے معنی یعنی بصیرت کا اندھا پن مراد لیا ہے جیسے فرمایا : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] یہ بہرے گونگے ہیں اندھے ہیں ۔ فَعَمُوا وَصَمُّوا[ المائدة/ 71] تو وہ اندھے اور بہرے ہوگئے ۔ بلکہ بصٰیرت کے اندھا پن کے مقابلہ میں بصارت کا اندھا پن ۔ قرآن کی نظر میں اندھا پن ہی نہیں ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٣) اور وہ ایسے ہیں کہ جس وقت ان کو اللہ کے احکام کے ذریعے سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ احکام خداوندی پر بہرے ہو کر اور اندھے ہو کر اس پر نہیں گرتے بلکہ ان کو سنتے اور دیکھتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٣ (وَالَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْہَا صُمًّا وَّعُمْیَانًا ) ” اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ ایسے لوگ جب قرآنی آیات کو پڑھتے یا سنتے ہیں تو ان کا رویہ اندھوں یا بہروں جیسا نہیں ہوتا ‘ بلکہ وہ ان پر غور و فکر اور تدبر کرتے ہیں۔ اور دوسرا مفہوم یہ کہ وہ قریش مکہّ کی طرح اندھے اور بہرے بن کر اللہ کی آیات کی مخالفت پر کمر نہیں کس لیتے۔ اس مفہوم میں اس آیت کا انداز طنزیہ ہوگا کہ جو رویہ مشرکین مکہّ نے کلام اللہ کے ساتھ اپنا رکھا ہے ‘ اللہ کے نیک بندوں کا ایسا رویہ نہیں ہوتا۔ سورة محمد میں کفار کے اس رویے کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے : (اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا ) ” کیا یہ لوگ قرآن میں تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑگئے ہیں ؟ “ بہر حال ” عبادالرحمن “ کے مقام و مرتبہ سے یہ بات فروتر ہے کہ وہ قرآن کو اندھے اور بہرے ہو کر مانیں یا پڑھیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

91 The true servants of Allah do not behave like the blind and the deaf towards the Revelations of Allah, when they are recited to them for their admonition. They do not turn a deaf ear to their teachings and Message and do not deliberately close their eyes to the Signs that they are asked to observe, but are deeply moved by them. They follow and practise what they are enjoined and retrain from what is forbidden.

سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :91 اصل میں الفاظ ہیں لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیھَا صُمّاً وَّ عَمْیَاناً ، جن کا لفظی ترجمہ یہ ہے : وہ ان پر اندھے بہرے بن کر نہیں گرتے ۔ لیکن یہاں گرنے کا لفظ اپنے لغوی معنی کے لیے نہیں بلکہ محاورے کے طور پر استعمال ہوا ہے ۔ جیسے ہم اردو میں کہتے ہیں جہاد کا حکم سن کر بیٹھے رہ گئے ۔ اس میں بیٹھنے کا لفظ اپنے لغوی معنی میں نہیں بلکہ جہاد کے لیے شرکت نہ کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے لوگ نہیں ہیں جو اللہ کی آیات سن کر ٹس سے مس نہ ہوں ، بلکہ وہ ان کا گہرا اثر قبول کرتے ہیں ۔ جو ہدایت ان آیات میں آئی ہو اس کی پیروی کرتے ہیں ، جس چیز کو فرض قرار دیا گیا ہو اسے بجا لاتے ہیں ، جس چیز کی مذمت بیان کی گئی ہو اس سے رک جاتے ہیں ، اور جس عذاب سے ڈرایا گیا ہو اس کے تصور سے کانپ اٹھتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

28: یہ منافقین پر طنز ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں سن کر وہ بظاہر تو بڑے اشتیاق کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ان کے آگے گرے اور جھکے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن حقیقت میں انہوں نے حق بات کے لیے اپنے کان بند کیے ہوتے ہیں، اور آنکھیں اندھی بنائی ہوتی ہیں اس لیے ان آیتوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ان آیتوں کا شوق سے استقبال کرتے ہیں تو ان کے مضامین کو توجہ سے سنتے بھی ہیں، اور جن حقائق کی طرف وہ توجہ دلاتی ہیں، انہیں کھلی آنکھوں سمجھنے اور محسوس کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

