Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 15

سورة القصص

وَ دَخَلَ الۡمَدِیۡنَۃَ عَلٰی حِیۡنِ غَفۡلَۃٍ مِّنۡ اَہۡلِہَا فَوَجَدَ فِیۡہَا رَجُلَیۡنِ یَقۡتَتِلٰنِ ٭۫ ہٰذَا مِنۡ شِیۡعَتِہٖ وَ ہٰذَا مِنۡ عَدُوِّہٖ ۚ فَاسۡتَغَاثَہُ الَّذِیۡ مِنۡ شِیۡعَتِہٖ عَلَی الَّذِیۡ مِنۡ عَدُوِّہٖ ۙ فَوَکَزَہٗ مُوۡسٰی فَقَضٰی عَلَیۡہِ ٭۫ قَالَ ہٰذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۵﴾

And he entered the city at a time of inattention by its people and found therein two men fighting: one from his faction and one from among his enemy. And the one from his faction called for help to him against the one from his enemy, so Moses struck him and [unintentionally] killed him. [Moses] said, "This is from the work of Satan. Indeed, he is a manifest, misleading enemy."

اور موسیٰ ( علیہ السلام ) ایک ایسے وقت شہر میں آئے جبکہ شہر کے لوگ غفلت میں تھے یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا ، یہ ایک تو اس کے رفیقوںمیں سے تھا اور یہ دوسرا اس کے دشمنوں میں سے ، اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا اس سے فریاد کی ، جس پر موسیٰ ( علیہ السلام ) نے اس کے مکا مارا جس سے وہ مر گیا موسیٰ ( علیہ السلام ) کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے یقیناً شیطان دشمن اور کھلے طور پر بہکانے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَدَخَلَ الْمَدِينَةَ عَلَى حِينِ غَفْلَةٍ مِّنْ أَهْلِهَا ... And he entered the city when its people were unaware. Ibn Jurayj narrated from Ata' Al-Khurasani, from Ibn Abbas, "That was between Maghrib and `Isha'." Ibn Al-Munkadir narrated from Ata' bin Yasar from Ibn Abbas, "That was in the middle of the day." This was also the view of Sa`id bin Jubayr, Ikrimah, As-Suddi and Qatadah. ... فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَنِ ... and he found there two men fighting, meaning, hitting one another and struggling with one another. ... هَذَا مِن شِيعَتِهِ ... one of his party, meaning, an Israelite, ... وَهَذَا مِنْ عَدُوِّهِ ... and the other of his foes. meaning, a Coptic. This was the view of Ibn Abbas, Qatadah, As-Suddi and Muhammad bin Ishaq. ... فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِن شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ ... The man of his (own) party asked him for help against his foe, The Israelite man asked Musa, peace be upon him, for help, and Musa took advantage of the fact that people were not paying attention, so he went to the Coptic man and ... فَوَكَزَهُ مُوسَى فَقَضَى عَلَيْهِ ... so Musa struck him with his fist and he died. Mujahid said, "This means he punched him with his fist." And then he died. ... قَالَ ... He said, (refers to Musa). ... هَذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِينٌ "This is of Shaytan's doing, verily, he is a plain misleading enemy."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

151اس سے بعض نے مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت اور بعض نے نصف النہار مراد لیا۔ جبکہ لوگ آرام کر رہے ہوتے ہیں۔ 152یعنی فرعون کی قوم قبط میں سے تھا۔ 153اسے شیطانی فعل اس لئے قرار دیا کہ قتل ایک نہایت سنگین جرم ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقصد اسے ہرگز قتل کرنا نہیں تھا۔ 154جس کی انسان سے دشمنی بھی واضح ہے اور انسان کو گمراہ کرنے کے لئے وہ جو جو جتن کرتا ہے وہ بھی مخفی نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٢] اس آیت یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاہی محلات شہر یا عام لوگوں کی رہائشی آبادی سے کچھ دور تھے۔ جیسا کہ عام دستور ہے کہ بڑے بڑے لوگ عام آدمیوں میں گھل مل کر رہنا پسند نہیں کرتے بلکہ شہر سے باہر کھلی فضا میں اپنی رہائش گاہیں، بنگلے، کوٹھیاں اور محل بنواتے ہیں۔ [٢٣] یعنی جب لوگ سو رہے تھے اور راستے اور سڑکیں سنسان اور بےآباد معلوم ہوتی تھیں۔ ایسا وقت عموماً علی الصبح ہوا کرتا ہے سورج کے طلوع ہونے سے بہت پہلے یا گرمیوں میں دوپہر کے بعد جب اکثر لوگ آرام کررہے ہوتے ہیں۔ [٢٤] موسیٰ جب ایسے شہر میں داخل ہوئے تو دیکھا دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ان میں ایک قبطی ہے یعنی مصر کا قدیمی باشندہ یا حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والا ہے اور دوسرا قبطی یا بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والا ہے۔ موسیٰ بچپن ہی میں دیکھ رہے تھے کہ بنی اسرائیل پر حکومت وقت کیا کیا مظالم ڈھا رہی ہے۔ اور انھیں کیسے معاشرہ میں ذلیل و رسوا بنا کر رکھا جارہا ہے۔ ان لڑنے والوں میں سے سبطی نے آپ کو مدد کے لئے پکارا کہ میں اسے قبطی کے ظلم سے چھڑاؤں۔ یہ قبطی شاہی باورچی خانے کا نوکر تھا۔ جو سبطی سے بیگار یہ لینا چاہ رہا تھا کہ ایندھن کا گٹھا بلامعاوضہ باورچی خانہ تک چھوڑ کر آؤ۔ حضرت موسیٰ کے دل میں قبطیوں کے خلاف نفرت تو پہلے سے موجود تھی۔ سبطی کی فریاد پر وہاں پہنچے اور جب انھیں معلوم ہوا کہ زیادتی قبطی ہی کر رہا ہے تو تو رگ حمیت جوش میں آگئی اور اسے ایک گھونسا رسید کیا۔ آپ ماشاء اللہ بڑے طاقتور جوان تھے۔ گھونسے کا لگنا تھا کہ قبطی کا کام تمام ہوگیا۔ [٢٥] حضرت موسیٰ سے اس طرح ایک قبطی کا قتل ہوجانا دراصل ایک بڑے فتنہ کا سبب بن سکتا تھا۔ اب یہ اتفاق کی بات ہے کہ آس پاس کوئی گواہ موجود نہ تھا۔ اور یہ بات صیغہ راز میں ہی رہ گئی کہ اس قبطی کا قاتل کون ہے اور اگر پتا چل بھی جاتا تو بنی اسرائیل پر ان کی زندگی اور بھی اجیرن بنادی جاتی۔ موسیٰ کو جب قتل کے اس انجام کا خیال آیا تو فوراً پکار اٹھے کہ یہ کام مجھ سے شیطان نے کروایا ہے۔ وہ تو چاہتا ہی یہ ہے کہ ایسے فتنے کھڑے ہوتے رہے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَدَخَلَ الْمَدِيْنَةَ عَلٰي حِيْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا : ” شہر میں داخل ہوا “ سے معلوم ہوا کہ شاہی محلاّت عام آبادی سے باہر واقع تھے، جہاں سے وہ شہر میں داخل ہوئے۔ ” غَفْلَةٍ “ میں تنوین کی وجہ سے ” کسی قدر غفلت “ ترجمہ کیا گیا ہے۔ ایک دفعہ وہ شہر میں ایسے وقت میں آئے جو کسی قدر غفلت کا وقت تھا۔ یہ صبح سویرے یا عشاء کے بعد یا دوپہر کے وقت میں سے کوئی وقت بھی ہوسکتا ہے، مگر غالب یہی ہے کہ وہ دوپہر کا وقت تھا جب سڑکیں سنسان ہوتی ہیں، لوگ گرمی کی وجہ سے گھروں میں آرام کر رہے ہوتے ہیں۔ چناچہ ابن ابی حاتم نے اپنی صحیح سند کے ساتھ ابن عباس (رض) کا قول ذکر فرمایا ہے : ” نِصْفُ النَّھَارِ “ ”(یعنی یہ) دوپہر کا وقت تھا۔ “ [ ابن أبي حاتم : ١٦٧٥٥ ] فَوَجَدَ فِيْهَا رَجُلَيْنِ يَـقْتَتِلٰنِ ۔۔ : موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم تھا کہ وہ بنی اسرائیل سے ہیں، وہ قبطیوں کے بنی اسرائیل پر مظالم سے بھی آگاہ تھے اور ہر روز اپنی آنکھوں سے ان مظالم کا مشاہدہ کرتے تھے، اس لیے قدرتی طور پر ان کی ہمدردیاں اپنی قوم کے ساتھ تھیں۔ قوم بھی جانتی تھی کہ وہ ان کے ایک فرد ہیں۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ جھگڑ رہے ہیں، ان میں سے ایک ان کی قوم سے ہے اور دوسرا قبطی ہے، جو ان کے دشمن تھے۔ قبطی حسب عادت غلام سمجھ کر اسرائیلی پر زیادتی کر رہا تھا۔ اسرائیلی اگر مقابلہ کرسکتا ہوتا تو اسے مدد مانگنے کی ضرورت نہ تھی۔ جب وہ بےبس ہوگیا تو اس نے مدد کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی۔ موسیٰ (علیہ السلام) طبعی طور پر کمزوروں اور مظلوموں کے ہمدرد تھے۔ اب ظلم ہوتے دیکھا تو مظلوم کو بچانے کے لیے آگے بڑھے اور قبطی کو ایک گھونسا مارا، جس سے اس کا کام تمام ہوگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا اسے قتل کرنے کا نہ ارادہ تھا نہ ان کے وہم و گمان میں یہ بات تھی کہ وہ ایک گھونسے سے مرجائے گا۔ جب اچانک یہ واقعہ ہوا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے انجام پر غور کیا کہ ان کے اور ان کی قوم کے حق میں اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے، تو وہ سخت پریشان ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ شیطان کا کام ہے جس نے بڑے فساد کے لیے مجھے غصہ دلا کر یہ کام کروایا ہے۔ وہ تو ایسا دشمن ہے جو کھلم کھلا گمراہ کردینے والا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَدَخَلَ الْمَدِيْنَۃَ عَلٰي حِيْنِ غَفْلَۃٍ مِّنْ اَہْلِہَا فَوَجَدَ فِيْہَا رَجُلَيْنِ يَـقْتَتِلٰنِۡ ہٰذَا مِنْ شِيْعَتِہٖ وَہٰذَا مِنْ عَدُوِّہٖ۝ ٠ۚ فَاسْتَغَاثَہُ الَّذِيْ مِنْ شِيْعَتِہٖ عَلَي الَّذِيْ مِنْ عَدُوِّہٖ ۙ فَوَكَزَہٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَيْہِ ٠ۤۡ قَالَ ہٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ۝ ٠ۭ اِنَّہٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيْنٌ۝ ١٥ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ مدن المَدينة فَعِيلَةٌ عند قوم، وجمعها مُدُن، وقد مَدَنْتُ مَدِينةً ، ون اس يجعلون المیم زائدة، قال تعالی: وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفاقِ [ التوبة/ 101] قال : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، وَدَخَلَ الْمَدِينَةَ عَلى حِينِ غَفْلَةٍ مِنْ أَهْلِها [ القصص/ 15] . ( م دن ) المدینۃ ۔ بعض کے نزدیک یہ فعیلۃ کے وزن پر ہے اس کی جمع مدن آتی ہے ۔ اور مدنت مدینۃ کے معنی شہر آیا ہونے کے ہیں ۔ اور بعض کے نزدیک اس میں میم زیادہ ہے ( یعنی دین سے مشتق ہے ) قرآن پاک میں ہے : وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفاقِ [ التوبة/ 101] اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں ۔ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی آیا ۔ وَدَخَلَ الْمَدِينَةَ عَلى حِينِ غَفْلَةٍ مِنْ أَهْلِها [ القصص/ 15] اور وہ شہر میں داخل ہوئے ۔ حين الحین : وقت بلوغ الشیء وحصوله، وهو مبهم المعنی ويتخصّص بالمضاف إليه، نحو قوله تعالی: وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3] ( ح ی ن ) الحین ۔ اس وقت کو کہتے ہیں جس میں کوئی چیز پہنچے اور حاصل ہو ۔ یہ ظرف مبہم ہے اور اس کی تعین ہمیشہ مضاف الیہ سے ہوتی ہے جیسے فرمایا : ۔ وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3] اور وہ رہائی کا وقت نہ تھا ۔ غفل الغَفْلَةُ : سهو يعتري الإنسان من قلّة التّحفّظ والتّيقّظ، قال تعالی: لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا[ ق/ 22] ( غ ف ل ) الغفلتہ ۔ اس سہو کو کہتے ہیں جو قلت تحفظ اور احتیاط کی بنا پر انسان کو عارض ہوجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هذا[ ق/ 22] بیشک تو اس سے غافل ہو رہا تھا أهل أهل الرجل : من يجمعه وإياهم نسب أو دين، أو ما يجري مجراهما من صناعة وبیت وبلد، وأهل الرجل في الأصل : من يجمعه وإياهم مسکن واحد، ثم تجوّز به فقیل : أهل الرجل لمن يجمعه وإياهم نسب، وتعورف في أسرة النبيّ عليه الصلاة والسلام مطلقا إذا قيل : أهل البیت لقوله عزّ وجلّ : إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ [ الأحزاب/ 33] ( ا ھ ل ) اھل الرجل ۔ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اس کے ہم نسب یا ہم دین ہوں اور یا کسی صنعت یامکان میں شریک ہوں یا ایک شہر میں رہتے ہوں اصل میں اھل الرجل تو وہ ہیں جو کسی کے ساتھ ایک مسکن میں رہتے ہوں پھر مجازا آدمی کے قریبی رشتہ داروں پر اہل بیت الرجل کا لفظ بولا جانے لگا ہے اور عرف میں اہل البیت کا لفظ خاص کر آنحضرت کے خاندان پر بولا جانے لگا ہے کیونکہ قرآن میں ہے :۔ { إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ } ( سورة الأحزاب 33) اسے پیغمبر گے اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی ( کا میل کچیل ) دور کردے ۔ وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] . ( و ج د ) الو جود ( ض) کے معنی کسی چیز کو پالینا کے ہیں اور یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے حواس خمسہ میں سے کسی ایک حاسہ کے ساتھ اور اک کرنا جیسے وجدت طعمہ ( حاسہ ذوق ) وجدت سمعہ ( حاسہ سمع ) وجدت خثومتہ حاسہ لمس ) قوی باطنہ کے ساتھ کسی چیز کا ادراک کرنا ۔ جیسے وجدت الشبع ( میں نے سیری کو پایا کہ اس کا تعلق قوت شہو یہ کے ساتھ ہے ۔ وجدت الحزن وا لسخط میں نے غصہ یا غم کو پایا اس کا تعلق قوت غضبہ کے ساتھ ہے ۔ اور بذریعہ عقل کے کسی چیز کو پالیتا جیسے اللہ تعالیٰ یا نبوت کی معرفت کہ اسے بھی وجدان کہا جاتا ہے ۔ جب وجود پالینا ) کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس کے معنی محض کسی چیز کا علم حاصل کرلینا کے ہوتے ہیں کیونکہ ذات باری تعالیٰ جوارح اور آلات کے ذریعہ کسی چیز کو حاصل کرنے سے منزہ اور پاک ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا اور ان میں اکثروں کو ( دیکھا تو ) بد عہد دیکھا ۔ رجل الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا [ الأنعام/ 9] ( ر ج ل ) الرجل کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] شيع الشِّيَاعُ : الانتشار والتّقوية . يقال : شاع الخبر، أي : كثر وقوي، وشَاعَ القوم : انتشروا وکثروا، وشَيَّعْتُ النّار بالحطب : قوّيتها، والشِّيعَةُ : من يتقوّى بهم الإنسان وينتشرون عنه، ومنه قيل للشّجاع : مَشِيعٌ ، يقال : شِيعَةٌ وشِيَعٌ وأَشْيَاعٌ ، قال تعالی: وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْراهِيمَ [ الصافات/ 83] ، هذا مِنْ شِيعَتِهِ وَهذا مِنْ عَدُوِّهِ [ القصص/ 15] ، وَجَعَلَ أَهْلَها شِيَعاً [ القصص/ 4] ، فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ [ الحجر/ 10] ، وقال تعالی: وَلَقَدْ أَهْلَكْنا أَشْياعَكُمْ [ القمر/ 51] . ( ش ی ع ) الشیاع کے معنی منتشر ہونے اور تقویت دینا کے ہیں کہا جاتا ہے شاع الخبر خبر پھیل گئی اور قوت پکڑ گئی ۔ شاع القوم : قوم منتشر اور زیادہ ہوگئی شیعت النار بالحطب : ایندھن ڈال کر آگ تیز کرنا الشیعۃ وہ لوگ جن سے انسان قوت حاصل کرتا ہے اور وہ اس کے ارد گرد پھیلے رہتے ہیں اسی سے بہادر کو مشیع کہا جاتا ہے ۔ شیعۃ کی جمع شیع واشیاع آتی ہے قرآن میں ہے وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْراهِيمَ [ الصافات/ 83] اور ان ہی یعنی نوح (علیہ السلام) کے پیرؤں میں ابراہیم تھے هذا مِنْ شِيعَتِهِ وَهذا مِنْ عَدُوِّهِ [ القصص/ 15] ایک تو موسیٰ کی قوم کا ہے اور دوسرا اس کے دشمنوں میں سے تھا وَجَعَلَ أَهْلَها شِيَعاً [ القصص/ 4] وہاں کے باشندوں کو گروہ در گروہ کر رکھا تھا ۔ فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ [ الحجر/ 10] پہلے لوگوں میں ( بھی ) وَلَقَدْ أَهْلَكْنا أَشْياعَكُمْ [ القمر/ 51] اور ہم تمہارے ہم مذہبوں کو ہلاک کرچکے ہیں ۔ عدو العَدُوُّ : التّجاوز ومنافاة الالتئام، فتارة يعتبر بالقلب، فيقال له : العَدَاوَةُ والمُعَادَاةُ ، وتارة بالمشي، فيقال له : العَدْوُ ، وتارة في الإخلال بالعدالة في المعاملة، فيقال له : العُدْوَانُ والعَدْوُ. قال تعالی: فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] ، وتارة بأجزاء المقرّ ، فيقال له : العَدْوَاءُ. يقال : مکان ذو عَدْوَاءَ «3» ، أي : غير متلائم الأجزاء . فمن المُعَادَاةِ يقال : رجلٌ عَدُوٌّ ، وقومٌ عَدُوٌّ. قال تعالی: بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] ( ع د و ) العدو کے معنی حد سے بڑھنے اور باہم ہم آہنگی نہ ہونا ہیں اگر اس کا تعلق دل کی کیفیت سے ہو تو یہ عداوۃ اور معاداۃ کہلاتی ہے اور اگر رفتار سے ہو تو اسے عدو کہا جاتا ہے اور اگر عدل و انصاف میں خلل اندازی کی صورت میں ہو تو اسے عدوان اور عدو کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بےسمجھے برا نہ کہہ بیٹھیں ۔ اور اگر اس کا تعلق کسی جگہ کے اجزاء کے ساتھ ہو تو اسے عدواء کہہ دیتے ہیں جیسے مکان ذوعدوء ناہموار مقام چناچہ معاداۃ سے اشتقاق کے ساتھ کہا جاتا ہے رجل عدو وقوم عدو اور یہ واحد جمع دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] اب سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ غوث ( استغاث) الغَوْثُ يقال في النّصرة، والغَيْثُ في المطر، واسْتَغَثْتُهُ : طلبت الغوث أو الغیث، فَأَغَاثَنِي من الغوث، وغَاثَنِي من الغیث، وغَوَّثت من الغوث، قال تعالی: إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ [ الأنفال/ 9] ، وقال : فَاسْتَغاثَهُ الَّذِي مِنْ شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ [ القصص/ 15] ، وقوله : وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغاثُوا بِماءٍ كَالْمُهْلِ [ الكهف/ 29] ، فإنّه يصحّ أن يكون من الغیث، ويصحّ أن يكون من الغوث، وکذا يُغَاثُوا، يصحّ فيه المعنیان . والغيْثُ : المطر في قوله : كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَباتُهُ [ الحدید/ 20] ، قال الشاعر : سمعت النّاس ينتجعون غيثا ... فقلت لصیدح انتجعي بلالا ( غ و ث) الغوث کے معنی مدد اور الغیث کے معنی بارش کے ہیں اور استغثتہ ض ( استفعال ) کے معنی کسی کو مدد کے لیے پکارنے یا اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرنا آتے ہیں جب کہ اس معنی مدد طلب کرنا ہو تو اس کا مطاوع اغاثنی آئیگا مگر جب اس کے معنی بارش طلب کرنا ہو تو اس کا مطاوع غاثنی آتا ہے اور غوثت میں نے اس کی مدد کی یہ بھی غوث سے مشتق ہے جس کے معنی مدد ہیں قرآن پاک میں ہے :إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ [ الأنفال/ 9] جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے ۔ فَاسْتَغاثَهُ الَّذِي مِنْ شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ [ القصص/ 15] تو جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو موسیٰ کے دشمنوں میں سے تھا ، موسیٰ سے مدد طلب کی ۔ اور آیت کر یمہ ؛وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغاثُوا بِماءٍ كَالْمُهْلِ [ الكهف/ 29] اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے ان کی دادرسی کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح گرم ہوگا ۔ میں یستغیثوا غوث ( مدد ما نگنا) سے بھی ہوسکتا ہے ۔ اور غیث ( پانی مانگنا ) سے بھی اسی طرح یغاثوا ( فعل مجہول ) کے بھی دونوں معنی ہوسکتے ہیں ( پہلی صورت میں یہ اغاث یعنی ( باب افعال ) سے ہوگا دوسری صورت میں غاث ، یغیث سے اور آیت کریمہ : كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَباتُهُ [ الحدید/ 20] جیسے بارش کہ اس سے کھیتی اگتی اور کسانوں کو کھیتی بھلی لگتی ہے ۔ میں غیث کے معنی بارش ہیں چناچہ کو شاعر نے کہا ہے ۔ (332) سمعت الناس ینتجعون غیثا فقلت لصیدح انتجعی بلالا میں نے سنا ہے کہ لوگ بارش کے مواضع تلاش کرتے ہیں تو میں نے اپنی اونٹنی صیدح سے کہا تم بلال کی تلاش کرو ۔ وكز الوَكْزُ : الطّعن، والدّفع، والضّرب بجمیع الکفّ. قال تعالی: فَوَكَزَهُ مُوسی[ القصص/ 15] . ( و ک ز ) الوکز ( س ض ) کے معنی کچوکا لگانے ، دھکا دینے اور مکا مارنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے ۔ فَوَكَزَهُ مُوسی[ القصص/ 15] تو موسٰی (علیہ السلام) نے اس کا مکامارا ۔ قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے شطن الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] ( ش ط ن ) الشیطان اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی دور ہونیکے ہیں اور بئر شطون ( بہت گہرا کنوآں ) شطنت الدار ۔ گھر کا دور ہونا غربۃ شطون ( بطن سے دوری ) وغیرہ محاوارت اسی سے مشتق ہیں بعض نے کہا ہے کہ لفظ شیطان میں نون زائدہ ہے اور یہ شاط یشیط سے مشتق ہے جس کے معنی غصہ سے سوختہ ہوجانے کے ہیں ۔ اور شیطان کو بھی شیطان اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے جیسا کہ آیت : ۔ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] اور جنات کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ شیطان ہر سر کش کو کہتے ہیں خواہ وہ جن وانس سے ہو یا دیگر حیوانات سے ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] شیطان ( سیرت ) انسانوں اور جنوں کو ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

