Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 32

سورة القصص

اُسۡلُکۡ یَدَکَ فِیۡ جَیۡبِکَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَآءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ ۫ وَّ اضۡمُمۡ اِلَیۡکَ جَنَاحَکَ مِنَ الرَّہۡبِ فَذٰنِکَ بُرۡہَانٰنِ مِنۡ رَّبِّکَ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿۳۲﴾

Insert your hand into the opening of your garment; it will come out white, without disease. And draw in your arm close to you [as prevention] from fear, for those are two proofs from your Lord to Pharaoh and his establishment. Indeed, they have been a people defiantly disobedient."

اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں ڈال وہ بغیر کسی قسم کے روگ کے چمکتا ہوا نکلے گا بالکل سفید اور خوف سے ( بچنے کے لئے ) اپنے بازو اپنی طرف ملا لے پس یہ دونوں معجزے تیرے لئے تیرے رب کی طرف سے ہیں فرعون اور اس کی جماعت کی طرف ، یقیناً وہ سب کے سب بےحکم اور نافرمان لوگ ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

اسْلُكْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاء مِنْ غَيْرِ سُوءٍ ... Put your hand into the opening of your garment, it will come forth white without a disease; meaning, `when you put your hand in your garment and then draw it out, it will be shining white as if it were a piece of the moon or a flash of lightning.' Allah said: مِنْ غَيْرِ سُوءٍ (without a disease), i.e., with no trace of leukoderma. ... وَاضْمُمْ إِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ ... and draw your hand close to your side to be free from the fear. Mujahid said, "To be free from terror." Qatadah said, "To be free from fear." Musa was commanded, when he felt afraid of anything, to draw his hand close to his side to be free from the fear. If he did that, whatever fear he felt would be gone. Perhaps if a person does this, following the example of Musa, and puts his hand over his heart, his fear will disappear or be lessened, if Allah wills; in Allah we place our trust. ... فَذَانِكَ بُرْهَانَانِ مِن رَّبِّكَ ... These are two proofs from your Lord This refers to the throwing down of his stick, whereupon it turned into a moving snake, and his putting his hand into his garment and bringing it forth white without a disease. These were two clear and definitive proofs of the power of the One Who does as He chooses, and of the truth of the Prophethood of the one at whose hands these miracles occurred. Allah said: ... إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَيِهِ ... to Fir`awn and his chiefs. meaning his leaders and prominent followers. ... إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ Verily, they are the people who are rebellious. means, who are disobedient towards Allah and who go against His commands and His religion.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

321یہ ید بیضاء دوسرا معجزہ تھا جو انھیں عطا کیا گیا۔ 322لاٹھی کا اژدھا بن جانے کی صورت میں جو خوف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو لاحق ہوتا تھا، اس کا حل بتلا دیا گیا کہ اپنا بازو اپنی طرف ملا لیا کرو یعنی بغل میں دبا لیا کرو جس سے خوف جاتا رہا کرے گا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ عام ہے کہ جب بھی کسی سے کوئی خوف محسوس ہو تو اس طرح کرنے سے خوف دور ہوجائے گا۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اقتداء میں جو شخص بھی گھبراہٹ کے موقع پر اپنے دل پر ہاتھ رکھے گا، تو اس کے دل سے خوف جاتا رہے گا یا کم از کم ہلکا ہوجائے گا۔ ان شاء اللہ۔ 323یعنی فرعون اور اسکی جماعت کے سامنے یہ دونوں معجزے اپنی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کرو۔ یہ لوگ اللہ کی اطاعت سے نکل چکے ہیں اور اللہ کے دین کے مخالف ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤١] اسی مقام پر حضرت موسیٰ کو دو معجزے عطا کئے گئے۔ ان معجزات کی تفصیل بھی پہلے متعدد مقامات پر گزر چکی ہے۔ یہ دونوں معجزات آپ کی نبوت کی سند کے طور پر تھے اور ان سے مقصود یہ تھا کہ سب سے پہلے تو خود موسیٰ کو یہ یقین کامل ہوجائے کہ جو ذات اس وقت ان سے ہمکلام ہو رہی ہے وہ فی الواقع اللہ ہی ہے جو ساری کائنات کا پروردگار اور مالک ہے۔ بالفاظ دیگر ایسے نمایاں معجزات اللہ رب العالمین کے علاوہ نہ کوئی عطا کرسکتا ہے اور نہ دکھلا سکتا ہے۔ اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ موسیٰ کو تن تنہا ایک ظالم اور جابر حکمران کے دربار میں تبلیغ رسالت اور دعوت توحید کے لئے بھیجا جارہا تھا۔ ان کے ساتھ کوئی لاؤ لشکر تو تھا نہیں۔ لہذا ایسی نشانیاں تو موجود ہونا چاہئیں جن سے کم از کم یہ معلوم ہوجائے کہ موسیٰ اکیلے نہیں ہیں بلکہ ان کی پشت پر کوئی مقتدر ہستی موجود ہے۔ تو یا یہ چیز حضرت موسیٰ کے لئے تو باعث تسکین و اطمینان تھی۔ جبکہ یہی چیز دعوت سے انکار کرنے والوں کے لئے ایک ڈراوا اور دھمکی بھی تھی۔ [٤٢] جس مشن پر حضرت موسیٰ کو بھیجا جارہا تھا اس میں کئی مقام ایسے آسکتے تھے جبکہ آپ خود اپنی جان تک کا خطرہ محسوس کرنے لگیں تو ایسے خطرہ کے اوقات کے لئے آپ کو تدبیر یہ بتلائی گئی کہ اپنا بازو اپنے پہلو سے لگالو۔ اور صرف بازو کا لفظ بولا جائے تو اس سے عموماً دایاں بازو ہی مراد لیا جاتا ہے۔ یعنی اپنا دایاں بازو اپنی دائیں ران اور گھٹنے کے ساتھ چمٹالو۔ ایسا کرنے سے اس خطرہ کا خیال دل سے جاتا رہے گا اور تمہارے دل کو قرار آجائے گا۔ [٤٣] نبوت اور اس کے ساتھ دو معجزات تھے جو آپ کو اس مقام پر عطا ہوئے۔ اور ساتھ ہی یہ حکم ہوا کہ اب تمہیں فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جانا ہے۔ یعنی ان لوگوں کے پاس جن سے بچتے بچاتے آپ اس ملک سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ آپ جارہے تھے تو اس خیال سے کہ اب تک لوگ وہ واقعہ قتل بھول بھلا چکے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے براہ راست ان لوگوں کے ہاں جانے کا حکم دیا کہ دوسروں کو خواہ وہ واقعہ بھول چکا ہوں مگر یہ تو خصوصاً وہ لوگ تھے کہ موسیٰ کو دیکھتے ہی ہی انھیں سب سب کچھ یاد آجائے۔ بہت بڑی ابتلا تھی یہ مہم جس کا آپ کو حکم دیا جارہا تھا اور جس طرح کے وہ لوگ نافرمان تھے یا بدکردار تھے۔ وہ موسیٰ پہلے ہی خوب جانتے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اُسْلُكْ يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ ۔۔ : دوسری جگہ فرمایا : (اَدْخِلْ يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ ) ” سِلْکٌ“ اس دھاگے کو کہتے ہیں جس میں موتی پروئے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے ان میں دھاگا مہارت اور احتیاط سے داخل کیا جاتا ہے، یعنی کسی گھبراہٹ کے بغیر اطمینان کے ساتھ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (٢٢) ۔ ۡ وَّاضْمُمْ اِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ : موسیٰ (علیہ السلام) کو جس مقصد کے لیے بھیجا جا رہا تھا، اس میں کئی مقامات ایسے آنے والے تھے جن میں آدمی شدید خوف کا شکار ہوجاتا ہے، بلکہ اسے اپنی جان کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ دو عظیم الشان معجزوں کے ساتھ اس خوف کا علاج بھی بتادیا کہ جب بھی تمہیں کوئی خوف محسوس ہو اپنا بازو پہلو کے ساتھ اچھی طرح ملا لو، اس سے تمہارا دل مضبوط ہوجائے گا اور خوف دور ہوجائے گا۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ خوف کے وقت کوئی شخص موسیٰ (علیہ السلام) کی اقتدا میں یہ عمل کرے تو اس کا خوف ختم ہوجائے گا یا کم ہوجائے گا۔ (ان شاء اللہ) فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ ۔۔ : یعنی لاٹھی کا سانپ بننا اور ہاتھ کا سفید چمک دار ہو کر نکلنا صرف آج اسی موقع کے لیے نہیں بلکہ یہ دونوں معجزے فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجتے ہوئے تمہیں نبوت کی دلیل اور سند کے طور پر عطا کیے گئے ہیں، کیونکہ وہ ہمیشہ سے نافرمان لوگ ہیں۔ انھیں دعوت دینے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لیے ایسے ہی زبردست معجزوں کی ضرورت ہے۔ ”إِنَّ “ تعلیل کے لیے ہوتا ہے اور ” کَانَ “ میں ہمیشگی کا معنی پایا جاتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اُسْلُكْ يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ تَخْــرُجْ بَيْضَاۗءَ مِنْ غَيْرِ سُوْۗءٍ۝ ٠ۡوَّاضْمُمْ اِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّہْبِ فَذٰنِكَ بُرْہَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕہٖ۝ ٠ۭ اِنَّہُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِيْنَ۝ ٣٢ سلك السُّلُوكُ : النّفاذ في الطّريق، يقال : سَلَكْتُ الطّريق، وسَلَكْتُ كذا في طریقه، قال تعالی: لِتَسْلُكُوا مِنْها سُبُلًا فِجاجاً [ نوح/ 20] ، وقال : فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا[ النحل/ 69] ، يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ [ الجن/ 27] ، وَسَلَكَ لَكُمْ فِيها سُبُلًا [ طه/ 53] ، ومن الثاني قوله : ما سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ [ المدثر/ 42] ، وقوله : كَذلِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ [ الحجر/ 12] ، كَذلِكَ سَلَكْناهُ [ الشعراء/ 200] ، فَاسْلُكْ فِيها[ المؤمنون/ 27] ، يَسْلُكْهُ عَذاباً [ الجن/ 17] . قال بعضهم : سَلَكْتُ فلانا طریقا، فجعل عذابا مفعولا ثانیا، وقیل : ( عذابا) هو مصدر لفعل محذوف، كأنه قيل : نعذّبه به عذابا، والطّعنة السُّلْكَةُ : تلقاء وجهك، والسُّلْكَةُ : الأنثی من ولد الحجل، والذّكر : السُّلَكُ. ( س ل ک ) السلوک ( ن ) اس کے اصل بمعنی راستہ پر چلنے کے ہیں ۔ جیسے سکت الطریق اور یہ فعل متعدی بن کر بھی استعمال ہوتا ہے یعنی راستہ پر چلانا چناچہ پہلے معنی کے متعلق فرمایا : لِتَسْلُكُوا مِنْها سُبُلًا فِجاجاً [ نوح/ 20] تاکہ اس کے بڑے بڑے کشادہ راستوں میں چلو پھرو ۔ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا[ النحل/ 69] اور اپنے پروردگار کے صاف رستوں پر چلی جا ۔ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ [ الجن/ 27] اور اس کے آگے مقرر کردیتا ہے ۔ وَسَلَكَ لَكُمْ فِيها سُبُلًا [ طه/ 53] اور اس میں تمہارے لئے رستے جاری کئے ۔ اور دوسری معنی متعدی کے متعلق فرمایا : ما سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ [ المدثر/ 42] کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے ۔ كَذلِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ [ الحجر/ 12] اس طرح ہم اس ( تکذیب و ضلال ) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیتے ہیں ۔ كَذلِكَ سَلَكْناهُ [ الشعراء/ 200] اسی طرح ہم نے انکار کو داخل کردیا ۔ فَاسْلُكْ فِيها[ المؤمنون/ 27] کشتی میں بٹھالو ۔ يَسْلُكْهُ عَذاباً [ الجن/ 17] وہ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گا ۔ بعض نے سلکت فلانا فی طریقہ کی بجائے سلکت فلانا طریقا کہا ہے اور عذابا کو یسل کہ کا دوسرا مفعول بنایا ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ عذابا فعل محذوف کا مصدر ہے اور یہ اصل میں نعذبہ عذابا ہے اور نیزے کی بالکل سامنے کی اور سیدھی ضرف کو طعنۃ سلکۃ کہاجاتا ہے ۔ ( سلکیٰ سیدھا نیزہ ) اور سلکۃ ماده كبک کو کہتے ہیں اس کا مذکر سلک ہے ۔ يد الْيَدُ : الجارحة، أصله : وقوله : فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] ، ( ی د ی ) الید کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں یہ اصل میں یدی ( ناقص یائی ) ہے کیونکہ اس کی جمع اید ویدی اور تثنیہ یدیان اور آیت کریمہ : ۔ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دئے ۔ جيب قال اللہ تعالی: وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلى جُيُوبِهِنَ [ النور/ 31] ، جمع جَيْب . ( ج ی ب ) الجیب کے معنی گریباں کے ہیں ( مجازا سینہ ) اسکی جمع الجبوب آتی ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلى جُيُوبِهِنَ [ النور/ 31] ان کو چاہیے کہ اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھا کریں ۔ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ بيض البَيَاضُ في الألوان : ضدّ السواد، يقال : ابْيَضَّ يَبْيَضُّ ابْيِضَاضاً وبَيَاضاً ، فهو مُبْيَضٌّ وأَبْيَضُ. قال عزّ وجل : يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذابَ بِما كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَتِ اللَّهِ [ آل عمران/ 106- 107] . والأَبْيَض : عرق سمّي به لکونه أبيض، ولمّا کان البیاض أفضل لون عندهم كما قيل : البیاض أفضل، والسواد أهول، والحمرة أجمل، والصفرة أشكل، عبّر به عن الفضل والکرم بالبیاض، حتی قيل لمن لم يتدنس بمعاب : هو أبيض اللون . وقوله تعالی: يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ [ آل عمران/ 106] ، فابیضاض الوجوه عبارة عن المسرّة، واسودادها عن الغم، وعلی ذلک وَإِذا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا [ النحل/ 58] ، وعلی نحو الابیضاض قوله تعالی: وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ ناضِرَةٌ [ القیامة/ 22] ، وقوله : وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُسْفِرَةٌ ضاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ [ عبس/ 38- 39] . وقیل : أمّك بيضاء من قضاعة«1» وعلی ذلک قوله تعالی: بَيْضاءَ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ [ الصافات/ 46] ، وسمّي البَيْض لبیاضه، الواحدة : بَيْضَة، وكنّي عن المرأة بالبیضة تشبيها بها في اللون، وکونها مصونة تحت الجناح . وبیضة البلد يقال في المدح والذم، أمّا المدح فلمن کان مصونا من بين أهل البلد ورئيسا فيهم، وعلی ذلک قول الشاعر : کانت قریش بيضة فتفلّقت ... فالمحّ خالصه لعبد مناف وأمّا الذم فلمن کان ذلیلا معرّضا لمن يتناوله كبيضة متروکة بالبلد، أي : العراء والمفازة . وبَيْضَتَا الرجل سمّيتا بذلک تشبيها بها في الهيئة والبیاض، يقال : بَاضَتِ الدجاجة، وباض کذا، أي : تمكّن . قال الشاعر : بداء من ذوات الضغن يأوي ... صدورهم فعشش ثمّ باض وبَاضَ الحَرُّ : تمكّن، وبَاضَتْ يد المرأة : إذا ورمت ورما علی هيئة البیض، ويقال : دجاجة بَيُوض، ودجاج بُيُض ( ب ی ض ) البیاض سفیدی ۔ یہ سواد کی ضد ہے ۔ کہا جاتا ہے ابیض ، ، ابیضاضا وبیاض فھو مبیض ۔ قرآن میں ہے ؛۔ يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ جسدن بہت سے منہ سفید ہونگے اور بہت سے منہ سیاہ ۔ وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَتِ اللَّهِ [ آل عمران/ 106- 107] . اور جن کے منہ سفید ہوں گے ۔ اور ابیض ایک رگ کا نام بھی ہے جو سفید رنگ ہونے کی وجہ سے ابیض کہلاتی ہے ۔۔ اہل عرب کے ہاں چونکہ سفید رنگ تمام رنگوں میں بہتر خیال کیا جاتا ہے جیسے کہا گیا ہے البیاض افضل والسواد اھول والحمرۃ اجمل والصفرۃ اشکل اس لئے بیاض بول کر فضل وکرم مراد لیا جاتا ہے اور جو شخص ہر قسم کے عیب سے پاک ہو اسے ابیض الوجہ کہا جاتا ہے اس بنا پر آیت مذکورہ میں ابیاض الوجوہ سے مسرت اور اسود الوجوہ سے تم مراد ہوگا جیسے دوسری جگہ فرمایا ؛۔ وَإِذا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا [ النحل/ 58] حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی ( کے پیدا ہونے ) کی خبر ملتی ہے تو اس کا منہ ( غم کے سبب ) کالا پڑجاتا ہے ۔ اور جیسے ابیاض الوجوہ خوشی سے کنایہ ہوتا ہے اسی طرح آیت ؛۔ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ ناضِرَةٌ [ القیامة/ 22] اس روز بہت سے منہ رونق وار ہوں گے اور آیت ؛۔ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُسْفِرَةٌ ضاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ [ عبس/ 38- 39] اور کتنے منہ اس روز چمک رہے ہونگے خوش اور مسرور نظر آئیں گے ۔ میں بھی نضرۃ اور اسفار سے مراد مسرت ہی ہوگی ۔ شاعر نے کہا ہے ( منسرح ) (72) امت بیضاء من قضاعۃ یعنی تم عفیف اور سخٰ سردار ہو ۔ اسی معنی میں فرمایا ؛۔ بَيْضاءَ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ [ الصافات/ 46] جو رنگ کی سفید اور پینے والوں کے لئے سراسر ) لذت ہوگئی ۔ البیض یہ بیضۃ کی جمع ہے اور انڈے کے سفید ہونے کی وجہ اسے بیضۃ کہا جاتا ہے ۔ انڈا سفید اور پروں کے نیچے محفوظ رہتا ہے اس لئے تشبیہ کے طور بیضۃ بول کر خوبصورت عورت مراد لی جاتی ہے۔ بیضۃ البلد یہ لفظ تعریف اور مذمت کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب کلمہ تعریفی ہو تو اس سے رئیس شہر مراد ہوتا ہے ۔ اسی بناپر شاعر نے کہا ہے :۔ ( کامل ) (73) کانت قریش بیضۃ فتفلقت فالمخ خالصہ لعبدمناف قریش ایک انڈے کی مثل تھے ۔ جو ٹوٹا تو عبد مناف کے حصہ میں خالص مخ آئی ۔ اور جب مذمت کے لئے استعمال ہو تو اس سے ذلیل آدمی مراد لیا جاتا ہے جسے جنگل میں پڑے ہوئے انڈے کی طرح ہر ایک توڑ سکتا ہے اور شکل ورنگ میں مشابہت کی وجہ سے خصیتین کو بیضا الرجل کہا جاتا ہے ۔ باضت الدجاجۃ مرغی کا انڈے دینا ۔ باض کذا کسی جگہ پر متمکن ہونا ۔ شاعر نے کہا ہے (74) بدامن ذوات الضغن یآوی صدورھم فعش ثم باضا باض الحر گرمی سخت ہونا ۔ باضت یدا لمرءۃ عورت کے ہاتھ پر انڈے کی طرح درم ہونا ۔ دجاجۃ بیوض انڈے دینے والی مرغی ج بیض ۔ غير أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ، ( غ ی ر ) غیر اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے سَّيِّئَةُ : الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] سَّيِّئَةُ : اور ہر وہ چیز جو قبیح ہو اسے سَّيِّئَةُ :، ، سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی لئے یہ لفظ ، ، الحسنیٰ ، ، کے مقابلہ میں آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ چناچہ قرآن میں ہے اور سیئۃ کے معنی برائی کے ہیں اور یہ حسنۃ کی ضد ہے قرآن میں ہے : بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] جو برے کام کرے ضم الضَّمُّ : الجمعُ بين الشّيئين فصاعدا . قال تعالی: وَاضْمُمْ يَدَكَ إِلى جَناحِكَ [ طه/ 22] ، وَاضْمُمْ إِلَيْكَ جَناحَكَ [ القصص/ 32] ، والإِضْمَامَةُ : جماعةُ من النّاس أو من الکتب أو الرّيحان أو نحو ذلک «1» ، وأسد ضَمْضَمٌ وضُمَاضِمٌ: يَضُمُّ الشّيءَ إلى نفسه . وقیل : بل هو المجتمع الخلق، وفرس سبّاقُ الأَضَامِيمِ : إذا سبق جماعة من الأفراس دفعة واحدة . ( ض م م ) الضم ( ن) کے معنی دو زیادہ دو سے زیادہ دو چیزوں کو باہم ملا دینا کے ہیں قرآن میں ہے :۔ وَاضْمُمْ يَدَكَ إِلى جَناحِكَ [ طه/ 22 اور تم اپنے بازو کو اپنے بغل سے لگا لو ۔ وَاضْمُمْ إِلَيْكَ جَناحَكَ [ القصص/ 32] اور بازو کو سمٹائے رکھو ۔ الاضمامتہ لوگوں کی جماعت کتابوں کا بنڈل گھاس وغیرہ کا گٹھا ۔ اسد ضمضم وضماضم اس شیر کو کہتے ہیں جو ہر چیز کو اپنی ذات کے لئے اکٹھا کرنے والا ہو ۔ بعض نے اس کے معنی قوی اور مضبوط بھی کئے ہیں ۔ فرس سباق الاضامیم وہ گھوڑا جو بیک وقت گھوڑوں کی ایک جماعت سے سبقت لے جانے ولا ہو ۔ جناح وسمي الإثم المائل بالإنسان عن الحق جناحا ثم سمّي كلّ إثم جُنَاحاً ، نحو قوله تعالی: لا جُناحَ عَلَيْكُمْ «1» في غير موضع، وجوانح الصدر : الأضلاع المتصلة رؤوسها في وسط الزور، الواحدة : جَانِحَة، وذلک لما فيها من المیل اسی لئے ہر وہ گناہ جو انسان کو حق سے مائل کردے اسے جناح کہا جاتا ہے ۔ پھر عام گناہ کے معنی میں یہ لفظ استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں متعدد مواضع پر آیا ہے پسلیاں جن کے سرے سینے کے وسط میں باہم متصل ہوتے ہیں اس کا واحد جانحۃ ہے اور ان پسلیوں کو جو انح اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ان میں میلان یعنی خم ہوتا ہے ۔ رهب الرَّهْبَةُ والرُّهْبُ : مخافة مع تحرّز و اضطراب، قال : لَأَنْتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةً [ الحشر/ 13] ، وقال : جَناحَكَ مِنَ الرَّهْبِ [ القصص/ 32] ، وقرئ : مِنَ الرَّهْبِ ، أي : الفزع . قال مقاتل : خرجت ألتمس تفسیر الرّهب، فلقیت أعرابيّة وأنا آكل، فقالت : يا عبد الله، تصدّق عليّ ، فملأت كفّي لأدفع إليها، فقالت : هاهنا في رَهْبِي «5» ، أي : كمّي . والأوّل أصحّ. قال تعالی: وَيَدْعُونَنا رَغَباً وَرَهَباً [ الأنبیاء/ 90] ، وقال : تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : وَاسْتَرْهَبُوهُمْ [ الأعراف/ 116] ، أي : حملوهم علی أن يَرْهَبُوا، وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ [ البقرة/ 40] ، أي : فخافون، والتَّرَهُّبُ : التّعبّد، وهو استعمال الرّهبة، والرَّهْبَانِيّةُ : غلوّ في تحمّل التّعبّد، من فرط الرّهبة . قال : وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها[ الحدید/ 27] ، والرُّهْبَانُ يكون واحدا، وجمعا، فمن جعله واحدا جمعه علی رَهَابِينَ ، ورَهَابِنَةٌ بالجمع أليق . والْإِرْهَابُ : فزع الإبل، وإنما هو من : أَرْهَبْتُ. ومنه : الرَّهْبُ «1» من الإبل، وقالت العرب : رَهَبُوتٌ خير من رحموت «2» . ( ر ھ ب ) الرھب والرھبۃ ایسے خوف کو کہتے ہیں جس میں احتیاط اور اضطراب بھی شامل ہو قرآن میں : ۔ لَأَنْتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةً [ الحشر/ 13] تمہاری ہیبت تو ( ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ سے بڑھکر ہے جَناحَكَ مِنَ الرَّهْبِ [ القصص/ 32] اور دفع ) خوف کے لئے اپنے بازو سکیڑ لو ) ۔ اس میں ایک قرآت رھب بضمہ الراء بھی ہے ۔ جس کے معنی فزع یعنی گھبراہٹ کے ہیں متقاتل کہتے ہیں کہ رھب کی تفسیر معلوم کرنے کی غرض سے نکلا دریں اثنا کہ میں کھانا کھا رہا تھا ایک اعرابی عورت آئی ۔ اور اس نے کہا اسے اللہ کے بندے مجھے کچھ خیرات دیجئے جب میں لپ بھر کر اسے دینے لگا تو کہنے لگے یہاں میری آستین میں ڈال دیجئے ( تو میں سمجھ گیا کہ آیت میں بھی ( ھب بمعنی آستین ہے ) لیکن پہلے معنی یعنی گھبراہٹ کے زیادہ صحیح ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَيَدْعُونَنا رَغَباً وَرَهَباً [ الأنبیاء/ 90] ہمارے فضل کی توقع اور ہمارے عذاب کے خوف سے ہمیں پکارتے رہتے ہیں ) تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ [ الأنفال/ 60] اس سے تم اللہ کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر دھاک بٹھائے رکھو گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ [ الأعراف/ 116] اور ان کو دہشت میں ڈال دیا ۔ میں استر ھاب کے معنی دہشت زدہ کرنے کے ہیں ۔ وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ [ البقرة/ 40] اور مجھ سے ہی ڈرو ۔ اور ترھب ( تفعیل کے معنی تعبد یعنی راہب بننے اور عبادت ہیں خوف سے کام لینے کے ہیں اور فرط خوف سے عبادت گذاری میں غلو کرنے رھبانیۃ کہا جاتا ہے قرآن میں ہے ۔ وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها[ الحدید/ 27] اور رہبانیت ( لذت دنیا کا چوڑ بیٹھنا جو انہوں نے از خود ایجاد کی تھی ۔ اور رھبان ( صومعہ لوگ واحد بھی ہوسکتا ہے اور جمع بھی جو اس کو واحد دیتے ہیں ان کے نزدیک اس کی جمع رھا بین آتی ہے لیکن اس کی جمع رھا بتۃ بنانا زیادہ مناسب ہے الا رھاب ( افعال ) کے اصل معنی اونٹوں کو خوف زدہ کرنے کے ہیں یہ ارھبت ( فعال کا مصدر ہے اور اسی سے زھب ہے جس کے معنی لاغر اونٹنی ( یا شتر نر قوی کلاں جثہ ) کے میں مشہور محاورہ ہے : ۔ کہ رحم سے خوف بہتر ہے ۔ _ بره البُرْهَان : بيان للحجة، وهو فعلان مثل : الرّجحان والثنیان، وقال بعضهم : هو مصدر بَرِهَ يَبْرَهُ : إذا ابیضّ ، ورجل أَبْرَهُ وامرأة بَرْهَاءُ ، وقوم بُرْهٌ ، وبَرَهْرَهَة «1» : شابة بيضاء . والبُرْهَة : مدة من الزمان، فالبُرْهَان أوكد الأدلّة، وهو الذي يقتضي الصدق أبدا لا محالة، وذلک أنّ الأدلة خمسة أضرب : - دلالة تقتضي الصدق أبدا . - ودلالة تقتضي الکذب أبدا . - ودلالة إلى الصدق أقرب . - ودلالة إلى الکذب أقرب . - ودلالة هي إليهما سواء . قال تعالی: قُلْ : هاتُوا بُرْهانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ [ البقرة/ 111] ، قُلْ : هاتُوا بُرْهانَكُمْ هذا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ [ الأنبیاء/ 24] ، قَدْ جاءَكُمْ بُرْهانٌ مِنْ رَبِّكُمْ [ النساء/ 174] . ( ب ر ہ ) البرھان کے معنی دلیل اور حجت کے ہیں اور یہ ( رحجان وثنیان کی طرح فعلان کے وزن پر ہے ۔ بعض کے نزدیک یہ برہ یبرہ کا مصدر ہے جس کے معنی سفید اور چمکنے کے ہیں صفت ابرہ مونث برھاء ج برۃ اور نوجوان سپید رنگ حسینہ کو برھۃ کہا جاتا ہے البرھۃ وقت کا کچھ حصہ لیکن برھان دلیل قاطع کو کہتے ہیں جو تمام دلائل سے زدر دار ہو اور ہر حال میں ہمیشہ سچی ہو اس لئے کہ دلیل کی پانچ قسمیں ہیں ۔ ( 1 ) وہ جو شخص صدق کی مقتضی ہو ( 2 ) وہ جو ہمیشہ کذب کی مقتضی ہو ۔ ( 3) وہ جو اقرب الی الصدق ہو ( 4 ) جو کذب کے زیادہ قریب ہو ( 5 ) وہ جو اقتضاء صدق وکذب میں مساوی ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ قُلْ : هاتُوا بُرْهانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ [ البقرة/ 111] اے پیغمبر ان سے ) کہدو کہ اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو ۔ قُلْ : هاتُوا بُرْهانَكُمْ هذا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ [ الأنبیاء/ 24] کہو کہ اس بات پر ) اپنی دلیل پیش کرویہ ( میری اور ) میرے ساتھ والوں کی کتاب بھی ہے فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔ ملأ المَلَأُ : جماعة يجتمعون علی رأي، فيملئون العیون رواء ومنظرا، والنّفوس بهاء وجلالا . قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] ، ( م ل ء ) الملاء ۔ وی جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو مظروں کو ظاہری حسن و جمال اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھردے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] نھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] فسق فَسَقَ فلان : خرج عن حجر الشّرع، وذلک من قولهم : فَسَقَ الرُّطَبُ ، إذا خرج عن قشره «3» ، وهو أعمّ من الکفر . والفِسْقُ يقع بالقلیل من الذّنوب وبالکثير، لکن تعورف فيما کان کثيرا، وأكثر ما يقال الفَاسِقُ لمن التزم حکم الشّرع وأقرّ به، ( ف س ق ) فسق فلان کے معنی کسی شخص کے دائر ہ شریعت سے نکل جانے کے ہیں یہ فسق الرطب کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی گدری کھجور کے اپنے چھلکے سے باہر نکل آنا کے ہیں ( شرعا فسق کا مفہوم کفر سے اعم ہے کیونکہ فسق کا لفظ چھوٹے اور بڑے ہر قسم کے گناہ کے ارتکاب پر بولا جاتا ہے اگر چہ عرف میں بڑے گناہوں کے ارتکاب پر بولا جاتا ہے اور عام طور پر فاسق کا لفظ اس شخص کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو احکام شریعت کا التزام اور اقرار کر نیکے بعد تمام یا بعض احکام کی خلاف ورزی کرے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٢) اور خوف دور کرنے کے لیے اپنا وہ ہاتھ پھر گریبان اور بغل سے بدستور ملا لینا تاکہ ہاتھ پھر اصلی حالت پر آجائے سو یہ تمہاری نبوت کی دو نشانیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے فرعون اور اس کی قوم کے پاس جانے کے لیے کیوں کہ وہ بڑے نافرمان مشرک لوگ ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَّاضْمُمْ اِلَیْکَ جَنَاحَکَ مِنَ الرَّہْبِ ) ” خوف کی کیفیت کا سامنا کرنے کے لیے یہ ایک خاص ترکیب بتائی گئی کہ جب کبھی آپ ( علیہ السلام) کو کوئی خوف لاحق ہو تو اپنے بازو کو اپنی بغل کے ساتھ چمٹا لینا ‘ اس طرح خوف کے اثرات زائل ہوجائیں گے۔ (اِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ ) ” فرعون اور اس کے اعیان سلطنت ایک فاسق ‘ فاجر اور سرکش قوم بن گئے ہیں۔ لہٰذا ان نشانیوں کے ساتھ ان کے پاس جاؤ اور انہیں اللہ رب العالمین کی اطاعت و بندگی کی دعوت دو ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

44 These two miracles were shown to the Prophet Moses at that time so that, firstly, he himself is fully convinced that the same Being Who is speaking to him is, in fact, the Creator and Master and Ruler of the whole system of the universe and secondly, he should have full satisfaction that he was not going unarmed before Pharaoh, to perform the dangerous mission assigned to him, but would go well armed with the two powerful weapons. 45 That is, "Whenever you experience the fear of any danger, fold back your arm to yourself: this will strengthen your heart and will deliver you completely from every feeling of fear and dread." The arm probably implies the right arm. The arm can be folded back in two ways: either by bringing the arm and pressing it against the side, or by pressing one hand under the armpit of the other. Probably the first way was implied, for in that case the other person cannot perceive that one is specially doing so in order to ward off fear. The Prophet Moses was taught this device because he was being sent to counter a tyrannical government without any army and worldly equipment. He was going to meet with many a dreadful situation when a great Prophet also could not remain safe from fear and terror. AIlah said to him, "Whenever you face such a situation, just do this and Pharaoh will not be able to shake your heart in spite of all the power of his mighty kingdom." 46 The words by themselves imply: "Go to Pharaoh with these Signs and present yourself as Allah's Messenger, and invite him and his chiefs to the obedience and worship of Allah, Lord of the worlds." That is why his appointment has not been specified here, though at other places it has been clearly stated, thus: 'Go to Pharaoh for he has become rebellious' "(Ta Ha: 24) And: "When your Lord called Moses, saying: "Go forth to the wicked people--the people of Pharaoh'." (Ash-Shu'araa: 10).

