16 According to the Bible and the Talmud, the child was named "Moses" in Pharaoh's house. It is not a Hebrew but a Coptic word, which means, "I drew him out of the water", for in Coptic mo meant water and oshe rescued.
17 Another good thing that resulted from this wise device by Allah was that the Prophet Moses could not become a real prince in Pharaoh's house, but grew up among his own people and became fully aware of his family and community traditions and his ancestral religion. Thus, instead of growing up as a member of Pharaoh's class and people he arose sentimentally and intellectually as a full-fledged Israelite.
In a Hadith the Holy Prophet has said: "He who works to earn his livelihood and keeps in view Allah's goodwill also, has a likeness with the Prophet Moses' mother, who suckled her own son as well as received her wages for the service, too." That is, although such a person works to earn a living for his children, since he works honestly with a view to pleasing God he is just and upright in his dealings with others, seeks lawful provisions for himself and his children in the spirit of God's worship he does deserve a reward from Allah even for earning his own livelihood.
سورة القصص حاشیہ نمبر : 16
بائیبل اور تلمود سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کا نام موسی فرعون کے گھر میں رکھا گیا تھا ۔ یہ عبرانی زبان کا نہیں بلکہ قبطی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں میں نے اسے پانی سے نکالا قدیم مصری زبان سے بھی حضرت موسی کے نام کی یہ تخریج صحیح ثابت ہوتی ہے ۔ اس زبان میں مو پانی کو کہتے تھے اور اوشے کا مطلب تھا بچایا ہوا ۔
سورة القصص حاشیہ نمبر : 17
اور اللہ کی اس حکیمانہ تدبیر کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ حضرت موسی فی الواقع فرعون کے شاہزادے نہ بن سکے بلکہ اپنے ہی ماں باپ اور بہن بھائیوں میں پرورش پاکر انہیں اپنی اصلیت اچھی طرح معلوم ہوگئی ۔ اپنی خاندانی روایات سے اپنے آبائی مذہب سے ، اور اپنی قوم سے ان کا رشتہ نہ کٹ سکا ، وہ آل فرعون کے ایک فرد بننے کے بجائے اپنے دلی جذبات اور خیالات کے اعتبار سے پوری طرح بنی اسرائیل کے ایک فرد بن کر اٹھے ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک حدیث میں فرماتے ہیں: مثل الذی یعمل و یحتسب فی صنعتہ الخیر کمثل ام موسی ترضع ولدھا و تاخذ اجرھا ۔ جو شخص اپنی روزی کمانے کے لیے کام کرے اور اس کام میں اللہ کی خوشنودی پیش نظر رکھے اس کی مثال حضرت موسی کی والدہ کی سی ہے کہ انہوں نے اپنے ہی بیٹے کو دودھ پلایا اور اس کی اجرت بھی پائی ۔ یعنی ایسا شخص اگرچہ اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے کام کرتا ہے لیکن چونکہ وہ اللہ تعالی کی خوشنودی پیش نظر رکھ کر ایمانداری سے کام کرتا ہے ، جس کے ساتھ بھی معاملہ کرتا ہے اس کا حق ٹھیک ٹھیک ادا کرتا ہے ، اور رزق حلال سے اپنے نفس اور اپنے بال بچوں کی پرورش اللہ کی عبادت سمجھتے ہوئے کرتا ہے ، اس لیے وہ اپنی روزی کمانے پر بھی اللہ کے ہاں اجر کا مستحق ہوتا ہے ۔ گویا روزی بھی کمائی اور اللہ سے اجر و ثواب بھی پایا ۔