Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 212

سورة الشعراء

اِنَّہُمۡ عَنِ السَّمۡعِ لَمَعۡزُوۡلُوۡنَ ﴿۲۱۲﴾ؕ

Indeed they, from [its] hearing, are removed.

بلکہ وہ توسننے سے محروم بھی کر دیئے گئے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Verily, they have been removed far from hearing it. This is like what Allah tells us about the Jinn: وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاء فَوَجَدْنَاهَا مُلِيَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَن يَسْتَمِعِ الاْأنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَّصَدًا وَأَنَّا لاَأ نَدْرِي أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِي الاْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا And we have sought to reach the heaven; but we found it filled with stern guards and flaming fires. And verily, we used to sit there in stations, to (steal) a hearing, but any who listens now will find a flaming fire watching him in ambush. And we know not whether evil is intended for those on the earth, or whether their Lord intends for them guidance.' (72:8-10)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

2121ان آیات میں قرآن کی، شیطانی دخل اندازیوں سے، محفوظیت کا بیان ہے۔ ایک تو اس لئے کہ شیا طین کا قرآن لے کر نازل ہونا، ان کے لائق نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا مقصد شر و فساد اور منکرات کی اشاعت ہے، جب کہ قرآن کا مقصد نیکی کا حکم اور فروغ اور منکرات کا سد باب ہے گویا دونوں ایک دوسرے کی ضد اور باہم منافی ہیں۔ دوسرے یہ کہ شیاطین اس کی طاقت بھی نہیں رکھتے، تیسرے، نزول قرآن کے وقت شیاطین اس کے سننے سے دور اور محروم رکھے گئے، آسمانوں پر ستاروں کو چوکیدار بنادیا گیا تھا اور جو بھی شیطان اوپر جاتا یہ ستارے اس پر بجلی بن کر گرتے اور بھسم کردیتے، اس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کو شیاطین سے بچانے کا خصوصی اہتمام فرمایا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢٥] یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام جبریل روح الامین کو دے کر بھیجا جو سیدھے یہ کلام لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل پر نازل ہوئے۔ اب اس راستہ میں کوئی ایسا مقام آتا ہے جہاں سے شیطان اس کلام کا کچھ حصہ سن سکتے ہوں ؟ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس مضمون کی وضاحت کردی گئی ہے کہ جب یہ کلام نازل کیا جاتا ہے جو اس کے ارد گرد کڑا پہرہ بھی مقرر کیا جاتا ہے جس کے دو فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں کہیں سے بھی باطل کی آمیزش نہیں ہوسکتی (٤١: ٤٢) اور دوسرا یہ کہ شیاطین اگر اس کلام کو چوری چھپے سننے کی کوشش کریں تو سن نہیں سکتے بلکہ شہاب ثاقب کے ذریعہ ان کی تواضع کی جاتی ہے۔ (٧٢: ٩ (

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ : تیسری وجہ یہ کہ اگر بالفرض وہ سن سنا کر لانے کی طاقت بھی رکھتے ہوں تو بارگاہ الٰہی میں ان کا دخل ہی نہیں کہ سن لیں، زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا تھا کہ وہ فرشتوں سے سن کر آگے پہنچا دیں، مگر قرآن کے نزول کے وقت ان پر فرشتوں کی باہمی گفتگو سننے پر بھی پابندی لگا دی گئی، اب وہ سننے کی کوشش کرتے ہیں تو ان پر شہابوں کی بارش ہوتی ہے۔ کوئی ایک آدھ بات چوری سے سن بھی لیں تو سیکڑوں جھوٹوں کی آمیزش کی وجہ سے اس کا اعتبار نہیں رہتا۔ دیکھیے سورة جنّ (٨ تا ١٠) اور صافات (٦ تا ١٠) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّہُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ۝ ٢١٢ۭ عزل الاعْتِزَالُ : تجنّب الشیء عمالة کانت أو براءة، أو غيرهما، بالبدن کان ذلک أو بالقلب، يقال : عَزَلْتُهُ ، واعْتَزَلْتُهُ ، وتَعَزَّلْتُهُ فَاعْتَزَلَ. قال تعالی: وَإِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَما يَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ الكهف/ 16] ( ع ز ل ) الا عتزال کے معنی ہیں کسی چیز سے کنارہ کش ہوجانا عام اس سے کہ وہ چیز کوئی پیشہ ہو یا کوئی بات وغیرہ ہو جس سے بری ہونے کا اعلان کیا جائے نیز وہ علیحدہ گی بذریعہ بدن کے ہو یا بذریعہ دل کے دنوں قسم کی علیحگی پر بولا جاتا ہے عزلتہ واعتزلتہ وتعزلتہ میں نے اس کو علیحہ فاعتزل چناچہ وہ علیحہ ہ ہوگیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَما يَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ الكهف/ 16] اور جب تم نے ان مشرکوں سے اور جن کی یہ خدا کے سوا عبادت کرتے ہیں ان سے کنارہ کرلیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١٢ (اِنَّہُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ ) ” یہ بہت اہم مضمون ہے جو یہاں پہلی دفعہ آیا ہے ‘ لیکن آئندہ سورتوں میں متعدد مقامات پر اس کا ذکر آئے گا۔ اس موضوع پر قرآن سے ہمیں جو معلومات ملتی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ فرشتے نوری مخلوق ہیں اور جن آگ سے بنائے گئے ہیں : (وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ ) ( الرحمٰن) ” اور پیدا کیا اس نے جناتّ کو آگ کی لپٹ سے “۔ چونکہ فرشتوں کی طرح جنات کا مادۂ تخلیق بھی بہت لطیف ہے اس وجہ سے ان کے لیے فرشتوں کا قرب حاصل کرلینا اور ان سے کچھ معلومات حاصل کرلینا ممکن ہے۔ چناچہ عام طور پر شیاطینِ جن کسی نہ کسی حد تک فرشتوں سے عالم بالا کی خبریں معلوم کرنے میں کامیاب ہوجاتے تھے ‘ لیکن جب بھی کسی رسول کی بعثت ہوتی تو عالم بالا میں خصوصی پہرے بٹھا دیے جاتے تاکہ فرشتوں کے ذریعے وحی کی ترسیل کو محفوظ بنایا جاسکے۔ اسی اصول کے تحت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد عالم بالا کی خاص حدود سے آگے ِ جنوں کا داخلہ مستقل طور پر بند کردیا گیا اور وہاں سے وہ کسی قسم کی سن گن لینے کے اہل نہیں رہے۔ یہی وہ کیفیت اور صورت حال ہے جس کا ذکر آیت زیر مطالعہ میں کیا گیا ہے کہ وہ تو اب سننے سے بھی معزول کردیے گئے ہیں اور عالم بالا سے ان کے سن گن لینے کا بھی کوئی امکان نہیں رہا۔ سورة الجن میں یہ مضمون قدرے زیادہ وضاحت سے آئے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

