Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 155

سورة الشعراء

قَالَ ہٰذِہٖ نَاقَۃٌ لَّہَا شِرۡبٌ وَّ لَکُمۡ شِرۡبُ یَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴿۱۵۵﴾ۚ

He said, "This is a she-camel. For her is a [time of] drink, and for you is a [time of] drink, [each] on a known day.

آپ نے فرمایا یہ ہے اونٹنی پانی پینے کی ایک باری اس کی اور ایک مقررہ دن کی باری پانی پینے کی تمہاری ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

He said: "Here is a she-camel: it has a right to drink (water), and you have a right to drink (water) (each) on a day, known. meaning, `she will drink from your water one day, and on the next day you will drink from it.' وَلاَ تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

1551یہ وہی اونٹنی تھی جو ان کے مطالبے پر پتھر کی ایک چٹان سے بطور معجزہ ظاہر ہوئی تھی ایک دن اونٹنی کے لئے اور ایک دن ان کے لئے پانی مقرر کردیا گیا تھا، اور ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ جو دن تمہارا پانی لینے کا ہوگا، اونٹنی گھاٹ پر نہیں آئے گی اور جو دن اونٹنی کے پانی پینے کا ہوگا، تمہیں گھاٹ پر آنے کی اجازت نہیں ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٤] صالح (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا : کونسی نشانی چاہتے ہو ؟ وہ کہنے لگے ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہ سامنے والا پہاڑ پھٹے اور اس میں سے ایک حاملہ اونٹنی برآمد ہو۔ پھر وہ حاملہ اونٹنی ہمارے سامنے بچہ جنے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ صالح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی۔ جسے اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشا۔ پہاڑ پھٹا جس سے ایک عظیم الجثہ اور دیو ہیکل اونٹنی پیدا ہوئی۔ جس نے ان لوگوں کے سامنے بچہ جنا۔ جب قوم کا مطلوبہ معجزہ ظہور میں آگیا۔ تو یہ ان لوگوں کے لئے ایک مصیبت بن گیا۔ کیونکہ اونٹنی اگر کسی کنوئیں یا چشمے پر پانی پینے جاتی تو قوم کے دوسرے جانور اس اونٹنی کے قد و قامت اور ڈیل ڈول سے ڈر کر بھاگ جاتے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اس اونٹنی کو ” آیَۃٌ بَیِّنَۃٌ“ اور ” آیَۃٌ مُبْصِرَۃٌ“ (واضح نشانی و معجزہ) قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (٧٣) ، ہود (٦٤) اور بنی اسرائیل (٥٩) اس سے معلوم ہوا کہ وہ عام قسم کی اونٹنی نہ تھی بلکہ اس کی پیدائش اور ظاہر ہونے میں ضرور کوئی ایسی بات تھی جس کی بنا پر اسے معجزہ قرار دیا گیا۔ ” الصحیح المسبور “ میں ہے کہ ابن حبان نے صحیح سند کے ساتھ ابوطفیل عامر بن واثلہ (رض) سے روایت کی ہے : ” صالح (علیہ السلام) نے انھیں فرمایا، نکلو ! تو وہ ایک چٹان کی طرف نکلے، وہ چٹان اس طرح لرزی جس طرح حاملہ اونٹنی کو درد زہ ہوتا ہے، پھر وہ پھٹی اور اس کے درمیان سے اونٹنی نکلی تو صالح (علیہ السلام) نے ان سے کہا : (وَيٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَــةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰيَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِيْٓ اَرْضِ اللّٰهِ وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْۗءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيْبٌ) [ ہود : ٦٤ ] ” یہ اللہ کی اونٹنی ہے، تمہارے لیے عظیم نشانی، پس اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ، ورنہ تمہیں ایک قریب عذاب پکڑ لے گا۔ “ اگرچہ اس روایت کی سند صحیح ہے مگر یہ صحابی کا قول ہے۔ ابن کثیر (رض) لکھتے ہیں : ” قوم کے بڑے بڑے سردار جمع ہوئے اور انھوں نے ایک چٹان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صالح (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ اس چٹان سے ہمارے دیکھتے دیکھتے ایک پوری جسامت کی اونٹنی نکالو، جس کی یہ یہ صفات ہوں۔ صالح (علیہ السلام) نے ان سے پختہ عہد لیا کہ اگر ان کی فرمائش پوری کردی جائے تو وہ ایمان لا کر ان کی پیروی اختیار کریں گے۔ جب انھوں نے قول دے دیا تو صالح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کے لیے کھڑے ہوئے کہ ان کی فرمائش پوری کردی جائے، چناچہ وہ چٹان جس کی طرف انھوں نے اشارہ کیا تھا، یکایک پھٹی اور اس میں سے ان کی مطلوبہ صفات کی اونٹنی ظاہر ہوئی، اسے دیکھ کر کچھ لوگ ایمان لے آئے، لیکن اکثر اپنے کفر پر جمے رہے، اس پر صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : (قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ) [ ھود : ٦٤ ] ” یہ اللہ کی اونٹنی ہے، تمہارے لیے عظیم نشانی، پس اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ، ورنہ تمہیں ایک قریب عذاب پکڑ لے گا۔ “ مفسر مراغی لکھتے ہیں : ” اس قسم کی روایات کو سچا ماننا ہم پر اسی وقت لازم ہے جب وہ صحیح خبروں سے ثابت ہوں۔ “ مطلب یہ ہے کہ یہ روایات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہیں ہیں، تاہم اس میں شک نہیں کہ وہ عام اونٹنی نہ تھی بلکہ معجزانہ شان رکھنے والی اونٹنی تھی۔ اس اونٹنی کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ایک صحیح حدیث مسند احمد کے حوالے سے سورة اعراف (٧٣) میں گزر چکی ہے۔ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ : قرآن کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم کو صرف اتنا حکم نہ تھا کہ ہر دوسرے روز یہ اونٹنی تمہارے سارے علاقے کا پانی پیے گی، بلکہ یہ حکم بھی تھا کہ یہ تمہارے کھیتوں اور باغوں میں جہاں چاہے گی جائے گی اور جو چاہے گی کھائے گی، اسے کوئی نقصان نہ پہنچانا۔ دیکھیے سورة اعراف (٧٣) اور ہود (٦٤) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ ہٰذِہٖ نَاقَۃٌ لَّہَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ۝ ١٥٥ۚ شرب الشُّرْبُ : تناول کلّ مائع، ماء کان أو غيره . قال تعالیٰ في صفة أهل الجنّة : وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً [ الإنسان/ 21] ، وقال في صفة أهل النّار : لَهُمْ شَرابٌ مِنْ حَمِيمٍ [يونس/ 4] ، وجمع الشَّرَابُ أَشْرِبَةٌ ، يقال : شَرِبْتُهُ شَرْباً وشُرْباً. قال عزّ وجلّ : فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي - إلى قوله۔ فَشَرِبُوا مِنْهُ«4» ، وقال : فَشارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ [ الواقعة/ 55] ، والشِّرْبُ : النّصيب منه «5» قال تعالی: هذِهِ ناقَةٌ لَها شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ [ الشعراء/ 155] ، وقال : كُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ [ القمر/ 28] . والْمَشْرَبُ المصدر، واسم زمان الشّرب، ومکانه . قال تعالی: قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُناسٍ مَشْرَبَهُمْ [ البقرة/ 60] . والشَّرِيبُ : الْمُشَارِبُ والشَّرَابُ ، وسمّي الشّعر الذي علی الشّفة العلیا، والعرق الذي في باطن الحلق شاربا، وجمعه : شَوَارِبُ ، لتصوّرهما بصورة الشّاربین، قال الهذليّ في صفة عير : صخب الشّوارب لا يزال كأنه«1» وقوله تعالی: وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ [ البقرة/ 93] ، قيل : هو من قولهم : أَشْرَبْتُ البعیر أي : شددت حبلا في عنقه، قال الشاعر : فأشربتها الأقران حتی وقصتها ... بقرح وقد ألقین کلّ جنین «2» فكأنّما شدّ في قلوبهم العجل لشغفهم، وقال بعضهم «3» : معناه : أُشْرِبَ في قلوبهم حبّ العجل، وذلک أنّ من عادتهم إذا أرادوا العبارة عن مخامرة حبّ ، أو بغض، استعاروا له اسم الشّراب، إذ هو أبلغ إنجاع في البدن «4» ، ولذلک قال الشاعر : تغلغل حيث لم يبلغ شَرَابٌ ... ولا حزن ولم يبلغ سرور «5» ولو قيل : حبّ العجل لم يكن له المبالغة، [ فإنّ في ذکر العجل تنبيها أنّ لفرط شغفهم به صارت صورة العجل في قلوبهم لا تنمحي ] «6» وفي مثل : أَشْرَبْتَنِي ما لم أشرب «7» ، أي : ادّعيت عليّ ما لم أفعل . ( ش ر ب ) الشراب کے معنی پانی یا کسی اور مائع چیز کو نوش کرنے کے ہیں ۔ قرآن نے ہی جنت کے متعلق فرمایا : ۔ وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً [ الإنسان/ 21] اور ان کا پروردگار انہیں نہایت پاکیزہ شراب پلائیگا ۔ اور اہل دوزخ کے متعلق فرمایا : ۔ لَهُمْ شَرابٌ مِنْ حَمِيمٍ [يونس/ 4] ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی ۔ شراب کی جمع اشربۃ ہے اور شربتہ شربا وشربا کے معنی پینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي۔ إلى قوله۔ فَشَرِبُوا مِنْهُ«4» جو شخص اس میں سے پانی پے لے گا وہ مجھ سے نہیں ہے ۔ چناچہ انہوں نے اس سے پی لیا ۔ نیز فرمایا : ۔ فَشارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ [ الواقعة/ 55] اور پیو گے بھی تو ایسے جیسے پیاسے اونٹ پیتے ہیں ۔ الشراب پانی کا حصہ پینے کی باری ۔ قرآن میں ہے هذِهِ ناقَةٌ لَها شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ [ الشعراء/ 155] یہ اونٹنی ہے ( ایک دن ) اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین تمہاری باری كُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ [ القمر/ 28] ہر باری والے کو اپنی باری پر آنا چاہیئے ۔ المشرب مصدر ) پانی پینا ( ظرف زمان یا مکان ) پانی پینے کی جگہ یا زمانہ قرآن میں ہے : ۔ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُناسٍ مَشْرَبَهُمْ [ البقرة/ 60] . تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرکے پانی پی لیا ۔ الشراب تم پیالہ یا شراب کو کہتے ہیں اور مونچھ کے بالوں اور حلق کی اندرونی رگ کو شارب کہا جاتا ہے گویا ان کو پینے والا تصور کیا گیا ہے اس کی جمع شوارب آتی ہے ۔ ھزلی نے گورخر کے متعلق کہا ہے ( الکامل ) ( 257 ) صخب الشوارب لا یزال کانہ اس کی مونچھیں سخت گویا وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ [ البقرة/ 93] اور ان ( کے کفر کے سبب ) بچھڑا ( گویا ) ان کے دلوں میں رچ گیا تھا ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ اشربت البعیر کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی اونٹ کے گلے میں رسی باندھنے کے ہیں شاعر نے کہا ہے ( 258 ) واشرب تھا الاقران حتیٰ وقص تھا بقرح وقد القین کل جنین میں نے انہیں باہم باندھ لیا حتیٰ کہ قرح ( منڈی ) میں لا ڈالا اس حال میں کہ انہوں نے حمل گرا دیئے تھے ۔ تو آیت کے معنی یہ ہیں کہ گویا بچھڑا ان کے دلوں پر باندھ دیا گیا ہے ۔ اور بعض نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ بچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں پلادی گئی ہے کیونکہ عربی محاورہ میں جب کسی کی محبت یا بغض دل کے اندر سرایت کر جائے تو اس کے لئے لفظ شراب کو بطور استعارہ بیان کرتے ہیں کیونکہ یہ بدن میں نہایت تیزی سے سرایت کرتی ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( الوافر ) ( 259 ) تغلغل حیث لم یبلغ شرابہ ولا حزن ولم یبلغ سرور اس کی محبت وہاں تک پہنچ گئی جہاں کہ نہ شراب اور نہ ہی حزن و سرور پہنچ سکتا ہے ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ بچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں اس قدر زیادہ نہیں تھی تو ہم کہیں گے کیوں نہیں ؟ عجل کا لفظ بول کر ان کی فرط محبت پر تنبیہ کی ہے کہ بچھڑے کی صورت ان کے دلوں میں اس طرح نقش ہوگئی تھی کہ محو نہیں ہوسکتی تھی مثل مشہور ہے ۔ اشربتنی ما لم اشرب یعنی تونے مجھ پر جھوٹا الزام لگایا ۔ يوم اليَوْمُ يعبّر به عن وقت طلوع الشمس إلى غروبها . وقد يعبّر به عن مدّة من الزمان أيّ مدّة کانت، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] ، ( ی و م ) الیوم ( ن ) ی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقا وقت اور زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ خواہ وہ زمانہ ( ایک دن کا ہو یا ایک سال اور صدی کا یا ہزار سال کا ہو ) کتنا ہی دراز کیوں نہ ہو ۔ قرآن میں ہے :إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] جو لوگ تم سے ( احد کے دن ) جب کہہ دوجماعتیں ایک دوسرے سے گتھ ہوگئیں ( جنگ سے بھاگ گئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٥٥) حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا یہ ایک اونٹنی ہے جو میری نبوت کے لیے دلیل ومعجزہ ہے پانی پینے کے لیے مقررہ دن میں ایک دن اس کے پینے کی باری ہے اور ایک دن تمہارے مویشی کی باری کا دن ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٥٥ (قَالَ ہٰذِہٖ نَاقَۃٌ لَّہَا شِرْبٌ وَّلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ) ” حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تمہارے معجزے کے مطالبے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ اونٹنی بھیجی ہے ‘ لیکن اب تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن یہ اکیلی پانی پئے گی اور ایک دن تمہارے تمام جانور پئیں گے۔ اس اونٹنی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اپنی باری کے دن چشمے کا پورا پانی پی جاتی تھی اور اس دن ان کے جانوروں کو پانی نہیں ملتا تھا۔ اگلے دن اونٹنی ناغہ کرتی تھی اور باقی سب جانور پانی پیتے تھے۔ مجھے ” مدائنِ صالح “ میں وہ چشمہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

103 From the context it appears that it was not a common she-camel, but it was brought about in a supernatural manner because it was presented in response to the demand for a miracle. Prophet Salih. could not have produced before the people an ordinary she-camel as a proof of his Prophethood because that would not have satisfied them. Ai other places in the Qur'an it has been clearly referred to as a miracle. In Surah Al-A`raf and Hud it has been said: "....here is Allah's she camel, a Sign for you." (VII: 73) In Surah Bani Isra'il the same thing has been stated more emphatically: "And nothing has hindered Us from sending Signs except that the former people refused to acknowledge them as such. (For example) We sent the she-camel as an open Sign to Thamud but they treated her with cruelty; whereas We send Signs only by way of warning." (v. 59) Moreover, the challenge given to the wicked people of Thamud, after presenting the she-camel before them, was such that it could only be given after presenting a miracle. 104 That is, "One day the she-camel will drink water all alone at your wells and springs, and one day you and your animals will take water, and this arrangement will not be violated in any way." There could hardly be a greater challenge for the people of Arabia, for taking of water had been the foremost cause of feuds and fights among them, which mostly resulted in bloodshed, even loss of life. As such, the challenge given by Prophet Salih was indeed a challenge to the whole nation, which could not be acceptable unless the people were sure that the challenger had a great power at his back. But Prophet Salih threw this challenge all by himself without any worldly power behind him, and the whole nation not only received it quietly, but also abided by it submissively for quite some days. In Surahs Al-A`raf and Hud there is an addition to this: "Here is Allah's she-camel, a Sign for you. So let her graze at will in Allah's land, and do not touch her with an evil intention." (XI: 64) That is, the challenge was not only this that the she-camel would drink water all alone every alternate day, but, in addition, she would freely move about and graze at will in their fields and gardens and palm groves and pastures and was not to be touched with an evil intention.

