Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 11

سورة العنكبوت

وَ لَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ ﴿۱۱﴾

And Allah will surely make evident those who believe, and He will surely make evident the hypocrites.

جو لوگ ایمان لائے اللہ انہیں بھی ظاہر کر کے رہے گا اور منافقوں کو بھی ظاہر کر کے رہے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And indeed Allah knows those who believe, and verily He knows the hypocrites. Allah will test the people with calamities and with times of ease, so that He may distinguish the believers from the hypocrites, to see who will obey Allah both in times of hardship and of ease, and who will obey Him only when things are going in accordance with their desires. As Allah says: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَـهِدِينَ مِنكُمْ وَالصَّـبِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَـرَكُمْ And surely, We shall try you till We test those who strive hard and the patient, and We shall test your facts. (47:31) After the battle of Uhud, with its trials and tribulations for the Muslims, Allah said: مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُوْمِنِينَ عَلَى مَأ أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ Allah will not leave the believers in the state in which you are now, until He distinguishes the wicked from the good... (3:179)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

1 اسکا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ خوشی اور تکلیف دے کر آزمائے گا تاکہ منافق اور مومن کی تمیز ہوجائے جو دونوں حالتوں میں اللہ کی اطاعت کرے گا، وہ مومن ہے اور جو صرف خوشی اور راحت میں اطاعت کرے گا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ صرف اپنے حظ نفس کا مطیع ہے، اللہ کا نہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا۔ (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ ۙ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ ) 47 ۔ محمد :31) ہم تمہیں ضرور آزمائینگے، تاکہ ہم جان لیں تم میں مجاہد اور صابر کون ہیں اور تمہارے دیگر حالات بھی جانچیں گے ‏،۔ جنگ احد کے بعد، جس میں مسلمان اختیار و امتحان کی بھٹی سے گزارے گئے تھے، فرمایا (مَا كَان اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰي مَآ اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ ) 3 ۔ آل عمران :179) نہیں ہے اللہ تعالیٰ کہ وہ چھوڑ دے مومنوں کو، اس حالت پر جس پر کہ تم ہو، یہاں تک کہ وہ جدا کر دے ناپاک کو پاک سے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ١٩] یعنی اللہ تعالیٰ بار بار ایسے موقع پیدا کرتا رہتا ہے جس سے سب کو معلوم ہوجاتا ہے۔ کہ فلاں شخص ایمان کے کس درجہ میں ہے۔ پختہ ایمان والا کون کون ہے، کمزور ایمان والا کون اور منافق کون ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ معرکہ حق و باطل کوئی وقتی اور عارضی سی چیز نہیں۔ اور نہ ہی یہ معرکہ ایسی چیز ہے جس کے نتائج صرف کسی معرکہ کارزار میں سامنے آئیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ انبیاء چونکہ سب سے زیادہ پختہ ایمان والے ہوتے ہیں۔ اس لئے سب سے سیادہ ایذائیں اور مشکلات خود انہی کے حصہ میں آتی ہیں۔ چناچہ آپ نے فرمایا کہ && اَشد البلاء علی الانبیاء ثم الأمثل فالأمثل && یعنی سب سے مشکلات و مصائب انبیاء پر آتی ہیں پھر ان سے کم درجہ کے دلوں پر پھر ان سے کم درجہ کے ایمان والوں پر۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان پر مشکلات کا دور آتا ضرور ہے۔ البتہ اس کا معیار یہ ہوگا کہ جتنا زیادہ پختہ ایمان والا ہوتا اتنی ہی سخت اس کی آزمائش ہوگی۔ ضمناً اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شریعت کی پیروی میں تکلیف پہنچنا پیغمبروں کی میراث ہے اور ضروری نہیں کہ یہ تکلیف کافروں کے ہاتھوں ہی پہنچے، یہ مشرکوں کی طرف سے بھی پہنچ سکتی ہے۔ اہل بدعت اور دوسرے گمراہ فرقوں سے بھی اور مناقوں سے بھی۔ لہذا مبارک ہیں وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں ستائے جائیں۔ ان کی عزت پر حملہ ہو یا ان کا کوئی جانی یا مالی نقصان ہو، ان کے لئے سب کچھ باعث فخر ہوتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ : یعنی ایسی آزمائشیں بھیج کر اور ایسے حالات پیدا کر کے جن میں یہ منافق اپنے دلوں کا حال چھپائے نہیں رہ سکیں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَيَعْلَمَنَّ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ۝ ١١ نفق نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ الدَّرَاهِمُ تُنْفَقُ وأَنْفَقْتُهَا . والإِنْفَاقُ قد يكون في المَالِ ، وفي غَيْرِهِ ، وقد يكون واجباً وتطوُّعاً ، قال تعالی: وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ البقرة/ 195] ، وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 254] ( ن ف ق ) نفق ( ن ) س الشئی کے منعی کسی چیز کے ختم ہونے یا چلے جانے کے ہیں ۔ اور چلے جانے کی مختلف صورتیں ہیں ( 1 ) خوب فروخت ہونے سے جیسے نفق البیع ( سامان کا ) خوب فروخت ہونا اسی سے نفاق الایتیم ہے جس کے معنی بیوہ عورت سے نکاح کے طلب گاروں کا بکثرت ہونا کے ہیں ۔ نفق القوم بازار کا پر رونق ہونا ۔ ( 2 ) بذیعہ مرجانے کے جیسے نفقت الدابۃ نفوقا جانور کا مرجانا ۔ ( 3 ) بذریعہ فنا ہوجانے کے جیسے نفقت الدراھم درواہم خرچ ہوگئے ۔ انفق تھا ان کو خرچ کردیا ۔ الا نفاق کے معنی مال وغیرہ صرف کرنا کے ہیں اور یہ کبھی واجب ہوتا ہے ۔ اور کبھی مستحب اور مال اور غیر مال یعنی علم وغیرہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا ۔ وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ البقرة/ 195] اور خدا کی راہ میں مال خرچ کرو ۔ وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 254] اور جو مال ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرلو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١) اس کے بعد حضرت عیاش (رض) اور ان کے ساتھی مشرف بااسلام ہوگئے اور ان کا اسلام بھی اچھا ہوا اور اللہ تعالیٰ بدر کے دن ایمان والوں کو بھی ظاہری وباطنی طور پر ممتاز کرکے رہے گا اور منافقین کو بھی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١ (وَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ ) ” یعنی ابھی اس مرض کی ابتدا ہے۔ اگر تم لوگ nip the evil in the bud کے مصداق ابھی سے اس کا علاج کرلو گے تو بچ جاؤ گے۔ منافقت کا مرض ٹی بی کے مرض کی طرح ہے جو انفیکشن سے شروع ہوتا ہے اور مختلف مراحل سے گزرتا ہوا لا علاج روگ بن جاتا ہے۔ چناچہ ابھی تم لوگوں کو اس مرض کی انفیکشن ہوئی ہے۔ اگر ابھی تم نے اس کے تدارک کی فکر نہ کی اور یہ روگ ابتدائی مرحلے سے آگے بڑھ گیا تو مہلک اور لا علاج مرض (باقاعدہ منافقت) کی شکل اختیار کر جائے گا۔ اس آیت کے حوالے سے ایک خصوصی نکتہ یاد رکھنے کا یہ ہے کہ مکی قرآن کا یہ واحد مقام ہے جہاں لفظ ” منافق “ آیا ہے۔ سورة الحج کی مذکورہ بالا آیت میں بھی منافقانہ کردار کا ذکر ہوا ہے ‘ لیکن ” منافق “ کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

