Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 64

سورة الشعراء

وَ اَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِیۡنَ ﴿ۚ۶۴﴾

And We advanced thereto the pursuers.

اور ہم نے اسی جگہ دوسروں کو نزدیک لا کھڑا کر دیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Then We brought near the others to that place. Ibn Abbas, Ata' Al-Khurasani, Qatadah and As-Suddi said: وَأَزْلَفْنَا (Then We brought near) means, "We brought Fir`awn and his troops near to the sea." وَأَنجَيْنَا مُوسَى وَمَن مَّعَهُ أَجْمَعِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

641اس سے مراد فرعون اور اس کا لشکر ہے یعنی ہم نے دوسروں کو سمندر کے قریب کردیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٥] اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر بنی اسرائیل کے لئے نجات کی راہ پیدا کردی۔ اور بنی اسرائیل اس میں سے گزر کر بخیر و عافیت اس بحیرہ کے دوسرے کنارے پر پہنچ گئے اس وقت فرعون کا لشکر انہی راستوں سے گزر کر سمندر پاکر کرنے کی تیاریاں کر رہا تھا۔ شاید اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خیال آیا ہو تو اب دوبارہ سمندر پر اپنا عصا ماریں۔ تاکہ پانی پھر سے آپس میں مل جائے اور فرعون کا لشکر ان تک نہ پہنچنے پائے لیکن اسی وقت اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی کہ واترک البحر وھوا (٤٤: ٢٤) یعنی سمندر کو اسی حال میں پہاڑوں کی طرح کھڑا چھوڑ دو ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی صرف یہی نہیں تھی کہ بنی اسرائیل ان فرعونیوں سے نجات پاجائیں بلکہ یہ بھی تھی کہ اس ظالم قوم کو سمندر میں غرق کرکے صفحہ ہستی سے نیست و نابود کردیا جائے۔ فرعون اور آل فرعون اگر بنی اسرائیل کا تعاقب نہ کرتے یا سمندر سے ہی واپس چلے جاتے تو ان کا صرف اتنا ہی نقصان ہوتا کہ ایک غلام قوم ہاتھ سے نکل گئی۔ مگر اللہ کی مشیت پوری ہو کے رہتی ہے۔ ان کی ہلاکت ہی انھیں مقام ہلاکت پر کھینچ لائی تھی۔ پھر جب انہوں نے سمندر میں کھلے راستے دیکھے۔ پھر بھی فرعون کو یہ خیال نہ آیا کہ ممکن ہے کہ سمندر میں اس طرح راستہ بن جانا ایک خرق عادات امر اور موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ ہو۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ فوراً اپنے گھوڑا انہی راستوں پر ڈال دیئے۔ اور جب فرعون کا پورا لشکر سمندر کی زد میں آگیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے پانی کو حکم دیا کہ وہ اپنی طبعی حالت پر واپس آجائے اور آپس میں مل جائے۔ چناچہ خدائی کے بلندو بانگ دعویٰ کرنے والا فرعون اپنے تمام اہلیان سلطنت اور لاؤ لشکر سمیت اس سمندر میں غرق ہوگیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِيْنَ ” أَزْلَفَ یُزْلِفُ “ قریب کرنا۔ ” ثَمَّ “ وہاں، اس جگہ۔ ” الاخرین “ دوسرے لوگ یعنی فرعون کی قوم۔ ” الْاٰخَرِيْنَ “ کا مطلب یہ ہے کہ اس عظیم الشان موقع پر ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو مسلمانوں کے قریب پہنچا دیا۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا خاص تصرّف تھا کہ فرعون اور اس کی قوم سمندر میں داخل ہوگئی، ورنہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ فرعون جیسا مادہ پرست ایسے خوفناک منظر کو دیکھتے ہوئے کیسے سمندر میں داخل ہوگیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو اپنی طرف منسوب کرکے جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ فرمایا کہ اس موقع پر ہم انھیں قریب لے آئے، ورنہ وہ کہاں قریب آنے والے تھے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِيْنَ۝ ٦٤ۚ زلف الزُّلْفَةُ : المنزلة والحظوة «2» ، وقوله تعالی: فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً [ الملک/ 27] وقیل لمنازل اللیل : زُلَفٌ قال : وَزُلَفاً مِنَ اللَّيْلِ [هود/ 114] ( ز ل ف ) الزلفۃ اس کے معنی قریب اور مرتبہ کے ہیں چناچہ آیت : ۔ فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً [ الملک/ 27] سو جب وہ قریب دیکھیں گے ۔ اور منازل لیل یعنی رات کے حصوں کو بھی زلف کہا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَزُلَفاً مِنَ اللَّيْلِ [هود/ 114] اور رات کے کچھ حصوں میں۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٤) اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو بھی اس کے قریب پہنچا دیا اور دریا میں اتار دیا اور یہ سب کے سب کافر تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٤ (وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَ ) ” جب سمندر پھٹ گیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر اس راستے سے نکل گئے۔ عین اس وقت ان کے پیچھے فرعون بھی آپہنچا اور اس نے بھی اپنا لشکر اسی راستے پر ڈال دیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :48 یعنی فرعون اور اس کے لشکر کو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

