Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 19

سورة العنكبوت

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا کَیۡفَ یُبۡدِئُ اللّٰہُ الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿۱۹﴾

Have they not considered how Allah begins creation and then repeats it? Indeed that, for Allah , is easy.

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ مخلوق کی ابتدا کس طرح اللہ نے کی پھر اللہ اس کا اعادہ کرے گا یہ تو اللہ تعالٰی پر بہت ہی آسان ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Evidence for Life after Death Allah tells us that Ibrahim, peace be upon him, showed them the proof of life after death, which they denied, in their souls. For Allah created them after they had been nothing at all, then they came into existence and became people who could hear and see. The One Who originated this is able to repeat it, it is very easy for Him. Then he taught them to contemplate the visible signs on the horizons and the things that Allah has created: the heavens with their stars and planets, moving and stationary, the earth with its plains and mountains, its valleys, deserts and wildernesses, trees and rivers, fruits and oceans. All of that indicates that these are themselves created things, and that there must be a Creator Who does as He chooses, Who merely says to a thing "Be!" and it is. Allah says: أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِيُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ See they not how Allah originates the creation, then repeats it. Verily, that is easy for Allah. This is like the Ayah: وَهُوَ الَّذِى يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ And He it is Who originates the creation, then He will repeat it; and this is easier for Him. (30:27) Then Allah says:

تمام نشانیاں دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کردیا تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءاً پیدا کرسکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے ۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو ۔ آسمانوں کو ستاروں کو زمینوں کو پہاڑوں کو درختوں کو جنگلوں کو نہروں کو دریاؤں کو سمندروں کو پھلوں کو کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کردیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کرسکتا ؟ وہ تو صرف ہوجا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ خود مختار ہے اسے اسباب اور سامان کی ضرورت نہیں ۔ اسی مضمون کو اور جگہ فرمایا کہ وہی نئی پیدائش میں پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت آسان ہے ۔ پھر فرمایا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ نے ابتدائی پیدائش کس طرح کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ قیامت کے دن کی دوسری پیدائش کی کیا کیفیت ہوگی ۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے جیسے فرمایا ہم انہیں دنیا کے ہر حصے میں اور خود ان کی اپنی جانوں میں اپنی نشانیاں اس قدر دکھائیں گے کہ ان پر حق ظاہر ہوجائے ۔ اور جگہ ارشاد ہے آیت ( اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ 35؀ۭ ) 52- الطور:35 ) کیا وہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے یا وہی اپنے خالق ہیں؟ یا وہ آسمان وزمین کے خالق ہیں ؟ کچھ نہیں بےیقین لوگ ہیں ۔ یہ اللہ کی شان ہے کہ جسے چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم کرے وہ حاکم ہے قبضے والاہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے جاری کردیتا ہے ۔ کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا کوئی اس کے ارادے کو بدل نہیں سکتا ۔ کوئی اس سے چوں چرا نہیں کرسکتا کوئی اس سے سوال نہیں کرسکتا اور وہ سب پر غالب ہے ۔ جس سے چاہے پوچھ بیٹھے سب اس کے قبضے میں اس کی ماتحتی میں ہیں ۔ خلق کا خالق امر کا مالک وہی ہے ۔ اس نے جو کچھ کیا سراسر عدل ہے اس لیے کہ وہی مالک ہے وہ ظلم سے پاک ہے ۔ حدیث شریف میں ہے اگر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب کرے تب بھی وہ ظالم نہیں ۔ عذاب رحم سب اس کی چیزیں ہیں ۔ سب کے سب قیامت کے دن اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اسی کے سامنے حاضر ہو کر پیش ہونگے ۔ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی اسے ہرا نہیں سکتا ۔ بلکہ سب پر وہی غالب ہے ۔ ہر ایک اس سے کانپ رہا ہے سب اس کے درد کے فقیر ہیں اور سب سے غنی ہے ۔ تمہارا کوئی ولی اور مددگار اس کے سوا نہیں ۔ اللہ کی آیتوں سے کفر کرنے والے اس کی ملاقات کو نہ ماننے والے اللہ کی رحمت سے محروم ہیں اور ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک الم افزا عذاب ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

191توحید اور رسالت کے اثبات کے بعد یہاں معاد (آخرت) کا اثبات کیا جا رہا ہے جس کا کفار انکار کرتے تھے۔ فرمایا پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا بھی وہی ہے جب تمہارا سرے سے وجود ہی نہ تھا، پھر تم دیکھنے سننے اور سمجھنے والے بن گئے اور پھر جب مر کر تم مٹی میں مل جاؤ گے، بظاہر تمہارا نام و نشان تک نہیں رہے گا، اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ 192یعنی یہ بات چاہے تمہیں کتنی ہی مشکل لگے، اللہ کے لئے بالکل آسان ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٣١] اللہ تعالیٰ کے تخلیقی کارنامے لاتعداد ہیں۔ زمین پر بسنے والے جانداروں کی دس لاکھ انواع کا تاحل پتہ چل چکا ہے۔ آئندہ کا حال اللہ کو معلوم ہے۔ ان میں سے ہر نوع کی تخلیق جداگانہ ہے۔ اب مثلاً ہم ایک نوع انسان ہی کو لیتے ہیں اس لئے کہ اس کے متعلق زیادہ معلومات حاصل ہیں۔ اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے مٹی سے اس کا پتلا اپنے ہاتھ سے بنایا۔ اس وقت وہ مردہ تھا۔ اس میں روح پھونکی تو زندہ ہوگیا۔ پھر اس کی نسلی توالد و تناسل سے چلی۔ انسان نے زمین سے حاصل ہونے والی غذائیں کھائیں یہ غذائین مردہ اور بےجان تھیں۔ انھیں سے مرد میں منی بن گئی جس میں لاتعداد جرثومے ہوتے ہین۔ یہی منی مادہ کے رحم میں پہنچتی تو اس کے مادہ سے مل کر نطفہ بنی، نطفہ سے عقلقہ، علقہ سے مقنہ یعنی گوشت کا لوتھڑا بنی۔ اب تک یہ سب کچھ مردہ اور بےحرکت تھا۔ بعد میں اللہ نے اس لوتھڑے کو روح عطا کی تو یہ لوتھڑا جاندار اور متحرک بن گیا۔ اب انسان کی شکل و صورت کی باری آئی۔ رحم مادر میں اتنے خلیے (Cell) ہوتے ہیں جن کی تعداد صرف اللہ کو معلوم ہے۔ ان میں سے ہر ایک خلیہ اپنے ہی کام لگا ہوتا ہے نہ یہ اپنے راستے سے ہٹتا ہے کہ راستہ بھولتا ہے نہ کسی دوسرے خلیے کے کام میں دخل دیتا ہے۔ ناک کا خلیہ اسی جگہ پہنچے گا جہاں ناک کی جگہ ہے، آنکھ کا آنکھ کی جگہ، کان کا کان کی جگہ اور ایڑی کا ایڑی کی جگہ پر پہنچے گا۔ اور یہ خلیے براہ راست اپنے اپنے مقام پر پہنچ کر اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ تاآنکہ انسان کی ایک خاص شکل و صورت بن جاتی ہے اور رحم مادر میں یہ ایسا منضبوط اور مضبوط نظام ہے جس میں خلف نہیں ہوتا۔ یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ کسی انسان کی ناک کا ایک نتھنا چھوٹا ہو، دوسرا بڑا ہو، یا ایک نتھنا لمبوترا ہو تو دوسرا چپٹا ہو۔ یہی حال دوسرے اعضا کا ہے۔ پھر ایک مقررہ مدت کے بعد انسان زندہ اور شکل و صورت والا بن کر رحم مادر سے باہر آجاتا ہے۔ گویا مردہ غذاؤں سے اللہ نے زندہ چیز بنادی۔ اور یہ عمل حیوانات اور نباتات اور انسان غرضیکہ تمام انواع میں ہمہ وقت جاری وساری ہے۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ توالد و تناسل کے ذریعہ پیدائش ہر نوع کے ابتدائی جاندار کی نسبت اللہ کے لئے زیادہ آسان ہے۔ اب اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان زندہ تھا وہ مرگیا۔ اور مٹی میں مل گیا۔ اور قیامت کو وہی انسان دوبارہ اٹھا کھڑا کیا جائے گا۔ مٹی کے اندر جو تغیرات ہوں گے اور جس طرح انسان دوبارہ پیدا ہوگا یہ باتیں انسان کی تحقیق سے باہر ہیں۔ تاہم یہ ایک بدیہی حقیقت ہے جس کے لئے ضرورت نہیں کہ نقش ثانی کا نقش ماول کی نسبت زیادہ آسان ہوتا ہے۔ اور دوسری عقلی دلیل یہ ہے کہ جو ہستی رحم مادر میں اس قدر منضبط اور مربوط نظام قائم کرکے مردہ اشیاء سے زندہ انسان نما کھڑا سکتی ہے وہ یقیناً مٹی میں بھی ملے ہوئے اجزا سے بھی ہر انسان کو دوبارہ پیدا کرسکتی ہے۔ اور یہ دوسری بار کی پیدائش اس کے لئے یہ نسبتًا آسان چیز ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَــلْقَ ۔۔ : ابن جریر اور بعض دوسرے مفسرین کے مطابق یہاں تک ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب ہے اور یہاں سے آگے اللہ تعالیٰ کا کفار قریش سے خطاب ہے جو ” لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ“ تک چلا گیا ہے۔ اس کے بعد ” فَمَاکَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖ “ سے پھر ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ جبکہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ” فَمَاکَانَ جَوَابَ “ تک یہ سارا کلام ہی ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ مجھے بھی یہی بات راجح معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اس میں نہ سلسلہ کلام توڑنا پڑتا ہے، نہ مطلب میں کوئی خلل آتا ہے، بلکہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنی قوم کو توحید کے بعد آخرت کے دلائل سنا رہے ہیں جن کے جواب کا ذکر اس آیت میں ہے : (فَمَاکَانَ جَوَابَ ۔۔ ) ویسے ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ خطاب کفار قریش کے بھی عین حسب حال ہے، کیونکہ مشرک اقوام کے عقائد ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ 3 ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اور کفار مکہ دو بنیادی گمراہیوں میں مبتلا تھے، ایک اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، دوسری آخرت کا انکار۔ پہلی گمراہی کا رد اوپر کی آیات میں آچکا ہے، یہ دوسری گمراہی کا رد ہے۔ 3 ابراہیم (علیہ السلام) نے دوبارہ زندہ ہونے کے ثبوت کے لیے خود ان کے وجود کو پیش فرمایا، جس کا مشاہدہ وہ ہر وقت کرتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اس وقت پیدا فرمایا جب کہیں ان کا ذکر تک نہ تھا۔ وجود میں آنے کے بعد وہ سننے دیکھنے والے انسان بن گئے، تو جس نے انھیں شروع میں پیدا فرمایا وہ انھیں دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے، (”إِنَّ “ تعلیل کے لیے آتا ہے) کیونکہ یہ کام اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔ دوسری جگہ فرمایا : (وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ ) [ الروم : ٢٧ ] ” اور وہی ہے جو خلق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور وہ اسے زیادہ آسان ہے۔ “ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” شروع تو دیکھتے ہو، دہرانا اسی سے سمجھ لو۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The infidels of Makkah believed that it is Allah who has created the whole universe, but they deemed it impossible that the people will be resurrected after they once die. The present verses have described the fallacy of their view. It is stated that repeating the process of creation is much easier than its origination. It is strange that these infidels do believe that Allah has originated the creation, but they deny His power to do it again, while the latter is easier than the former. Then verse 20 has induced them to look around them to appreciate the splendors of the creation, so that they may apprehend that the One who has originated this marvelous creation can easily repeat the process. After establishing the Resurrection, the last three verses describe the punishment for those who deny it.