133 That is, "Not to speak of interfering with the revelation of the Qur'an, the satans are not even given a chance to hear the Qur'an any moment from the time Angel Gabriel receives it from Allah till he reveals it to the heart of the Holy Prophet. They are so kept out of its hearing that they cannot get any hint as to its words and contents so as to tell their friends that the Holy Prophet was going to give such and such a message to his followers, or that his address would contain such and such a thing that day. For further details see E. N.'s 8 to 12 of Al-Hijr, E.N.'s 5 to 7 of As -Saffat and Surah Jinn: 8-9-27.

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :133 یعنی اس قرآن کے القاء میں دخیل ہونا تو درکنار ، جس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے روح الامین اس کو لے کر چلتا ہے اور جس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر وہ اس کو نازل کرتا ہے ، اس پورے سلسلے میں کسی جگہ بھی شیاطین کو کان لگا کر سننے تک کا موقع نہیں ملتا ۔ وہ آس پاس کہیں پھٹکنے بھی نہیں پاتے کہ سن گن لے کر ہی کوئی بات اچک لے جائیں اور جا کر اپنے دوستوں کو بتا سکیں کہ آج محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ پیغام سنانے والے ہیں ، یا ان کی تقریر میں فلاں بات کا بھی ذکر آنے والا ہے ( مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، الحجر ، حواشی 8 تا 12 ۔ جلد چہارم ، الصافات ، حواشی 5 تا 7 اور سورہ جن ، آیات 8 ۔ 9 ۔ 27 ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:212) لمعزولون لام تاکید کے لئے ہے معزولون اسم مفعول جمع مذکر۔ عزل مصدر (باب ضرب) الگ کئے ہوئے۔ یعنی روکے گئے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

5 ۔ اب کسی طرح ممکن نہیں کہ آسمان پر چڑھ کر اللہ کی وحی سن سکیں اور قرآن کریم کا ایک حرف بھی اچک لائیں۔ (دیکھئے حجر :…، سورة الجن، 8 ۔ 9)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(212) کیونکہ وہ شیاطین آسمانی خبروں کے سننے ہی سے روک دئیے گئے ہیں اور دور کردئیے گئے ہیں۔ یعنی کہاں قرآن کریم کی پاکیزہ تعلیم اور خد ا پرستی اور تعلیم کی اخلاقی بلندی اور کہاں شیاطین کی گمراہی اور کج روہی قرآنی تعلیم سے ان کو کیا مناسب جو گمراہی کے ٹھیکہ دار ہوں ان سے ایسی مقدس اور بلند ترین تعلیم کہاں بن آسکتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ شیاطین کو تو نزول قرآن کے وقت سننے سے بھی معزول کردیا گیا ہے کسی شیطان کی مجال نہیں کہ وہ سن بھی سکے اصلاح خلق کی جو تعلیم نازل ہوئی ہے وہ اس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتے یہ بات دوسری ہے کہ اصلاح خلق اور قرآنی تعلیم کے علاوہ کوئی بات بھاگتے دوڑتے سن بھاگیں اور اس میں دس بیس جھوٹی باتیں ملا کر کاہنوں کو بتادیں جیسا کہ آگے آتا ہے تو ایسی باتوں کا قرآن کریم سے اور نزول قرآن سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ اس بات میں کوئی تنافی اور تضاد ہے۔