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :103 معجزے کے مطالبے پر اونٹنی پیش کرنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ محض ایک عام اونٹنی نہ تھی جیسی ہر عرب کے پاس وہاں پائی جاتی تھی ، بلکہ ضرور اس کی پیدائش اور اس کے ظہور میں یا اس کی خلقت میں کوئی ایسی چیز تھی جسے معجزے کی طلب پر پیش کرنا معقول ہوتا ۔ اگر حضرت صالح اس مطالبے کے جواب میں یوں ہی کسی اونٹنی کو پکڑ کے کھڑا کر دیتے تو ظاہر ہے کہ یہ ایک نہایت فضول حرکت ہوتی جس کی کسی پیغمبر تو در کنار ، ایک عام معقول آدمی سے بھی توقع نہیں کی جا سکتی ۔ یہ بات یہاں تو صرف سیاق کلام ہی کے اقتضاء سے سمجھ میں آتی ہے ، لیکن دوسرے مقامات پر قرآن میں صراحت کے ساتھ اس اونٹنی کے وجود کو معجزہ کہا گیا ہے ۔ سورہ اعراف اور سورہ ہود میں فرمایا گیا ھٰذِہ نَاقَۃُ اللہِ لَکُمْ ایٰۃً ، یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی کے طور پر ہے ۔ اور سورہ بنی اسرائیل میں اس سے بھی زیادہ پر زور الفاظ میں ارشاد ہوا ہے : وَمَا مَنَعَنآ اَنْ نُّرْسِلَ بِا لْایٰتِ اِلَّا اَنْ کَذَّبَ بِھَا الْاَوَّلُوْنَ ، وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَۃَ مُبْصِرَۃً فَظَلَمُوْا بِھَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْایٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفاً ہ ( آیت 59 ) ہم کو نشانیاں بھیجنے سے کسی چیز نے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ پہلے لوگ ان کو جھٹلا چکے ہیں اور ہم ثمود کے سامنے آنکھوں دیکھتے اونٹنی لے آئے پھر بھی انہوں نے اس کے ساتھ ظلم کیا ۔ نشانیاں تو ہم خوف دلانے ہی کے لیے بھیجتے ہیں ( تماشا دکھانے کے لیے تو نہیں بھیجتے ) ۔ اس پر مزید وہ چیلنج ہے جو اونٹنی کو میدان میں لے آنے کے بعد اس کافر قوم کو دیا گیا ۔ اس کی نوعیت ہی ایسی تھی کہ صرف ایک معجزہ ہی پیش کر کے ایسا چیلنج دیا جا سکتا تھا ۔ سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :104 یعنی ایک دن تنہا یہ اونٹنی تمہارے کنوؤں اور چشموں سے پانی پیے گے اور ایک دن ساری قوم کے آدمی اور جانور پیئیں گے ۔ خبردار ، اس کی باری کے دن کوئی شخص پانی لینے کی جگہ پھٹکنے نہ پائے ۔ یہ چیلنج بجائے خود نہایت سخت تھا ۔ لیکن عرب کے مخصوص حالات میں تو کسی قوم کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی دوسرا چیلنج ہو نہیں سکتا تھا ۔ وہاں تو پانی ہی کے مسئلے پر خون خرابے ہو جاتے تھے ، قبیلہ قبیلے سے لڑ جاتا تھا اور جان جوکھوں کی بازی لگا کر کسی کنوئیں یا چشمے سے پانی لینے کا حق حاصل کیا جاتا تھا ۔ اس سر زمین میں کسی شخص کا اٹھ کر یہ کہہ دینا کہ ایک دن میری اکیلی اونٹنی پانی پیے گی اور باقی ساری قوم کے آدمی اور جانور صرف دوسرے دن ہی پانی لے سکیں گے ، یہ معنی کہتا تھا کہ وہ دراصل پوری قوم کو لڑائی کا چیلنج دے رہا ہے ۔ ایک زبر دست لشکر کے بغیر کوئی آدمی عرب میں یہ بات زبان سے نہ نکال سکتا تھا اور کوئی قوم یہ بات اس وقت تک نہ سن سکتی تھی جب تک وہ اپنی آنکھوں سے یہ نہ دیکھ رہی ہو کہ چیلنج دینے والے کی پشت پر اتنے شمشیر زن اور تیر انداز موجود ہیں جو مقابلے پر اٹھنے والوں کو کچل کر رکھ دیں گے ۔ لیکن حضرت صالح نے بغیر کسی لاؤ لشکر کے تنہا اٹھ کر یہ چیلنج اپنی قوم کو دیا اور قوم نے نہ صرف یہ کہ اس کو کان لٹکا کر سنا بلکہ بہت دنوں تک ڈر کے مارے وہ اس کی تعمیل بھی کرتی رہی ۔ سورہ اعراف اور سورہ ہود میں اس پر اتنا اضافہ اور ہے کہ : ھٰذِہ نَاقَۃُ اللہِ لَکُمْ ایٰۃً فَذَرُوْھَا تَاْکُلُ فِیْ اَرْضِ اللہِ وَ لَا تَمَسُّوَھَا بِسُوْٓءٍ ، یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی کے طور پر ہے ، چھوڑ دو اسے کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے ، ہرگز اسے برے ارادے سے نہ چھونا ۔ یعنی چیلنج صرف اتنا ہی نہ تھا کہ ہر دوسرے روز اکیلی یہ اونٹنی دن بھر سارے علاقے کے پانی کی اجارہ دار رہے گی ، بلکہ اس پر مزید یہ چیلنج بھی تھا کہ یہ تمہارے کھیتوں اور باغوں اور نخلستانوں اور چراگاہوں میں دندناتی پھرے گی ، جہاں چاہے گی جائے گی ، جو کچھ چاہے گی کھائے گی ، خبردار جو کسی نے اسے چھیڑا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

32: چونکہ اونٹنی کا معجزہ انہوں نے خود مانگا تھا، اس لیے ان سے کہا گیا کہ اس اونٹنی کے کچھ حقوق ہوں گے، اور ان میں سے ایک حق یہ ہے کہ ایک دن تمہارے کنویں سے صرف یہ اونٹنی پانی پیے گی، اور ایک دن تم کنویں سے جتنا پانی بھر سکو، بھر کر رکھ لو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:155) شرب ۔ شرب یشرب ۔ شرب سے اسم ہے پانی پینے کی ایک باری۔ پانی کا ایک حصہ۔ اس کی جمع اشراب ہے۔ شرب یوم معلوم : یوم معلوم موصوف و صفت ہوکر مضاف الیہ ۔ شرب مضاف۔ ایک مقررہ دن کی ایک باری۔ یعنی باری کے ایک دن پر اونٹنی پانی پئے گی کنووں اور چشموں سے اور کوئی دوسرا انسان یا حیوان اس دن ان کنوؤں اور چشموں سے پانی نہیں پئے گا اور دوسری باری کے دن قوم کے جملہ افراد اور حیوان پانی پئیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

5 ۔ جیسا کہ دوسری آیات میں اسے بصراحت ایۃ اجینۃ و مبصرۃ یعنی معجزہ فرمایا گیا ہے۔ (دیکھئے سورة اعراف آیت 73 و سورة ہود آیت 264 بنی اسرائیل آیت 62) اس سے معلوم ہوا کہ وہ عام قسم کی اونٹنی نہ تھی بلکہ اس کی پیدائش اور اس کے ظاہر ہونے میں ضرور کوئی ایسی بات تھی جس کی بنا پر اسے معجزہ قرار دیا گیا۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں : ” قوم کے بڑے بڑے سردار جمع ہوئے اور انہوں نے ایک چٹان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت صالح ( علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ اس چٹان سے ہمارے دیکھتے دیکھتے ایک پوری جسامت کی اونٹنی نکالو جس کی یہ یہ صفات ہوں۔ اس وقت حضرت صالح ( علیہ السلام) نے ان سے پختہ عہد کرلیا کہ اگر ان کی فرمائش پوری کردی جائے تو وہ ایمان لا کر ان کی پیروی اختیار کریں گے۔ جب انہوں نے قول دے دیا تو حضرت صالح ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرنے کھڑے ہوئے کہ ان کی فرمائش پوری کردی جائے۔ چناچہ وہ چٹان جس کی طرف انہوں نے اشارہ کیا تھا یکایک پھٹی اور اس میں سے ان کی مطلوبہ صفات کی اونٹنی ظاہر ہوئی۔ اسے دیکھ کر کچھ لوگ ایمان لے آئے لیکن اکثر اپنے کفر پر جمے رہے۔ اس پر حضرت صالح نے ان سے فرمایا : ” ھذہ ناقۃ الخ “ 6 ۔ قرآن کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم کو صرف اتنا ہی چیلنج نہ تھا کہ ہر دوسرے روز یہ اونٹنی تمہارے سارے علاقہ کا پانی پئے گی بلکہ یہ چیلنج بھی تھا کہ یہ تمہارے کھیتوں اور باغوں میں جہاں چاہے گی جائے گی اور جو چاہے گی کھائے گی۔ دیکھئے ( سورة اعراف آیت 173 سورة ہود آیت 64)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ جو بوجہ خلاف عادت پیدا ہونے کے معجزہ ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قوم کے معجزہ طلب کرنے پر اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی کا معجزہ عطا فرمایا۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے معجزہ طلب کیا تھا کہ ہمارے سامنے اس پہاڑ سے ایک اونٹنی نمودار ہو اور اس کے پیچھے اس کا دودھ پیتا بچہ بھی ہونا چاہیے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی تائید میں اور قوم کے مطالبہ کے عین مطابق اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اونٹنی اور اس کا بچہ کو نمودار کیا۔ جب اونٹنی اپنے بچہ کے ساتھ قوم کے سامنے آچکی تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو سمجھایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی ہے ایک دن یہ پانی پیا کرے گی اور دوسرے دن تم اور تمہارے جانور پانی پئیں گے۔ خبردار ! اسے تکلیف دینے کی نیت سے ہاتھ نہ لگانا۔ اگر تم نے اس کو تکلیف پہنچائی تو اللہ کا عذاب تمہیں دبوچ لے گا۔ اس انتباہ کے باوجود انھوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں جس کے نتیجہ میں ان کو عذاب نے آپکڑا پھر وہ ذلیل و خوار ہوئے۔ اس واقعہ میں عبرت کا سبق یہ ہے کہ جو قوم اپنے نبی سے معجزہ طلب کرے اور پھر اس کا انکار کرئے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو ہلاک کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی قوم کی دنیوی ترقی اور اس کے بڑے بڑے مضبوط قلعے اور محلات کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ قوم ثمود کی نافرمانیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہیں اس لیے بار بار مہلت دی کیونکہ اللہ تعالیٰ مہربانی فرمانے والا ہے۔ تاکہ لوگ اس کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کریں۔ مسائل ١۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے اونٹنی کا معجزہ طلب کیا اونٹنی ان کے سامنے پہاڑ سے نمودار ہوئی۔ ٢۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ایک دن اونٹنی پانی پئیے گی اور دوسرے دن تم لوگ پانی لیا کرو گے۔ ٣۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو سمجھایا کہ تکلیف دینے کی غرض سے اونٹنی کو ہاتھ نہ لگان اور نہ تباہ ہوجاؤ گے۔ تفسیر بالقرآن قوم ثمود کی تباہی کا ہولناک منظر : ١۔ صالح کی قوم نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو صالح (علیہ السلام) نے قوم کو فرمایا تین دن فائدہ اٹھا لو، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہوگا۔ (ھود : ٦٤، ٦٥) ٢۔ انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور وہ نادم ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ (الشعراء : ١٥٧) ٣۔ حضرت صالح اور حضرت شعیب کو جادو زدہ کہا گیا۔ (الشعراء : ١٥٣۔ ١٨٥) ٤۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاعراف : ٧٧) ٥۔ قوم ثمود کے بدبختوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ الشمس : ١٤) ٦۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ : ٥) ٧۔ قوم عاد وثمود کے اعمال بد کو شیطان نے ان کے لیے فیشن بنا دیا تھا۔ (العنکبوت : ٣٨) ٨۔ قوم ثمود کو زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (الاعراف : ٧٨) ٩۔ قوم ثمود کو چیخ نے آپکڑا۔ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (ھود : ٦٧) ١٠۔ قوم ثمود کی راہنمائی کی گئی لیکن انہوں نے گمراہی کو ترجیح دی تو انہیں ہولناک آواز نے آلیا۔ ( حٰم السجدۃ : ١٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قال ھذہ ……یوم عظیم (١٦١) یہ معجزانی اونٹنی اس شرط پر آئی کہ جو محدود آغوشی کی سہولتیں انہیں حاصل تھیں وہ ایک دن کے لئے ناقہ کے لئے وقف ہوں گی اور دوسرا دن ان کے لئے اور انکے مویشیوں کے لئے ہوگا۔ نافقہ کے دن میں یہ دخل اندازی نہ کریں گے اور نہ ناقہ ان کے دن پانی پینے گی۔ دونوں دنوں کا پانی اکٹھا نہ ہوگا۔ نہ ان کا ان ناقہ کے دن سے ملے گا اور نہ ناقہ کا ان کے دن سے۔ تو صالح (علیہ السلام) نے ان کو ڈرایا کہ اس کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرو گے۔ ورنہ ایک عظیم عذاب تم پر نازل ہوجائے گا۔ ان سرکشوں کے لئے یہ معجزہ کوئی مفید ثابت نہ ہوا۔ ان کے دلوں کے اندر ایمان بھی نہ داخل ہوا ، ان کی روحانی دنیا پر ظلمتیں چھائی رہیں لیکن پانی ان کے لئے نصف ہوگیا۔ باوجود تاکید و وصیت کے ان سے نہ رہا گیا۔ انہوں نے وعدہ خلافی کردی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

58:۔ مشرکین نے صالح (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا تھا کہ ایک مخصوص پتھر میں سے اونٹنی پیدا ہوا اور اسی وقت اس کے ایک بچہ پیدا ہو جو جسم اور قد و قامت میں اس کے برابر ہو۔ چناچہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے نماز پڑھ کر اللہ سے دعا کی تو اللہ نے مشرکین کا منہ مانگا معجزہ ظاہر فرما دیا۔ روی انھم قالوا نرید ناقۃ عشراء تخرج من ھذہ الصخرۃ فتلد سقبا فجعل صلح یتفکر فقال جبریل صل رکعتین واسئل ربک النقۃ ففعل فخرجت الناقۃ ونتجت سقبا مثلھا فی العظم (مدارک ج 3 ص 147) ۔ اب بطور ابتلاء ان پر یہ پابندی لگا دی گئی کہ چشمے سے ایک دن وہ پانی پیا کریں اور اپنے مویشیوں کو پلایا کریں اور دن اونٹنی کے لیے مخصوص رہے ان کی باری میں اونٹنی نہ پیے گی اور اونٹنی کی باری میں وہ پانی استعمال نہ کریں۔ ” ولا تمسوھا بسوء الخ “ نیز اونٹنی کو کسی قسم کی تکلیف بھی مت دینا ورنہ سخت ترین عذاب میں مبتلا کیے جاؤ گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(155) چناچہ انہوں نے خود ہی ایک بہت بڑی اونٹنی طلب کی وہ اونٹنی پہاڑوں میں سے نکلی جانور اس کو دیکھ کر بھاگنے لگے پانی پینے کی باری مقرر کی گئی چناچہ حضرت صالح (علیہ السلام) ن ے فرمایا یہ ایک اونٹنی ہے ایک باری پانی پینے کے لئے اس کی ہے اور ایک مقررہدن کی باری تمہاریے مواشی کے لئے ہے۔