Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 103

سورة الشعراء

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَ مَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۰۳﴾

Indeed in that is a sign, but most of them were not to be believers.

یہ ماجرہ یقیناً ایک زبردست نشانی ہے ان میں اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers. meaning, in the dispute of Ibrahim with his people and his proof of Tawhid there is a sign, i.e., clear evidence that there is no God but Allah. ... وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّوْمِنِينَ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

1031یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بتوں کے بارے میں اپنی قوم سے مناظرہ اللہ کی توحید کے دلائل، یہ اس بات کی واضح نشانی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ 1032بعض نے اس مرجع مشرکین مکہ یعنی قریش کو قرار دیا ہے یعنی ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٠] یعنی حضرت ابراہیم کے واقعات زندگی میں نشانی یہ ہے کہ شرک کے خلاف جہاد میں ان کے باپ اور ان کی قوم نے ان کو جس قدر تکلیفیں پہنچائیں۔ اللہ نہ انھیں اتنا ہی اعزاز بخشا۔ اسے تمام لوگوں کا امام اور پشیوا بنادیا۔ سب مذاہب کے لوگ ان کا انتہائی عزت و احترام کرتے ہیں اور انھیں اپنا روحانی پیشوا تسلیم کرتے ہیں۔ رہتی دنیا تک لوگ ان کا ذکر خیر کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہر اس مصیبت سے نجات بخشی جس میں ان کی قوم نے انھیں ڈالا۔ اور ان کے مقابلہ میں ان مشرکوں کو ہر ہر مقام پر ذلیل و رسوا کیا۔ یہ سب دیکھنے اور جاننے کے بعد بھی کم ہی لوگ ہیں جو ایمان لا کر شرک سے کلیتاً دستبردار ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم شرک کی ہر قسم کے بیزار رہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً ۭ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ۔۔ : یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کے اپنی قوم کو دعوت کے ان واقعات میں بہت بڑی نشانی ہے، اس کے باوجود ان کے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ ہوئے۔ اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی بھی ہے کہ جب خلیل اللہ کی بیحد کوشش و محنت کے باوجود اکثر لوگ ایمان نہ لائے، تو آپ ان کے ایمان نہ لانے پر غمگین کیوں ہوتے ہیں۔ ایک معنی اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان قریش میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں، سو آپ ان کے ایمان نہ لانے پر غمگین نہ ہوں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَۃً۝ ٠ۭ وَمَا كَانَ اَكْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝ ١٠٣ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٣) یہ جو ان کی حالت بیان کی گئی اس میں بڑی عبرت ہے، اور اگر ان کو دنیا میں پھر واپس کردیا جائے تو ان میں اکثر ایمان نہیں لائیں گے یا یہ کہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے اور یہ سب کے سب کفار ہی تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

73 There are two aspects of the Sign in the story of Prophet Abraham: (I) On the one hand, the mushriks of Arabia, especially the Quraish, claimed that they were the followers of Prophet Abraham and were proud of being his descendents, but on the other, they were involved in shirk against which Prophet Abraham had been engaged in a relentless struggle throughout his life. Then these people were opposing and treating the Prophet who was inviting them towards the religion brought by Prophet Abraham in the like manner as Prophet Abraham himself had been opposed and treated by his people. They have been reminded that Abraham was an enemy of shirk and an upholder of Tauhid which they themselves admitted, and yet they persisted in their obduracy to follow the creed of shirk. (2) The people of Abraham were eliminated from the world: 'if any of them survived, it was the children of Prophet Abraham and his sons, Ishmael and Isaac (thay Allah's peace be upon them). Though the Qur'an dces not mention the torment that descended on Abraham's people after he had left them, it has included them among the tormented tribes: "Has not the story reached them of those who had gone before them: the people of Noah, the tribes of `Ad and Thamud, the people of Abraham, and the inhabitants of Midian and of the overturned cities ?" (AtTaubah: 70).

