Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 129

سورة الشعراء

وَ تَتَّخِذُوۡنَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴿۱۲۹﴾ۚ

And take for yourselves palaces and fortresses that you might abide eternally?

اور بڑی صنعت والے ( مضبوط محل تعمیر ) کر رہے ہو گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Do you build on every Ri` an Ayah for your amusement! The scholars of Tafsir differed over the meaning of the word Ri`. In brief, they said that it refers to an elevated location at a well-known crossroads, where they would build a huge, dazzling, sturdy structure, this is why he said: أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ايَةً (Do you build on every Ri` an Ayah) i.e., a well-known landmark, تَعْبَثُونَ (for your amusement), meaning, `you are only doing that for the purpose of frivolity, not because you need it, but for fun and to show off your strength.' So their Prophet, peace be upon him, denounced them for doing that, because it was a waste of time and exhausted people's bodies for no purpose, and kept them busy with something that was of no benefit in this world or the next. He said: وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

1291اسی طرح وہ بڑی مضبوط اور عالی شان رہائشی عمارتیں تعمیر کرتے تھے، جیسے وہ ہمیشہ انہی محلات میں رہیں گے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ ۔۔ :” مَصَانِعَ “ ” مَصْنَعٌ“ یا ” مَصْنَعَۃٌ“ کی جمع ہے۔ مختار الصحاح اور قاموس میں اس کا معنی بڑے بڑے قلعے، مضبوط محلات اور زمین دوز نہریں لکھا ہے۔ راغب لکھتے ہیں کہ ” صَنْعٌ“ کا معنی کوئی کام عمدہ طریقے سے کرنا ہے۔ عالی شان جگہوں کو ” مَصَانِعَ “ کہا گیا ہے۔ ” لَعَلَّكُمْ “ ” لَعَلَّ “ کا معنی ہے ” امید ہے، شاید “ یہاں یہ ” کَأَنَّ “ کا مفہوم ادا کر رہا ہے ” گویا، جیسے۔ “ یہ ان کا دوسرا کام ہے جس پر ہود (علیہ السلام) نے انکار کا اظہار فرمایا، اس سے ان کی ہمیشہ زندہ رہنے کی حرص اور لمبی امید کا اظہار ہوتا تھا۔ یعنی تمہاری دوسری قسم کی تعمیرات ایسی ہیں جو اگرچہ استعمال کے لیے ہیں مگر انھیں شاندار، مزین اور مستحکم بنانے کے لیے تم اپنی دولت، محنت اور قابلیت اس طرح صرف کرتے ہو جیسے تمہیں ہمیشہ یہیں رہنا ہے، اس کے سوا تمہیں کسی اور زندگی کی فکر ہی نہیں۔ ابن کثیر نے ابن ابی حاتم سے نقل فرمایا ہے کہ ابوالدرداء (رض) نے ” غوطہ “ میں مسلمانوں کی بنائی ہوئی عمارتیں اور شجر کاری دیکھی تو ان کی مسجد میں جا کر آواز دی : ” اے دمشق والو ! “ وہ ان کے پاس جمع ہوگئے، تو انھوں نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا : ” کیا تم حیا نہیں کرتے ؟ کیا تم حیا نہیں کرتے ؟ تم وہ کچھ جمع کر رہے ہو جو کھاتے نہیں اور وہ عمارتیں بنا رہے ہو جن میں رہتے نہیں اور اس کی امید کرتے ہو جو کبھی حاصل نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم سے پہلے کئی صدیاں گزریں، وہ لوگ جمع کرتے تھے، پھر اس کی حفاظت کرتے تھے، عمارتیں بناتے تھے اور بہت مضبوط بناتے تھے، امیدیں باندھتے تھے اور بہت لمبی باندھتے تھے، پھر ان کی امید دھوکا نکلی اور ان کی جماعت ہلاک ہوگئی اور ان کی رہائش گاہیں قبریں بن گئیں۔ یاد رکھو ! قوم عاد عدن سے عمان تک گھوڑوں اور اونٹوں کے مالک تھے، اب کون ہے جو مجھ سے ان کی میراث دو درہم میں خرید لے ؟ “ دکتور حکمت بن بشیر نے فرمایا، اس کی سند حسن ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ۝ ١٢٩ ۚ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ صنع الصُّنْعُ : إجادةُ الفعل، فكلّ صُنْعٍ فِعْلٌ ، ولیس کلّ فعل صُنْعاً ، ولا ينسب إلى الحیوانات والجمادات کما ينسب إليها الفعل . قال تعالی: صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ [ سورة النمل/ 88] ، وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ [هود/ 38] ، ( ص ن ع ) الصنع ( ف) کے معنی کسی کام کو ( کمال مہارت سے ) اچھی طرح کرنے کے ہیں اس لئے ہر صنع کو فعل کہہ سکتے ہیں مگر ہر فعل کو صنع نہیں کہہ سکتے اور نہ ہی لفظ فعل کی طرح حیوانات اور جمادات کے لئے بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ [ سورة النمل/ 88] یہ خدا کی صنعت کاری ہے جس نے ہر چیز کو نہایت مہارت سے محکم طور پر بنایا ۔ وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ [هود/ 38] تو نوح (علیہ السلام) نے کشتی بنائی شروع کردی ۔ لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔ خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام چیزیں اپنی اپنی اصلی حالت پر قائم رہیں گی اور ان میں تغیر پیدا نہیں ہوگا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] یہی صاحب جنت میں ہمشہ اسمیں رہیں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٩) اور بڑی بڑی منزلیں محلات اور حوض بناتے ہو جیسا کہ دنیا میں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے اور یہاں کوئی بھی ہمیشہ نہیں رہے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢٩ (وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُوْنَ ) ” ایسی یادگاریں اور ایسے محلات تو بعد میں بھی قائم رہتے ہیں مگر انہیں بنانے والے باقی نہیں رہتے۔ جیسے غرناطہ اور قرطبہ کے محلاتّ تو اب بھی موجود ہیں مگر ان کے مکینوں کا آج کہیں نام و نشان نہیں۔ بہر حال ان محلات کو تعمیر کروانے والوں نے تو انہیں ایسے ہی بنایا تھا جیسے انہیں ہمیشہ ان میں رہنا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

