Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 42

سورة القصص

وَ اَتۡبَعۡنٰہُمۡ فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا لَعۡنَۃً ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ہُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِیۡنَ ﴿۴۲﴾٪  7

And We caused to overtake them in this world a curse, and on the Day of Resurrection they will be of the despised.

اور ہم نے اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے اپنی لعنت لگا دی اور قیامت کے دن بھی وہ بدحال لوگوں میں سے ہونگے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَأَتْبَعْنَاهُمْ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً ... And We made a curse to follow them in this world, Allah decreed that they and their king Fir`awn should be cursed by the believers among His servants who follow His Messengers, just as in this world they were cursed by the Prophets and their followers. ... وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ هُم مِّنَ الْمَقْبُوحِينَ and on the Day of Resurrection, they will be among disgraced. Qatadah said, "This Ayah is like the Ayah, وَأُتْبِعُواْ فِى هَـذِهِ لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَـمَةِ بِيْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ They were pursued by a curse in this (life) and on the Day of Resurrection. Evil indeed is the gift given. (11:99)"

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

421یعنی دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ان کا مقدر بنی اور آخرت میں بھی وہ بد حال ہونگے۔ یعنی چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلگوں جیسا کہ جہنمیوں کے تذکرے میں آتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٥] یعنی فرعون اور آل فرعون پر بعد میں آنے والی دنیا لعنت ہی بھیجتی رہے گی اور انھیں برے لفظوں میں یاد کیا جاتا رہا گا۔ اور قیامت کے دن تو ان کی بڑی درگت بنائی جائے گی اور ان کے چہرے بگاڑ دیئے جائیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاَتْبَعْنٰهُمْ فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً : یعنی دنیا میں جو بھی ان کا ذکر کرتا ہے ان پر لعنت بھیجتا ہے۔ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِيْنَ : ” الْمَقْبُوْحِيْنَ “ ” أَيْ مَطْرُوْدِیْنَ “ یعنی دور دفع کیے ہوئے، قبیح بنائے گئے۔ یعنی صرف دنیا ہی میں ان پر لعنت نہیں پڑے گی بلکہ قیامت کے دن بھی وہ اللہ کی رحمت سے دور کیے ہوئے ہوں گے، ان کی شکلیں قبیح ہوں گی اور چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ هُم مِّنَ الْمَقْبُوحِينَ (And on the day of judgment they will be among those treated badly - 28:42). Maqbuhin is the plural of Maqbuh, which means spoilt, damaged or disfigured. Thus the meaning of the verse is that on the Doomsday their faces will be disfigured to turn black, and eyes will turn blue.

وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِيْنَ ، مقبوحین، مقبوح کی جمع ہے جس کے معنی ہیں بگاڑا ہوا مراد یہ ہے کہ قیامت کے روز ان کے چہرے مسخ ہو کر سیاہ اور آنکھیں نیلی ہوجائیں گی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَتْبَعْنٰہُمْ فِيْ ہٰذِہِ الدُّنْيَا لَعْنَۃً۝ ٠ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ ہُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِيْنَ۝ ٤٢ۧ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] ، وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ، ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] ، وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو ایسے کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں ۔ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا ۔ اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] جو ( کتاب ) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو ۔ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] اور تمہارے پیرو تو ذلیل لوگ کرتے ہیں ۔ وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] اور اپنے باپ دادا ۔۔۔ کے مذہب پر چلتا ہوں ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے رستے پر ( قائم ) کردیا ہے تو اسیی ( راستے ) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا ۔ وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] اور ان ( ہزلیات ) کے پیچھے لگ گئے جو ۔۔۔ شیاطین پڑھا کرتے تھے ۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ «1» ، وتارة عن الأرذل فيقابل بالخیر، نحو : أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] ، دنا اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا ہ ۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ لعن اللَّعْنُ : الطّرد والإبعاد علی سبیل السّخط، وذلک من اللہ تعالیٰ في الآخرة عقوبة، وفي الدّنيا انقطاع من قبول رحمته وتوفیقه، ومن الإنسان دعاء علی غيره . قال تعالی: أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] ( ل ع ن ) اللعن ۔ کسی کو ناراضگی کی بنا پر اپنے سے دور کردینا اور دھتکار دینا ۔ خدا کی طرف سے کسی شخص پر لعنت سے مراد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں تو اللہ کی رحمت اور توفیق سے اثر پذیر ہونے محروم ہوجائے اور آخرت عقوبت کا مستحق قرار پائے اور انسان کی طرف سے کسی پر لعنت بھیجنے کے معنی بد دعا کے ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ [هود/ 18] سن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے ۔ قبح الْقَبِيحُ : ما ينبو عنه البصر من الأعيان، وما تنبو عنه النّفس من الأعمال والأحوال، وقد قَبُحَ قَبَاحَةً فهو قَبِيحٌ ، وقوله تعالی: مِنَ الْمَقْبُوحِينَ [ القصص/ 42] ، أي : من الموسومین بحالة منكرة، وذلک إشارة إلى ما وصف اللہ تعالیٰ به الكفّار من الرّجاسة والنجاسة إلى غير ذلک من الصّفات، وما وصفهم به يوم القیامة من سواد الوجوه، وزرقة العیون، وسحبهم بالأغلال والسّلاسل ونحو ذلك . يقال : قَبَحَهُ اللہ عن الخیر، أي : نحّاه، ويقال لعظم الساعد، مما يلي النّصف منه إلى المرفق : قَبِيحٌ ( ق ب ح ) القبیح اس چیز کو کہتے ہیں جس کے دیکھنے سے آنکھ کو نفرت ہو اور اعمال وحوال میں سے اس عمل اور حالت کو کہتے ہیں جس سے طبیعت کو کراہت ہو کیا جاتا ہے : ۔ اور آیت کریمہ : ۔ مِنَ الْمَقْبُوحِينَ [ القصص/ 42] میں مقبوحین سے بد مال لوگ مراد ہیں اور اس سے کفار کی صفات ذمیمہ کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں وہ پلید اور گندے رہتے ہیں اور آخرت میں سیاہ رو گر بہ چشم ہوں گے اور اغلال وسلاسل میں جکر کرا نہیں گھسیٹا جائے گا ۔ الغرض اس قسم کی مذموم صفات مراد ہیں ( جن کے ساتھ قیامت کے دن متصف ہوں گے ) قیحۃ اللہ عن الخیر اللہ اسے خیر سے دور کرے القبیح بازو کی ہڈی جس کا نصف کہنی کے ساتھ متصل ہوتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٢) اور دنیا میں بھی ہم نے ان پر لعنت نازل کرکے غرق کردیا اور قیامت کے دن بھی وہ برے حال میں اٹھیں گے کہ شکلیں کالی اور آنکھیں نیلی ہوں گی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٢ (وَاَتْبَعْنٰہُمْ فِیْ ہٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً ج) ” یہ لعنت رہتی دنیا تک ہر دور میں ان کا پیچھا کرتی رہے گی۔ (وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ہُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ ) ” قیامت کے دن وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے۔ وہ ذلیل و خوار اور مردودو مطرود ہوں گے ‘ اللہ کی رحمت سے بالکل محروم کردیے جائیں گے ‘ ان کی بڑی گت بنائی جائے گی اور ان کے چہرے بگاڑ دیے جائیں گے۔ لفظ ” مَقْبُوْحِیْن “ میں یہ سارے معانی موجود ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

