Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 13

سورة القصص

فَرَدَدۡنٰہُ اِلٰۤی اُمِّہٖ کَیۡ تَقَرَّ عَیۡنُہَا وَ لَا تَحۡزَنَ وَ لِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۱۳﴾  4 الرّبع

So We restored him to his mother that she might be content and not grieve and that she would know that the promise of Allah is true. But most of the people do not know.

پس ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف واپس پہنچایا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور آزردہ خاطر نہ ہو اور جان لے کہ اللہ تعالٰی کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَرَدَدْنَاهُ إِلَى أُمِّهِ كَيْ تَقَرَّ عَيْنُهَا ... So We restored him to his mother, that her eye might be comforted, means, by him, ... وَلاَ تَحْزَنَ ... and that she might not grieve, (means, for him). ... وَلِتَعْلَمَ أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ... and that she might know that the promise of Allah is true. meaning, `We had promised her to return him to her and to make him one of the Messengers.' When he was returned to her, she realized that he was one of the Messengers, so as she brought him up, she treated him both as a child (with kindness) and as a Messenger (with respect). ... وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ But most of them know not. means, they do not know the wisdom of Allah in His actions and their good consequences, for which He is to be praised in this world and the Hereafter. For a thing may happen that people do not like, but its consequences are good, as Allah says: وَعَسَى أَن تَكْرَهُواْ شَيْيًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَن تُحِبُّواْ شَيْيًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ and it may be that you dislike a thing which is good for you and that you like a thing which is bad for you. (2:216) فَعَسَى أَن تَكْرَهُواْ شَيْياً وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْراً كَثِيراً it may be that you dislike a thing and Allah brings through it a great deal of good. (4:19)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

131جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی والدہ کا دودھ پی لیا، تو فرعون نے والدہ موسیٰ سے محل میں رہنے کی استداعا کی تاکہ بچے کو صحیح پرورش اور نہگداشت ہو سکے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ میں اپنے خاوند اور بچوں کو چھوڑ کر یہاں نہیں رہ سکتی۔ بالآخر یہ طے پایا کہ بچے کو وہ اپنے ساتھ ہی گھر میں لے جائیں اور وہیں اس کی پرورش کریں اور اس کی اجرت انھیں شاہی خزانے سے دی جائے گی، سبحان اللہ ! اللہ کی قدرت کے کیا کہنے، دودھ اپنے بچے کو پلائیں اور تنخواہ فرعون سے وصول کریں، رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو واپس لوٹانے کا وعدہ کس احسن طریقے سے پورا فرمایا۔ ایک مرسل روایت میں ہے۔ اس کاریگر کی مثال جو اپنی بنائی ہوئی چیز میں ثواب اور خیر کی نیت بھی رکھتا ہے، موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کی طرح ہے جو اپنے ہی بچے کو دودھ پلاتی ہے اور اس کی اجرت بھی وصول کرتی ہے۔ (مراسیل ابی داؤد) 133یعنی بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے انجام کی حقیقت سے اکثر لوگ بےعلم ہوتے ہیں لیکن اللہ کو اس کے حسن انجام کا علم ہوتا ہے۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا (ہو سکتا ہے جس چیز کو تم برا سمجھو، اس میں تمہارے لئے خیر ہو اور جس چیز کو تم پسند کرو، اس میں تمہارے لئے شر کا پہلو ہو) (كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) 2 ۔ البقرۃ :216) دوسرے مقام پر فرمایا (ہو سکتا ہے تم کسی چیز کو برا سمجھو، اور اللہ اس میں تمہارے لئے خیر کثیر پیدا فرما دے) (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَاۗءَ كَرْهًا ۭوَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَعَاشِرُوْھُنَّ بالْمَعْرُوْفِ ۚ فَاِنْ كَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَهُوْا شَـيْـــــًٔـا وَّيَجْعَلَ اللّٰهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا) 4 ۔ النساء :19) اس لئے انسان کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ اپنی پسند و ناپسند سے قطع نظر ہر معاملے میں اللہ اور رسول کے احکام کی پابندی کرلے کہ اسی میں اس کے لئے خیر اور حسن انجام ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩] ام موسیٰ کو وہاں محل میں رہ کر بچہ کی پرورش کے لئے کہا گیا تو اس نے یہ عذر پیش کردیا کہ گھر کی دیکھ بھال بھی اس کے ذمہ ہے۔ لہذا یہ یہاں رہ کر یہ خدمت سرانجام نہیں دے سکتی۔ البتہ یہ کرسکتی ہوں کہ اس بچے کو اپنے ہمراہ لے جاؤں اور اس کی پرورش کروں۔ چناچہ آل فرعون نے ام موسیٰ کا یہ عذر قبول کرلیا وہ بچہ کو اپنے گھر لے آئی۔ اس طرح حضرت موسیٰ صرف آغوش مادری میں ہی نہ پہنچے بلکہ اپنے گھر میں ہی واپس آگئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ام موسیٰ سے جو وعدہ کیا تھا۔ وہ بھی پورا ہوا اور شاہی خزانہ سے جو ماں کو معاوضہ ملتا رہا وہ اللہ تعالیٰ کا زائد انعام تھا۔ [٢٠] یعنی اللہ کے کئے ہوئے وعدے بہرحال پورے ہو کے رہتے ہیں۔ خواہ ان کے امکانات بالکل معدوم نظر آرہے ہوں۔ یا یہ کہ اگر لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ ظاہری اسباب کے علاوہ کچھ باطنی اسباب بھی ہوتے ہیں جو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہوتے ہیں اور اکثر لوگ یہ نہیں جان سکتے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کون کون راستے اور کون کون سے مراحل طے کرتے ہوئے پورے ہوتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰٓى اُمِّهٖ : یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں سے جو وعدہ کیا تھا کہ اسے تمہارے پاس واپس لائیں گے، اتنی دیر ہی میں پورا کردیا جتنی دیر کوئی بچہ ماں کے دودھ کے بغیر گزار سکتا ہے۔ كَيْ تَــقَرَّ عَيْنُهَا : ” قَرَّ یَقِرُّ (ض، ع) قُرَّۃً وَ قُرُوْرًا “ ” آنکھ کا ٹھنڈا ہونا۔ “ تاکہ اس کی آنکھ جو بیٹے کی جدائی میں سکون سے ناآشنا تھی، آنسو بہا بہا کر اور بیدار رہ کر سرخ اور گرم ہوچکی تھی، بیٹے کے واپس ملنے، اسے دودھ پلانے اور اپنے پاس رکھنے سے ٹھنڈی اور پرسکون ہوجائے اور آرام کی نیند سو جائے اور غم زدہ نہ رہے۔ نکتہ : اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کے اعضا کا درجہ حرارت مختلف رکھا ہے، اس کی جلد کا درجہ حرارت عموماً 370 ہوتا ہے۔ جگر کو کام کرنے کے لیے 400 کے قریب درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ آنکھ کا درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 90 ہوتا ہے، اس سے زیادہ ہوجائے تو آنکھ پگھل کر بہ جائے، اس لیے دل کی خوشی کے لیے آنکھ کی ٹھنڈک کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ (شعراوی) 3 قدیم زمانے میں ان ممالک کے بڑے اور خاندانی لوگ بچوں کو اپنے ہاں پالنے کے بجائے دودھ پلانے والی عورتوں کے سپرد کردیتے تھے۔ خود ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی حلیمہ سعدیہ کے ہاں صحرا میں پرورش پائی۔ اس کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی والدہ اپنے گھر لے گئیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے کو واپس لانے کا جو وعدہ کیا تھا وہ بھی پورا ہوا اور شاہی خزانے سے ماں کو جو وظیفہ ملتا رہا وہ اس کے علاوہ تھا۔ 3 اس مقام پر بعض مفسرین نے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( مَثَلُ الَّذِيْ یَعْمَلُ وَ یَحْتَسِبُ فِيْ صِنْعَۃِ الْخَیْرِ کَمَثَلِ أُمِّ مُوْسٰی تُرْضِعُ وَلَدَھَا وَ تَأْخُذُ أَجْرَھَا ) ” وہ شخص جو کام کرے اور اپنے کام میں نیکی کی نیت رکھے، اس کی مثال موسیٰ کی والدہ کی سی ہے، جو اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے اور اپنی مزدوری وصول کرتی ہے۔ “ مگر ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے، البتہ ایک مرسل روایت ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے : ( مَثَلُ الَّذِیْنَ یَغْزُوْنَ مِنْ أُمَّتِيْ وَ یَأْخُذُوْنَ الْجُعْلَ یَتَقَوَّوْنَ بِہِ عَلٰی عَدُوِّھِمْ کَمَثَلِ أُمِّ مُوْسٰی تُرْضِعُ وَلَدَھَا وَ تَأْخُذُ أَجْرَھَا ) ” میری امت کے جو لوگ جنگ کرتے ہیں اور وظیفہ لیتے ہیں، جس کے ساتھ دشمن کے مقابلے میں قوت حاصل کرتے ہیں، ان کی مثال ام موسیٰ کی سی ہے جو اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے اور اپنی مزدوری وصول کرتی ہے۔ “ یہ روایت مرسل (جو ضعیف کی ایک قسم ہے) ہونے کے علاوہ سند کے لحاظ سے بھی ضعیف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے ” سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ للألباني (ح : ٤٥٠٠) “ اس حدیث میں جو بات بیان ہوئی ہے اگرچہ فی نفسہ درست ہے، جو اپنی طرف سے بطور مثال بیان کی جاسکتی ہے، مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمے وہی بات لگانے کی اجازت ہے جو آپ سے ثابت ہو، ورنہ ” مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ “ کی وعید کا مصداق بننے کا خطرہ ہے۔ وَلِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ : یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا، تاکہ اسے پہلے وحی کے ذریعے سے سن کر اللہ کا وعدہ حق ہونے کا علم تھا، تو اب آنکھوں سے دیکھ کر اس کے حق ہونے کا علم ہوجائے۔ پہلے اگر علم الیقین تھا تو اب عین الیقین ہوجائے۔ (بقاعی) وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ : یعنی اکثر لوگ نہیں جانتے کہ اللہ کا وعدہ حق ہے۔ ان کا حال یہ ہے کہ جوں ہی کسی کام میں کوئی مشکل پیش آتی ہے، اللہ تعالیٰ سے بدظن ہوجاتے ہیں اور انھیں اللہ کے وعدے پر یقین نہیں رہتا، حالانکہ اس کا وعدہ خلاف نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ اسباب کو کچھ اس طرح پھیر کر لاتا ہے جو انسانی سمجھ سے باہر ہوتا ہے اور جس چیز کا گمان بھی نہیں ہوتا وہ آنکھوں کے سامنے لے آتا ہے۔ پھر بعض اوقات آدمی ایک چیز کو برا سمجھتا ہے جب کہ وہ اس کے حق میں بہتر ہوتی ہے اور ایک چیز کو اچھا سمجھتا ہے جب کہ وہ اس کے حق میں بری ہوتی ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (٢١٦) اور نساء (١٩) ۔ ہاں مشو نومید چوں واقف نہ ای ز اسرار غیب باشد اندر پردہ بازی ہائے پنہاں غم مخور ” خبردار ! ناامید نہ ہو، کیونکہ تو غیب کے اسرار سے واقف نہیں۔ پردے کے اندر کئی پوشیدہ کھیل ہو رہے ہوتے ہیں، غم مت کر۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَرَدَدْنٰہُ اِلٰٓى اُمِّہٖ كَيْ تَــقَرَّ عَيْنُہَا وَلَا تَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۝ ١٣ۧ رد الرَّدُّ : صرف الشیء بذاته، أو بحالة من أحواله، يقال : رَدَدْتُهُ فَارْتَدَّ ، قال تعالی: وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147] ( رد د ) الرد ( ن ) اس کے معنی کسی چیز کو لوٹا دینے کے ہیں خواہ ذات شے کہ لوٹا یا جائے یا اس کی حالتوں میں سے کسی حالت کو محاورہ ہے ۔ رددتہ فارتد میں نے اسے لوٹا یا پس وہ لوٹ آیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147] ( مگر بکے ) لوگوں سے اس کا عذاب تو ہمیشہ کے لئے ٹلنے والا ہی نہیں ۔ قرر ( آنکھ ٹهنڈي کرنا) صببت فيها ماء قَارّاً ، أي : باردا، واسم ذلک الماء الْقَرَارَةُ والْقَرِرَةُ. واقْتَرَّ فلان اقْتِرَاراً نحو : تبرّد، وقَرَّتْ عينه تَقَرُّ : سُرّت، قال : كَيْ تَقَرَّ عَيْنُها [ طه/ 40] ، وقیل لمن يسرّ به : قُرَّةُ عين، قال : قُرَّتُ عَيْنٍ لِي وَلَكَ [ القصص/ 9] ، وقوله : هَبْ لَنا مِنْ أَزْواجِنا وَذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أَعْيُنٍ [ الفرقان/ 74] ، قيل : أصله من القُرِّ ، أي : البرد، فَقَرَّتْ عينه، قيل : معناه بردت فصحّت، وقیل : بل لأنّ للسّرور دمعة باردة قَارَّةً ، وللحزن دمعة حارّة، ولذلک يقال فيمن يدعی عليه : أسخن اللہ عينه، وقیل : هو من الْقَرَارِ. والمعنی: أعطاه اللہ ما تسکن به عينه فلا يطمح إلى غيره، وأَقَرَّ بالحقّ : اعترف به وأثبته علی نفسه . وتَقَرَّرَ الأمرُ علی كذا أي : حصل، والقارُورَةُ معروفة، وجمعها : قَوَارِيرُ قال : قَوارِيرَا مِنْ فِضَّةٍ [ الإنسان/ 16] ، وقال : رْحٌ مُمَرَّدٌ مِنْ قَوارِيرَ [ النمل/ 44] ، أي : من زجاج . قرت لیلتنا تقر رات کا ٹھنڈا ہونا ۔ یوم قر ٹھنڈا دن ) لیلۃ فرۃ ( ٹھنڈی رات ) قر فلان فلاں کو سردی لگ گئی اور مقرور کے معنی ٹھنڈا زدہ آدمی کے ہیں ۔ مثل مشہور ہے ۔ حرۃ تحت قرۃ یہ اس شخص کے حق میں بولتے ہیں جو اپنے ضمیر کے خلاف بات کرے ۔ قررت القدر اقرھا میں نے ہانڈی میں ٹھنڈا پانی ڈالا ۔ اور اس پانی کو قرارۃ قررہ کہا جاتا ہے ۔ اقتر فلان اقترار یہ تبرد کی طرح ہے جس کے معنی ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے کے ہیں ۔ قرت عینہ ت قرآن کھ کا ٹھنڈا ہونا ۔ مراد خوشی حاصل ہونا ہے قرآن پاک میں ہے : كَيْ تَقَرَّ عَيْنُها [ طه/ 40] تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔ اور جسے دیکھ کر انسان کو خوشی حاصل ہو اسے قرۃ عین کہاجاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : قُرَّتُ عَيْنٍ لِي وَلَكَ [ القصص/ 9] یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ هَبْ لَنا مِنْ أَزْواجِنا وَذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أَعْيُنٍ [ الفرقان/ 74] اے ہمارے پروردگار ہمیں بیویوں کی طرف سے دل کا چین اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں قر بمعنی سردی سے ہے لہذا قرت عینہ کے معنی آنکھ کے ٹھنڈا ہو کر خوش ہوجانے کے ہیں بعض نے کہا ہے کہ قرت عینہ کے معنی خوش ہونا اس لئے آتے ہیں کہ خوشی کے آنسو ٹھنڈے ہوتے ہیں اور غم کے آنسو چونکہ گرم ہونے ہیں اس لئے بددعا کے وقت اسخن اللہ عینہ کہاجاتا ہاے ۔ بعض نے کہا ہے کہ قرار س مشتق ہے مراد معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے وہ چیزبخشے جس سے اس کی آنکھ کی سکون حاصل ہو یعنی اسے دوسری چیز کی حرص نہ رہے ۔ اقر بالحق حق کا اعتراف کرنا ۔ تقر الامر علی ٰ کذا کسی امر کا حاصل ہوجانا ۔ القارودۃ شیشہ جمع قواریر قرآن میں ہے : قَوارِيرَا مِنْ فِضَّةٍ [ الإنسان/ 16] اور شیشے بھی چاندی کے ۔ صبح ممرد من قواریر یہ ایسا محل ہے جس میں ( نیچے ) شیشے جڑے ہوئے ہیں یعنی شیشے کا بنا ہوا ہے ۔ حزن الحُزْن والحَزَن : خشونة في الأرض وخشونة في النفس لما يحصل فيه من الغمّ ، ويضادّه الفرح، ولاعتبار الخشونة بالغم قيل : خشّنت بصدره : إذا حزنته، يقال : حَزِنَ يَحْزَنُ ، وحَزَنْتُهُ وأَحْزَنْتُهُ قال عزّ وجلّ : لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] ( ح ز ن ) الحزن والحزن کے معنی زمین کی سختی کے ہیں ۔ نیز غم کی وجہ سے جو بیقراری سے طبیعت کے اندر پیدا ہوجاتی ہے اسے بھی حزن یا حزن کہا جاتا ہے اس کی ضد فوح ہے اور غم میں چونکہ خشونت کے معنی معتبر ہوتے ہیں اس لئے گم زدہ ہوے کے لئے خشنت بصررہ بھی کہا جاتا ہے حزن ( س ) غمزدہ ہونا غمگین کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے ۔۔۔۔۔ اس سے تم اندو ہناک نہ ہو وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خيٰر و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣) چناچہ ان لوگوں نے ایسے گھرانے کا پتا پوچھا انہوں نے اپنی ماں کا پتا بتا دیا غرض کہ اس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی والدہ کے پاس پہنچا دیا تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے غم میں نہ رہیں اور جان لیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہوتا ہے کہ اپنے وعدہ کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پھر ان کے پاس پہنچا دیا مگر خاص طور پر یہ مصری اس چیز کو نہیں سمجھتے اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَلَا تَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ) ” اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم تمہارے بیٹے کو تمہارے پاس واپس لے آئیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ اس حوالے سے اسے اطمینان دلانا چاہتا تھا کہ اس نے وہ وعدہ سچ کر دکھایا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

16 According to the Bible and the Talmud, the child was named "Moses" in Pharaoh's house. It is not a Hebrew but a Coptic word, which means, "I drew him out of the water", for in Coptic mo meant water and oshe rescued. 17 Another good thing that resulted from this wise device by Allah was that the Prophet Moses could not become a real prince in Pharaoh's house, but grew up among his own people and became fully aware of his family and community traditions and his ancestral religion. Thus, instead of growing up as a member of Pharaoh's class and people he arose sentimentally and intellectually as a full-fledged Israelite. In a Hadith the Holy Prophet has said: "He who works to earn his livelihood and keeps in view Allah's goodwill also, has a likeness with the Prophet Moses' mother, who suckled her own son as well as received her wages for the service, too." That is, although such a person works to earn a living for his children, since he works honestly with a view to pleasing God he is just and upright in his dealings with others, seeks lawful provisions for himself and his children in the spirit of God's worship he does deserve a reward from Allah even for earning his own livelihood.

سورة القصص حاشیہ نمبر : 16 بائیبل اور تلمود سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کا نام موسی فرعون کے گھر میں رکھا گیا تھا ۔ یہ عبرانی زبان کا نہیں بلکہ قبطی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں میں نے اسے پانی سے نکالا قدیم مصری زبان سے بھی حضرت موسی کے نام کی یہ تخریج صحیح ثابت ہوتی ہے ۔ اس زبان میں مو پانی کو کہتے تھے اور اوشے کا مطلب تھا بچایا ہوا ۔ سورة القصص حاشیہ نمبر : 17 اور اللہ کی اس حکیمانہ تدبیر کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ حضرت موسی فی الواقع فرعون کے شاہزادے نہ بن سکے بلکہ اپنے ہی ماں باپ اور بہن بھائیوں میں پرورش پاکر انہیں اپنی اصلیت اچھی طرح معلوم ہوگئی ۔ اپنی خاندانی روایات سے اپنے آبائی مذہب سے ، اور اپنی قوم سے ان کا رشتہ نہ کٹ سکا ، وہ آل فرعون کے ایک فرد بننے کے بجائے اپنے دلی جذبات اور خیالات کے اعتبار سے پوری طرح بنی اسرائیل کے ایک فرد بن کر اٹھے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک حدیث میں فرماتے ہیں: مثل الذی یعمل و یحتسب فی صنعتہ الخیر کمثل ام موسی ترضع ولدھا و تاخذ اجرھا ۔ جو شخص اپنی روزی کمانے کے لیے کام کرے اور اس کام میں اللہ کی خوشنودی پیش نظر رکھے اس کی مثال حضرت موسی کی والدہ کی سی ہے کہ انہوں نے اپنے ہی بیٹے کو دودھ پلایا اور اس کی اجرت بھی پائی ۔ یعنی ایسا شخص اگرچہ اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے کام کرتا ہے لیکن چونکہ وہ اللہ تعالی کی خوشنودی پیش نظر رکھ کر ایمانداری سے کام کرتا ہے ، جس کے ساتھ بھی معاملہ کرتا ہے اس کا حق ٹھیک ٹھیک ادا کرتا ہے ، اور رزق حلال سے اپنے نفس اور اپنے بال بچوں کی پرورش اللہ کی عبادت سمجھتے ہوئے کرتا ہے ، اس لیے وہ اپنی روزی کمانے پر بھی اللہ کے ہاں اجر کا مستحق ہوتا ہے ۔ گویا روزی بھی کمائی اور اللہ سے اجر و ثواب بھی پایا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

6 ۔ بیچ میں ذکر چھوڑ دیا گیا کہ اس کے بعد فرعون کے گھر والوں نے حضرت موسیٰ کی بہن سے پچھا کہ ” وہ کون گھر والے ہیں ؟ “ اس نے جواب دیا ” میری ماں “” انہوں نے کہا :” اس کے دودھ کہاں سے آیا ؟ وہ بولی ” میرے بھائی ہارون کا دودھ ہے “ آخر اس کی والدہ کو بلایا گیا اور جونہی انہوں نے بچہ کے منہ سے اپنی چھاتی لگائی بچہ خوش ہو کر دودھ پینے لگا۔ پھر وہ بچے کو اپنے گھر لے آئیں اور وہیں رہ کر ان کی پرورش کرنے لگیں۔ اس طرح حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اپنی ماں کے پاس واپس پہنچ گئے۔ (قرطبی) 7 ۔ جو اس نے فرمایا تھا کہ ہم موسیٰ ( علیہ السلام) اور واپس تیرے پاس بھجوا دینگے۔ حدیث میں ہے :” جو شخص اپنی روزی کمانے کے لئے کام کرے اور اس کام میں اس کے پیش نظر اللہ کی خوشنودی ہو اس کی مثال حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ کی ہے جو اپنے بیٹے کو دودھ بھی پلاتی تھیں اور اجرت بھی پاتی تھیں۔ (ابن کثیر) 8 ۔ یعنی تقدیر الٰہی کی حکمتوں کو نہیں سمجھتے۔ چناچہ اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہجونہی کسی کام میں کوئی پیچ پڑجاتا ہے اللہ تعالیٰ سے بدظ ہوجاتے ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر یقین نہیں رہتا۔ حالانکہ اس کا وعدہ خلاف نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ اسباب کو کچھ اس طرح پھیر کر لاتا ہے جو انسانی سمجھ سے باہر ہے اور جس چیز کا گمان بھی نہیں ہوتا اسے ظاہر کرتا ہے۔ (وحیدی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے ان مناظر کے بعد اب سیاق کلام کے اندر کئی سالوں کا وقفہ ہے۔ قصے کا اگلا حصہ آپ کے شباب کے زمانے سے متعلق ہے۔ جب حضرت موسیٰ کو دودھ پلانے کے لیے ان کی ماں کے حوالے کردیا گیا تو اس کے بعد کیا حالات پیش آئے ، اس کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔ قصر فرعون کے اندر آپ کے شب و روز کیسے رہے اور یہ کہ زمانہ رضاعت کے اختتام کے بعد اپنی ماں کے ساتھ اس کا رابطہ کیسے تھا۔ یہ کہ بلوغ اور شباب کے بعد قصر شاہی میں آپ کا مقام و مرتبہ کیا تھا۔ آپ کا عقیدہ کیا تھا۔ بہرحال وہ فرعون اور اس کے کاہنوں کے درمیان باری تعالیٰ کی نگرانی میں تیار ہو رہے تھے تاکہ وہ اپنا فریضہ ادا کریں۔ اس طویل وقفے کے بعد پھر یہ حالات پیش آئے۔ بہرحال شباب اور بلوغ تک پہنچنے کے ساتھ ہی آپ کی علمی اور روحانی تربیت مکمل ہوئی۔ اللہ نے آپ کو علم و حکمت عطا کیا اور یہ تھی جزا نیک لوگوں کی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(فَرَدَدْنٰہُ الآی اُمِّہٖ ) (الآیۃ) سو ہم نے موسیٰ کو ان کی والدہ کی طرف لوٹا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور بچہ کی جدائی سے غمگین نہ ہوں اور تاکہ اس بات کا اور زیادہ یقین کرلیں کہ اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کس کس طرح اپنے بندوں کے ساتھ رحم کا معاملہ فرماتا ہے۔ اور کس کس طرح ظالموں کو ان کی تدبیروں میں نا کام بناتا ہے۔ فائدہ : یہاں بعض مفسرین نے یہ سوال اٹھایا کہ اپنی اولاد کی پرورش کرنا تو فرض ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اپنے بچہ کی پرورش کرنے اور دودھ پلانے پر اجرت کیسے قبول فرمائی ؟ لیکن قرآن مجید میں اجرت لینے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ اور اگر اجرت لی بھی ہو تو کافر ہی سے لی تھی اور حربی کا مال یوں بھی مباح ہے جبکہ وہ کسی دھوکہ دہی کے طریقہ پر نہ لیا جائے پھر جب دشمن کی خوشی سے معاملہ معاہدہ کر کے لے لیا تو اس کے جواز میں شبہ رہتا ہی نہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

14:۔ فاء فصیحہ ہے یعنی انہوں نے اس کی بات مان لی اور وہ ان کے کہنے پر اپنی والدہ کو ان کے پاس لے آئی جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی والدہ کی خوشبو سونگھی تو فورًا اس کا دودھ پینا شروع کردیا چناچہ فرعون نے بچے کی پرورش اسی کے حوالے کردی۔ اس طرح ہم نے موسیٰ کو اس کی والدہ کے پاس واپس کردیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور اس کی جدائی کا اسے غم نہ ہو نیز اسے یقین ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا تھا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

13۔ غرض ! ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کی والدہ کی طرف واپس کردیا اور اس کو اس کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا تا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی جدائی سے آزر دہ خاطر اور غمگین نہہو اور اس بات کا اور زیادہ یقین کرے کہ بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور برحق ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کا یقین نہیں رکھتے ۔ خلاصہ۔ یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کی گود اور ماں کے گھر میں پرورش پاتے رہے کبھی کبھی لے جا کر فرعون کو دکھا آیا کرتیں اس طرح انا رادوہ الیک کا وعدہ پورا ہوگیا ۔ اب آگے ان کے پیغمبر ہونے کا ذکر آئے گا موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو اللہ تعالیٰ کے وعدے کا یقین ہونا تو پہلے معلوم تھا اور اللہ تعالیٰ کی صداقت پر ایمان تھا لیکن عینی مشاہدے کے بعد اور یقین میں زیادتی اور پختگی ہوگئی ۔ آخر میں کفار کی بد یقینی پر تعریفیں فرمائی۔ سورۂ طہٰ میں عرض کیا جا چکا ہے والقیت علیک محبۃ منی کی تفسیر میں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں ایک خاص جاذبیت تھی جو دیکھتا تھا اس کو ان سے بےانتہا الفت ہوجاتی تھی ۔ وحرمنا علیہ المراضع کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو منع کردیا تھا کہ کسی دایہ کا سوائے اپنی ماں کے دودھ نہ پینا اور نہ تحریم کا مطلب حرام کرنا نہیں کیونکہ ایک غیر مکلف بچہ پر تحریم کے حقیقی معنی متحقق نہیں ہوتے ان کی بہن نے تعارف کے وقت ایسے مناسب الفاظ کہے۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ ان پر ہامان نے اعتراض کیا کہ وہ گھر والے جن کو تو بتائے گی وہ اس بچہ کے خیر خواہ کس طرح ہوں گے ، لڑکی نے کہا وھملہ سے میری مراد بادشاہ ہے بچہ نہیں وہ لوگ سرکار کے وفادار ہیں ۔ غرض ! تقدیر الٰہی پوری ہوئی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی والدہ ماجدہ کے سپرد کردیئے گئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں نے اجرت بھی قبول کرلی یہ اس لئے کہ شاید بچہ سے کسی باطنی تعلق کا ہونا ظاہر نہ ہونا جیسا کہ صاحب المعانی نے فرمایا کہ یہ دودھ پلانے کی اجرت نہ تھی بلکہ بطور صلہ اور انعام ملا کرتا تھا۔ ( واللہ اعلم)