16: یعنی فرعون کے لشکر نے جب دیکھا کہ سمندر کے درمیان راستے بنے ہوئے ہیں، تو اس نے بھی اس راستے سے گذرنے کی کوشش کی، لیکن جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو اپنی اصل حالت پر لوٹا دیا، اور فرعون اور اس کے ساتھ اسی سمندر میں غرق ہوگئے۔ یہ تفصیل سورۃ یونس :91، 92 میں گذر چکی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:64) ازلفنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے قریب کردیا۔ ازلاف (افعال) سے الزلفۃ کے معنی قرب اور مرتبہ کے ہیں۔ منازل شب یعنی رات کے حصوں کو بھی زلف کہا جاتا ہے جیسے وزلفا من اللیل (11:114) اور رات کے کچھ حصوں میں ۔ ثم۔ وہاں۔ اس جگہ۔ اسم اشارہ ہے۔ وازلفنا ثم الاخرین۔ اور ہم نے دوسروں کو بھی (دوسرے گروہ یعنی لشکر فرعون کو بھی) وہاں پہنچا دیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی بنی اسرائیل تو امن و اطمینان سے دریا کے پار ہوگئے، اور فرعون اور فرعونی بھی دریا کے نزدیک پہنچے، اور کھلے ہوئے رستوں کو غنیمت سمجھا، اور آگا پیچھا کچھ سوچا نہیں سارا لشکر اندر گھس گیا، اور طرف سے پانی سمٹنا شروع ہوا، اور سارے لشکر کا کام تمام ہوا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

32:۔ جب بنی اسرائیل سمندر کے خشک راستوں سے گذر رہے تھے اس وقت ہم نے دوسروں یعنی قوم فرعون کو بھی سمندر کے قریب کردیا۔ جب انہوں نے یہ راستے دیکھے تو وہ بھی سمندر میں گھس گئے۔ ” فانجینا موسیٰ الخ “ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے صحیح سلامت دوسرے کنارے پہنچا دیا ” ثم اغرقنا الاخرین “ لیکن فرعون اور اس کی قوم کو غرق کردیا۔ ” ان فی ذلک لایۃ الخ “ عبرت حاصل کرنے کے لیے یہ کافی دلیل ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ضد وعناد کی وجہ سے نہیں مانتے۔ اللہ تعالیٰ ایسا غالب ہے کہ وہ سرکش اور معاند لوگوں کو فوراً پکڑ سکتا ہے لیکن یہ اس کی مہربانی ہے کہ وہ مہلت دیدیتا ہے تاکہ مزید سوچنے سمجھنے کا موقع مل جائے۔ بنی اسرائیل کو سمندر میں خشک راستے بنا کر اللہ ہی نے پار اتارا اور قوم فرعون کو بھی اسی ہی نے غرق کیا اس سے معلوم ہوا کہ جب یہ سارے کام اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے تو برکات بھی وہی دیتا ہے اور کوئی نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

64۔ اور ہم نے دوسرے فریق کو اس موقع کے قریب کردیا یعنی اتنی دیر میں فرعون اور اہل فرعون بھی دریا کے قریب پہونچ گئے چونکہ بنی اسرائیل دوسرے کنارے پہونچ کر دریائی راستہ طے کرچکے تھے اس کو فرمایا۔