Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 20

سورة العنكبوت

قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ بَدَاَ الۡخَلۡقَ ثُمَّ اللّٰہُ یُنۡشِئُ النَّشۡاَۃَ الۡاٰخِرَۃَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿ۚ۲۰﴾

Say, [O Muhammad], "Travel through the land and observe how He began creation. Then Allah will produce the final creation. Indeed Allah , over all things, is competent."

کہہ دیجئے! کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ کس طرح اللہ تعالٰی نے ابتداءً پیدائش کی ۔ پھر اللہ تعالٰی ہی دوسری نئی پیدائش کرے گا ، اللہ تعالٰی ہرچیز پر قادر ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قُلْ سِيرُوا فِي الاَْرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنشِيُ النَّشْأَةَ الاْخِرَةَ ... Say: "Travel in the land and see how He originated the creation, and then Allah will bring forth the creation of the Hereafter." meaning, the Day of Resurrection. ... إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ Verily, Allah is able to do all things.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

201یعنی آفاق میں پھیلی ہوئی اللہ کی نشانیاں دیکھو زمین پر غور کرو، کس طرح اسے بچھایا، اس میں پہاڑ، وادیاں، نہریں اور سمندر بنائے، اسی انواع و اقسام کی روزیاں اور پھل پیدا کئے۔ کیا یہ سب چیزیں اس بات پر دلالت نہیں کرتیں کہ انھیں بنایا گیا ہے اور ان کا کوئی بنانے والا ہے ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٣٢] اب اگر انسان کائنات کی دوسری اشیاء اور جمادات میں غور کرے تو اور بھی زیادہ ورطہ حیرت میں گم ہوجاتا ہے۔ ہر مادی چیز ان گنت چھوٹے چھوٹے ذرات سے مل کر بنی ہے۔ سب سے چھوٹا ذرہ جو انسان کے علم میں آیا ہے وہ ایٹم (Atom) ہے۔ جو انیسویں صدی تک جزو لا یتجزی سمجھا جاتا رہا۔ یعنی اتنا حقیر ذرہ جس کی مزید تقسیم ناممکن تھی۔ اور اسے صرف کسی طاقتور خوردبین کی مدد سے ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ مگر موجودہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس حقیر سے ذرے میں بھی ایک بڑا ہی مضبوط نظام قائم ہے۔ اس میں الیکٹران (electron) بھی ہے اور پروٹون Pruton) (بھی۔ اور دونوں بڑے منضبط طریقے سے اس حقیر سے ذرہ کے اندر اس طرح محو گردش ہیں جس طرح ہمارا نظام شمسی اور سورج کے گرد سیارے محو گردش ہیں۔ ان کو اپنا مفوضہ کام کرنے سے کوئی چیز بھی روک نہیں سکتی۔ نہ ہی یہ ایک دوسرے کے کام میں خلل اندازی کرتے ہیں۔ ہر مادہ جسم ایسے ہی لاتعداد ذرات سے مل کر بنتا ہے۔ اور اگر اس ذرہ میں موجود نظام کو توڑا جائے تو اس حقیر سے ذرے سے بےپناہ توانائی حاصل ہوتی ہے۔ جن سے موجودہ دور میں ایٹم بم تیار کیا جاتا ہے۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ اس توانائی کو اپنی تعمیری ضرورتوں کے لئے استعمال کرے یا اسے نوع ہلاک کو تباہ و برباد کردینے اور تخریبی کاموں کے لئے استعمال کرے۔ اب سوال یہ ہے کہ جس ہستی نے ہر مادہ چیز کو اس محیر العقول طریق سے پہلی بار پیدا کرلیا کیا وہ دوبارہ ایسی ہی مخلوق پیدا نہ کرسکے گا ؟ موجودہ کیفیات نے ثابت کردیا ہے کہ مادہ صرف اپنی شکل بدلتا رہتا ہے۔ اس میں سے کچھ بھی اس کا حصہ بالکل فنا نہیں ہوجاتا۔ اس تحقیق نے بعث بعد الموت کے عقیدے کو بہت حد تک قریب الفہم بنادیا ہے کیونکہ مادہ کے ایک ایک ذرہ پر اللہ تعالیٰ کا براہ راست کنٹرول ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ ۔۔ : یعنی اپنی ذات کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کی پیدائش میں بھی غور کرو اور چل پھر کر دیکھو۔ زمین اور آسمان کی نشانیوں پر غور کرو، آسمانوں کو، ستاروں کو، زمینوں کو، پہاڑوں کو، درختوں کو، جنگلوں کو، نہروں کو، دریاؤں کو، سمندروں کو، پھلوں کو، کھیتوں کو دیکھو تو سہی، یہ سب کچھ نہیں تھا، پھر اللہ نے سب کچھ پیدا کردیا۔ یہ تمام نشانیاں اللہ تعالیٰ کی قدرت کو ظاہر کرتی ہیں، اسی پر دوسری زندگی کو قیاس کرلو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، پہلی دفعہ پیدا کرنے پر بھی اور دوبارہ پیدا کرنے پر بھی۔ پچھلی آیت میں اپنے نفس اور اپنی ذات پر غور کرنے کا حکم دیا تھا، اس آیت میں آفاق پر غور کا حکم دیا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ بَدَاَ الْخَــلْقَ ثُمَّ اللہُ يُنْشِئُ النَّشْاَۃَ الْاٰخِرَۃَ۝ ٠ ۭ اِنَّ اللہَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۝ ٢٠ۚ سير السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير ( س ی ر ) السیر ( ض) کے معنی زمین پر چلنے کے ہیں اور چلنے والے آدمی کو سائر وسیار کہا جاتا ہے ۔ اور ایک ساتھ چلنے والوں کی جماعت کو سیارۃ کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ( اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب ) ایک قافلہ دار ہوا ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں ۔ پھر کبھی اس سے محض غو ر وفکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور وفکر کے بعد حاصل ہوتی ہے ۔ چناچہ محاور ہ ہے ۔ نظرت فلم تنظر۔ تونے دیکھا لیکن غور نہیں کیا ۔ چناچہ آیت کریمہ : قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] ان کفار سے کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے ۔ اور النظر بمعنی انتظار بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ نظرتہ وانتظرتہ دونوں کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] اور نتیجہ اعمال کا ) تم بھی انتظار کرو ۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں ۔ نشأ النَّشْءُ والنَّشْأَةُ : إِحداثُ الشیءِ وتربیتُهُ. قال تعالی: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی [ الواقعة/ 62] . يقال : نَشَأَ فلان، والنَّاشِئُ يراد به الشَّابُّ ، وقوله : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] يريد القیامَ والانتصابَ للصلاة، ومنه : نَشَأَ السَّحابُ لحدوثه في الهواء، وتربیته شيئا فشيئا . قال تعالی: وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] والإنْشَاءُ : إيجادُ الشیءِ وتربیتُهُ ، وأكثرُ ما يقال ذلک في الحَيَوانِ. قال تعالی: قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [ الملک/ 23] ، وقال : هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ [ النجم/ 32] ، وقال : ثُمَّ أَنْشَأْنا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْناً آخَرِينَ [ المؤمنون/ 31] ، وقال : ثُمَّ أَنْشَأْناهُ خَلْقاً آخَرَ [ المؤمنون/ 14] ، وَنُنْشِئَكُمْ فِي ما لا تَعْلَمُونَ [ الواقعة/ 61] ، ويُنْشِئُ النَّشْأَةَالْآخِرَةَ [ العنکبوت/ 20] فهذه كلُّها في الإيجاد المختصِّ بالله، وقوله تعالی: أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِؤُنَ [ الواقعة/ 71- 72] فَلِتشبيه إيجادِ النَّارِ المستخرَجة بإيجادِ الإنسانِ ، وقوله : أَوَمَنْ يُنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ [ الزخرف/ 18] أي : يُرَبَّى تربيةً کتربيةِ النِّسَاء، وقرئ : يَنْشَأُ أي : يَتَرَبَّى. ( ن ش ء) النشا والنشاۃ کسی چیز کو پیدا کرنا اور اس کی پرورش کرنا ۔ قرآن میں ہے : وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی[ الواقعة/ 62] اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے ۔ نشافلان کے معنی کے بچہ کے جوان ہونے کے ہیں ۔ اور نوجوان کو ناشی کہاجاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] کچھ نہیں کہ رات کا اٹھنا دنفس بہیمی کی سخت پامال کرتا ہے ۔ میں ناشئۃ کے معنی نماز کے لئے اٹھنے کے ہیں ۔ اسی سے نشاء السحاب کا محاورہ ہے جس کے معنی فضا میں بادل کے رونما ہونے اور آہستہ آہستہ بڑھنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے َ : وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے ۔ الانشاء ۔ ( افعال ) اس کے معنی کسی چیز کی ایجاد اور تربیت کے ہیں ۔ عموما یہ لفظ زندہ چیز ۔۔ کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [ الملک/ 23] وہ خدا ہی جس نے تمہیں پیدا کیا ۔ اور تمہاری کان اور آنکھیں اور دل بنائے ۔ نیز فرمایا : هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ [ النجم/ 32] وہ تم کو خوب جانتا ہے جسب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ۔ ثُمَّ أَنْشَأْنا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْناً آخَرِينَ [ المؤمنون/ 31] پھر ان کے بعد ہم نے ایک اور جماعت پیدا کی ۔ وَنُنْشِئَكُمْ فِي ما لا تَعْلَمُونَ [ الواقعة/ 61] اور تم کو ایسے جہان میں جس کو تم نہیں جانتے پیدا کردیں ۔ ثُمَّ أَنْشَأْناهُ خَلْقاً آخَرَ [ المؤمنون/ 14] پھر اس کو نئی صورت میں بنا دیا ويُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ [ العنکبوت/ 20] پھر خدا ہی پچھلی پیدائش پیدا کرے گا ۔ ان تمام آیات میں انسشاء بمعنی ایجاد استعمال ہوا ہے جو ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اور آیت کریمہ : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِؤُنَ [ الواقعة/ 71- 72] بھلا دیکھو جو آگ تم درخت سے نکالتے ہو کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرتے ہیں ۔ میں آگ کا درخت اگانے پر بطور تشبیہ انشاء کا لفظ بولا گیا ہے اور آیت کریمہ ) أَوَمَنْ يُنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ [ الزخرف/ 18] کیا وہ جوز یور میں پرورش پائے ۔ میں ینشا کے معنی تربیت پانے کے ہیں نفی عورت جو زبور میں تربیت ۔ ایک قرآت میں ينشاء ہے یعنی پھلے پھولے ۔ قَدِيرُ : هو الفاعل لما يشاء علی قَدْرِ ما تقتضي الحکمة، لا زائدا عليه ولا ناقصا عنه، ولذلک لا يصحّ أن يوصف به إلا اللہ تعالی، قال : إِنَّ اللَّهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [ البقرة/ 20] . والمُقْتَدِرُ يقاربه نحو : عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] ، لکن قد يوصف به البشر، وإذا استعمل في اللہ تعالیٰ فمعناه القَدِيرُ ، وإذا استعمل في البشر فمعناه : المتکلّف والمکتسب للقدرة، يقال : قَدَرْتُ علی كذا قُدْرَةً. قال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] . القدیر اسے کہتے ہیں جو اقتضائے حکمت کے مطابق جو چاہے کرسکے اور اس میں کمی بیشی نہ ہونے دے ۔ لہذا اللہ کے سوا کسی کو قدیر نہیں کہہ سکتے ۔ قرآن میں ہے : اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر ۔۔۔۔ قادر ہے ۔ اور یہی معنی تقریبا مقتقدر کے ہیں جیسے فرمایا : عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بار گاہ میں ۔ فَإِنَّا عَلَيْهِمْ مُقْتَدِرُونَ [ الزخرف/ 42] ہم ان پر قابو رکھتے ہیں ۔ لیکن مقتدر کے ساتھ کبھی انسان بھی متصف ہوجاتا ہے ۔ اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق مقتدر کا لفظ استعمال ہو تو یہ قدیر کے ہم معنی ہوتا ہے اور جب انسان کا وصف واقع ہو تو اس کے معنی تکلیف سے قدرت حاصل کرنے والا کے ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قدرت علی کذا قدرۃ کہ میں نے فلاں چیز پر قدرت حاصل کرلی ۔ قرآن میں ہے : ( اسی طرح ) یہ ریا کار ) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ نہیں لے سکیں گے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٠) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے فرمائیے کہ تم زمین پر چلو پھرو اور غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پہلی بار نطفہ سے کس طرح پر پیدا کیا پھر اس کے بعد ان کو ہلاک کردیا پھر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھی مخلوق کو دوبارہ پیدا کرے گا بیشک اللہ تعالیٰ پیدا کرنے اور پھر قیامت کے دن زندہ کرنے اور ایسے ہی موت وحیات سب پر قادر ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٠ (قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰہُ یُنْشِئُ النَّشْاَۃَ الْاٰخِرَۃَ ط) ” مخلوق کو دوبارہ پیدا کرنے کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت سے دنیا میں بھی چل رہا ہے۔ جیسے ایک فصل ختم ہوتی ہے تو دوسری پیدا ہوجاتی ہے اور وہ آخرت میں بھی انسانوں کو پھر سے زندہ کرے گا۔ یہ سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

