Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 29

سورة النمل

قَالَتۡ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَؤُا اِنِّیۡۤ اُلۡقِیَ اِلَیَّ کِتٰبٌ کَرِیۡمٌ ﴿۲۹﴾

She said, "O eminent ones, indeed, to me has been delivered a noble letter.

وہ کہنے لگی اے سردارو! میری طرف ایک باوقعت خط ڈالا گیا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالَتْ ... She said: (said to them), ... يَا أَيُّهَا المَلَاُ إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ "O chiefs! Verily, here is delivered to me a noble letter." She described it as such because of the wondrous things she had seen, that it was delivered by a bird who threw it to her, then stood aside out of good manners. This was something that no king could do. Then she read the letter to them: إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَتْ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّىْٓ اُلْقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ ۔۔ : چناچہ اس نے اپنی سلطنت کے سرداروں اور مشیروں کو جمع کیا اور انھیں مخاطب کرکے کہا : ” اے سردارو ! میری طرف ایک بہت عزت والا خط پھینکا گیا ہے۔ “ ملکہ نے اس خط کو بہت عزت والا اس لیے کہا کہ ایک تو وہ عجیب و غریب اور غیر معمولی طریقے سے آیا تھا، کسی سفارتی وفد کے بجائے ایک پرندے نے اسے لا پھینکا تھا۔ دوسرے وہ سلیمان جیسے باشکوہ بادشاہ کی طرف سے تھا جو شام و فلسطین اور اردگرد کے علاقوں کے فرماں روا تھے۔ تیسرے اس کی ابتدا بتوں یا دیوتاؤں کے نام کے بجائے اللہ رحمٰن ورحیم کے نام سے تھی، پھر اتنا مختصر اور جامع کہ لکھنے والے کی پوری مراد چند لفظوں میں مکمل ادا ہو رہی تھی اور اس نے نہایت بارعب اور پُر ہیبت لہجے میں صاف صاف حکم دیا تھا کہ سرکشی چھوڑ کر اطاعت کرو اور تابع فرمان یا مسلمان بن کر اس کے سامنے حاضر ہوجاؤ۔ 3 اس خط سے خط لکھنے کے کئی آداب معلوم ہو رہے ہیں، ایک یہ کہ خط لکھنے والے کو خط کے شروع میں اپنا تعارف کرانا ضروری ہے کہ یہ خط کس کی طرف سے ہے۔ دوسرا یہ کہ خط کی ابتدا ” بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ “ سے ہونی چاہیے۔ تیسرا یہ کہ خط مختصر، جامع اور واضح ہونا چاہیے۔ قرآن میں مذکور الفاظ کے مطابق خط لکھنے والے کا نام ” بِسْمِ اللّٰهِ “ سے پہلے ہے، مگر مفسرین فرماتے ہیں کہ ملکہ چونکہ اپنے الفاظ میں خط کا تذکرہ کر رہی تھی، اس لیے اس نے ” مِنْ سُلَيْمٰنَ “ کا ذکر پہلے کردیا، ورنہ ” بِسْمِ اللّٰهِ “ اس سے پہلے ہے، جیسا کہ ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطوط سے واضح ہے کہ ان میں ابتدا اس طرح ہوتی ہے : ( بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہِ اِلٰی ھِرَقْلَ عَظِیْمِ الرُّوْمِ ۔۔ ) [ بخاري، بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي : ٧ ] ” وَاْتُوْنِيْ مُسْلِمِيْنَ “ کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ ” میرے پاس تابع فرمان بن کر آجاؤ۔ “ یہ شاہی جلال کا آئینہ دار ہے، دوسرا یہ کہ مسلمان ہو کر میرے پاس آجاؤ، یہ پیغمبرانہ شان کا اظہار ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) میں دونوں صفات موجود تھیں، اس لیے مطلب یہ ہوگا کہ مسلمان بن کر میرے پاس حاضر ہوجاؤ، اگر اسلام قبول نہیں تو تابع فرمان تمہیں ہر حال میں ہونا پڑے گا۔ فرمایا : (حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ ) [ التوبۃ : ٢٩ ] ” یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ دیں اور وہ حقیر ہوں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتَابٌ كَرِ‌يمٌ She (the queen) said (to her officials after receiving the letter), |"0 chieftains, there has been thrown to me an esteemed letter, 27:29. Literal meaning of Karim is respectable, honorable or esteemed, and idiomatically this word is used for a letter when it is sealed. This is why Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) ، Qatadah, Zohair رحمۃ اللہ علیہما etc. have interpreted the expression کِتَابپ کَرِیم as the sealed book, which indicates that Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) had put his seal on the letter. When the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) learnt about the tradition of the non-Arab kings that they do not read the letter if it is not sealed, he got a seal made for himself, and used it on the letters he sent to Caesar and Chosro. It shows that the practice of sealing a letter is to show respect to the letter as well as to the addressee. The present day practice is to secure the letter in an envelope, which is as good as sealing it. Where show of respect to the addressee is intended, it is closer to the practice of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to secure it in an envelope. The language of the letter of Sulaiman Although Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) was not an Arab, yet it is not unlikely that he knew the Arabic language, especially when he knew the languages of the animals. As the Arabic language is supreme among all the languages, it is possible that he might have written the letter in Arabic. It is also probable because Bilqis was an Arab by race, and she read the letter and understood it. The other probability is that he had written the letter in his own language and an interpreter read it for her. (Ruh)

خلاصہ تفسیر (سلیمان (علیہ السلام) نے ہدہد سے یہ گفتگو کر کے بلقیس کے نام ایک خط لکھا جس کا مضمون آگے قرآن میں مذکور ہے اور ہدہد کے حوالہ کیا وہ اس کو چونچ میں لے کر چلا اور اکیلے یا مجلس میں بلقیس کے پاس ڈال دیا) بلقیس نے (پڑھ کر اپنے سرداروں کو مشورہ کے لئے جمع کیا اور) کہا کہ اے اہل دربار میرے پاس ایک خط (جس کا مضمون نہایت) باوقعت (اور عظیم الشان ہے) ڈالا گیا ہے (باوقعت اس لئے کہا کہ حاکمانہ مضمون ہے جس میں باوجود انتہائی اختصار کے اعلی درجہ کی بلاغت ہے اور) وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور اس میں یہ (مضمون) ہے (اول) بسم اللہ الرحمن الرحیم ( اور اس کے بعد یہ کہ) تم لوگ (یعنی بلقیس اور سب ارکان بادشاہت جن کے ساتھ عوام بھی وابستہ ہیں) میرے مقابلہ میں تکبر مت کرو اور میرے پاس تابعدار ہو کر چلے آؤ۔ (مقصود تمام کو دعوت دینا ہے اور یہ لوگ سلیمان (علیہ السلام) کا یا تو پہلے حال سن چکے ہوں گے گو سلیمان (علیہ السلام) ان لوگوں کو نہ جانتے ہوں، اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بڑے چھوٹوں کو نہیں جانتے اور چھوٹے بڑوں کو جانا کرتے ہیں اور یا خط آنے کے بعد تحقیق کرلیا ہوگا اور خط کے مضمون کی اطلاع دینے کے بعد) بلقیس نے (یہ) کہا کہ اے اہل دربار تم مجھ کو میرے اس معاملہ میں رائے دو (کہ مجھ کو سلیمان کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہئے) اور میں (کبھی) کسی بات کا قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک کہ تم میرے پاس موجود نہ ہو (اور اس میں شریک و مشیر نہ ہو) وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم (اپنی ذات سے ہر طرح سے حاضر ہیں، اگر مقابلہ اور لڑنا مصلحت سمجھا جاوے تو ہم) بڑے طاقتور اور بڑے لڑنے والے ہیں (اور آگے) اختیار تم کو ہے سو تم ہی (مصلحت) دیکھ لو جو کچھ (تجویز کر کے) حکم دینا ہو۔ بلقیس کہنے لگی کہ (میرے نزدیک لڑنا تو مصلحت نہیں کیونکہ سلیمان بادشاہ ہیں اور) بادشاہوں (کا قاعدہ ہے کہ وہ جب کسی بستی میں (مخالفانہ طور پر) داخل ہوتے ہیں تو اس کو تہہ وبالا کردیتے ہیں اور اس کے رہنے والوں میں جو عزت دار ہیں ان کو (ان کا زور گھٹانے کے لئے) ذلیل (و خوار) کیا کرتے ہیں اور (ان سے لڑائی کی جاوے تو ممکن ہے کہ ان ہی کو غلبہ ہو تو پھر) یہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے (تو بےضرورت پریشانی میں پڑنا خلاف مصلحت ہے لہٰذا جنگ کو تو ابھی ملتوی کیا جاوے) اور (سردست یوں مناسب ہے کہ) میں ان لوگوں کے پاس کچھ ہدیہ (کسی آدمی کے ہاتھ بھیجتی ہوں) پھر دیکھوں گی کہ وہ بھیجے ہوئے (وہاں سے) کیا (جواب) لے کر آتے ہیں (اس وقت دوبارہ غور کیا جاوے گا۔ چناچہ ہدیوں اور تحفوں کا سامان درست ہوا اور قاصد اس کو لے کر روانہ ہوا) جب وہ قاصد سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پہنچا (اور تمام ہدیے پیش کئے) تو سلیمان (علیہ السلام نے) فرمایا کیا تم لوگ (یعنی بلقیس اور بلقیس والے) مال سے میری امداد کرنا (چاہتے) ہو (اس لئے ہدیئے لائے ہو) سو (سمجھ رکھو کہ) اللہ نے جو کچھ مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تم کو دے رکھا ہے (کیونکہ تمہارے پاس صرف دنیا ہے اور میرے پاس دین بھی اور دنیا بھی تم سے زیادہ لہٰذا میں تو ان چیزوں کا حریص نہیں ہوں) ہاں تم ہی اپنے ہدیئے پر فخر کرتے ہوگے (لہٰذا یہ ہدیئے ہم نہ لیں گے) تم (ان کو لے کر) ان لوگوں کے پاس لوٹ جاؤ (اگر وہ اب بھی ایمان لے آویں تو درست ورنہ) ہم ان پر ایسی فوجیں بھیجتے ہیں کہ ان لوگوں سے ان کا ذرا مقابلہ نہ ہو سکے گا اور ہم ان کو وہاں سے ذلیل کر کے نکال دیں گے اور وہ (ذلت کے ساتھ ہمیشہ کے لئے) ماتحت (اور رعایا) ہوجاویں گے (یہ نہیں کہ نکالنے کے بعد آزادی سے چھوڑ دیئے جاویں کہ جہاں چاہیں چلے جاویں بلکہ ہمیشہ کی ذلت ان کے لئے لازمی ہوجاوے گی۔ ) معارف و مسائل قَالَتْ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤ ُ ا اِنِّىْٓ اُلْقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ، کریم کے لفظی معنی معزز مکرم کے ہیں اور محاورہ میں کسی خط کو معزز مکرم جب کہا جاتا ہے جبکہ اس پر مہر لگائی گئی ہو۔ اس لئے اس آیت میں کتاب کریم کی تفسیر حضرت ابن عباس، قتادہ زہیر وغیرہ نے کتاب مختوم سے کی ہے جس سے معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے خط پر اپنی مہر ثبت فرمائی تھی۔ ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب ملوک عجم کی یہ عادت معلوم ہوئی کہ جس خط پر مہر نہ ہو اس کو نہیں پڑھتے تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی بادشاہوں کے خطوط کے لئے مہر بنوائی اور قیصر و کسری وغیرہ کو جو خطوط تحریر فرمائے ان پر مہر ثبت فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ خط پر مہر لگانا مکتوب الیہ کا بھی اکرام ہے اور اپنے خط کا بھی آج کل عادت خط کو لفافہ میں بند کر کے بھیجنے کی ہوگئی ہے۔ یہ بھی مہر کے قائم مقام ہے جس جگہ مکتوب الیہ کا اکرام منظور ہو، کھلا خط بھیجنے کے بجائے لفافہ میں بند کر کے بھجینا اقرب الی السنتہ ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط کس زبان میں تھا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) گو عربی نہ تھے لیکن عربی زبان جاننا اور سمجھنا آپ سے کوئی بعید بھی نہیں۔ جبکہ آپ پرندوں تک کی زبان جانتے تھے اور عربی زبان تو تمام زبانوں سے افضل و اشرف ہے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے خط عربی زبان میں لکھا ہو کیونکہ مکتوب الیہ (بلقیس) عربی النسل تھی اس نے خط کو پڑھا بھی اور سمجھا بھی اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے خط اپنی ہی زبان میں تحریر فرمایا ہو اور بلقیس کے پاس حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی زبان کا ترجمان ہو جس نے پڑھ کر خط سنایا اور سمجھایا ہو۔ (روح)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَتْ يٰٓاَيُّہَا الْمَلَؤُا اِنِّىْٓ اُلْقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ۝ ٢٩ ملأ المَلَأُ : جماعة يجتمعون علی رأي، فيملئون العیون رواء ومنظرا، والنّفوس بهاء وجلالا . قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] ، ( م ل ء ) الملاء ۔ وی جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو مظروں کو ظاہری حسن و جمال اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھردے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] نھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا ۔ لقی اللِّقَاءُ : مقابلة الشیء ومصادفته معا، وقد يعبّر به عن کلّ واحد منهما، يقال : لَقِيَهُ يَلْقَاهُ لِقَاءً ولُقِيّاً ولُقْيَةً ، ويقال ذلک في الإدراک بالحسّ ، وبالبصر، وبالبصیرة . قال : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] ، وقال : لَقَدْ لَقِينا مِنْ سَفَرِنا هذا نَصَباً [ الكهف/ 62] . ومُلَاقَاةُ اللہ عز وجل عبارة عن القیامة، وعن المصیر إليه . قال تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] ( ل ق ی ) لقیہ ( س) یلقاہ لقاء کے معنی کسی کے سامنے آنے اور اسے پالینے کے ہیں اور ان دونوں معنی میں سے ہر ایک الگ الگ بھی بولاجاتا ہے اور کسی چیز کا حس اور بصیرت سے ادراک کرلینے کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] اور تم موت ( شہادت ) آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے اور ملاقات الہی سے مراد قیامت کا بپا ہونا اور اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جانا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] اور جان رکھو کہ ایک دن تمہیں اس کے دوبرو حاضر ہونا ہے ۔ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو كرم الكَرَمُ إذا وصف اللہ تعالیٰ به فهو اسم لإحسانه وإنعامه المتظاهر، نحو قوله : فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] ، وإذا وصف به الإنسان فهو اسم للأخلاق والأفعال المحمودة التي تظهر منه، ولا يقال : هو كريم حتی يظهر ذلک منه . قال بعض العلماء : الكَرَمُ کالحرّيّة إلّا أنّ الحرّيّة قد تقال في المحاسن الصّغيرة والکبيرة، والکرم لا يقال إلا في المحاسن الکبيرة، كمن ينفق مالا في تجهيز جيش في سبیل الله، وتحمّل حمالة ترقئ دماء قوم، وقوله تعالی: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُمْ [ الحجرات/ 13] فإنما کان کذلک لأنّ الْكَرَمَ الأفعال المحمودة، وأكرمها وأشرفها ما يقصد به وجه اللہ تعالی، فمن قصد ذلک بمحاسن فعله فهو التّقيّ ، فإذا أكرم الناس أتقاهم، وكلّ شيء شرف في بابه فإنه يوصف بالکرم . قال تعالی: فَأَنْبَتْنا فِيها مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] ، وَزُرُوعٍ وَمَقامٍ كَرِيمٍ [ الدخان/ 26] ، إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ، وَقُلْ لَهُما قَوْلًا كَرِيماً [ الإسراء/ 23] . والإِكْرَامُ والتَّكْرِيمُ : أن يوصل إلى الإنسان إکرام، أي : نفع لا يلحقه فيه غضاضة، أو أن يجعل ما يوصل إليه شيئا كَرِيماً ، أي : شریفا، قال : هَلْ أَتاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْراهِيمَ الْمُكْرَمِينَ [ الذاریات/ 24] . وقوله : بَلْ عِبادٌ مُكْرَمُونَ [ الأنبیاء/ 26] أي : جعلهم کراما، قال : كِراماً كاتِبِينَ [ الانفطار/ 11] ، وقال : بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرامٍ بَرَرَةٍ [ عبس/ 15 16] ، وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ [يس/ 27] ، وقوله : ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] منطو علی المعنيين . ( ک ر م ) الکرم ۔ جب اللہ کی صفت ہو تو اس سے احسان وانعام مراد ہوتا ہے جو ذات باری تعالیٰ سے صادر ہوتا رہتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] تو میر اپروردگار بےپرواہ اور کرم کرنے والا ہے ۔ اور جب انسان کی صفت ہو تو پسندیدہ اخلاق اور افعال مراد ہوتے ہیں جو کسی انسان سے ظاہر ہوتے ہیں ۔ اور کسی شخص کو اس وقت تک کریمہ نہیں کہاجاسکتا جب تک کہ اس سے کرم کا ظہور نہ ہوچکا ہو ۔ بعض نے علماء کہا ہے کہ حریت اور کرم ہم معنی ہیں لیکن حریت کا لفظ جھوٹی بڑی ہر قسم کی خوبیوں پر بولا جا تا ہے اور کرم صرف بڑے بڑے محاسن کو کہتے ہیں مثلا جہاد میں فوج کے لئے سازو سامان مہیا کرنا یا کیس ایسے بھاری تا وان کو اٹھا لینا جس سے قوم کے خون اور جان کی حفاظت ہوتی ہو ۔ اور آیت : ۔ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُمْ [ الحجرات/ 13] اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا ہے جو زیادہ پرہیز گار ہیں ۔ میں القی یعنی سب سے زیادہ پرہیز گا ۔ کو اکرم یعنی سب سے زیادہ عزت و تکریم کا مستحق ٹہھر انے کی وجہ یہ ہے کہ کرم بہترین صفات کو کہتے ہیں اور سب سے بہتر اور پسند یدہ کام وہی ہوسکتے ہیں جن سے رضا الہیٰ کے حصول کا قصد کیا جائے لہذا جو جس قدر زیادہ پرہیز گار ہوگا اسی قدر زیادہ واجب التکریم ہوگا ۔ نیز الکریم ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنی چیز کو کہتے ہیں جو اپنی ہم نوع چیزوں میں سب سے زیادہ باشرف ہو چناچہ فرمایا : ۔ فَأَنْبَتْنا فِيها مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] پھر ( اس سے ) اس میں ہر قسم کی نفیس چیزیں اگائیں ۔ وَزُرُوعٍ وَمَقامٍ كَرِيمٍ [ الدخان/ 26] اور کھیتیاں اور نفیس مکان ۔ إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔ وَقُلْ لَهُما قَوْلًا كَرِيماً [ الإسراء/ 23] اور ان سے بات ادب کے ساتھ کرنا ۔ الا کرام والتکریم کے معنی ہیں کسی کو اس طرح نفع پہچانا کہ اس میں اس کی کسی طرح کی سبکی اور خفت نہ ہو یا جو نفع پہچا یا جائے وہ نہایت باشرف اور اعلٰی ہو اور المکرم کے معنی معزز اور با شرف کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ هَلْ أَتاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْراهِيمَ الْمُكْرَمِينَ [ الذاریات/ 24] بھلا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے ؛ اور آیت کریمہ : ۔ بَلْ عِبادٌ مُكْرَمُونَ [ الأنبیاء/ 26] کے معنی یہ ہیں کہ وہ اللہ کے معزز بندے ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ [يس/ 27] اور مجھے عزت والوں میں کیا ۔ كِراماً كاتِبِينَ [ الانفطار/ 11] عالی قدر تمہاری باتوں کے لکھنے والے ۔ بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرامٍ بَرَرَةٍ [ عبس/ 15 16] ( ایسے ) لکھنے والوں کے ہاتھوں میں جو سر دار اور نیوک کار ہیں ۔ اور آیت : ۔ ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] اور جو صاحب جلال اور عظمت ہے ۔ میں اکرام کا لفظ ہر دو معنی پر مشتمل ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ عزت و تکریم بھی عطا کرتا ہے اور باشرف چیزیں بھی بخشتا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٩ تا ٣٢) غرض کہ ہدہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے حکم کے مطابق ایسا ہی کیا اور اس خط کو حضرت بلقیس نے اٹھا لیا اور پڑھ کر اپنے سرداروں کو مشورہ کے لیے جمع کیا اور ان سے کہا کہ میرے پاس ایک مہر شدہ باوقعت خط ڈالا گیا ہے اور وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے ہے۔ اور اس میں یہ مضمون ہے کہ اول ،”۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم “۔ پھر یہ کہ تم لوگ میرے مقابلہ میں تکبر مت کرو اور میرے پاس مطیع وفرمانبردار ہو کر چلے آؤ۔ اس کے بعد حضرت بلقیس نے درباریوں سے فرمایا کہ تم مجھے اس معاملہ میں اپنی رائے اور مشورہ دو اور میں کبھی کسی معاملہ میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک کہ تم میرے پاس موجود نہ ہو اور مجھے مشورہ نہ دو ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:29) کتب کریم۔ موصوف صفت۔ کریم صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اس کی جمع کرام ہے۔ عزت والا۔ عمدہ۔ بڑا۔ کتب کریم معزز خط۔ مکتوب کا معزز ہونا تین وجہ سے ہوتا ہے۔ (1) مضمون کی عظمت کے لحاظ سے ۔ (2) بھیجنے والے کے اعلیٰ مرتبہ کے لحاظ سے۔ (3) خط کے مختوم ہونے کے لحاظ سے۔ حدیث میں ہے کرم الکتب ختمہ کتاب کی عظمت اس کی مہریں ہیں۔ اور ابن المقنع کا قول ہے من کتب الی اخیہ کتابا ولم یختمہ فقد استخف بہ جس نے اپنے بھائی کو خط لکھا اور اس پر مہر ثبت نہ کی تو اس نے اس کو حقیر جانا۔ بعض کے نزدیک کریم بوجہ اس کی عجیب و غریب نوعیت کے لئے۔ کریم لغرابۃ شانہ کہ بجائے کسی قاصد یا سفیر سلطنت کے اسے بذریعہ ایک پرندہ کے پہنچایا گیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

7 ۔ یعنی جو بلحاظ اپنے مضمون کے اور بلحاظ اپنے بھیجنے والے کے نہایت اہم اور عظیم الشان ہے اور کریم مختوم (مہر شدہ) کو بھی کہتے ہیں۔ (کبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ باوقعت اس لئے کہا کہ حاکمانہ مضمون ہے جس میں باوجود نہایت وجازت کے اعلی درجہ کی بلاغت ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : خط موصول ہوتے ہی ملکہ سبا نے اپنے وزیروں، مشیروں کا اجلاس بلایا اور انہیں کو خط پڑھ کر سنایا۔ ملکہ سبا نے خط موصول ہوتے ہی اسے اپنے وزیروں اور مشیروں کے سامنے پیش کیا اور اس پر مثبت ردِّ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے وزراء کرام ! میرے پاس سلیمان (علیہ السلام) کا قابل احترام خط پہنچا ہے جس کی ابتداء اللہ مہربان اور رحم کرنے والے کے نام سے کی گئی ہے۔ اس میں ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ میرے مقابلے میں سرکشی کرنے کی بجائے تابعدار ہو کر میرے حضور پیش ہوجاؤ۔ مشرک ہونے کے باوجود ملکہ نے خط کی ابتداء یعنی ” بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ “ سے اندازہ لگالیا تھا کہ خط لکھنے والے کے نظریات کیا ہیں۔ اس لیے اس نے اس سرکاری مراسلے کو تکریم کے ساتھ قوم کے زعماء کے سامنے پیش کیا۔ جس سے ملکہ بلقیس کی ذہانت اور شرافت کا پتہ چلتا ہے کیونکہ قدیم زمانے سے یہ اصول چلا آرہا ہے کہ سفارت کا کوئی بھی انداز ہو اس کا پورا پورا احترام کیا جانا چاہیے۔ حالانکہ خط میں بھی انتباہ تھا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنا نام خط کے مضمون کے بعد لکھنے کی بجائے پہلے لکھا تھا حالانکہ اس زمانے میں بڑے لوگ اپنا نام خط سے پہلے اور ان کی رعایا کے لوگ اپنا نام خط کے مضمون کے بعد لکھتے تھے۔ ملکہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے رعب کی وجہ سے دونوں باتوں کو حرف نظر کردیا۔ مرسل الیہ سے پہلے خط پر اپنا نام لکھنا انبیاء کرام (علیہ السلام) کا طریقہ ہے تاہم کسی بڑی شخصیت کو خط لکھتے وقت اپنا نام خط کے آخر میں لکھا جائے تو اہل علم کے نزدیک یہ بھی جائز ہے۔ خط اور تحریر سے پہلے ” بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ “ لکھنا انبیاء کرام (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ بِسْمِ اللّٰہِ کی فضیلت اور اہمیت : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے مطابق ہر کام کی ابتدا بسم اللہ سے کرنا چاہیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت مبارکہ اور ارشاد ات سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر کام کی ابتدا بسم اللہ سے کرنے سے مراد ہر موقعہ پر بسم اللہ کے الفاظ پڑھنا نہیں۔ بلکہ کام اور موقع کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا اور اس کا نام لینا ہے تاکہ اسم مبارک سے ابتدا کرتے ہوئے کام اور موقعہ کا احساس آدمی کو رب کریم کے قریب کردے جیسا کہ سونے اور نیند سے بیدار ہونے کے وقت دعا کے الفاظ احساس دلاتے ہیں۔ ہر آدمی کو ایسے ہی مرنا اور اٹھنا ہوگا۔ جانور ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینے سے تصور ابھرتا ہے کہ بڑائی اور کبریائی اللہ کی ذات کو زیبا ہے۔ یہ اللہ کا مال ہے اس پر کسی غیر کا نام لینے کی بجائے مالک حقیقی کا نام ہی لینا چاہیے۔ سواری پر برا جمان ہوتے ہوئے لفظ ” سُبْحَانَ الَّذِیْ “ سے دعا کرنے سے یہ خیال آنا چاہیے کہ جس مالک نے اس کو میرے تابع کیا ہے مجھے بھی اس ذات کبریا کا تابع فرمان ہونا چاہیے۔ سواری کو حاصل اور مطیع کرنا میرے بس کا روگ نہیں تھا۔ قرآن مجید کی تلاوت سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے : (فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ )[ النحل : ٩٨] ” جب قرآن مجید کی تلاوت شروع کرو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو۔ “ گویا کہ موقعہ کی مناسبت سے ہر کام کا آغاز رب کریم کے مبارک نام سے ہونا چاہیے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد میں یہ فلسفہ پایا جاتا ہے کہ جب کوئی کام شروع کیا جائے تو اس پر اللہ کا نام لیتے ہوئے احساس پیدا ہو کہ جو کام کرنا چاہتا ہوں وہ میرے لیے جائز بھی ہے یا نہیں۔ اگر کام حرام اور ناجائز ہو تو مومن کو اللہ کے نام کی لاج رکھتے ہوئے اس کام سے باز آنا چاہیے۔ جائز کام کی ابتدا میں بسم اللہ پڑھنے سے آدمی کا عقیدہ تازہ اور پختہ ہوجائے گا کہ اس کام کی ابتدا رحمن ورحیم کی مہربانی کا نتیجہ ہے اور اس کی تکمیل بھی اسی کے کرم سے ہوگی۔ (کُلُّ اَمْرٍ ذِیْ بَالٍ لَایُفْتَحُ بِذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَہُوَ اَبْتَرُ اَوْقَالَ اَقْطَعُ ) [ مسند احمد : کتاب باقی مسند المکثرین ] ” جس کام کی ابتدا اللہ کے ذکر سے نہ کی جائے وہ بےبرکت اور نامکمل ہے۔ “

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قالت ……مسلمین (١٣) وہ اپنی شوریٰ کو بتاتی ہے کہ اس کے دربار میں یہ خط پھینکا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ یہ خط پھینکا کس نے ہے اور کس طرح پھینکا ہے۔ اگر اسے معلوم ہوتا کہ اسے ہد ہد نے پھینکا ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے تو وہ اس کا اعلان کردیتی ہے۔ کیونکہ یہ ایک اور عجیب بات ہوتی اور یہ بات روزانہ کے معجزات تو تھے نہیں کہ ہد ہد خط پھینکتا تھا ، چونکہ اسنے صیغہ مجہول استعمال کیا ہے اور اللہ نے نقل کیا ہے لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ اسے معلوم نہ تھا کہ خط پھینکنے والا کون ہے۔ ملکہ اسے ایک معزز خط ” کتاب کریم “ کہتی ہے۔ شاید اس خط کے انداز تحریر ، اس کی مہر اور اس کے طریقہ تلخیف کی وجہ سے اس نے معلوم کیا ہو کہ یہ کوئی غیر معملوی خط ہے۔ نیز جب اس کے مضون سے اپنے مشیروں کو آگاہ کیا تو اس سے بھی اس کے دل میں اس خط کی مزید اہمیت بیٹھ گئی۔ جس کا مضمون یہ تھا۔ انہ من سلیمن ……اتونی مسلمین (٨٢ : ١٣) ” یہ خط لیمان کی طرف سے ہے اور یہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کیا گیا ہے اور مضمون یہ ہے ” میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور مسلم ہو کر میرے پاس حاضر ہو جائو۔ “ یہ مسلمان تو نہ تھی لیکن سلمیان (علیہ السلام) کی حکومت کا نشرو اس علاقے میں عام تھا۔ قرآن کریم نے اس خط کے الفاظ کو جس طرح نقل کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو ٹوک اور نہایت ہی رعب دار اور خوفناک مضمون کا خط تھا۔ اسی وجہ سے اس نے اسے کتاب کریم کہا۔ خط کا مضمون نہایت ہی سادہ ہے اور نہایت ہی پرتاثیر آغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے ہے اور مضمون صرف یہ ہے کہ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور میرے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے حاضر ہو جائو۔ میرے سامنے نہیں بلکہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے اور مسلمان بن کر آ جائو۔ ملکہ نے یہ کتاب اور یہ خط اپنے اہل حل و عقد کے سامنے رکھا اور ان سے اس کے بارے میں مشورہ طلب کیا۔ وہ کہتی ہے کہ میں کسی معاملے میں بھی تمہارے مشورے سے قبل فیصلہ نہیں کرتی۔ تمہاری رضامندی سے اور تمہارے اتفاق رائے سے سب کچھ ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

27:۔ اس سے پہلے اندماج ہے یعنی ہدہد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط لے بلقیس کے پاس پہنچا۔ بلقیس نے خط پڑھ کر اپنے مشیروں کو بلایا اور ان سے کہا الخ جب ہدہد خط لے کر پہنچا اس وقت بلقیس اپنے محل میں سو رہی تھی تمام دروازے مقفل تھے ہدہد نے ایک روشن دان سے داخل ہو کر خط اس کے سینے پر ڈال دیا۔ بلقیس نے بیدار ہو کر جب خط دیکھا تو کانپ اٹھی کہ دروازے مقفل ہونے کے باوجود یہ خط کس طرح اندر پہنچ گیا۔ جب اس نے خط پڑا تو اس پر مزید رعب وہیبت کا غلبہ ہوگیا۔ مشیروں کو جمع کر کے خط کے بارے میں بتایا کہ میرے پاس ایک سر بمہر خط آیا ہے، وہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اور اس کا مضمون یہ ہے۔ خدائے رحمن و رحیم کے نام سے۔ تم میرے سامنے اپنی بڑائی اور کبر و غرور کا اظہار مت کرو اور مومن ہو کر میرے پاس آجاؤ۔ کریم کے معنی سر بمہر کے ہیں و قد فسر ابن عباس وقتادۃ و زھیر بن محمد (الکریم) ھنا بالمختوم (روح ج 19 ص 104) ۔ انہ اول کی ضمیر کتاب کی طرف راجع ہے اور انہ دوم کی ضمیر مضمون کتاب سے کنایہ ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا بسم اللہ کا متعلق صیغہ امر ہے یعنی استعینوا بسم اللہ خاصۃ ولا تشرکوا یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے نام سے استعانت کیا کرو اور غیر اللہ (جنات اور ستاروں) کی عبادت مت کرو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(29) بلقین نے خط کو پڑھ کر اپنے سرداروں اور درباریوں سے کہا اے اہل دربار ! مجھے ایک مکتوب گرامی موصول ہوا ہے اور میرے پاس ایک عزت کا خط ڈالا گیا ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شہرت اور ان کی خداداد سلطنت سے واقف ہوگی اس لئے کتاب کے ساتھ عزت و شرافت کا لفظ بڑھایا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہتے ہیں ستھرے کاغذ پر لکھا تھا 12 بہرحال ! ہوسکتا ہے کہ شاہانہ کاغذ پر لکھا ہو۔