12 ۔ بلکہ وہ انہیں نہایت غور و فکر سے سنتے اور ان سے متاثر ہوتے ہیں بخلاف کافروں کے جو انہیں سن کر ذرہ بھر متاثر نہیں ہوتے بلکہ اپنے کفر پر سختی سے جمے رہتے ہیں۔ علامہ ابن جریر (رح) لکھتے ہیں کہ اس آیت میں ” گرنے “ کا لفظ اپنے لغوی معنی میں نہیں بلکہ محاورے کے طور پر استعمال ہوا ہے جیسے کہا جاتا ہے ” قعدیب کی “ اس کے لفظی معنی تو یہ ہیں ” وہ روتے ہوئے بیٹھ گیا۔ لیکن مطلب یہ ہے کہ ” وہ روتا رہ گیا۔ “ اسی طرح اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ” وہ اللہ کی آیتوں کو سن کر گونگے بہرے بنے نہیں بیٹھ رہتے بلکہ ان کا گہرا اثر قبول کرتے ہیں اور جس چیز کا ان میں حکم دیا جاتا ہے اس کی پیروی کرتے ہیں۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : عباد الرّحمن صرف عقیدہ، اخلاق، معاملات اور کردار کے اعتبار سے نیک نہیں ہوتے بلکہ وہ فہم و فراست میں بھی لوگوں سے آگے ہوتے ہیں۔ مفسرین نے اس آیت کا شان نزول یوں بیان فرمایا ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَرَأَ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) النَّجْمَ بِمَکَّۃَ فَسَجَدَ فیہَا، وَسَجَدَ مَنْ مَعَہُ ، غَیْرَ شَیْخٍ أَخَذَ کَفًّا مِنْ حَصًی أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَہُ إِلَی جَبْہَتِہِ وَقَالَ یَکْفِینِی ہَذَا فَرَأَیْتُہُ بَعْدَ ذَلِکَ قُتِلَ کَافِرًا) [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی سُجُودِ الْقُرْآنِ وَسُنَّتِہَا ] حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة نجم کی تلاوت کرتے ہوئے سجدہ کیا۔ جو لوگ اس وقت موجود تھے وہ بھی سجدہ ریز ہوگئے قریش کے ایک بوڑھے آدمی کے اس نے زمین سے کنکریاں یا مٹی اٹھا کر اپنے ماتھے پر لگاتے ہوئے کہا کہ بس میرا یہی سجدہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان فرماتے ہیں کہ میں نے اسے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں قتل ہوا۔ امام بخاری نے اس کا نام امیہ بن خلف لکھا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور بات منوانے کے لیے جبر کا وطیرہ اختیار نہیں کیا۔ جبر اختیار کرنے کی بجائے دلائل کے ساتھ انسان کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ انسان کے سامنے نہ صرف اپنی ذات اور احکام کے بارے میں دلائل دیے ہیں بلکہ بار بار دلائل پر فکر و تدبر کرنے کی دعوت دی ہے اور ان بندوں کی تعریف کی ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور قدرتوں پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اسی بناء پر عباد الرّحمن کی یہ خوبی بیان کی جارہی ہے کہ جب ان کے سامنے ان کے رب کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ بہرے اور گونگے بن کر نہیں گرتے۔ بلکہ اپنے رب کے احکام پوری توجہ سے سنتے ہیں اور ” عَلٰی وَجْہِ الْبَصِیْرۃ “ ان پر عمل کرتے ہیں۔ یاد رہے تدبر کے بغیر انسان میں دین کی فہم اور اس پر عمل کرنے کی تحریک پیدا نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اس کے احکام اور قدرتوں پر غور کرنے سے انسان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