16 That is, "Allah provides occasions for the trial again and again so that the faith of the believers and the hypocrisy of the hypocrites become manifest, and whatever is hidden in the hearts becomes exposed. The same thing has been said in Al-i-`Imran: 179: "Allah will not leave the believers in the state in which you happen to be at present: He will surely separate the pure from the impure people."

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 16 یعنی اللہ آزمائش کے مواقع اس لیے بار بار لاتا ہے تاکہ مومنوں کے ایمان اور منافقوں کے نفاق کا حال کھل جائے اور جس کے اندر جو کچھ بھی چھپا ہوا ہے وہ سامنے آجائے ، یہی بات سورہ آل عمران میں فرمائی گئی ہے کہ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰي مَآ اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ ( آیت 179 ) اللہ مومنوں کو ہرگز اس حالت میں رہنے دینے والا نہیں ہے جس میں تم اس وقت ہو ( کہ صادق الایمان اور منافق سب ملے جلے ہیں ) وہ پاک لوگوں کو ناپاک لوگوں سے الگ نمایاں کر کے رہے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

6: دیکھئے حاشیہ نمبر 1

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:11) ملاحظہ ہو 29:3 ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

11 ۔ یعنی ایسی آزمائشیں بھیج کر اور ایسے حالات پیدا کر کے جن میں یہ منافق اپنے دلوں کا حال چھپائے نہیں رہ سکیں گے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ ) (اور البتہ اللہ ایمان والوں کو ضرور جان لے گا اور وہ ضرور ضرور منافقوں کو جان لے گا) اسے ہمیشہ سے سب کچھ معلوم ہے اور آئندہ بھی جس کا جو عقیدہ اور عمل ہوگا وہ اسے جان لے گا۔ اہل ایمان کو ایمان کی جزا اور اہل نفاق کو نفاق کی سزا دے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

10:۔ یہ مومنوں کے لیے بشارت اور منافقوں کے لیے تخویف ہے اور علم سے مجازاۃ مراد ہے۔ والمراد بالعلم المجازاۃ ای لیجزینہم بمالھم من الایمان والنفاق (روح) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

11۔ اور یقینا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ظاہر اور معلوم کر کے رہے گا جو صحیح ایمان لائے اور منافقوں کو بھی معلوم اور ظاہرکرکے رہے گا ۔ یعنی اگر اس قسم کے امتحانات میں ان کو مبتلا نہ کیا جائے تو برے اور بھلے اور کچے اور پکے نمایاں نہیں ہوسکتے اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ مومن اور منافق نمایاں ہوجائیں ۔