نبی سے کوئی جرم سرزد ہو تو خدا سے معافی مانگتا ہے قول باری ہے : (فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ۔ موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا) نیز قول باری ہے (وقتلت نفسا۔ تونے ایک آدمی کو قتل کردیا تھا) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتادیا کہ انہوں نے گھونسا مار کر اس شخص کو قتل کردیا تھا پھر اپنے اس فعل پر جن الفاظ میں ندامت کا اظہار کیا تھا اس کا ذکر قرآن میں اس طرح ہوا ہے : (رب انی ظلمت نفسی۔ اے میرے پروردگار ! میں نے اپنے نفس پر ظلم کرلیا) ۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ تھپڑ مار کر کسی کی جان لے لینا قتل عمد ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) علی الاطلاق یہ نہ کہتے کہ ” پروردگار ! میں نے اپنے اوپر ظلم کرلیا۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ بات غلط ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس جملے کا مفہوم یہ ہو کہ ” میں نے گھونسا مارنے کا اقدام کرکے اپنے اوپر ظلم کرلیا جبکہ اس بارے میں ابھی مجھے اوپر سے کوئی ہدایت نہیں ملی تھی۔ “ اس واقعہ میں اس بات پر بھی دلالت موجود نہیں ہے کہ قتل کا یہ واقعہ قتل عمد تھا کیونکہ ظلم صرف قتل کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتا بلکہ اس کے دائرے میں ظلم کی چھوٹی چھوٹی صورتیں بھی داخل ہیں۔ کیا بیوی کو اس کے والدین سے جدا کرنا جائز ہے ؟ قول باری ہے : (فلما قضی موسیٰ الاجل وسارباھلہ۔ جب موسیٰ نے مدت پوری کرلی اور وہ اپنے اہل وعیال کو لے کر چلا) تا آخر آیت۔ اس سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ شوہر کو اپنی بیوی کے ساتھ سفر کرنے اور اسے دوسرے شہر میں لے جانے نیز اسے اپنے والدین سے الگ کردینے کا اختیار ہوتا ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ میرے نزدیک ان امور پر آیت کی کوئی دلالت نہیں ہے کیونکہ یہ ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی بیوی کی رضامندی سے یہ قدم اٹھایا ہو۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٥) اور موسیٰ (علیہ السلام) شہر میں ایسے وقت پہنچے کہ وہاں کے اکثر باشندے بیخبر تھے قیلولہ کا وقت تھا یا مغرب کے بعد کا تو انہوں نے وہاں ایک اسرائیلی اور ایک قبطی کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھا ایک تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی برادری یعنی بنی اسرائیل میں سے تھا اور دوسرا مخالفین میں سے یعنی قبطی تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی برادری میں سے جو تھا اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر اس مخالف کے مقابلہ میں مدد چاہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو گھونسا مارا تو وہ ہلاک ہوگیا کہنے لگے کہ یہ شیطانی حرکت ہوگئی بیشک شیطان بھی انسان کا کھلا دشمن ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٥ (وَدَخَلَ الْمَدِیْنَۃَ عَلٰی حِیْنِ غَفْلَۃٍ مِّنْ اَہْلِہَا) ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) شاہی محل میں رہتے تھے اور عام طور پر شاہی محلات عام شہری آبادی سے الگ علاقے میں ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کے شہر میں آنے کا یہاں خصوصی انداز میں ذکر ہوا ہے۔ عَلٰی حِیْنِ غَفْلَۃٍ کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو آپ ( علیہ السلام) علی الصبح شہر میں آئے ہوں گے جب لوگ ابھی نیند سے بیدار نہیں ہوئے تھے یا پھر وہ دوپہر کو قیلولے کا وقت تھا۔ (ہٰذَا مِنْ شِیْعَتِہٖ وَہٰذَا مِنْ عَدُوِّہٖ ج) ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وہاں شہر میں ایک اسرائیلی اور ایک قبطی کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھا۔ (قَالَ ہٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِط اِنَّہٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ ) ” ( حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نیت تو قتل کرنے کی نہیں تھی لیکن اتفاق سے ضرب زیادہ شدید تھی اور وہ شخص مرگیا۔ یہ حرکت سرزد ہوتے ہی آپ ( علیہ السلام) کو فوراً احساس ہوا کہ یہ مجھ سے شیطانی کام صادر ہوگیا ہے۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) نے فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

20 It might be the early morning, or midday in summer, or night in winter, when the roads were deserted and there was all quiet in the city. The words "entered the city" indicate that the royal palaces were situated outside the capital, away from the common population. The words used are "entered the city" and not "came out in the city", because the Prophet Moses lived in the royal palace. 21 The word wakaza in the original means both giving a slap and giving a blow. We have adopted "Moses gave a blow" for the reason that a blow can cause death but not so a slap. 22 One can imagine the state of utter remorse and confusion in which the Prophet Moses uttered these words when he saw the Egyptian fall down after receiving the blow and breathe his last. He had no intention to murder, nor is a blow struck to kill, nor can one expect that a healthy person would die on receiving a blow. That is why the Prophet Moses exclaimed: "This is the work of Satan! He has made me do this in order to work some great mischief, so that I am accused of killing an Egyptian while defending an Israelite, and a violent storm of 'anger and indignation is aroused in the whole of Egypt not only against me but the whole Israelite community." In this connection, the Bible gives a different version from the Qur'an. It declares the Prophet Moses to be guilty of wilful murder. It says that when Moses saw an Egyptian and an Israelite fighting, "He ( Moses) looked this way and that way, and when he saw that there was no man, He slew the Egyptian, and hid him in the sand." (Exod. 2: 12). The same is the version of the Talmud also. Now anybody can see how the Israelites brand the characters of their elders with infamy and how the Qur'an exonerates them. The verdict of common sense also is that a wise and discreet person, who was to become a great Prophet in the future, and who had to give man a great code of law and justice, could not be such a blind nationalist that seeing a member of his own community fighting with a man of the other community he would be so infuriated that he would kill the other person wilfully. Evidently, it could not be lawful to kill the Egyptian only for the sake of rescuing an Israelite from his tyranny.