خلاصہ تفسیر کیا ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح مخلوق کو اول بار پیدا کرتا ہے (عدم محض سے وجود میں لاتا ہے) پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا، یہ اللہ کے نزدیک بہت ہی آسان بات ہے (بلکہ ابتدائی نظر میں دوبارہ پیدا کرنا اول آفرینش سے زیادہ سہل ہے، گو قدرت ذاتیہ کے اعتبار سے دونوں مساوی ہیں اور یہ لوگ امر اول یعنی اللہ تعالیٰ کے خالق کائنات ہونے کا تو اعتراف کرتے تھے، لقولہ تعالیٰ وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ الخ اور امر ثانی یعنی دوبارہ پیدا کرنا اسی کے مماثل ہے اس کا داخل قدرت ہونا اور زیادہ واضح ہے اس لئے اَوَلَمْ يَرَوْا اس سے بھی متعلق ہوسکتا ہے اور زیادہ اہتمام کے لئے آگے پھر یہی مضمون قدرے تفاوت عنوان سے سنانے کے لئے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہیں کہ) آپ (ان لوگوں سے) کہئے کہ تم لوگ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو کس طور پر اول بار پیدا کیا ہے، پھر اللہ پچھلی بار بھی پیدا کرے گا، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے (پہلے عنوان میں ایک عقلی استدلال ہے اور دوسرے عنوان میں حسی، جس کا تعلق احوال کائنات کے مشاہدہ سے ہے، یہ تو قیامت کا اثبات تھا آگے جزاء کا بیان ہے کہ بعد بعث کے) جس کو چاہے گا عذاب دے گا (یعنی جو اس کا مستحق ہوگا) اور جس پر چاہے رحمت فرما دے گا، یعنی جو اس کا اہل ہوگا) اور (اس تعذیب و رحمت میں اور کسی کا دخل نہ ہوگا، کیونکہ) تم سب اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے، (نہ کہ اور کسی کے پاس) اور (اس کی تعذیب سے بچنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے) تم نہ زمین میں (چھپ کر خدا کو) ہرا سکتے ہو (کہ اس کے ہاتھ نہ آؤ) اور نہ آسمان میں (اڑ کر) اور نہ خدا کے سوا تمہارا کوئی کارساز ہے اور نہ کوئی مددگار، (پس نہ اپنی تدبیر سے بچ سکے نہ دوسرے کی حمایت سے) اور (اوپر جو ہم نے کہا تھا يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ اب قاعدہ کلیہ سے اس کا مصداق بتلاتے ہیں کہ) جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے اور (بالخصوص) اس کے سامنے جانے کے منکر ہیں وہ لوگ (قیامت میں) میری رحمت سے ناامید ہوں گے (یعنی اس وقت مشاہدہ ہوجائے گا کہ ہم محل رحمت نہیں ہیں) اور یہی ہیں جن کو عذاب درد ناک ہوگا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللہُ الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُہٗ۝ ٠ ۭ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَي اللہِ يَسِيْرٌ۝ ١٩ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ كيف كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، ( ک ی ف ) کیف ( اسم استفہام ) اس چیز کی حالت در یافت کرنے کے لئے آتا ہے جس پر کہ شیبہ اور غیر شیبہ کا لفظ بولا جاسکتا ہو جیسے ابیض ( سفید اسود ( سیاہی ) صحیح ( تندرست ) سقیم ( بیمار ) وغیرہ ۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کا استعمال جائز نہیں ہے اور کبھی اس چیز پر بھی کیف کا اطلاق کردیتے ہیں جس کے متعلق سوال کر نا ہو مثلا کہا جاتا ہے کہ اسود اور ابیض مقولہ کیف سے ہیں اور جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق کیف کا لفظ استعمال کیا ہے تو وہ تنبیہ یا قو بیخ کے طور پر مخاطب سے استخبار کے لئے لایا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] کافرو تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو بدأ يقال : بَدَأْتُ بکذا وأَبْدَأْتُ وابْتَدَأْتُ ، أي : قدّمت، والبَدْءُ والابتداء : تقدیم الشیء علی غيره ضربا من التقدیم . قال تعالی: وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسانِ مِنْ طِينٍ [ السجدة/ 7] ( ب د ء ) بدء ات بکذا وابتدءات میں نے اسے مقدم کیا ۔ اس کے ساتھ ابتدا کی ۔ البداء والابتداء ۔ ایک چیز کو دوسری پر کسی طور مقدم کرنا قرآن میں ہے { وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ } ( سورة السجدة 7) اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے عود الْعَوْدُ : الرّجوع إلى الشیء بعد الانصراف عنه إمّا انصرافا بالذات، أو بالقول والعزیمة . قال تعالی: رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/ 107] ( ع و د ) العود ( ن) کسی کام کو ابتداء کرنے کے بعد دوبارہ اس کی طرف پلٹنے کو عود کہاجاتا ہی خواہ وہ پلٹا ھذایۃ ہو ۔ یا قول وعزم سے ہو ۔ قرآن میں ہے : رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/ 107] اے پروردگار ہم کو اس میں سے نکال دے اگر ہم پھر ( ایسے کام ) کریں تو ظالم ہوں گے ۔ يسير واليَسِيرُ والمَيْسُورُ : السّهلُ ، قال تعالی: فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَيْسُوراً [ الإسراء/ 28] واليَسِيرُ يقال في الشیء القلیل، فعلی الأوّل يحمل قوله : يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ وَكانَ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيراً [ الأحزاب/ 30] ، وقوله : إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ [ الحج/ 70] . وعلی الثاني يحمل قوله : وَما تَلَبَّثُوا بِها إِلَّا يَسِيراً [ الأحزاب/ 14] الیسیر والمیسور سہل اور آسان قرآن میں ہے : ۔ فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَيْسُوراً [ الإسراء/ 28] تو ان سے نر می سے بات کہدیا کرو ۔ اور کبھی یسیر کے معنی حقیر چیز بھی آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ وَكانَ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيراً [ الأحزاب/ 30] اس کو دونی سزا دی جائیگی اور یہ بات خدا کو آسان ہے میں لفظ یسیرا کے معنی آسان اور سہل کے ہیں اور آیت وما تَلَبَّثُوا بِها إِلَّا يَسِيراً [ الأحزاب/ 14] اور اس کے لئے بہت کم توقف کریں میں اس کے معنی بہت کم عرصہ کے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٩) کیا کفار مکہ کو بذریعہ قرآن کریم یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کس طرح مخلوق کو پہلی بار نطفہ سے پیدا کرتا ہے پھر وہی قیامت کے دن اس کو دوبارہ پیدا کرے گا یہ پہلی بار اور دوبارہ پیدا کرنا اللہ تعالیٰ پر بہت آسان بات ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

31 From here to the end of verse 23 is a parenthesis, which has been interposed in the story of the Prophet Abraham and addressed to the disbelievers of Makkah. The relevance of this interposition in the story, which is being related for the admonition of the disbelievers, is that they were basically involved in two kinds of deviation: shirk and idol-worship, and the denial of the Hereafter. The first of these has been refuted in the Prophet Abraham's speech as related above. Now the second is being refuted in these few sentences by Allah Himself. 32 . That is, "On the one hand, countless new things come into existence from non-existence, and on the other, similar new members continue coming into existence to take the place of the dying members of every species. The polytheists acknowledged that that was all due to Allah's power of creation and invention. They never denied Allah's being a Creator, just as the polytheists of today do not do. Therefore, the argument has been based upon what they themselves acknowledged as a reality, as if to say, "How do you think that God, Who, according to your own belief, . brings things into existence from non-existence, and noes not create things just once, but goes on bringing into existence similar things in place of the dying things repeatedly in front of your very eyes, will not be able to raise you back to life after death ?" (For further explanation, see E.N. 80 of Surah AnNaml).

