44 These two miracles were shown to the Prophet Moses at that time so that, firstly, he himself is fully convinced that the same Being Who is speaking to him is, in fact, the Creator and Master and Ruler of the whole system of the universe and secondly, he should have full satisfaction that he was not going unarmed before Pharaoh, to perform the dangerous mission assigned to him, but would go well armed with the two powerful weapons.
45 That is, "Whenever you experience the fear of any danger, fold back your arm to yourself: this will strengthen your heart and will deliver you completely from every feeling of fear and dread." The arm probably implies the right arm. The arm can be folded back in two ways: either by bringing the arm and pressing it against the side, or by pressing one hand under the armpit of the other. Probably the first way was implied, for in that case the other person cannot perceive that one is specially doing so in order to ward off fear.
The Prophet Moses was taught this device because he was being sent to counter a tyrannical government without any army and worldly equipment. He was going to meet with many a dreadful situation when a great Prophet also could not remain safe from fear and terror. AIlah said to him, "Whenever you face such a situation, just do this and Pharaoh will not be able to shake your heart in spite of all the power of his mighty kingdom."
46 The words by themselves imply: "Go to Pharaoh with these Signs and present yourself as Allah's Messenger, and invite him and his chiefs to the obedience and worship of Allah, Lord of the worlds." That is why his appointment has not been specified here, though at other places it has been clearly stated, thus: 'Go to Pharaoh for he has become rebellious' "(Ta Ha: 24) And: "When your Lord called Moses, saying: "Go forth to the wicked people--the people of Pharaoh'." (Ash-Shu'araa: 10).
سورة القصص حاشیہ نمبر : 44
یہ دونوں معجزے اس وقت حضرت موسی کو اس لیے دکھائے گئے کہ اول تو انہیں خود پوری طرح یقین ہوجائے کہ فی الواقع وہی ہستی ان سے مخاطب ہے جو کائنات کے پورے نظام کی خالق و مالک اور فرماں روا ہے ۔ دوسرے وہ ان معجزوں کو دیکھ کر مطمئن ہوجائیں کہ جس خطرناک مشن پر انہیں فرعون کی طرف بھیجا جارہا ہے اس کا سامنا کرنے کے لیے وہ بالکل نہتے نہیں جائیں گے بلکہ دو زبردست ہتھیار لے کر جائیں گے ۔
سورة القصص حاشیہ نمبر : 45
یعنی جب کبھی کوئی خطرناک موقع ایسا آئے جس سے تمہارے دل میں خوف پیدا ہو تو اپنا بازو بھینچ لیا کرو ، اس سے تمہارا دل قوی ہوجائے گا اور رعب و دہشت کی کوئی کیفیت تمہارے اندر باقی نہ رہے گی ۔
بازو سے مراد غالبا سیدھا بازو ہے ، کیونکہ مطلقا ہاتھ بول کر سیدھا ہاتھ مراد لیا جاتا ہے ، بھینچنے کی دو شکلیں ممکن ہیں ۔ ایک یہ کہ بازو کو پہلے کے ساتھ لگا کر دبا لیا جائے ۔ دوسری یہ کہ ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ کی بغل میں رکھ کر دبایا جائے ۔ اغلب یہ ہے کہ پہلی شکل ہی مراد ہوگی ۔ کیونکہ اس صورت میں دوسرا کوئی شخص یہ محسوس نہیں کرسکتا کہ آدمی اپنے دل کا خوف دور کرنے کے لیے کوئی خاص عمل کر رہا ہے ۔
حضرت موسی کو یہ تدبیر اس لیے بتائی گئی کہ وہ ایک ظالم حکومت کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی لاؤ لشکر اور دنیوی سازوسامان کے بغیر بھیجے جارہے تھے ، بارہا ایسے خوفناک مواقع پیش آنے والے تھے جن میں ایک اولو العزم نبی تک دہشت سے محفوظ نہ رہ سکتا تھا ۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ جب کوئی ایسی صورت پیش آئے ، تم بس یہ عمل کرلیا کرو ، فرعون اپنی پوری سلطنت کا زور لگا کر بھی تمہارے دل کو متزلزل نہ کرسکے گا ۔
سورة القصص حاشیہ نمبر : 46
ان الفاظ میں یہ مفہوم آپ سے آپ شامل ہے کہ یہ نشانیاں لے کر فرعون کے پاس جاؤ اور اللہ کے رسول کی حیثیت سے اپنے آپ کو پیش کر کے اسے اور اس کے اعیان سلطنت کو اللہ رب العالمین کی اطاعت و بندگی کی طرف دعوت دو ۔ اسی لیے یہاں اس ماموریت کی تصریح نہیں کی گئی ہے البتہ دوسرے مقامات پر صراحت کے ساتھ یہ مضمون بیان کیا گیا ہے ۔ سورہ طہ اور سورہ نازعات میں فرمایا اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى فرعون کے پاس جا کہ وہ سرکش ہوگیا ہے ۔ اور الشعراء میں فرمایا اِذْ نَادٰي رَبُّكَ مُوْسٰٓي اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ، قَوْمَ فِرْعَوْنَ ۔ جبکہ پکارا تیرے رب نے موسی کو کہ جا ظالم قوم کے پاس ، فرعون کی قوم کے پاس ۔