سورة القصص حاشیہ نمبر : 20 ہوسکتا ہے کہ وہ صبح سویرے کا وقت ہو ، یا گرمی میں یا دوپہر کا ، یا سردیوں میں رات کا ۔ بہرحال مراد یہ ہے کہ جب سڑکیں سنسان تھیں اور شہر میں سناٹا چھایا ہوا تھا ۔ شہر میں داخل ہوا ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دار السلطنت کے شاہی محلات عام آبادی سے باہر واقع تھے ، حضرت موسی علیہ السلام چونکہ چاہی محل میں رہتے تھے اس لیے شہر میں نکلے کہنے کے بجائے شہر میں داخل ہوئے فرمایا گیا ہے ۔ سورة القصص حاشیہ نمبر : 21 اصل میں لفظ وکر استعمال ہوا ہے جس کے معنی تھپڑ مارنے کے بھی ہیں اور گھونسا مارن کے بھی ۔ ہم نے اس خیال سے کہ تھپڑ سے موت واقع ہوجانا گھونسے کی بہ نسبت بعید تر ہے اس کا ترجمہ گھونسا مارنا کیا ہے ۔ سورة القصص حاشیہ نمبر : 22 اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گھونسا کھا کر جب مصری گرا ہوگا اور اس نے دم توڑ دیا ہوگا تو کیسی سخت ندامت اور گھبراہٹ کی حالت میں یہ الفاظ حضرت موسی کی زبان سے نکلے ہوں گے ، ان کو کوئی ارادہ قتل کا نہ تھا ، نہ قتل کے لیے گھونسا مارنا جاتا ہے ، نہ کوئی شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ ایک گھونسا کھاتے ہی ایک بھلا چنگا آدمی پران چھوڑ دے گا ۔ اس بنا پر حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ شیطان کا کوئی شریرانہ منصوبہ معلوم ہوتا ہے ۔ اس نے ایک بڑا فساد کھڑا کرنے کے لیے مجھ سے یہ کام کرایا ہے تاکہ ایک اسرائیلی کی حمایت میں ایک قبطی کو مار ڈالنے کا الزام مجھ پر عائد ہو اور صرف میرے ہی خلاف نہیں بلکہ تمام بنی اسرا٤یل کے خلاف مصر میں ایک طوفان عظیم اٹھ کھڑا ہو ۔ اس معاملہ میں بائیبل کا بیان قرآن سے مختلف ہے ۔ وہ حضرت موسی کو قتل عمد کا مجرم ٹھہراتی ہے ۔ اس کی روایت یہ ہے کہ مصری اور اسرائیلی کو لڑتے دیکھ کر حضرت موسی نے ادھر ادھر نگاہ کی اور جب دیکھا کہ وہاں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے تو اس مصری کو جان سے مار کر اسے ریت میں چھپا دیا ( خروج 2 ۔ 12 ) یہی بات تلمود میں بھی بیان کی گئی ہے ، ۔ اب یہ ہر شخس دیکھ سکتا ہے کہ بنی اسرائیل اپنے اکابر کی سیرتوں کو خود کس طرح داغدار کرتے ہیں اور قرآن کس طرح ان کی پوزیشن صاف کرتا ہے ۔ عقل بھی یہی کہتی ہے کہ ایک حکیم و دانا آدمی ، جسے آگے چل کر ایک اولوالعزم پیغمبر ہونا تھا اور جسے انسان کو عدل و انصاف کا ایک عظیم قانون دینا تھا ، ایسا اندھا قوم پرست نہیں ہوسکتا کہ اپنی قوم کے ایک فرد سے دوسری قوم کے کسی شخص کو لڑتے دیکھ کر آپے سے باہر ہوجائے اور جان بوجھ کر اسے قتل کر ڈالے ۔ ظاہر ہے کہ اسرائیلی کو مصری کے پنجے سے چھڑانے کے لیے اسے قتل کردینا تو روا نہ ہوسکتا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

5: یعنی اکثر لوگ دوپہر کے وقت بے خبر سوئے ہوئے تھے 6: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقصد تو صرف یہ تھا کہ اسرائیلی شخص کو اس کے ظلم سے بچائیں، اسے قتل کرنا مقصود نہیں تھا، لیکن وہ ایک ہی مکے سے مر گیا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:15) علی حین غفلۃ من اہلہا : علی بمعنی فی۔ جیسا کہ آیت واتبعوا ما تتلوا الشیطن علی ملک سلیمن (2:102) میں علی بمعنی فی آیا ہے۔ حین غفلۃ۔ غفلت کا وقت۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ المدینۃ کی طرف راجع ہے لفظی ترجمہ ہوگا۔ وہ شہر میں اس کے باسیوں کی غفلت کے وقت میں داخل ہوا۔ یعنی جب اہل شہر غفلت میں تھے قیلولہ کر رہے تھے یا رات کو سو رہے تھے ۔ گویا بازاروں میں چنداں آمدرورفت نہ تھی۔ بعض کے نزدیک یہ ان کی عید کا دن تھا۔ اور وہ لہو ولعب میں مشغول تھے۔ (28:15) من سیعتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ شیعۃ فرقہ۔ گروہ۔ الشیاع کے معنی منتشر ہونے اور تقویت دینے کے ہیں۔ شاع الخبر خبر پھیل گئی اور قوت پکڑ گئی اور شاع القوم قوم منتشر ہوگئی اور زیادہ ہوگئی۔ الشیعۃ وہ لوگ جن سے انسان قوت حاصل کرتا ہے اور وہ اس کے اردگرد پھیلے رہتے ہیں۔ شیعۃ کی جمع شیع واشیاع ہے شیعۃ کا اطلاق واحد تثنیہ جمع ۔ مذکر اور مؤنث سب پر ہوتا ہے۔ استغاثہ : ماضی واحد مذکر غائب استغاثۃ (استفعال) مصدر اس نے مدد کے لئے پکارا۔ اس نے فریاد کی ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع حضرت موسیٰ ہیں ۔ غ و ث، غ ی ث مادہ۔ اسی باب سے بمعنی اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرنے کے بھی آتا ہے لیکن اس صورت میں یہ غ ی ث سے مشتق ہوگا کیونکہ الغیث بمعنی بارش ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث (31:34) بیشک اللہ ہی کو قیامت کی خبر ہے اور وہی بارش برساتا ہے۔ استغاث (باب استفعال) ہر دو مادہ سے آتا ہے اور اس کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ مثلا آیت وان یستغیثوا یغاقوا بماء کالمہل (18:29) اور اگر وہ فریاد کریں گے (یا پانی مانگیں گے) تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے ان کی داد رسی کی جائیگی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح گرم ہوگا۔ یغاثوا (فعل مجہول) کے بھی دونوں معنی ہوسکتے ہیں پہلی صورت میں یہ اغاث یغیث (افعال) سے ہوگا اور دوسری صورت میں غاث یغیث (ضرب) سے۔ فوکزہ ف تعقیب کا ہے یا اس کا عطف محذوف پر ہے۔ ای غاثہ الذی من شیعتہ فوکزہ الذی من عدوہ۔ وکز (باب سمع و ضرب) ماضی واحد مذکر غائب اس نے گھونسہ مارا۔ مکا مارا۔ کچوکا لگایا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع وہ قبطی ہے جو حضرت موسیٰ کے دشمنوں میں سے تھا ۔ قضی علیہ۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ قضاء مصدر۔ قضا قولی ہو یا عملی یا بشری ہو یا الٰہی۔ بہرحال فیصلہ کردینا یا کرلینا۔ کسی بات کے متعلق آخری حکم یا ارادہ یا عمل کو ختم کردینا ضرور مفہوم قضاء کے اندر ماخوذ ہے۔ سیاق کی مناسبت سے اور مختلف صلات (صلہ کی جمع) کے ساتھ مختلف معانی مراد ہوتے ہیں۔ علی کے صلہ کے ساتھ اکثر موت کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ مثلاً ونادوا یملک لیقض علینا ربک (43:77) اور پکاریں گے اے مالک ! (راروغہ جہنم کا اصطلاحی نام) تمہارا پروردگار ہمیں موت ہی دیدے۔ اور فلما قضینا علیہ الموت (34:14) پھر جب ہم نے ان کے لئے موت کا حکم صادر کیا۔ فقضی علیہ : پس اس نے اس کا کام تمام کردیا۔ (یعنی اس کے عمل حیوۃ کو ختم کردیا) ۔ فتمتلہ اسے مار دیا۔ ضمیر فاعل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ انہ عدو مضل مبین۔ مضل بہکانے والا۔ گمراہ کردینے والا۔ عدو کی صفت ہے۔ مبین ، عدو کی صفت ثانی ہے۔ کھلا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

