Surat us Shooaraa

Surah: 26

Verse: 80

سورة الشعراء

وَ اِذَا مَرِضۡتُ فَہُوَ یَشۡفِیۡنِ ﴿۪ۙ۸۰﴾

And when I am ill, it is He who cures me

اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And when I am ill, it is He Who cures me. Here he attributed sickness to himself, even though it is Allah Who decrees it, out of respect towards Allah. By the same token, Allah commands us to say in the prayer, اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (Guide us to the straight way) (1:6) to the end of the Surah. Grace and guidance are attributed to Allah, may He be exalted, but the subject of the verb with reference to anger is omitted, and going astray is attributed to the people. This is like when the Jinn said: وَأَنَّا لاَ نَدْرِى أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِى الاٌّرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَداً And we know not whether evil is intended for those on earth, or whether their Lord intends for them a right path. (72:10) Similarly, Ibrahim said: وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ (And when I am ill, it is He Who cures me). meaning, `when I fall sick, no one is able to heal me but Him, Who heals me with the means that may lead to recovery'. وَالَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحْيِينِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

801بیماری کو دور کر کے شفا عطا کرنے والا بھی وہی ہے یعنی دواؤں میں شفا کی تاثیر بھی اسی کے حکم سے ہوتی ہے۔ ورنہ دوائیں بھی بےاثر ثابت ہوتی ہیں بیماری بھی اگرچہ اللہ کے حکم اور مشیت سے ہی آتی ہے لیکن اس کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی بلکہ اپنی طرف کی یہ گویا اللہ کے ذکر میں اس کے ادب و احترام کے پہلو کو ملحوظ رکھا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٦] حضرت ابراہیم نے بیماری کی نسبت اللہ تعالیٰ کی بجائے اپنی طرف فرمائی تو یہ محض اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اپنی کسر نفسی کی بنا پر ایسا کہا۔ ورنہ بیماری اور شفا سب کچھ اللہ ہی طرف سے ہوتا ہے۔ اب بیماری اور شفا کے متعلق اللہ تعالیٰ کا مطالبہ یہ ہے کہ ہر جاندار کی طبیعت ہے اس کی سب سے بڑی معالج ہوتی ہے۔ بدن میں کسی مقام پر بھی کوئی نقص واقع ہوجائے تو طبیعت فوراً ادھر متوجہ ہوجاتی ہے۔ باہر سے کوئی آفت پڑنے کا خطرہ ہو تو ہر جاندار سے بلا ارادہ ایسی حرکات سرزد ہونے لگتی ہیں۔ جو اس کی اس آفت سے حفاظت کرسکیں اور دوائی کی ضرورت صرف اس وقت پیش آتی ہے جب طبیعت کی مدافعت سے معاملہ بڑھ جائے اور دوائی کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ طبیعت کا مدد کرتی ہے ورنہ اصل معالج طبیعت ہی ہوتی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے ہی بنائی ہے علاوہ ازیں دواؤں میں تاثیر اور خاصیت بھی اللہ کی پیدا کردہ ہے پھر کبھی دوا اپنا اثر دکھاتی ہے کبھی بےاثر ثابت ہوتی ہے اور کبھی الٹا اثر دکھاتی ہے اسی لئے کوئی حکیم یا ڈاکٹر یہ بات دعویٰ سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ فلاں مرض کا علاج کرکے شفا دے سکتا ہے۔ بلکہ ہر شخص اس معاملہ میں اپنے عجز کا اعتراف ان الفاظ میں کرتا ہے کہ شفا میں جانب اللہ ہوتا ہے۔ پھر جب شفا بخشنے میں اللہ کے علاوہ کسی دوسری ہستی کا دخل نہیں تو عبادت میں اللہ تعالیٰ کی سوا کوئی دوسرا کیسے شریک بنایا جاسکتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ : یعنی وہی ہے جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے، مگر میں جب اس کھانے پینے میں حد اعتدال سے گزر کر بیمار ہوتا ہوں، یا اپنی کسی اور غلطی کی وجہ سے بیمار ہوتا ہوں تو وہی ہے جو پھر مجھے شفا دے دیتا ہے۔ یہ پچھلی آیت کے ساتھ ایک لطیف مطابقت ہے۔ بعض طبیبوں کا کہنا ہے کہ اگر مردوں سے پوچھا جائے، تمہاری موت کا سبب کیا ہوا تو اکثر یہی کہیں گے کہ زیادہ کھانے سے، بدہضمی سے۔ 3 اگرچہ بیماری اور شفا دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، مگر ابراہیم (علیہ السلام) نے یہاں بیمار ہونے کی نسبت اپنی طرف کی ہے کہ ” جب میں بیمار ہوتا ہوں “ اور شفا دینے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے کہ ” فَهُوَ يَشْفِيْنِ “ (تو وہی مجھے شفا دیتا ہے) ، اس میں ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا ادب ملحوظ رکھا ہے کہ خیر و شر دونوں کا خالق ہونے کے باوجود شر کی نسبت اس کی طرف نہ کی جائے، جیسا کہ صحیح مسلم (٧٧١) کی ایک حدیث میں ہے : ( وَالشَّرُّ لَیْسَ إِلَیْکَ ) اور جیسا کہ سورة فاتحہ میں ” اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ “ میں انعام کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، مگر ” اَلْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ “ میں ” غضب “ اور ” ضلالت “ کی نسبت اس کی طرف نہیں ہے اور سورة کہف (٧٩ تا ٨٢) میں خضر (علیہ السلام) نے تینوں واقعات کی تاویل بیان کرتے وقت اس ادب کو خوب ملحوظ رکھا ہے اور سورة جن (١٠) میں جنوں نے بھی اس ادب کو ملحوظ رکھا ہے۔ ” فَهُوَ يَشْفِيْنِ “ میں بھی حصر ہے کہ وہی مجھے شفا دیتا ہے، کوئی اور نہیں، کیونکہ اور بھی بیشمار ہستیاں ہیں جن کو لوگوں نے شفا دینے والے سمجھ رکھا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذَا مَرِضْتُ فَہُوَيَشْفِيْنِ۝ ٨٠۠ۙ مرض الْمَرَضُ : الخروج عن الاعتدال الخاصّ بالإنسان، وذلک ضربان : الأوّل : مَرَضٌ جسميٌّ ، وهو المذکور في قوله تعالی: وَلا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ [ النور/ 61] ، وَلا عَلَى الْمَرْضى[ التوبة/ 91] . والثاني : عبارة عن الرّذائل کالجهل، والجبن، والبخل، والنّفاق، وغیرها من الرّذائل الخلقيّة . نحو قوله : فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] ، أَفِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَمِ ارْتابُوا [ النور/ 50] ، وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَتْهُمْ رِجْساً إِلَى رِجْسِهِمْ [ التوبة/ 125] . وذلک نحو قوله : وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً مِنْهُمْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْياناً وَكُفْراً [ المائدة/ 64] ويشبّه النّفاق والکفر ونحوهما من الرذائل بالمرض، إما لکونها مانعة عن إدراک الفضائل کالمرض المانع للبدن عن التصرف الکامل، وإما لکونها مانعة عن تحصیل الحیاة الأخرويّة المذکورة في قوله : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ لَوْ كانُوا يَعْلَمُونَ [ العنکبوت/ 64] ، وإمّا لمیل النّفس بها إلى الاعتقادات الرّديئة ميل البدن المریض إلى الأشياء المضرّة، ولکون هذه الأشياء متصوّرة بصورة المرض قيل : دوي صدر فلان، ونغل قلبه . وقال عليه الصلاة والسلام : «وأيّ داء أدوأ من البخل ؟» «4» ، ويقال : شمسٌ مریضةٌ: إذا لم تکن مضيئة لعارض عرض لها، وأمرض فلان في قوله : إذا عرّض، والتّمریض القیام علی المریض، وتحقیقه : إزالة المرض عن المریض کالتّقذية في إزالة القذی عن العین . ( م ر ض ) المرض کے معنی ہیں انسان کے مزاج خصوصی کا اعتدال اور توازن کی حد سے نکل جانا اور یہ دوقسم پر ہے ۔ مرض جسمانی جیسے فرمایا : وَلا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ [ النور/ 61] اور نہ بیمار پر کچھ گناہ ہے ۔ وَلا عَلَى الْمَرْضى[ التوبة/ 91] اور نہ بیماروں پر ۔ دوم مرض کا لفظ اخلاق کے بگڑنے پر بولا جاتا ہے اور اس سے جہالت بزدلی ۔ بخل ، نفاق وغیرہ جیسے اخلاق رزیلہ مراد ہوتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] ان کے دلوں میں کفر کا مرض تھا ۔ خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کردیا ۔ أَفِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَمِ ارْتابُوا [ النور/ 50] گناہ ان کے دلوں میں بیماری ہے یا یہ شک میں ہیں ۔ وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَتْهُمْ رِجْساً إِلَى رِجْسِهِمْ [ التوبة/ 125] اور جن کے دلوں میں مرض ہے ۔ ان کے حق میں خبث پر خبث زیادہ کیا ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً مِنْهُمْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْياناً وَكُفْراً [ المائدة/ 64] اور یہ ( قرآن پاک) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر بڑھے گا ۔ اور نفاق ، کفر وغیرہ اخلاق رذیلہ کی ( مجاز ) بطور تشبیہ مرض کہاجاتا ہے ۔ یا تو اس لئے کہ اس قسم کے اخلاق کسب فضائل سے مائع بن جاتے ہیں ۔ جیسا کہ بیماری جسم کو کامل تصرف سے روک دیتی ہے ۔ اور یا اس لئے اخروی زندگی سے محرومی کا سبب بنتے ہیں ۔ جس قسم کی زندگی کا کہ آیت کریمہ : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ لَوْ كانُوا يَعْلَمُونَ [ العنکبوت/ 64] اور ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے کاش کہ یہ لوگ سمجھتے ۔ میں ذکر پایا جاتا ہے ۔ اور یا رذائل کو اس چونکہ ایسے اخلاق بھی ایک طرح کا مرض ہی ہیں اس لئے قلب وصدر میں کینہ و کدورت پیدا ہونے کے لئے دوی صدر فلان وبخل قلبہ وغیر محاورات استعمال ہوتے ہیں ایک حدیث میں ہے : وای داء ادوء من ا لبخل اور بخل سے بڑھ کر کونسی بیماری ہوسکتی ہے ۔ اور شمس مریضۃ اس وقت کہتے ہیں جب گردہ غبار یا کسی اور عاضہ سے اس کی روشنی ماند پڑجائے ۔ امرض فلان فی قولہ کے معنی تعریض اور کنایہ سے بات کرنے کے ہیں ۔ المتریض تیمار داری کرنا ۔ اصل میں تمریض کے معنی مرض کو زائل کرنے کے ہیں اور یہ ۔ تقذبۃ کی طرح سے جس کے معنی آنکھ سے خاشاگ دور کرنا کے ہیں ۔ شفا والشِّفَاءُ من المرض : موافاة شفا السّلامة، وصار اسما للبرء . قال في صفة العسل : فِيهِ شِفاءٌ لِلنَّاسِ [ النحل/ 69] ، وقال في صفة القرآن : هُدىً وَشِفاءٌ [ فصلت/ 44] ، وَشِفاءٌ لِما فِي الصُّدُورِ [يونس/ 57] ، وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ [ التوبة/ 14] . ( ش ف و ) شفا الشفاء ( ض ) من المرض سلامتی سے ہمکنار ہونا یعنی بیماری سے شفا پانا یہ مرض سے صحت یاب ہونے کے لئے بطور اسم استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں شہد کے متعلق فرمایا : فِيهِ شِفاءٌ لِلنَّاسِ [ النحل/ 69] اس میں لوگوں کے ( امراض کی ) شفا ہے ۔ هُدىً وَشِفاءٌ [ فصلت/ 44] وہ ہدایت اور شفا ہے ۔ وَشِفاءٌ لِما فِي الصُّدُورِ [يونس/ 57] وہ دلوں کی بیماریوں کی شفا ہے ۔ ، وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ [ التوبة/ 14] اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٠ تا ٨٢) اور جس وقت میں بھوکا اور پیاسا ہوتا ہوں تو خوب کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو وہ ہی مجھے شفا دیتا ہے اور جو مجھے دنیا میں موت دے گا پھر قیامت کے روز مجھے زندہ کرے گا اور جس سے مجھے یہ امید ہے کہ وہ میری غلط کاری کو قیامت کے دن معاف فرمائے گا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا تھا کہ میں بیمار ہوں اور قوم سے کہہ دیا تھا کہ بڑے بت نے ایسا کیا ہوگا اور اپنی بیوی کو بادشاہ کی وجہ سے بہن کہہ دیا تھا (غالبا حضور خداوندی میں ان چیزوں کو بھی غلطی میں شمار فرما رہے ہیں ) ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٠ (وَاِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیْنِ ) ” یہاں یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیماری کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور شفا کو اللہ تعالیٰ کی طرف۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