91 That is, ,"Though you have built other buildings also for dwelling purposes, in order to make them grand, beautiful and strong, you expend your wealth and mental and physical abilities in a manner as if you were going to live for ever, and there was no purpose of life except seeking of comfort and pleasure and nothing beyond this worldly life which might deserve your attention." In this connection, one should bear in mind the fact that extravagance in architecture is not a solitary vice in a people. This happens as a result of a people's becoming affluent and then crazy for selfish gains and materialistic pursuits. When a people reach such a stage, their whole social system becomes corrupted and polluted. Prophet Hud's criticism of his people's extravagant and luxurious architecture was not simply aimed at the high castles and monuments, but he was actually criticising their corrupt civilization and social system, whose glaring symptoms could be seen everywhere in the land in the shape of castles and monuments.

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :91 یعنی تمہاری دوسری قسم کی تعمیرات ایسی ہیں جو اگرچہ استعمال کے لیے ہیں ، مگر انکو شاندار ، مزیَّن اور مستحکم بنانے میں تم اس طرح اپنی دولت ، محنت اور قابلیتیں صرف کرتے ہو جیسے دنیا میں ہمیشہ رہنے کا سامان کر رہے ہو ، جیسے تمہاری زندگی کا مقصد بس یہیں کے عیش کا اہتمام کرنا ہے اور اس کے ماوراء کوئی چیز نہیں ہے ۔ جس کی تمہیں فکر ہو ۔ اس سلسلے میں یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ بلا ضرورت یا ضرورت سے زیادہ شاندار عمارتیں بنانا کوئی منفرد فعل نہیں ہے جس کا ظہور کسی قوم میں اس طرح ہو سکتا ہو کہ اس کی اور سب چیزیں تو ٹھیک ہوں اور بس یہی ایک کام وہ غلط کرتی ہو ۔ یہ صورت حال تو ایک قوم میں رونما ہی اس وقت ہوتی ہے جب ایک طرف اس میں دولت کی ریل پیل ہوتی اور دوسری طرف اس کے اندر نفس پرستی و مادہ پرستی کی شدت بڑھتے بڑھتے جنون کی حد کو پہنچ جاتی ہے ۔ اور یہ حالت جب کسی قوم میں پیدا ہوتی ہے تو اس کا سارا ہی نظام تمدن فاسد ہو جاتا ہے ۔ حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کی تعمیرات پر جو گرفت کی اس سے مقصود یہ نہیں تھا کہ ان کے نزدیک صرف یہ عمارتیں ہی بجائے خود قابل اعتراض تھیں ، بلکہ دراصل وہ بحیثیت مجموعی ان کے فساد تمدن و تہذیب پر گرفت کر رہے تھے اور ان عمارتوں کا ذکر انہوں نے اس حیثیت سے کیا تھا کہ سارے ملک میں ہر طرف یہ بڑے بڑے پھوڑے اس فساد کی نمایاں ترین علامت کے طور پر ابھرے نظر آتے تھے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