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :73 حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس قصے میں نشانی کے دو پہلو ہیں ۔ ایک یہ کہ مشرکین عرب اور بالخصوص قریش کے لوگ ایک طرف تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کا دعویٰ اور ان کے ساتھ انتساب پر فخر کرتے ہیں مگر دوسری طرف اسی شرک میں مبتلا ہیں جس کے خلاف جدو جہد کرتے ان کی عمر بیت گئی تھی ، اور ان کے لائے ہوئے دین کی دعوت آج جو نبی پیش کر رہا ہے اس کے خلاف ٹھیک وہی کچھ کر رہے ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم نے ان کے ساتھ کیا تھا ۔ ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تو شرک کے دشمن اور دعوت توحید کے علم بردار تھے ، تم خود بھی جانتے اور مانتے ہو کہ حضرت ممدوح مشرک نہ تھے ، مگر پھر بھی تم اپنی ضد پر قائم ہو ۔ دوسرا پہلو اس قصہ میں نشانی کا یہ ہے کہ قوم ابراہیم علیہ السلام دنیا سے مٹ گئی اور ایسی مٹی کہ اس کا نام و نشان تک باقی نہ رہا ، اس میں سے اگر کسی کو بقا نصیب ہوا تو صرف ابراہیم علیہ السلام اور ان کے مبارک فرزندوں ( اسماعیل علیہ السلام و اسحاق علیہ السلام ) کی اولاد ہی کو نصیب ہوا ۔ قرآن میں اگرچہ اس عذاب کا ذکر نہیں کیا گیا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نکل جانے کے بعد ان کی قوم پر آیا ، لیکن اس کا شمار معذب قوموں ہی میں کیا گیا ہے ، : اَلَمْ یَاْتِھِمْ نَبَاءُ الَّذِیْنَ مِنْ قَٓبْلِھِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ قَوْمِ اِبْرٰھِیْمَ وَاَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْ تَفِکٰتِ ( التوبہ ۔ آیت 70 ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:102) ذلک کا اشارہ ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مذکورہ بالا قصے اور آخرت کے دن کا نقشہ جو اوپر بیان ہوا ہے۔ اس کی طرف ہے۔ لایۃ۔ نشانی (عبرت کی یا اس کی توحید اور قدرت کی) لام تاکید کے لئے ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

11 ۔ یعنی غور کرنے والوں کے لئے سامان عبرت ہے۔ 12 ۔ یا ” ان قریش میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔ “ زیادہ صحیح مطلب یہی دوسرا ہے کیونکہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی قوم لے لوگ تو سب کے سب کافر و مشرک تھے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان فی ……الرحیم (١٠٤) یہ وہی تبصرہ ہے جو اس سورت میں قوم عاد ، قوم ثمود اور قوم لوط کی تباہی کے واقعات کے بیان کے بعد آیا ہے۔ نیز یہ تبصرہ ان تمام معجزات کے بعد بھی آیا ہے۔ جو جھٹلانے والوں کو دکھائے گئے۔ قیامت کے مناظر میں سے یہ منظر ان مکذبین کے مناظر عبرت کے بالمقابل آیا ہے۔ جن کا تذکرہ اس سورت میں آیا ہے اور جن کو اس جہاں میں نیست و نابود کیا گیا ۔ یہاں قوم ابراہیم اور ان مشرک اقوام کے انجام کی تصویر کشی کی گئی تھی اور اس سورت کے تمام قصص سے یہی سبق دینا مطلوب ہے۔ قرآن کریم میں قیامت کے مناظر اسی طرح پیش کئے جاتے ہیں جس طرح گویا یہ افعال ہمارے سامنے واقع ہو رہے ہیں۔ ہمیں نظر آ رے ہیں۔ اس انداز بیان سے وہ انسانی شعور کا جزء بن جاتے ہیں۔ انسانی وجدان جاگ اٹھتا ہے جس طرح تاریخ میں انسانوں نے دیکھا کہ مکذبین کو مختلف عذابوں میں مبتلا کر کے نیست و نابود کیا گیا اور لوگ دیکھتے ہی رہے۔ اسی طرح قیامت کے مناظر ہوں گے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(103) بیشک اس واقعہ ابراہیمی میں بڑی عبرت و موعظمت ہے اور باوجود اس کے ان میں کے اکثر منکر ایمان نہیں لاتے۔