58 The words in the Text mean: "On the Day of Resurrection they will be among the maqbuhin ", which has several meanings: (l) They will stand rejected and repulsed; (2) they will be wholly deprived of Allah's mercy; and (3) they will be severely beaten up and their faces will become distorted .

سورة القصص حاشیہ نمبر : 58 اصل الفاظ ہیں قیامت کے روز وہ مقبوحین میں سے ہوں گے ، اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں ، وہ مردود و مطرد ہوں گے ۔ اللہ کی رحمت سے بالکل محروم کردیے جائیں گے ، ان کی بری گت بنائی جائے گی اور ان کے چہرے بگاڑ دیے جائیں گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:42) اتبعنھم۔ اتبعنا ماضی جمع متکلم۔ اتباع افعال سے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم نے ان کے پیچھے لگا دیا۔ (لعنت کو) المقبوحین۔ اسم مفعول جمع مذکر مجرور المقبوح واحد۔ قبح۔ مادہ۔ قباحۃ مصدر لازم باب کرم سے۔ وقع مصدر (متعدی) باب فتح سے قبح ایسی حالت اور شکل جس کو دیکھنے سے آنکھوں کو نفرت اور طبعیت کو کراہت ہو۔ قبیح عمل قبیح صورت بمعنی بدعمل ۔ بد صورت

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

4 ۔ یا ” قیامت کے دن وہ مردودومطرود ہوں گے “۔ یعنی انہیں خدا کی رحمت سے کوئی حصہ نہ ملے گا۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ لعنت پیچھے لگا دینے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو ظالموں کافروں وغیرہم پر لعنت کرتا ہے چونکہ وہ لوگ بھی ایسے ہی تھے ان پر بھی پڑتی ہے۔ 2۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ فرعون کے ساتھ ختم ہوا۔ آگے اس قصہ کے اعظم مقاصد یعنی اثبات رسالت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مضمون مذکور ہے، مع جواب بعض شبہات کفار، اور تمہید کے لئے تصریح رسالت موسویہ کی ارشاد ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَ اَتْبَعْنٰھُمْ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً ) (اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی) اہل ایمان ان پر ہمیشہ لعنت بھیجتے رہے اور بھیجتے رہیں گے۔ (وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ھُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ ) اور وہ لوگ قیامت کے دن بری حالت میں ہوں گے۔ سورة زمر میں فرمایا (اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اَدْخِلُوْا آلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ ) (وہ صبح و شام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں (یعنی برزخ میں) اور قیامت کے دن کہا جائے گا کہ آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کر دو ) ۔ فائدہ : فرعون اور اس کی جماعت کے لیے (اَءِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ ) فرمایا کہ ہم نے انہیں پیشوا اور امام بنایا جو دوزخ کی طرف بلاتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ لفظ امام جس طرح خیر کی دعوت دینے والوں کے لیے بولا جاتا ہے اسی طرح شر کی دعوت دینے والے کے لیے مستعمل ہے جو اہل شر کی دعوت قبول کرلیتے ہیں یہ داعی ان کے امام و پیشوا بنے رہتے ہیں، بہت سے باطل فرقے ہیں جو اپنے پیشوا کو امام کہتے ہیں لفظ ” امام “ سے دھوکہ کھا کر انہیں مسلمان نہ سمجھیں، جو شخص کفریات کی دعوت دیتا ہو وہ کفر کا اور کافروں کا امام ہے اگرچہ مسلمان ہونے کا دعویٰ بھی کرتا ہو، اس کو خوب سمجھ لیا جائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

42۔ اور ہم نے دنیا میں بھی انکے پیچھے لعنت اور پھٹکار لگا دی اور قیامت کے دن بھی وہ بد حال اور دور پھینکے ہوئے لوگوں میں سے ہوں گے ۔ دنیا کی لعنت تو یہ کہ جب ظالموں پر لعنت کی جائے گی تو یہ بھی اس میں شریک ہوں گے اور قیامت میں تو ان کا مطردو اور مردود ہونا اور ان کا بد انجامی اور ان کے لئے برائی کا ہونا ظاہری ہے۔