58 The second reason for worshipping Allah and Allah alone is that Allah had not become unconcerned with man after creating him and let him alone to see other supporters for help, but had also taken the responsibility of making arrangements for his guidance, protection and fulfilment of his needs. The moment a human child is born, milk is produced for it in the breasts of its mother, and some unseen power teaches it the way to suck it and take it down the throat. From the first day of his life till his death, the Creator has provided in the world around him all necessary means required for every stage of his life for his development and guidance, sustenance and survival. He has also endowed him with all those powers and abilities which are needed to use the means with advantage and given him all necessary guidance for every sphere of life. Then for the protection of human life against all sorts of disease, germs and poisons, He has created such effective antidotes that they have not yet been fully encompassed by human knowledge. If these natural arrangements had not been made, even a thorn-prick would have proved fatal. When this all-pervading mercy and providence of the Creator is supporting and sustaining man at all times in every way, there could be no greater folly and ingratitude on the part of man than this that he should bow down before others than Allah and seek their help in need and trouble.

سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :58 یہ دوسری وجہ ہے اللہ اور اکیلے اللہ ہی کے مستحق عبادت ہونے کی ۔ اگر اس نے انسان کو بس پیدا ہی کر کے چھوڑ دیا ہوتا اور آگے اس کی خبر گیری سے وہ بالکل بے تعلق رہتا ، تب بھی کوئی معقول وجہ اس امر کی ہو سکتی تھی کہ انسان اس کے علاوہ کسی دوسری طرف بھی سہارے ڈھونڈنے کے لیے رجوع کرتا ۔ لیکن اس نے تو پیدا کرنے کے ساتھ رہنمائی ، پرورش ، نگہداشت ، حفاظت اور حاجت روائی کا ذمہ بھی خود ہی لے لیا ہے ۔ جس لمحے انسان دنیا میں قدم رکھتا ہے اسی وقت ایک طرف اس کی ماں کے سینے میں دودھ پیدا ہو جاتا ہے تو دوسری طرف کوئی ان دیکھی طاقت اسے دودھ چوسنے اور حلق سے اتارنے کا طریقہ سکھا دیتی ہے ۔ پھر اس تربیت و رہنمائی کا سلسلہ اول روز پیدائش سے شروع ہو کر موت کی آخری ساعت تک برابر جاری رہتا ہے ۔ زندگی کے ہر مرحلے میں انسان کو اپنے وجود اور نشو و نما اور بقاء و ارتقاء کے لیے جس جس نوعیت کے سر و سامان کی حاجت پیش آتی ہے وہ سب اس کے پیدا کرنے والے نے زمین سے لے کر آسمان تک ہر طرف مہیا کر دیا ہے ۔ اس سر و سامان سے فائدہ اٹھانے اور کام لینے کے لیے جن جن طاقتوں اور قابلیتوں کی اس کو حاجت پیش آتی ہے وہ سب بھی اس کی ذات میں ودیعت کر دی ہیں ۔ اور ہر شعبہ حیات میں جس جس طرح کی رہنمائی اس کو درکار ہوتی ہے اس کا بھی پورا انتظام اس نے کر دیا ہے ۔ اس کے ساتھ اس نے انسانی وجود کی حفاظت کے لیے اور اس کو آفات سے ، بیماریوں سے ، مہلک جراثیم سے اور زہریلے اثرات سے بچانے کے لیے خود اس کے جسم میں اتنے زبردست انتظامات کیے ہیں کہ انسان کا علم ابھی تک ان کا پورا احاطہ بھی نہیں کر سکا ہے ۔ اگر یہ قدرتی انتظامات موجود نہ ہوتے تو ایک معمولی کانٹا چبھ جانا بھی انسان کے لیے مہلک ثابت ہوتا اور اپنے علاج کے لیے آدمی کی کوئی کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکتی ۔ خالق کی یہ ہمہ گیر رحمت و ربوبیت جب ہر آن ہر پہلو سے انسان کی دست گیری کر رہی ہے تو اس سے بڑی حماقت و جہالت اور کیا ہو سکتی ہے ، اور اس سے بڑھ کر احسان فراموشی بھی اور کونسی ہو سکتی ہے کہ انسان اس کو چھوڑ کر کسی دوسری ہستی کے آگے سر نیاز جھکائے اور حاجت روائی و مشکل کشائی کے لیے کسی اور کا دامن تھامے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

17: حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ادب ملاحظہ فرمائیے کہ انہوں نے بیمار ہونے کی نسبت تو اپنی طرف فرمائی، اور شفا دینے کو اللہ تعالیٰ کا عمل قرار دیا، اس میں یہ اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ بیماری انسان کی کسی اپنی غلطی کے سبب آتی ہے اور شفا براہ راست اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(26:80) یشفین۔ مضارع واحد مذکر غائب شفاء مصدر نون وقایہ ی محذوف ضمیر مفعول واحد متکلم۔ وہ مجھے شفاء دیتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

9 ۔ بیماری ہو یا کوئی اور چیز سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے مگر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ازراہ ادب بیماری کو اپنی طرف اور شفا کو اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت دی۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

80۔ اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی مجھ کو شفا دیتا اور اچھا کردیتا ہے۔ یعنی رزق رسانی کا بھی وہی مالک ہے اور جس بیماری میں موت مقدر نہ ہو اس میں شفا دینے کا بھی وہی مالک یہاں کمال ادب کی رعایت رکھتے ہوئے مرض کو اپنی طرف اور شفاء کو اس کی جانب منسوب کیا۔