والذین ……وعمیاناً (٧٣) اس آیت میں مشرکین مکہ پر ایک لطیف طنز بھی ہے کہ وہ اندھے اور بہرے ہو کر اپنے بوتوں کی عبادت میں لگے ہوئے تھے اور احمقانہ اور باطل عقائد کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے۔ نہ وہ کوئی عقل کی بات سننا چاہتے تھے اور نہ کھلے حقائق کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ نہ وہ کھلی روشنی کو دیکھتے تھے اور نہ سیدھی راہ کو دیکھتے ہوئے اس پر چلتے تھے۔ اوندھے منہ اندھا اور بہرا ہو کر چلنا ، بغیر سوچے سمجھے اور عقل و تدبر کرتے ہوئے چلنا۔ یہ محاورہ ایک ایسی حالت کی تصویر کشی کرتا ہے جس سے غفلت اور کم عقلی کی انتہائی حالت کا اظہار ہوتا ہے ، جس میں کوئی غور و تدبر نہ ہو۔ رہے اللہ کے بندے اور رحمن کے بندے تو وہ ہر معاملے کو نہایت سوچ اور سجھ کے ساتھ طے کرتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ان عقائد میں سچائی کیا ہے۔ وہ اس بات کو پاتے ہیں کہ فلاں فلاں دلائل و شواہد سچائی کو ثابت کرتے ہیں۔ ان کا ایمان علی وجہ البصیرت ہوتا ہے۔ اس لئے وہ جاہلوں کی طرح کسی بات پر اونددھے ہو کر نہیں کرتے۔ ان کا ایمان علی وجہ البصیرت ہوتا ہے۔ اس لئے وہ جاہلوں کی طرح کسی بات پر اوندھے ہو کر نہیں گرتے۔ ان کے اندر اگر اپنے عقائد کے بارے میں جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ تو وہ علی وجہ البصیرت پایا جاتا ہے۔ علی وجہ الجہالت نہیں پایا جاتا ۔ وہ عارف ذی بصیرت ہوتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

عباد الرحمن کی بارھویں صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَالَّذِیْنَ اِِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوا عَلَیْہَا صُمًّا وَّعُمْیَانًا) یعنی ان بندوں کی شان یہ ہے کہ جب انہیں ان کے رب کی آیات کے ذریعہ تذکیر کی جاتی ہے یعنی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور ان کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو ان پر گونگے بہرے ہو کر نہیں گرپڑتے۔ مطلب یہ ہے کہ ان آیات پر اچھی طرح متوجہ ہوتے ہیں ان کے سمجھنے اور تقاضے جاننے کے لیے سمع و بصر کو استعمال کرتے ہیں ایسا طرز استعمال نہیں کرتے جیسے سنا ہی نہیں اور دیکھا ہی نہیں۔ اس سے معلوم ہوا قرآن کے معاصی اور مفاھیم کو اچھی طرح سمجھا جائے اور ان کے تقاضوں پر پوری طرح عمل کیا جائے یہی اہل ایمان کی شان ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

47:۔ ” والذین اذا الخ “ یہ ساتویں صفت ہے۔ جب ان کے پاس اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان میں غور و فکر کرتے اور ان کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور بےسوچے سمجھے اندھا دھند نہیں گرے پڑتے یعنی اگر آیتیں سن کر شدت خوف یا فرط مسرت سے سجدے میں گر جاتے ہیں تو ان کے مفہوم و مطلب کو سمجھ کر ایسا کرتے ہیں۔ منافقوں کی طرح جھوٹے تاثر کو ظاہر کرنے کے لیے تکلف اور تصنع سے ایسا نہیں کرتے یعنی انھم اذا ذکروا بھا خرو سجدا و ب کیا سامعین باذان واعیۃ مبصرین بعیون راعیۃ لما امروا بہ و نھوا عنہ لا کالمنافقین واشباھھم (مدارک ج 3 ص 135) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(73) اور نیز وہ ایسے ہیں کہ جب ان کو ان کے پروردگار کے کلام کی آیتیں سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ ا ن پر بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گرتے یعنی جس طرح کافر اور دین حق کے منکر کلام الٰہی سن کر غل مچاتے اور ہجوم کرتے ہیں عباد الرحمان کا یہ طریقہ نہیں ہے بلکہ کلام الٰہی کو توجہ کے ساتھ سنتے اور قبول کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دھیان سے سنیں 12