Commentary قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ She (the queen) said (to her officials after receiving the letter), |"0 chieftains, there has been thrown to me an esteemed letter, 27:29. Literal meaning of Karim is respectable, honorable or esteemed, and idiomatically this word is used for a letter when it is sealed. This is why Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) ، Qatadah, Zohair رحمۃ اللہ علیہما etc. have interpreted the expression کِتَابپ کَرِیم as the sealed book, which indicates that Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) had put his seal on the letter. When the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) learnt about the tradition of the non-Arab kings that they do not read the letter if it is not sealed, he got a seal made for himself, and used it on the letters he sent to Caesar and Chosro. It shows that the practice of sealing a letter is to show respect to the letter as well as to the addressee. The present day practice is to secure the letter in an envelope, which is as good as sealing it. Where show of respect to the addressee is intended, it is closer to the practice of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to secure it in an envelope. The language of the letter of Sulaiman Although Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) was not an Arab, yet it is not unlikely that he knew the Arabic language, especially when he knew the languages of the animals. As the Arabic language is supreme among all the languages, it is possible that he might have written the letter in Arabic. It is also probable because Bilqis was an Arab by race, and she read the letter and understood it. The other probability is that he had written the letter in his own language and an interpreter read it for her. (Ruh)
خلاصہ تفسیر (سلیمان (علیہ السلام) نے ہدہد سے یہ گفتگو کر کے بلقیس کے نام ایک خط لکھا جس کا مضمون آگے قرآن میں مذکور ہے اور ہدہد کے حوالہ کیا وہ اس کو چونچ میں لے کر چلا اور اکیلے یا مجلس میں بلقیس کے پاس ڈال دیا) بلقیس نے (پڑھ کر اپنے سرداروں کو مشورہ کے لئے جمع کیا اور) کہا کہ اے اہل دربار میرے پاس ایک خط (جس کا مضمون نہایت) باوقعت (اور عظیم الشان ہے) ڈالا گیا ہے (باوقعت اس لئے کہا کہ حاکمانہ مضمون ہے جس میں باوجود انتہائی اختصار کے اعلی درجہ کی بلاغت ہے اور) وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور اس میں یہ (مضمون) ہے (اول) بسم اللہ الرحمن الرحیم ( اور اس کے بعد یہ کہ) تم لوگ (یعنی بلقیس اور سب ارکان بادشاہت جن کے ساتھ عوام بھی وابستہ ہیں) میرے مقابلہ میں تکبر مت کرو اور میرے پاس تابعدار ہو کر چلے آؤ۔ (مقصود تمام کو دعوت دینا ہے اور یہ لوگ سلیمان (علیہ السلام) کا یا تو پہلے حال سن چکے ہوں گے گو سلیمان (علیہ السلام) ان لوگوں کو نہ جانتے ہوں، اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بڑے چھوٹوں کو نہیں جانتے اور چھوٹے بڑوں کو جانا کرتے ہیں اور یا خط آنے کے بعد تحقیق کرلیا ہوگا اور خط کے مضمون کی اطلاع دینے کے بعد) بلقیس نے (یہ) کہا کہ اے اہل دربار تم مجھ کو میرے اس معاملہ میں رائے دو (کہ مجھ کو سلیمان کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہئے) اور میں (کبھی) کسی بات کا قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک کہ تم میرے پاس موجود نہ ہو (اور اس میں شریک و مشیر نہ ہو) وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم (اپنی ذات سے ہر طرح سے حاضر ہیں، اگر مقابلہ اور لڑنا مصلحت سمجھا جاوے تو ہم) بڑے طاقتور اور بڑے لڑنے والے ہیں (اور آگے) اختیار تم کو ہے سو تم ہی (مصلحت) دیکھ لو جو کچھ (تجویز کر کے) حکم دینا ہو۔ بلقیس کہنے لگی کہ (میرے نزدیک لڑنا تو مصلحت نہیں کیونکہ سلیمان بادشاہ ہیں اور) بادشاہوں (کا قاعدہ ہے کہ وہ جب کسی بستی میں (مخالفانہ طور پر) داخل ہوتے ہیں تو اس کو تہہ وبالا کردیتے ہیں اور اس کے رہنے والوں میں جو عزت دار ہیں ان کو (ان کا زور گھٹانے کے لئے) ذلیل (و خوار) کیا کرتے ہیں اور (ان سے لڑائی کی جاوے تو ممکن ہے کہ ان ہی کو غلبہ ہو تو پھر) یہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے (تو بےضرورت پریشانی میں پڑنا خلاف مصلحت ہے لہٰذا جنگ کو تو ابھی ملتوی کیا جاوے) اور (سردست یوں مناسب ہے کہ) میں ان لوگوں کے پاس کچھ ہدیہ (کسی آدمی کے ہاتھ بھیجتی ہوں) پھر دیکھوں گی کہ وہ بھیجے ہوئے (وہاں سے) کیا (جواب) لے کر آتے ہیں (اس وقت دوبارہ غور کیا جاوے گا۔ چناچہ ہدیوں اور تحفوں کا سامان درست ہوا اور قاصد اس کو لے کر روانہ ہوا) جب وہ قاصد سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پہنچا (اور تمام ہدیے پیش کئے) تو سلیمان (علیہ السلام نے) فرمایا کیا تم لوگ (یعنی بلقیس اور بلقیس والے) مال سے میری امداد کرنا (چاہتے) ہو (اس لئے ہدیئے لائے ہو) سو (سمجھ رکھو کہ) اللہ نے جو کچھ مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تم کو دے رکھا ہے (کیونکہ تمہارے پاس صرف دنیا ہے اور میرے پاس دین بھی اور دنیا بھی تم سے زیادہ لہٰذا میں تو ان چیزوں کا حریص نہیں ہوں) ہاں تم ہی اپنے ہدیئے پر فخر کرتے ہوگے (لہٰذا یہ ہدیئے ہم نہ لیں گے) تم (ان کو لے کر) ان لوگوں کے پاس لوٹ جاؤ (اگر وہ اب بھی ایمان لے آویں تو درست ورنہ) ہم ان پر ایسی فوجیں بھیجتے ہیں کہ ان لوگوں سے ان کا ذرا مقابلہ نہ ہو سکے گا اور ہم ان کو وہاں سے ذلیل کر کے نکال دیں گے اور وہ (ذلت کے ساتھ ہمیشہ کے لئے) ماتحت (اور رعایا) ہوجاویں گے (یہ نہیں کہ نکالنے کے بعد آزادی سے چھوڑ دیئے جاویں کہ جہاں چاہیں چلے جاویں بلکہ ہمیشہ کی ذلت ان کے لئے لازمی ہوجاوے گی۔ ) معارف و مسائل قَالَتْ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤ ُ ا اِنِّىْٓ اُلْقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ، کریم کے لفظی معنی معزز مکرم کے ہیں اور محاورہ میں کسی خط کو معزز مکرم جب کہا جاتا ہے جبکہ اس پر مہر لگائی گئی ہو۔ اس لئے اس آیت میں کتاب کریم کی تفسیر حضرت ابن عباس، قتادہ زہیر وغیرہ نے کتاب مختوم سے کی ہے جس سے معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے خط پر اپنی مہر ثبت فرمائی تھی۔ ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب ملوک عجم کی یہ عادت معلوم ہوئی کہ جس خط پر مہر نہ ہو اس کو نہیں پڑھتے تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی بادشاہوں کے خطوط کے لئے مہر بنوائی اور قیصر و کسری وغیرہ کو جو خطوط تحریر فرمائے ان پر مہر ثبت فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ خط پر مہر لگانا مکتوب الیہ کا بھی اکرام ہے اور اپنے خط کا بھی آج کل عادت خط کو لفافہ میں بند کر کے بھیجنے کی ہوگئی ہے۔ یہ بھی مہر کے قائم مقام ہے جس جگہ مکتوب الیہ کا اکرام منظور ہو، کھلا خط بھیجنے کے بجائے لفافہ میں بند کر کے بھجینا اقرب الی السنتہ ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط کس زبان میں تھا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) گو عربی نہ تھے لیکن عربی زبان جاننا اور سمجھنا آپ سے کوئی بعید بھی نہیں۔ جبکہ آپ پرندوں تک کی زبان جانتے تھے اور عربی زبان تو تمام زبانوں سے افضل و اشرف ہے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے خط عربی زبان میں لکھا ہو کیونکہ مکتوب الیہ (بلقیس) عربی النسل تھی اس نے خط کو پڑھا بھی اور سمجھا بھی اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے خط اپنی ہی زبان میں تحریر فرمایا ہو اور بلقیس کے پاس حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی زبان کا ترجمان ہو جس نے پڑھ کر خط سنایا اور سمجھایا ہو۔ (روح)