26: قرآن کریم میں یہاں مصانع کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے اصل معنی ہیں وہ چیزیں جو کاریگری کا مظاہرہ کر کے بنائی گئی ہوں، اس میں ہر طرح کی وہ تعمیرات داخل ہیں جو نام و نمود کی خاطر بڑی شان و شوکت سے بنائی گئی ہو چاہے وہ زرق برق محل ہوں، یا پر شکوہ قلعے یا نہریں اور راستے۔ یہاں حضرت ہود (علیہ السلام) نے اس طرز عمل پر جو اعتراض فرمایا ہے، در اصل اس کا منشا یہ ہے کہ تم نے اپنی ساری دوڑ دھوپ کا مرکز اس نام و نمود اور شان و شوکت کو بنایا ہوا ہے، اور اسی کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھ بیٹھے ہو، جیسے تمہیں ہمیشہ اسی دنیا میں رہنا ہے، اور کبھی اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش نہیں ہونا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

2 ۔ یعنی بڑے بڑے قلعے اور محل تعمیر کرتے ہو یا پانی کے بند اور زمین دوز نہریں نکالتے ہو۔ (ابن کثیر۔ روح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی ایسی توسیع اور ایسے ایوان رفیع اور ایسا استحکام اور ایسے یادگار اور اعلام اس وقت مناسب تھے کہ دنیا میں ہمیشہ رہنا ہوتا اور اب تو سب فضول ہے، بڑی بڑی یاد گاریں بنی ہیں، اور بانی کا نام تک معلوم نہیں، موت نے سب کا نام مٹا دیا، کسی کا جلدی کسی کا دیر میں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(129) اور پختہ پختہ اور بڑے بڑے محل بناتے ہو شاید تم کو دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے اس قوم کی عادت تھی کہ تکبر اور تفاخر کی وجہ سے بلند مینار سے بناتے تھے کبوتر بازی کرتے تھے اس کے لئے اونچی اور بلند جگہ بناتے تھے یا مسافروں کو دھوکہ دینے کے لئے بنایا کرتے تھے۔ بہرحال ! ہود (علیہ السلام) نے اس قسم کی فضول خرچی اور شہرت و تفاخر کے میناروں کو منع فرمایا کہ اگر کوئی غرض فاسد نہ ہو تو تب بھی ایسی یادگاروں میں روپیہ برباد نہیں کرنا چاہئے اور جب مبنیٰ بھی فاسد ہو مثلاً تفاخر اور جاہ پسندی اور دوسرے کی تعمیر سے اونچا بنا کے اس کو نیچا دکھانا یا کبوتر بازی کے لئے بنانا وغیرہ جب وجود فاسدہ بھی موجود ہوں تو عبث اور فضول ہونے کے ساتھ اور بھی مضرات ہیں اسی طرح مکان بھی بہت پختہ اور بلند بناتے تھے اور اس میں آرائشی سامان اور اس کی بناوٹ اور مختلف قسم کی کاریگری میں بہت روپیہ خرچ کرتے تھے۔ اس لئے حضرت ہود (علیہ السلام) نے سمجھایا کہ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ شاید اس دنیا میں ہمیشہ رہو گے ان افعال ذمیمہ کا اخلاقی طورپر جو برا اثر ہوتا ہے آگے اس کا اظہار فرمایا۔