103 From the context it appears that it was not a common she-camel, but it was brought about in a supernatural manner because it was presented in response to the demand for a miracle. Prophet Salih. could not have produced before the people an ordinary she-camel as a proof of his Prophethood because that would not have satisfied them. Ai other places in the Qur'an it has been clearly referred to as a miracle. In Surah Al-A`raf and Hud it has been said: "....here is Allah's she camel, a Sign for you." (VII: 73) In Surah Bani Isra'il the same thing has been stated more emphatically: "And nothing has hindered Us from sending Signs except that the former people refused to acknowledge them as such. (For example) We sent the she-camel as an open Sign to Thamud but they treated her with cruelty; whereas We send Signs only by way of warning." (v. 59) Moreover, the challenge given to the wicked people of Thamud, after presenting the she-camel before them, was such that it could only be given after presenting a miracle.
104 That is, "One day the she-camel will drink water all alone at your wells and springs, and one day you and your animals will take water, and this arrangement will not be violated in any way." There could hardly be a greater challenge for the people of Arabia, for taking of water had been the foremost cause of feuds and fights among them, which mostly resulted in bloodshed, even loss of life. As such, the challenge given by Prophet Salih was indeed a challenge to the whole nation, which could not be acceptable unless the people were sure that the challenger had a great power at his back. But Prophet Salih threw this challenge all by himself without any worldly power behind him, and the whole nation not only received it quietly, but also abided by it submissively for quite some days. In Surahs Al-A`raf and Hud there is an addition to this: "Here is Allah's she-camel, a Sign for you. So let her graze at will in Allah's land, and do not touch her with an evil intention." (XI: 64) That is, the challenge was not only this that the she-camel would drink water all alone every alternate day, but, in addition, she would freely move about and graze at will in their fields and gardens and palm groves and pastures and was not to be touched with an evil intention.
سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :103
معجزے کے مطالبے پر اونٹنی پیش کرنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ محض ایک عام اونٹنی نہ تھی جیسی ہر عرب کے پاس وہاں پائی جاتی تھی ، بلکہ ضرور اس کی پیدائش اور اس کے ظہور میں یا اس کی خلقت میں کوئی ایسی چیز تھی جسے معجزے کی طلب پر پیش کرنا معقول ہوتا ۔ اگر حضرت صالح اس مطالبے کے جواب میں یوں ہی کسی اونٹنی کو پکڑ کے کھڑا کر دیتے تو ظاہر ہے کہ یہ ایک نہایت فضول حرکت ہوتی جس کی کسی پیغمبر تو در کنار ، ایک عام معقول آدمی سے بھی توقع نہیں کی جا سکتی ۔ یہ بات یہاں تو صرف سیاق کلام ہی کے اقتضاء سے سمجھ میں آتی ہے ، لیکن دوسرے مقامات پر قرآن میں صراحت کے ساتھ اس اونٹنی کے وجود کو معجزہ کہا گیا ہے ۔ سورہ اعراف اور سورہ ہود میں فرمایا گیا ھٰذِہ نَاقَۃُ اللہِ لَکُمْ ایٰۃً ، یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی کے طور پر ہے ۔ اور سورہ بنی اسرائیل میں اس سے بھی زیادہ پر زور الفاظ میں ارشاد ہوا ہے :
وَمَا مَنَعَنآ اَنْ نُّرْسِلَ بِا لْایٰتِ اِلَّا اَنْ کَذَّبَ بِھَا الْاَوَّلُوْنَ ، وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَۃَ مُبْصِرَۃً فَظَلَمُوْا بِھَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْایٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفاً ہ ( آیت 59 )
ہم کو نشانیاں بھیجنے سے کسی چیز نے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ پہلے لوگ ان کو جھٹلا چکے ہیں اور ہم ثمود کے سامنے آنکھوں دیکھتے اونٹنی لے آئے پھر بھی انہوں نے اس کے ساتھ ظلم کیا ۔ نشانیاں تو ہم خوف دلانے ہی کے لیے بھیجتے ہیں ( تماشا دکھانے کے لیے تو نہیں بھیجتے ) ۔
اس پر مزید وہ چیلنج ہے جو اونٹنی کو میدان میں لے آنے کے بعد اس کافر قوم کو دیا گیا ۔ اس کی نوعیت ہی ایسی تھی کہ صرف ایک معجزہ ہی پیش کر کے ایسا چیلنج دیا جا سکتا تھا ۔
سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :104
یعنی ایک دن تنہا یہ اونٹنی تمہارے کنوؤں اور چشموں سے پانی پیے گے اور ایک دن ساری قوم کے آدمی اور جانور پیئیں گے ۔ خبردار ، اس کی باری کے دن کوئی شخص پانی لینے کی جگہ پھٹکنے نہ پائے ۔ یہ چیلنج بجائے خود نہایت سخت تھا ۔ لیکن عرب کے مخصوص حالات میں تو کسی قوم کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی دوسرا چیلنج ہو نہیں سکتا تھا ۔ وہاں تو پانی ہی کے مسئلے پر خون خرابے ہو جاتے تھے ، قبیلہ قبیلے سے لڑ جاتا تھا اور جان جوکھوں کی بازی لگا کر کسی کنوئیں یا چشمے سے پانی لینے کا حق حاصل کیا جاتا تھا ۔ اس سر زمین میں کسی شخص کا اٹھ کر یہ کہہ دینا کہ ایک دن میری اکیلی اونٹنی پانی پیے گی اور باقی ساری قوم کے آدمی اور جانور صرف دوسرے دن ہی پانی لے سکیں گے ، یہ معنی کہتا تھا کہ وہ دراصل پوری قوم کو لڑائی کا چیلنج دے رہا ہے ۔ ایک زبر دست لشکر کے بغیر کوئی آدمی عرب میں یہ بات زبان سے نہ نکال سکتا تھا اور کوئی قوم یہ بات اس وقت تک نہ سن سکتی تھی جب تک وہ اپنی آنکھوں سے یہ نہ دیکھ رہی ہو کہ چیلنج دینے والے کی پشت پر اتنے شمشیر زن اور تیر انداز موجود ہیں جو مقابلے پر اٹھنے والوں کو کچل کر رکھ دیں گے ۔ لیکن حضرت صالح نے بغیر کسی لاؤ لشکر کے تنہا اٹھ کر یہ چیلنج اپنی قوم کو دیا اور قوم نے نہ صرف یہ کہ اس کو کان لٹکا کر سنا بلکہ بہت دنوں تک ڈر کے مارے وہ اس کی تعمیل بھی کرتی رہی ۔
سورہ اعراف اور سورہ ہود میں اس پر اتنا اضافہ اور ہے کہ : ھٰذِہ نَاقَۃُ اللہِ لَکُمْ ایٰۃً فَذَرُوْھَا تَاْکُلُ فِیْ اَرْضِ اللہِ وَ لَا تَمَسُّوَھَا بِسُوْٓءٍ ، یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی کے طور پر ہے ، چھوڑ دو اسے کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے ، ہرگز اسے برے ارادے سے نہ چھونا ۔ یعنی چیلنج صرف اتنا ہی نہ تھا کہ ہر دوسرے روز اکیلی یہ اونٹنی دن بھر سارے علاقے کے پانی کی اجارہ دار رہے گی ، بلکہ اس پر مزید یہ چیلنج بھی تھا کہ یہ تمہارے کھیتوں اور باغوں اور نخلستانوں اور چراگاہوں میں دندناتی پھرے گی ، جہاں چاہے گی جائے گی ، جو کچھ چاہے گی کھائے گی ، خبردار جو کسی نے اسے چھیڑا ۔