10 ۔ جیسا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ کو ان کے صبر اور نیکی پر دیا۔ 11 ۔ یعنی شہر میں سناٹا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ صبح کا وقت ہو یا گرمیوں کی دوپہر یا سردیوں کی رات کا۔ عموماً مفسرین (رح) نے دوپہر کا وقت لکھا ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ لوگوں سے چھپ کر اور ان کی لاعلمی میں۔ “ کیونکہ اس وقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرعون کی مخالفت شروع کر رکھی تھی اور فرعون کو بھی پتا چل گیا تھا اس لئے شہر میں چھپ کر آئے۔ (قرطبی) 1 ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا ارادہ قتل کا نہ تھا نہ قتل کے لئے گھونسا مارا جاتا ہے اور نہ کوئی شخص محض گھونسے سے مرتا ہے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اسے صرف تادیب اور گوشمالی کے لئے گھونسا مارا تھا مگر وہ اتنا کمزور اور بزدل نکلا کہ محض ایک گھونسے سے دم توڑ گیا۔ اس پر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نادم ہوئے اور اپنی حرکت کو شیطانی حرکت قرار دیا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ یعنی اتفاق سے وہ مر ہی گیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہجرت کا سبب۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک طرف اپنی والدہ ماجدہ کی مبارک گود میں پرورش پائی اور دوسری طرف فرعون کے ہاں رہ کر امور سلطنت سے آگاہی حاصل کی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو صرف بنی اسرائیل کا سیاسی رہنما ہی نہیں بنایا تھا بلکہ انھیں نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس لیے انھیں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس بھیجا تاکہ ان کی تربیت میں رہ کر پیغمبرانہ آداب سیکھ جائیں کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جس ماحول میں پرورش پائی تھی اس میں تواضع اور انکساری کی بجائے جلال کا پہلو غالب تھا، پیغمبرانہ آداب سیکھنے کا یہ معنٰی ہرگز نہیں کہ پیغمبری کسی سے سیکھنے سے حاصل ہوتی ہے، یہ تو خالصتاً اللہ تعالیٰ کا اپنا انتخاب ہوتا ہے، جسے چاہتا ہے نبوت کے کام کے لیے منتخب کرتا ہے۔ ہوا یہ کہ ایک دن دوپہر کے وقت موسیٰ (علیہ السلام) محل سے باہر نکلے تو دیکھا کہ دو آدمی آپس میں گتھم گتھا ہیں۔ ان میں ایک آدمی اسرائیلی تھا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد چاہی موسیٰ (علیہ السلام) نے آگے بڑھ کر فرعون کے آدمی کو پیچھے ہٹانے کے لیے دھکا دیا تو ہاتھ لگتے ہی اس کی جان نکل گئی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے یہ تو شیطان کا کام ہے جو انسان کا کھلا دشمن ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس واقعہ کو اس لیے شیطان کی طرف منسوب کیا کیونکہ لوگوں کو لڑانا شیطان کا کام ہوتا ہے، موسیٰ (علیہ السلام) نے قتل کرنے کے ارادے سے اس شخص کو دھکا نہیں مارا تھا، وہ تو دونوں کو چھڑانا چاہتے تھے۔ مگر وہ شخص جان ہار بیٹھا۔ مسائل ١۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادۃً فرعون کے آدمی کو قتل نہیں کیا تھا۔ ٢۔ مظلوم کی مدد کرنا انبیاء کرام (علیہ السلام) کا شیوہ اور مشن ہے۔ ٣۔ ہر برا کام شیطان کی شیطنت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن شیطان انسان کا ابدی اور ازلی دشمن ہے۔ ١۔ شیطان نے کہا تھا کہ میں انسان کو گمراہ کرنے کے لیے دائیں بائیں آگے پیچھے سے حملہ آور ہوں گا۔ ( الاعراف : ١٧) ٢۔ یقیناً شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔ (الاعراف : ٢٢) ٣۔ یقیناً شیطان انسان کا واضح دشمن ہے۔ (یوسف : ٥) ٤۔ یقیناً شیطان تمہارا دشمن ہے اسے دشمن ہی سمجھو۔ (فاطر : ٦) ٥۔ یقیناً شیطان انسان کے ساتھ واضح دشمنی کرنے والا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٥٣) ٦۔ شیطان انسان کو رسوا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ (الفرقان : ٢٩) ٧۔ شیطان لوگوں کے درمیان دشمنی ڈالنا چاہتا ہے۔ (المائدۃ : ٩١) ٨۔ شیطان نے آدم اور حوّا کو پھسلا دیا، وہ انسانوں کا کھلا دشمن ہے۔ (الاعراف : ٣٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ودخل المدینہ علی حین ۔۔۔۔۔۔۔۔ ظھیرا للمجرمین (15- 17) ” وہ شہر میں داخل ہوا “ اور شہر سے مراد دار الخلافہ ہے ، جس طرح کہ اس وقت وہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کہاں سے آئے اور شہر میں داخل ہوئے۔ کیا یہ عین الشمس کے قصر شاہی سے نکل کر آئے یا یہ کہ انہوں نے شاہی محل اور دارالحکومت کو چھوڑ دیا تھا اور کسی اور جگہ رہائش اختیار کرلی تھی اور وہ شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب لوگ غافل تھے یعنی دوپہر کا وقت تھا یا لوگوں کے آرام کا وقت تھا۔ جب وہ شہر میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں۔ فوجد فیھا رجلین ۔۔۔۔۔۔۔ من عدوہ (28: 15) ” وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دوسرا اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اسے مدد کے لیے پکارا “۔ ان میں سے ایک قطبی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ فرعونی کے مصاحین میں سے تھا ، بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ شاہی محل کا باروچی تھا اور دوسرا اسرائیلی تھا۔ یہ دونوں آپس میں لڑ رہے تھے۔ تو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدد کے لیے پکارا کیونکہ قبطی دونوں کا دشمن تھا۔ یہ کیسے ہوا ؟ یہ کس طرح ممکن ہوا کہ ایک عام اسرائیلی فرعون کے پروردہ شخص کو خوف فرعون کے ملازم یا اس کی قوم کے آدمی کے خلاف پکار رہا ہے۔ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کو بدستور شاہی محل میں فرض کرلیا جائے تو وہ ممکن نہیں ہے کہ فرعون کے متنبی کو ایک دوسرے فرعونی کے خلاف پکارا جائے۔ یہ تب ہی ہوسکتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہ فرض کیا جائے کہ انہوں نے شاہی محل کو ترک کردیا ہے اور فرعون سے ان کے رابطے ختم ہیں۔ بنی اسرائیل میں یہ بات پھیل گئی ہے کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل سے ہیں اور یہ کہ وہ بادشاہ اور اس کے حاشیہ نشینوں کے خلاف ہیں اور اب وہ اپنی پسی ہوئی قوم کی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) جیسا مقام و مرتبہ رکھنے والے شخص کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ قصر شاہی سے نکل گئے ہوں کیونکہ آپ کا پاک نفس شروفساد کے اس گندے نالے میں کس طرح رہ سکتا تھا۔ فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ (28: 15) ” موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا “۔ وکز اس ضرب کو کہتے ہیں جو انسان پورے ہاتھ کے ساتھ دوسرے کو لگائے۔ انداز بیان سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ہی گھونسے کے ساتھ قبطی ڈھیر ہوگیا۔ اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کس قدر مضبوط اور قوی جوان تھے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ منفعل المزاج تھے اور سخت غصے والے تھے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دل میں فرعونیوں اور فرعون کے خلاف سخت نفرت تھی۔ لیکن قرآن کریم کی عبارت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس قبطی کو قتل کرنا نہ چاہتے تھے۔ یہ نہ چاہتے تھے کہ اسکی جان لے لی جائے ، جو نہی آپ نے دیکھا کہ وہ تو آپ کے سامنے ٹھنڈا پڑا ہے ، آپ پشیمان ہوگئے کہ آپ نے یہ غلط کام کر ڈالا۔ آپ نے اسے شیطانی کام کہا ، کیونکہ یہ غصے کی وجہ سے کام ہوا اور غصہ شیطانی عمل ہوتا ہے یا یہ شیطان کی اکساہٹ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ قال ھذا ۔۔۔۔۔ مضل مبین (28: 15) ” موسیٰ نے کہا یہ شیطان کی کار فرمائی ہے وہ سخت دشمن اور کھلا گمراہ کن ہے “۔ حضرت موسیٰ مزید کہتے ہیں کہ غصے کی وجہ سے انہوں نے اس فعل کا ارتکاب کیا۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے اس لغزش کا ارتکاب کرکے اپنے اوپر ظلم کیا۔ چناچہ آپ رب تعالیٰ سے طلب مغفرت کرتے ہیں۔ قال رب انی ۔۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم ” پھر وہ کہنے لگا اے میرے رب ، میں نے اپنے نفس پر ظلم کر ڈالا ، میری مغفرت فرما دے۔ چناچہ اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی ، وہ غفور و رحیم ہے “۔ اللہ نے آپ کی عاجزانہ دعا کو قبول کرلیا۔ کیونکہ آپ کو غلطی کا احساس ہوگیا اور فوراً استغفار کرلیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کانپتے ہوئے دل اور اپنے تیز احساس اور اپنی توجہ الی اللہ سے محسوس کرلیا کہ ان کے رب نے ان کو بخش دیا ہے۔ قلب مومن کو جب اللہ کا قرب نصیب ہوتا ہے تو وہ محسوس کرلیتا ہے اور جب دعا قبول ہوتی ہے تو بھی اسے احساس ہوجاتا ہے کہ دعا قبول ہوگئی ، انسان اپنے تقویٰ خدا خوفی اور اپنے احساس کی وجہ سے اس مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنے تیز شعور ، اپنی طہارت اور اتصال باللہ کے ذریعہ یہ محسوس کرلیتے ہیں کہ رب تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا ہے تو آپ فوراً اپنے اوپر لازم کرتے ہیں کہ رب ، آپ نے مجھ پر جو انعامات کیے ہیں آئندہ ان کا شکر ادا کروں گا کہ مجرموں کے مددگار نہ بنوں گا۔ قال رب بما ۔۔۔۔۔۔ ظھیرا للمجرمین (28: 17) ” اے میرے رب ، یہ احسان جو تو نے مجھ پر کیا ہے اس کے بعد میں کبھی مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا “۔ حضرت موسیٰ کی طرف سے یہ عام عہد ہے کہ وہ مجرموں کا معین و مددگار نہ بنیں گے یعنی آپ نے جرم اور مجرمین سے اپنی برات کا اظہار کیا ، ہر حال اور ہر صورت میں۔ اگرچہ بعض اوقات ان کا طبعی غصہ انہیں اس بات پر مجبور کر دے۔ بعض اوقات ظلم اور تشدد کے نتیجے میں ایک معتدل مزاج میں بھی تلخی پیدا ہوجاتی ہے۔ آپ یہ عہد اس لیے کر رہے ہیں کہ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی۔ پھر اللہ کے ان انعامات کے بدلے بطور شکر انہوں نے یہ عہد کیا کہ اللہ نے ان کو جسمانی قوت اور علم و حکمت سے نوازا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اندر نیکی اور صراط مستقیم پر چلنے کا ایہ ارتعاش اور اس سے قبل اپنی قوم کے حق میں مشتعل ہونے اور انتقام لینے کا ارتعاش یہ بتاتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت میں کس قدر سیمابیت تھی۔ آپ کا وجدان تیز ، انتقام سخت تھا اور دوسرے مقامات پر آپ کی شخصیت کا یہ پہلو بار بار ظہور پذیر رہتا ہے۔ بلکہ اگلے ہی منظر میں دیکھئے کہ آپ پھر اپنی قوم کے شخص پر غصہ ہوتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بار گاہ خداوندی میں مزید عرض کیا کہ اے میرے رب مجھ پر آپ کے بڑے بڑے انعامات ہیں۔ ان کا تقاضا یہ ہے کہ میں مجرمین کا مددگار نہ بنوں لہٰذا میں کبھی ان کی مدد نہ کروں گا جو گناہ کرنے والے اور گناہ کروانے والے ہوتے ہیں۔ دونوں قسم کے مجرموں سے دور رہنے اور ان کا معاون نہ بننے کا بار گاہ خداوندی میں عہد کیا شیطان چونکہ گناہ کراتا ہے لہٰذا اس بیزاری کے عموم میں وہ بھی آگیا اس میں یہ بات بھی داخل ہوگئی ہے کہ شیطان کے کہنے پر عمل نہ کروں گا کیونکہ اس کی بات ماننے میں اس کی مدد ہوتی ہے اور یہ عہد بھی ہوگیا کہ ہمیشہ احتیاط سے کام لوں گا۔ آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ جس طرح ہر گناہ گناہ ہے اسی طرح گناہ کی مدد کرنا بھی گناہ ہے عام طور سے لوگ اس سے غافل ہیں گنہگاروں کے ساتھ جاتے ہیں ان کی مدد کرتے ہیں، رشوت دلانے کے ایجنٹ بنتے ہیں بنکوں میں اور انشورنس کمپنیوں میں نوکریاں کرتے ہیں شراب بیچنے والی دکانوں میں ملازم ہوجاتے ہیں امیروں، وزیروں اور چھوٹے بڑے حاکموں کے مظالم میں ان کا ساتھ دیتے ہیں یہ سب گناہ ہے۔ حضرت کعب بن عجرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں تجھے بیوقوفوں کی امارت سے اللہ کی پناہ دیتا ہوں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہیں فرمایا، میرے بعد ایسے امراء ہوں گے کہ جو شخص ان کے پاس گیا اور ان کے جھوٹ کو سچ بتایا اور ظلم پر ان کی مدد کی تو وہ شخص مجھ سے نہیں اور ایسے اشخاص سے میرا تعلق نہیں، اور وہ ہرگز میرے پاس حوض پر نہ پہنچیں گے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٣٣٢ از ترمذی) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی ظالم کے ساتھ چلاتا کہ اس کو قوت پہنچائے اور وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے تو یہ شخص اسلام سے نکل گیا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٤٣٦ عن البیہقی فی شعب الایمان) حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ٹیکس وصول کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٣٢٢) ہر وہ ملازمت حرام ہے جس میں گناہ کیا جاتا ہو، ظلم کیا جاتا ہو، ظالم کی مدد کی جاتی ہو کیونکہ گناہ کرنا، اور گناہ کی مدد کرنا دونوں حرام ہیں اسی لیے گناہ کی اجرت اور گناہ پر مدد کرنے کی اجرت بھی حرام ہے جو لوگ حکومتوں کے محکموں میں یا دوسرے اداروں اور فرموں میں اور کمپنیوں میں لگے ہوئے ہیں وہ اپنے بارے میں غور کرلیں کہ وہ کس طرز پر چل رہے ہیں اور وہ خود اپنی جان کے لیے وبال تو نہیں بن رہے ہیں ؟ قرآن مجید میں اس کی تصریح ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جو قتل ہوگیا تھا اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرلی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا اس کے بعد جب ان سے قیامت کے دن سفارش کرنے کے لیے عرض کیا جائے گا تو وہ اپنے اس قتل والے واقعہ کو یاد کر کے شفاعت کرنے سے یہ فرما کر عذر کردیں گے قتلت نفسا لم اُوْمِرَ بقَتْلِھَا کہ میں نے ایک جان کو قتل کردیا تھا جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں دیا گیا۔ جن کے بلند مراتب ہیں ان کی باتیں بھی بڑی ہوتی ہیں۔ آج یہ واقعہ ہوا کہ ایک قبطی کو تادیباً گھونسہ مارا تو وہ مر ہی گیا اب اگلے دن یہ ہوا کہ جب صبح ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) شہر میں نکلے، لیکن ساتھ ہی خوف زدہ بھی تھے کہ دشمنوں کو واقعہ کا پتہ نہ چل گیا ہو اور اس کا بھی انتظار تھا کہ فرعونی حکومت اور اس کے کارندے کہیں قبطی کے قتل کرنے کی وجہ سے میرے قتل کے درپے نہ ہوں اسی خوف اور غور و فکر میں تھے کہ اچانک وہی اسرائیلی شخص نظر آگیا جس نے گزشتہ کل ایک قبطی کے مقابلے میں مدد طلب کی تھی۔ آج بھی ایک آدمی سے اس کی لڑائی ہو رہی تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تو مدد طلب کرنے لگا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اول تو اس کو تنبیہ فرمائی کہ تو کل بھی لڑ رہا تھا اور آج بھی لڑ رہا ہے، تو تو صریح طور پر بےراہ آدمی ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قبطی کی طرف متوجہ ہوئے جس سے اسرائیلی کی لڑائی ہو رہی تھی قبطی پورے بنی اسرائیل کے دشمن تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چاہا کہ اسے پکڑیں ابھی ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اسرائیلی نے یہ سمجھا کہ جب مجھے بےراہ بتا رہے ہیں تو مجھ ہی کو مارنے کے لیے ہاتھ بڑھا رہے ہیں مشہور ہے کہ نادان دوست سمجھدار دشمن سے بھی زیادہ تکلیف دیتا ہے، اسرائیلی نے کہا کہ اے موسیٰ کیا تم مجھے قتل کرنا چاہتے ہو جیسا کہ کل ایک آدمی کو قتل کرچکے ہو بس تمہارا یہی کام رہ گیا ہے کہ زمین میں اپنی زور آوری دکھایا کرو اور تم اصلاح کرنے والوں میں ہونا نہیں چاہتے۔ بعض مفسرین نے یہاں پر یہ نکتہ بیان کیا ہے جو حضرت ابن عباس (رض) کی طرف منسوب ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چونکہ (فَلَنْ اَکُوْنَ ظَھِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ ) کے ساتھ انشاء اللہ نہیں کہا اس لیے اگلے ہی دن پھر اسی میں مبتلا ہوگئے جس میں کل ابتلا ہوا تھا اور جبکہ ایک اسرائیلی کی زبان سے یہ بات نکل گئی کہ کل تم ایک آدمی کو قتل کرچکے ہو تو اس شخص کے قاتل کا پتہ چل گیا جو کل مقتول ہوگیا تھا۔ اس بات کو فرعون کی قوم کے آدمی نے بھی سن لیا اور فرعون کے درباریوں کو قاتل کا علم ہوگیا لہٰذا فرعون نے اور اس کے درباریوں نے باہمی مشورہ کیا کہ موسیٰ کو قتل کردینا چاہیے اور گو کہ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کروائی تھی۔ لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طور طریق سے اسے اس بات کا خطرہ لگا رہتا تھا کہ یہ وہی شخص تو نہیں جس کے ذریعہ میری حکومت برباد ہوگی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا مشورہ ہوگیا تو ایک شخص کو اس مشورے کا پتہ چل گیا (ممکن ہے یہ شخص فرعون کے درباریوں میں سے ہو اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے محبت اور عقیدت رکھتا ہو) یہ شخص دوڑتا ہوا شہر کے دور والے کنارہ سے آیا اور اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تمہارے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں تم یہاں سے چلے جاؤ اور یہ میں آپ کی خیرخواہی کی بات کر رہا ہوں۔ اس شخص کی بات سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ڈرتے ہوئے اور دشمن کی گرفت کا خطرہ دل میں لیے ہوئے وہاں سے تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی اے میرے پروردگار مجھے ظالموں سے نجات دے دیجیے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

16:۔ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) شہر میں ایسے وقت میں داخل ہوئے جبکہ سب لوگ دوپہر کے وقت باہر کے حالات سے بیخبر اپنے گھروں میں قیلولہ کر رہے تھے۔ آپ نے کیا دیکھا کہ دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں ان میں سے ایک تو ان کے اپنے قبیلے یعنی بنی اسرائیل کا ہے اور دوسرا ان کی دشمن قوم قبط کا ہے۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ والسلام کو دیکھتے ہی قبطی کے مقابلے میں انہیں مدد کے لیے پکارا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے تو قبطی کو زبانی سمجھایا کہ وہ اسرائیلی کو چھوڑ دے لیکن وہ الٹا گستاخی سے پیش آیا اس پر انہوں نے آگے بڑھ کر اس کے ایک گھونسہ رسید کیا۔ اس سے ان کا ارادہ ظالم کے ظلم سے مظلوم کو بچانے کا تھا۔ قتل کا ارادہ ہرگز نہ تھا اور نہ عادۃ گھونسہ قتل کا باعث ہوتا ہے لیکن قبطی اس کی تاب نہ لاسکا اور مرگیا۔ اس تقریر سے معلوم ہوگیا کہ یہ واقعہ عصمت انبیاء (علیہم السلام) از کبائر قبل نبوت کے منافی نہیں کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں انہوں نے ایک مظلوم کی امداد کی تھی جس سے بلا ارادہ ایک آدمی مرگیا۔ لا یشکل ایضا علی القول بعصمتھم عن الکبائر والصغائر مطلقا لجواز ان یکون (علیہ السلام) قد رای ان فی الوکز دفع ظالم عن مظلوم ففعلہ غیر قاصد بہ القتل وانما وقع مترتبا علیہ لا عن قصد (روح ج 20 ص 54) ۔ 17:۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ارادہ قتل کا ہرگز نہ تھا۔ جب ان کے گھوسہ مارنے سے غیر متوقع طور پر قبطی کی موت واقع ہوگئی تو بہت نادم ہوئے اور بول اٹھے یہ تو ایک شیطانی فعل ہے شیطان انسان کا علانیہ دشمن ہے جو اسے ورغلا کر غلط راستے پر ڈالتا ہے۔ قال رب انی ظلمت الخ، اس غیر ارادہ لغزش پر اللہ سے معافی کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے معافی دیدی کیونکہ معاف کرنے والا اور مہربان حقیقت میں وہی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

15۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کہیں باہر سے شہر میں ایسے وقت داخل ہوا کہ جس وقت وہاں کے باشندے بیخبر اور غفلت میں تھے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ شہر میں دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے سے ہاتھا پائی کر رہے ہیں ان دونوں میں سے ایک تو موسیٰ (علیہ السلام) کی جماعت میں سے تھا اور وہ دوسرا اس کا دشمن اور مخالف تھا پس اس شخص نے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی جماعت میں سے تھا اس شخص کے مقابلہ میں اور اس شخص کے خلاف جو موسیٰ (علیہ السلام) کا مخالف اور دشمن تھا موسیٰ (علیہ السلام) سے فریاد کی اور موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد چاہی اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس مخالف کو ایک گھونسا مارا سو اس کا کام ہی تمام کردیا ۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا یہ تو شیطانی کام ہوگیا۔ بیشک وہ شیطان دشمن اور صریح غلطی میں مبتلا کرنے والا اور کھلی گمراہی میں ڈالنے والا ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کہیں تشریف لے گئے ہوسکتا ہے کہ اپنی والدہ کے مکان پر گئے ہوں کیونکہ وہ شہر کی آبادی سے باہر رہتی تھیں ۔ بہر حال ! مصر میں داخل ہوئے تو وہ لوگوں کے سونے کا وقت تھا یا تو دوپہر ہوگئی یا رات کو آئے ہوں گے۔ بہر حال ! ایسے وقت تشریف لائے کہ شہر میں سناٹا تھا اور اتفاق سے دو شخص آپس میں گتھم گتھا ہو رہے تھے ایک اسرائیلی تھا جس کو من شیعۃ فرمایا اور دوسرا فرعونی جسکو من عدوہ فرمایا اسرائیلی نے اس فرعونی کے خلاف ان سے فریاد کی اور مدد چاہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بیچ بچائو کرنی کی غرض سے آگے بڑھے اس فرعونی کو سمجھایا حالانکہ قصوراسی کا تھا مگر وہ نہ مانا اور اپنی تعدی سے باز نہ آیا اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے تادیبا ً ایک مکار سید کیا مگر وہ مکا لگتے ہی مرگیا ۔ ظاہر ہے کہ حضر ت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو قصدا ً نہیں مارا اور عادتا ً مکہ اور گھونسے سے آدمی مرتا بھی نہیں اتفاقا ً یہ حادثہ پیش آیا بہر حال ایک سرکاری آدمی مارا گیا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی شہرت پہلے سے خراب تھی فرعونی ان کے مخالف تھے اگرچہ یہ کام سہوا ً ہوا پھر بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نادم ہوئے اور فرمانے لگے یہ کام شیطان کے کاموں میں سے وہ شیطان دشمن اور کھلاگمراہ کرنے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوئے فرعون کی قوم سے بیزار تھے ان کے کفر سے اور ان کے ساتھ لگے رہتے بنی اسرائیل وہی دو شخص لڑتے دیکھے ظالم فرعونی اس کو مارا تھا ادب دینے کو اس کی اجل آگئی یہ پچتائے کہ بےقصد خون ہوگیا اور ان کا گھر تھا اس شہر سے باہر جہاں سب بنی اسرائیل رہتے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کبھی وہاں جاتے کبھی فرعون کے گھر آتے اور فرعون کی قوم ان کی دشمن تھی کہ غیر قوم کا شخص ہے ایسا نہ ہو کہ زور پکڑے۔ 12