سورة القصص حاشیہ نمبر : 44 یہ دونوں معجزے اس وقت حضرت موسی کو اس لیے دکھائے گئے کہ اول تو انہیں خود پوری طرح یقین ہوجائے کہ فی الواقع وہی ہستی ان سے مخاطب ہے جو کائنات کے پورے نظام کی خالق و مالک اور فرماں روا ہے ۔ دوسرے وہ ان معجزوں کو دیکھ کر مطمئن ہوجائیں کہ جس خطرناک مشن پر انہیں فرعون کی طرف بھیجا جارہا ہے اس کا سامنا کرنے کے لیے وہ بالکل نہتے نہیں جائیں گے بلکہ دو زبردست ہتھیار لے کر جائیں گے ۔ سورة القصص حاشیہ نمبر : 45 یعنی جب کبھی کوئی خطرناک موقع ایسا آئے جس سے تمہارے دل میں خوف پیدا ہو تو اپنا بازو بھینچ لیا کرو ، اس سے تمہارا دل قوی ہوجائے گا اور رعب و دہشت کی کوئی کیفیت تمہارے اندر باقی نہ رہے گی ۔ بازو سے مراد غالبا سیدھا بازو ہے ، کیونکہ مطلقا ہاتھ بول کر سیدھا ہاتھ مراد لیا جاتا ہے ، بھینچنے کی دو شکلیں ممکن ہیں ۔ ایک یہ کہ بازو کو پہلے کے ساتھ لگا کر دبا لیا جائے ۔ دوسری یہ کہ ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ کی بغل میں رکھ کر دبایا جائے ۔ اغلب یہ ہے کہ پہلی شکل ہی مراد ہوگی ۔ کیونکہ اس صورت میں دوسرا کوئی شخص یہ محسوس نہیں کرسکتا کہ آدمی اپنے دل کا خوف دور کرنے کے لیے کوئی خاص عمل کر رہا ہے ۔ حضرت موسی کو یہ تدبیر اس لیے بتائی گئی کہ وہ ایک ظالم حکومت کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی لاؤ لشکر اور دنیوی سازوسامان کے بغیر بھیجے جارہے تھے ، بارہا ایسے خوفناک مواقع پیش آنے والے تھے جن میں ایک اولو العزم نبی تک دہشت سے محفوظ نہ رہ سکتا تھا ۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ جب کوئی ایسی صورت پیش آئے ، تم بس یہ عمل کرلیا کرو ، فرعون اپنی پوری سلطنت کا زور لگا کر بھی تمہارے دل کو متزلزل نہ کرسکے گا ۔ سورة القصص حاشیہ نمبر : 46 ان الفاظ میں یہ مفہوم آپ سے آپ شامل ہے کہ یہ نشانیاں لے کر فرعون کے پاس جاؤ اور اللہ کے رسول کی حیثیت سے اپنے آپ کو پیش کر کے اسے اور اس کے اعیان سلطنت کو اللہ رب العالمین کی اطاعت و بندگی کی طرف دعوت دو ۔ اسی لیے یہاں اس ماموریت کی تصریح نہیں کی گئی ہے البتہ دوسرے مقامات پر صراحت کے ساتھ یہ مضمون بیان کیا گیا ہے ۔ سورہ طہ اور سورہ نازعات میں فرمایا اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى فرعون کے پاس جا کہ وہ سرکش ہوگیا ہے ۔ اور الشعراء میں فرمایا اِذْ نَادٰي رَبُّكَ مُوْسٰٓي اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ، قَوْمَ فِرْعَوْنَ ۔ جبکہ پکارا تیرے رب نے موسی کو کہ جا ظالم قوم کے پاس ، فرعون کی قوم کے پاس ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

21: لاٹھی کے سانپ بننے اور ہاتھ سے اچانک روشنی نکلنے کے واقعات سے جو طبعی گھبراہٹ ہوئی، اس کا علاج بھی اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ جس ہاتھ کو بغل سے نکالا تھا، اور وہ چمکنے لگا تھا، اسے دوبارہ اپنے جسم سے لپٹا لو، تو گھبراہٹ دور ہوجائے گی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:32) اسلک فعل امر واحد مذکر حاضر۔ سلوک (باب نصر) مصدر۔ السلوک کے اصل معنی راستہ پر چلنے کے ہیں۔ یہ فعل متعدی (بمعنی اسلک) بھی استعمال ہوتا ہے۔ پہلے معنی میں فاسلکی سبل ربک ذئلا۔ (16:69) اور اپنے پروردگار کے راستوں پر بےروک ٹوک چلی جا۔ دوسرے معنی میں ما سلککم فی سقر (74:42) تم کو دوزخ میں کونسی بات لے آئی ۔ پھر یہ داخل ہونے یا داخل کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے مثلاً سلک المکان۔ مکان میں داخل ہونا۔ اور فاسلک فیہا (23:27) تو اس میں (یعنی کشتی میں) بٹھالے یا داخل کرلے۔ اس دوسرے معنی میں ہی اسلک یدک ہے تو اپنے ہاتھ کو داخل کر یا ڈال۔ جیبک مضاف مضاف الیہ۔ تیرا گریبان اور جیب الثوب قمیص کی وہ جیب جس میں نقدی وغیرہ رکھتے ہیں۔ مجازا سینہ کو بھی جیب کہا جاتا ہے اور اس کی جمع جیوب آتی ہے مثلا ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن (34:31) ان کو چاہیے کہ اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھ لیں۔ تخرج۔ مضارع واحد مؤنث غائب مجزوم بوجہ جواب امر۔ (تو) وہ نکلے گا (یعنی تیرا ہاتھ) بیضائ۔ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مؤنث ابیض واحد مذکر اور بیض جمع (مذکر مؤنث دونوں کی) سفید۔ بغیر سوئ۔ بغیر کسی مرض کے بغیر کسی گزند کے۔ بلا عیب۔ بلا تکلیف۔ اضمم۔ فعل امر واحد مذکر حاضر ضم مصدر (باب نصر) تو ملا۔ تو ملا لے۔ الضم کے معنی دو یا دو چیزوں سے زیادہ کو باہم ملا دینے کے ہیں ۔ الیک۔ تیری طرف۔ اپنی طرف۔ جناحک۔ مضاف مجاف الیہ۔ جناح مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے :۔ (1) پرندے کا پر مثلا ولا طائر یطیر بجناحیہ (6:38) اور نہ پرندہ کہ اڑتا ہے اپنے دو پروں سے۔ (2) کسی شی کی جانب یا پہلو۔ انسان کے دونوں پہلوؤں کو جناحا الانسان کہتے ہیں اور لشکر کے دونوں جانب کو جناحا العسکر کہا جاتا ہے۔ (3) بازو۔ اگرچہ بازو جسم کا وہ حصہ ہے جو کہنی اور کندھے کے درمیان ہے لیکن عموما اس کو کندھے سے لے کر ہاتھ تک کے سارے حصے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے واضمم الیک جناحک (آیت ہذا) اور اپنے بازو کو اپنی طرف ملالے۔ من الرھب ای لدفع الرھب خوف سے بچنے کے لئے ۔ خوف کو دوررکھنیکے لئے۔ الرھب ، رھب، یرھب سمع کا مصدر ہے جس کے معنی ڈرنے کے ہیں۔ رھب۔ رھب۔ ورھبۃ ورھبان مصادر ہیں۔ واضمم الیک جناحک من الرھب کی تعبیر میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) عصا کو اژدہا کی شکل میں دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) خوف زدہ ہوگئے تھے اور اپنے ہاتھ کو سفید دیکھ کر بھی۔ ارشاد ہوا کہ تم اپنا بازو اپنے پہلو کے ساتھ بھینچ لو۔ ایک تو تمہارا خوف دل سے دور ہوجائے گا اور دوئم تمہارا ہاتھ اپنی اصل حالت پر آجائے گا۔ اس کی یہ تفسیر چنداں قابل تسلیم نہیں ہے۔ اولا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عصا کو سانپ کی شکل میں پاکر گھبرا گئے تھے تو خداوند تعالیٰ نے فرمایا کہ ڈرو مت تم ہر خطرہ سے محفوظ ہو تو اس کے بعد نبی کا دوبارہ اسی بات سے ڈرنا بعید از قیاس ہے۔ باقی رہا ہاتھ کا منور ہونا تو یہ کسی خوف کا باعث نہ یجا۔ کیونکہ ہاتھ کا منور ہونا کسی مرض کی وجہ سے نہ تھا۔ بلکہ وہ تو آفتاب کی مانن روشن اور تابان ہوجاتا ہے سج سے ہاتھ کا حسن کئی گناہ زیادہ ہوجاتا تھا اور یہ امر ڈرنے کا سبب نہیں ہوسکتا۔ (2) حکم خداوندی ہے کہ جب بھی کبھی تمہیں ایسی صورت پیش آئے کہ کسی وجہ سے دل پر ڈر اور خوف ، دہشت وغیرہ کا اثر محسوس کرو تو اپنے ہاتھ کو اپنے پہلوؤں سے ملا لیا کرو اس سے نہ صرف ڈر اور خوف دور ہوجائے گا اور دل کو تقویت ہوگی۔ بلکہ دشمن محسوس ہی نہ کرسکے گا کہ پیغمبر خدا کسی ڈر اور خوف سے متاثر ہے کیونکہ انسان کا سیدھا کھڑا ہونا اور بازوؤں کو پہلوؤں کے ساتھ ملا لینا عموما یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان نہایت دلجمی کی حالت میں ہے۔ (3) اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب کبھی ظلم کا مقابلہ کرنے کے دوران خوف و دہشت کی حالت ہو تو استقلال اور ثابت قدمی سے کام لیا کرو۔ فذنک۔ یعنی یہ دو ۔ ذان۔ ذا کا تثنیہ ہے اسماء اشارہ میں سے ہے اور ک ضمیر خطاب ہے۔ الی فرعون وملائہ : ای فاذھب الی فرعون (ملائہ پس تم حبا و فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس یہ دنوں روشن دلیلیں لے کر۔ قوما فسقین۔ موصوف و صفت بحالت نصب بوجہ خبر کا نوا۔ فسقین فاسق کی جمع ہے۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ فسق یفسق (ضرب) وفسق یفسق (نصر) سے فسق و فسوق مصدر۔ فاسق بدکردار۔ راستی سے نکل جانے والا ہمیشہ اللہ کی نافرمانی کرنے والا فسوق لفظی ترجمہ ہے کھجور کا اپنے چھلکے سے باہر نکل آنا۔ اصطلاح شریعت میں فسق کے معنی ہیں حدود شریعت سے نکل جانا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

7 ۔ یعنی جب کبھی لاٹھی کے سانپ بن جانے سے تمہارے دل میں خوف پیدا ہو تو اپنا بازو اپنے بدن سے ملا لیا کرو تمہارا سب خوف جاتا رہے گا اور تم اپنے اندر قوت اور جرأت محسوس کرنے لگو گے یا ایسا کرنے سے ہاتھ دوبارہ اپنی حالت میں نظر آئے گا۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

30:۔ یہ دوسرا معجزہ ہے۔ من غیر سوء الخ، یعنی ہاتھ کا سفید ہونا کسی بیماری کی وجہ سے نہ ہوگا۔ واضمم الیک الخ، یعنی اگر خوف وغیرہ ہو تو ہاتھ سینے پر رکھ لیا کرو اس سے خوف وہراس جاتا رہے گا۔ خوف و ہراس کے وقت اگر آدمی ہاتھ سینے پر رکھ لے تو اس سے دل کو تقویت ملتی ہے اور گھبراہٹ کم ہوجاتی ہے۔ من الرھب ای من اجل المخافۃ ومن شان الانسان اذا فعل ذلک فی وقت فزعہ ان یقوی قلبہ (روح ج 20 ص 75) ۔ یا یہ عدم خوف سے کنایہ ہے کیونکہ پرندے ب خوف و خطر سے مامون ہوتے ہیں تو پروں کو اطمینان سے سمیٹ لیتے وھو ماخوذ من فعل الطائر عند الامن بعد الخوف وھو فی الاصل مستعار من فعل الطائر عند ھذہ الحالۃ الخ (روح) ۔ 31:۔ یہ دونوں معجزے عصا اور ید بیضا تمہاری رسالت کی واضح دلیلیں ہیں، اب فرعون اور اس کے اہل دربار کے پاس جاؤ اور یہ دونوں معجزے اپنی سچائی پر دلیل کے طور پر ان کے سامنے پیش کرو اور ان کو توحید کی دعوت دو ، وہ اللہ کی نافرمانی اور عصیان و فجور میں انتہاء کو پہنچ چکے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

32۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنا ہاتھ اپنے گریباں کے اندر لے جاتو وہ بغیر کسی نقص و عیب کے خوب چمکتا ہوا نکلے گا اور خوف کو رفع کرنے اور دور کرنے کی غرض سے اپنا ہاتھ اپنی بغل اور گریبان سے ملا لیجو یہ دونوں چیزیں فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس جانے کے لئے تیرے پروردگار کی طرف سے دو دلیلیں اور دو سندیں ہیں یقینا وہ لوگ بڑے نافرمان اور حد سے نکل جانے والے ہیں ۔ یعنی ہاتھ کو بغل کے نیچے لے جا اور گریبان میں ڈال تو وہ اس قدر چمکدار اور نورانی ہوکر نکلے گا جیسے سورج کی چمک بغیر کسی عیب اور نقص کے یہ روشنی ہوگی اور سفید چمک ہوگی یعنی کسی بیماری یا برص وغیرہ کی سفیدی نہ ہوگی اور جس طرح سانپ کو پکڑ لینا لاٹھی کو اپنی اصلی حالت پر لے آتا ہے اسی طرح اگر ہاتھ کی روشنی سے خوف معلوم ہو تو ہاتھ کو دوبارہ گریبان اور بغل سے ملا لینا کافی ہوگا ہاتھ اپنی اصلی حالت پر آجائے گا یہ دو دلیلیں منجملہ ان نو دلیلوں کے ہیں جیسا کہ سورة نمل اور بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے۔ یہ دو سندیں ہیں جو فرعون اور اسکے امراء کے سامنے پیش کر دیناکیون کہ یہ لوگ بڑے سرکش متکبر اور حد عبودیت سے نکل جانے والے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بازو مل اور سے یعنی سانپ کا ڈر جاتا رہے ۔ 12 ہوسکتا ہے کہ سانپ کے خوف کا یہ علاج ہو اور ہوسکتا ہے کہ ہاتھ کی چمک سے اگر کوئی خوف ہو تو اس کا علاج ہو اور ہوسکتا ہے کہ دونوں چیزوں کے ڈر کا علاج ہو کر ہاتھ کو اپنے گریبان اور بازو سے ملا لیا جائے تاکہ وہ خوف جو بہ تقاضائے بشریت ہوجاتا ہے وہ دورہو جائے نہ سانپ کو دیکھ کر کوئی دہشت ہو نہ ہاتھ کی چمک سے کوئی اندیشہ ہو ۔