Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 66

سورة القصص

فَعَمِیَتۡ عَلَیۡہِمُ الۡاَنۡۢبَآءُ یَوۡمَئِذٍ فَہُمۡ لَا یَتَسَآءَلُوۡنَ ﴿۶۶﴾

But the information will be unapparent to them that Day, so they will not [be able to] ask one another.

پھر تو اس دن ان کی تمام دلیلیں گم ہوجائیں گی اور ایک دوسرے سے سوال تک نہ کریں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Then the news of a good answer will be obscured to them on that Day, and they will not be able to ask one another. Mujahid said: "The proof will be obscured from them," so they will not be able to ask one another for help by virtue of their blood ties. Allah's saying:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

66۔1کیونکہ انھیں یقین ہوچکا ہوگا کہ سب جہنم میں داحل ہونے والے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٠] انھیں اس بات کی سمجھ ہی نہ آسکے گی کہ اللہ تعالیٰ کے اس سوال کا کیا جواب دیں۔ نہ ہی ان سے یہ بن آئے گا کہ کسی دوسرے سے پوچھ کر ہی اس سوال کا جواب دے سکیں۔ اس دن کی دہشت اتنی زیادہ ہوگی کہ وہ ایک دوسرے سے کوئی بات پوچھ ہی نہ سکیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَعَمِيَتْ عَلَيْهِمُ الْاَنْۢبَاۗءُ يَوْمَىِٕذٍ ۔۔ :” عَمِيَ یَعْمٰی عَمًی “ (ع) کا معنی اندھا ہونا ہے۔ کہنا یہ تھا کہ ” فَعَمُوْا عَنِ الْأَنْبَاءِ یَوْمَءِذٍ “ کہ ” وہ اس دن خبروں سے اندھے ہوجائیں گے۔ “ مبالغے کے لیے الٹ فرمایا کہ اس دن ان پر تمام خبریں تاریک ہوجائیں گی، یعنی یہ بات ان کی سمجھ ہی میں نہیں آئے گی کہ وہ اس سوال کا کیا جواب دیں، نہ ہی یہ ہو سکے گا کہ ایک دوسرے سے پوچھ کر اس سوال کا جواب دے دیں۔ اس وقت کی دہشت ہی اتنی زیادہ ہوگی کہ وہ ایک دوسرے سے کوئی بات پوچھ ہی نہیں سکیں گے۔ 3 اس سوال سے پہلے قبر میں منکر نکیر کے سوالات کے جواب میں بھی کافر اور منافق یہی کہیں گے : ( ھَاہْ ھَاہْ لَا أَدْرِيْ ) ” ہائے ہائے، میں نہیں جانتا۔ “ [ دیکھیے أبوداوٗد، السنۃ، باب المسألۃ في القبر۔۔ : ٤٧٥٣، عن البراء بن عازب۔ ، و صححہ الألباني ] یہ بھی خبروں کے تاریک ہوجانے ہی کا نتیجہ ہوگا۔ یہاں فرمایا : (فَهُمْ لَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ ) ” وہ ایک دوسرے سے (بھی) نہیں پوچھیں گے۔ “ دوسری جگہ فرمایا : (وَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَسَاۗءَلُوْنَ ) [ الصافات : ٢٧ ] ” اور ان کے بعض بعض کی طرف متوجہ ہوں گے، ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔ “ اسی طرح یہاں فرمایا : ” وہ کچھ جواب نہ دیں سکیں گے۔ “ دوسری جگہ فرمایا، وہ کہیں گے : ( وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ ) [ الأنعام : ٢٣ ] ” اللہ کی قسم ! جو ہمارا رب ہے، ہم شریک بنانے والے نہ تھے۔ “ اس ظاہری اختلاف کی حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا دن بہت لمبا ہے۔ اس میں کفار پر کئی مرحلے آئیں گے، جن میں کبھی وہ خاموش رہیں گے، کبھی جرم سے انکار کریں گے، کبھی اقرار کریں گے اور کہیں گے ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی۔ کبھی ایک دوسرے سے سوال کریں گے اور کبھی ایک دوسرے سے سوال نہیں کرسکیں گے، اس لیے مقامات مختلف ہونے کی وجہ سے ان آیات میں کوئی حقیقی اختلاف نہیں ہے۔ مزید دیکھیے سورة انعام (٢٢، ٢٣) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَعَمِيَتْ عَلَيْہِمُ الْاَنْۢبَاۗءُ يَوْمَىِٕذٍ فَہُمْ لَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ۝ ٦٦ عمی العَمَى يقال في افتقاد البصر والبصیرة، ويقال في الأوّل : أَعْمَى، وفي الثاني : أَعْمَى وعَمٍ ، وعلی الأوّل قوله : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] ، وعلی الثاني ما ورد من ذمّ العَمَى في القرآن نحو قوله : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] ( ع م ی ) العمی ٰ یہ بصارت اور بصیرت دونوں قسم اندھے پن کے لئے بولا جاتا ہے لیکن جو شخص بصارت کا اندھا ہو اس کے لئے صرف اعمیٰ اور جو بصیرت کا اندھا ہو اس کے لئے اعمیٰ وعم دونوں کا استعمال ہوتا ہے اور آیت کریمہ : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] کہ ان کے پاس ایک نا بینا آیا ۔ میں الاعمیٰ سے مراد بصارت کا اندھا ہے مگر جہاں کہیں قرآن نے العمیٰ کی مذمت کی ہے وہاں دوسرے معنی یعنی بصیرت کا اندھا پن مراد لیا ہے جیسے فرمایا : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] یہ بہرے گونگے ہیں اندھے ہیں ۔ فَعَمُوا وَصَمُّوا[ المائدة/ 71] تو وہ اندھے اور بہرے ہوگئے ۔ بلکہ بصٰیرت کے اندھا پن کے مقابلہ میں بصارت کا اندھا پن ۔ قرآن کی نظر میں اندھا پن ہی نہیں ہے نبأ خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ، ( ن ب ء ) النبا ء کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے علم یا غلبہ ظن کا حاصل ہونا اور نبا صرف اس خبر کو کہا جاتا ہے جس میں کذب کا احتمال نہ ہو ۔ جیسے خبر متواتر خبر الہیٰ اور خبر نبوی جیسے فرمایا : ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] کہہ دو کہ یہ ایک بڑی ( ہولناک چیز کی ) خبر ہے جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٦) تو قیامت کے دن ان سے سب مضامین کم ہوجائیں گے اور آپس میں گفتگو بھی نہ کرسکیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٦ (فَعَمِیَتْ عَلَیْہِمُ الْاَنْبَآءُ یَوْمَءِذٍ فَہُمْ لَا یَتَسَآءَ لُوْنَ ) ” م حق اس طرح واضح ہو کر ان کے سامنے آجائے گا کہ اس کے جواب میں وہ کچھ بھی نہیں بول سکیں گے۔ ظاہر ہے زندگی بھر وہ اللہ کی نا فرمانیاں اور انبیاء و رسل کے ساتھ استہزاء و تمسخر کرتے رہے تھے۔ چناچہ جب ان سے پوچھا جائے گا کہ جو رسول تمہاری طرف بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا تو اس وقت ان کو کوئی جواب نہیں سوجھے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:66) فعمیت علیہم الانبیائ۔ لفظی ترجمہ ہوگا۔ تو اندھی ہوجائیں گے ان پر خبریں۔ العمی۔ بصارت اور بصیرت دونوں قسم کے اندھے پن کے لئے بولا جاتا ہے لیکن جو شخص بصارت کا اندھا ہو اس کے لئے صرف اعمی اور جو بصیرت کا اندھا ہو اس کے لئے اعمی اور عم دونوں کا استعمال ہوتا ہے۔ مثلا ان جاء ۃ الاعمی (80:2) کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا۔ (بصارت کا اندھا پن) ومن کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی (17:72) اور جو شخص اس دنیا میں اندھا ہو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ (بصیرت کا اندھا پن) ۔ عمی علیہ کا معنی ہیں کہ اس پر فلاں معاملہ اس طرح غیر واضح اور مشتبہ ہوگیا کہ گویا وہ اس سے اندھا ہے (اور وہ اسے سجھائی نہیں دیتا) پس عمیت علیہم الانباء کا مطلب ہوا کہ اس روز وہ خبروں سے اندھے ہوجائیں گے۔ یعنی ان کو کوئی جواب نہ سوجھے گا۔ (اپنے انجام کو سامنے دیکھ کر مارے ہول کے ان کی عقلیں معطل ہوجائیں گے) ۔ لایتساء لونمضارع منفی جمع مذکر غائب ۔ تشاء ل (تفاعل) مصدر۔ ایک دوسرے سے سوال کرنا۔ اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں (1) وہ ایک دوسرے سے پوچھ گچھ بھی نہ کرسکیں گے یعنی مشورہ بھی نہ کرسکیں گے کہ کیا جواب دیں ۔ (2) وہ ایک دوسرے کا حال نہ پوچھ سکیں گے۔ باہم پرسان حال نہ ہوں گے۔ الانبائ۔ نباء کی جمع۔ خبریں۔ حقیقتیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