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 31 یہاں سے لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ( ان کے لیے دردناک سزا ہے ) تک ایک جملہ معترضہ ہے جو حضرت ابراہیم کے قصے کا سلسلہ توڑ کر اللہ تعالی نے کفار مکہ کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا ہے ۔ اس اعتراضی تقریر کی مناسبت یہ ہے کہ کفار مکہ جنہیں سبق دینے کے لیے یہ قصہ سنایا جارہا ہے وہ بنیادی گمراہیوں میں مبتلا تھے ۔ ایک شرک و بت پرستی ، دوسرے انکار آخرت ۔ ان میں سے پہلی گمراہی کا رد حضرت ابراہیم کی اس تقریر میں آچکا ہے جو اوپر نقل کی گئی ہے ۔ اب دوسری گمراہیم کے رد میں یہ چند فقرے اللہ تعالی اپنی طرف سے ارشاد فرما رہا ہے تاکہ دونوں کی تردید ایک ہی سلسلہ کلام میں ہوجائے ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 32 یعنی ایک طرف بے شمار اشیاء عدم سے وجود میں آتی ہیں ، اور دوسری طرف ہر نوع کے افراد کے مٹنے کے ساتھ پھر ویسے ہی افراد وجود میں آتے چلے جاتے ہیں ۔ مشرکین اس بات کو مانتے تھے کہ یہ سب کچھ اللہ کی صفت خلق و ایجاد کا نتیجہ ہے ۔ انہیں اللہ کے خالق ہونے سے انکار نہ تھا ، جس طرح آج کے مشرکین کو نہیں ہے ، اس لیے ان کی اپنی مانی ہوئی بات پر یہ دلیل قائم کی گئی ہے کہ جو خدا تمہارے نزدیک اشیاء کو عدم سے وجود میں لاتا ہے اور پھر ایک ہی دفعہ تخلیق کر کے نہیں رہ جاتا بلکہ تمہاری آنکھوں کے سامنے مٹ جانے والی اشیاء کی جگہ پھر ویسی ہی اشیاء پے در پے وجود میں لاتا چلا جاتا ہے ، اس کے بارے میں آخر تم نے یہ کیوں سمجھ رکھا ہے کہ تمہارے مرجانے کے بعد وہ پھر تمہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھا کھڑا نہیں کرسکتا ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ نمل حاشیہ 80 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:19) اولم یروا آیت 19 سے لے کر لہم عذاب الیم آیت 23 تک ایک جملہ معترضہ ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کا سلسلہ توڑ کر اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا :۔ اولم یروا میں ہمزہ استفہام انکاری ہے اور واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف مقدرہ پر ہے ای الم ینظروا ولم یعلموا۔ لم یروا مضارع نفی جحد بلم ۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ کیا انہوں نے نہیں دیکھا۔ یبدی۔ مضارع واحد مذکر غائب ابدء یبدی ابداء (افعال) وہ پیدا کرتا ہے۔ ایجاد کرتا ہے۔ تخلیق اول کرتا ہے اسی سے باب افتعال سے ابتداء شروع۔ یعیدہ : اعاد یعید (افعال) اعادۃ سے مضارع واحد مذکر غائب وہ دوبارہ بار بار پیدا کرتا ہے یا کرے گا۔ اعادۃ بمعنی دہرانا۔ بار بار کرنا ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ یسیر۔ صفت مشبہ واحد مذکر۔ یسر مادہ۔ آسان ۔ سہل۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 19 تا 23 : یبدیٔ(ابتدا کرتا) یعید (وہ لوٹائے گا) ‘ یسیر ( آسان کرتا ہے۔ سہل بناتا ہے) ‘ ینشیٔ(وہ اٹھاتا ہے) معجزین (عاجزو بےبس کرنے والا) ‘ ولی (حمایت کرنے والا) ‘ نصیر ( مدد گار) یئسوا (وہ مایوس ہوگئے) ۔ تشریح : آیت نمبر 19 تا 23 : اللہ تعالیٰ نے سورة الدھر میں انسان کی پیدائش کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ انسان پر ایک ایسا وقت بھی تھا جب وہ کچھ بھی قابل ذکر چیز نہ تھا۔ یعنی اس کا کوئی وجود نہ تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو انسانی وجودعطا کیا۔ قرآن کریم میں کئی جگہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو وجود عطا کیا پھر اس پر موت آجائے گی اور پھر ایک وقت وہ آئے گا جب سارے انسان دوبارہ پیدا کئے جائیں گے۔ پھر میدان حشر میں ہر انسان کو اپنے کئے ہوئے کاموں کا حساب دینا ہے جس کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو جنت اور کفر وشرک اور منافقت کرنے والوں کو جہنم میں بھیج دے گا۔ جب کفار کے سامنے یہ آیتیں اور مضمون آتا تو وہ یہی کہتے تھے کہ ہماری عقلوں میں یہ بات نہیں آتی کہ جب انسان مرکھپ جائیگا۔ اس کے اعضاء اور اجزاء بکھر جائیں گے تو وہدوبارہ کیسے زندہ ہوگا ؟ اس کے اعضاء اور اجزاء کس طرح جڑ سکیں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس سوال کا جواب بیشمار مرتبہ دیا ہے اور فرمایا ہے کہ کیا وہ سامنے کی اس حقیقت کو نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زندگی کی ابتداء کیسے کی تھی ؟ یہ اس کی قدرت ہے کہ وہ اس کو دوبارہ وجود عطاکرے گا۔ اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟ یہ بات اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔ مراد یہ ہے کہ کسی چیز کا پہلی مرتبہ پیدا کرنا تو بظاہر مشکل ہے لیکن جب ایک چیز بن جائے تو اس کو دوبارہ بنانا مشکل نہیں بلکہ انتہائی آسان ہوتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ انسے کہے کہ وہ زمین میں چل پھر کردیکھیں کہ اللہ نے اپنی مخلوق کو کس طرح پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے۔ اسکے لئے کیا مشکل ہے کہ وہ اس کو دوبارہ پیدانہ کرسکے گا۔ بلاشبہ اللہ تو ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ اس کی قدرت سے یہ چیز بھی دور نہیں ہے کہ وہ قیامت کے دن یا اس سے پہلے جس کو چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم وکرم فرمادے۔ آخر کار سب کو اسی ایک اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اس کائنات میں اس کی یہ قدرت و طاقت ہے کہ وہ سب کچھ کرتا ہے کوئی اس کو اس زمین پر اور آسمانوں پر عاجزو بےبس نہیں کرسکتا۔ اور اللہ کے سوا نہ کسی کی حمایت کام آئے گی نہ مدد۔ وہی ہر ایک کی مدد کرتا ہے اسی کی مدد اور حمایت سے اہل ایمان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ کی رحمت وحمایت سے صرف وہ لوگ مایوس اور ناامید ہوا کرتے ہیں جو کفر پر جمے ہوئے ہیں اور اللہ سے ملنے پر یقین نہیں رکھتے ایسے لوگوں کو درد ناک عذاب دیا جائے گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : انبیاء کرام اور نبی آخر الزّماں نے لوگوں تک کھلے الفاظ میں توحید اور حق بات پہنچائی اب لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اللہ کی توحید پر ایمان لائیں اور حق بات قبول کریں۔ عقیدہ توحید سمجھنے کے لیے پہلی بات یہ ہے کہ انسان ” اللہ “ کی قدرتوں پر غور کرے اور پھر سچے دل کے ساتھ ایمان لائے کہ ساری مخلوق پیدا کرنے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے جب انسان یہ حقیقت سمجھ جائے اور اس پر خلوص نیت کے ساتھ ایمان لے آئے تو وہ ایک ” اللہ “ کی عبادت کرنے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے شرک سے بچ جائے گا۔ اس لیے حکم ہوا ہے کہ لوگو ! کیا تم نے غور نہیں کیا ؟ کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو پہلی بار کس طرح پیدا کرتا ہے اور پھر اسے زندہ کرے گا یہی بات انسان کو اپنے بارے میں سوچنا چاہیے کہ جس ” اللہ “ نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اس کے لیے بہت ہی آسان ہے کہ وہ اسے دوبارہ پیدا کرے۔ اگر انسان کو مر کر جی اٹھنے پر اعتبار نہیں تو وہ زمین پر چل کر دیکھے خاص طور پر کسی صحرا میں جا کر ملا حظہ کرے کہ موسم خزاں میں جو جڑی بوٹیاں گل سڑ گئی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس طرح دوبارہ پیدا فرمایا ہے۔ اسی طرح لوگوں کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر کام کرنے پر کامل اور اکمل قدرت رکھتا ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ اَرْبَعُوْنَ قَالُوْ یَا اَبَا ھُرَیْرۃَ اَرْبَعُوْنَ یَوْمًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ شَھْرًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ سَنَۃً قَالَ اَبَیْتُ ثُمَّ یُنْزِلُ اللّٰہُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَیُنْبَتُوْنَ کَمَآ یَنْبُتُ الْبَقْلُ قَالَ وَلَیْسَ مِنَ الْاِنْسَانِ شَیْءٌ لَا یَبْلٰی اِلَّاعَظْمًا وَاحِدًا وَّھُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ ) [ متفق علیہ ] وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمِ قَالَ کُلُّ اِبْنِ اٰدَمَ یَاکُلُہٗ التُّرَاب الاَّ عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْہُ خُلِقَ وَفِیْہِ یُرَکَّبُ [ متفق علیہ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دوسرا صور پھونکنے کا عرصہ چالیس ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے ان کے شاگردوں نے پوچھا چالیس دن ؟ حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ میں یہ نہیں جانتا۔ انہوں نے استفسار کیا چالیس ماہ ؟ حضرت ابوہریرہ (رض) نے جواباً فرمایا میرا کوئی جواب نہیں۔ انہوں نے پھر پوچھا چالیس سال ہیں ؟ ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں میں یہ بھی نہیں کہتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا۔ لوگ یوں اگیں گے جس طرح انگوری اگتی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز مٹی ہوجائے گی۔ قیامت کے دن اسی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم میں ہے۔ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انسان کے تمام اعضاء کو مٹی کھاجائے گی۔ سوائے دمچی کے انسان اسی سے پیدا کیا جائے گا اور جوڑا جائے گا۔ “ اللہ تعالیٰ کے لیے پہلی مرتبہ پیدا کرنا یا اس کا اعادہ کرنا بالکل سہل ہے سوائے انسان کو سمجھانے کے لیے ذکر فرمایا ہے کہ پہلی دفعہ پیدا کرنے سے دوسری مرتبہ پیدا کرنا بہرحال آسان ہے۔ مسائل اللہ ہی انسان کو پیدا کرنے والا اور وہی اسے دوبارہ پیدا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کے لیے انسان یا کسی دوسری چیز کو دوبارہ پیدا کرنا آسان ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی پہلی اور دوسری مرتبہ پیدا کرنے والا ہے : ١۔ اللہ ہی زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ (آل عمران : ١٥٦) ٢۔ اللہ تعالیٰ مارنے کے بعد زندہ کرے گا۔ (البقرۃ : ٧٣) ٣۔ اللہ تعالیٰ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کرتا ہے۔ (آل عمران : ٢٧) ٤۔ اللہ ہی موت وحیات کا خالق ہے۔ (الملک : ٢) ٥۔ بیشک زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ (التوبۃ : ١١٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اولم یروا کیف ۔۔۔۔۔۔۔ واولئک لھم عذاب الیم (19 – 23) یہ ہر اس شخص کو خطاب ہے جو اللہ کا منکر ہے اور اللہ کے سامنے جو ابدہی کا انکار کرتا ہے ۔ اس خطاب پر اس پوری کائنات کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔ اس استدلال کا دائرہ زمین و آسمانوں تک وسیع ہے۔ یہ قرآن کریم کا معروف طرز استدلال ہے کہ وہ اس پوری کائنات کو دلائل و نشانات الہیہ کی نمائش گاہ بنا دیتا ہے اور انسانی قلب و نظر کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کھلی کتاب میں دلائل و آیات الہیہ تلاش کریں۔ اللہ کے وجود ، اس کی وحدانیت اور اس کے وعدے اور وعید کی سچائی تلاش کریں۔ اس کائنات کے یہ مشاہد اور مظاہر تو بر وقت ہماری نظروں کے لیے کھلے ہیں اور حاضر ہیں۔ پیش پا افتادہ ہیں لیکن انسان چونکہ انہیں ہر وقت دیکھتا رہتا ہے ، اس وجہ سے ان کا عادی ہوجاتا ہے اور ان کے اعجاز کا پہلو نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور یہ معجزات چونکہ بار بار دہرائے جاتے ہیں اس لیے انسانی قلب و نظر پر ان کا زیادہ اثر نہیں ہوتا۔ قرآن کریم کا یہ کمال ہے کہ وہ ان پیش پا افتادہ مناظر اور دلائل اعجاز کو ازسر نو زندہ کرکے اور حسین بنا کر پیش کرتا ہے اور یہ اس قدر خوبصورت ، حسین اور پر تاثیر بن جاتے ہیں کہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ گویا یہ مشاہد و مناظر اس کے سامنے پہلی بار پیش ہوئے ہیں۔ یہ مناظرہ زندہ شکل میں سامنے آتے ہیں اور انسانی قلب و نظر پر اثر انداز ہوتے ہیں اور انسان ان کے آثار و نتائج کو اخذ کرتا ہے اور یہی مناظر انسانی وجدان کے لیے دلائل اور براہین بن جاتے ہیں اور ان سے انسانی شعور بےحد متاثر ہوتا ہے۔ یہ طرز استدلال خشک منطقی استدلال کی طرح نہیں ہوتا جس میں محض ظاہری جدل وجدال ہوتا ہے اور ایک مردہ انداز گفتگو ہوتا ہے۔ یہ فلسفیانہ اور منطقی انداز استدلال اسلامی منطق اور شعور کے لیے ہمیشہ نا آشنا رہا ہے۔ اس لیے اسلامی شعور اس سے کبھی گہرے طور پر متاثر نہیں ہوا۔ اسلامی انداز استدلال یہ ہے : اولم یروا کیف ۔۔۔۔۔۔ اللہ یسیر (29: 19) ” کیا ان لوگوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے کہ کس طرح اللہ خلق کی ابتداء کرتا ہے ، پھر اس کا اعادہ کرتا ہے ، یقیناً یہ تو اللہ کے لیے آسان تر ہے “۔ بیشک یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ اللہ کس طرح تخلیق کرتا ہے ، ایک چھوٹے سے پودے میں بھی یہ تخلیق نظر آتی ہے ، ایک انڈے اور جنین میں بھی نظر آتی ہے۔ اور ہر اس چیز میں نظر آتی ہے جو نہ تھی اور پھر موجود ہوگئی اور ان میں سے ہر چیز ایسی ہے کہ انسان انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر بھی کوشش کریں تو اس جیسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتے اور نہ یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ اس کے خالق ہیں۔ اللہ کی تخلیقات تو بہت ہیں ، صرف معجزہ حیات ہی ایک مسلسل معجزہ ہے۔ یہ حیات کس طرح وجود میں آئی ؟ یہ بھی ایک معجزہ ہے ، کسی کی جانب سے ایجاد حیات کا دعویٰ کرنا تو ایک بڑی بات ہے۔ حیات کے بارے میں تو انسان صرف یہی کہہ سکتا ہے کہ یہ اللہ کی پیدا کردہ ہے۔ اللہ ہر لمحہ میں اسے دہراتا ہے اور لوگ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہیں اور اسکا انکار بھی نہیں کرسکتے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ اللہ لوگوں کو پیدا فرما رہا ہے تو ان اشیاء کا دوبارہ پیدا کرنا اللہ کے لئے نہایت ہی آسان ہے۔ ان ذلک علی اللہ یسیر (29: 19) ” اور یہ (اعادہ) اللہ کے لیے آسان تر ہے “۔ اللہ کی مخلوقات میں سے تو کوئی چیز اللہ کے لیے مشکل نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ انسانی معیار کے مطابق ان سے بات کرتا ہے۔ کیونکہ انسانوں کی مصنوعات میں پہلی صنعت کے مقابلے میں اس کا اعادہ آسان ہوتا ہے ورنہ اللہ کے لیے آغاز و اعادہ یکساں ہیں۔ اللہ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہے تو ارادہ متوجہ کرکے کن کہتا ہے اور وہ ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ ذرا کھوکھلی آنکھوں کے ساتھ زمین میں پھرو ، اور اللہ کی آیات و نشانات کو دیکھو۔ زندہ اور مردہ چیزوں میں عجائبات تخلیق الٰہی پر غور کرو ، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کی تخلیق بھی کسی مشقت کے بغیر خود کار طریقے سے ہو رہی ہے۔ اور اعادہ بھی اسی طرح ہوگا۔ قل سیرو فی الارض ۔۔۔۔۔ کل شئ قدیر (29: 20) ” ان سے کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلق کی ابتداء کی ہے۔ پھر اللہ بار دیگر بھی زندگی بخشے گا۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ زمین میں سرو سیاحت سے انسان کی بصیرت اور بصارت دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ انسان ایسے مناظر دیکھتا ہے جو کبھی آنکھ نے نہیں دیکھے ہوتے اور قلب نے کبھی ان پر غور نہیں کیا ہوتا ، اس آیت میں اللہ نے ایک گہری حقیقت کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی ہے۔ انسان کسی خطے میں بستا ہے اور اس کے مناظر اور عجائبات اس کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں لیکن جب وہ سیاحت کرتا ہے تو اس کے احساسات اور قوائے مدرکہ ہر نئے منظر کو غور سے دیکھتے ہیں۔ جدید دنیا اور علاقے میں اسے نئے مناظر و مشاہد متاثر کرتے ہیں۔ اگرچہ اس جیسے مناظر و مشاہد ان سے اچھے مناظر خود اس کے علاقے میں موجود ہوتے ہیں لیکن وہ کبھی ان کی طرف دیکھتا بھی نہیں ہے۔ جب وہ اپنے علاقے کو واپس آتا ہے تو پھر وہ خود اپنے مسکن کو بھی ایک جدید احساس اور جدید غور و فکر کے ساتھ دیکھتا ہے۔ اس سے قبل وہ جن چیزوں کو کوئی اہمیت نہ دیتا تھا ، اب وہ چند یوم غائب رہنے کے سبب ان کو رحہمی نظر سے دیکھتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔ اب یہ مناظر و عجائبات اس سے از سر نو ہمکلام ہوتے ہیں جبکہ اس سے قبل یہ عجائبات اس کے لیے نہ عجیب تھے اور نہ اس کے ساتھ ہمکلام ہوتے تھے۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے یہ قرآن نازل کیا۔ جو دلوں کی ان راہوں کو جانتا ہے جن کے ذریعے دل کی دنیا پر اثر ڈالا جاسکتا ہے ، عالم نفس کی راہ و رسم سے بھی وہ واقف ہے۔ قل سیروا فی الارض ۔۔۔۔۔ الخلق (29: 20) ” ان سے کہو ، زمین میں چلو پھرو اور دیکھو اس نے کس طرح خلق کی ابتداء کی “۔ یہاں ماضی کے صیغے کے ذریعہ آغاز تخلیق کو بیان کیا گیا ہے۔ کیف بدا الخلق (29: 20) ” اس نے تخلیق کا آغاز کیسے کیا تھا ؟ “ اور اس بات کو تم زمین میں چل پھر کر ، سیروسیاحت کرکے معلوم کرو ، اس سے ایک یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تم زمین میں چل پھر کر آغاز تخلیق الٰہی کو معلوم کرو ، ان چیزوں پر غور کرو جن سے ” حیات “ کی ابتدائی حالت کا پتہ چلے کہ اس دنیا میں آغاز حیات کیسے ہوا آج کل آثار قدیمہ کے بعض علماء زمین کو کھود کر ابتدائی تخلیق کی کیفیت معلوم کرتے ہیں کہ حیات کا آغاز کیسے ہوا اور اس نے کس طرح ترقی کی۔ اور وہ کس طرح پھیلی۔ ان تخلیقات کے باوجود ابھی تک یہ علماء ” حیات “ کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکے کہ یہ حیات ہے کیا ؟ یہ کہاں سے آتی ہے ؟ اور اس دنیا پر پہلا زندہ انسان یا مخلوق کیسے آیا۔ یہ سب تحقیقات اور یہ سب آثار دراصل دوبارہ تخلیق پر دلائل ہوں گے۔ اور اس خیال کے ساتھ ایک دوسرا خیال ! کہ آغاز حیات کے آثار و کیفیات معلوم کرنے کے تو وہ لوگ قابل ہی نہ تھے جس پر قرآن نازل ہوا تھا۔ جس طرح آج کل کے لوگ اس کے قابل ہوگئے ہیں کہ آغاز حیات کے آثار و کیفیات کا مشاہدہ کریں۔ لہٰذا اس آیت کا اگر مفہوم یہی ہے تو وہ لوگ تو اس قابل ہی نہ تھے لہٰذا قرآن کریم اپنے پہلے مخاطین سے کوئی اور چیز معلوم کرنے کے لیے کہہ رہا تھا جیسے وہ معلوم کرسکتے تھے۔ اور جس کے معلوم کرنے سے وہ یہ نتیجہ نکال سکتے تھے کہ اس سے وہ نشاۃ ثانیہ کا امکان اخذ کریں۔ لہٰذا ان سے مطلوب یہ ہوگا کہ وہ ہر جگہ نباتات ، حیوانات اور انسان کے آغاز تخلیق کا مشاہدہ کریں اور زمین میں پھریں اور ان کی یہ سیر اور مشاہدہ ان کی قوت مشاہدہ کو تیز کرنے کا باعث بنے جیسا کہ ہم نے پہلے پیرے میں وضاحت کی کہ وہ آثار قدرت الہیہ کا مشاہدہ کریں اور رات اور دن اللہ کی قدرت جن معجزات و نشانات کو ظاہر کر رہی ہے اس پر غور کریں۔ ایک احتمال یہ بھی ہے جو قرآن کریم کے طریقہ کار کے مطابق ہے کہ قرآن ہر دور کے لوگوں کو ان کے حالات کے مطابق ، اور علم و ثقافت کے لحاظ سے ان کے مرتبہ و مقام کے مطابق اور ان کے حالات زندگی کے مطابق اور ان کے موجودہ وسائل اکتشاف کے مطابق ، متوجہ کرتا ہے وہ اپنے ظروف و احوال کے مطابق اس کائنات میں پائے جانے والے دلائل قدرت الہیہ پر غور کریں۔ اس طرح زندگی کے حالات کی ترقی کے مطابق قرآن کریم کے مفہوم کے فہم و ادراک میں بھی ترقی ہوگی اور دونوں خیالات میں کوئی تعارض بھی نہ ہوگا اور یہ مفہوم قرآن کے طریق کار کے زیادہ قریب ہے۔ ان اللہ علی کل شئ قدیر (29: 20) ” یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ اللہ اس زندگی کا آغاز بھی کرتا ہے اور اس کا اعادہ بھی کرے گا اور یہ اس کی قدرت قاہرہ کے ذریعہ ہوگا۔ اور اللہ کی قدرتیں انسان کی محدود سوچ کے دائرے کے اندر محدود نہیں ہیں۔ نہ اللہ کی قدرتوں کو ان کی سوچ کی محدود و امکانیات کے اندر محدود کیا جاسکتا ہے کیونکہ انسان کی سوچ انسان کے محدود تجربات تک محدود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ جسے چاہے عذاب دے دے اور جسے چاہے اپنی رحمت کے دائرے کے اندر لے آئے۔ سب لوگوں نے آخر کار اس کی طرف لوٹنا ہے اور اللہ کو اس عمل کے کرنے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی نہ کوئی اس کی ممانعت کرسکتا ہے۔ یعذب من یشآء ۔۔۔۔۔۔ ولی ولا نصیر (29: 21 – 22) ” جسے چاہے سزا دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے اسی کی طرف تم پھیرے جانے والے ہو۔ تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو ، نہ آسمان میں ، اور اللہ سے بچانے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے “۔ رحمت اور عذاب دونوں اللہ کی رحمت کے تابع ہیں ، اس طرح کہ اللہ نے ہدایت اور ضلالت کا راستہ بیان کردیا۔ اور انسان کے اندر ایسی استعداد پیدا کردی کہ وہ ہدایت و ضلالت کے راستے میں سے جو راستہ چاہے اختیار کرے۔ اور اس نے دونوں راستے انسان کے لیے میسر کر دئیے۔ اب اس انسان کی مرضی ہے کہ وہ کون سا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ البتہ اگر وہ اللہ کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اللہ نے اپنے اوپر لازم کردیا ہے کہ ایسے شخص کی معاونت کرے اور اگر وہ اللہ کی دلائل سے منہ موڑے اور اللہ کے راستے سے رک جائے تو وہ اللہ سے رابطہ منقطع کردیتا ہے اور اسی اصول کے نتیجے میں اللہ کی رحمت اور اللہ کا عذاب لوگوں کو ملتا ہے۔ والیہ تقلبون (29: 21) ” اور اس کی طرف سے تم پھیرے جانے والے ہو “۔ تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو ، نہ آسمان میں “۔ تمہارے پاس ایسی کوئی قوت نہیں ہے کہ تمام مخلوق کو اللہ کی طرف پھرنے سے روک سکو۔ نہ زمین میں نہ آسمانوں میں ۔ جنات اور فرشتے بھی تمہاری قوت نہیں ہیں۔ وما لکم ۔۔۔۔۔ ولا نصیر (29: 22) ” اور اللہ سے بچنے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے “ اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار ہے کون ؟ اور کہاں ہے ؟ کوئی ملائکہ ہے یا کوئی جن ہے ؟ یہ تو سب خود اللہ کے بندے ہیں اور اللہ کی مخلوق ہیں۔ یہ اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ دوسروں کے لیے کیا کچھ کر کیں گے۔ والذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (29: 23) ” جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہوچکے ہیں اور ان کے لیے دردناک سزا ہے “۔ یہ اس لیے کہ انسان اللہ کی رحمت سے تب مایوس ہوتا ہے جب اس کا دل کافر ہو ، اس حالات میں پھر اس کے اور رب کی درمیانرابطہ کٹ جاتا ہے۔ جو بھی کفر کی راہ اختیار کرتا ہے اس کے اور رب تعالیٰ کے درمیان رابطہ کٹ چکا ہوتا ہے۔ اس کی شخصیت میں تروتازگی نہیں ہوتی۔ اس لیے اللہ کی رحمت میں داخل ہونے کے لیے وہ کوئی راہ نہیں پاتا۔ اور پھر انجام بھی متعین ہوتا ہے۔ اولئک لھم عذاب الیم (29: 23) ” ایسے لوگوں کے لیے دردناک سزا ہوتی ہے “۔ اس لمحہ فکریہ کے بعد اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کی طرف سے جواب آتا ہے۔ یہ ضمنی خطاب ہر اس شخص کے غور و فکر کے لیے تھے جو دعوت ایمان کا انکار کرتا ہے ، یہ جواب نہایت ہی مایوس کن اور عجیب ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر و سرکشی کے حاملین کس طرح بر خودغلط ہوتے ہیں اس لیے کہ ان کے پاس اقتدار کی قوت ہوتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اثبات قیامت پر دلیل آفاقی اور منکرین قیامت کے لیے زجر ابھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی گفتگو باقی ہے جو ان کے اور ان کی قوم کے درمیان تھی، درمیان میں قریش مکہ کو خطاب فرمایا جو قرآن کے مخاطبین اولین تھے، ارشاد فرمایا کہ جو لوگ قیامت کے دن زندہ ہونے کے منکر ہیں کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کے سامنے انسان اور حیوان اور دوسری چیزوں کی ابتدائی پیدائش ہوتی رہتی ہے، چیزیں پیدا ہوتی ہیں اور فنا ہوجاتی ہیں اللہ تعالیٰ دوبارہ ان کو پیدا فرما دیتا ہے، ابتداً پیدا فرمانا اور دوبارہ پیدا فرمانا اس کے لیے آسان ہے، دیکھو زمین ہری بھری ہوتی ہے کھیتیاں پیدا ہوتی ہیں، پھر فنا ہوجاتی ہیں، زمین مردہ ہوجاتی ہے یعنی خشک ہوجاتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ زمین سے بار بار ہری بھری کھیتیاں نکال دیتا ہے، یہ سب نظروں کے سامنے ہے پھر انسان کو دوبارہ تخلیق میں کیوں شک ہے ؟ قال صاحب روح : قولہ تعالیٰ (ثم یعید) عطف علی (اولم یروا) لا علی یبدئ وجوز العطف علیہ بتأویل الاعادۃ بانشاۂ تعالیٰ کل سنۃ مثل ما انشأہ سبحانہ فی السنۃ السابقۃ من النبات والثمار وغیرھما فان ذلک مما یستدل بہ علی صحۃ البعث ووقوعہ علی ما قیل من غیر ریب۔ (تفسیر روح المعانی کے مصنف فرماتے ہیں ثُمَّ یُعِیْدُ کا عطف اولم یروا پر ہے نہ کہ یُبْدِئُ پر اور بعض حضرات نے یُبْدِئُ پر عطف کا احتمال نکالا ہے تو اس تاویل کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہر آنے والے موسم میں پچھلے موسم کی طرح کھیتوں اور پھلوں وغیرہ کو نئے سرے سے اگاتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ نظام ایسا ہے کہ اس سے انسانوں کے مرنے کے بعد جی اٹھنے پر وقوع حشر پر بلاشک استدلال کیا جاسکتا ہے۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

17:۔ کیا وہ غور نہیں کرتے اللہ نے کس طرح اپنی قدرت کاملہ سے مخلوق کو پہلی بار پیدا فرمایا اسی طرح وہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے، یہ کام تو اس کے لیے بہت ہی آسان ہے۔ قل سیروا الخ، یہ خطاب اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ہو تو اس سے پہلے وقلنا لہ محذوف ہوگا اور اگر خطابحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہو تو حذف کی ضرورت نہیں۔ یعنی زمین میں چل پھر کر اللہ کو گوناگوں مخلوق کو دیکھو۔ مخلوق کی انواع و اقسام کا کوئی حساب نہیں۔ جنسیں اور قسمیں مختلف، شکلیں اور طبیعتیں مختلف، رنگ اور زبانیں مختلف، جس قادر و توانا اور حکیم و دانا نے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے وہی انسانوں کو دوبارہ پیدا کرے گا کیونکہ اس کی قدرت کاملہ تمام ممکنات پر حاوی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

19۔ کیا ان لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح شروع کرتا ہے پیدائش کو اور مخلوق کو پہلی مرتبہ کس طرح پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ بھی پیدا کر دے گا بلا شبہ اللہ تعالیٰ پر یہ بہت ہی آسان ہے ۔ یعنی اس پر نہ پہلی بار پیدا کرنا کچھ مشکل نہ دوبارہ پیدا کرنا کچھ مشکل یہ قیامت کے سلسلہ میں فرمایا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی شروع تو دیکھتے ہو دوہرا نا اسی سے سمجھ لو ۔ 12