33 That is, "When you yourselves are witnessing things being created in the tirst instance by God's competence and skill, you should understand it well that re-creation shall also take place by the same competence and skill. Such a thing is not beyond His power nor can it be."

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 33 یعنی جب خدا کی کاریگری سے بار اول کی تخلیق کا تم خود مشاہدہ کر رہے ہو تو تمہیں سمجھنا چاہیے کہ اسی خدا کی کاریگری سے بار دیگر بھی تخلیق ہوگی ۔ ایسا کرنا اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے اور نہ ہوسکتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:20) بدا ماضی واحد مذکر غائب بدأ یبدأ (فتح) بدء اس نے شروع کیا اس نے پیدا کیا۔ ینشی مضارع واحد مذکر غائب انشاء (افعال) مصدر وہ پیدا کرتا ہے۔ النشاۃ الاخرۃ موصوف و صفت، دوسری (بار) پیدائش آخری یا بعد کی پیدائش۔ ثم اللہ ینشی النشاۃ الاخرۃ۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک بعد کی پیدائش عمل میں لائے گا۔ تقلبون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ قلب (باب ضرب) سے تم پھیرے جاؤ گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

1 ۔ بلکہ دوبارہ پیدا کرنا ” نشات اولی “ سے زیادہ آسان ہے۔ جیسے فرمایا : وھو الذی یبداء الخلق ثم یعیدہ و ھو اھون علیہ۔ اور وہی ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے اور یہ اعادہ (دوبارہ پیدا کرنا) اس کے لئے آسان تر ہے۔ (روم :27) 2 ۔ مطلب یہ ہے کہ پہلی پیدائش کیا کم عجیب ہے جو باوجود اتنی کثرت کے اپنے رنگ و طبائع اور بولیوں کے اعتبار سے باہم مختلف ہے اور پھر آدمی کس طرح مختلف اطوار کے بعد پیدا ہوتا ہے تو جو پروردگار ایسے عجیب کام کرتا ہے۔ اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ انسان کو دوبارہ پیدا کرسکے۔ (وحیدی بتصرف)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ پہلے بدء خلق کے علم عقلی سے اعادہ پر استدلال کیا ہے، جیسا اس پر الم یرو دال ہے، اور پھر بدء خلق کے علم حسی سے اعادہ پرا ستدلال ہے جیسا انظروا اس پر دال ہے، جس میں اول سے ترقی ہے کہ مابہ الاستدلال صرف امر عقلی نہیں بلکہ امر حسی بھی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا تم زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اللہ نے ابتداً مخلوق کی تخلیق فرمائی اس کے بعد جب دوبارہ پیدا کرنے کا ارادہ فرمائے گا تو پھر پیدا فرما دے گا۔ (اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

20۔ اے پیغمبر ! آپ ان سے فرمایئے کہ تم لوگ ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو کس طرح پہلی بار پیدا کیا ہے پھر وہی اللہ تعالیٰ مخلوق کو پچھلی بار بھی پیدا کرے گا اور آخری اٹھان بھی اٹھائے گا یقینا اللہ تعالیٰ ہر شی پر پوری طرح قادر ہے۔ چونکہ کفار مکہ بھی ابتدائی خلق کے قائل تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ اسی لئے اوپر کی آیت میں علم عقلی سے استدلال فرمایا اور دوسری آیت میں علم حسی سے اعادۂ خلق سے استدلال فرمایا کہ جائو ملک میں چل پھر کر دیکھو کہ پیدائش کا طریقہ کیا ہے پہلی مرتبہ کیونکر مخلوق کی پیدائش ہوئی پھر اسی سے دوبارہ پیدا ہونے کو سمجھ لو ، وہ ہر شی پر پوری طرح قادر ہے۔