10 ۔ یعنی دہشت کے مارے اس قدر ہکا بکا ہوں گے کہ نہ خود کوئی جواب سوجھے گا اور نہ ایک دوسرے سے پوچھ کر کوئی بات کہہ سکیں گے۔ قیامت کے دن مختلف مقامات ہوں گے اس لئے کسی دوسرے مقام پر ان کا واللہ ربنا ما کنا مشرکین “ کہنا اس کے خلاف نہیں ہے۔ (دیکھئے انعام :23)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ اوپر توبیخ علی الشرک کی حکایت میں شرک کی مذمت مذکور ہوئی ہے، آگے توحید کا اور اس کے ضمن میں انعامات و احسانات کا اثبات ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

66۔ سو اس دن ان سے تمام خبریں اور تمام مضامین گم ہوجائیں گے لہٰذا وہ آپس میں ایک دوسرے سے کچھ دریافت بھی نہ کرسکیں گے یعنی اس سوال کا جواب ہی نہ دے سکیں گے اور نہ آپس میں ایک دوسرے سے کچھ پوچھ گچھ کرسکیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جواب نہ آوے گا کسی کو 12 یہاں تک کہ شرک کی مذمت اور مشرکین کا انجام مذکور تھا آگے توحید کے دلائل اور موحدین کا انجام مذکور ہے۔